Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔

    آخر،

    ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
    کہ
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

    آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔

    2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔

    مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    مزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟

    نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔

    حالانکہ

    ”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

    مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔

    19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔

    حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    اس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔

    آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔

    مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔

    کیونکہ،

    جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
    جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
    وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
    مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔

    اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔

    اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،

    یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    کیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟

    یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔

    ﴿ تعبیری دور ﴾
    1947 ء سے 1967 ء

    یہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔

    آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔

    چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔

    آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔

    پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔

    یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔

    سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
    تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
    عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
    میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
    جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
    اے میرے پیارے وطن

    اگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔

    اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ

    ؂ میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
    سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

    ﴿تربیتی دور ﴾
    1967 سے 1987

    یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
    گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔

    کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔

    مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

    تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
    اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ

    ؂ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
    مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

    پاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔

    اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
    گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں،

    ؂ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    ﴿تعمیری دور ﴾
    1987 سے 2007

    یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

    کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
    مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔

    مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا

    ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی

    ﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
    2007 سے 2022

    2012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

    اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
    کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،

    اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔

    مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔

    جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔

    پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش

    کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔

    اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔

    مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔

    بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،

    ؂ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    آج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ

    جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
    وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
    یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
    چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے

  • آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔

    سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    حکومت اور مقبولیت کا نشہ ہمارے سیاستدانوں کا اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبورکر جاتے ہیں اور پھر بعد میں اس کو جوش خطابات کا نام دیا جاتا ہے ۔ جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے ۔ جلسوں ،چوراہوں ، گلی ، محلوں اور سوشل میڈیا پر قومی سلامتی ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے بارے میں ا پنے جوش و جذبات کو کنٹرول رکھنا ہی دانشمندی ہے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت تک وطن عزیز پر دہشت گردوں اورا نتہا پسندوں کی لپیٹ میں تھا ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں خوف و ہراس کے سائے منڈلا رہے تھے بازاروں کی رونقیں ختم ہو گئی تھیں بھارت سمیت کئی عالمی طاقتیں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ایسے میں پاک فوج نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن شروع کیا اور ملک سے دہشت گردی ا ور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔

    پاک فوج ،پولیس اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز اور قوم کو خونخوار پنجوں سے آزاد کروایا بلاشبہ سول سوسائٹی نے بھی قربانیاں دیں۔ فوج میں غازیوں کی کمی نہیں شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ پولیس کے افسران اور نچلے درجے کے شہداء کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔ سابق سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے اپنے دور تعیناتی راولپنڈی میں ان شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کی اور ان کی بڑی بڑی تصاویر پولیس لائن میں لگائیں۔ اسی طرح کراچی ، لاہور اور دیگر صوبوں میں بھی ۔ اس ملک کی سلامتی اور اس قوم کو زندہ رکھنے میں ان شہیدوں کا بڑا کردار ہے ۔ وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا کوئی شمار اور بدلہ نہیں دیا جا سکتا ۔ حکمرانوں سمیت اپوزیشن ہوش کے ناخن لیں جمہوریت چل رہی ہے تو اسے چلنے دیں۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں۔ سیاستدانوں کی ہی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا رہا اور پھر اس کا انجام کیا ہوتا رہا ۔ ملک کے جو حالات ہیں جس لائن کو سب کراس کررہے ہیں ان حالات میں ملک کا کوئی ادارہ لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔

  • نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    ہم دوست آپس میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کی انتخابات میں کامیابی کا ذکر چھڑ گیا بظاہر دیکھا جائے تو پاکستان میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے بھی تقریباً پینتیس سال کی جدوجہد کے بعد اپنا سیاسی مقام حاصل کیا، (کس طرح حاصل کیا یہ تحریر کا موضوع نہیں لیکن میرے خیال میں سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو کشادہ دل اور حالات کے مطابق دفاعی یا جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کر سکیں) ۔

    پھر انہیں میں نے پڑوسی ملک( بھارت) کی مثال دی وہاں بھی سیاست میں پاکستان کی طرح ہر قسم کی خرافات رائج تھیں اور دردِ دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی پریشان تھے ایسے میں وہاں سماجی خدمات کے حوالے سے انتہائی مشہور شخصیت "انا ہزارے” نے اصلاحات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر دی اور ان کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سیاست دان کافی حد تک ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ۔

    بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ شریک ان کے شاگرد یا بھگت "ارویند کیجری وال” نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات جائز اور لوگوں کے دل کی آواز ہیں اسی وجہ سے ہمیں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن ان مطالبات کی منظوری کے لئے ہم سیاست دانوں کے محتاج ہیں یعنی ایک اچھے کام کے لئے بھی ہمیں برے لوگوں سے منظوری لینی پڑے گی چنانچہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود سیاسی طاقت حاصل کریں اور لوگوں کو ڈائریکٹ فائدہ دیں۔

    انا ہزارے نے ان کے خیالات کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سماجی کارکن ہیں اگر سیاست میں آ گئے تو ہمارے اخلاص پر سوالیہ نشان آ جائے گا لیکن ارویند کیجری وال اپنی دھن کے پکے تھے انہوں نے "عام آدمی پارٹی ” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جھاڑو کا انتخابی نشان حاصل کیا کہ ہم ملکی سیاست کا گند صاف کریں گے، پہلی مرتبہ دہلی میں مخلوط حکومت بنائی اتحادیوں کے بلیک میل کرنے پر اسمبلی توڑ دی عوام کی عدالت میں گئے اور اکثریت حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائی ۔

    انہوں نے اپنے دور حکومت میں بے شمار عوامی خدمات کے منصوبے شروع اور مکمل کئے، سرکاری ملازمین کو صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنایا، عوامی شکایات کے ازالے کی فوری کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں بھی واضح برتری حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے اور اب پنجاب کے عوام کو بھی امید ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اصلاحات ہوں گی۔

    ارویند کیجری وال نے نظریاتی اختلافات پر احترام کے ساتھ انا ہزارے سے اپنے راستے جدا کر لئے، انا ہزارے نے انہیں کہا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی انا ہزارے کا نام اور تصویر استعمال نہیں کرنی انہوں نے ایسا ہی کیا، چند ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد شروع کی جو کہ ان کے اخلاص اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کی وجہ سے دن بدن کامیاب ہو رہی ہے، اور امید ہے اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ایک دن پورے بھارت میں عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بھی بنا لے گی۔

    تو دوستوں نظریات کی بنیاد پر اخلاص کے ساتھ سفر شروع کرنا شرط ہے، اگر آپ الیکٹیبلز کو ناگزیر سمجھتے رہے تو جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو گا، ہم لوگ اصل میں زینے کے بجائے لفٹ سے اوپر جانے کے قائل ہیں جبکہ سال کا سفر مہینے میں نہیں البتہ کچھ مہینوں میں طے ہو سکتا ہے ابتدا ہمیشہ تھوڑے سے ہی کی جاتی ہے پھر اپنی محنت، کام سے لگن اور اخلاص کی وجہ سے اس تھوڑے کو زیادہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جیتنے کے لئے سب سے پہلے دل سے ہار کا خوف ختم کرنا چاہیے کیونکہ مقابلہ ہمیشہ بہادر کرتے ہیں ۔

    تو اگر آپ میں بھی اخلاص ہے اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ کی اپنے علاقے میں اچھی ساکھ ہے تو آپ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے تو انفرادی طور پر اپنے علاقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں قائل کریں کہ "آزمائے ہوئے کو آزمانہ بے وقوفی ہے "اس طرح اگر چند اچھے لوگ بھی الیکشن جیت کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو وہ وہاں مل کر اپنا نظریاتی گروپ بنا لیں۔

    اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کریں یہ ان کا اخلاص ہی ہو گا جو اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کے لئے مددگار ہو گا منزل پر پہنچنے کے لئے ابتدا پہلا قدم اٹھانے سے ہوتی ہے تو آنے والے انتخابات میں یا انفرادی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیں یا کسی مخلص امیدوار کی کامیابی کے لئے جان توڑ کوشش کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر کسی مخصوص طبقے کو نہ نوازے بلکہ تمام اہل علاقہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔

  • اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    اندھا اعتقاد — نعمان سلطان

    دنیا میں بےشمار افراد توہم پرستی کے شکار ہیں لیکن پاکستان میں تو آخیر ہی ہے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ایک پیر صاحب کی خوشنودی کے لئے ایک محفل کا انعقاد کیا گیا اس میں پیر صاحب کو لاثانی کہا گیا جس پر فیصل آباد بار کے وائس پریذیڈنٹ صاحب نے محفل میں سرعام پیر صاحب کے مریدوں کو اس عمل سے روکا جس کے ردعمل میں پیر صاحب کے مریدوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔

    کون حق پر ہے یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائے گا بظاہر رائے عامہ پیر صاحب کے خلاف ہے، پیر صاحب کا واقعہ سن کر ایک پرانے وقتوں میں سنا واقعہ یاد آگیا جس میں مرید نے ہر حال میں اپنے پیر کا ہی شملہ اونچا رکھنا تھا اور اتنے عرصے بعد بھی مریدوں کا وہی حال ہے بہرحال پرانا واقعہ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہماری نفسیات بالکل نہیں بدلی ۔

    ایک پیر کے مرید صاحب سعودی عرب بسلسلہ روز گار جانا چاہتے تھے لیکن وہاں جانے کے اسباب نہیں بن رہے تھے، ایک دن اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضرت میں سعودی عرب جانا چاہتا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے براہ مہربانی مجھ پر نظر کرم کریں مرشد نے حسب عادت ایک تعویز مرید کو دیا اور کہا کہ یہ تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے گلے میں پہن لو انشاءاللہ عنقریب تمھارا سعودی عرب جانے کا خواب پورا ہو جائے گا ۔

    مرید نے حسب ہدایت تعویز پاک چمڑے میں سلائی کرا کے پہن لیا اللہ کی کرنی ایسے ہوئی کہ تھوڑے عرصے میں اس کا سعودی عرب جانے کا سبب بھی بن گیا اور وہ سعودی عرب پہنچ کر کام پر بھی لگ گیا کچھ عرصہ گزرا تو اس نے سوچا کہ سعودی عرب میں ہوں اور ابھی تک عمرہ نہیں کیا لوگ اتنے پیسے لگا کر حج. عمرہ کے لئے آتے ہیں مجھے تو اللہ نے موقع دیا ہے میں موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں ۔

    اپنی خواہش کا ذکر اس نے جب اپنے دوستوں سے کیا تو انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ساتھ عمرے پر جانے کے لئے تیار ہو گئے وہ تمام لوگ حالت احرام میں خانہ کعبہ میں آئے، سعودی لوگ توحید کے معاملے میں انتہائی سخت ہوتے ہیں اور حرم کی حدود میں حکومتی اہلکار مقرر ہیں جو لوگوں کو غیر شرعی افعال سے روکتے ہیں ان میں سے جو نرم دل ہوں وہ زبان سے منع کرتے ہیں اور جو طبیعت کے سخت ہوں وہ ایک آدھا طمانچہ بھی رسید کر دیتے ہیں ۔

    حرم میں ایک اہلکار کی نظر اس مرید پر پڑ گئی کہ حالت احرام میں اس نے تعویز پہنا ہوا ہے اس نے فوراً اسے عربی میں کہا کہ” یہ شرک ہے” اور ایک ہاتھ سے اس کے گلے سے تعویز کھینچ کے اتارا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، عمرے کی ادائیگی سے فراغت کے بعد ج وہ دوست اکٹھے ہوئے تو انہوں نے اس مرید سے حرم میں ہونے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ ہم آپ کو بتانا بھول گئے کہ تعویز پہننے کی ممانعت ہے ۔

    مرید نے بےفکری سے جواب دیا آپ ساری باتیں چھوڑو میرے پیر کی کرامت دیکھو یہ تعویز میں نے سعودیہ آنے کے لئے ان سے لیا تھا اصولاً کام ہونے کے بعد مجھے اسے صاف(پاک) پانی میں بہا دینا چاہیے تھا لیکن میں بھول گیا مگر میرے پیروں کی مجھ پر نظر تھی انہوں نے اس وجہ سے کہ کہیں تعویز اب مجھے پر الٹا اثر نہ کر دے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے میرا تعویز بھی اتروا دیا اور طمانچے کی صورت میں میری لاپروائی کی مجھے سزا بھی دے دی۔

    تو دوستوں ہم کل بھی اندھی تقلید کر رہے تھے ہم آج بھی اندھی تقلید کر رہے ہیں خدارا کچھ تو اپنے ذہن سے کام لو اس پیر کے کارنامے سنو تو اس وقت روئے زمین پر اس سے زیادہ خدا کا برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ کوئی نہیں، اس کی نظر سے کوئی بات پوشیدہ نہیں جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کی محفل میں جو وکیل صاحب مدعو ہیں وہ اس کی جھوٹی عظمت کا پول بھری محفل میں کھولیں گے۔

  • ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو اپ کوہر وقت دلاسے دیتا رہےاور اپ کو نصیحتیں کرتا رہے۔اپ کے لئے ہر وقت پریشان ہوتا رہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو یا ان میں آپ کےدوست وغیرہ کو شامل کر لیں. ان کے اپنے کئی مسائل ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر دِلوں کے خالق نے فرما دیا ہے:

    أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

    ترجمہ : ’’ جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘

    ﴿٢٨ -سورة الرعد﴾

    بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ایسے ساتھی ہوں جو اپنا قیمتی وقت دیتے ہوں بات سنتے ہوں اور اپنے ساتھ باہر لے کے جاتے ہوں ایسے لوگوں کا احترام کریں۔

    اگر آپ لمبے عرصے تک اس طرح ہی ڈپریشن میں مبتلا رہے توکچھ عرصہ بعد گھر والے اور دوست آپ کی ڈپریشن کو اپ کی ایک عادت سمجھ کر آپ کو اکیلے آپ کے حال پر چھوڑ دیں گے اور یہ صورتحال پھر آپ کے لئے گھمبیر ہو جائے گی۔۔۔

    ڈیپریشن انسان کو مختلف طریقوں سے تباہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ ڈپریشن آپ کی جان ہی لے، یہ آپ کو اور کئی طرح سے بھی مار سکتا ہے جیسا کہ یہ آپ کی زندگی کے کئی خوشیوں اور کئی مختلف ایکٹیویٹز سے آپ کو محروم رکھ سکتا ہے۔

    جس میں آپ کے جوانی کے حسین صبح و شام اور لمحات شامل ہوتے ہیں دوستوں کی ہنسی مذاق اور گیدرینگ، مختلف ایونٹس،آپ کی تعلیم اور جاب اور آپ کی شادی وغیرہ شامل ہیں۔

    لہٰذا کسی کا انتظار نہ کریں کہ کوئی آئے گا اور آپ کو آپ کی پریشانی سے نکال دے گا.

    خاص طور پر نوجوان اپنے گھر والوں کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اس حالت میں دیکھ کر ضرور کچھ کریں گے یا وہ شخص جس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہوں اور وہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر واپس آجائے گا تو یقین جانیں ایسا کھبی نہیں ہوگا

    خود کو اذیت نہ دیں۔ ہر بندہ اپنی اپنی زندگی جینے اور خوشی منانے میں مصروف ہے۔

    آپ کو خود ہی اس بلا سے نمٹنا ہوگا۔

    زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہیے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں.

    ڈپریشن سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں اور دیکھیں کونسا طریقہ ہے جس سے آپ اچھا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، عبادت کرنا ،لوگوں کی مدد کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا یا بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا اور اوٹینگ پر جانا، مزید تعلیم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا یا تحریر لکھنا وغیرہ وغیرہ۔

    اس کا حل آپ نے خود ہی ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ کونسی چیزیں اور عوامل آپ میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔۔

    پھراس پر عمل کریں۔۔۔

    خوش رہیں، زندگی کو بھرپور طریقہ سے جیئیں۔

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

  • سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    عمران خان نے شہباز گل پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا، جنسی تشدد کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے ملک میں اسے مخصوص تناظر میں دیکھا جاتا ہے جبکہ نازک اعضاء کو اذیت پہنچانا بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اور ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے راہنما کی طرف سے ایسا الزام یہ بتاتا ہے کہ اب مفاہمتی سیاست ختم کر کے جارحانہ سیاست شروع کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور پاکستانی سیاست آنے والے دنوں میں مزید غلیظ ہو گی_

    یہ ایسا الزام ہے جو مسلم لیگ کی جلدی جلدی جان نہیں چھوڑے گا شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر داخلہ بنا دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران جو لوگ بھی پی ٹی آئی کے کارکنان پر تشدد میں ملوث رہے ان کے خلاف کارروائی کر سکیں _

    لیکن ان پر ہی تشدد کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا عمران خان نے رجیم چینج کے بیانیے پر جس طرح عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کیا تھا شہباز گل والے واقعے سے اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان مزید متحرک ہو گئے ہیں اور اس سارے معاملے میں حکومتی وزراء کے بوکھلاہٹ والے بیانات سن کر لگتا ہے کہ شہباز گل والے معاملے میں ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا_

    وہ میڈیا پر بیٹھ کر خود تسلیم کر رہے ہیں کہ "شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں عمران خان کی جان ہے”، ان بیانات کو لے کر عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت عمران خان کو جھکانے یا بلیک میل کرنے کے لئے اب انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے اور حکومت اپنے اقدامات سے خود پی ٹی آئی کو مظلوم اور خود کو ظالم ثابت کر رہی ہے _

    انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی ملنے والے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد گجرات کے پہلے دورے پر انہوں نے کنجاہ اور جلال پور جٹاں کو تحصیل بنانے کا اعلان کر کے وہاں کے لوگوں کو اپنے حق میں کر لیا اس کے علاوہ متعدد سکول، کالج اور ہسپتال اپ گریڈ کرنے کا حکم دیا جبکہ تمام ڈویژن میں سیف سٹی نظام لانے کا اعلان کیاان اقدامات کی وجہ سے ان کی اپنے علاقے میں سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی جبکہ ایجوکیٹرز کی 16000 خالی سیٹوں پر بھرتی کے اعلان کی وجہ سے انہیں سرکاری ملازمین کی مزید حمایت حاصل ہو گئی_

    مسلم لیگ کی موجودہ معاملات میں نالائقی کھل کر سامنے آ رہی ہے سیاسی معاملات میں وہ عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جبکہ انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی کے انقلابی اقدامات ان کے لئے سردرد بنے ہوئے ہیں مسلم لیگ میں موجود ایک گروپ نے بڑی محنت سے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی سے زیادہ قابل ہیں بس انہیں موقع نہیں مل رہا اور اب موقع ملنے پر وہ اپنی قابلیت کے ایسے جوہر دکھا رہے ہیں کہ مسلم لیگ میں موجود ان کے حمایتی ملک اور جماعت کی بہتری کے لئے اب نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

    اصل میں شہباز شریف صاحب ون مین آرمی مشہور ہیں وہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں جبکہ نواز شریف صاحب اپنے اردگرد موجود لوگوں سے ان کی قابلیت کے مطابق کام لیتے تھے اس وجہ سے ان کے اردگرد موجود لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نواز شریف کے لئے اہم ہیں جبکہ شہباز شریف صاحب سے انہیں شکایت ہے کہ وہ انہیں ان کی قابلیت کے مطابق مقام نہیں دے رہے_

    وہ سوچتے ہیں جب سب اچھے کاموں کا کریڈٹ شہباز شریف کو ملنا ہے اور بعد میں انکوائریاں ہم نے بھگتنی ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنی جان کو عذاب دیں سیاسی جب تک اقتدار میں ہیں عیاشی کرتے ہیں اپوزیشن میں ہوں تو انکوائری ہونے کی صورت میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں جبکہ دوبارہ حکومت میں آ کر اپنے خلاف بنے کیس ختم کر لیتے ہیں جبکہ ہمیں حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا الٹا باقی نوکری بھی کھڈے لائن اور انکوائریاں بھگتنے میں گزرتی ہے_

    اگر شہباز شریف صاحب محکموں سے کام لینا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین کو اعتماد اور تحفظ دیں کہ ان کے احکامات اور منظوری پر سرکاری جو بھی کام کریں گے ان کی ذمہ داری وزیراعظم اٹھائیں گے اور وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق اہمیت دیں نہیں تو وہ ساری عمر پچھتائیں گے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیر اعظم بن کے انہوں نے ایک گناہ بےلذت کیا _