Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا شہباز شریف پر اعتماد.تحریر:ملک سلمان

    بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا شہباز شریف پر اعتماد.تحریر:ملک سلمان

    آئی ایم ایف کا پاکستان کیلئے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے دو ارب ڈالر کے نئے سٹاف لیول معاہدے پر اتفاق خوش آئند ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے اقتصادی استحکام، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے معاون ثابت ہو گا۔ آئی ایم ایف نے شہباز حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ حکومتی کارگردگی میں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہے۔شہباز حکومت کی معاشی استحکام کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مالی پالیسی میں بہتری کے ساتھ ساتھ قرضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے اور بیرونی توازن بھی مضبوط ہوا ہے۔آئی ایم ایف جیسے بڑے مالیاتی ادارے کی طرف سے حکومتی اقدامات کی تعریف سے پاکستان کی معیشت کی پائیداری اور عالمی سطح پر اس کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ایسے وقت میں جب پاکستان ڈیفالٹ کی دہانے پر کھڑا تھا ایسے میں ملکی بقا و سلامتی کے ایجنڈے پر متحد ہوکر بڑی سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی کا تخت الٹ کر پی ڈی ایم حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ شروع کیا تو خالی ملکی خزانے بیرونی و اندرونی قرضوں میں پھنسی ہوئی حکومت لیکر کوئی بھی سیاسی جماعت اور شخصیت اپنی سیاست قربان کرنے کو تیار نہیں تھی۔ ان مشکل ترین حالات میں شہباز شریف نے اپنی سیاست قربان کرکے ریاست بچانے کا فیصلہ کیا تو ہر کسی کا کہنا تھا کہ سیاسی خودکشی ہے لیکن شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاست سے ریاست زیادہ ضروری ہے۔ ملکی استحکام کیلئے ناگزیر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکایا تو آئی ایم ایف پہلے سے ناراض تھا کیونکہ حکومت جاتے دیکھ کر پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کے معاہدوں کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی۔ پاکستان کی معاشی امداد روکنے کیلئے پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔ بدخواہوں کی ساری تدبیروں کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی پیرس میں ڈی جی آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات رنگ لائی اور آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ناگزیر معاہدے کی کامیابی اور چائنہ، سعودی عرب، متحدہ امارات سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے اعلانات سے معاشی استحکام ملا اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا گیا۔گزشتہ برس نگرانوں کی ناتجربہ کاری سے شہباز شریف کو ایک بار پھر سے پی ڈی ایم حکومت والی صورت حال کا سامنا تھا ۔ ستمبر2024 میں وزیراعظم شہباز شریف کی بدولت آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دی۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا نے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس کے بعد حکومت پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو سات ارب ڈالر کی خوشخبری سنائی۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مثبت اصلاحات کی ہیں اور پیدوار کا گراف اُوپر کی جانب جا رہا ہے جبکہ افراط زر نیچے آ رہی ہے اور معیشت استحکام کے راستے پر گامزن ہے۔

    آئی ایم ایف کے ’’لیٹر آف کانفیڈنس‘‘ کے بغیر پاکستان جیسے ممالک پر ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے کیونکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والے قرضوں کا انحصار آئی ایم ایف سے ہری جھنڈی ملنے پر ہوتا ہے۔ گذشتہ ماہ عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی، ورلڈ بینک نے پاکستان کو پہلے ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا ہے جہاں وہ 10 سالہ شراکت داری کی حکمت عملی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ عالمی بینک پاکستان کو 20 بلین ڈالر کے قرضوں کے علاوہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک کے ذیلی اداروں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ذریعے مزید 20 بلین ڈالر کے نجی قرضے کی حمایت بھی کرے گا اس طرح کل پیکج 40 بلین ڈالر ہو جائے گا۔ ملکی معاشی استحکام کا اثر براہ راست عام عوام پر پڑتا ہے، معاشی استحکام کا ہی نتیجہ ہے کہ افراط زر39 فیصد سے3 فیصد تک آ گئی، سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر آچکی ہے، روپے کی قدر میں بہتری، شرح سود میں ریکارڈ کمی سے صنعتی ترقی کا پہیہ چلنے لگا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب پالیسیوں اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان کا استحکام اور معاشی ترقی شہباز شریف کے ساتھ وابستہ ہے کیوں کہ چین، خلیجی ممالک سمیت بیشتر ممالک عسکری قیادت کی گارنٹی اور شہباز حکومت کے تسلسل کی یقین دہانی پر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے رضامند ہوئے ہیں۔

  • دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    دشمن دن رات سازشوں میں مصروف،ہم کب سمجھیں گے؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم پاکستان حب وطن کا جذبہ یاد کرانے کا دن،آئیں ایک ہوجائیں
    نواز شریف کی قیادت میں ملک وقوم کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا
    بلوچستان کے نام پر سی پیک کے خلاف سازش جاری،کیوں؟ملکر سوچیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    23 مارچ بحیثیت قو م ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں،یہ دن تاریخ یاد کرنے کی آواز لگاتا ہے،دشمن کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے ،ارض وطن میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کا سبق دیتا ہے، ملکی مفادات کے لئے ذاتی مفادات قربان کرنے کا اشارہ کرتا ہے، غیرت و حمیت کا فلسفہ سکھاتا ہے، اسلام کے بنیادی اصول کے مطابق زندگی گزارنے کی صدائیں لگاتا ہے، الفاظ کی شطرنج بچھانے کی بجائے عمل کی تاکید کرتا ہے، جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی، آج وطن عزیز کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا، آئیے! وطن عزیز کی ترقی ،عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار اد کریں،یہ وطن ایسے ہی حاصل نہیں ملا،تاریخ اسے کبھی بھلا نہیں پائے گی،وطن عزیز کے حالات کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے، بھارت روز اول سے ہمارا دشمن ہے اور افغانستان کے راستے بلوچستان میں سرگرم ہے، ہمارے سیاستدان مصلحتوں سے نکل کر قومی سلامتی اور یکجہتی کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں ،اقتدار کی دوڑ میں شامل سیاسی رہنمائوں کی جانب سے قومی یکجہتی اور ملکی وحدت کا خیال نہ رکھنا افسوسناک ہے، یاد رکھیئے اس خطے کے سب سے بڑے منصوبے پاکستان چین اکنامک کوریڈور کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے ، بلوچستان کی ترقی کا یہ منصوبہ نہ صرف بلوچ بہن بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا بلکہ وطن عزیز کا معاشی مستقبل بھی اس اہم ترین منصوبے سے جڑا ہے،

    سی پیک پورے ملک کی ترقی کا منصوبہ ہے،کچھ شرپسند عناصر دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، شرپسند عناصر کو پاک فوج اورجملہ اداروں نے زمین بوس کیا اور کررہے ہیں ،ملکی سلامتی کے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے،سیاسی و مذہبی جماعتوں بلوچ سرداروں اور دیگر کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، سیاست دانوں کو یاد رکھنا ہوگا بلوچستان اور کے پی کے حالات تقاضا کرتے ہیں اگر عوام میں زندہ رہنا ہے تو سیاسی اورمذہبی جماعتیں دل بڑا کریں اپنے مفادات کو قربان کریں، نواز شریف جیسے زیرک اور بڑے سیاسی لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر امن کے لئے وطن عزیزکے مفاد میں اکٹھے ہوں اور اپنا کردار ادا کریں۔

  • اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر:  راحین راجپوت

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    پاکستان کے علاقے فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے ایک اچھے آفیسر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کو منوایا ۔اسی دوران انہیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل مینیجر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔یہی وقت تھا جب ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی غربت کے خاتمے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم "اخوت” کی بنیاد رکھی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوں نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا ۔آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے ۔اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے ۔یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیئے جاتے ہیں ۔گزشتہ کئی برسوں میں ” اخوت تنظیم” اربوں روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے اور لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں ۔”اخوت تنظیم ” پاکستان کے صوبوں کے علاوہ فاٹا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے "اخوت تنظیم "کی طرف سے دیئے گئے قرضوں سے خواتین اور ملک کی اقلیتی برادریاں بھی مستفید ہوئی ہیں ۔” اخوت تنظیم” کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لئے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے ۔”اخوت تنظیم” نے پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے غریب لوگوں کی مدد کے لئے شروع کی جانے والی کئی سرکاری فلاحی سکیموں کی شفاف تکمیل کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اپنی خدمات پیش کیں ۔اس فلاحی ادارے کو پاکستان کے مخیر حضرات بڑی تعداد میں سپورٹ کرتے ہیں ۔یہ فلاحی ادارہ کاروبار کرنے والے خواہش مند افراد کی مدد کرنے کے علاوہ گھر بنانے ، بچوں کی تعلیم اور شادی کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کے لئے قرضے فراہم کرتا ہے ۔

    اس وقت ” اخوت تنظیم” کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر نگرانی قرضوں کی فراہمی کے پروجیکٹ علاوہ متعدد فلاحی منصوبے بھی چلائے جا رہے ہیں ، جن میں اخوت کلاتھ بنک ، اخوت ہیلتھ سروسز ، اخوت ڈریمز پروجیکٹ ، اخوت ایجوکیشن اسسٹنس پروگرام اور اخوت فری یونیورسٹی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ یہ ادارہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” کے ماڈل کو دنیا کے کئی ممالک اور کئی یونیورسٹیز میں سٹڈی کیا جاتا ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ” پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں ، ان کے بقول بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں ۔ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا ۔ غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو سماجی آگاہی ، کپیسٹی بلڈنگ ، کاروباری تربیت اور دوسروں کی مدد کرنے والی رضاکارانہ سوچ سے مزین کرنا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچاس فیصد پاکستانی بقیہ پچاس فیصد پاکستانیوں کی مدد کا مخلصانہ تہیہ کر لیں تو لوگوں کی مشکلات میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے ، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستان ایک دیانتدار قوم ہے اس لئے تو لاکھوں لوگ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے اپنے کاروبار سیٹ کر کے ہمیں قرضے واپس کر رہے ہیں ، بلکہ ” اخوت تنظیم "کے ڈونر بن رہے ہیں ۔” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "اخوت تنظیم” کا ماڈل روائتی اقتصادی تصورات کے ذریعے سے نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ان کے بقول سودی قرضوں کی معیشت مسابقت ، منافع کے لالچ اور مارکیٹ فورسز کے تحت کام کرتی ہے ، جبکہ وہ ایثار و قربانی اور دوسروں کی مدد کر کے ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں ستارہ امتیاز ، پاکستان کا تیسرا اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ شامل ہیں ۔ ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئرو میگ سائے سائے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سراہنا جو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں ۔ اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے ۔ رامون میگ سائے سائے ایوارڈ دنیا کے معروف ترین اعزازات میں سے ایک ہے ۔ ماضی میں یہ ایوارڈ نو پاکستانیوں کو دیا جا چکا ہے جن میں عبد الستار ایدھی ، بلقیس بانو ایدھی اور عاصمہ جہانگیر بھی شامل ہیں ۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں بے مثال اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں "عشرے کا عالمی آدمی ” ( Global Man of dekad ) کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے لندن میں منعقدہ ( گلوبل ویمن ایوارڈ 2003 ء) کی تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ ” میں اس عالمی اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں ۔ میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ بہت سے رہنماؤں ، مردوں اور عورتوں کی موجودگی میں مل رہا ہے جو اس دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنا یہ ایوارڈ پاکستان کے عوام اور رضاکاروں کے نام وقف کیا جو دنیا کی بہتر تعمیر کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ، ایک ایسی دنیا جو غربت اور استحصال سے پاک ہو ۔
    اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ نے ( common wealth ‘s point of light ) سے نوازا ۔ اور ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے "Entrepreneur of the year 2018″ کے لئے مقرر ہوئے ۔ نوبل انعام 2022 ء کے لئے دنیا بھر سے 343 امیدواروں
    کا انتخاب کیا گیا جن میں 251 انفرادی شخصیات اور 92 ادارے شامل ہیں ۔ ان ناموں میں ایک نام ڈاکٹر امجد ثاقب کا بھی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام غربت کے خاتمے کے لئے کوشش اور انسانیت کی خدمت پر نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے ، جو پاکستان میں بلا سود قرضے فراہم کرنے کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ ان سب فلاحی کاموں کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کئی کتابوں کے مصنف اور مقرر بھی ہیں ۔ ان کی تصانیف میں چار آدمی ، مولو موصلی ، اخوت کا سفر ، ایک یادگار مشاعرہ ، گوتم کے دیس میں ، غربت اور مائیکرو کریڈٹ ، اخوت دشت ظلمت میں ایک دیا ، سیلاب کی کہانی اور کامیاب لوگ شامل ہیں ، اور اس کے ساتھ ہی ان کے کالم بہت سے رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو کئی مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی ، ہارورڈ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ جیسے معتبر اداروں میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ” چار آدمی ” کو جس خوبصورت انداز سے تحریر کیا گیا ہے ، وہ بہت منفرد اور ممتاز کرنے والا ہے ۔

    ” چار آدمی "کتاب کے بارے میں ڈاکٹر خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    ” ڈاکٹر امجد ثاقب کی زندگی مسلسل انسانیت کے لئے وقف ہے ۔ غربت کا خاتمہ اور باصلاحیت مگر نادار طلباء کے لئے تعلیم ، اس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کی صورت میں گزشتہ بیس برس کے دوران جو کچھ کیا اس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جانا بہت فخر کی بات ہے ۔”
    فاؤنٹین ہاؤس کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر امجد ثاقب عید کا دن مسرت سے محروم مریضوں کے ساتھ گزارتے ہیں ، عید کی اس محفل میں انہیں وہ تین افراد ملے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں ، مگر ان کی درد مندی اور اخلاص کے نتیجے میں فاؤنٹین ہاؤس وجود میں آیا ۔سر گنگا رام ، ڈاکٹر رشید چوہدری اور جناب معراج خالد ، دیکھتے ہی دیکھتے موجود لوگوں کا مجمع منظر سے غائب ہو گیا اور ڈاکٹر امجد ثاقب ان تین رفتگان کی آپ بیتی سننے کے لئے بزمِ خیال میں بیٹھے رہ گئے ۔
    یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے ، اس آپ بیتی سے عبارت ہے جو از حد دلچسپ اور دلنشین اسلوب میں قلمبند کی گئی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کتاب کا شمار ان کی کامیاب تصانیف میں ہوتا ہے ۔ اور یہ کتاب سینکڑوں دلوں میں درد مندی ، خدمت خلق اور انسانیت کے چراغ روشن کرے گی ۔”
    شکیل عادل زادہ کا اس کتاب کے بارے میں کہنا ہے کہ ۔۔۔” پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ ، کہانی ختم ہو جائے ، تجسس و تاثر ختم نہیں ہوتا ۔ کچھ حاصل ہونے کی آسودگی سے تحریریں ممتاز ہوتی ہیں ۔ تحریریں آئینہ دکھاتی ہیں اور تحریریں نہاں خانے کے دھندلکوں میں اجالوں کا سبب بنتی ہیں ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ کتاب امید جگانے ، کچھ کر گزرنے کے لئے اپنے قاری کو آمادہ کرتی ہے ۔ڈاکٹر امجد ثاقب کی ذات ہمہ پہلو ایک مثال ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و یقین ، نیت کی صداقت اور شفافیت کے بغیر ان کی تحریر میں یہ دلگیری و دلپزیری شائد ممکن نہ ہوتی ۔”

    عطاء الحق کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کی نثر پڑھتے ہوئے مجھے کئی مقامات پر مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں کوئی خوبصورت انشائیہ پڑھ رہا ہوں ۔ سادہ ، سلیس ، پرمغز اور دل میں اتر جانے والی تحریر ! ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی خوبصورت تخلیقی نثر اللّٰہ تعالیٰ کی دین ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی دین ایسے ہی نہیں ہوتی ، اس کے پیچھے لاکھوں غریبوں کی "سفارش” موجود ہے ۔”
    آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و ہمت کو یونہی قائم و دائم رکھے اور رزق قلم میں اور اضافہ فرمائے ۔ ( آمین ثم آمین )

  • بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان میں امن کی بحالی کیلیے نواز شریف کردار ادا کریں، تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    اس بات پر کیسے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ خود کو نیٹو سے دور کررہا ہے ۔ امریکہ نیٹو کے لئے اور نیٹو امریکہ کے لیے بہت اہم ہے ۔ کچھ بین االاقوامی پالیسیوں کو لے کر امریکہ اوریورپی ممالک میں جو اختلافات نظر آرہے ہیں اُن کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج کی غیر یقینی دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم عالمی حکمرانوں کا زوال ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے دلخراش حالات پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے ایک وفاقی وزیر اور بلوچستان کے دو سینئر وکلاء سے ملاقات کی ہے اور ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اپنا کردار ادا کریں ۔ بلاشبہ ماضی میں بھی بلوچستان میں امن وامان کو لے کر نواز شریف نے اہم کردار کیا تھا اور جس بُحران سے ماضی میں نواز شریف نے نکالا تھا اُس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔ یوں تو ہمارے بہت سے سیاستدانوں ،سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی وڈیروں ،بلوچ سرداروں ،سیاسی گلیاروں میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے ۔ پاکستان اور بلوچستان کے حالات پر ان کی بے بسی ایک سوالیہ نشان ہے ؟ تاہم نواز شریف نے جو کردار ماضی میں ادا کیا تھا و ہ کردار آج بھی کر سکتے ہیں، بلوچستان کے سرداروں کو جاتی عمرہ میں دعوت دیں اور اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہیں اور قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ بھارت بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اپنے مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے حالات کا بہتر مطالعہ کرلیا ہے اور وہ اس فساد کو ختم کرنے کے لئے پُر عزم ہیںمگر پاکستان کے اندراور پاکستان کے باہر سوشل میڈیا جو فیک نیوز پھیلانے کے ماہر ہیں بالخصوص دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حکومت کو ایسے عناصر کو عبرت کا نشان بنانا چاہیئے جو وطن عزیز کی سلامتی اور اس کی سلامتی پر مامور اداروں پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔پاک فوج اور جملہ اداروں نے بلوچستان میں سر اٹھاتی دہشت گردی کو زمین بوس کررہا ہے ۔ وطن عزیز کے خلاف بیرونی اور اندرونی سازش کرنے والے عناصر کو پیغام دیا ہے کہ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ملک وقوم کی سلامتی کے پیش نظر سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں سرکاری ملازم قانون کا پاسدار اور آئین کا پابند ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری ملازم آئین شکنی اور لاقانونیت کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔

    انتظامی افسران کہتے پھر رہے ہیں کہ روزے اور عید ہے اس لیے تجاوزات کے خلاف ہم سختی نہیں کر رہے جبکہ جہاں جہاں نرمی کی جا رہی ان تمام تجاوزات مافیا کا کہنا ہے کہ یہ نرمی اللہ واسطے نہیں بلکہ انتظامیہ کو "ایڈوانس عیدی” دے کر ہی بازاروں اور سڑکوں پر دکانداری کی اجازت دی جاتی ہے۔ سرکاری ریڑی بازار کی ریڑھیاں فٹ پاتھ سے سڑک پر آچکی ہیں جبکہ دیگر رکشہ ریڑی والے تو بیچ سڑک دکان چلا رہے ہیں۔ افطاری کے نام پر ویڈیوشوٹ اور دکھاوا کرنے والے گلیوں اور سڑک کی ایک سائیڈ بند کردیتے ہیں کہ افطاری ہورہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ٹریفک پولیس ان جعل سازوں کو کس کپیسٹی میں چار سے سات تین گھنٹے کیلئے مین شاہراہ بند کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔انہی وجوہات سے رمضان میں ٹریفک حادثات کے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ ایک دوست کی طرف افطاری پر گیا تو دیکھا کہ پنجاب پولیس کے تھانوں میں دی گئی گاڑی بغیر نمبر پلیٹ کھڑی تھی۔ گاڑی کے چاروں اطراف پنجاب پولیس کا لوگو اور نام لکھا تھا لیکن گاڑی نمبر یا کوئی شناخت نہیں تھی میزبان سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آئی جی آفس کی ایک برانچ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ اس وقت لگ بھگ پچاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک سو کے قریب سپرنٹنڈنٹ ہیں جن میں سے بہت ساروں کو ایسے پولیس ڈالے دیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نان یونیفارم ملازمین/آفس ورک نوکری والوں کو یونیفارم پولیس کا ڈالہ دینا اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا نہیں۔

    میں کم از کم پانچ دفعہ لکھ چکا ہوں کہ بلانمبر پلیٹ گاڑیاں سنگین جرم ہے جس پر وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت کاروائی کا حکم دیا لیکن موثر کاروائی نہیں ہو رہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والے سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟ مجھے اس آفیسر نے بتایا کہ رمضان سے چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے اندرون لاہور کا دورہ کیا تو بے ہنگم ٹریفک جام پر وزیراعلیٰ نے سی ٹی او لاہور کو Displeasure بھیجنے کو کہا۔ وزیراعلیٰ آفس کی طرف سے Displeasure کے جواب میں دو دو عہدے انجوائے کرنے والے سی ٹی او نے وزیراعلیٰ آفس کے متعلقہ آفیسر کو وربل جواب دیا کہ وزیراعلیٰ رش والے ٹائم آئیں تو میں کیا کرتا۔ جو سی ٹی او اپنی غلطی تسلیم کرنے اور ٹریفک پولیس کے معاملات میں بہتری کی بجائے یہ کہے کہ رش والے اوقات میں وہ کیا کرے وہاں ٹریفک پولیس میں بہتری کی امید چھوڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے پنجاب ٹریفک پولیس نے پورے پنجاب میں سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔

    پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے ۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے ؟آنکھوں کو چندیا دینے والی غیر نمونہ فلیشر لائٹ سے حادثات ہو رہے ہیں لیکن کاروائی نہیں ہو رہی۔

    جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ کے افسران اور جوان ان سول افسران کی لاقانونیت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔ جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ ان افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا بدلہ دہشت گردوں سے تو لے رہے ہیں لیکن فرائض سے غفلت کرکے اور بنا نمبر پلیٹ قانون شکن اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا کب تنگ کریں گے؟۔
    جناب چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم آپ دونوں کی کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی مجرمانہ غفلت، کرپشن اور لاقانونیت سے تنگ آکر مقامی سرمایہ کار بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے اعتماد دلائیں گے۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    گزشتہ چند ماہ سے ملک عزیز پاکستان میں دہشت گردی خطرناک حد تک روز افزوں ھے۔۔۔صوبہ بلوچستان اور کے پی کے میں سکیورٹی فورسز پر حملے تو آئے دن معمول تھے ہی۔۔بےگناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر شہید کرنے کے دلسوز واقعات بھی آئے روز ھو رھے تھے لیکن 11مارچ کو پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ھوا جس میں کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کو بولان مچھ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا۔۔ دہشت گردوں نے 400سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔۔اور 24مسافروں کو شہید کر دیا جن میں کئی مسافر سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔۔۔۔۔۔یہ تو اللہ کا شکر ھوا کہ سکیورٹی فورسز نے بڑی مہارت سے کامیاب آپریشن کو مکمل کرتے ھوئے باقی تمام مسافروں کو دہشت گردوں کے چنگل سے بخیریت بازیاب کرا لیا۔۔۔اس آپریشن میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار شہید ھوا۔۔۔
    تاھم اس کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھما اور روزانہ سکیورٹی اہلکاروں پر ایسے حملے جاری ہیں۔۔۔

    پاکستان کے دشمن روز اول سے پاکستان کو ختم کرنے کے ہمیشہ درپے رھے ہیں۔۔اس کے لیے ہمارا دشمن ایک دن بھی آرام سے نہیں ںیٹھا۔۔وہ کھلی جنگ میں تو ہماری بہادر افواج سے ہمیشہ شکست فاش کھاتا رہا جیسا کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔۔۔اس وقت کے بعد چانکیائی سیاست کے ماہر ہمارے اس مکار دشمن نے اچھی طرح سوچ لیا کہ وہ پاکستان کو کھلی جنگ میں تو کبھی شکست نہیں دے سکتا لیکن سازش،جھوٹا پروپیگنڈہ اور قوم کو باہم تقسیم کر کے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا کر وہ یہ جنگ آسانی سے جیت سکتا ھے۔۔چنانچہ 1965 کے بعد وہ پوری تندہی سے اسی ایجنڈے پر پوری تیزی اور سنجیدگی سے اور بڑی برق رفتاری سے عمل کرنے لگا۔۔سب سے پہلے اس نے مشرقی پاکستان میں لسانیت کے نام پر نفرت کی آگ لگائی اور ہمارے بنگالی بھائیوں کو مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف کھڑا کر دیا۔۔دشمن کی اس سازش میں ہمارے اپنے ہی کچھ لیڈر اپنے مفادات کے لیے اس کے آلہ کار اور سہولت کار بن گئے۔۔۔ ۔یقینا اس میں مغربی پاکستان کے لیڈروں،اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں سے بھی غلطیاں ھوئی ھوں گی،ممکن ھے ان سے بھی کچھ استحصال ھوا ھو لیکن ایسا استحصال تو ہندو بنیا اس سے بھی کئی گنا زیادہ بھارت کی مختلف قوموں کے ساتھ شروع دن سے برت رہا ھے جیسا کہ دلت،سکھ اور مسلم کمیونیٹیز کو وہاں دیوار کے ساتھ لگا کے رکھا گیا ھے۔۔۔ان کا قتل عام وہاں معمول ھے۔۔۔نہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہ ان کی جان و مال۔۔۔یہ قومیں ہندو بنیے کے ساتھ ایک برتن میں پانی تک نہیں ہی سکتیں۔۔۔اس سے بڑا استحصال کسی قوم کا اور کیا ھو سکتا ھے۔۔۔دلت اور بڑی ذات کے ہندؤوں کے مندر تک الگ ہیں۔۔۔دنیا میں خط غربت کی انتہائی شرح سے بھی نیچے لوگ بھارت میں رہتے ہیں ۔۔پاکستان میں بھی یقینا غربت بہت ھے لیکن جتنی غربت انڈیا میں ھے اور جتنے لوگ انڈیا کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھوں پر لاکھوں کی تعداد میں سوتے ہیں،پاکستان میں الحمدللہ پھر بھی اتنے کربناک حالات نہیں۔۔انڈیا میں غربت کا یہ عالم ھے کہ وہاں گھروں میں لیٹرین کا نہ ھونا سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے اور وہاں سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا منشور ہی یہ ھوتا ھے کہ وہ ہر گھر میں لیٹرین مہیا کریں گے۔۔وہاں اکثر ایسے محلے اور کالونیاں ھوتی ہیں جہاں پورے محلے کے لیے اجتماعی طور پہ صرف دو لیٹرینیں ھوتی ہیں لیکن افسوس پاکستان نے انڈیا کی اس قدر غربت اور محروم قوموں کے کارڈ کو کبھی استعمال نہیں کیا۔۔۔حالانکہ انڈیا کی یہ محروم قومیں بھارت کے اسی استحصال اور غربت کے خلاف ایک عرصہ سے علم بغاوت بلند کیے ھوئے ہیں۔۔ ناگا لینڈ،میزورام،آسام، تامل ناڈو وغیرہ کے بے شمار ضلعے ایسے ہیں جہاں حکومت بھارت کی رٹ تک نہیں لیکن پاکستان نے کبھی بھارت کے ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔کشمیریوں کی بیداری اور تحریک آزادی ہمارے لیے کافی مددگار ثابت ھوئی جس سے بھارت کو پہلی بار اپنی پڑ گئی اور یوں پاکستان کے لیے کشمیری ایک ڈھال بن کے کھڑے ھو گئے لیکن افسوس یہ ڈھال بھی ہمارے ہی حکمران طبقہ نے کمزور کر دی اور اس میں سب ہی نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔۔۔چنانچہ انڈیا نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنی روایتی پروپیگنڈہ سازشوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت کی آگ ایک بار پھر لگانا شروع کردی، خاص طور پہ اس نے ہمارے دو صوبوں بلوچستان اور کے پی کے کو اپنا اھم ہدف بنا لیا۔۔
    اب ضرورت اس امر کی ھے کہ حکمران طبقہ سے لے کر عوام تک سبھی اپنے دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور ملک کی مضبوطی اور دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔کشمیر کی تحریک کو پھر مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔۔اسلام پاکستان کی 99فیصد اکثریت کا دین ھے جو ہم سب کو متحد رکھنے کے لیے ایک مضبوط مشترکہ بنیاد ھے۔۔ھم سب اپنے اختلافات رنگ،نسل اور قومیت کی بجائے اسلام کے پرچم تلے متحد ھو کر ختم کر سکتے ہیں۔۔ہمیں دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کی اشد ضرورت ھے۔۔۔وہ ہمیں باہم لڑا کر ملک کو ایک بار پھر توڑنے کا اپنا ناپاک مشن پورا کرنا چاہتاھے۔۔ہمارا یہ فرض ھے کہ ھم کسی بھی بہانے اور کسی بھی نعرے کی اڑ میں دشمن کے ان عزائم کو پورا نہ ھونے دیں اور ایسی کسی سرگرمی میں شریک نہ ھوں جس سے ملک کے استحکام پر ضرب پڑے کیونکہ ملک ھے تو ھم ہیں۔۔۔اگر ملک ہی نہ رہا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔دشمن ہمیں بے دست و پا کر کے ہمارا حال فلسطین و کشمیر ،برما اور عراق و شام اور لیبیا جیسا کرنا چاہتا ھے۔۔ہمارا دشمن زبردست سیاہ پروپیگنڈہ کا ماہر ھے۔۔ابھی حالیہ ٹرین واقعہ میں بھی اس نے کتنی ہی فیک وڈیوز پھیلائیں۔۔کہیں اس نے پوری ٹرین کو جلتا ھوا دکھایا تو کہیں اس نے پاک فوج میں بغاوت کی جھوٹی وڈیوز پھیلائیں۔۔۔اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اس ساری دہشت گردی کے پیچھے اصل ہمارا یہی دشمن چھپا ھے۔۔۔اسی دشمن نے ٹرین دہشت گردوں کے حق میں سافٹ امیج بھی پیدا کرنے کی پوری کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ دہشت گردوں نے عام مسافروں کو خود جانے دیا اور صرف سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔۔حالانکہ یہی دشمن بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر بے گناہ لوگوں کو مارتا رہا ھے۔۔سوال یہ ھے کہ یہ دہشت گرد اگر اتنے ہی رحمدل اور انسان دوست ہیں تو اس وقت اس کا سافٹ امیج اور انسانیت کہاں تھی۔۔۔اس لیے دشمن کے ایسے کسی بھی پروپیگنڈہ سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے ۔۔ ائیے آگے بڑھیں۔۔اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اس کے خلاف سیسہ پلائی ھوئی دیوار بن جائیں ۔ھم اپنے غیر متزلزل اتحاد سے ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔۔اج ہمارے بنگالی بھائیوں کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں اور وہ اپنے اس مکار دشمن کو پہچان کر ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اپنی محبتیں نچھاور کر رھے ہیں لیکن ہمارے لیے ابھی وقت ھے کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اور دشمن اپنا وار کر جائے،ھم اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں اور دشمن کی ہمیں باھم لڑا کر ملک تباہ کرنے کی جو گہری سازش ھے،اس کو اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیں۔۔۔۔۔

  • ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف،مریم ،پرویز رشید،اسحاق ڈار،عرفان صدیقی کے ساتھ کیاکچھ نہیں کیا گیا
    ٹرمپ کی جیت پر خوشیاں منانے والوں کو پھر جواب مل گیا،اب چیخنا بند کریں
    منفی پراپیگنڈہ سے ادراے محفوظ نہ کسی ماں بہن کی عزت،انکولگام کون ڈالے گا؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    9 جنوری کو میں نے لکھا تھاکہ امریکہ کسی فرد واحد کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا ،پی ٹی آئی کے دوست ،یوٹیوبر ،وی لاگرز جتنی مرضی ٹرمپ کی کامیابی پر دھمال ڈالیں امریکہ اور امریکی صدر کے سامنے امریکہ اور عالمی دنیا کے بہت سے مسائل ہیں،امریکہ سُپر پاور ہے اور وہ پوری دنیا کو لیڈ کرتا ہے، امریکہ سمیت عالمی دنیا پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سیاست اورپاکستان جیسے دوسرے ممالک کی جمہوریت سے بھی آگاہ ہے،مذہبی جماعتوں سے بھی عالمی دنیا آگاہ ہے ،مجھ جیسے ادنیٰ لکھاری نے فوجی حکمرانی سے لے کر سول حکمرانی کے دور بھی دیکھے، پی ٹی آئی سمیت پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد بتانا پسند کریں گے کہ کیا آئین پر عمل ماضی یا حال میں ہو رہا ہے؟ کیا آپ اپنے آپ اور عوام کو کتنی بار بے وقوف بنائیں گے؟ اپنے آپ کو بھی شرمندہ کررہے ہیں اور عوام کے سامنے بھی شرمندہ ہو رہے ہیں،انسان نے دنیا سے ایک دن رخصت ہو جانا ہے ،اُس کا کردار زندہ رہتا ہے،ذرا نہیں بہت سوچئے آنے والی نسل آپ کے کس کردار کو یاد کرے گی ، پھر یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ایک عطیہ کے طور پر خدا پاک نے دیا جس کا حساب ہوگا ،جمہوریت کا راگ الاپ کر آپ دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے،

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک زمانے میں جہوریت اور آئین کو لے کر بیان د یا تھا کہ آئیے آئین نے جو حدیں مقرر کی ہیں اس پر عمل کرکے ملک وقوم کی خدمت کریں ،کیا سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے نواز شریف کے اس بیان پر عمل کیا؟کیا نواز شریف کو تین بار اقتدار سے ہٹایا نہیں گیا ،کیا وہ جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ پر حملہ نہیں تھا؟ کیا نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھیوں جن میں سینیٹر پرویز رشید جو درویش صفت انسان ہیں سے کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے پوچھا ان سے کس جرم میں وزارت چھینی گئی اور پھرسینٹ کی نشست سے محروم رکھا گیا ؟کیا سینیٹر عرفان صدیقی اور سعد رفیق جیسے افراد کی تذلیل نہیں کی گئی،کیا سینیٹر اسحاق ڈار کے ذاتی گھر کو توڑا نہیں گیا ؟ اس کے علاوہ بھی لاتعداد مثالیں موجود ہیں، جمہوریت اور قانون کہاں تھا؟ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے کہاں تھے؟ آج کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو کس جرم میں قید کیا گیا تھا؟ یاد رکھیئے امریکہ سمیت عالمی دنیا ہماری انتقامی جمہوریت اور انتقامی قانون کی حکمرانی سے مکمل آگاہ ہے، جس نحوست نے آج پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ،اسی نحوست نے ہماری خوشیوں کا جنازہ نکال د یا ہے ،جن سیاسی گلیاروں سے قوم کو کبھی مسرت اور شادمانی کی برساتیں ملا کرتی تھیں پوری قوم کے دل خوشی سے کھِل اٹھتے تھے آج نہ ادارے محفوظ نہ کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ ،پاک فوج اور نہ جملہ ادارے اور پولیس محفوظ ، جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں ،شہید ہو رہے ہیں اُن کے خلاف غلیظ زبان استعمال ہو رہی ہے،افسوس صد افسوس ،عوام کے لئے پاک فوج اورپاکستان کے آگے کچھ نہیں ،کون نہیں جانتا بلوچستان اور کے پی کے میں کون مداخلت کررہا ہے،آزادی اظہار رائے اپنی جگہ ملکی سلامتی ملکی مفاد بھی کسی بلا کا نام ہے.

  • سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    گذشتہ دنوں ہونے والے سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات نے پاکستان کی بیوروکریسی کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔سینٹرل سلیکشن بورڈ کے سرپرائز فیصلوں سے اعلیٰ سرکاری ملازمین چکرا کررہ گئے ،خاص طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے آدھے سے بھی زائد افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ پرموٹ نہ کیے گئے افسران کی اکثریت کا اشارہ تین اہم شخصیات کی طرف تھا کہ اس وقت وہ پاکستان کے زمینی خدا بن کر انتقامی فیصلے کر رہے ہیں، بیوروکریسی نے بورڈ میٹنگ کو رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی پرچی پہلے سے تھما کر بھیجا گیا تھا۔ ایک سینئر افیسر کا کہنا تھا کہ سارے کیرئیر میں ایک روپے کی کرپشن یا کوئی خراب رپورٹ ثابت کردیں وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرضی اور سفارشی رپورٹوں پر انہیں ’’فکس‘‘ کیا گیا ہے جبکہ کچھ افسران کے معاملے میں نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں۔ بلوچستان ٹرین حادثے کی وجہ سے سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سینٹرل سلیکشن بورڈ میٹنگ کا حصہ نہیں بن سکے، ان کی غیرموجودگی میں ایف آئی اے اور بلوچستان کے افسران کی پرموشن کا فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ بیوروکریسی کی اکثریت نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے وزیراعظم ’’ریویو بورڈ‘‘ میں سید توقیر حسین شاہ جیسی غیر جانبدار شخصیات کو شامل کریں، فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں، ہم من و عن تسلیم کریں گے۔ جناب وزیراعظم سینٹرل سلیکشن بورڈ جس قدر متنازع ہوچکا ہے صورت حال کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ ریویو بورڈ کیا جائے۔ اگر اس متنازع بورڈ پر ’’ریویو‘‘ نہیں لیتے تو بیوروکریسی سے سروس ڈلیوری کی امید چھوڑ دیں کیونکہ جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا جائے گا تو وہ اپنی فرسٹیشن کیلئے عوامی و فلاحی کاموں میں دلچسپی نہیں لیں گے اور کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے۔

    جو واقعی کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔
    ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی ”ہٹ لسٹ” پر ہیں،انکا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ حکومت نے انہیں استعمال کرکے پھینک دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ آئندہ کوئی آفیسر حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے کام نہ کرے ؟یہی وجوہات ہیں کہ بہت سارے افسران سول سروس کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

    حکومت کی مثبت ایمج سازی کیلئے دن رات ایک کرنے والے انفارمیشن گروپ کے افسران کی ترقی کا سفر انتہائی سست اور ناکافی سہولیات الم ناک ہیں۔ ایف بی آر، آفس مینجمنٹ، ریلوے اور آڈٹ اینڈ اکائونٹس کے افسران کی زبوں حالی کا تذکرہ تفصیلی کالم میں۔ ارباب حکومت کی طرف سے دیے گئے اختیارات کا ’’مس یوز‘‘ بلکہ ’’ابیوز‘‘ کرکے چند بیوروکریٹ اپنے ہی افسران کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں جس سے ترقیوں سے محروم افسران کا کیرئیر خراب ہو رہا ہے۔ چند شخصیات وفاقی اجارہ داری کے ساتھ صوبوں میں بھی اہم ترین سیٹوں پر اپنے منظور نظرافسران لگا کر تمام صوبوں خاص طور پر پنجاب پر اپنی مکمل اور سخت گرپ بنا کر اپنی بالادستی منوا رہے ہیں۔ پنجاب کے ایک سیکرٹری اپنے ماتحت بدنام زمانہ کرپٹ آفیسر کو کئی ماہ سے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن صرف اس لیے نہیں ہٹا پا رہے کہ مذکورہ کرپٹ افیسر سینٹرل سلیکشن بورڈ کے ایک ممبر کا کارخاص ہے وہ ناراض نہ ہو جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی۔ پی پی جی مکمل کرنے کے باوجود 100سے زائد افسران تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔اسی طرح پی ایس ایم جی کرنے والے افسران بھی دوسال سے ترقی سے محروم ہیں۔ ایک ساتھ ایس ایم سی کرنے کے باوجود دوسرے گروپ پرموٹ ہوگئے اور پی ایم ایس والے ابھی تک بورڈ کے منتظر ہیں۔ پی ایم ایس افسران کو ترقی اور پوسٹنگ کے مساوی حقوق دیے بنا صوبائی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ چند افسران اپنی بالادستی منوانے اور اپنے چہیتے افسران کو سیاہ و سفید کی ملکیت دینے کیلئے جو خطرناک اقدامات کررہے ہیں وہ کسی بھی طور پر پاکستان کے بھلے میں نہیں ہیں۔ گریڈ بیس کی سیٹوں پر گریڈ اٹھارہ والے کنسیپٹ کلئیر افسران تعینات ہیں جبکہ سینئر افسران کی خلاف میرٹ خواہشات سے انکار کی جسارت کرنے والے ایماندار افسران مہینوں سے او ایس ڈی ہیں یا پھر کھڈے لائن پوسٹنگ۔

    وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ابھی بھی وقت ہے ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سی پیک، سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے استحکام پاکستان کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ خود پسند افرادسے گذارش ہے کہ خدارا! چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

  • رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت شہاب نامہ کے باب ڈپٹی کمشنر کی ڈائری میں عیدو نامی سائل کی داستانِ حسرت بیان کی ہے۔ انبالہ سے ہجرت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہونے والے اس مہاجر کو متروکہ اراضی الاٹ ہوئی تھی جس پر کاشتکاری کے ذریعے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہا تھا مگر اس دوران کسی بے رحم پٹواری نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دی تو اس نے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام کو داد رسی کیلئے درخواست بھجوا دی۔ لاٹ صاحب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات و دیگر حکام کے دفاتر کا طواف کرنے کے بعد یہ درخواستیں ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ سرکاری افسروں کی میز پر آتی گئیں اور فرض شناس افسر رپورٹ طلب کرنے کیلئے اسے ماتحت حکام کی طرف بھجواتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ تمام درخواستیں افسر مجاز یعنی اسی پٹواری کے پاس جا پہنچیں جو اس غریب سائل کی اراضی ہڑپ کرنے کے درپے تھا۔ اس نے ازراہ تلطف، سائل عیدو کو پٹوار خانے طلب کیا اور ان درخواستوں کا پلندہ اس کے منہ پر دے مارا۔ اس کے بعد پٹواری نے لگی لپٹی رکھے بغیر تنک کر کہا ’’اب تم یہ درخواستیں جھنگ، ملتان یا لاہور لے جائو اور ان کو اپنے سالے باپوں کو دے آئو‘‘عیدو اس تذلیل و تحقیر کے بعد بھی کوئے داد رسی کے طواف سے باز نہ آیا اور سرکاری دفاتر کی خاک چھانتا رہا۔ اس دوران پٹواری نے اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی اور ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے بعد رپورٹ تحریر فرمائی ’’جناب عالی! سائل مسمی عیدو فضول درخواست ہائے دینے کا عادی ہے۔ اسے متعدد بار سمجھایا گیا کہ اس طرح حکام اعلیٰ کا وقت ضائع کرنا درست نہیں، لیکن سائل عیدو عادتاً درخواست گزار ہے اور اپنی اسی عادت سے مجبور ہوکر بارہا درخواستیں دیتا ہے ۔ سائل کا چال چلن بھی مشتبہ ہے اور اس کا اصل ذریعہ معاش فرضی گواہیاں دینا ہے۔ مشرقی پنجاب میں اس کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ بمراد حکم مناسب رپورٹ ہذا پیش بحضورِ انور ہے‘‘ گرداور اور قانون گو نے یہ لکھ کر درخواستیں تحصیلدار کے دفتر بھجوا دیں کہ ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔ درخواستیں اسی گول دائرے میں گھومتی ہوئی ان اعلیٰ حکام کے پاس واپس آگئیں جنہوں نے ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ مارک کیا تھا۔ اس دوران ہر سرکاری افسر نے ایک ہی جملے کا اضافہ کیا ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔اور آخر میں

    آج فیس بک پر ایک ویڈیو نظر سے گزری پہلے تو صرف نظر کیا کہ آواز سگاں کم نہ کند رزقِ گدارا۔ پھر واپس سکرول کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ایم پی اے حلقہ 179 قصور محمد احمد خان ایک میٹنگ کی صدارت فرماتے ہوئے گویا تھے کہ اساتذہ کا کوئی ایشو ہے ایک نہیں چھ سے سات جگہ میرے علم میں آیا ہے کہ ٹیچرز اپنے بزنس کر رہے ہیں اور سکول انہوں نے اپنی جگہ 10000 پر بندہ رکھا ہوا ہے خود لے رہے ہیں پچاس ساٹھ ہزار ستر ہزار اور گھوم رہے ویسے صاحب کی اپنی تنخواہ کتنی ہے؟؟؟؟9 لاکھ پچاس ہزار ماہانہ معہ ایک شاندار سرکاری رہائش بجلی گیس مفت , میڈیکل مفت سکیورٹی کے نام پر مسلحہ لشکر بھی۔ ابھی جولائی 24 میں جناب سپکیر صاحب نے 10 کروڑ کی LC300 لینڈ کروزر سرکار سے لی ہے اسی لیے تو کسی انکل سرگم لے نام سے مشہور کامیڈی اداکار نے کہا ہے گریڈ 1 تا 17 والے مخلوق اور اوپر گریڈ والے اشرف المخلوقات ہیں۔ اس ویڈیو میں اشرف المخلوقات نے برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا اساتذہ کی اپنی جگہ بندہ رکھنے کی شکایت پر تمام انچارج صاحبان کو مطلع کریں کہ ان کو بھی معطل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی فیک انرولمنٹ کی بھی خبر لی جس پر سیکرٹری ایجوکیشن خالد نذیر وٹو نے ایک نیا شوشا چھوڑا (لغت میں لفظ شوشا موجود ہے معنی جان بوجھ کر غلط خبر یا اطلاع دینا جس سے حالات کا توازن آپ کے حق میں ہو جائے )

    سیکرٹری صاحب نے فرمایا کہ ہم کیمراز انسٹال کر رہے ہیں صبح گیٹ سے ہر ٹیچر گزرے گا ریکارڈ ہوگا کہ وہ سکول آیا اور جعلی داخلہ بھی کرنا اب ناممکن ہے کیونکہ ایک کیمرہ دفتر سکول میں ہوگا کہ جو داخلہ ہو نظر آئے۔ اس کے بعد سوچا کہ آپ کو وہ لطیفہ پڑھنے کا حق حاصل ہے جو اوپر بیان ہے۔ تعلیم کو اس ملک میں اتنا ہی سنجیدہ لیا جاتا ہے جتنا بس تصاویر میں کافی دِکھے۔ اب المیے دو ہیں ایک ایک کرکے دیکھتے پہلا ستم کہ اساتذہ کے ستر ہزار پر متعرض کون ہے؟ 9 لاکھ 50 ہزار ماہانہ لینے والا اور اساتذہ نے بندے کیا رکھنے 10000 کہاں سے لینا ہاں آپ سیاست دانوں نے ڈیروں پر بندے ضرور بٹھا رکھے ہیں ستر ہزار تنخواہ پر ایسے اعتراض جیسے ٹیچر ملک کا 75 فیصد بجٹ استعمال کر رہے یہ ہے المیہ کہ استاد کی تنخواہ پر بھی اعتراض اب انہوں نے اپنے پیسوں سے کچھ لیا ہو تو پتہ چلے کہ 70000 کتنی خطیر رقم ہے۔ یہ لوگ وہ اشرف المخلوقات ہیں جن کو نہ کسی فارمیشن کا علم نہ ان کے پاس اساتذہ کے مسائل کا ڈیٹا بس سطحی معلومات لے کر حملہ سیدھا استاد پر۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ سیکرٹری صاحب نے جو تجویز دی ہے وہ بھی ناقابل عمل ہے . پنجاب کے کُل مڈل سکول 7223 ہیں پرائمری سکول 26993 ۔ ہائی سکول8081 اور ہائیر سیکنڈری سکول 848 ( ریفرنس
    https://sis.pesrp.edu.pk/
    تو کل ملا کر سکول ہوئے 43142 ۔ ہر سکول میں صرف 2 کیمرے لگیں اورر 2 کیمرے 15000 سے 20000 تک مالیت کے ہیں 43142 سکول میں دو دو کیمرے ہوئے 86294 جن کی مالیت 1,725,880,000 اب خود فیصلہ کریں نہ کوئی پلاننگ نہ ڈیٹا نہ مکمل صورتحال کا علم لیکن رپورٹ مفصل ہے

  • شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر:   راحین راجپوت

    شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر: راحین راجپوت

    آہ شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن وہ اپنے فن،کرداراوربارعب شخصیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔اداکار محمد علی 19اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔محمد علی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔محمد علی محض تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔محمد علی کے والد سید مرشد علی نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کی ۔ہجرت کے بعد سید مرشد علی اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان آگئے ۔کچھ عرصے بعد یہ خاندان بہاولپور اور پھر حیدرآباد سندھ چلا آیا ۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم ملتان اور بہاولپور سے حاصل کی جبکہ انٹر حیدرآباد سندھ سے کیا ۔محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ تھے۔محمدعلی کو ریڈیو پاکستان میں ان کے بڑے بھائی نے متعارف کرایا ۔ارشاد علی اس وقت ریڈیو پاکستان میں ڈارمہ آرٹسٹ تھے ۔محمد علی کو ان کی پرکشش شخصیت اور بہترین آواز کی وجہ سے زیادہ پزیرائی ملی ۔60ءکی دہائی میں محمد علی مستقل طور پر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے ۔اس وقت کراچی کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری تھے ۔اسی دوران فضل کریم فضلی نے اپنی فلم "چراغ جلتا رہا”بنانے کا فیصلہ کیا تو زیڈ اے بخاری نے ان سے محمد علی کے لیے خاص سفارش کی ۔یوں محمد علی اس فلم میں کاسٹ ہو گئے ۔اس فلم میں محمد علی نے بطور ولن کردار ادا کیا جبکہ اس فلم کی ہیروئن اداکارہ زیبا بیگم تھیں اور اس فلم میں ہیرو کا کردار اداکار عارف نے ادا کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب تو نہ ہوئی مگر اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سید مرشد علی نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیاتو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ محمد علی کے فلمی کیریئر کا آغاز تھا ۔اداکار محمد علی نوجوانی میں فلموں کے لئے کافی پرفیکٹ تھے ۔اسی دور میں اداکارہ زیبا کا بھی فلموں میں بڑا چرچا تھا اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنا آپ منوا رہی تھی ۔محمدعلی اور زیبا کے درمیان ہم آہنگی پہلی فلم سے ہی پیدا ہونے لگی اسی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ۔ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم "تم ملے پیار ملا”کی عکس بندی کے دوران انہوں نے شادی کر لی ۔شادی کے بعد انہوں نے "علی زیب”کے نام سے فلموں کی پروڈکشن شروع کی اور پہلی فلم "جیسے جانتے نہیں”بنائی ۔اس کے بعد فلم "آگ”جیسی سپر ہٹ فلم پروڈیوس کی ۔اس کے بعد محمد علی نے اپنے کیریئر میں تقریباً 111ہدایتکاروں کی لگ بھگ 250سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی بطور ہیرو پہلی فلم”شرارت "تھی اور آخری فلم”دم مست قلندر "تھی ۔جبکہ کریکٹر رول میں آخری فلم”محبت ہو تو ایسی "تھی ۔1962ءسے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد علی نے 1964ءمیں فلم”خاموش رہو "میں ایسی لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی کامیابی کے بعد انہوں نے پلٹ کر واپس نہیں دیکھا ۔
    اداکار محمد علی کی متعدد فلموں میں آنسو بن گئے موتی ،افسانہ زندگی کا ،انصاف اور قانون ،صائقہ،ہمراز،بن بادل برسات ،خدااورمحبت ،گڑیا،بدلتے رشتے،دنیا نہ مانے ،کنیز،صائمہ،وحشی،آس،آئینہ اور صورت ،انسان اور آدمی ،حیدر علی ،دوریاں،بوبی،جب جب پھول کھلے ،صورت اور سیرت ،بدل گیا انسان ،دامن اور چنگاری،پھول میرے گلشن کا ،لوری،بازی اور شعلے جیسی لا زوال فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
    اداکار محمد علی پر زیادہ تر گیت مہدی حسن اور احمد رشدی کے پکچرائز ہوئے ۔
    انہوں نے اپنے کیریئر کی کئی لاجواب فلموں میں بے مثال اداکاری کا مظاہرہ کیا اور کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے ۔انہوں نے اپنے ابتدائی دس سالہ کیرئیر میں لگا تار 6نگار ایوارڈ حاصل کیے ۔اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے ۔محمد علی کو اعلیٰ حکومتی ایوارڈ ،پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔بھارت سے نوشاد علی ایوارڈ اور دبئی سے الناصر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ۔اس کے علاوہ 1997ءمیں انہیں پرسنالٹی ایوارڈ بھی ملا ۔اس کے علاوہ محمد علی شہنشاہ جذبات کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اداکار ہیں ۔اداکارمحمد علی کو برطانیہ کی بھی شہریت حاصل تھی لیکن وہ ساری زندگی پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ۔اس کے علاوہ وہ اسلامی اقدار وروایات کے بہت بڑے حامی تھے اور ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔
    محمد علی اور زیبا کی شہرت دیکھ کر بھارتی ہدایت کار منوج کمار نے اپنی فلم "کلرک”میں سائن کیا ۔
    فلموں کے بعد وہ مکمل طور پر سماجی کاموں میں مصروف ہو گئے ۔
    1997ءمیں انہوں نے "علی زیب فاؤنڈیشن”کے نام سے ایک رفاہی ادارہ بنایا جس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔محمد علی نے اپنے عہد میں ماسکو میں ہندوستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں قید جنگی قیدیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
    وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کے گھر پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے قیام کیا تھا ۔
    ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ضیا ءکے دور میں اداکار محمد علی کو خاص مقام حاصل رہا ۔
    صدر ضیاء الحق بھارت کے دورے پر گئے تو اداکار محمد علی اور ان کی اہلیہ زیبا بیگم بھی ان کے ساتھ گئے۔وہاں انہوں نے اندرا گاندھی کے گھر قیام کیا۔آخری دنوں میں اداکار محمد علی دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گئے ۔بالآخرفن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 19مارچ 2006ءمیں ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا (ان للہ وان الیہ راجعون)