Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دوسرا ون ڈے: پاکستان نے نیدرلینڈز کو 7وکٹوں سے ہرادیا، سیریز میں فیصلہ کن برتری

    دوسرا ون ڈے: پاکستان نے نیدرلینڈز کو 7وکٹوں سے ہرادیا، سیریز میں فیصلہ کن برتری

    روٹریم :پاکستان نے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں نیدرلینڈز کو 7 وکٹوں سے شکست دیدی، بابر اعظم، محمد رضوان اور آغا سلمان نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ گرین شرٹس کو سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی۔

    روٹرڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پوری میزبان ٹیم 44.1 اوورز میں 186 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، باس ڈی لیڈ 89 اور ٹام کوپر 66 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، نیدرلینڈز کے 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہیں ہوسکے۔

    پاکستان کی جانب سے حارث رؤف اور محمد نواز نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کو 187 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتداء میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، فخر زمان 3 اور امام الحق 6 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، اس موقع پر بابر اعظم اور محمد رضوان نے ٹیم کو سنبھالا، دونوں کے درمیان 88 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔

    کپتان بابر اعظم 57 رنز بنا کر آریان دت کی گیند پر ڈی لیڈ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے، محمد رضوان 69 اور آغا سلمان 50 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    میزبان ٹیم کی جانب سے ویویان کنگما نے 2 اور آریان دت نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    پاکستان نے ہدف 33.4 گیندوں پر 3 وکٹوں کے نقصان پر مکمل کرلیا، گرین شرٹس کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل ہوگئی، سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 21 اگست کو اسی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔

  • سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    لاہور:پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے ،اطلاعات کے مطابق سندھ کے بعد اب صوبہ پنجاب میں بھی ایڈز کے کیسز بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی سابقہ حکومت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی یہ معاملہ پھچلی کئی دہائیوں سے تشویش کا باعث تھا مگرسب نے توجہ نہ دی

    اس حوالے سے جوحقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کےمطابق صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سال2019 سے 2022 تک ہر سال مریضوں کی تعداد بڑھتی رہی۔سال 2019 میں ماہ اکتوبر میں پنجاب بھر میں ایڈز کے642 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر کے دوران لاہور میں50 کیسز سامنے آئے۔

    سال 2019 جنوری سے ستمبرتک صوبے بھر میں ایڈز کے 2646 کیس رپورٹ ہوئے۔اکتوبر2019 سے دسمبر 2019 تک ایڈز کے 1241 کیسز سامنے آئے۔سال 2020 میں صوبے بھر میں ایڈز کے 4872 کیسز رپورٹ ہوئے۔سال 2021 میں صوبے بھر میں ایڈز کے کُل 5096 کیسز رپورٹ ہوئے۔جنوری 2022 سے جون 2022 تک صوبے بھر میں ایڈز کے 3241 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    یاد رہے کہ سندھ میں معاملات بہت ہی زیادہ خراب ہیں اور سندھی عوام بے بسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں‌ ، ایچ آئی وی یا ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی یا ایڈزسے متاثرہ غیر رجسٹرڈ افرادکی تعداد78ہزار ہے جن میں سے صرف 16ہزار ریکارڈ میں موجود ہیں، سندھ بھر میں قائم 16ایچ آئی وی اورایڈز پروگرام میڈیکل سینٹرز میں مفت علاج کی سہولت موجودہے،

    معاشرے میں عام طور پر ایچ آئی وی اورایڈز کے حوالے سے غلط فہمی اورمناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ٹیسٹ کروانے سے گریز کیاجاتا ہے، تاہم ایچ آئی وی پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ انجکشن کے زریعے منشیات کا استعمال ہے نہ کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں، یو این ایڈ ز، کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ڈائریکٹریٹ آف سندھ اوریونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے لئے منعقدہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈز کنٹرول پروگرام سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کاکہنا ہے کہ ایچ آ ئی وی یاایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سندھ بھر میں 16علاج معالجے کے لئے میڈیکل سینٹر ز قائم ہیں جہاں متاثر افرادکا مفت علاج کیاجاتا ہے ۔

  • انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔چوہدری شجاعت کے وکیل نے دلائل دیے کہ پارٹی کی صدارت صرف استعفے یا موت کی صورت میں چھوڑی جا سکتی ہے، پارٹی صدارت سے متعلق کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

    وکیل عمر اسلم نے کہا کہ صرف سینٹرل ورکنگ کمیٹی کو عہدیدار کے خلاف تادیبی کارروائی کا حق حاصل ہے، سینٹرل ورکنگ کمیٹی تشکیل ہی نہیں دی گئی،دوسرے گروپ نے ق لیگ پنجاب کے دفتر پر قبضہ کرلیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے استفسار پر پرویز الہٰی کے وکیل نے بتایا کہ پارٹی آئین کے مطابق سینٹرل ورکنگ کمیٹی 200 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، پارٹی عہدیدار کو ہٹانے یا الیکشن کے فیصلے کے خلاف پارٹی کونسل سے رجوع کرنا چاہیئے تھا۔

    کامل علی آغا کے وکیل نے دلائل دیے کہ کسی سیاسی جماعت کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے، درخواست گزار کو ایسے فورم پر جانا چاہیئے جہاں شواہد ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    بعدازاں الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پرشجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے اور انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔2روز قبل 16 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ(ق)انٹراپارٹی انتخابات میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہی چیلنج کیا تھا۔

  • خدیجہ تشدد کیس شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    خدیجہ تشدد کیس شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    فیصل آباد:خدیجہ تشدد کیس میں‌ شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا،اطلاعات کےمطابق فیصل آباد کے مشہورکیس جسے خدیجہ تشدد کیس کا نام دیا جارہا ہے ، اس کیس کے مرکزی ملزم کے ساتھ بہت عجیب معاملہ پیش آیا ہے ، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خدیجہ تشدد کیس میں شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے فیصل آباد سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ تشدد کیس میں مرکزی ملزم دانش کو پولیس کے حصار میں عدالت میں پیش کیاگیا اس موقع پر وکلا کی طرف سے ملزم شیخ دانش پر تشدد کیا گیا،پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی

     

     

    فیصل آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ کچھ اور شکل اختیار کرتا جارہا ہے اورجس طرح خدیجہ نامی خاتون نے اپنے بارے بتایا ہے ، اس کے پیچھے کوئی اور ہی کہانی ہے

     

     

     

    یہ بھی اطلاعات ہیں‌کہ لڑکی پر تشدد اور تذلیل کیس کے مرکزی ملزم شیخ دانش عدالت میں پیش کردیئے گئے ہیں ، اس موقع پر عدالت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ملزم دانش کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے بعد عدالت نے ملزم کو5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔

    فیصل آباد میں میڈیکل کی طالبہ پر تشدد اور انسانیت سوز سلوک کرنے والے 5 ملزمان کو عدالت نے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔مرکزی ملزم صنعت کار شیخ دانش کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ ملزمہ ماہم نے تمام واقعہ جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا۔

    میڈیکل کی طالبہ خدیجہ کو بھائی سمیت اغواء اور تشدد کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو پولیس نے مقامی عدالت میں پیش کیا۔ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ملزمان ماہم، خان محمد، شعیب، فیضان اور اصغر کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    ملزمہ ماہم کے حوالے سے نیا انکشاف

    کیس کی اہم ملزمہ ماہم کے حوالے سے بھی نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق وہ مرکزی ملزم صنعت کار شیخ دانش کی سیکرٹری نہیں بلکہ بیوی ہے۔ملزمہ ماہم کا عدالت میں کہنا تھا کہ طالبہ خدیجہ پر انہوں نے کوئی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی اسے اغواء کیا گیا، بلکہ وہ خود بھائی کو لے کر ان کے گھر آئی۔

    ماہم کا کہنا تھا کہ خدیجہ نے بلیک میلنگ کیلئے گینگ بنا رکھا ہے۔ جس کے تمام ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ملزمہ نے یہ بھی بتایا کہ انا شیخ کی عمر 13 سال ہے اور وہ طالبہ خدیجہ کی سہیلی نہیں ہے، خدیجہ نے انا شیخ کے خلاف گندی زبان استعمال کی۔

    ویڈیو وائرل

    طالبہ خدیجہ کو مبینہ طور پر شادی کے لیے رضامند نہ ہونے، اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کے بال کاٹے جانے کی ویڈیو کا سوشل میڈیا پر بھی خوب چرچا رہا، اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    1947ء سے پہلے پاکستان برطانوی کالونی تھی۔

    ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

    "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” اس تحریک میں جان ڈالنے والا اور مسلمانوں کو متحد کرنے والا اک مقبول نعرہ تھا۔

    اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناحؒ نے کی۔
    بانی پاکستان بابا جی محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور اپنی بیماری کو دشمن دین و پاکستان سے چھپا کر دن رات محنت کی، اور پھر رب العزت نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت دی اور 27 المبارک کی طاق رات 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

    تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ء اور 1965ء میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔

    اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بقول بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
    اسی شہہ رگ پاکستان کہ جس شہہ رگ کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے.

    اسی مقبوضہ قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں،

    لہذا پاکستان کو 1960ء میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاؤں، ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

    1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور اس کے علاوہ کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔

    جب ہم چھوٹے تھے تو 14 اگست کا انتظار عید کی طرح کرتے تھے، ہفتہ پہلے سے انتظار شروع ہوجاتا تھا اور پھر 13 اگست کی ساری رات صبح کے اجالے کا انتظار ہوتا تھا، صبح ہوتے ہی گھر میں ٹی وی نا ہونے کے باعث ہمسایہ کیطرف جا کر ٹی وی پر پریڈ دیکھنا،
    جھنڈیاں لگانا۔

    پاکستانی پرچم تھام کر نکل جانا۔ جشن منانا اپنے انداز میں آزادی کا۔

    شام کو جشن آزادی کے حوالے سے محلہ میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہونا، پاکستان، پاک فوج، سے محبت بڑھ جاتی تھی۔تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے بارے سن کر جذبات ایسے ہوتے تھے کہ قلم کے ذریعہ بتانا ممکن نہیں،

    لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود اور اس پاکستان میں رہنے پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

    اور دل و دماغ ہر وقت اس عظیم مملکت کیلئے ایسا کچھ کر جانے کو مچل جاتا تھا کہ لوگ اس قربانی پر مجھے پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کریں اور اس پاکستان کے دشمنوں کا میرے نام سے پسینے چھوٹ جائیں۔

    وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے جدا ہوا

    عزت اسی کو ملی جو وطن پہ قرباں ہوا

    لیکن اک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جیسے ہی 14 اگست کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو اس کے بعد پورا سال پاکستانی پرچم والی لگی جھنڈیاں اور اور پرچم کے بے قدری شروع ہوجاتی ہے۔

    پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں گلیوں بازاروں میں پاؤں تلے روندی جاتی ہیں، گندی نالیوں میں گری پائی جاتی ہیں۔

    پاکستانی پرچم چھتوں پر پورا سال لگے رہنے اور حفاظت نا ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں پھر یہ کہ پھٹے پرانے پرچم لہراتے ہوئے دیکھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ ہم ان افعال سے بچیں اور اپنے معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں انہیں اپنے پیارے پرچم کی عزت کرنا سکھائیں، سمجھائیں۔

    آخر میں یہ ہی پیغام دونگا اپنی پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، آپ جس شعبہ سے بھی منسلک ہیں ایمانداری سے اپنے فرائض کو پورا کریں اگر آپ کا ایسا کوئی شعبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے اس کام کیلئے اپنی جان لڑا دیں۔

    زندہ آباد پاکستان

  • ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    بہت عرصہ پہلے ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام آتا تھا "man vs wild” ، اس میں ایک شخص کو کسی قسم کے حفاظتی انتظامات اور زندہ رہنے کے لئے درکار اشیاء کے بغیر صحرا، جنگل، پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور ویرانوں میں الغرض جہاں کسی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہو چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے ساتھ اس کی ٹیم کے دو یا تین ممبران ہوتے تھے جن کا کام صرف اس کی مشکلات سے مقابلہ کرنے کی کوشش، دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی صلاحیت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کسی قسم کی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقررہ وقت میں مقررہ جگہ پر صحیح سلامت پہنچنے کی عکس بندی کرنا تھا تا کہ وہ لوگ جو مشکلات میں پھنس کر ناامید ہو جاتے ہیں ان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی امنگ پیدا ہو.

    بظاہر جو سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں اس وقت نوجوان نسل تحریک انصاف کے سحر میں گرفتار ہے، رہی سہی کسر مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے پوری کر دی ملک کے معاشی حالات ساڑھے تین سال میں جتنے خراب ہوئے انہوں نے چند مہینوں میں اس سے زیادہ خراب کر دیئے، عوام کے ذہن میں ایک تاثر مسلم لیگ نے بڑی محنت سے بنایا تھا کہ شہباز شریف "بہترین ایڈمنسٹریٹر” ہیں لیکن ان چند مہینوں میں ہونے والی خراب معاشی صورتحال اور غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار نے یہ تاثر ختم کر دیا لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملک میں معاشی بحران تھا تو آپ تحریک عدم اعتماد کیوں لائے جب اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی تو نئے الیکشن کی طرف کیوں نہیں گئے اور عوام سے فریش مینڈیٹ کیوں نہیں لیا ۔

    اس ساری صورتحال کا تحریک انصاف نے فائدہ اٹھایا اور عوام میں اپنا "رجیم چینج” کا بیانیہ مقبول کرایا، لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ملک کی معاشی صورتحال ہمارے دور میں بہتری کی طرف گامزن ہو چکی تھی لیکن "رجیم چینج "کی وجہ سے حکومت تبدیل ہوئی اور ملکی ترقی کر ریورس گئیر لگ گیا وفاقی حکومت کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے جلتی پر تیل گرتا گیا اور مسلم لیگ کی مقبولیت میں کمی اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ فی الحال الیکشن کی صورت میں اپنے مقبول عوامی بیانیے کی وجہ سے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اب "man vs wild” کی طرح تحریک انصاف (الیکشن میں کامیابی کی صورت میں) اداروں کے لئے دستیاب ٹول(اوزار) بن گئی ہے، جس کو صحیح استعمال کر کے ہم ملک کو دوبارہ معاشی ترقی کی پٹری پر چڑھا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اوزار بذات خود کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ یہ اسے استعمال کرنے والے کاریگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس اوزار کا مثبت استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نفع بخش بناتا ہے یا منفی استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نقصان دہ بناتا ہے، ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے کسی کام کی حمایت نہیں کرے گی جو ملکی مفاد کے خلاف ہو اور ان کی حب الوطنی کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔

    اس وقت ہم معاشی بحران کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف یہ ہے کہ مضبوط سیاسی حکومت ہو اور پالیسیوں کا تسلسل ہو، مضبوط سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی افراتفری کا خاتمہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا تو وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں گے اس کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے پاس پانچ سال کا وقت ہو گا تو وہ شروع کے سال میں سخت معاشی فیصلے بھی بآسانی کر لے گی جس کے ثمرات عوام کو وہ اپنی حکومت کے آخری سال میں دے کر عوامی حمایت حاصل کر لے گی اور پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے آنے والی حکومت کو نئے سرے سے پالیسیاں نہیں بنانا پڑیں گی اور یہی وقت حکومت دیگر ملکی امور میں صرف کر لے گی۔

    اگر "man vs wild” میں ایک شخص کسی قسم کی بیرونی مدد کے بغیر مشکلات سے بخیر و عافیت نکل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے تو ہمیں قدرت نے ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے ہم بھی متحد ہو کر ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ ہم ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر اکثریت کی رائے کو اہمیت دیں جیسے پاکستان ایک فرد واحد کی جدوجہد سے نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہوا ایسے ہی ہم بحیثیت قوم ترقی بھی اجتماعی جدوجہد سے ہی کر سکتے ہیں، اس وقت تحریک انصاف کو بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہو گئی ہے اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لے کر مستقبل کے فیصلے کئے جائیں تا کہ باہمی اعتماد پیدا ہو جس کے خوشگوار اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مرتب ہوں گے ۔

  • باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہوچکے۔ اس آزادی پر ہم رب ذوالجلال کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ یہ آزادی ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی تن من دھن کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ گویا آج ان آزاد فضاؤں میں شہداء پاکستان ہم سے وفا کا تقاضا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ہماری قربانیوں کا پاس رکھنا۔

    شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ، لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشو لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سُر خرو ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں ، تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

    جب صبح سویرے "اللہ اکبر” کی صدا آپکے کانوں میں پڑتی ہے۔ اور دن رات پانچ دفعہ یہ کانوں میں رس گھولنے والے ابدی حقیقت پر مبنی کلمات آپ کے دل و دماغ کو سرشار کریں ، آپ بلا خوف و خطر مساجد کا رخ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کی بندگی بجا لاتے ہیں، کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں، ہر مقام پر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں، وطن کے چپہ چپہ پر دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پیارا ملک پاکستان ہمارا ہے، تو یوں احساس ہوتا ہے کہ اس وطن عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کی ارواح ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہیں کہ گو ہم یہ آزادی نہ دیکھ سکے مگر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ تم آزادی کی معطر فضاؤں میں جی رہے ہو، لہذا زبان حال سے کہی ہوئ ہماری وہ صدا یاد رکھنا:

    ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
    ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

    لہذا اگر ہم نے ان کے مقصد سے وفا نہ کی تو وہ ہمیں معاف نہیں کرینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، پاکستان کی اساس ہی کلمہ لاالہ الااللہ ہے، پاکستان جن روح پرور نعروں کی گونج پر بنا ہے، ان میں پہلا نعرہ یہ تھا: "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ”۔ لہذا مقاصد پاکستان میں پہلا مقصد اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی وطن عزیز اور اور وطن عزیز کی خاطر لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال رحمھمااللہ ،ان کے رفقاء اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ مگر ہم ان کی ارواح کو یوں تسکین دے سکتے ہیں کہ ہم ملک پاکستان کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یہاں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی مظاہرہ ہو، ہم نہ صرف نام کے بلکہ کام کے مسلمان بنیں۔ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں، اللہ کی ماننے والے بھی بنیں۔ مگر افسوس
    مالک تو سب کا ایک، مالک کا کوئ ایک
    ہزاروں میں نہ ملے گا،لاکھوں میں تو دیکھ

    آزادی کے پچھتر سال ہوچکے۔ آزادی کی اس نعمت پر شکر کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم وہ مقاصد حاصل نہ کرسکے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔ جنکی وجوہات میری نظر میں یہ ہیں:
    1۔ یہاں اسلام کے نام پر سیاست تو کی جاتی ہے۔ اس کے عملی نفاذ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہیں۔
    2۔ سود ایک لعنت ہے۔ باری تعالیٰ نے اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ اس لعنت کے ہوتے ہوئے اگر ہم معاشی ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔
    3۔ قومیں اپنی ہی پہچان بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں انگریز کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

    اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

    لہذا ہم اپنے قومی لباس اور اردو زبان کو فروغ دیں۔ اور ہمارے طور طریقے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور رہیں گے۔ اسی نسبت سے جڑے رہنے میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ذلت اور رسوائ ہمارا مقدر ہے اور رہے گی۔

    4۔ عوام حکومت پر،اور حکومت پچھلی حکومت پر ساری خرابی کا ملبہ ڈالے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر فرد کو اس پیارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    5۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہو۔ کوئ معاشرہ بغیر تعلیم کے یا ناقص تعلیم کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے حکومت ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ اور یکساں معیاری نظام تعلیم کو فروغ دے۔ مگر عوام حکومت ہی کے آسرے پر نہ رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت جدید وسائل کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معیاری تعلیم کا حصول اب ممکن ہے۔

    6۔ قدرت نے اس ارض پاک کو بیشمار وسائل سے نوازاہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں بکثرت صحرا، سمندر ،پہاڑ اور دریا موجود ہیں مگر ان وسائل سے ہم فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

    7۔ ہم قائد کے تین نکات پر مبنی اس زریں اصول کو بھول گئے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ ہمارا ایمان اللہ کی ذات سے زیادہ امریکہ، آئ ایم ایف اور ڈالروں پر ہے۔ اس کو اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا:

    بتوں سے تجھ کو امیدیں،خدا سے نومیدی
    مجھ کو بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہے، قومی و لسانی تعصبات کے بدبودار نعرے اس پیارے ملک کو متعفن کرتے ہیں۔

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    ہماری زندگی میں نظم و ضبط بھی ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تمام اقوام ان اصولوں پر عمل کرکے ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اور ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں پر بغلیں بجارہے، اور خود خواب غفلت میں ہیں۔ یہی صورتحال دیکھ کر اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا

    تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

    8۔ ہم سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف ضرور رکھیں۔ مگر اختلاف کے آداب کا خیال رکھیں۔ محض اختلاف کی وجہ سے فریق مخالف کی اچھی بات کا بھی رد کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

    9۔ ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد صرف غریب کے لئے ہے۔ امیر اور شاہی طبقہ جب جس قانون کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے، کوئ پوچھنے والا نہیں۔ قانونی بالادستی ہر حال میں لازم ہو۔ اس میں کوئ رعایت نہ ہو۔

    10۔ تمام ممالک سے بالعموم ، عالم اسلام سے بالخصوص ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہے ، جیسے ہونے چاہئیں۔ جبکہ امن و امان اور ملکی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔

    الغرض ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا اللہ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس کرہ ارض پر اور کوئ ملک ایسا نہیں ہے،جس کے دستور میں یہ بات ہو کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور اس ملک کا ہر دستور قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ یہ پیارا ملک پاکستان ضرور وہ مقاصد حاصل کریگا، جس کے لئے یہ بنا ہے۔ مگر ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کی دعا پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ( اور اللہ ہر اس شخص پر رحم فرمائے جو اس دعا پر آمین کہے)

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کوزندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک”

    14 اگست کو ہر سال ہم یوم آزادی مناتے ہیں بڑے بڑے جشن منعقد منعقد کیے جاتے ہیں ، اسلاف کی قربانیوں ، شہیدوں کی شہادتوں ، مظلوموں پر ڈھائی جانے والی تکالیف کا ذکر ہوتا ۔ پھر آذادی کی نعمت کا ذکر بھی ہوتا ہے ، لاکھ لاکھ شکر ادا ہوتا ہے ، ہزاروں سجدے ہوتے ہیں ، گھر گھر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے ، قومی پرچم کو سلامی دی جاتی ہے ، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، دل جوش و جذبے سے سرشار ہوجاتا ہے ، یہ وہ عظیم پرچم جو ہمارا تشخص اور پہچان ہے ہمیں اس کا پرسکوں سایہ مسلسل جدوجہد اور ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔

    1707 عیسوی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے پوتوں کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزوں کی غلامی کا پٹہ مسلمانوں کے گلے میں پڑ گیا ، اس طوق غلامی نے ایمانی قوتوں کو کمزور کردیا ، اپنا ضمیر جاتا رہا ، اپنی فکر ختم ہو گئی ، پھر کیا تھا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ، کل تک جو برصغیر کے بے تاج بادشاہ تھے پابند سلاسل کردئیے گئے ، کالے پانیوں کی سزا دی گئی۔

    پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کو اسلامیان برصغیر پر ترس آگیا ، دعائیں قبول ہونے لگیں ، شہیدوں کی شہادتیں رنگ لانے لگیں ،ایمانی قوت جاگنے لگی ، اغیار کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں ، مسلمانوں کو ایسی ولولہ انگیز قیادت میسر آئی جو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید سے شروع ہوئی اور علامہ محمد اقبال سے قائد اعظم محمد علی جناح تک نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ، انہوں نے کہا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الااللہ ، لیکر رہیں گے پاکستان ، بن کر رہے گا پاکستان ، بالاآخر 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آگیا۔

    75 سال ہوگئے میرے وطن عزیز کو آزاد ہووے ، جس کے بارے اغیار کا خیال تھا کہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ٹوٹ جائے گا ، لیکن آج پاکستان پوری قوت ، اپنی پوری آن ، بان اور شان کے ساتھ استحکام کی طرف بڑھتے ہووے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے۔

    میں مانتی ہوں کہ دشمن کو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ، اس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا ہم نے نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ، لیکن آج حقیقت اس کے برعکس ہے ، لا الہ الا اللہ کا نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے ، پوری دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایٹمی دھماکے پاکستان چاغی کے مقام پر کر رہا تھا اس وقت کشمیر و فلسطین کے بچے خوشیاں منا رہے تھے ، عالم اسلام میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔

    وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہے ، لاکھوں جانوں کی قربانیاں کے بعد معرض وجود آنے والا مدینہ ثانی دنیا میں بہت بنیادوں پر منفرد مقام رکھتا ہے.

    ہمارے وطن کا دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے دس خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے،ہمارے ملک کا جھنڈا دنیا کے حسین ترین جھنڈوں میں سے ایک ہے، پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پوری دنیا میں اول نمبر پر ہے، پاکستان میں ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے، پاکستان کا شمار دنیا کے ان چوٹی کے 4 ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ذہین ترین لوگ موجود ہیں، حال ہی میں ایک 9 سالہ پاکستانی طالبہ نتالیہ نجم نے کیمسٹری کے پیریوڈک ٹیبل کو 2 منٹ اور 42 سیکنڈ میں ترتیب دے کر ایک بھارتی پروفیسر کا ریکارڈ توڑ کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور واقعتاً ثابت کیا کہ پاکستانی لوگوں کاشمار دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں ہوتا ہے ،

    پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے کہ جہاں سب سے زیادہ ڈاکٹرز اور انجینئرز موجود ہیں، دنیا کا چوتھا سب سے بڑا انٹرنیٹ براڈ بنیڈ سسٹم ہمارے ملک میں موجود ہے، تربیلا ڈیم مٹی سےبنا دنیا کا عظیم ترین ڈیم ہے، چھانگا مانگا کا جنگل مصنوعی طور پر اگایا جانے والا سب سے بڑا جنگل ہے، دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سسٹم ایدھی فاؤنڈیشن بھی ارض وطن میں ہی ہے،

    وطن عزیز پاکستان کو یہ نمایاں ترین اعزاز بھی حاصل ہے کہ، اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ خیرات، صدقات اور فلاحی عطیات والے ممالک میں سر فہرست ہے، پاکستان دنیا میں سب زیادہ جراحت / سرجیکل آلات اور فٹبال بنا کر بیچنے اور ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے،پاک وطن میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ میں موجود ہے، مادر وطن اسلامی ممالک میں پہلا اور تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی یہیں موجود ہے، ارض وطن سیاحتی اعتبار سے دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادیوں کا موازنہ ان کےبے پناہ حسن اور خوبصورتی کی بناء پر، سوئٹزرلینڈ سے کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ادب اور فنونِ لطیفہ کا ایک عظیم ورثہ موجود ہے، فن مصوری ہو یا خطاطی، سنجیدہ نثر نگاری ،پاکستانی ملی نغمے آج بھی دنیا بھر میں مقبول اور پسندیدہ ترین ہیں۔

    پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انہیں ہندوستان میں متعارف کرایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء، اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔

    پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنہیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔

    اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا۔

    ورزشی کھیلوں میں عبدالخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کئے۔

    پاکستان کو دنیا میں آج بھی سکواش کے کھیل میں سب زیادہ فتوحات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    پاکستان کی کی بری، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ مہارت کی بناء پر نہ صرف اہم ترین مقام کی حامل ہیں بلکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنے اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنی سبقت کو منوا چکے ہیں، پاکستان موٹروے پولیس سسٹم کو دنیا میں ایک ماڈل کے طور پر لیا جاتا ہے، پاکستان کی ریسکیو ایمرجنسی سروس کو پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کی وجہ سے دنیا کے چند اعلیٰ ترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے..

    ہمارا وطن دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانیوں کا جزبہ حب الوطنی بے مثال و بے نظیر ہے، جب جب بھی اس ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہم نے یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان ہماری جان ہے، ہماری شان ہے، ہماری آن بان ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری شناخت اور پہچان ہے اور یہ سب آزادی کی نعمتیں ہیں.

    پروردگار عالم ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے، پروردگار عالم ہماری افواج اور ہماری حفاظت پر معمور تمام اداروں کا حامی و ناصر، آئیے عہد کریں کہ ہم مل کر تمام تر اختلافات چاہے وہ زبان، فرقے، رنگ، نسل، علاقے یا کسی بھی بنیاد پر ہوں ان کو یکسر نظر انداز کرکے، اپنے ملک کی ترقی و عروج کے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے، اور آنے والے وقتوں میں اپنی دھرتی ماں کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے،انشاء ﷲ مستقبل کا پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کا عکاس ہوگا، اپنے وقت کے معروف شاعر منشی منظور صاحب کا شہرہ آفاق شعر ہر ایک پاکستانی کے جزبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

    “میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پر نثار کردوں،
    محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تجھ پر نثار کردوں ”

    ہم اپنے پیارے وطن کے لیے تاقیامت سلامتی کے لیے دعا گو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے.

  • باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے ہی انسان نے زندگی میں اپنے مسائل کو پرکھنے اور ان کے حل کے لیے جستجو کی ہے۔ مختلف عقائد اور نظریات پر آزادی سے پہرہ دینے کے لیے مختلف قوموں نے جنم لیا۔ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 14 اگست 1947 میں دُنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا آئیے پچھتر سالہ پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی اور دفاعی سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

    انگریز اور ہندو پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے تقسیمِ ہند کا مسودہ پیش لرتے وقت برطانوی وزیرِاعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا "ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے یہ تقسیم زیادہ دیر تک نہیں رہے گی اور جلد یہ دونوں ممالک جنہیں ہم الگ کر رہے ہیں ایک ہو جائیں گے” لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937ء میں لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ "اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس کوشش کا حصہ نہیں تو مسلمان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عظیم لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو اسلامی نظریے کو حاصل کرنے کے لیے ایک قوم بنایا نہ کے ایک خطے کے حصول کے لیے۔

    13 اگست 1947 کی رات 12 بجے برصغیر کے معروف براڈکاسٹر مصطفیٰ علی ہمدانی نے آل انڈیا ریڈیو پر آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا

    "بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی”

    یوں قوم کو آزاد اسلامی ریاست "پاکستان” کی خوشخبری سُنا دی گئی اب یہ صرف ایک عام خطہ نہ تھا بلکہ مسلم امت کی ایک بہت بڑی آزاد ریاست تھی۔

    کسی بھی جمہوری ریاست کے چار بنیادی ستون مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سارے اہم ترین بل کثرتِ رائے سے پاس ہوئے تاکہ اگر پاکستان میں یہ قوانین نہ بنائے جاتے تو ملک شدید اختلافات کی زد میں ہوتا ان قوانین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا قانون صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے سمیت کئی قوانین شامل ہیں جو کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں انتظامیہ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متحرک کردار ادا کر کے ریاست کو فسادات سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جبکہ عدلیہ قوانین پر عمل درآمد کر کے جزاء و سزا کو عمل میں لاتی ہے تاکہ ملک میں اعتدال کو قائم رکھا جائے، چوتھا ستون یعنی ذرائع ابلاغ چھوٹے مسائل سے لے کر قومی و ملی مسائل کو با اختیار لوگوں تک پہنچا کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ان چار ستونوں کے ساتھ ایک اہم ترین کردار دفاعی اداروں کا ہے جو ریاست کی چھت کا کردار ادا کرتے ہیں اور دفاعی حدود پر اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر قوم کی حفاظت کی ذمہ داری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور قوم کو اپنے ذاتی گھر کی طرح کا تحفظ دینے میں اپنا زبردست کردار ادا کرتے ہیں۔

    بات کی جائے معاشی پہلو کی تو قیمتی زمینی ذخائر اور باصلاحیت ہنر مند لوگ کسی بھی مستحکم معیشت کے ضامن ہوتے ہیں پاکستان کو ابتدائی طور پر ہنر مند لوگوں کی کمی کا سامنا رہا تھا مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کی مدد سے ہنر سیکھے اور خوب محنت کر کے ابتدائی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیا زراعت اور دیگر شعبوں میں کثرتِ محنت کے نتیجے میں خوب ترقی حاصل کی تاہم ترقی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا یوں تاحال پاکستان باوجود باہنر افراد اور زمینی ذخائر کے عالمی سطح پر اپنی مضبوط معیشت کو منوانے میں ناکام رہا ہے حالانکہ پاکستان ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا کے معاشی نظام سے خوب واقف رہا ہے مگر اپنی معیشت کو اس کے مطابق نہ ڈھال سکا۔

    ذرائع ابلاغ نے ہر دور میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر مواصلاتی ترقی نے اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا کو بہت سارے ممالک میں اظہارِ خیال کی کھلی آزادی ہے جبکہ چند ممالک میں میڈیا پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں یاد رہے میڈیا کی زبان باندھ دی جائے یا اس کی بیڑیاں کھول دی جائیں دونوں طریقے ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ زبان بندی سے میڈیا صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جس کا اسے پابند کیا جاتا ہے جبکہ آزاد میڈیا اکثر اوقات ملکی دفاع کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے پاکستان میں آزاد میڈیا پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگتی آئی ہیں ان پابندیوں میں کالم نگار بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے لکھتا اور صحافی بھی کسی اور کی زبان بولتا تھا جبکہ اب آزاد میڈیا کی حیثیت سے ہر اخبار یا ٹی وی چینل ذاتی مفاد کی خاطر اکثر مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں.

    ملکی سطح پر اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تو عوام سنسنی خیزی کے جذبات اور انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں
    تعلیم و تربیت کے ہی پہلو کا سطحی جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک کا منظم تعلیمی سسٹم اور نصاب اس ملک کے روشن مستقبل کی توثیق یا تردید کرتا ہے پاکستان کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جس وجہ سے تمام بچے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف نہیں آتے یا ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ قوم پاکستان میں تعلیم کے ساتھ ایک خاص لگاؤ اور دلچسپی برقرار ہے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں پندرہ لاکھ پینتیس ہزار اساتذہ کرام چار کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں تعلیم مہیا کرنے والے ان اداروں میں چالیس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے مدرسے اور دینی درسگاہیں بھی شامل ہیں مگر اس سب کے با وجود حیرت انگیز طور پر پاکستان کا نظامِ تعلیم دنیا کے جدید تعلیمی تقاضوں سے نہ ہونے کے برابر مطابقت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی نظام کے ممالک میں پاکستان اس وقت ایک سو پچیسویں نمبر پر موجود ہے تحقیق کرنے والے ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظام تعلیم کا مطلب تعلیم کا نظام نہ ہونا ہے۔ بنیادی طور پر اچھے نصاب اور عملی تربیت کا فقدان اس تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں ہمارے نظامِ سیاست نے ملک کے ہر شعبے کی ساکھ کو دیمک زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بڑا غیر مستحکم ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کبھی وفادار لیڈر نہیں ملا اگر ملا تو اس کی قدر نہیں کی گئی آزادی کے بعد جلد ہی پاکستان کو نظر لگ گئی تھی پہلے ہی وزیرِ اعظم کو شہید کر دیا گیا ابتدا سے آج تک میرا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے کبھی صدارتی نظام رائج کر دیا جاتا رہا اور کبھی مارشل لاء کا قانون نافذ کر دیا جاتا کبھی سرپرستِ مملکت کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو کبھی جبراً جلا وطن کر دیا جاتا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کچھ با اثر پاکستان دشمنوں کی طرف سے پہلے دن سے قوم اور قومی راہنماؤں کا یوں مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کوئی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا لیڈر آئے کہ جس کے کہنے پر پوری قوم ملکی مفاد کے لیے یک جان ہو جائے ایسے لیڈر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں نہ صرف غیر ملکی مداخلت شامل ہے بلکہ پس پردہ ہمارے ہی سیاستدان استعمال ہوتے ہیں۔

    اگر مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے تو ہر پہلو پر ایک مدلل طویل تحریر مرتب ہوگی مگر اب چند اصلاحی اختتامی سطور پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی قوم لا الہ کے مشن پر آزاد ہوئی تھی اسے لا الہ کے حقیقی مشن پر قائم رہنے دیا جائے ان کے نیک جذبات کی قدر کی جائے قوم کو سیاسی سماجی سطح پر منتشر نہ کیا جائے بارڈرز پر کھڑی فوج کا احترام کیا جائے اسپتالوں میں پڑے مریضوں سے ہمدردی کی جائے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے قیمتی ہنر کی کی قدر کی جائے تعلیم و تربیت کا عالمی اسلامی اصولوں پر اہتمام کر کے اس تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ذرائع ابلاغ محض ریٹنگ کی خاطر قوم کو منتشر نہ کریں سیاست دان اگر پاکستان کے حق میں تقریریں کرتے ہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے اپنے کام کو بحسنِ خوبی سر انجام دیں تا کہ تقاریر سے مطمئن کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے آج ہمیں 1947 کی آزادی کے جذبات سے آگاہ رہنے کے لیے آباؤ اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے نیک جذبات کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اپنی تمام تر خدمات سے پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں.

    وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
    ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے

  • ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    کرسی کی محبت بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے ۔ اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو انسان خود کو زمینی خدا سمجھنے لگتا ہے۔ اسے مضبوط کرنے کا ہر حربہ اپنایا جا تا ہے ۔ وہ عام لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اپنا ہر حکم ان پہ صادر کرتا ہے اور جو حکم عدولی کرتا ہے ، جو آگے سر نہیں جھکاتا اسے سزا دی جاتی ہے ۔اس کےلیےزمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ لیکن اقتدار کی کرسی آج تک کسی کی سگی نہیں رہی ۔ آج جو پنچھی ایک منڈیر پہ بیٹھے ہیں کل کو کہیں اور بیٹھیں ہونگے۔ آج یہ ایک کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو گی ۔ آج جو حکومتی بینچ بجا رہے ہیں کل کو حذب اختلاف کی کرسیوں پر سوگوار بیٹھے ہونگے ۔ اور جب کرسی ہاتھ سے جاتی دکھائی دے گی تو ہاتھ پاوں ماریں گے لیکن حاصل کچھ نہیں ہو گا۔

    یہی حال عمران خان کا تھا۔ حصول اقتدار سے پہلے ان کے تیور الگ تھے ۔ ان کے نزدیک جمہوریت میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام تھے ۔ ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل تحریک انصاف کی حکومت آنے میں نہاں تھا۔ اور پھر ان کی حکومت بھی آ گئی ۔ جس طرح حکومت آئی اور جیسے جہاز بھر بھر کر بنی گالا کو سیاسی رن وے بنایا گیا اس فسانے کو کسی اور دن چھیڑیں گے ۔ حکومت ہاتھ میں آئی تو پتہ چلا کہ جس ملک کو ٹھیک کرنے کا نوے دن کاخواب دکھایا گیا اس کی تعبیر ہی ممکن نہیں ۔ پھر ہونا کیا تھا ، تجربات پر تجربات کیے گئے ۔ پہلے اسد عمر کو لایا گیا جب ان سے کچھ نہ بنا تو تین اور تجربے کیے گئے لیکن معیشت کی صورتحال پھر بھی جوں کی تو ں ہی رہی ۔ جس آئی ایم ایف کے پاس جانا ملک کی عزت میں کمی تصور کیا جاتا تھا، اس کے پاس سب سے زیادہ بار جایا گیا ۔ ریکارڈ قرضے لیے گئے لیکن معیشت کی حالت جوں کی توں ہی رہی ۔اس پہ ستم یہ کہ ہمیں آئی ایم ایف سے وعدہ شکن حکمران کا ایک لقب بھی مل گیا ۔ اس کے بعد وقت بدلا اور حالات نے انگڑائی لی ۔

    پی ڈی ایم نام کا ایک سیاسی اکٹھ ہوا جس کا مقصد ملک کو عمران حکومت سے چھٹکارا دینا تھا۔ لانگ مارچ ہوئے ، آزادی مارچ ہوئے ، مہنگائی مارچ ہوئے اور سال کی مشقت کے بعد پی ڈی ایم اپنے عزائم میں کامیاب ہوئی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ لیکن عمران خان نے اقتدار کو طول دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہی ہوا۔ اسد قیصر اور قاسم سوری کی شکل میں دو پیادے میدان میں اتارے گئے اور ان سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کوئی چال کامیاب نہ ہوئی ۔ الٹا ان پہ وعدہ شکن کے بعد آئین شکن کا بھی ٹھپہ لگ گیا ۔ جو تاریخ کے اوراق کی زینت بنے گا اور ہمیشہ تحریک انصاف کے تاریک ماضی میں یاد کیا جائے گا۔

    یہ کرسی ہی کی لالچ ہے جو انسان کو آئین تک سے کھلواڑ کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔ طاقت کے نشے میں چور انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جو وہ قدم اٹھانے جا رہا ہے اس کا مستقبل میں کیا انجام ہو سکتا ہے ۔ اس سے ملک کے عوام کس کرب سے گزریں گے ۔ اور پھر وہی ہوا۔ اس سارے سیاسی سرکس کی وجہ سے نقصان صرف عام عوام کو اٹھانا پڑا۔ معیشت کا حال بد سے بدترین ہوتا چلا گیا۔ ڈالر کا ریٹ آسمانوں پر پہنچ گیا ۔ لوگ گھریلو استعمال کی چیزیں تک خریدنے سے قاصر ہو گئے ۔ ملک میں ڈیفالٹ کا خطرہ اتنا بڑھ گیا کہ معیشت پر نظر رکھنے والے اداروں نے ہمیں عنقریب ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر لا کر کھڑا کر دیا ۔

    اس کے باوجود بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ عمران خان اقتدار حاصل کرنے کےلیے ایک بار پھر وہی کام کر رہے ہیں جو انھوں نے 2011 سے شروع کیا۔ یعنی ایک ایسی سیڑھی کی تلاش جو با آسانی اقتدار تک پہنچا دے۔ وہ ایک بار پھر سے اپنے سارے سیاسی اصولوں کو پیروں تلے روند رہے ہیں ۔ جس امریکی سازش کا اتنا واویلا مچایا گیا ، جس امریکی سازش کے بیانیے سے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیا گیا۔ اب اسی امریکہ سے پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں ۔

    ملک کے دو بڑے صوبوں میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ امریکی سفیروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں ۔ پرویز الہیٰ امریکہ سے بہترین تعلقات رکھنے کا بیان بھی داغ دیتے ہیں ۔ ایک اور حیران کن بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کے قونصل جنرل پرویز الہیٰ کے دربار پر ان کے وزیر اعلیٰ بننے کی مبارکباد دینے کےلیے حاضری دیتے ہیں ۔ اب آپ خود بتائیں کہ جو آپ کی حکومت کے دشمن ہوں وہ آپ کو منصب سنبھالنے کی مبارکباد کیوں دیں گے۔ کیا دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے ؟

    بات یہیں تک نہیں رہتی بلکہ اب تو یہ چہ مہ گوئیاں بھی ہونے لگ گئی ہیں کہ جب امریکی سفیر کی خیبر پختونخواہ انٹری ہوئی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے وچولے کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان اور امریکی سفیر کی ٹیلی فون پر بات کرائی۔اس سے بڑا انکشاف کل رات ہوا۔ کل مبینہ طور پر کچھ دستاویزات سامنے آئیں جن میں تحریک انصاف نے ایک کمپنی کو پیسے دیے اور ان کے ذمے یہ کام سونپا گیا کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن سے تحریک انصاف کے خراب تعلقات بہتر کرنے میں مدد کریں ۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی عمران خان اپنے ایک قریبی ساتھی کو امریکہ سے صلح صفائی کا کہہ چکے ہیں اور جب یہ بات سامنے آئی تو نہ تو اس کی تردید کی گئی اور نہ تصدیق۔ خاموشی کا مطلب مشرقی معاشرے میں عمومی طور پر ہاں سمجھا جاتا ہے ۔ اگر یہاں بھی اس کا مطلب ہاں ہے تو مبارک ہو آپ کو۔ ریاست مدینہ کا دعویدار ایک بار پھر کرسی کی محبت میں گھٹنے ٹیک چکا ہے ۔ ریاست مدینہ کا داعی ایک با ر پھر اپنے سارے اصولوں کی بھینٹ چڑھا چکا ہے ۔ اور نہ جانے کتنوں کی بھینٹ چڑھانی باقی ہے ۔: