Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    جب بھی کسی جماعت کی حکومت آتی ہے وہ دوسری جماعت کیلئے ایک نئی اور لمبی فہرست بنا لیتی ہے کہ اس کو کس کس طرح اور کہاں کہاں سے ڈسنا ہے کہ وہ دوبارہ برسرِ اقتدار میں نہ آسکیں اور ہم ہی ہمیشہ کیلئے اس آرام دہ سلطنت کی کرسی پر بیٹھے رہیں جس کرسی کو ہمارے خلفاء راشدین نے اپنے لیے بوجھ اور ذمہ داری سمجھا۔ آج کے حکمران جیسے ہی اقتدار میں آتے یا اقتدار پہ قابض ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو پہلے سے ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے ہیں کہ فلاں کو نہیں چھوڑے گے فلاں نے یہ کیا تھا تو اس کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے رکھیں گے ایسے جملے ہر جماعت اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے یا اقتدار میں دہراتی ہے اور اسی طرح ان جماعتوں کے چاہنے والوں پر بھی قربان جاؤں جب ان کے نظریات کے حامی کوئی جماعت آتی ہے تو ان کو بڑی خوشی ہوتی کہ اب بڑا مزہ آئے گا اب انکی خیر نہیں ہے پچھلے تمام بدلے اب ان سے لیں گے وغیرہ وغیرہ

    افسوس ان جماعتوں اور ان کے حامی خیالات چاہنے والوں پر، آج اگر وطن عزیز کی نازک حالت کو اگر دیکھا جائے جس میں ہمیں دوست ممالک سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں، آئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں، ہر دوسری چیز امپورٹ کرنی پڑتی ہے ایسی کوئی چیز اس پیارے وطن عزیز میں نہیں بنائی جاتی جس سے ہمارے خزانے کو سہارا ملا، ہمارا وطن پاکستان ایک زراعتی خطہ جس سے ہم اپنی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کی بھی ضروریات پوری کر سکتے ہیں لیکن بصد افسوس کہ ہم زراعتی خطہ ہونے کے باوجود ہم گندم دھاگہ، چینی، تیل اور دالیں و سبزیاں سمیت چیزوں کو امپورٹ کرتے ہیں اور ان جملہ تمام مسائل کے باوجود ہمارے حکمران ایک دوسرے کے مدمقابل ہے اور ایک دوسرے پر غداری اور طرح طرح کے فتوؤں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، وطن عزیز میں جنگل کا قانون سا ماحول بنا دیا گیا ہے جس میں بغیر کسی تعارف و تحقیق کے کسی پر بھی کوئی فرد جرم ڈال کر اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے صرف و صرف اپنی ذاتی انا اور بقا کی خاطر کسی انسانیات کی پرواہ کیے بغیر اس کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے 25 مئی کو جو ہوا تھا جس میں سفید پوش گھروں کی دیواریں پھلانگی گئی، لوگوں کو بغیر کسی تحقیق کے مارا پیٹا گیا اور ان کو صرف اس بنیاد پر ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کا تعلق کسی دوسری جماعت سے تھا اور آج پھر تمام تر وطن عزیز کے مسائل کے باوجود صرف و صرف ایک دوسرے کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دی جا رہی ہے کہ فلاں پنجاب میں گھسے گا تو فوراً پکڑا جائے گا تو فلاں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگا تو وہ کسی جرم میں شامل ہوجائے گا، شہباز گل کا بیان ہماری دفاع کے بارے میں بالکل سو فیصد غلط ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا اس کو جس طرح پکڑا گیا کیا یہ کسی آئینی معاشرے میں ایسا ہوتا ہے؟ ایسے لگتا ہے ہم کسی جنگل میں رہ رہیں جس میں جس کا جی چاہتا ہے وہ دوسرے کو نوچ لیتا ہے اور اپنی بھوک کو میٹا لیتا ہے، نہ کسی کو آئین کی فکر نہ کسی قانون کی بس سب ہی اپنے آپ کو آئین اور قانون سمجھتے ہیں اور قانون کو ہاتھ میں لیے ہر بندہ اپنے اختیار میں اسکی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

  • آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

    جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

    اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

    مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

    آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

    تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

    جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

    آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

    ۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    ۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

    ۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

    ۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

    ۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

    ۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

    ۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    ۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

    ۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔

  • افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    لوگوں کو مختلف قوموں، ذاتوں اور سیاسی و مذہبی فرقوں میں اسی لیئے تقسيم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کسی ظلم کے خلاف متحدہ ہو کر آواز نہ اٹھا سکیں.یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے آج پوری دنیا میں مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں مسلمان قوم کسی نہ کسی مسلے سے ضرور دوچار ہو گی۔

    اس صورت حال کے پیچھے دوسری وجوہات و عوامل کے ساتھ ساتھ اس قوم کی اپنی بد اعمالیاں بھی شامل ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے مسلم امہ میں اس انتشار و افتراک کا آغاز خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ و تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت سے ہی ہو گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اولین اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش دراصل عبداللہ بن سباء اور اس کے منافقین ساتھیوں کی کاروائی تھی جو درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی۔

    آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن مسلمان تفرقہ اور آپس کے انتشار میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ آج تک اس کے گرداب اور چنگل سے نکل نہیں سکے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کا سارا دور بھی نہ صرف اسی طرح کے آپس میں اختلافات ریشہ دوانیوں اور انتشار کی حالت میں گزرا۔بلکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں حتیٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاء کے درمیان جنگیں تک لڑی گئیں۔

    اس بناء پر مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت پہ متمکن ہونا اور مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت چھوڑ دینا اور بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت مسلمانوں کے اسی انتشار و افتراک کا نتیجہ تھا۔

    اموی خاندان کے دور خلافت میں حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب عباسی خاندان مسند خلافت پر براجمان ہوا تو انکے دور میں اس قوم کی حالت یہ تھی کہ ہر شعبہ زندگی انتشار کا شکار تھا۔اگر صرف بات کریں وارثان محراب و ممبر کی تو ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ دارالحکومت بغداد شہرکا کوئی کونہ یا گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں پہ ہر دوسرے دن انکے مسلکی اور دینی مناظرے نہ ہو رہے ہوں۔

    یہ مناظرے بھی کچھ اس طرح کی بحث و تمحیث پر مشتمل تھے کہ سوئی کی ایک نوک پر زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔؟پرندوں میں کوے پر بحث جاری تھی کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ایک مسلہ یہ بھی وجہ نزع تھا کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہو- اختلاف اس بات پر تھا کہ بعض کہتے تھے کہ ایک بالشت ہو اس سے کم جائز نہیں اور بعض دیگر لوگ یہ کہتے تھے کہ نہیں ایک بالشت سے کم بھی جائز ہے۔

    یہ مناظرے اسی طرح بڑے زور و شور سے جاری تھے اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہلاکو خان نے اپنی تاتاری افواج کے ہمراہ دارالحکومت بغداد پہ حملہ کیا اور اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔سوئی کی نوک پر فرشتے بٹھانے والے تہ تیغ کر دئیے گئے۔مسواک کی حرمت پر لیکچر دینے والے مٹا دئیے گئے۔کوے کی حلال و حرام پر بحث کرنے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار کچھ اس طرح بنا دیئے گئے کہ جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔بعد ازاں مسلمانوں کے سروں کے مینار بنانے والا ہلاکو خان خود بھی تہ تیغ ہوگیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنے سینکڑوں سال بیت گئے لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ نکلی کہ مجال ہے اس قوم کے کسی بھی فرد نے تاریخ سے ایک رتی بھر بھی سبق سیکھا ہو۔

    ہمارے آج بھی بحث و مباحثوں کے عنوانات ویسے ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے ۔داڑھی کی لمبائی کتنی ہونا ضروری ہے۔؟ شلوار ٹخنوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہو۔؟ مردہ قبر میں سن سکتا ہے یا نہیں۔ قبر پہ آنے والے شخص کو قبر میں موجود مردہ پہچانتا ہے یا نہیں۔امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ایک مسلک کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے دوسرا اسے ضروری خیال نہیں کرتا۔کچھ لوگ غم حسین علیہ السلام مناتے ہوۓ ماتم کرتے ہیں دوسرے اس سے منع کرتے ہیں۔ہر مسلک کا داعی صرف اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے جبکہ دوسرے کو جنت کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

    پہلے یہ مناظرے بغداد شہر کے گلی کوچوں میں ہوتے تھے آج کے دور جدید میں یہ مناظرے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں بلکہ گھر گھر ہوتے ہیں۔اپنی نجی محفلوں میں ہوتے ہیں۔جلسوں میں ہوتے ہیں اور مسجدوں کے محراب و منبر پہ ہوتے ہیں۔اب تو ایک چھوٹی سی ڈیوائس نے ہر فرد کو ایک مناظر کی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس کا استعمال کر کے جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اناپ شناپ سوشل میڈیا پہ بکے جا رہا ہے۔

    ابھی کل ہی ایک محترمہ کسی چینل پہ بیٹھ کر ایک مولوی صاحب کے لتے لے رہی تھیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے بہتر حوریں رکھی ہیں اور مرد کی عیاشی کا پورے کا پورا بندوبست کر دیا ہے لیکن عورتوں کیلئے کیا رکھا ہے۔؟ جواب دیا گیا کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں جاتی ہے تو وہ ان حوروں کی سردار ہوگی۔

    محترمہ کہتی ہے کہ واہ-! مرد کیلئے بہتر حوریں اور اسکی بیوی کیلئے وہی دنیا والا شوہر جسے شائد وہ دنیا میں دیکھنا بھی پسند نہ کرتی ہو۔ گویا اس قسم کی پریکٹس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور جدید دور کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے ان سب ملکوں ان کے مسلکوں اور فرقوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے روک سکیں۔

    جدید دور کے اس ہلاکو خان نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ لیبیا اور عراق کو دبوچا۔افغانستان کو خانہ جنگی میں کچھ اس طرح دھکیلا کہ وہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔شام اردن اور لبنان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔کشمیریوں کو کچھ اس طرح مارا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لاشیں بھی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی وہ انہیں گن سکتے ہیں۔فلسطین ان کے اب بھی پنجہ استبداد میں ہے اور وہ انکے ظلم و ستم کے آگے بے بس ہیں اور مرنے کے سوا کوئی چارا نہیں۔مسلمان قوم کے بچے بوڑھے خواتین اور جوانوں کی لاشیں کوے نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہے ہیں۔مسلم امہ انہیں دیکھ رہی ہے لیکن اسے روکنے کی طاقت ان میں نہیں۔

    آج حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے اور بچانے کیلئے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں لیکن یہ کونہ اسے مل نہیں رہا کیونکہ اب وہ بچا ہی نہیں گویا اب اس قوم میں کوئی محمد بن قاسم نہیں۔کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو ان کی پکار کو سنے اور مدد کو پہنچے ۔

    ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائیگا اور ہم بچ جائیں گے۔ہم اب صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم نے کب وقت کے اس ہلاکو خان سے تباہ ہونا ہے۔؟ میرا کہنا یہ ہے کہ انتظار ضرور کرو لیکن یہ یقین کر لینا کہ تباہ کرنے والے نے یہ نہیں دیکھنا کہ تم کس مسلک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔؟ وہ یقینا”یہ نہیں دیکھے گا کہ تم وہابی ہو دیوبندی ہو سنی ہو یا شیعہ ہو ۔وہ یقینا” یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ تم اہل تشیع ہو۔اہل حدیث ہو یا اہل سنت ہو۔اس کے نزدیک تم صرف مسلمان ہو یعنی اس کے ازلی دشمن۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ چھوڑو آپس میں الجھنا اور سب ایک ہو جاؤ اس طرح ایک جیسے اللہ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے۔:-

    "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”

    قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بڑی کثرت سے اتحاد کو قائم رکھنے اور اپنے درمیان موجود خلفشار و انتشار سے بچنے کی بار بار ہدائت اور تلقین کی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود بھی خلفشار و انتشار اب اتنا عام مرض بن چکا ہے کہ امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے اور علاقائی تعصب اور عصبیت پرستی کے روگ کی بو ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ان حالات میں اب یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ہوری امت مسلمہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اتحاد و اتفاق کی طرف لوٹیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپس میں اخوت و محبت ہمدردی و خدا ترسی اور ملکی و ملی سیاسی و سماجی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جی سکیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔میں نے اپنے دلی جذبات ایک کالم کی شکل میں بیان کر کے اپنس فرض ادا کر دیا ہے بقول اقبال:-

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

  • تُم حق ہو — اسامہ منور

    تُم حق ہو — اسامہ منور

    تم حق کے لئے جب بھی اُٹھو گے، بولو گے، لڑو گے، تب تب لوگ تمھارے دشمن ہوتے چلے جائیں گے. کم لوگ تمھاری تصدیق کریں گے مگر زیادہ تر تمھاری تکذیب کریں گے لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا حق مقدار میں کم ہوتا ہے لیکن معیار میں بہت ہوتا ہے.

    بدر و حنین یاد رکھنا، تمھیں حوصلہ ملے گا. احد کو یاد رکھنا، تمھیں خود کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا، خندق و تبوک تمھارے اندر جوش و ولولہ پیدا کریں گے.

    اور کربلا تمھیں حق اور باطل کے درمیان فرق سکھا دے گا، بس جب کبھی کربلا جیسی نوعیت ہو تو اس صف میں جانا جہاں پر تھوڑے مگر پکے لوگ ہوں گے لیکن اس صف سے بچنا جہاں پر تعداد تو کثیر ہو گی لیکن مفاد پرست زیادہ ہوں گے.

    وہ تُم پر ٹُوٹ پڑیں گے لیکن تمھیں ڈرا نہیں سکیں گے، وہ تُمھیں کاٹ تو دیں گے لیکن مار نہیں سکیں گے وہ اپنی کمزوری کو چھُپانے کے لیے تُمھیں جھوٹا کہیں گے لیکن تُم پریشان مت ہونا، انھیں آنکھیں دکھانا اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح ٹکرا جانا، تُم ہار جاؤ گے تو بھی فتح تمھاری ہو گی اور تم قیامت تک کی نسلوں پر راج کرو گے.

    زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، ہمیں ہر طرح کے مواقع میسر آتے ہیں. تمھیں بھی آزمایا جائے گا. طاقت دے کر، رتبہ دے کر، مال و دولت دے کر اور جاہ و جلال دے کر.

    لیکن یاد رکھنا اپنی طاقت کو حق کے لیے ہی استعمال کرنا،ہمیشہ حق کا ساتھ دینا خواہ سامنے خونی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو. تمھاری امید کبھی نہ ٹوٹنے پائے اور تمھارا جھکاؤ کبھی بھی باطل کی جانب نہیں ہو.

    تم جب تک حق پر رہو گے تمھاری شناخت باقی رہے گی اور تم امر ہو جاؤ گے لیکن باطل کا ساتھ دینے سے تم سب کچھ گنوا بیٹھو گے اور فانی ہو جاؤ گے.

    یزید کو بھی مان تھا، اقتدار کا اسے زعم تھا دولت کا اور غرور تھا کُرسی کا، لیکن تم دیکھ لو، لوگ اسے کن لفظوں میں یاد کرتے ہیں اور کن کن القابات سے نوازتے ہیں.

    رسوائیاں ہمیشہ کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہیں مگر حسین رضی اللہ عنہ کو دنیا قیامت تک ایک بہادر سپہ سالار، ایک طاقت ور بیٹے اور ایک اصول پسند امام کے طور پر جانے گی. یزید تھا جبکہ حسین رہے گا.

    حق اور حسین رضی اللہ عنہ کبھی جدا نہیں ہو سکتے. حق کا ساتھ دینا، لوگ کچھ بھی کہیں، کافر کہیں یا منافق، دائرہ اسلام سے خارج کہیں یا تمھارے کردار پر انگلی اُٹھائیں، کبھی دلبرداشتہ مت ہونا. تُم حسینی ہو، تُم حق ہو اور حق کو کبھی زوال نہیں آتا.

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    الف
    اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیں ہر رگے ہرجائی ہو
    اندر بوٹی مشک جمایا جان پھلاں تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جہس ایہہ بوٹی لائی ہو

    کلام باہو سے تحریر کا آغاز کرنے کا مقصد ایک موضوع کو زیر تحریر لانا تھا، ہم میں سے کتنے ہی اس کلام سے واقف ہیں اور صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والے ان اشعار کے معنی بھی خوب جانتے ہیں۔

    اصل موضوع تو ہے خدا کی واحدنیت کا اعتراف کرنا کسی کو اسکا ہم سر نا ٹھہرانا، اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اللہ کی پاک ذات کو ایک ماننا اسی کے آگے جھکنا اور ہر مسلمان اپنے تئیں دن بھر میں پانچ نمازوں کے دوران رکوع اور سجود کی حالت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کے سواے رب کی ذات کے کوئی سجدے کے قابل نہیں ہے۔

    راقم نا تو اسلام کا مفکر اور نا ہی کوئی مذہبی ٹھیکدار ہے لیکن کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہوتی ہے کے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم کسی بھی چیز کو صاحبان علم و عقل کی باتوں سے پرکھا جاے۔

    پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو کے آجکل اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے بہت سے علماء وقت سے تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ہمیشہ خلفہ راشدین کے ادوار کی ہی مثالیں دیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اس بات کا کھلے عام کہتے ہیں کے حضرت عمر کا دور حکومت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر دیکھا جاے تو عملی طور پر بہت دفعہ ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کے بعد میں ان کے لیے باعث ندامت ہوتے ہیں۔

    اسی طرح اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھتے ہیں تو بہت سے سیاست دان اورکئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اسلام کی محترم ہستیوں کو اپنے لیے رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں اور بات بات پر ان کے حوالہ جات دیے جاتے ہیں ، لیکن اس کارساز سیاست میں ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو گراوٹ اور پستی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

    اب اگر انتہائی ماضی قریب کی بات کرتے ہیں تو قارئین نے اپنی آنکھوں، اور کانوں سے ابن عربی سے زیادہ علم کے بارے میں سنا اور اس ہستی کو دیکھا ، اسی طرح ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے دشنام درازی سے لبریز اجتماعات کہیں حضرت عمر پر ہوے مواخذے کا شور ہوتا ہے تو کہیں ناموس رسالت پر سیاست سب کے سامنے ہیں۔

    اگر نیاز ی صاحب کی بات کرتے ہیں تو جیسے ہر انسان کو اپنی زندگی آزادانہ گزارنے کا پورا حق ہے اسی طرح نیازی صاحب بھی پاکستان کے ایک شہری کی طرح یہ حق رکھتے ہیں لیکن بطور ایک کرکٹ اسٹار اور ایک سیاستدان کے تمام لوگوں کی نظر ان پر ایک سپراسٹار والی ہوتی ہے۔ نیازی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائم لائیٹ میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں بھی اس سے جان چھڑوانا ناممکن ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ فورا ہی زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَِعِیْن سے اپنی تقریر کا آغاز کرنے والا (شکریہ پروفیسر رفیق اختر صاحب، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کے تقریر ان الفاظ سے شروع کرو) اور اس کے فورا بعد نت نیا میوزک شروع ہو جاتا ہے۔ یاران من نے اسکو قول کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک توجیہ دی، لیکن حالیہ ویڈیو میں نیازی صاحب کو سجدہ کرتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے، یار لوگوں نے کہا کے ہو ہی نہین سکتا کے خان سجدہ کرے لیکن جب ویڈیو وائیرل ہوئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔

    نیازی صاحب کی تمامتر سیاست کا مرکز صرف اور صرف وزارت عظمی کی کرسی کا حصول ہے جسکا اعادہ وہ انہوں نے بار ہا کیا، اسی کرسی کے حصول کے لیے تماتر جائز و ناجائز کام کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن جہاں کام کرنے کی باری تھی اور پورے پانچ سال تک بلا شرکت غیرے کے مطابق حکومت تھی وہاں کام کیا ہوا اور سارا وقت اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں کی خاک ہی چھانتے رہے بمعہ خلائی مخلوق کو سجدے ۔

    اور اب پانچ سال کے بعد جب تمام جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے کام گنوا رہی ہیں تو نیازی صاحب اپنی پیرنی کا پلو تھامے مزاروں پر سجدے دینے لگ پڑے ہیں ۔ نیازی صاحب کی ان حرکات سے ایک بات یاد آتی ہے ۔

    ” پیر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر ایک شخص زار و قطار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔

    کہ

    ” اے پیرا بابا آپ کو تو معلوم ہے میں اکیلا ہوں ، تربور ( شریکے ) زیادہ ہیں۔ جائداد پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔

    آپ ہی اب ساتھ دینا مجھے کم ازکم پانچ بیٹے عطا فرمانا”

    کچھ دیررونے کے بعد خاموش ہوجاتا پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اسی کرب کے ساتھ دعا مانگنے لگ جاتا ۔

    لیکن دوسری باری میں بیٹوں کی ڈیمانڈ پانچ سے چار پر آگئ۔

    کرتے کراتے آخرکار ایک پر آڑ گیا ۔

    کہ کم ازکم ایک بیٹے کے بغیر تو واپس خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔

    قریب ایک خدا ترس بندہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

    اس سے یہ حالت نہ دیکھی گئی اور پاس آکر پیار سے پوچھا ،

    ” بھائی صاحب آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”

    وہ سائل غصے میں بولا

    ” شادی کی ہوئی ہوتی تو یہاں پر آتا؟؟؟؟”

    اگر پانچ سال خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھائی ہوتی تو پاکپتن کیا لینے جاتا ۔

    وزیراعظم کی کرسی کیلئے پہلے زندوں کے پاؤں گرتا رہا پھر پیرنی کے آگے اور اب مردوں کو سجدہ کرنے لگا۔

    وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

    ثناء خواں تقدیس نیازی صاحب باہر آئے اور ایسی ایسی توجیہات پیش کیں کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن میرے وہ تمام دوست اس بات کو بھول گئے کے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سوائے رب کی ذات کے کسی کے آگے نہیں جھکنا، اور غیر اللہ کے سامنے تو شرک ہے۔ اس معاملے میں راقم کی کم علمی کو دوست احباب نے مختلف مشائخ کے آئمہ کرام کی کتب اور خطبات کے حوالہ جات سے پورا کیا۔

    چند یاران من نے تو جذبات میں یہاں تک کہ دیا کے جب وہ اپنے والد کے مرقد پر جاتے ہیں تو اسے بھی چومتے اور اپنا سر رکھتے ہیں ، یہ سجدہ تعظیمی تھا، کچھ نے کہا کے چوکھٹ چومی تھی ، کچھ نے کہا کے اسکا ایک گھٹنا ہوا میں تھا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں، صرف یہ بتانے کے لیے کے نیازی صاحب نے جو کیا وہ حلال تھا۔

    اگر اس معاملے میں مولانا احمد شاہ نورانی کی بات سنی جاے تو بقول ان کے مزارات پر جا کر سر جھکانا، سجدہ کرنا منع ہے، اگر عبادت کی غرض سے سجدہ یا جھک جانا شرک اور تعظیم کی غرض سے حرام ہے۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ نے قبر پر حاضری کی نسبت جو آداب بتاے ہیں یقینا وہ میرے قارئین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں،

    اسی موضوع پر میرے ایک دوست/ بھائی نے پوسٹ کی کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کے کپتان کو پیرنی نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ فورا سجدہ ریز ہو گیا، اب بندہ زوجہ سوئم کے اشارے پر بھی نا چلے۔

    تو جناب یہ تو نیازی صاحب کی بہت پرانی عادت ہے انگلی کے اشارے پر چلنا چاہے بیگم کی انگلی ہو یا ایمپائر کی۔۔۔۔

    لیکن اسلام ان انگلیوں کے اشارے نہیں مانتا، اب چاہے عبادت کے لیے ہو یا تعظیم کے لیے

    سجدہ صرف ایک واحد ذات کے لیے

    سجدہ صرف خدا کے لیے۔

    کرسی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ سجدے کئے ہیں جو جائز بھی نہی تھے

    جو لوگ کہہ رہے ہیں چوکھٹ کو بوسہ دیا، وہ غور سے دیکھیں کہ خان صاحب چوکھٹ سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو گئے، چوکھٹ پر منہ شریف رکھا نہیں، تو کیا وہ زمین چاٹ رہے تھے اور اسے بوسہ دے رہے تھے….

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ ﷺ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان(یہود ونصاریٰ) کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

    (صحیح البخاری:3454)

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔