Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    عمران خان صاحب کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ خود ہی مسئلے کی وجہ ہیں؟

    آج کل تقریبا ہر تقریر میں عمران خان کا یہ کہنا ہے کی کہ ملک کا معاشی استحکام تبھی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا۔ اور اس کے لیئے وہ فوری انتخابات کا حل تجویز کرتے ہیں۔ مگر پھر اگلی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی چور ڈاکو کی حکومت ماننے سے بہتر مرنا پسند کریں گے۔ اور یہ بات تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اور انکی پارٹی کے علاوہ سب چور اور ڈاکو ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ عمران خان صاحب کو صرف وہی جمہوریت اور الیکشن پسند ہیں جس میں وہ جیتیں اور حکومت بھی کرتے رہیں اگلے کئی سالوں تک۔ اب میں عمران صاحب کی پہلی بات کی طرف آتا ہوں کہ ملک کے معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی استحکام بھی ہو۔

    تو میرا سوال یہ ہے کہ عمران خان صاحب کبھی آپ نے سوچا کہ اس کا ایک سادہ حل بھی ہے اور وہ یہ آپ پارلیمنٹ میں واپس جائیں اور ایک ذمہ دار اپوزیشن کا رول ادا کریں اگلے الیکشن تک۔ اس عمل سے یقینی طور پر ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت بھی بہتر ہو گی بقول آپکے ۔ تو کیا آپ اپنے ملک کے لیے یہ بھی نہیں کر سکتے؟آج قوم آپ سے یہ سوال کرتی ہے کہ کیا آپکی اتنی سی قربانی اس ملک کے لیے نہیں دے سکتی جس سے آپ اتنے عشق کا اظہار کرتے ہیں ۔ مسئلے کا حل آپکے پاس ہے آئین اور قانون کی روشنی اور جمہوری روایات کے مطابق، اگر آپ کسی کو مانتے ہیں۔

    قوم آپکے جواب کی منتظر رہے گی

  • ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    راقم کے ایک دوست نے راقم کی تحریر "چلتے ہو تو سسرائیل چلئے ” پڑھی، اپنے اعمال بد کی وجہ سے روز آخرت حصول جنت کے بارے میں پر امید نہ تھا اس لئے اس نے دنیا میں ہی جنت کے حصول کی کوشش کرنے کے بارے میں ٹھان لی، اور خدا کی رحمت سے ناامیدی گناہ کبیرہ ہے کہ طعنوں کا یہ جواب دیا کہ ہو سکتا ہے میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی رحمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے، تو میں دنیاوی جنت کو ٹھکرا کے کفران نعمت کیوں کروں؟

    جب حاسدین نے انہیں طعنے دئیے کہ "یہ منہ اور مسور کی دال” ہم بھی یہیں ہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے دنیا میں جنت حاصل کرتے ہو، تو عزیزی نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا، مناسب تعلیم، ذہانت، شخصیت، فٹنس اور مضبوط فوجی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے فوج میں کمیشن ملنے کا قوی امکان تھا لیکن عزیزی کو ملک میں جاری شرپسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے قوی امید تھی کہ ٹریننگ مکمل کرتے ساتھ ہی انہیں آپریشن ایریا میں بھیج دیا جائے گا جہاں سے ان کی واپسی تابوت میں ہو گی، اس وجہ سے وہ فوج میں نہیں گئے اور انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا،تحریر میں لکھی گئی بات ان کے پیش نظر تھی کہ جنت کی نعمتوں سے اگر زیادہ لطف اندوز ہوناہے تو سسرائیل میں قیام کم سے کم وقت کے لئے کرنا ہے ۔

    یہاں بھی انہوں نے اپنی طرف سے ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جنت کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے عزیزی نے اپنے رہائشی شہر میں ہی شادی کا فیصلہ کیا، تاکہ گھڑے کی مچھلی کی طرح نعمتیں ہر وقت دسترس میں رہیں اور جب دل کرے ان سے لطف اندوز ہو سکے، قصہ مختصر عزیزی نے ملازمت کر لی اور اس کی خواہش کے مطابق اسی شہر میں اس کی شادی بھی ہو گئی اور عزیزی ہمیں شہر کے شہر میں شادی کے فوائد بتا کر للچاتا رہا پھر ہم بھی غم روزگار میں مبتلا ہو کر کافی عرصہ عزیزی سے ملاقات نہ کر سکے ۔

    کافی عرصے بعد جب عزیزی سے ملاقات ہوئی تو اس کا بجھا ہو چہرہ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، بعد از تشفی عزیزی نے ہمیں بتایا کہ جو عقلمندی میں نے شہر میں شادی کر کے کی تھی وہ اب میرے گلے پڑ گئی ہے، بیگم کا جب دل کرتا ہے وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر والے ان حالات میں ہم دونوں سے سخت خفا ہیں اس وجہ سے جب میں کام سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو اگر بیگم اپنے میکے گئی ہو تو وہ مجھے روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمھارے کام تمھاری بیوی کی ذمہ داری ہے، میں نے شہر کے شہر جنت کے مزے لینے کے لئے اپنے گھر کو ہی جہنم بنا لیا خدارا میری پریشانی کا کچھ مداوا کرو۔

    ہم نے سابقہ تعلقات دیکھتے ہوئے عزیزی کی مدد کا فیصلہ کیا اور اسے ایسا مشورہ دیا کہ اس کا گھر بھی خراب نہ ہو اور بیگم کا بار بار میکے جانا بھی کم ہو جائے عزیزی نے ہمارا مشورہ سن کر صدق دل سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کا میکہ میرے لئے مثل جنت ہے جس کی آپ حور ہو اور حور سے دور رہنا کفران نعمت ہے اس وجہ سے جب آپ کا دل کرے آپ اپنے میکے جاؤ، بس مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں بھی اپنی نوکری سے فارغ ہو کر آپ کے پاس وہیں آ جاؤں اور سسرائیل میں عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

    عزیزی کی بیگم نے خوشی خوشی کہا کہ کل میں میکے جاؤں گی آپ بھی نوکری سے چھٹی کر کے وہیں آ جانا، چھٹی کے بعد عزیزی جب اپنے سسرائیل گیا تو وہاں فرمائشی کھانوں سے لطف اندوز ہوا، نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وقتاً فوقتاً اپنی حور کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہوئے افراد خانہ کے ہاتھوں پکڑا بھی گیا اور دیگر افراد خانہ کی خلوت کو متاثر بھی کرتا رہا، جب اہل خانہ نے شکایات کا انبار سسرائیل کی وزیر اعظم (ساس صاحبہ) کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً اس مسئلے کا سدباب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس (بیٹیوں اور بہنوں) کا طلب کیا۔

    جس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ عزیزی کے سسرائیل میں قیام کی وجہ سے سسرائیل کا بجٹ انتہائی متاثر ہو رہا ہے اور عزیزی کی خواہش نفسانی سے مجبور ہو کر حرکات کی وجہ سے مملکت خداداد سسرائیل کی مکین دیگر خواتین پر نامناسب اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس وجہ سے عزیزی کی سسرائیل میں قیام کرنے کی وجہ (عزیزی کی بیگم) کے ہمراہ اسے سسرائیل سے بے دخل کیا جائے اور عزیزی کی بیگم کو پابند کیا جائے کہ آئندہ وہ ایک مخصوص عرصے کے بعد میکے آئے تا کہ عزیزی ان کے لئے بلائے جان نہ بنے یوں عزیزی کی” نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی آیا چوکھا”، لیکن اس واقعے کے بعد عزیزی تمام احباب کو مشورہ دیتا رہا کہ شادی ہمیشہ دوسرے شہر میں کرو کیونکہ "دور کے ڈھول سہانے ” ۔

  • ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    تلبینہ ایک عربی ڈش ہے جو دلیہ کی شکل میں جو،دودھ اور شہد کے ساتھ تیار کی جاتی ہے جو کہ ” جو ” کے خشک پاؤڈر میں دودھ اور شہد ملا کر بنائی جاتی ہے۔

    یہ لفظ عربی لظف لابن سے آیا ہے جس کے معنی ہیں دیی (خمیر شدہ چھلکا ہوا دودھ)

    اس کی مشابہت دہی جیسی ہوتی ہے کیونکہ یہ سفید اور نرم ہوتا ہے

    تلبیںہ کیسے پکائیں؟

    تلبینہ بنانے کی آسان ترکیب نوٹ فرما لیں۔

    اجزاء:

    جو : 125 گرام (رات کو بھگو دیں)

    دودھ: 500 ملی لیٹر ( ابلا ہوا)

    شہد: حسب ضرورت مٹھاس کے لئے۔

    ترکیب:

    رات بھر بھیگی ہوئی ” جو” کو پانی کے ساتھ بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں اور ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اب ایک پین لیں اس میں "جو” کا پیسٹ اور تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور ساتھ چمچ چلاتے جائیں۔ اب آہستہ آہستہ دودھ ڈالتے جائیں اور چمچ چلاتے جائیں مزید 5 منٹ پکائیں یہ اب دلیہ جیسا دکھنے لگے گا اب اس میں حسب ضرورت شہد شامل کریں۔

    اب تلبینہ تیار ہے اس میں آپ اپنے من پسند خشک میوہ جات شامل کر سکتے ہیں۔

    تلبینہ ایک انتہائی صحت بخش خوراک ہے جو خصوصی طور پر بوڑھوں اور بیمار افراد کے لئے بے حد مفید ہے۔

    سنت نبوی صلی اللہ علہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کے پاس جب بھی کوئی بیمار اتا آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔ یہ نہ صرٖف صحت و طاقت پہنچاتا ہے بلکہ ڈپریشن بھی دور کرتا ہے۔

    ڈپریشن کو کم کرتی ہے:

    تلبینہ ایک اعلی کاربوہائیڈریٹ خوراک ہے اور ڈپریشن اور استعمال شدہ کاربوہا.

    ئیڈریٹس مزاج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس کی وجہ سیروٹونن سینتھیسس پر کاربوہائڈریٹس کے اثرات ہیں۔
    اس کے علاوہ جسم میں زنک کی کمی بھی ڈپریشن کی وجہ ثابت ہوئی ہے۔

    تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تلبینہ مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اس کی وجہ اس میں موجود کاربوہایئڈریٹس اور اس کا میٹھا ذائقہ ہے۔ اس کے استعمال کرنے والے 6 میں سے 5 افراد پر مزاج کے حوالے سے مثبت نتائج مرتب ہوئے ہیں۔

    حضرت محمد صلی اللہ علہ وسلم کا فرمان ہے۔

    یہ غمگین کے دل کو سکون دیتا ہے اور بیمار دل کو صاف کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی پانی سے اپنے چہرے کی گندگی صاف کرتا ہے۔” سنن ابن ماجہ (3445)

    بیماریوں کے خلاف تلبینہ:

    بالآخر جدید تحقیق نے بھی اس بات کی تائید کر دی جو ہمارے پیارے نبیؐ نے چودہ سو سال قبل فرمائی تھی کہ تلبینہ بیماریوں کے خلاف قوت فراہم کرتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو اناج میں سب سے زیادہ افادیت رکھتا ہے اور مختلف تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس،بڑی آنت کا کینسر، دل کے امراض،قبض کے خلاف کام کرتا ہے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ آپؐ کے خاندان کا کوئی بھی شخص بیمار ہوتا تو آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔

    قبض سے نجات:

    جو درحقیقت فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    فائبر کا استعمال آنتوں کی نقل و حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض کو روکتا ہے اور جسم کو بہت سی اندرونی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور چونکہ تلبینہ جو سے بنتا ہے اس لئے یہ قبض دور کرنے میں کافی اکسیر مانا جاتا ہے۔

    کولیسٹرول کم کریں:

    جو میں موجود بیٹا گلوکنز کو بائل ایسڈ سے منسلک کر کے خراب ایل ڈی ایل کو کم کرنے کے لئے اہم دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ھائی کولیسٹرول والے مریض کو ڈاکٹر گندم کے بجائے جو سے بنی اشیاء کے استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔

    دل کی بیماریوں کے خلاف تحفظ:

    جو بھی نیاسین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔یہ وٹامن دل کی بیماری پیدا کرنے والے ایتھروسکلروسیس کو روکتا ہے۔اس میں متعدد حفاظتی ایجنٹ ہوتے ہیں جو دل کے امراض سے بچاؤ کرتے ہیں۔نیاسین کے استعمال سے خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے جو دل کی شریانوں کی بندش، ہارٹ اٹیک، اور بلڈ کلاٹنگ کو روکتا ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

    ” تلبینہ مریض کے دل کو آرام دیتی ہے اور اسے فعال بناتی ہے اور اس کے کچھ دکھ اور غم دور کر دیتی ہے۔

    ” صحیح بخاری (5325)

    اپنی جلد کی جوانی کو برقرار رکھیں:

    تلبینہ میں بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جلد کی نرمی اور لچک کو برقرار رکھتے ہیں ۔اس میں موجود سیلینیم جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ، اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرکے خلیوں کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور جلد پر جھریاں پڑنے سے روکتے ہیں

    تلبینہ کے بے شمار فائدے:

    اپنی زرخیزی میں کمی کا مقابلہ کریں۔

    زرخیزی میں کمی بہت سی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے .

    جیسے کہ شوگر لیول، ٹینشن، پھر کھانے کی بے قاعدگی وغیرہ۔

    اس کے لئے متوازن غذا کا استعمال کریں اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل کریں باقاعدگی سے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹینشن سے دور رہیں اور ان سب باتوں میں تلبینہ بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ٹینشن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی خصوصیت بھی موجود ہے۔

  • پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    چند روز قبل اس ارادے سے لکھنے بیٹھا کہ اس آزادی کے موقع پر ایسا کچھ لکھوں کہ دل میں ملک عزیز پاکستان کی محبت میں اضافہ ہو، اور یہ محبت اس قدر ہو کہ وطن عزیز کے لئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ دل میں پیدا ہو۔ یا کم از کم اتنا ہی احساس ہمارے دل میں پیدا ہو کہ ہمارے کسی قول و فعل سے وطن عزیز کی عزت پر کوئ آنچ نہ آئے۔

    پھر خیال آیا بڑے بڑے محب وطن لکھاری، شعراء اور مفکرین اس باب میں لکھ چکے ہیں۔ ہم انہی کو سنجیدگی سے پڑھ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، میرے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر پھر خیال ہوا کہ گو میری یہ بساط نہیں مگر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام آجائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ کہ کل بروز قیامت ملک عزیز پاکستان کے لئے اور کچھ نہیں تو یہی تحریر پیش کرسکوں۔ کہ یارب تیرے نام پر بنے اس پیارے ملک پاکستان سے محبت میں یہ ایک تحریر لایا ہوں۔

    مگر کچھ نہ سمجھ آیا۔ ابتدا کہاں سے ہو انتہا کہاں ہو۔ اسی اثناء میں آنکھ لگ گئ، کیا دیکھتا ہوں کہ اک خلق خدا جمع ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے جیسے بعد الفجر نماز پڑھ کر سارے پاکستانی اک میدان میں جمع ہوں، جس میں بچے بوڑھے مرد خواتین جمع ہیں۔ البتہ سب خواتین باپردہ ہیں۔ اور مردوں سے الگ ہیں۔ سب کی زبانوں پر اک ہی نعرہ ہے: پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاااللہ

    اسٹیج سے اعلان ہوا کہ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان اپنی 75 ویں سالگرہ پر ہم سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ سب کا جوش و خروش عروج پر ہے، خوشی سے چہرے کھل رہے، آنکھیں پر نم ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے تو سر ندامت سے جھکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پیارے ملک سے کسی بھی سطح کی بے وفائ، اسے لوٹا یا اس کے مقاصد سے روگردانی کی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اور ملک پاکستان بارعب وجیہ صورت میں متشکل ہو کر اسٹیج پر تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے
    ” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جسکے نام پر میں آزاد ہو۔ درود سلام ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپکے تمام اصحاب پر

    میرے بیٹو !
    امید ہے تم سب ٹھیک ہوگے۔ تمھاری بقا سلامتی اور خوشحالی کی ہر دم دعا کرتا ہوں۔ اللہ تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ہر اندرونی بیرونی شرور سے تمھاری حفاظت کرے۔ آمین

    میں پاکستان ہوں۔ سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ میرے حصے ہیں۔ مجھے اپنا ہر حصہ اور ان میں رہنے والا ہر پاکستانی عزیز ہے۔ تم سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور ہو۔ مگر تمھاری اصل پہچان پاکستانی ہونا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم مسلمان ہو۔ خدارا قومیتیں تعارف کیلئے ہیں،نہ کہ فخر کیلئے۔ گو کہ فطری طور پر اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اس بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا میرے اللہ کو پسند نہیں۔ میرے اللہ کو پسند نہیں، تو مجھے بھی پسند نہیں۔ کیونکہ میری بنیاد ہی اللہ کے نام پر رکھی گئ۔ میرے بننے کے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔

    میں پاکستان ہوں۔ میرے نام میں ہی پاکیزگی ہے۔ مجھے ہر طرح کی گندگی سے پاک رکھو۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے تم سے امیدیں ہیں۔ میری امیدوں کا پاس رکھنا۔

    میں پاکستان ہوں۔ میری نسبت مدینہ منورہ سے ہے۔ میری اس نسبت کا بھی پاس رکھنا۔ مجھے مدینہ کے والی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں عزیر رکھنا۔ میرا ہر پاکستانی مکمل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ہو۔
    کہیں میں آپ کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔

    مجھے لاکھوں مسلمانوں کی تن من تن دھن کی قربانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان قربانیوں کی لاج رکھنا۔ ان سے بے وفائی نہ کرنا۔ ۔

    یہاں بسنے والے غیر مسلم بھی تمھارے بھائ ہیں۔ کسی کو بے جا۔ تکلیف نہ دینا میرے نبی کا حجۃ الوداع کا خطبہ یاد ہے نا؟ آپ نے فرمایا تھا ہر شخص کی جان مال عزت آبرو تم پر حرام ہے۔ کسی کالے کو کسےگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ فضیلت حاصل نہیں۔ لہذا خدا کے بندو بھائ بھائ بن کر رہو۔

    میرے قائد محمد علی جناح اور میرے مفکر علامہ محمد اقبال کے فرامین پڑھا کرو، انہیں یاد رکھو، اور ان پر عمل کرو۔
    میں انہی حضرات کی انتھک محنتوں سے آزاد ہوا۔ اور میری بقا بھی انہی کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ لہذا قائد کا یہ اصول ہمیشہ پلے باندھے رکھو: ایمان،اتحاد اور تنظیم۔ یعنی اللہ کی ذات پر کامل ایمان، آپس میں پیار و محبت سے متحد ہو کر رہنا اور ہر کام میں نظم و ضبط اپنائے رکھنا۔ اور مفکر پاکستان کا یہ پیغام یاد رکھنا

    عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
    مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
    ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
    تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    14 اگست کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب جس میں رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام پیش کئے گئے، اس تقریب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کی شمولیت اور ناچ گانے کے دوران تقریب کا بائیکاٹ نہ کرنے کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں "مفتی قوی” جیسے بھی افراد موجود ہیں لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں وہ جیسے اندر سے ہیں ویسا ہی خود کو بیان کرتے ہیں، لیکن ایسی جماعت جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کر رہی ہو اور تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں کے دوران موسیقی کے استعمال اور عورتوں کی بے پردگی پر شدید تنقید کرتی ہو، اس کے مولانا فضل الرحمن کے بعد متوقع سربراہ کی طرف ایسی حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے پیش نظر اسلام نہیں اسلام آباد ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے وہ ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔

    ویسے مذہبی جماعتوں کے اکابرین کی طرف سے ہونے والی یہ پہلی منافقت نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے قول و فعل کا تضاد سامنے آیا لیکن افسوس ہماری کمزور یاداشت یا اندھی عقیدت کہ ہم پھر دوبارہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ان نام نہاد مذہبی اکابرین سے دھوکہ کھاتے ہیں، حالانکہ پرویز مشرف کے دور میں تمام مذہبی سیاسی جماعتیں لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو چکی تھی، لگے ہاتھوں آپ کو تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے اکابرین کا وہ واقعہ بھی بتا دیتے ہیں تا کہ نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ ہمیں اسلام کے نام پر لوٹ رہے ہیں ۔

    پاکستان میں مسلکی بنیاد پر تنازعات اپنے عروج پر تھے، ہر شخص کی نظر میں اس کا مسلک ٹھیک اور ان کے مسلکی عالم حق تھے، اہلحدیث، سنی(بریلوی) اور دیگر چھوٹے مسالک کے علماء ایک حدسے زیادہ اختلافات کو بڑھاوا نہیں دیتے تھے، جبکہ شیعہ اور دیوبندی مسالک میں نظریاتی اختلاف عروج پر پہنچا ہوا تھا اور بات منبر و محراب سے بڑھ کر لڑائی جھگڑوں اور مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے تک پہنچ گئی تھی، البتہ ایک شرعی مسئلے میں تمام مسالک کا اتفاق تھا کہ "مخالف فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی ” ۔

    علماء کی بات لوگوں کی نظروں میں حرف آخر تھی اور علماء کی منبر پر کئی گئی تقریروں کی بنیاد پر لوگوں کے ایمان کے فیصلے ہوتے تھے، ان حالات میں اہل دانش کا خیال تھا کہ لوگوں کو اس اندھی تقلید سے نجات دلانا ناممکن ہے، ایسے عالم میں مسند اقتدار پرویز مشرف صاحب نے سنبھالی اور ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا، انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں دینی جماعتوں نے مل کر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    علماء کرام نے خطبات میں عوام سے درخواست کرنا شروع کر دی کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانت کو اس کے اہل (حق دار) کے حوالے کرنا آپ کا شرعی فرض ہے چنانچہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دے کر کامیاب کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں، اس سارے عمل کے دوران تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر منبر و محراب کو سیاسی جماعتوں کی ترویج کے لئے استعمال کیا اور انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ بنا دیا۔

    جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو متحدہ مجلس عمل کو بھی معقول تعداد میں قومی اسمبلی میں نمائندگی ملی جبکہ صوبہ سرحد (خیبر پختون خواہ) میں ان کی حکومت بنی، حکومت میں آنے کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بارے میں اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے لگی کہ "متحدہ مجلس عمل کے اجلاس کے دوران نماز کا وقت ہونے پر تمام اکابرین نے فلاں(ہر نماز میں امام بدلتا تھا) کی امامت نماز ادا کی "، میں نے جب اپنے مقامی عالم دین (مفتی صاحب) سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے کہ دوسرے فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی تو اب یہ جو تمام فرقوں کے اکابرین ایک دوسرے کی امامت میں نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اخبارات میں خود کہہ کر یہ خبریں لگوا رہے ہیں کیا یہ منافقت نہیں۔

    تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا یہ مفاد پرست ہوتے ہیں، تو میں نے انہیں کہا کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ یہ سیاسی لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں تو آپ نے انتخابات سے پہلے نماز جمعہ کے اجتماعات میں دین بیان کرنے کے بجائے ان لوگوں کی حمایت میں تقریریں کیوں کیں اور لوگوں کو کیوں کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے انہیں ووٹ دو، وہ دن اور آج کا دن مفتی صاحب مجھ سے ناراض ہو گئے اور دوبارہ کلام ہی نہیں کیا ۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں احکامات دین پر عمل کرنا چاہیے لیکن ان نام نہاد علماء کے بہکاوے میں آ کر لوگوں کے ایمان کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے ہم دنیا میں اللہ کی بندگی کے لئے آئے ہیں اللہ کی مخلوق کا ایمان چیک کرنے کے لئے نہیں، اس لئے آج کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جس نے اس دور فتن میں اپنے ایمان کو سلامت رکھا، باقی یہ نام نہاد علماء اس یقین پر گناہ کرتے رہتے ہیں کہ اللہ سے توبہ کرو تو اللہ معاف کر دیتا ہے پر وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا انہیں آخری وقت میں توبہ کرنے کی مہلت ملے گی بھی یا نہیں ۔

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    آج سے 75 سال پہلے جب پاکستان بنا تو ایک ملک کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی. لیڈر سرپرستی کا کام کرتا ہے اور کام کو آگے بڑھاتا ہے لیکن وہ یہ کام کبھی اکیلا نہیں کرسکتا ہے. اس کام کے پیچھے پوری قوم کی سپورٹ ہوتی ہے. پاکستان کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی سب مسلمان مذہب کی بنیاد پر اکٹھے ہوئے، اپنی جان، مال قربان کردیئے، انتھک محنت، لگن اور کئی سالوں کی محنت کے بعد ملکِ پاکستان وجود میں آیا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی تقسیم میں بھی پاکستان کو اس کا حق نہ مل سکا اثاثہ جات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کو بہت دقت اٹھا نا پڑی ہندوستانی مسلمانوں کی ہجرت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس کا سارا بوجھ پاکستانی حکومت کو اٹھانا پڑا لیکن پاکستان کی قوم اور حکومت نےساتھ ملکر بڑی محنت مشقت اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس کٹھن مرحلے کو سر کیا.

    اجتماعیت یعنی اتحاد و اتفاق ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے آپ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کرسکتے ہو، بڑی بڑی سلطنتیں جزیہ دینے پر مجبور ہوسکتی ہیں. اتحاد و اتفاق نہ ہو تو دنیا جہان کے وسائل ہونے بعد بھی آپ ڈھیر ہوسکتے ہیں. بحیثیت قوم آپ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی ہے . دنیا کے کمزور ترین لوگ بھی آپ کو شکست سے دو چار کرسکتے ہیں. اور یہ قانون فطرت ہے جسے فقط اتحاد و اتفاق یعنی اجتماعیت سے بدلا جاسکتا ہے .

    تبھی شاعر مشرق نے کہا تھا:

    فرد ہے ملت سے تنہا کچھ بھی نہیں
    موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ بھی نہیں

    انسان انسانوں کے ساتھ ملکر رہتے ہیں، جانور جھنڈوں کی شکل میں رہتے ہیں، پرندے قطاروں میں اڑان بھرتے ہیں. یہ سب اس لیے ہے کہ ان کے پیدا کرنے والے نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے. اور جو اس قانون کو توڑتا ہے وہ تنہا ہوجاتا ہے، ڈپریشن، نفسیاتی مسائل اس کا جینا دوبھر کردیتے ہیں. درندے ایسے ہرن کا آسانی سے شکار کرلیتے ہیں اور پرندے بازوں سے محفوظ نہیں رہتےہیں شاعر نے کیا خوب کہا ہے.

    ہم جنس کنند پرواز
    کبوتر با کبوتر باز بہ باز

    . ہمیشہ سے ہی جب کوئی کام سرانجام پاتا ہے تو اس کے پیچھے کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے اور اگر پوری قوم اکٹھی ہوجائے اور ان لوگوں کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہو تو سازشیں بھی دم توڑ جاتی ہے1965 کی جنگ میں جب دشمن سرحد پر سب ہتھیاروں سے لیس کھڑا تھا اس وقت بھی پاکستان کی قوم اور حکومت نے ساتھ مل کرمحدود وسائل کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ ی اور آج ہمارا ملک جس پرکٹھن دور سے گزر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے کس طرح سے پاکستان شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے.

    جب بھی کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کا حل لازمی ہوتا ہے اور اس کا حل بھی یہی ہے کہ پوری قوم تفرقہ بازی بازی ختم کرکے اسلام کے نام پر اکٹھی ہوں، کیونکہ اسلام ہی سلامتی والا مذہب ہے. جو ہر رنگ و نسل اونچ نیچ سے بالاتر ہے. جو اپنے ماننے والوں کو مکمل حقوق العباد کا ضابطہ سکھاتا ہے. جب انسان حقوق العباد کو پورا کرتا ہے تو ہی معلوم پڑتا ہے کہ وہ کتنا اپنے دین پر چلنے والا ہے یہ ہر ایک فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کا حق پہچانے سب عہد یداران اپنی حیثیت کو دیکھ کر درست معاملات کریں. جھوٹ اور ہیر پھیر سے اجتناب کریں.ظالم و جابر حکمران قوم کے اپنے اعمال کی وجہ سے مسلط ہوتے ہیں. پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان تفرقہ بازی نے پہنچایا ہے.
    اجتماعیت بہت فائدہ مند چیز ہے آپ لکڑی کے گٹھڑ کی ہی مثال لے لیں گٹھڑ کو کبھی کوئی نہیں توڑ سکتا ہے اور الگ الگ لکڑی کو توڑنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ہی آج پاکستان کی قوم کو اجتماعیت کی بہت ضرورت ہے.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے
    ایک اور حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے.

    اسی طرح اگر پاکستان کی عوام ایک ساتھ مل کر چلے اور سب ایک دوسرے کا احساس کریں،ایک دوسرے کا حق نہ ماریں تو ہی ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ اچھا معاشرہ اور ہمارا ملک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے.

    یادرکھیں وہ قوم کبھی نہیں بدل سکتی ہے جسے خوداپنے حالات بدلنے کا شعور نہ ہو. ہمارے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اتحاد و اتفاق اور شعور کی بے حد ضرورت ہے.

  • پشاور:غیرت کے نام پر دو بہنوں سمیت 3 خواتین قتل

    پشاور:غیرت کے نام پر دو بہنوں سمیت 3 خواتین قتل

    پشاور:نواحی علاقے داودزئی میں بھائی نے ساتھیوں کی مدد سے فائرنگ کرکے دو بہنوں سمیت 3 خواتین کو قتل کردیا۔پولیس کے مطابق بھائی نے دوستوں کے ساتھ مل کر تینوں خواتین پر فائرنگ کی، ملزم نے غیرت کے نام پر بہنوں کو قتل کیا۔

    ابتدائی تفصیلات کے مطابق باپ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مدعی یاسین نے رپورٹ درج کرائی کہ اس کے بیٹے امجد نے اپنے دیگر ساتھیوں فرہاد، گل شیر، سید رحمان اور کامران کے ہمراہ اراضیات بابوزئی میں اپنی بہنوں اور ان کی سہیلی کو فائرنگ کر کے قتل کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وجہ عناد غیرت کے نام کا بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں لڑکیوں کا ایک لڑکے کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔

    پولیس نے قتل ہونے والی دو لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے فرار ملزمان کی تلاش اور واقعے کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ایف آئی آر میں دو بہنوں کا بھائی اور اس کے 3 دوستوں کو نامزد کیا گیا ہے، ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ غیرت ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس نے وقوعہ سے سے خالی خول اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لیے اسپتال منتقل کردی ہیں

  • جمیل احمد کو گورنراسٹیٹ بینک بنائے جانے کا امکان

    جمیل احمد کو گورنراسٹیٹ بینک بنائے جانے کا امکان

    گورنر اسٹیٹ بینک کے خالی عہدے پر جمیل احمد کو گورنر اسٹیٹ بینک بنائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم کی منظوری سے جمیل احمد کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک تعیناتی کا اعلان جلد متوقع ہے۔

    جمیل احمد ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انہیں 25 اکتوبر 2018 کو 3 سال کیلئے ڈپٹی گورنر تعینات کیا گیا تھا۔ جمیل احمد کا بینکنگ سیکٹر میں 30 سالہ تجربہ ہے۔

    نئے گورنر اسٹیٹ بینک کیلئے تیار کردہ فہرست میں ڈاکٹر مرتضٰی ،عاصم میراج، ڈاکٹر سعید احمد کے نام بھی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ وراں سال مئی میں رضا باقر کی مدت پوری ہونے پر مستقل گورنرکا عہدہ خالی ہوا تھا اور اس وقت ڈاکٹرمرتضٰی سید قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کرتا ہے، جو بینک کے معاملات کی عمومی نگرانی اور بینک کے معاملات و کاروبار کی سمت متعین کرنے کا ذمہ دار ہے۔ بورڈ کی صدارت گورنر ایس بی پی کرتے ہیں جبکہ یہ آٹھ غیر انتظامی ڈائریکٹرز اور وفاقی حکومت کے سیکریٹری فنانس پر مشتمل ہوتا ہے۔ بورڈ کے غیر انتظامی ڈائریکٹرز کا تقرر وفاقی حکومت کی جانب سے تین سالہ مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔

  • گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان :کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سے زبردستی ہرمہینے100روپے فیس ہتھیانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک طرف پاکستان میں مفت تعلیم کے سرکاری سطح پردعوے کیے جاتے ہیں،مگروہاں بعض سکولوں میں بچوں سے زبردستی ماہانہ 100 روپے فیس کے نام سے بٹورے جارہے ہیں مگرحکام کو اس کی پرواہ تک نہیں ہے ، ایسا ہی ایک پرائمری سکول گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاوں کھرفق ہے جہاں بچوں سے ہر ماہ فیس کی مد میں 100 روپے لیا جاتا ہے

    باغی ٹی وی کو گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے کھرفق گاوں سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہاں ایک پرائمری اسکول ہے جہاں مقامی بچے زیرتعلیم ہیں اوریہاں کا عملہ حکومت کی طرف سے مفت تعلیم کے باوجود بچوں سے فیس کے نام سے ہرمہینے 100 روپے ہتھیا رہا ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سکول میں تعینات عملے کی طرف سے بچوں کے والدین کودھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس قسم کے تاثرات پیش کیے جاتے ہیں کہ جن سے ثابت کیا جاسکے کہ یہ 100 روپے حکومت کی طرف سے وصول کرنے کا حکم ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ضلع گانچھے کا کھرفق گاوں اورگردونواح میں انتہائی غریب اورمفلوک الحال خاندان مقیم ہیں‌ جن کے لیے اپنے بچوں کوہرمہینے 100 روپے فیس کی ادائیگی بہت مشکل ہوجاتی ہے ،لیکن والدین کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہر مہینے 100 روپے فیس کی مد میں جمع کرواتے ہیں

    اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ کیا واقعی بچوں سے ہر مہینے وہاں کے اساتذہ 100 روپے فیس کی مد میں لیتے ہیں تو مقامی لوگوں‌ نے اس بات کی تصدیق وتائید کی اوراس خبرکو درست قرار دیا کہ واقعی بچوں سے 100 روپے زبردستی وصول کیا جاتاہے

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں میٹرک تک تعلیم مفت ہے ،ایسے ہی گلگت بلتستان میں بھی میٹرک تک تعلیم مفت ہے مگرپھر ہمارے بچوں سے کس بات کے ہر مہینے فیس کی مد میں سو روپے لیے جاتے ہیں ،مقامی آبادی نے باغی ٹی وی کے توسط سے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کی انکوائری کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث عملے کے خلاف کارروائی کی جائے

    کھرفق گاوں اورارد گرد کے دیہات کے باسیوں نے اس سلسلے میں‌ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اوروزیرتعلیم گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور مقامی بچوں کو ان کامفت تعلیم حاصل کرنے کا حق واپس کریں تاکہ والدین اپنے بچوں کو بغیرفکروفاقہ تعلیم دلواسکیں