Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
    ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
    مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔

    یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟

    ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔

    ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔

    آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے

  • رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

    جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔

    سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔

  • بی ایل اے  کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بی ایل اے کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافت اور حب الوطنی میں بے مثال ہے۔ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے، چاہے وہ دفاع وطن ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا قومی یکجہتی کی بات۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ شرپسند عناصر اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والی تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، اس خطے کی خوبصورتی کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بی ایل اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جو خود کو بلوچوں کی نمائندہ ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں بدامنی، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

    بی ایل اے اور ان کے حمایتی "مسنگ پرسن” کے نام پر اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، ریاستی اداروں پر بداعتمادی پھیلانا اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد "لاپتہ افراد” خود دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ بی ایل اے جیسے عناصر اور ان کے بیرونی آقا، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کے ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے ہر سطح پر قومی اتحاد اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

    ملک کے اندر ہر محب وطن شہری، چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی، سندھی، پٹھان یا کشمیری، سب کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط اور منظم ردعمل ہی ہمیں اس منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہاں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔بلوچ قوم پاکستان کی ایک غیرت مند اور باوقار قوم ہے۔ بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہ اس قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ یہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنائیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے دور رہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمیں مل کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

  • عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
    میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

    مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔

    میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
    میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
    احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
    میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
    میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
    وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
    میں نے کہا جی۔۔۔
    اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
    میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
    اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
    ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
    میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
    وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
    ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔

    ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
    اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
    ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔

    ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
    آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔

    ملک سلمان

  • خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نوازشریف نے 1985ء میں ترقی کے سفر کی بنیاد رکھی ،آج تک جاری ہے
    پاکستان میں کئی لیڈرآئے اور گئے،قوم کو نواز شریف جیسا کوئی نہ مل سکا
    ٹرمپ غیر مسلم،اللہ پر یقین پختہ،ہم مسلمان ہوکر اللہ کی جانب راغب کیوں نہیں ہوتے
    تجزیہ،شہزا د قریشی

    قوموں کے عروج و زوال ترقی و تنزلی میں قائدین کا اہم کرادر ہوتا ہے،قوموں کی ترقی میں قائدین کی بصیرت اور حکمت عملی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،جو قائدین اپنی قوم اور ملک کے لئے فکر مند ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قوم بھی اپنے قائدین کی قدر اور ان پر اعتماد کرے،بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے قائدین رہے ہیں جنہیں ملک وقوم کی فکر تھی، جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے،وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتے تھے، آج کی سیاست میں اقتدار ،اختیارات ،غرور وتکبر ،ہوس زر کے پیچھے بھاگتی نظر آتی ہے،ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا،1985 ء سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا یہ سلسلہ تین بار وزارت عظمیٰ تک جاری رہا ،نواز شریف کابطور وزیراعظم تعمیر و ترقی میں بلوچستان اور گلگت بلتستان تک جاری رہا، گلگت بلتستان کو شناخت دی ، تعمیر وترقی کے لئے بجٹ مختص کیا،بجٹ میں اضافہ کیا ، جس سے گلگت بلتستان کی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئی، جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح کے فیصلے کرنا شروع کئے ہیں،دنیا میں افراتفری کا سماں ہے تاہم امریکی عوام ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،ٹرمپ کی زندگی کی کہانی اور ان کی جدوجہد کئی عشروں سے لوگوں کے سامنے ہے، ٹرمپ ونڈر فل سیاستدان ہونے کے ساتھ ونڈر فل کرسچین بھی ہیں ، ان کے کان کے نزدیک گولی گزری تو کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ،ہر فیصلے کے بعد ٹرمپ کی زبان پرGOD HELP ME ہوتا ہے،روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طے ہونے والے ہیں بلکہ بہت ہی قریب ہیں، ایران کو امریکہ نے دھمکی ضرور دی ہے تاہم ایران کے تین یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات جنیوا میں جاری ہیں، اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت سے اپنے مسائل حل کرلیں گے

  • پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادب کی دنیا میں ادبی فن پارے کو پرکھنے والا پارکھ کہلاتا یے، اور ادبی تخلیقات کو سنوارنے کا کام نقاد کے ذمہ ہوتا یے۔
    یہ پارکھ، یہ مبصر اور یہ نقاد سب ادب کی دنیا میں بھلے لگتے ہیں۔ حقیقی دنیا میں کسی کو بھی ایسے نقاد اور پارکھ کی حاجت نہیں ہوتی، جو تحقیق کے بغیر تنقید کرے یا کچھ بھی جانے بغیر آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔
    اس دُنیا میں انواع و اقسام کے نفوس موجود ہیں۔
    کسی کے والدین کیسے ہیں ؟
    آپ اس بات سے ناواقف ہیں۔
    کسی کے بہن بھائی کا رویہ کیسا ہے؟
    آپ اس بات سے بے بہرہ ہیں۔
    کسی کے خاندان والے کیسے ہیں؟
    آپ کو اس بات کاذرا علم نہیں۔
    جب تک یہ تمام باتیں آپ کو نہیں معلوم ، خدا کے لیے کسی کو غلط نہ کہیں۔
    یہ بگڑا ہوا، منفی اور عجیب وغیرہ وغیرہ۔۔۔
    کیا پتا ان کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ دنیا کے بچے عزیز ہوں؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچّوں کی کامرانی پر جشن منانا نہیں آتا ہو ؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچے سدا کے نالائق لگتے ہو ؟
    اور کیا پتا کسی کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ہو وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کر رہے ہو، اور زندگی کو سمجھنے کی بجائے بس کھانے، پینے اور سونے تک اپنی زندگی محدود کر رکھی ہو۔
    زندگی میں موڑ کیا ہوتے ہیں ؟ اور فیصلے کس بلا کا نام ہے وہ ان تمام باتوں سے بے بہرہ ہو۔
    اور ایسے ہی والدین کے بچے جب اپنے بل بوتے پر مسلسل تگ و دو کے بعد کچھ حاصل کرتے ہیں، تو دنیا والدین کے سر پر تاج سجا دیتی یے۔

    ہر کسی کے والدین ساتھ کھڑے ہونے والے، اور ہمت بڑھانے والے نہیں ہوتے، یہ دنیا ہے اور یہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ تو لہذا لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں، آپ کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں تو یہ نہ سمجھیں سب کے پاس حوصلے بلند کرنے والے والدین موجود ہوں گے، یہ اپنے پاس کہیں لکھ کر رکھ لیجیے کہ اسی دنیا میں کچھ لوگوں کے پاس والدین محض حوصلے پست کرنے والے ہوتے ہیں، اور ایسے ہی بچے ہوتے ہیں، جن کی کامیابی دنیا میں امر ہوجاتی یے، ورنہ وہی دہرائی ہوتی یے۔ کچھ کو اچھے ماحول کے سبب کامیابی مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا سفارش سے کام بن جاتا یے۔ مگر خدا سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے بھلا ؟
    اس جہانِ تگ و دو میں کس نے کتنی اور کس حد تگ و دو کی ہے، یہ صرف اللّٰہ کے علم میں ہے۔
    اور کیا کوئی اللّٰہ کے مقابل آسکتا ہے ؟

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔

    عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔

    دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

  • ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا

    یادگار غزل

    چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
    ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نے

    بیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
    بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نے

    سنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
    پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نے

    وہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
    جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نے

    کون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
    اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نے

    خالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
    ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نے

    دنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
    اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نے

    خوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
    اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نے

    صرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
    دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نے

    ایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
    اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نے

    میں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
    جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نے

    ساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
    رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نے

    ریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم بھول گئے ہر بات،مگر،،،،،،،،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کااقتدارجمہوری تھا،اپوزیشن موجیں کرتی رہی؟
    نواز شریف،خاندان اور ساتھیوں کے خلاف جو کچھ کیا گیا وہ سب جمہوری تھا؟
    پی ٹی آئی کو اب کچھ بھی یاد نہیں ،اگر وہ دور جمہوری تھا آج جمہوریت پر واویلا کیسا؟
    سیاسی لڑائی لڑیں ،فوج اورملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈا بند کیا جائے
    تجزیہ شہزاد قریشی
    پریسلر ترمیم۔ کیری لوگر بل اور اب پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ ۔ موجودہ ایکٹ امریکی کانگریس میں اس وقت پیش کیا گیا جب سابق صدر پاکستان عارف علوی خود امریکہ میں موجود ہیں اور وہ وہاں کانگریس کے اراکین اور سینٹ کے ارکان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ افسوس ا س پر ہے کہ جن کے کاندھوں پر اس ملک کی سلامتی اور قوم کی سلامتی ہے جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دی ، شہید ہوئے ، شہید ہو رہے ہیں ، کئی غازی ہیں ۔اُن کی قیادت کرنے والوں کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ اس بل ڈیمو کریسی ایکٹ کا آگے چل کر کیا ہو گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ وطن عزیز کے خلاف اس سے بڑی اور کیا سازش ہوگی وطن عزیز اس وقت نہ صرف بیرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اس کے اندر بھی بااثر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ملک کے مسائل بے شمار ہیں ،عالمی قوتوں کے لئے اس کی ایٹمی گستاخی سرفہرست ہے اور اس ایٹمی حامل پاکستان پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف افوا سازی پھیلانا کون سا قومی فریضہ ہے ؟ اپنی زندگی میں فوجی حکمرانی بھی دیکھی ، سول حکمرانی بھی ،جمہوریت کا مطلب جمہور کی خدمت ،جمہور تو تادم تحریر گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے ۔کیا جمہوریت صرف اقتدار کا نام ہے؟ سیاسی گلیاروں میں جب سے تکبر اور غرور نام نہاد رہنما پیداہوئے ان سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ کیا فوجی حکمرانوں کو سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کندھا نہیں دیا ؟ کیا پی ٹی آئی کو تھیوری انداز میں اقتدار ملا تھا؟ جو ظلم اور زیادتی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں اپوزیشن کے ساتھ کیا گیا ، کیا وہ جمہوری تھا؟ نواز شریف کے او ران کے خاندان پر اور جماعت پر کیا گیا وہ جمہوری عمل تھا؟ سابق صدر عارف علوی بتانا پسند فرمائیں گے کیامریم نواز و جیل بھیجنا جمہوری عمل تھا؟کون ساظلم ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن پر نہیں کیا ؟ یاد رکھیئے ہماری جمہوریت سے دنیا آگاہ ہے ۔ قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو ایک بات یاد رکھنی چاہیئے ملک و قوم کی حفاظت پر مامورپاک فوج اورجملہ ادارے نہ ہوتے تو آج ہماری حالت عراق، شام ، لیبیا اور افغانستان سے ہرگز مختلف نہ ہوتی ۔ نام نہاد سیاسی نام نہاد قائد اور نام نہاد لیڈر اس ملک وقوم پر رحم کریں۔