Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .

    مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
    اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .

    بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

    میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
    گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
    گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
    (کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
    کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
    اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    مسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    Email;jabbaraqsa2@gmail.com

    دنیا بھر میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج ہے اخلاقی زوال۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر نہ صرف میڈیا کم توجہ دے رہا ہے بلکہ ادب اور معاشرتی مباحث میں بھی اس کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے۔

    اخلاقیات، کسی بھی قوم کی بنیاد اور اس کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر ان تعلیمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، رشوت، حسد، اور خود غرضی جیسے عیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی دنیا کو متاثر کیا۔ مسلمانوں کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں، ہم اپنی اس میراث کو فراموش کر چکے ہیں۔

    معاشرتی سطح پر، اخلاقی زوال کی سب سے بڑی مثال ہمارے رویے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محلے کی سطح سے لے کر عالمی تعلقات تک، ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، امت مسلمہ دنیا میں اپنی عظمت اور مقام کھو رہی ہے۔

    میڈیا اور ادب کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ ایسے موضوعات پر ڈرامے، مضامین، اور کالم لکھے جائیں جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے مضامین کو شامل کیا جائے اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

    یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لائیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو اخلاقی اقدار کے ذریعے دوبارہ حاصل کرے۔

    اگر ہم اپنی اخلاقیات کو درست کر لیں، تو دنیا میں ہماری پہچان دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اور ہم دنیا کے لیے ایک مثالی قوم بن سکتے ہیں۔

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  • اپووا  اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    پشاور: آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے وفد نے حال ہی میں پشاور میں قائم "چائنہ ونڈو” کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ اپووا کی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کی خصوصی دعوت پر ترتیب دیا گیا۔

    چائنہ ونڈو، چین کی ثقافت، تاریخ اور طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ یہاں چینی ثقافت سے متعلق ہر چیز، بشمول ان کی کرنسی، روایتی لباس، اور دیگر اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ زائرین چین کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر سکیں۔اس مرکز میں چینی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد چینی زبان سیکھ سکیں۔ اس دورے کے دوران یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اپووا کے تمام ممبران کو چائنہ ونڈو میں ساڑھے تین ماہ کا چینی زبان کا کورس بالکل مفت کروایا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، چائنہ ونڈو میں اپووا کا ایک ضلعی آفس بھی قائم کیا گیا ہے، جو دونوں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ثقافتی تبادلے کو مزید فروغ دے گا۔ یہ اقدام اپووا کے ممبران کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈائریکٹر چائینہ ونڈو ناز پروین کی طرف سے اپووا وفد کے اعزاز میں پر تکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

  • سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناؤ مہم چلا رہے ہیں۔جیسے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے ویسے ہی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ورنہ افسران اور گلی کے آوارہ لونڈے لپاڑے ایک جیسے نظر آنے لگیں گے۔
    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر شو آف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔تمہاری سیلف پروجیکشن محکمے کی عزت نہیں بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

    سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں،شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

    ایسے افسران کو نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے ان کی ویڈیوز بنا کر بےعزت کرنا۔ ہم آئے روز ڈرامہ دیکھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یہ سارا کچھ ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں، سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے کی جانی والی فنکاریاں اور جعل سازیاں ہیں۔ڈی پی او اپنے ایس ایچ او کو جبکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیلیدار اور پٹواری کو ایڈوانس ٹاسک دیتے ہیں کہ میرے آنے پر بہترین استقبال ہونا چاہئے اور پروفیشنل ویڈیو گرافرکو بلانا۔آپ غور کریے گا پھول پہنانے اور پتیاں پھینکنے والے سارے منشیات فروش،زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔

    گذشتہ دنوں ایک ایڈیشنل آئی جی ملنے آئے اور سوشل میڈیا کے ذکر پر انہوں نے اس بات کا اقرارکیا کہ فنکاریاں اور سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران نے ناصرف اپنے حلف سے روگردانی اور اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شرمسار کیا۔ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن میں سب سے زیادہ بدنامی اور عوامی نفرت پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سمیٹی۔لیکن بہت سارے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سول افسران پولیس سے زیادہ بڑے اور گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔انہوں نے اپنا موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھ کر بتائیں کہ یہ اسسٹنٹ کمشنر ٹھیک ہے،ویڈیو دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ سر یہ ہرگز اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہوسکتا۔کسی نے فیک اکاؤنٹ بنایا ہو گا ورنہ اسسٹنٹ کمشنر اس قدر واحیاتیاں کیوں کرے گا؟ کوئی بھی آفیسر اس قدر جاہل اور بے شرم تو ہونہیں سکتا، بیوروکریسی کا معیار اتنا بھی نہیں گر سکتا کہ ایسے گندے انڈے بھی آفیسر بن جائیں۔لیکن مجھے غلط ثابت ہونا پڑا کیونکہ یہ اسسٹنٹ کمشنر کا ذاتی اکاؤنٹ تھا۔ابھی میری حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے ایک خاتون کی ویڈیو دکھائی تو میں نے کہا کہ خواتین پر تنقید مناسب نہیں ویسے بھی کوئی مجبور عورت ہوگی جو سوشل میڈیا کے زریعے پیسے کمانا چاہتی ہے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سٹیج ایکٹریس نہیں بلکہ یہ بھی سرکاری ملازم ہے۔

    اگر سرکاری گاڑی اور پروٹوکول ساتھ نہ ہو تو سرکاری افسران سڑکوں اور چوراہوں پر جس طرح کی بیہودہ حرکتیں اور ایکٹنگ کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں انکو لونڈا لپاڑا سمجھ کر کسی سپاہی نے پکڑ کر تشریف لال کر دینی ہے بعد میں بتاتا پھرے گا کہ میں مراثی نہیں افسر ہوں۔بقول سنئیر افسران سیلف پروجیکشن والے ذہنی مریض ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے
    شہیدبھٹو اور نواز شریف نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا،انکی بے توقیری کرنے والے معافی مانگیں
    آج جو بچے جنگوں میں جانیں گنوارہے یا معذور ہورہے ،ان کا کیا قصور ؟دنیا آدھا نہیں پوراسوچے
    اقوام عالم کب تک جنگیں سہتی رہیں گی،کوئی تو آگے آئے اور یہ سلسلہ بند کرائے،دنیا امن چاہتی ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے،کوئی نہیں جانتا ایران اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہوگی، دنیا کی طاقتور قوتیں جو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہیں، دنیا بھر کے انسانوں پر رحم کریں، دنیا بھر کے انسان حالت جنگ میں رہنا پسند نہیں کرتے ،اگر دنیا بھر کے انسانوں سے سوال کیا جائے تو مجموعی طورپر عام شہری کی جنگ میں جانے کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو جہاں وہ رہتے ہیں آزادی سے رہنے کا حق ہونا چاہیے، جنگوں میں عام انسان مارا جاتا ہے اُن کے بچے مارے جاتے ہیں،عام انسانوں کی پکار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، عام انسان اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہے ،وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ذرا نہیں پورا سوچیے جو بچے جنگی علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں یا جابرانہ حکومتوں کی حکمرانی میں وہ بعد کی زندگی میں ہتھیار اٹھانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں،جنگی ماحول میں کوئی ڈاکٹر، انجنیئر ، سائنس دان نہیں بنتا، دنیا بھر کی فیصلہ ساز قوتیں انسانی دوستی کا پرچم بلند کریں ، آخر عام انسانوں کی کون سی خطا ہے جس کی اُن کو سزا دی جا رہی ہے ،عالمی دنیا کے حکمران مسلم ممالک ہوں یا امریکہ یا مغربی ممالک اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے باہر نکل کر سوچیں، غور کریں کہ مخلوق خدا کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ہو رہا، مشرق وسطیٰ کو جنگ کا میدان کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ اور مشرقی وسطیٰ جنگ کا میدان کیوں بن رہا ہے ؟ مشرقی وسطیٰ کے حکمران سوچیں اور غور کریں، ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں اور وسائل پر قبضہ کیا، ہر چند کے امن بہت اہم ہے ، انسان بہت مقدم ہے اور انسانیت بہت محترم ہے، مگر عالمی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے مضبوط دفاع لازم ہو گیا جو ہری طاقت کا حصول اہم ہو گیا آج عالمی غنڈہ گردی کو دیکھ کر ملک کی سیاسی لیڈر شپ یاد آتی ہے ،پاکستان کو عالمی غنڈہ گردی سے بچانے کے لئے ایک کردار بھٹو تھے ایک سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستان کے لئے جوہری قوت ضروری سمجھا جبکہ دوسرا نواز شریف جس نے ایٹمی دھماکے کئے، جنہوں نے بھٹو اور نواز شریف کی بے توقیری کی اُن کو آج ا پنے جرم کا اعتراف کرکے بھٹو کی مغفرت اور نواز شریف سے معافی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنا چاہیے

  • معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبروں، باتوں اور افواہوں کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع کی بدولت ہر شخص کی زندگی دوسروں کے سامنے ایک کھلی کتاب بنتی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق سچ مان لیں؟ اور کیا کسی کے بارے میں محض سنی سنائی بات پر تعلقات ختم کر دینا یا ان کی عزت اچھالنا درست ہے؟ہر گز نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ”(سورۃ الحجرات، آیت 6)

    یہ آیت ہمیں ایک واضح ہدایت دیتی ہے کہ کسی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ تحقیق کے بغیر کسی پر الزام لگانا، اس کی شخصیت کو بدنام کرنا یا اس سے تعلق ختم کر لینا ایک نہایت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

    ہم اکثر دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات جھوٹ ہو یا سچ کا فقط ایک پہلو۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے تعلقات کو خراب کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، دوری اور منافقت کو فروغ دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا”گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے”(صحیح بخاری)الزام تراشی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سچ سامنے آنے پر انسان شرمندگی کا شکار ہوتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔

    اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی کی خامی یا کوتاہی معلوم ہو بھی جائے، تب بھی ہمیں اس کا پردہ رکھنا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اس کی تشہیر کریں یا مزاق بنائیں۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا”(صحیح مسلم)،یہ عمل صرف نیکی ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ جب ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے تو ہماری اپنی عزت بھی محفوظ رہے گی۔

    کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز کے بارے میں ایک الزام سن کر فوری طور پر قطع تعلقی کرنا دراصل جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم بات کی حقیقت جانیں، فریقین کا موقف سنیں اور اس کے بعد ہی کسی رائے یا فیصلے پر پہنچیں۔بغیر تصدیق تعلق ختم کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی بار سچائی سامنے آنے پر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور تعلقات واپس جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور مہذب انسان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔عیب پوشی کریں، نہ کہ عیب جوئی۔تحقیق اور انصاف کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنیں، بگاڑنے کا نہیں۔

    تحریر:نور فاطمہ

  • اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اللہ رب العالمین نے قرآن الکریم میں فرمایا ہے ؛
    ترجمہ: ” ان (کافروں) سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا، اور ان پر تمہیں فتح دے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔”
    (سورۃ التوبہ – آیت 14)

    مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے ناصرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی محفوظ نہیں رہے۔ اسرائیل 2023ء سے لے کر 2025ء تک فلسطینی حمایتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کے کئی اہم ترین رہنماؤں اور اعلی قیادت کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ بلکہ لبنان، شام ،یمن،اردن اور ایران کی خودمختاری پہ بھی با رہا حملوں سے باز نہیں آیا ۔ جس میں اعلی قیادت و معصوم شہریوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    13 جون جمعہ کی علی الصبح بھی اپنی مجرمانہ فطرت سے مجبور دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پہ حملہ کیا۔ جس میں 200 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت شیراز، تبریز اور شمال مغربی ایران میں اہم جوہری و فوجی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے 9 اہم سائنس دانوں، اعلی فوجی قیادت جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ، ایرانی آرمی چیف جنرل علی باقری، ایران کے معظم ء اعلی سید علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی اہم کمانڈرز سمیت کئی معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حملوں میں ایرانی آئل ریفائنریز اور دنیا کی سب سے بڑی گیس ریفائنری پہ بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیل کے اس دہشت گردانہ فعل پہ تمام مسلم اُمہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں غم و غصہ کی شیدید لہر ڈور گئی۔ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کو ایران کی خودمختاری و خطے کی سلامتی و سالمیت پہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ۔ اور بھرپور انداز میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی میں ایران کی حمایت اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی باقاعدہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔

    مسلم دنیا میں ایران واحد اسلامی ریاست ہے۔ جو غزہ میں جاری اسرائیلی بیہمانہ جارحیت پہ نظریاتی و عملی طور پہ مسلسل علمِ حق بلند کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس پہ اپنا ایک واضح و اٹل موقف اور دلیرانہ مزاحمتی جہدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ایران نے کبھی امریکی و اسرائیلی گھٹ جوڑ کے دباؤ کو اقتصادی و تجارتی پابندیوں کی صورت جھیلا ۔ تو کبھی اپنے اہم رہنماؤں کی شہادتیں دیکھیں۔ مگر ایرانی استقامت و عزمِ حریت میں کبھی کوئی لغزش نہ آ سکی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مسلم اُمہ میں ایران اور ایرانی سپریم لیڈر محترم سید علی خامنہ ای کو قدر و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اگر ہم حالات و واقعات کا بغور جائز لیں۔ تو واضح نظر آتا ہے۔ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو شہ کس کی حاصل ہے۔”نو وار” (کوئی جنگ نہیں) کے سلوگن سے اقتدار پہ براجمان ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے بظاہر پر امن ہونے کا لبادہ اوڑھا۔ اور پچھلے دنوں مشرقِ وسطیٰ کا کچھ مبہم سا دورہ بھی کیا۔ طویل عرصہ سے خطے کے دہشت گرد ملک اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی آزادی کی بات بھی کی ۔ مگر صرف "بات” ہی کی۔ ورنہ تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بندش کے لئیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی کسی بھی قرارداد کو امریکہ ہی پاس نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے پرامن ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے ۔ ایران کو بھی مذکرات کی پیشکش کی ۔ جسے ایران نے قبول بھی کر لیا۔

    انہی مذاکرات کا سلسلہ پیر سے عمان میں شروع ہونا تھا۔ اب اگر مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔ تو اسرائیل کے کے پاس حملوں کا کیا جواز بنتا تھا۔ یعنی آپ ایک ہی وقت میں وقت و مقام طے کر کے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ۔ کہ کفار کا پلان تیار تھا۔ اور محض مذاکرات کا جھانسا دے کر اپنے پلان پہ عمل کیا گیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے ۔ کہ امریکہ نےاسرائیلی جارحیت سے دو دن قبل سے ہی مشرقِ وسطی سے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو انخلاء کی ہدایات جاری کی تھیں۔ امریکہ نے بظاہر ایران پہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا۔ مگر ساتھ ہی اسرائیل کا ناصرف ساتھ دینے کا واضح عندیہ دے دیا ۔ بلکہ ایران پہ دھمکیوں کی بوچھاڑ بھی کر دی گئی۔ کہ اس سے پہلے کچھ نہ بچے ایران اسرائیل سے معاہدہ کرلے ۔ ورنہ مستقبل میں ہونے والے حملے اور بھی وحشیانہ ہوں گے۔ یعنی کفار کے گھٹ جوڑ نے حالات و واقعات ایسے بنا دیئے ۔ کہ ایران مذکرات سے ہاتھ اٹھا لے۔

    اگر اس پورے منظر نامے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ ایران کے خلاف کفار کا یہ شیطانی اتحاد محض اس لیے قائم ہے۔ کہ ایران نے مسلم اُمّہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک واضح اسلامی و دینی عقیدے کی بنیاد پر صیہونی جارحیت کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا، اور باطل کی تمام تر دھمکیوں، سازشوں اور اتحادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

    ایران پہ صہیونی جارحیت کے بعد ایرانی شہر قم کی مسجدِ جمکران (Jamkaran Mosque) کے گنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے انتقامی پرچم یا "علامتِ انتقام” قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مردِ آہن محترم سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے لئیے تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور بدلہ لینے کا واضح عندیہ دیا۔ جس کی توقع ناصرف ایرانی بلکہ ہر مسلمان کر رہا تھا۔
    سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "وعدہِ صادق 3″( الوعد الصادق-3) کے نام سے اسرائیل پہ آپریشن آغاز کیا ہے۔ ایرانی بلیسٹک میزائلوں نے تل ابیب کو روشنیاں گل کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔
    ایران نے اپنے دفاع میں جو قدم اٹھایا ہے۔ بلکل درست اٹھایا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل مسلم ممالک کی خود مختاری میں مسلسل دخل اندازی کرتا آیا ہے۔ خود دہشت گرد صہیونی قابض ریاست ، موساد کی ایران میں موجودگی کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایسی دہشت گرد ریاست اور اس کے دہشت گرد حکمرانوں کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ صہیونی صدر نتین یاہو کا ذہن جنگی جنون میں مفلوج ہو چکا ہے۔ جو مکمل امریکی پشت پناہی میں اقوامِ متحدہ کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس وقت مسلم اُمہ کو کفار کے اس گھٹ جوڑ کے خلاف متحد ہونے اور ایک متفقہ موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
    اور آخر میں جنرل باقری آپ کی شہادت کا دلی دکھ ہوا۔۔۔۔۔
    بطور مسلم و پاکستانی ہم ہر طرح سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ رب العزت تمام ایرانی شہداء کے درجات بلند فرمائیں۔ اور ایران کو کفار کے خلاف فتح یاب فرمائیں۔
    اللّٰهُمَّ انصُرِ الإسلامَ والمسلمينَ۔
    آمین اللھم آمین

    یہ درس کربلا کا ہے
    کہ خوف بس خدا کا ہے

  • جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفادات کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ کتنے دن گذر گئے ایران اسرائیل جنگ کو عالمی قوتیں اور دیگر ممالک خاموش ہیں۔ انسانوں کو آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ کر بھی عالمی قوتوں اور دیگر عالمی حکمرانوں کی خاموشی کے پیچھے مفادات ہی تو ہیں۔ اس سے قبل غزہ ، روس،یوکرائن ، کشمیر اوردیگر دنیا کے وہ ممالک جہاں انسانوں کو آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رکھیئے یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، انسانوں کے بسنے کے لئے یہ زمین خدا پاک نے بنائی۔ انسانوں پر کسی طاقتو رکا ظلم اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں ، و ہ پاک ذات انسانوں پرظلم برداشت نہیں کرتی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے دونو ں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے قبل یمن ،لبنان ، شام و انسانوں کے قتل عام سے عالمی قوتیں آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے کس کام کے ؟ امریکہ ، چین ، روس اور دیگر عالمی قوتیں کس کام کی ؟ ان کو بے گناہ انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، عورتیں شامل ہیں ، ان کی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی ؟ مشرق وسطی کو موت ، تباہی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کی جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ دونوں کو میز پر بٹھا سکتا ہے مذاکرات کروا سکتا ہے ۔دونوں کی چابیاں ٹرمپ کے پاس موجود ہیں۔ ٹرمپ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچا سکتا ہے۔ اُمید ہے امریکی صدر انسانی ہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ بقول( ساحر لدھیانوی)؎
    خون اپنا ہویا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرقی میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر

    عالمی قوتیں امریکہ ہویا چین دیگرممالک اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر تیسری عالمی جنگ سے محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یورپی طاقتوں کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے زورد ینا چاہیئے۔ آج دنیا کوتباہ کن انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اور ماحولیاتی نتائج کے ساتھ خطرناک تصادم میں لپیٹنے کا خطرہ ہے۔ اقوام عالم اپنا کردارا دا کرے ۔ مسلم ممالک جذباتی نعروں سے نکل کر علم اور عمل کے راستوں کا انتخاب کریں۔