Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تبدیلی آگئی ہے سے لے کر سلیکٹڈ تک اور سلیکٹڈ سے امپورٹڈ تک اور اب فارن فنڈنگ سے لے کر ممنوعہ فنڈنگ تک پاکستان بطور ریاست اور 22 کروڑ عوام کہاں کھڑی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اس دوران ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ملک و قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔ معیشت روبہ زوال ہے۔ عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ کیا اس کو جمہوریت کا نام دیا جائے؟ پارلیمنٹ ہاؤس میں بغیر اپوزیشن کے اجلاس ہو رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے؟ نجی ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسوں کی بہار ہے پریس کانفرنسیں کرنے والوں کے گھروں میں بہار ہے مگر عام آدمی کے گھروں میں موسم خزاں ہے۔ ہوس زر اورہوس اقتدار نے ان کے ضمیر مردہ کر دیئے ہیں دولت اس طبقے کا سب سے بڑا نظریہ بن چکا ہے

    سیاسی جماعتوں کا ٹکٹیں دینے کا معیار دولت ہی ہو وہاں کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ وطن عزیز کے ہر ادارے کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ملک میں اتنا زوردار انتشار پیدا کر دیا ہے کہ جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے ۔ ایک دوسرے کو ڈاکو چور کہنے والوں سے سوال ہے کہ 75 سالوں میں اس ملک سے بجلی اور گیس کا بحران ختم کیوں نہیں ہوا کیا اس ملک کا عام آدمی اقتدار پر قابض رہا؟

    اس وقت پورا ملک ذہنی دبائو کا شکار ہے۔ ملکی معیشت ہمارے سامنے ہے ہر چند کے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا مگر حکمرانوں اور بالخصوص وزیرخزانہ میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی قسط معاہدے کے مطابق جلدی منگوا سکے۔ اس کے لئے ملک کے چیف آف آرمی سٹاف کو فون کرنا پڑا۔ موجودہ سیاسی انتشار ملک میں لیڈر شپ کا فقدان بھی ہے۔ کہاں مفتی محمود (مرحوم) کہاں ، مولانا فضل الرحمن، کہاں بے نظیر بھٹو اور کہاں آصف علی زرداری، کہاں نوازشریف اور کہاں شریف شریف، کہاں ولی خان اور کہاں آج کی اے این پی ، کہاں نواب زادہ نصر اللہ کہاں مولانا عبدالستار خان نیازی، کہاں قاضی حسین احمد، آج پاکستان سیاسی انتشار اور بحران کی اصل وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے جس پارلیمنٹ ہاؤس میں بینظیر بھٹو جیسی عالمی سیاسی شخصیت اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہو اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے خدا کی پناہ کہاں سیاسی قدر آور سیاسی شخصیات اور کہاں آج کی پارلیمنٹ ۔

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اس نیلے آسمان تلے آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے. اور نا ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن سب کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے.

    اپنے اچھے اخلاق، عمدہ زبان اور میٹھے بول سے. ہر شخص غصے سے بھرا ہے. ہر ایک جانی انجانی. آفات میں گھرا ہوا ہے. ہر کوئی اپنے اندر ایک لاحاصل جنگ لڑ رہا ہے.

    تو ایسی صورتحال میں ضرورت ہے. زخموں پر مرہم رکھنے کی نا کہ نمک چھڑکنے کی. دنیا پیار محبت کی بھوکی ہے. ہر ایک عزت پانا چاہتا ہے… ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے.

    تو اگر ہمارے میٹھا بولنے سے. یا گالی سن کر مسکرانے سے. یا لڑائی میں حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ جانے سے. یا کھیل میں جیت کر ہارنے والے کو گلے لگانے سے یا ناراض رشتہ دار کو منانے سے. بہت بڑے فساد سے بچا جا سکتا ہے.

    یا اگر آپ کی ہار سے کوئی جیت جاتا ہے . تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں. یقین کیجئے ایسا کرنے کے بعد بھی آپ مرد ہی رہیں گے. آپ کی مردانگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا.

    ہاں اپنے اس فعل سے آپ اپنے مقابل کا دل ضرور جیت لیں گے. اپنے اندر صبر و تحمل اور برداشت کو جگہ دیجئیے. یہ تینوں مل کر آپ کے اخلاق کو سنواریں گی اور اچھے اخلاق سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ بغیر لڑائی کیے جیت سکتے ہیں.

    جھگڑے کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے اور نا ہی ضد کبھی جیتتی ہے. پھل پانا چاہتے ہیں تو ہلکا سا جھک جائیں. اور فراخدلی کے ساتھ . دلوں کو جیتنا سیکھیں.. آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے.

    لوگ نجانے نفرتوں کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں جب کہ محبتوں اور چاہتوں کے لیے تو یہ زندگی بہت چھوٹی ہے.

  • پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    موجودہ وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے جہاں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے مسافروں کا سفری بجٹ بھی متاثر ہوا ہے جن لوگوں کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ ہے ان کی اکثریت نے مہنگائی سے تنگ آکر سفر کے لئے مسافر گاڑیوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا جبکہ جو لوگ مسافر گاڑیاں استعمال کرتے تھے ان کی اکثریت نے لانگ روٹ کے سفر کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال شروع کر دیا.

    کچھ عرصہ پہلے لوگوں کی سفر کے لئے پہلی ترجیح ریل گاڑی ہوتی تھی کیونکہ ریل گاڑی میں عام مسافر گاڑیوں کی نسبت زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی تھی. ریل میں دوران سفر اگر آپ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو گاڑی میں چہل قدمی کر سکتے ہیں دوران سفر بچے ایک جگہ مستقل نہیں بیٹھتے ہیں اور والدین کو تنگ کرتے ہیں ریل میں وہ آزادی سے کھیل کود سکتے ہیں. اس کے علاوہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی میسر ہے.

    دوران سفر ٹرین مختلف اسٹیشنوں پر رکتی ہے وہاں سے آپ اپنی ضروریات کی چیزیں لے سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹرین میں بھی لوگ اشیاء بیچنے وقفے وقفے سے آتے رہتے ہیں جن سے آپ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں. ٹرین میں برتھ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو برتھ بک کرا لیں اور راستے میں جہاں آرام کی ضرورت محسوس کریں برتھ پر لیٹ کر آرام دہ نیند سے لطف اندوز ہوئیں.

    اس کے علاوہ مسافروں کی استطاعت کے مطابق ٹکٹ اکانومی کلاس، اے سی اور بزنس کلاس میں بھی میسر ہے. مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ریلوے پولیس کی سہولت بھی میسر ہے.اس کے علاوہ بزرگ شہریوں اور بچوں کے لئے ٹکٹوں کی قیمت میں رعایت اور متعدد سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے پاکستان ریلوے کو دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر واضح فوقیت حاصل تھی اور عرصہ دراز تک لوگوں کی پرسکون سفر کرنے کے لئے اولین ترجیح پاکستان ریلوے ہی رہی ہے.

    پھر جیسے دن کے بعد رات اور خوشی کے بعد غمی ہوتی ہے ایسے ہی پاکستان ریلوے کو بھی حاسدوں کی نظر اور دیگر پرائیویٹ کمپنیوں کی سازش کھا گئی. کیوں کہ جب تک پاکستان ریلوے میں دستیاب سہولیات انتہائی مناسب پیسوں میں میسر تھی دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی تھی اور سرمایہ کاروں کی انویسٹمنٹ ڈوب سکتی تھی سرمایہ کاروں کے سینے میں دل نہیں بلکہ کیلکولیٹر ہوتا ہے وہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ نفع نقصان دیکھ کر کرتے ہیں.

    تو سرمایہ کاروں نے پاکستان ریلوے کو اپنی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سازشیں شروع کی سب سے پہلے دودھ کی راکھی پر بلا بٹھایا اور پاکستان ریلوے کی وزارت ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ کے حوالے کر دی جس نے ریلوے کی تباہی کی بنیاد رکھ دی اور اس کے دور وزارت میں ہر گزرتے دن ریلوے کا معیار بدتر سے بدتر ہوتا گیا.

    وقت پر ٹرینوں کا منزل پر نہ پہنچنا، پرانے انجن اور ڈبے، مشینری میں گھٹیا پرزوں کے استعمال کی وجہ سے دوران سفر ٹرینوں کا خراب ہونا، پٹریوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا ہونا، ریلوے عملے پر سے چیک اینڈ بیلنس ختم کرنے کی وجہ سے عملے کا بے لگام ہونا، سیاسی اور ضرورت سے زائد افراد کی بھرتیاں، سہولیات کی عدم دستیابی، شکایات کی صورت میں شکایت کنندہ کی دادرسی نہ کرنا، ریلوے اراضی پر قبضہ کر کے اونے پونے داموں فروخت کرنا الغرض جہاں تک ممکن تھا پاکستان ریلوے کا نقصان کر کے ایک انتہائی نفع بخش ادارے کو خسارے میں لے جایا گیا.اور مسافر ٹرین کے سفر سے متنفر ہو کر نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیوں پر سفر کرنے لگ گئے.

    موجودہ مہنگائی کی جو لہر آئی ہے اس میں سفر کرنے کے لئے ٹرین کا سفر ہی ایک متوسط طبقے کے فرد کے لئے مناسب ہے اور گورنمنٹ کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ دوبارہ سے سہولیات کی فراہمی کر کے، لوگوں کی شکایات دور کر کے اور ٹرینوں کے منزل پر پہنچنے کے اوقات کی سختی سے پابندی کرا کے مسافروں کو دوبارہ سے ٹرین کے سفر کی طرف راغب کر سکتی ہے اس طرح جہاں متوسط اور غریب طبقے کے افراد کو سفری سہولیات حاصل ہوں گی وہیں گورنمنٹ کا ادارہ بھی نقصان سے دوبارہ نفع میں چلا جائے گا اور گورنمنٹ کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کے جو سفری اخراجات بڑھے تھے وہ بھی دوبارہ قابو میں آ جائیں گے.اور لوگوں کو حکومت سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں ان کا بھی کسی حد تک ازالہ ہو جائے گا.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ملکی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ مخالف بیانیہ آزمایا ہوا فارمولا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اسی فارمولے پرعوام سے ووٹ حاصل کرتی رہیں ۔ جب بھی کسی حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو وہ سیاسی جماعت امریکہ اور اسٹیبلشمنت کو نشانے پرلیتی ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی وہی فارمولا اپنایا ۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا المیہ رہا ہے جب انکے مفادات کی بات آتی ہے تووطن عزیز کے سیاسی ومذہبی اداکار اخلاقی اورجمہوری اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرز سیاست نے سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ۔ اس کی مثال پیپلزپارٹی کی دی جا سکتی ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کررہ گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چل کر ملک کی مقبول ترین جماعت مسلم لیگ(ن) جس کی آبیاری نواز شریف نے کی تھی بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کو شکست دینا ناممکن تھا ۔ شہبازشریف اور اُن کے قریبی چند ساتھیوں کی طرز سیاست کی وجہ سے اس جماعت کو پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کو عارضی فائدے تو مل گئے لیکن ان کی جماعت کو شدید دھچکا لگا ۔

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آمدہ قومی انتخابات میں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرلی اور اس نئی حکمت عملی کے کرداروں میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی ہیں بلاشبہ چوہدری خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مگر پنجاب کی وزارت اعلی چوہدری پرویز الہی کے پاس ہے جو مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی طور پر اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ پنجاب کو فتح کرنے کے لیے اور آمدہ قومی انتخابات میں کامیابی کے لئے شہباز شریف اوران کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں کوئی بھی ایسی کرشماتی شخصیت نہیں جو عمران خان کے بیانیے پر حاوی ہو سکے ۔ اگر نواز شریف وطن آتے ہیں تو شاید کوئی اس جماعت کو کامیابی حاصل ہو، مریم نواز نے اس جماعت کی مقبولیت کو بچانے کی بہت کوشش کی اور کررہی ہے تاہم نواز شریف آج بھی پنجاب میں مقبول ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    حکومت پی ڈی ایم کی ہے لیکن معاشی بحران مہنگائی کا ملبہ نواز لیگ پر پڑ رہا ہے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نواز شریف کے پاس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود تھے مگر شہباز شریف ان کی پاکستان آمد کا راستہ ہموار کرنے میں ناکام رہے ۔ رہی بات عوام کی جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

  • اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    عناب: جادوئی دوا

    عناب ایک مشہور پھل ہےجو بیر کی مانند گول ہوتا ہے اس لئے اسے عناب کا بیر کہا جاتا ہے، یہ پھل جب کچا ہوتا ہے تو ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس کا رنگ سرخ اور جامنی ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک لو کیلوری فروٹ ہے جس کا ذائقہ میٹھا اور سیب سے ملتا جلتا ہوتا ہے،

    اچھا عناب سرخ ، گودےوالا ، میٹھا اور اندر سے کیڑے کے بغیر ہوتا ہے۔

    عناب کو چینی کھجور بھی کہا جاتا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے
    لیکن پکانےاورسکھانے سے اس کی
    افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    اس کو بطور میوہ کھایاجاتا ہے۔ عناب کو بطور دوابھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس پھل کا استعمال نیا نہیں بلکہ یہ پھل 4000 سال سے ہربل دوائیں بنانے کے لئے چین میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکانے اور سکھانے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سے شربت عناب بنایا جاتا ہے۔
    عناب ایک ایسی قدرتی خزانوں سے مالا مال جڑی بوٹی ہے جس کے بہت زیادہ فائدے ہیں،
    جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

    خون کی بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے:
    ایسے افراد جو آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور آئرن کے سپلیمنٹ کھاتے ہیں یا خون کی کمی کے باعث تھکان ،ذہنی اور جسمانی کمزوری اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں انھیں اسکا استعمال کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں فاسفورس اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

    جسم سےزہریلےمادوں کو خارج کرتا ہے:
    غیر ضروری مادوں سے پاک کرتا ہے۔

    خون کی حدّت کو کم کرتا ہے:
    جن لوگوں کا خون گرم ہوتا ہے ان کی جلد پر دانے نمودار ہو جاتے ہیں،

    ایسے میں طرح طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے دانے نکلنا بند نہیں ہوتے بلکہ جلد مزید خراب ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں عناب کے دس سے بارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیا جائے تو خون کی گرمی کم ہوتی ہے اور چہرے پر تازگی آتی ہے۔

    چونکہ یہ وٹامن سی ،اے اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ موسمی بخار ،سردی، اور خشک اور بلغمی کھانسی سے بھی بچاتا ہے۔

    یہ گلے کی سوزش کو دور کرتا ہے،زکام کے باعث بیٹھی آواز کو جلد بہتر کرتا ہے۔

    عناب کا قہوہ وزن کم کرنے میں معاون:
    عناب کا جوشاندہ نزلہ اور کھانسی میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    دو گلاس عناب میں دو چمچ عناب،ایک دار چینی کا ٹکڑا، پانچ لونگ ڈال کر جوش دیا جائے اور اوپر سے شہد ڈال کر پیا جائے تواس قہوہ کے استعمال سے موسمی فلو سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے اس کو وزن کم کرنے کے لئےروز رات کے کھانے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پیٹ کے امراض میں مفید:
    قبض اور پیٹ کے دیگر امراض میں یہ پھل انتہائی مفید ہے ۔خشک عناب کا پاؤڈر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور بھوک کھولتا ہے۔

    اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے:
    یہ پھل اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے ایسے افراد جو کسی مستقل پریشانی ،صدمہ یا غم کا شکار ہوں اور ان کے اعصاب کمزور ہو گئے ہوں عناب کے مستقل استعمال سے ان کو فرحت ملے گی۔اس لئے اسے اینٹی ڈیپریسنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.