ذوالفقار علی بخاری کا شمار اردو ادب کے اُن نازک مزاج، لطیف حس اور وسیع المشرب مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی شعوری گہرائیوں کو قرطاس پر اس سلیقے سے منتقل کیا کہ قاری اُن کے جملوں میں اپنی پرچھائیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ کٹی پتنگ ایسا ہی ایک نثری ڈراما ہے جو محبت کے فریب میں لپٹی انسانی کمزوریوں، سماجی تضادات، اور جذباتی ناپختگی کا بھرپور عکاس ہے۔ اس تصنیف میں بخاری صاحب نے جس انداز سے محبت کو موضوع بنایا ہے، وہ نہ صرف اُن کے فکری افق کی وسعت کا پتا دیتا ہے بلکہ مشرقی طرزِ معاشرت اور محاوراتی نزاکت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
کٹی پتنگ درحقیقت انسانی فطرت کی اس کمزوری کی تمثیل ہے جہاں جذباتی وابستگیاں عقل کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں، اور نوجوانی کی محبت محض خوبصورت فریب بن کر رہ جاتی ہے۔ ذوالفقار بخاری نے نہایت نفاست سے دکھایا ہے کہ شادی سے قبل کی محبتیں اکثر وہم و گمان کا کھیل ہوتی ہیں، جن کا حقیقت سے کم اور خوابوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ اور یوں یہ محبتیں کٹی پتنگ کی مانند ہوا میں اُڑتی ہیں، بلاسمت، بےوزن اور انجام سے عاری۔
"شادی سے پہلے تو محبت محض سراب ہوتی ہے”— یہ جملہ بخاری صاحب کے اس ڈرامے کے مرکزی خیال کو تقویت دیتا ہے۔ کتاب میں کئی کردار ایسے دکھائے گئے ہیں جو تعلیمی اداروں میں، دفتر کے ماحول میں یا کسی سماجی تقریب کے دوران ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں، اور چند خوشگوار لمحوں کو عمر بھر کا رشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر جب شادی کا حقیقی بندھن آتا ہے تو یہ محبتیں امتحان میں فیل ہو جاتی ہیں۔ بخاری صاحب نے ان جذباتی لغزشوں کو طنز و مزاح کے ساتھ پیش کیا ہے جو قاری کو ہنسا کر رُلا دیتی ہیں۔
ڈرامے کے کردار کسی فرضی دُنیا سے نہیں آئے، وہ ہمارے آس پاس کے وہی نوجوان ہیں جو کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں ہر مسکراہٹ کو دعوتِ محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بخاری صاحب نے نہایت نفاست سے اس ماحول کی عکاسی کی ہے جہاں لڑکی کا ہنسنا، لڑکے کا کتاب تھام کر انتظار کرنا، مشترکہ پروجیکٹس پر کام کرنا، سب کچھ محبت کی جھوٹی فضا پیدا کرتا ہے۔ اور یوں ہر تعلیم گاہ میں "محبت کا سراب” جنم لیتا ہے، جو بعدازاں دل شکنیوں، بداعتمادیوں اور افسردگیوں کا سبب بنتا ہے۔
کتاب میں مصنف نے خاص طور پر اُن نوجوانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو کام کے دوران ساتھ گزارے گئے وقت کو محبت کا نام دے بیٹھتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری کے بقول، "بعض اوقات ہم کام کے سلسلے میں ساتھ ہوتے تو کچھ بے وقوف اسے محبت سمجھ لیتے”—یہ چیز عہدِ حاضر کے اُس فکری انتشار کی بھرپور نشاندہی کرتی ہے جس میں جذباتی وابستگی کو عقل پر ترجیح دے دی جاتی ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ گزارا گیا وقت ضروری نہیں کہ دلوں کا رشتہ بن جائے، اور یہ کہ پسندیدگی کو محبت سمجھنا ایک جذباتی غلط فہمی ہے۔
ڈرامے میں بخاری صاحب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ "محبت اور پسندیدگی میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔ محبت وہ ہے جو امتحان سے گزرے، حالات کی تپش جھیلے، وقت کی ضربیں سہے اور تب جا کر اپنے خالص وجود میں سامنے آئے۔ جبکہ پسندیدگی محض لمحاتی تاثر کا نام ہے، جو کسی خوش لباسی، حسین چہرے یا دلکش انداز سے پیدا ہو جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ جو کٹی پتنگ کو معاشرتی اعتبار سے اہم بناتا ہے، وہ یہ ہے کہ شادی کے بعد ماضی کی بے وقوفیوں کو یاد رکھنے کی بجائے انہیں دفن کر دینا چاہیے۔ یہ ازدواجی زندگی کے استحکام کا راز بھی ہے۔ ماضی کی پرچھائیاں اگر دل میں باقی رہیں تو حال کی خوشیوں پر سائے ڈال دیتی ہیں۔
ذوالفقار بخاری کی زبان دانی، محاوروں کا چناؤ اور مشرقی تہذیب کا اثر ہر صفحے پر جھلکتا ہے۔ اُن کا اسلوب رواں، نرماہٹ سے بھرپور اور جملہ بندی نہایت نفیس ہے۔ کہیں کہیں طنز ایسا ہوتا ہے کہ قاری کو اپنی ہی زندگی کا آئینہ نظر آنے لگتا ہے، اور ہنسی کے ساتھ شرمندگی کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
کٹی پتنگ نوجوان نسل کے اُس ذہنی المیے کا آئینہ ہے جہاں تعلیم کے مراکز میں علم کی بجائے محبت کے افسانے تراشے جاتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری نے اس فکری زوال کو بھی بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے کہ ہر کالج اور یونیورسٹی میں محبت کیوں کھیل جاتی ہے؟ کیوں ہر نوجوان اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ان فضول جذبات میں ضائع کر بیٹھتا ہے؟ کیوں یہ "سراب” اُسے اصل منزل سے ہٹا کر ایک غیر حقیقی دُنیا میں لے جاتا ہے؟
ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انجام ہے، جو جذباتی بے یقینی کے بادل چھا جانے کے بعد بھی قاری کو سبق دے کر رخصت کرتا ہے۔ محبت اگر سمجھداری، وقت اور حالات کے ترازو پر تولی جائے تو زندگی سنور سکتی ہے، ورنہ وہ محض ایک "کٹی پتنگ” ہے—جو نہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے، نہ کسی ہاتھ میں دوبارہ آ سکتی ہے۔
کٹی پتنگ وہ فکری آئینہ ہے جو ہر نوجوان کو اپنے جذبات کے عکس دکھاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محبت کے فریب کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، سماجی روایت، اور ازدواجی زندگی میں در آنے والی غلط فہمیوں کی جڑوں کو بھی کاٹتی ہے۔ بخاری صاحب کی تحریر ہر اُس قاری کے لیے ہے جو محبت کے نام پر جذباتی تماشے کو زندگی کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ محبت اگر عقل و فہم کے بغیر ہو تو صرف دھوکہ ہے، اور اگر دل و دماغ کے توازن سے کی جائے تو زندگی کا سب سے حسین تجربہ بن سکتی ہے۔ یہ خوبصورت کتاب سرائے اردو پبلیکیشن، سیالکوٹ(03338631328) سے شائع ہوئی ہے۔ خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع شدہ یہ کتاب آپ مصنف اور ادارے سے رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں

Author: باغی بلاگز

تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی

متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان
متنازع ترین "پرموشن بورڈ”
جناب شہباز شریف میں جب کبھی بھی آپ کے حوالے سے کالم لکھتا تھا تو سب سے زیادہ فیڈبیک بیوروکریسی کی طرف سے آتا تھا اگر کوئی پہلو ڈسکس نہیں ہوتا تھا تو یہی افسران تفصیل سے اگاہ کرتے کہ شہباز صاحب یہ اصلاحات اور کام بھی کررہے ہیں اگلی دفعہ ان اقدامات کو لازمی مینشن کریے گا۔ جب سے ہائی پاور اور سینٹرل سلیکشن بورڈ ہوا ہے ہر طرف خاموشی ہے، جواب میں اداس ایموجیز کا ہی ریپلائی ملتا ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کی یہ لہر صرف ترقی سے محروم افسران تک محدود نہیں رہی بلکہ بیوروکریسی کی اکثریت شدید پریشان ہے اور ایسی بے توقیر اور بے یقینی والی نوکری سے رخصت لیکر بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہائی پاور بورڈ سے لیکر سینٹرل سلیکشن بورڈتک “پک اینڈ چوز“ نے اہم ترین بورڈز کو ”سلاٹر ہاؤس“ میں بدل دیا۔
جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا گیا ہے وہ سخت اذیت اور صدمے میں ہیں۔ بیوروکریسی کی اکثریت چہہ مگوئیاں کرتی پھر رہی ہے کہ شہباز شریف نے بیوروکریسی کو فلاں سابق افسر کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ جناب شہباز شریف آپ جیسا باخبر، ذہین اور میرٹ پسند حاکم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل بیوروکریسی کے معاملات کو چند افراد کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے ہمیشہ میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔
جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو افسران کو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت فراہم کرنے کے بدلے اچھی پوسٹنگ آفر ہوتی تھیں تو یہ وہی افسران ہیں جو اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے تھے کہ جب شہباز شریف نے انہیں کبھی خلاف میرٹ کوئی کام کہا ہی نہیں تو وہ صرف اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے پنجاب کی تعمیروترقی کے ریکارڈ قائم کرنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کیونکر بیان دیں، اگر حکومت کو پوسٹنگ دینی ہے تو قابلیت کی بنیاد پر دیں، وہ میرٹ پر بہترین کام کرکے دکھائیں گے۔
آج ان تمام افسران کو اس اصول پسندی کا یہ صلہ ملنا تھا؟
جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے والے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے. کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔ بیوروکریسی کا یہ مطالبہ ہے کہ فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں۔ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ کے حوالے سے بیوروکریسی کے گروپس میں شدید بحث اور تنقید کی جارہی ہے بیوروکریسی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ہائی پاور سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے متنازع ترین ڈی جی آئی بی اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو معاشی اور ملکی سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے یہی بیوروکریسی ہراول دستہ ہیں۔
جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟ جناب وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین پرموشن بورڈ کا ”ریویو“ کیے بنا یہ بورڈ سیاست اور سول سروس کے نام پر کلنک کا داغ بن کر رہ جائے گا۔
وزیر اعظم کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔ پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی جو ٹریننگ مکمل کرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا! چیف آف آرمی سٹاف کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔
پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی فیصلہ سازی سے لیکر کمائی والی تمام سیٹوں پر تو بزدار حکومت میں اہم سیٹوں پر رہنے والے براجمان ہیں پھر پرموٹ نہ ہونے والے، او ایس ڈی اور کھڈے لائن کیے افسران کا کیا قصور ہے؟
حالیہ تعیناتیوں میں ٹریفک پولیس سمیت جو افسران فرائض سے غفلت برت رہے ہیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں انکو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا۔ جو کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔
ملک محمد سلمان
maliksalman2008@gmail.com
عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی
عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے
عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .
شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ 
بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی
انسان کے جنم کے ساتھ ہی داستان نے بھی جنم لیا ہے۔ہر گزرتا لمحہ یادوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہ یادیں تلخ بھی ہو سکتی ہیں اور حسین بھی۔زندگی کے سفر میں حسین یادیں جینے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہیں لیکن تلخ یادیں کُند تلوار کی طرح ضربیں لگاتی رہتی ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ یادوں کے حوالے سے پروفیسر عظمیٰ مسعود لکھتی ہیں:”یادیں ہمیشہ یادوں کی ایک بارات سی لے کر چلتی ہیں۔ایک یاد،پھر دوسری اور تیسری یاد۔کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے اور یادوں کی لمبی زنجیر سی بن جاتی ہے اور اگر تھوڑی سی لمبی عمر کی اجازت مل جائے اور انسان خود بھی ذہنی طور پر بڑا ہو جائے تو یہ یادیں اُس کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ بن کر کبھی تو اسے نہال کر دیتی ہیں کبھی نڈھال۔اس پر طاقت ور فرعون کا،نمرود کا،حسین سے حسین تر قلوپطرہ کا اور تنومند سے تنومند مرد کا بھی کوئی زور نہیں چلتا۔یہ کہیں تو تلوارکی دھار کی کاٹ رکھتی ہیں کہ جگر چیر کر رکھ دیتی ہیں تو کہیں پھول کی پتیوں جیسی نرم اور گدازہوتی ہیں کہ اندر تک مہکا دیتی ہیں۔یہ روح پر اپنا اثر چھوڑے بغیر جاتی ہی نہیں۔
کتب کے مطالعے میں خود نوشت پڑھنے کا ہمیشہ سے دیوانہ رہا ہوں۔آپ بیتیوں میں بزرگوں کے ساتھ گزرے حالات و واقعات سے سبق لے کر ہم اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل حالات میں اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔سیکھنے کا عمل جاری رہے تو انسان مات نہیں کھاتا۔چاہے وہ خانگی زندگی ہو معاشرتی مسائل۔"بس یہی داستاں ہماری ہے”پچھلے کئی دِنوں سے زیرِ مطالعہ رہی ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعودخراج تحسین کی مستحق ہیں جس طرح انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو قلم بند کیا ہے دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔میں نے یہ خودنوشت راتوں کو بیٹھ کر پڑھی ہے۔صبح نماز کے بعد فصلوں کی سیر کے دوران پڑھی ہے۔تازہ ہوا کے جھونکوں میں اوراق کی مہک نتھوں کے ذریعے روح ودل کو راحت بخشتی ہے۔ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک نے خوب کہا ہے:
یہ جو یادوں کی لائبریری ہے
اس کی چھایا بہت گھنیری ہے"بس یہی داستاں ہماری ہے”میں جو پڑھتا ہوں تو کتاب رکھنے کو دل نہیں کرتا۔لیکن میں نے یہ کتاب اپنے اوپر مسلط کرکے پڑھی ہے۔مصنفہ کے ساتھ میں نے بھی ماضی و حال کا سفر کیا ہے۔کہیں آنسوؤں کی کشتی میں سوار ہوا تو کہیں سسکیوں کی نگری آباد کی۔کہیں شرارتیں سوجھی تو کہیں آہیں بھر نے لگا۔پروفیسرعظمیٰ مسعودکا قلم بے باک ہے۔بڑی جان فشانی سے زیست کے اوراق کو پلٹا ہے۔کہیں ہجرت کے دُکھ ہیں تو کہیں آزادوطن کے حکمرانوں کی کارستانیاں۔کہیں اپنوں کے بچھڑنے کادُکھ ہے تو کہیں عشق کی باتیں۔کہیں دوست دشمن بنتے ہیں تو کہیں دُشمن دوست۔کہیں بُرے وقت میں "نند”جیسا کردار ہمدردی اور اپنائیت کا استعارہ بن جاتا ہے تو کہیں حسد کرنے والے اپناوار کرتے ہیں۔کہیں ایک تھالی میں کھانے والے گہری ضرب لگاتے نظر آتے ہیں تو کہیں دلاسہ بڑھانے والے موجود ہیں۔
"بس یہی داستاں ہماری ہے”کہنے کو تو پروفیسر عظمٰی مسعود کی خودنوشت ہے لیکن میں سمجھتا ہوں وطن ِعزیز کے ادیبوں کی داستاں ہے۔یہ سیاست دانوں کی کارستانیوں کا اعلان ہے۔اس کتاب میں ایک زندگی نہیں ہزاروں زندگیاں ہیں۔کہیں مصنفہ مطالعہ کی شوقین نظر آتی ہے اور ہمیں بہترین کتب سے ملواتی ہیں۔کہیں سیاست دان بن کر اصطلاحات نافذ کراتی ہیں تو کہیں پروفیسر بن کر بتاتی ہے کہ حالات جیسے بھی رہے ہوں پروفیسر ایسا ہوتا ہے۔یہ اقتباس پڑھیے:
"اب میں "ادب”کی کچھ کچھ باتیں بھی سمجھنے لگی تھی۔یہاں سے میں نے پہلی بار عصمت چغتائی کا نام سُنااور ریڈیو کی لائبریری سے اُن کے افسانوں کی کتاب لی۔”لحاف”کا ذکر بار بار ذکر سنا تھا۔پڑھا خاک سمجھ نہ آیا۔پھر کشورناہید کے سمجھانے پر بھی سمجھ نہ آیا۔اس نے گالیاں دے کر سمجھایا۔دل پھر بھی نہ مانا۔اسے سمجھنے کے لیے دماغ کو تیز دھار چھری کی طرح کا ہونا ضروری تھا اور میرے ہاں تو صرف گودا بھرا تھا۔خداگواہ ہے کہ وہ افسانہ عرصہ دراز تک ایک راز ہی رہا۔جو کشور نے سمجھایا میں نے اکثرسوچا”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔”میں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا۔اُسی زمانے میں منٹو کے "ٹھنڈے گوشت”کا تذکرہ شروع ہوا۔کتاب خریدی،کہانی پڑھی،خاص طور پر پڑھی،البتہ یہ کچھ کچھ پلے پڑی۔باقی تفصیل میں نے کشور سے پوچھ لی۔”
زندگی کے بارے لکھتی ہیں:”زندگی مشکل تھی اور اتنی مشکل زندگی کو جینا کانچ پر ننگے پاؤں چلنے جیسا تھا۔میں اکثر سوچتی ہوں زندگی ہے کیا چیز؟اور یہ اتنی تکلیف دہ کیوں ہو جاتی ہے۔پھر یہی زندگی کسی قدر دل نواز،حسین اور دلبرانہ بھی ہے کہ اسے جینے کے لیے انسان کیسی کیسی محنت کرتا ہے،فریب کرتا ہے،ریاکاری کرتا ہے،جھوٹ بولتا ہے۔۔۔اُف خدایا انسان کیا کچھ نہیں کرتا کہ وہ یہ زندگی جی لے اور خوب جی لے۔زندگی کو جینے کا اتنا لالچ؟ہے تو پھر بھی دو ہی دن کی۔۔اس زندگی کے لیے اتنی تگ ودو سب ہی کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے ہمارے ملک کے سیاستدان کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں،زندگی اُن کے گرد گھیرا تنگ کرتی جاتی ہے۔۔”
نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم
نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
"بس یہی داستاں ہماری ہے”میں پروفیسر عظمیٰ مسعود،اپنے سکول،کالج کے زمانے کی دوستوں کو یاد رکھتی ہیں۔سروس کے دوران تسلی اور دلاسہ دینے والوں کو نہیں بھولتیں۔دوسروں پر قدغن نہیں کرتیں،البتہ اپنے آپ کو کڑوی کسیلی سناتی ہیں۔جب بھی زندگی سے تھکنے لگتی ہیں تو رب کو یاد کرلیتی ہیں اور یوں ایک اُمید کا دیا روشن کر لیتی ہیں۔
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
"بس یہی داستاں ہماری ہے”پروفیسر عظمیٰ مسعود کی شان دار کتاب 332صفحات پر مشتمل ہے۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سے شایع ہوئی ہے جس کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔کتاب دوست،صاحب کتاب اور کتاب سے محبت رکھنے والوں کے خیرخواہ ہر دل عزیز شخصیت،کتاب بینی کے فروغ میں ہمہ تن سرگرداں۔ان کا احسان ِعظیم ہے کہ نامور شخصیات سے متعارف کرواتے ہیں ان کا لکھا قاری تک پہنچاتے ہیں۔
"بس یہی داستاں ہماری ہے”کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعود اشعار کا تڑکا خوب لگاتی ہیں یہاں سے ان کے ذوق کی خبر ہوتی ہے۔اس کتاب کی بہت سی خوبیاں ہیں۔یوں کہیے جو آپ چاہتے ہیں آپ کے ذوق کے مطابق اس میں ملتا ہے۔آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ حالات کی گردش میں گرے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر راحت کے نگر میں بسیرا کراتی ہے۔دُنیامیں بسنے والے ہر شخص کی داستاں "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں ملتی ہے۔
کوئی تدبیر کرو،وقت کو روکو یارو
صبح دیکھی ہی نہیں،شام ہوئی جاتی ہے
"بس یہی داستاں ہماری ہے”کے پیغام کے ساتھ اجازت چاہوں گا:”رب ِ ذوالجلال نے دُنیا بنائی ہے تو اِس کو چلانے کے کچھ اصول بھی بنائے ہیں۔یہ دُنیا اسی طرح چلی ہے،اسی طرح اب تک چلتی رہی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی۔البتہ "ہم نہ ہوں گے کوئی ہم ساضرورہو گا”۔زندگی کو صرف بسر ہی نہیں کرنا اسے جینا بھی ہے اور اسے جینا چاہیے۔”
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی کتاب پڑھیں جو زندگی بدل دے تو میرا مشورہ یہی ہے کہ "بس یہی داستاں ہماری ہے”ضرور پڑھیں۔اگر آپ کو کتاب متاثر نہ کرسکی تو جو چاہے سزا دیں۔اللہ تعالیٰ، پروفیسر عظمیٰ مسعودکو جزائے خیر دے آمین۔
اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان
پاکستان میں اسٹیج ڈرامے ایک طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی محافل کا حصہ بنے ہوئے ہیں، مگر ان ڈراموں میں عورت کے کردار اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں میں عورت کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور ان میں جو نازیبہ اور فحاشی بھرے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، وہ نہ صرف ان ڈراموں کو ایک تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسٹیج ڈراموں میں فحاشی کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے، جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف ڈرامے میں عورت کو بیوی، ماں، بہن یا بیٹی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسے نازیبہ اور فحاش جملوں کے ذریعے تماشائیوں کو ہنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کی عزت کو مسلسل پامال کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی گانے کی صورت میں ہو یا پھر غیر اخلاقی شاعری کے ذریعے۔ اس سب کا مقصد صرف اور صرف تماشائیوں کی ہنسی ہنسانا اور اس کے بدلے مال و دولت کمانا ہوتا ہے۔یہ اسٹیج ڈرامے دراصل معاشرے کے لیے ایک منفی پیغام دیتے ہیں، جس میں خواتین کو جنسی طور پر ابھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کے کردار کو ناپاک اور بے عزت کیا جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا طریقہ ہیں جس سے عورت کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کو معمول بنایا جاتا ہے۔
کچھ عرصے سے حکومت کے نمائندے، جیسے عظمیٰ بخاری صاحبہ نے اس صورتحال پر سختی سے اعتراض کیا ہے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیج ڈرامے خواتین کی توہین کر رہے ہیں اور انہیں بے پردہ کرنے کو فن سمجھا جا رہا ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے ڈراموں پر مکمل پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرتی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔بہت سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں خود کو "فنکار” کہلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہ صرف ان کی ذاتی عزت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی بے عزتی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان فنکاروں کے بارے میں سکھ برادری اور دیگر غیر مسلم کمیونٹیز بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ عورت کے ساتھ اس طرح کی توہین کرنا کسی بھی معاشرتی یا مذہبی اصول کے خلاف ہے۔
آج اگر عظمیٰ بخاری صاحبہ اس اسٹیج ڈراموں پر پابندی کی بات کر رہی ہیں تو یہ دراصل اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نوعیت کے فحاشی بھرے ڈراموں کو بند کیا جائے اور ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں عورت کی عزت و احترام کو مقدم رکھا جائے۔ ان اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے افراد کو محض فنکار نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں وہ مقام اور عزت دی جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان ڈراموں کی روک تھام سے نہ صرف معاشرتی تبدیلی ممکن ہے بلکہ ایک صحت مند اور اخلاقی ماحول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔عظمیٰ بخاری صاحبہ سے درخواست ہے کہ ان اسٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ بہتر اور اخلاقی اصولوں پر قائم ہو سکے۔

عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ
عورت کے حقوق اور برابری کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف نظریات ہیں، اور یہ بحث ہمیشہ چلی آ رہی ہے کہ عورت کو مردوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ وہ برابری کا حق حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کی طرح زندگی گزارے یا ان کی طرح طرزِ زندگی اپنائے۔ بلکہ عورت کی برابری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی مکمل شناخت کے ساتھ برابری کی سطح پر لے کر آئے۔
عورت کو ایک الگ اور خاص شناخت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کی قوتیں مردوں سے مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر ہے یا اس کو مرد کے ساتھ موازنہ کرنا ضروری ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے گی، تو وہ اپنی حقیقت کو مٹا دے گی اور اپنی شناخت کھو دے گی۔اگر عورت صرف اس لیے مردوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دے کہ وہ انہیں اپنے سے برتر سمجھتی ہے، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ عورت کا مردوں کی پیروی کرنا نہ صرف اس کی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے اس کے اندر احساسِ کمتری بھی جنم لیتا ہے۔ عورت کی برابری اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے، نہ کہ مردوں کی پیروی کر کے۔
یہ ضروری نہیں کہ اگر مرد سگریٹ پیتے ہیں تو عورت بھی ان کی تقلید کرے اور یہ سمجھے کہ اس طرح وہ برابری حاصل کر رہی ہے۔ برابری کا مطلب یہ نہیں کہ عورت بھی وہی کرے جو مرد کرتے ہیں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے، اور اس کا حق مردوں سے کم نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی فطری خصائص کے ساتھ بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ مردوں کی طرح پنٹ شرٹ پہنتی ہے تاکہ برابری کا احساس ہو، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ برابری طرزِ زندگی کی تقلید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تسلیم کرنے اور اپنی خصوصیات کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ برابری کا مطلب اپنی جگہ پر پہنچنا ہے، نہ کہ مردوں کی طرح بننا۔برابری کا مفہوم یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح زندگی گزارے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو وہی مواقع اور حقوق ملیں جو مردوں کو ملتے ہیں، اور اس میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ عورت اپنے طور پر، اپنی شناخت کے ساتھ، ہر میدان میں کامیاب ہو۔
عورت کا مقام اس کی فطرت اور شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی برابری مردوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے ساتھ ہے۔ جب عورت اپنے اندر کی طاقت کو پہچانے گی اور اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہو گی، تو وہ خود کو اور دوسروں کو یہ دکھا پائے گی کہ برابری صرف ایک ہی طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے: وہ ہے اپنی حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی جگہ پر کامیاب ہونا۔

ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان
ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،
ادھر دیکھو، باہر دے ملکاں والیاں نے ویکھنی اے، کی کہن گے سانو، اسکو پکڑو سیدھا کرو
یہ الفاظ قانون کے محافظوں کے قوم کی عزتوں کے بارے ہیں۔ پولیس تو عزتوں کی محافظ ہوتی ہے تم کیونکر عزتوں کو پامال کرنے والے اور لٹیرے بن گئے۔ خواتین کے چہروں پر تیز ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوگی ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی ویڈیو بناتے وقت پولیس کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ”تواڈی ویڈیو ٹک ٹاک تے آوے گی“جس نے جو جرم کیا اس کیلئے اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ناکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا۔ یہ اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو اس مجرمانہ غفلت پر ناصرف نوکریوں سے فارغ کیا جائے بلکہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے پیڈا ایکٹ کی کاروائی کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون نافظ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی چلنی ہے یہ انصاف اور انسانیت۔ یہ پہلا واقع نہیں ہے آئے دن پولیس کی طرف سے ایسی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نا کریں اس طرح تو پولیس شک کی بنیاد پر جس کے گھر مرضی گھس جائے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی سرعام فحاشی کرتا ہے یا غیر قانونی ڈانسنگ کلب بنا رہا ہے تو قانونی کاروائی کریں نہ کہ ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر وائرل کریں۔
پولیس اہلکاروں کی طرف سے ویڈیو وائرل کرنے کے الفاظ کے عین مطابق بالکل ویسا ہی ہوا 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایف آئی آر میں نامزد 34مردوں اور 21خواتین کو سوشل میڈیا پر سارے پاکستان اور کئی ممالک نے دیکھا۔ اس بدنامی کی بعد ان میں سے کتنے ہی جوان ہیں جو اس شرمندگی کے باعث پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے، کتنے ذہین افراد ذہنی ازیت کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کسی کو بھی ان نوجوانوں کے بارے ذہین کہنے پر اعتراض ہے ان کی یاداشت کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی اور سیاسی افراد کی ذہانت پر تو کوئی شک نہیں۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیں وثوق سے کہتا ہوں کے کم از کم ایک تہائی شراب نوشی اور منشیات کے عادی ملیں گے۔ اسی طرح انہی ذہین افراد کی دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ملیں گے۔
2023کی بات ہے لاہور میں ایک اہم سیٹ پر پوسٹڈ آفیسر کے سٹاف کی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور رات گئے اسے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان اور پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپس کی باہمی عداوت کے برعکس اس بزم (پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سارے سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور کی پچیس، کراچی کی چھتیس اور اسلام آباد کی بیالیس رقاصاؤں کی گرد گھومتی ہے۔ حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتے ہیں۔ لاہور کے چند افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ اگر پکڑنا ہے تو ان بلیک میلرز کو پکڑیں۔ شوگر ڈیڈی یا جیسا بھی کلچر ہے اگر دونوں فریق طے شدہ مفادات کے تحت تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی فریق کو بلیک میلنگ نہیں کرنی چاہئے۔
جہاں تک شیشہ کیفے پر پابندی کی بات ہے لاہور، اسلام آباد کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں سینکڑوں کے حساب سے شیشہ کیفے موجود ہیں۔ شیشہ کیفے والے لوکیشن کے حساب سے ایک لاکھ سے تیس لاکھ ماہانہ تک پولیس اور انتظامی افسران کو بھتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت شیشہ کیفے کی حد تک لیگل ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا کرتی بجائے اس کے کہ کروڑوں اور اربوں روپیہ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔پبلک مقامات، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے لیکن یہ سیگریت نوشی کرنے والے افسران و افراد پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کرکے دوسروں کو اذیت دیتے ہیں۔
جو کوئی جیسی بھی تفریح کرتا ہے اگر وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتا ہے تو اسے جینے دیں۔ پہلے ہی بہت سٹریس ہے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب نہ بنائیں۔
فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء
ایک امت، جسد واحد جس کو ایک جسم کی مانند کہا جاتا ہے۔ جس کے آباؤ اجداد نے کئی کئی سالوں تک کئی مربع میل پر حکومت کی ہے، جن کے نام سے ہی غیر مسلم ڈرتے تھے۔ آج اسی امت کے ایک حصے کو بڑی بے دردی سے ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اپنے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی قوم کی مائیں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد فتح پیدا کرتی تھیں، جبکہ آج اسی قوم کی مائیں ٹک ٹاکر، ادکار پیدا کرتیں ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ جب اس قوم کی عورتوں نے اپنے زیورات، بیٹے تک اللہ کی راہ میں قربان کر دیے تھے، جبکہ آج کی نوجوان نسل اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تک نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ macdonald, coca-cola, lay’s l, وغیرہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ گاڑیوں کے پیچھے فلسطین کے جھنڈے لگا لینے سے اور گاڑیوں کے اوپر "free Palestine” لکھنے سے انہوں نے حق ادا کردیا ہے، کل کو قیامت میں ان سے اس حوالے سے سوال وجواب نہیں کیا جائے گا۔ اے امت مسلمہ اپنے ذہنوں سے یہ نکال دو، "کہ تم لوگوں سے سوالات نہیں کیے جائیں گے”. اے امت مسلمہ تم لوگوں سے ضرور پوچھا جائے گا۔ تم لوگ اللہ کے دشمنوں کی مالی مدد کررہے ہو تم کو کیا لگتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ تم کو چھوڑ دے گا؟ تم لوگوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا یے، تم لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اپنے نفس کو ترجیح دی ہے۔ اللہ نے سورتہ البقرہ کی آیت 155 میں فرمایا ہے۔
وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔آج یہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی آزمائش ہے، وہ لوگ اپنی آزمائش پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے نفس کی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اور ہم لوگ اسی خیالات میں خوش ہیں کہ قیامت والے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سفارش کر دینی ہے۔ جی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی سفارش کرنی ہے،
Surat No 25 : سورة الفرقان – Ayat No 43اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
ترجمہ: کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟کیا آج ہم نے اپنے نفس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح نہیں دی؟ ہم کو جہاد، قتال کا حکم ہے کیا ہم جہاد کر رہے ہیں؟ کیا ہماری آج کی نوجوان نسل جہاد کےلئے تیار ہے؟ کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر سکتی ہیں؟ ان سب کا جواب ہے۔ "نہیں” کیوں؟ کیونکہ ہم یہ عیش و عشرت کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے، ہم لوگ اپنے نفس کو نہیں مار سکتے، ہم اتنے بہادر نہیں ہیں کہ ہم اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ہم لوگ تو بے حیائی کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نوجوان نسل آج اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، ہم مائیں بہنیں آج پردہ نہیں کر سکتی، تو یہ جہاد کیوں کر کریں گے؟ اب سب لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کل کو قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سفارش کریں گے؟ جبکہ ہم لوگ اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم لوگ ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے، جبکہ ہم اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرنی چاہیے، ان کو صحابہ کرام اور جنگی واقعات سنا کر بڑا کرنا چاہیے، نا کہ کارٹون دیکھا کر۔ ہمیں اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو اپنی بے حسی چھوڑ کر اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جہاد کےلئے تیار کرنا چاہیے۔


اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید
بلوچستان رائئٹرز گلڈ (برگ) نے اپنی ادبی کانفرنس موخر کر دی
یوم پاکستان کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے ایک کثیر اللثانی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا مشاعرے میں اردو پشتو بلوچی براہوی زبان کے شعرا کرام نے شرکت کی ۔ مشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر ادیب اعجاز امر نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی چیئرمین پشتو اکیڈمی تھے ۔ مہمان اعزاز کی حیثیت سے معروف شاعر و ادیب نواب نور خان محمد حسنی اور تسنیم صنم صاحبہ موجود تھیں ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اعجاز امر کا کہنا تھا کہ اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے ان حالات میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی نے مقامی زبانوں کی ترویج میں ادبیات کے کردار کو سراہا ۔
تسنیم صنم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ادبیات کی تقریبات میں کچھ عرصے کے لیے رکاوٹ ائی تھی مگر اب تقریبات بحال ہونے سے وہ معاملات بھی حل ہو گئے ۔ تقریب کی نظامت نوجوان شاعر احمد وقاص کاشی نے کی جبکہ دیگر شعرا میں فائزہ شکیل ، فاریہ بتول ، عظیم انجم ہانبھی ، ذوالفقار رضا ، نجیب اللہ احساس ، سومرو۔خاکسار ، عادل اچکزئی ، عزیز حاکم ، ارمش اور ڈاکٹر قیوم۔بیدار شامل تھے
صوبے کی فعال ، متحرک اور معروف ادبی تنظیم بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے 7 اپریل کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں ہونے والی سالانہ ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کوئٹہ کے حالات اور ذرائع آمد و رفت کی بندش کے پیشِ نظر ملتوی ک دی گئی ہے ۔
اِس سلسلے میں برگ کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر صابر بولانوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں سیکورٹی خدشات اور عدم تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 7 اپریل بروز سوموار کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کو منسوخ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کانفرنس کیلیے نئی تاریخ کا اعلان جلد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی ۔
یاد رہے کہ سالانہ ادبی کانفرنس میں لاہور ، میانوالی ، چشتیہ ، سرگودھا ، ساہیوال ، پاکپتن شریف ، پسنی ، سبی اور لورالائی کے ادباءحضرات و شعراء کرام کے علاوہ کوئٹہ 16 اہلِ قلم کو اْن کی بہترین ادبی تخلیقات پر آغاگل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جو جلد پیش کئے جائینگے .آغاگل ایوارڈز پانے والے اہلِ قلم میں ڈاکٹر راحت جبیں رودینی
دل آویز
سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی
پرچھائیاں
پروفیسر ڈاکٹر شمیم کوثر
بلوچستان میں اردو ادب
پروفیسر ارشد راہی
پپلی کے نیچے
ڈاکٹر رحمت عزیز خان
خوابوں کی شہزادی
ڈاکٹر فضل خالق
سیالیچک
محترمہ فرح علوی
بانس کی باڑ
محترم شاہد بخاری
پاکستانی ادب کے معمار
محترم محمد یٰعقوب فردوسی
عاشقِ اقبال
محترمہ غزالہ اسلم
بہار آنےکو ہے
محترم عاصم بخاری
اثاثہ
محترم عبدالرحیم بھٹی
راجپوت فبائل
محترم ریاض ندیم نیازی
تمھیں اپنا بنانا ہے
محترم غلام زادہ نعمان صابری
تقسیم
محترم اوصاف شیخ
ہر سفر دائرہ
محترم علیم مینگل
آواز کے سائے
پروفیسر اکبر خان اکبر
جادو نگری
شیخ فرید
برف بولان
محترم احمد وقاص کاشی
ش کا رقص
محترمہ تسنیم صنم
ہجر کی طاق راتیں
محترمہ صدف غوری
تلاشِ وفا
محترم شفقت عاصمی
ساربانی سڑک
محترمہ ذکیہ بہروز ذکی
موسمِ گل گزر نہ جائےکہیں
ڈاکٹر اکرم خاور
چاہتوں کے درمیاں
محترم عظیم انجم ہانبھی
بھنوروں کے انتظار میں
پرفیسر خورشید افروز
مشاہیرِ بلوچستان
ڈاکٹر محمد نواز کنول
رومی اور اقبال
شبیر احمد بھٹی
ریوڑ
کاوش صدیقی
جل پری
کامران قمر
شرفِ قمر
آسناتھ کنول
صحراء کی ہتھیلی پہ دیا ، شامل ہیں ۔۔
خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم سب پاکستان کی موجودہ خستہ صورتحال کے ذمہ دار میں ،مقروض پاکستان کی زبوں حالی کا ذمہ دار کرپٹ سیاست دانوں کو ٹھہرانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ یا سٹیٹس لگا کر کو ستے رہنا معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس امر پر غور کرنا گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں غیر منصفانہ ،ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا اور حق کی آواز بننا چاہیئے وہاں ہم سوشل میڈیا پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔
ظالم کو مزید طاقتور مظلوم کی خاموشی بناتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز اور قوم کی بد حالی کے ذمہ دار اور غداروں کا ہماری خاموشی نے کس طرح ساتھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح اپنی ہی قائم کر دہ ریاست میں مٹھی بھر غداروں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے، قیام پاکستان کی خاطر بھائی کے ہمراہ شانہ بشانہ چلنے والی بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اسی ملک میں غدار ٹھہرا دی گئی مگر ہم خاموش رہے۔گزشتہ برس خواب پاکستان دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور بہو کو سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر اسی ملک میں ان کی تذلیل کی گئی مگر ہم خاموش رہے۔
مخلوط نظام تعلیم کے نام پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہماری نوجوان نسلوں کو فحاشی اور نشے جیسی دلدل میں دھکیل دیا ہم سے۔ہمارا باوقار نظام ،تعلیم چھین کر مخلوط تعلیمی انتظام رائج کر دیا گیا جس کا ہمارے دین میں کوئی وجود نہیں اس طرح ہماری نسلیں دین اسلام کی اصل تعلیم سے دور ہو چکی ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام ڈنکے کی چوٹ پر چلایا جارہا ہے جو سراسر اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبین” سے کھلا اعلان جنگ ہے مگر ہم اس پر بھی خاموش ہیں۔ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ، کوئی گستاخی کا واقعہ ہوتو بھی اس پر بھی ہم انتہائی کمزور سا احتجاج کر کے خاموش ہی ہو جاتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہا ں انصاف طاقتور اور امیروں کا کھلوناہے جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے تمام تر قوانین صرف غریبوں اور کمزوروں پر لاگو ہیں جبکہ با اثر افراد کوئی بھی گھناونا جرم کرنے کے بعد قانون کی بولی لگا کر مکڑی کے جانے کی طرح پھاڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں عدالتوں کے باہر لگے ترازو میں انصاف نظر نہیں آتا.
سوال یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل پکڑے نہ جاسکے ،بے نظیر بھٹو شہید سمیت کئی رہنماؤں کے قاتل آج تک نہیں پکڑے جاسکے، کراچی میں میں ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونیوالے سینکڑوں لوگوں کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عرصہ دراز سے ہونیوار خود کش دھماکوں کے نشانات ڈھونڈے نہ جا سکے۔ قاتل تو دور کراچی میں ہونے والے سٹریٹ کرائمز کرنے والے تک گرفتار نہ ہو سکے مگرجب غلامی کرنے پر آئیں تو انکل ٹرمپ کی خدمت میں ان کا مجرم محض کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑ کر حوالےکر دیا گیا جس پر آج ٹرمپ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کر رہا ہے کہ ہمارے انتہائی مطلوب مجرم کو ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔ہماری بہن پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی امریکی قید خانے میں بے حد اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے مگر ہم خاموش ہیں۔کسی سابقہ امریکی صدرنے ٹھیک کہا تھا کہ یہ پاکستانی چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں وقت نے ایک بار پھر آج ثابت کر دیا ہے۔یہ ریاست کے فیصلے ہیں، اداروں کے فیصلے ہیں.حکومتوں کے فیصلے ہیں اور یہ ایوانوں میں بھاشن جھاڑنے والے لیڈرز خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی جھنکار پر ناچتے ہیں جب آواز آتی ہے۔” ہم تم کو ڈالر دے گا ڈالر ! ”
ہم سب پاکستان کی اپنی اور اپنی نسلوں کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں ، بجلی ، گیس ، پانی کے بلوں میں ناجائز بے حد اضافہ، ٹیکس غریب کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، روٹی سے لے کر کفن تک ٹیکس ادا کرنے والی قوم کا بچہ پیدا ہوتے ہی مقروض ہیں،مگر ہم خاموش ہیں،ظالموں کے ظلم کو ہماری خاموشی تقویت بخش رہی ہے، یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں ہماری تباہی کے ذمہ داروں کا ساتھی بنا رہا ہے۔حضرت علی کا فرمان ہے۔، قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو حق کیلئے اس لیئے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں وہ مارے نہ جائیں ؟لہذا خاموشی کو محفوظ پناہ گا ہ سمجھنا ہمیں نہ صرف خود کا مجرم بنارہا ہے بلکہ یہ بزدلانہ عمل ہی ہماری تباہی کا اصل ذمہ دار ہے ہمیں بلا کسی خوف کے حق کیلئے یکجا ہو کر ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کی ضرورت ہے۔










