Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ماہِ جون کے آغاز کیساتھ ہی عوام کی نظریں نئے مالی سال کے بجٹ پہر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بجٹ دراصل ایک ایسا میزانیہ ہے۔ کہ جس میں نئے مالیاتی سال کے لئیے تمام تر اخراجات اور کلی آمدنی کے بارے میں تخمینہ سازی کی جاتی ہے۔ اور آمدنی کو مختلف ملکی شعبہ جات کے لئیے مختص کیا جاتا ہے۔
    امسال بھی پاکستان کا وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کی شنوائی تھی۔ جسے آئی۔ایم۔ایف سے کچھ اہم معاملات طے نہ ہونے کے سبب اجازت نہ مل سکی ۔ جس کی وجہ سے نیاء مالیاتی بجٹ تاخیر سے 10 جون 2025 کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں قائدِ ایوان میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔ حسبِ معمول اپوزیشن کا ہنگامہ بھی جاری رہا ۔ اور وزیرِ خزانہ اپنا کام کر کے روانہ ہو گئے۔

    اس بجٹ میں عوام کو حقیقت میں ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یا محض اعدادوشمار سے بہلا کر مطمئن کر دیا گیا ؟ جائزہ لیتے ہیں۔
    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کا مالی سال 26ـ2025 کے لئیے 17573 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں گروس فیڈرل آمدن کا ہدف 19298 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نیٹ فیڈرل ریونیو کا تخمینہ 11072 ارب روپے اور اس طرح بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے یعنی ٹوٹل GDP کا 5٪ ہے ۔ ایف ۔بی ۔آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14130 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ قرضوں اور ان پہ سود کی ادائیگی کے لئیے قریبا آدھے سے زیادہ بجٹ کا حصہ یعنی 8207 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

    تنخواہ در و پنشنر طبقہ جو اسوقت مہنگائی کے بوجھ تلے سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کئیے بیٹھا تھا۔ اس کو یہ ریلیف دیا گیا۔ کہ فیڈرل ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ کیا گیا پے۔ جبکہ پنشن میں اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط ء زر کی شرح سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ تخمینے میں افراطِ زر کی شرح 7.5 فی صد رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فی صد ہی ہے۔؟؟ گراؤنڈ رییئیلٹیز تو بہت آگے کی بات کر رہی ہیں۔ پیش کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پنشنز میں 7 ٪ اضافہ انتہائی کم ہے۔ مزید نئی پنشن اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں ہیں۔ جن کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد فیملی پنشن 10 سال تک محدود کرنا اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایک سخت فیصلہ ہے۔ جب کہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ اور ری ٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ،ملکی خزانے کے لئیے بہتر تجویز ہے۔

    تخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو 10 ٪ اضافہ بہت ہی کم ہے۔ اس مہنگائی میں کم سے کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہ کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ اور وجہ صنعت کو ریلیف دینا بتایا گیا۔ مگر یہ کیسا ریلیف ہے۔ جو صنعتوں کو غریب مزدور و محنت کش سے دلوایا جا رہا ہے۔!!
    وہی ایوان کہ جہاں یہ بجٹ پیش کیا گیا اور جس کی سربراہی اسپیکر صاحب کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ان کی اپنی اور چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور 2 لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ کر دی گئیں ہیں۔ کیا مہنگائی صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لئیے ہی پریشان کن ہے۔؟ یا تنخواہوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت صرف انہی کو ہے۔؟؟؟ یا پھر ملازمین و پنشنرز کے صبر کا درجہ زیادہ ہے۔ یا پھر قربانی کی توقع صرف اسی طبقے سے ہی ہے۔ !!!

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے۔ "انفراسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے۔ کرنا مشکل ۔” اور آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔ مزید ایچ ۔ای ۔سی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئیے بھی 1 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ جبکہ ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لئیے 70 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچرل ریفارمز مشکل ضرور ہوتی ہیں۔ مگر کرنا لازم ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی کی طرف آپ تبی جا سکتے ہیں۔ جب آپ کا انفراسٹرکچر بہتر ہو گا۔
    ارکانِ پارلیمان کے جو ہر سال فنڈز مختص کئیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپمنٹ بھی نظر آنی چاہئیے۔ مگر فنڈز کہاں جاتے ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں نہیں بہتر ہو رہا ، یہ نہیں معلوم!!

    ہیلتھ کی بات کی جائے تو اس کے لئیے 14.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جو کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مشترکہ منصوبوں کے لئیے ہیں۔ جبکہ کوئی بھی نیا منصوبہ یا پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
    تعلیم اور صحت کسی بھی ملک کے اہم شعبہ جات ہیں۔ ان کی ترقی و بہتری کے نئے منصوبے شروع کرنا اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔

    اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے ۔ تو ٹیکسوں کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔ اور 600 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ۔312 ارب روپے کے براہ راست نئے ٹیکس نافذ کئیے جائیں گے۔ سولر پہ 18 فی صد درآمدی ٹیکس ،فون پہ 25 فی صد ، فروزن اشیاء چپس ، آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس پہ 5 فی صد ایکسائز ڈیوٹی ،ای کامرس پہ 18 فی صد ٹیکس جبکہ پیٹرول پر 2.50 فی لیٹر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بجلی کے سرچارجز میں اضافہ کی کی بھی تجویز ہے۔ یعنی جنرل سیل ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کا بوجھ متوسط و نچلے طبقے پہ پڑے گا۔ ایک طرف صنعت میں گروتھ بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ تو دوسری طرف انرجی و پیٹرول پہ محصولات لگا کر
    قیمتیں بڑھائی جا رہیں ہیں۔ جب صنعت کے لئیے بجلی و پیٹرول ہی مہنگا دستیاب ہو گا۔ تو لازم عنصر ہے۔ کہ پیداوار بھی مہنگی ہو گی۔ جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا۔

    عام پروفٹ آن ڈیٹ (Profit on Debt)، یعنی بینک ڈپازٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 20% کر دی گئی ہے ۔ مزید انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے لئیے
    Artificial Intelligence Audit Selection System
    کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس کی شرح 0.6٪ سے بڑھا کر 1٪ کر دی گئی ہے۔ جس سے روزانہ کے لین دین کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مزید میزانیہ 26ـ2025 میں زراعت کا حجم 4.5 ٪ رکھا گیا ہے۔ مگر زرعی آلات ، بیج و فرٹیلائزرز پہ GGT کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کے لئیے نئی اصلاحات بھی نہیں جاری گئیں۔ جو اس وقت کی ضرورت ہیں۔ جیسے زرخیز زرعی زمین کی بے دریغ فروخت اور اس پہ رہائشی کالونیوں کی کنسٹریکشن کی روک تھام وغیرہ۔

    اس وقت پاکستان میں افراطِ زر کیساتھ تعلیمی یافتہ و سکلڈ بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اور برین ڈرین کی وجہ بن رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں قریباً 727,000 افراد جبکہ 2لاکھ ہنر مند و پڑھے لکھے افراد نے وطن کو خیر آباد کہہ دیا۔ مگر بجٹ میں نہ تو پڑھی لکھی افرادی قوت کو کھپانے کی کوئی تجویز زیر ء غور آئی ۔ نہ ہی برین ڈیرین کے خاتمے کے لئیے کوئی منصوبہ بتایا گیا۔
    پورے بجٹ کا جائزہ اور ادارہ شماریات کی رپورٹس بتا رہی ہیں۔ کہ قریباً تمام ضروریاتِ زندگی پہ ٹیکس لگا ہے۔ اور اشیاء عوام خاص طور پہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ درحقیقت جو افراطِ زر کے حالات ہیں اس کے مطابق عوام بلخصوص تنخواہ دار و پنشنر طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا۔

  • اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    ایران میں اس بار سائنسدانوں کی شہادت

    دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے حساس شخصیت -ایرانی آرمی چیف کی شہادت، پھر دیگر کمانڈرز…
    کیا یہ سب اتفاق ہے؟
    نہیں! دشمن کو کہیں نہ کہیں سے اندر کی مدد مل رہی ہے
    اور جب دشمن کو اندر سے مدد ملے، وہ ناقابلِ شکست ہو جاتا ہے

    اسرائیل اور امریکہ کی نظریں صرف ایران پر نہیں…
    بلکہ پورے عالم اسلام پر ہیں!
    اور اس بار جنگ ہتھیاروں سے نہیں، ٹیکنالوجی سے ہو رہی ہے

    آپ کے ہاتھ میں جو فون ہے
    وہی دشمن کی سب سے بڑی آنکھ ہے
    GPS… لوکیشن… کال ڈیٹا… سب کچھ شیئر ہو رہا ہے
    گوگل، ایپل اور AI سسٹمز دشمن کے ہتھیار بن چکے ہیں

    آپ کا فون آپ کا دشمن بھی ہو سکتا ہے
    خاص طور پر جب آپ دشمنوں کے نشانے پر ہوں
    آپ کی حرکتیں، نشست و برخاست، حتیٰ کہ سانسوں کی گنتی تک محفوظ کی جا رہی ہے

    لیکن صرف خطرہ صرف موبائل نہیں…
    اصل خطرہ ارد گرد کے غدار بھی ہیں
    جو اپنوں کے روپ میں دشمنوں کے سہولت کار بنے بیٹھے ہیں ،یہی لوگ اتنے حساس لوگوں کی شہادتوں کے راستے کھولتے ہیں…

    وقت آ گیا ہے کہ ایران سمیت ہماری اسلامی حکومتوں کو بھی آنکھیں کھولنی ہوں گی!اپنے موبائلز پر بھی شک کرنا ہو گااور اپنے اردگرد کے "میٹھے دشمنوں” کو پہچاننا سب سے ضروری ہے

    اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غداروں، ٹیکنالوجی کے جال،اور دشمنوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھے — آمین

  • قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب ٹریفک پولیس کی لاقانونیت اور فاشزم پر نہیں لکھنا کیونکہ انکو اثر تو ہونا نہیں اور اس ٹاپک پر بار بار لکھ کر میں خود بھی اکتا چکا ہوں۔
    جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے پنجاب ٹریفک پولیس100 ارب ماہانہ کے قریب کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی "ایزی منی” اور "پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے.
    میرے کالم کی وساطت سے طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ٹریفک پولیس کے رویوں کی شکایت کرتے ہوئے وارڈنز کو باڈی کیم لگانے کی تجویز دی تھی اور ساتھ یہ بھی گزارش کی تھی کہ ٹریفک وارڈن کو طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی اندراج سے روکا جائے۔ طلبہ کی اپیل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اگلے ہی دن وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک مینجمنٹ پر میٹنگ کال میں ٹریفک وارڈنز کے رویوں میں بہتری اور فوری طور پر باڈی کیم لگانے کا حکم دیا تھا۔
    سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو دوست الیکٹریکل انجینئرحمزہ اور انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کرنے والا شیراز سی ایس ایس کرنے کا خواب لیے امتحان کی تیاری کیلئے لاہور مقیم ہیں۔
    مڈل کلاس خاندان کے یہ بچے سستا ڈنر کرنے کیلئے مزنگ پراٹھے کا رخ کرتے ہیں اور مزید بچت کیلئے مزنگ پراٹھا کے ساتھ عابد مارکیٹ کارنر والے کھوکھے سے کولڈ ڈرنک لینے کیلئے گئے تو چند میٹر کا رانگ وے اختیار کرنے پر ٹریفک پولیس نے ایف آئی آر دے دی۔ رانگ وے پر چالان کی سہولت موجود ہے تو ایف آئی آر کا اندراج لازم کیوں؟ جب طالب علم درخواست کرتے رہے کہ ہم بوتل لینے آئے ہیں غلطی ہوگئی تو انہیں جرمانہ کرکے بھی سبق دیا جاسکتا تھا کہ نا کہ ایف آئی آر کرکے بچوں کا ریکارڈ کالا کرنا ضروری تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔ لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟ اسی عابد مارکیٹ کا جائزہ لے لیں، ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں، یہی صورت حال باقی لاہور اور پورے پنجاب کی ہے۔

    ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔
    اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
    آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ وزیراعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام ٹریفک اہلکاروں کو باڈی کیم لگائے جائیں اور انسپکٹر سے نچلے رینک تک دوران ڈیوٹی سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنا نمبر پلیٹ رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف بھی بلا تفریق کاروائی کا حکم صادر کیا تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے حکم کے باوجود بلانمبر پلیٹ پبلک و پرئیویٹ نمبرز کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی وجہ وہی ہے کہ کاروائی نہ کرنے کے بدلے ہزار روپے فی رکشہ و دو ہزار روپے مزدہ بس ملتا ہے جبکہ کاروائی کرکے ریگولر کمائی کا خاتمہ۔ میڈم وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ ایک سال سے زائد عرصہ سے آپ ٹریفک پولیس کی منتیں ترلے کرکے اپنا وقت ضائع کرتے رہے اور یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ چوری، ڈکیتی، اغوا، قتل و دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ ہر طرح کی مبہم و بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا اختیار پولیس اور سی سی ڈی کو دیا جائے کیونکہ بغیر شناخت سڑک پر آنا بھی سنگین جرم اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔

    گزشتہ آرٹیکل میں فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے ذکر کیا تو سینکڑوں شہریوں نے کیمیکل ملے جعلی دودھ، مردہ جانوروں کے گوشت اور ایکسپائر اشیاء کی سر عام فروخت پر فوڈ اتھارٹی کی لاپرواہی، ملاوٹ اور گراں فروش مافیا کی سرپرستی کی شکایات کے دھیڑ لگا دیے۔
    وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مزید فعال اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپلینٹ سیل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہر محکمے کے خلاف شکایات کیلئے بیوروکریسی کی بجائے ریٹائرڈ آرمی افسران یا نئے سول افسر بھرتی کیے جائیں جو ایمانداری سے وزیراعلیٰ تک رپورٹ پہنچائیں نہیں تو وہی ہوگا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ بیج میٹ اور سنئیر افسر کی وجہ سے شکایات ردی کی ٹوکری کی نظر ہوجائیں گی۔
    ملک سلمان

  • بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    الحمدللہ بنیان المرصوص کے ہم فاتح ہوئے جس پر دنیا کے باشعور پڑھے لکھے ان پڑھ لوگوں نے ہماری افواج کے اس معرکہ حق کو سراہا بلکہ کہا اور دنیا کے بڑے بڑے میڈیا چینلز و اخبارات میں افواج پاکستان کے فاتح ہونے پر تعریفوں کے اداریئے و کالم لکھے گئے مگر اندرون ملک دشمن جو ابھی تک اس معرکہ حق کو ماننے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں اور اس جنگ کو فرضی جنگ قرار دیتے ہیں وہ لوگ اس جنگ کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایسے ہی بن گئے یہ سب فلمی تھا بغض اور ملک دشمنی کی انتہا ھے کہ یہ لوگ دوران جنگ بھی سوشل میڈیا پر افواج پاکستان پر بھونکتے رھے کیا ان لوگوں نے ڈرون تباہ ہوتے نہیں دیکھے کیا ان لوگوں نے فضائیہ کے شاہینوں کا جنگی جنون نہیں دیکھا کیا ان لوگوں نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کو چلتے نہیں دیکھا کیا ان لوگوں سے اپنے باپ مودی کو اور اس کے حواریوں کو روتے ہوئے نہیں دیکھا یہ سب دنیا نے دیکھا مگر ان ملک دشمنوں نے دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھا جو بڑی بڑی باتیں کرتے تھے ان کو بارڈرز پر ڈیوٹی دینی چاہیئے ہم جنگ کے قابل نہیں ہمارے پاس تیل ختم ھے وہ سب پراپیگنڈا اللہ تعالیٰ نے ختم کردیا اور ان انتشاریوں کے باپ مودی نے جنگ میں پہل کی بعد ازاں پھر مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے بنیان المرصوص کی طرح دشمن کو جواب دیا جس کے نتیجے میں دشمن کے ایئر بیس تباہ کردئیے ٹیکنالوجی کا سسٹم تباہ کردئیے دشمن کو بلین ٹریلین ڈالرز کا نقصان پہنچایا جس پر اس انتشاری ٹولے کے دادا ابو نے مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب سے معافی مانگی اور جنگ روکنے کا مطالبہ کیا جس پر امن پسند ملک ہونے کے ناطے ہم نے جنگ روک دی اور اس جنگ کے ہم فاتح قرار پائے جس پر عوام نے اپنے فاتح بنیان المرصوص کے ہیرو جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل کیلئے منتخب کیا ہم نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل سے بھی بڑا کوئی اعزاز ھے تو وہ مرشدِ اعظم امت مسلمہ جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو ملنا چاہیئے اور الحمدللہ رب العالمین نے مرشدِ اعظم کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا گیا اور ہم عوام اپنے مرشدِ اعظم امت مسلمہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں سوتے ہوئے جنگ کا فاتح بنایا اس ہائبرڈ وار میں انہوں نے بیرونی دشمنوں کیساتھ ساتھ اندرون ملک دشمنوں کو بھی ننگا کیا جو لوگ اس جنگ کو دشمن کی خوشنودی کے لئے فرضی جنگ کہہ کر رہے ہیں وہ اپنی ماں بہن بیٹی کا کی عصمت کی قسم کھا کر بتائیں کہ یہ جنگ فرضی تھی جس میں ہمارے قیمتی جوانوں نے شہادتوں کو ملک کی بقاء کیلئے اہم سمجھا اور قربان ہوئے

    اے دشمنان اسلام اب تجھے سبق ھم دیں گے
    دین ھے ہمارا اسلام اور ہم نگہبان ہیں اس کے

  • تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 343فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 2700روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔

    یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حسب سابق اہل قلم کانفرنس اس سال بھی شاندار رہی ملک بھر سے بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والے ادبیوں نے بھر پور شرکت کی ,اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع تھا ،، تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار ،، اور بحوالہ 21 اپریل یوم اقبال ، 23 اپریل عالمی یوم کتاب ،یہ نویں کانفرنس تھی جو 3 مئی کو فاؤنٹین ہاوس میں منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام اور سہرا ہر سال کی طرح شعیب مرزا صاحب کے سر ہےجو ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر اور چیرمین اکادمی ادبیات اطفال ہیں ان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے یہ کانفرنس ہر سال کامیاب ٹھہرتی ہے اور اس میں لکھاریوں کے علاوہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں گیسٹ سپیکرز شرکت کرتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ا س کے بعد شعیب مرزا صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا فاؤنٹین ہاوس میں کانفرنس منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا مہمان مقررین نے بچوں کے ادب کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوے جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مافوق الفطرت کرداروں کی کہانیوں سے بھی بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں اس لیے سائنس کے ساتھ ساتھ لوک کہانیوں کی طرز پر بھی کہانیاں ہونی چاھیں ، فاؤنٹین ہاوس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے والد کے نام سے سید مرتضٰی کیش ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو اس بار بھی دو لکھاریوں کو دیا گیا اخوت یونیورسٹی کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اظہار خیال کیا اور اگلی کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں کروانے کی پیش کش کی ان کو تسنیم جعفری صاحبہ نے ادیب نگر کی طرف سے لایف، ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جبکہ ادیبوں کو ان کی کتب اور ادب اطفال کی خدمات پر تسنیم جعفری ایوارڈ ، مسلم ایوارڈ ، اور مسرت کلانچوی ایوارڈ دینے گئے ، کیش ایوارڈ ز حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر فوزیہ سعید ، تسنیم جعفری، شعیب مرزا ، نذیر انبالوی ،فہیم عالم شامل تھے,اور تسنیم جعفری کیش ایوارڈ اس بار پندرہ ادیبوں کو دیا گیا سب اس حوصلہ افزائی پر خوش تھے کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فارسی کی سکالر عظمی زریں نازیہ ، نیڈل آرٹسٹ ساجدہ حنیف، اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال، شمیم عارف ، امان اللہ نیر شوکت ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی اور ملک بھر سے آئے ادیبوں نے شرکت کی

    فاؤنٹین ہاوس کی عمارت ہمیشہ اداس کر دیتی ہے یہاں داخل مریضوں کے شب وروز اپنوں کے بغیر نہ جانے کیسے گزرتے ہیں لیکن فاؤنٹین ہاوس کا عملہ ویل ٹرینڈ اور مہربان نظر آتا ہے عمارت میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کا معیار بھی عمدہ ہے آخر میں فاؤنٹین ہاوس کے عملے کو بھی باری باری بلا کر ان کی خدمات کے بارے میں بتایا گیااور ان کا تعارف کروایا گیا اور شیلڈز دی گئیں ، اہل قلم کو فاؤنٹین ہاوس کا وزٹ بھی کروایا گیا مریضوں کو ان کے ہنر کے مطابق آرٹ ورک بھی کروایا جاتا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو وہاں کام بھی مل جاتا ہے ، فاؤنٹین ہاوس کی انتظامیہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی اور ڈاکٹر عائشہ عمران لائق تحسین ہیں کہ وہ اتنے بڑے ادارے کو بخیر وخوبی چلا رہے ہیں اور مریضوں کی سہولیات کے لیے دن رات کوشاں ہیں اللہ تعالٰی انہیں کامیاب کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین

    کانفرنس کے شرکاء کو سرٹیفکیٹ ، شیلڈز اور ڈاکٹر امجد صاحب کی کتاب کا تحفہ دیا گیا ، سیشن میں وقفہ کے دوران پرتکلف چاے اور پھر لنچ سے تواضع کی گئی ، نارمل انسانوں کی دنیا الگ ہے ان کے مسائل الگ ہیں اور فاؤنٹین ہاوس میں داخل مریضوں کی دنیا بالکل الگ اور مسائل بھی بالکل الگ ہیں جہاں تک ہو سکے ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے _

  • "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    ہم سب علم کی اہمیت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں اور بہت جوش و جذبے کے ساتھ علم حاصل کرتے بھی ہیں۔ علم حاصل کرنا ضروری ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری اس پر عمل پیرا ہونا ہے کیونکہ علم بغیر عمل کے جہالت ہے۔ بد قسمتی سے اکثر ایسا دیکھنے میں ملتا ہے کہ علم تو زور و شور سے حاصل ہو رہا ہے مگر عمل اس کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ آخر اتنا علم حاصل کرنے کے بعد عمل اس کے مطابق کیوں نہیں کیا جا رہا؟ دراصل ہر بات ہر غلطی ہر برائی سیاست دانوں، اداروں اور حکومت کے پلے میں ڈال دینا اور اپنے ہاتھ جھاڑ لینا عوام کا معمول بن چکا ہے۔ عوام کبھی یہ بات سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو مسئلے مسائل کرپٹ سیاست دانوں اور افسران کی وجہ سے پاکستان پر مسلط ہیں ان کو تقویت دینے میں عوام کا اپنا بھی ہاتھ شامل ہے۔ یاد رہے معاشرہ سیاستدان یا کوئی ادارہ نہیں بناتا ،معاشرہ اس تربیت سے تشکیل پاتا ہے جو ایک نسل دوسری نسل کی کرتی ہے۔ اعمال علم کے مطابق اس لیے نہیں ہو پا رہے ہیں کیونکہ علم اور عمل کے درمیان سب سے اہم چیز تربیت اور نیت آتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے بعد انسان کی نیت سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے نیت کی اہمیت اس حدیث مبارکہ سے لگائی جا سکتی ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” ہم اس حدیث مبارک سے سمجھ سکتے ہیں کہ اعمال کا تعلق انسان کی نیت پر ہوتا ہے اور نیت بنانے میں تربیت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔اسی سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس حوالے سے ہم کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہر کوئی صرف دولت کمانے کے پیچھے بھاگتا چلا جا رہا ہے ۔ دولت کمانے کی دھن وہ اندھا کنواں بن چکی ہے جس میں لوگ گرتے چلے جا رہے ہیں اور لالچ کے اس دوڑ میں امیر غریب برابر کے شریک ہیں۔ عدالتوں کے باہر قرانی آیات لکھی گئی ہے مگر انہی عدالتوں میں رشوت خوری کرتے ہوئے مظلوم کو مجرم بنانا اور مجرم کو مظلوم ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے، دکانوں پر خیر الرازقین اور دیگر آیات و احادیث درج کروا کر دکاندار حضرات ملاوٹ شدہ اشیاء مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں یہ سب علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ نیت کی کھوٹ اور تربیت میں کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ ان حضرات کی نیت حلال حرام کی تمیز کیے بغیر پیسہ کمانے کی ہوتی ہے۔ گھروں پر مختلف آیات اور دیگر کلمات لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب لوگ دین اور دنیا کا علم بخوبی رکھتے ہیں مگر دولت کا لالچ اور ہوس اس حد تک گمراہ کیے ہوئے ہے کہ وہ کسی کا حق مار کر جائیدادیں بنانا کامیابی تصور کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ پھل سبزیاں فروخت کرنے والا غریب طبقہ بھی کچھ کم نہیں ناپ تول میں کمی کرنا سستی چیز مہنگی کر کر بیچنا ان کا معمول ہے۔ مختصر یہ کہ امیر سے لے کر غریب تک دولت کمانے کی دھن میں بے ایمانی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

    جھوٹ دھوکہ دہی ناانصافی بے ایمانی کر کے کمائی گئی دولت پر فخر کیا جاتا ہے۔ اور یہی چیز اگلی نسل کو بھی سکھائی جاتی ہے۔ یاد رکھیں بچے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں جب بڑے اس طرح کی حرکتیں کر کے فخر محسوس کرتے ہیں تو بچوں کے اندر یہ سب خباثتیں خود بخود پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ یہ وہ تربیتی عمل ہے جو ہمارے گھروں سے نکل کر ایک معاشرے کو تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح لالچ اور ہوس پر منحصر سوچ رکھنے والی قوم کس طرح کرپٹ سیاستدانوں اور غدار افسران کا گریبان پکڑ سکتی ہے جب کہ وہ خود اپنے حصے کی بے ایمانی کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ حرام طریقے اپنا کر کوئی خیر کیسے حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اللہ ایسے لوگوں کے دلوں سے جرات اور ہیبت ختم کر دیتا ہے ایسے لوگوں پر ظالم حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر ایسی قوم کا مستقبل پسپائی اور ذلت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

    لہذا اپنے بچوں کی تربیت پر خاص طور پر توجہ دیں اور صحیح غلط حلال حرام اور جائز ناجائز چیزوں کا فرق کرنے کی تمیز خود عملی طور پر اپنائیں۔ ظلم نا انصافی کے خلاف حق اور سچ کے راستے پر ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ بچے خود بخود سیکھنا شروع کر دیں گے۔ یہ وہ اصل میراث ہے جو ایک نسل اگلی نسل کو سونپتی ہے اور جس سے مہذب قومیں اور معاشرے بنتے ہیں۔ اس کے بغیر حاصل کیا گیا علم اور ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

  • یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! یہاں صرف اشیاء ہی نہیں، ضمیر بھی بکتے ہیں۔ بولیاں لگتی ہیں، سودے طے پاتے ہیں، اور سچائی کا نرخ مقرر کیا جاتا ہے۔ دیانت داری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اصولوں کو مصلحت کے ترازوں میں تولا جاتا ہے، اور وفاداری کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی سچائی کو وقار حاصل تھا، انصاف کو برتری حاصل تھی، اور اصولوں پر سودے بازی کرنے والے معتوب گردانے جاتے تھے۔ مگر آج! آج ہر چیز کی قیمت ہے—حتیٰ کہ انسانیت کی بھی۔

    یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں کردار پر قیمت چسپاں کی جاتی ہے، جہاں حقیقت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے ضمیر کو بیچنے سے انکار کر دے۔ وقت کے جبر کے سامنے سر جھکا دینا کامیابی کہلاتی ہے، اور اصولوں پر ڈٹ جانا حماقت۔ عدل کی کرسی پر وہی بیٹھتا ہے جو انصاف کو اپنے مفادات کے تابع کر لے، اور عزت کے تمغے اسے ملتے ہیں جو خودداری کے لباس کو اتار پھینکیں۔

    یہ ضمیر فروش کون ہیں؟

    یہ ہم سب ہیں، ہاں! ہم سب! کوئی خاموش رہ کر، کوئی ظلم سہہ کر، کوئی مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر، اور کوئی دنیاوی فائدے کی خاطر سچائی سے نظریں چرا کر۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کا ضمیر سونے چاندی میں تولا جاتا ہے اور کسی کا محض چند کھوکھلے وعدوں میں۔

    یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم نے سچائی کو خاموش کر دیا ہے؟ وہ جو حق پر ڈٹنے والے تھے، وہ بھی مصلحت کے قیدی بن چکے ہیں۔ وہ جو روشنی کے مینار تھے، آج وہی اندھیروں میں راستہ گم کر چکے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی صورت میں اس گناہ میں شریک ہیں—یا تو اپنی بے عملی سے، یا پھر اپنی خاموشی سے۔

    کیا یہ سکوت ہمیشہ رہے گا؟

    یہ وقت جاگنے کا ہے! وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی روحوں کو جھنجھوڑیں، اور اپنے ضمیروں کو آواز دیں۔ ہمیں وہ چراغ جلانے ہوں گے جو اندھیروں کو چیر کر روشنی کا پیام دیں، وہ مینار بننا ہوگا جو راہ گم کردہ مسافروں کے لیے دلیل بنے، اور وہ صدا بننا ہوگا جو باطل کے ایوانوں میں لرزش پیدا کر دے۔

    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "سب سے بڑا فقیر وہ ہے جس کا ضمیر مر چکا ہو۔”

    اگر ہم نے آج بھی اپنے ضمیر کو جگانے کی کوشش نہ کی، اگر ہم نے حق پر ڈٹنے کی جرأت نہ کی، تو یہ معاشرہ ایک ایسی لاش میں بدل جائے گا جس کی روح مر چکی ہوگی۔ آئیے! اس نیلام گھر میں اپنے ضمیر کو بکاؤ نہ ہونے دیں! اپنے اصولوں کو اس قدر مضبوط کر لیں کہ کوئی بھی طاقت ہمارے کردار کی قیمت لگانے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہی اصل فلاح ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمارے زوال پذیر معاشرے کو پھر سے بامِ عروج تک لے جا سکتی ہے۔