آہ شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن وہ اپنے فن،کرداراوربارعب شخصیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔اداکار محمد علی 19اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔محمد علی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔محمد علی محض تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔محمد علی کے والد سید مرشد علی نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کی ۔ہجرت کے بعد سید مرشد علی اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان آگئے ۔کچھ عرصے بعد یہ خاندان بہاولپور اور پھر حیدرآباد سندھ چلا آیا ۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم ملتان اور بہاولپور سے حاصل کی جبکہ انٹر حیدرآباد سندھ سے کیا ۔محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ تھے۔محمدعلی کو ریڈیو پاکستان میں ان کے بڑے بھائی نے متعارف کرایا ۔ارشاد علی اس وقت ریڈیو پاکستان میں ڈارمہ آرٹسٹ تھے ۔محمد علی کو ان کی پرکشش شخصیت اور بہترین آواز کی وجہ سے زیادہ پزیرائی ملی ۔60ءکی دہائی میں محمد علی مستقل طور پر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے ۔اس وقت کراچی کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری تھے ۔اسی دوران فضل کریم فضلی نے اپنی فلم "چراغ جلتا رہا”بنانے کا فیصلہ کیا تو زیڈ اے بخاری نے ان سے محمد علی کے لیے خاص سفارش کی ۔یوں محمد علی اس فلم میں کاسٹ ہو گئے ۔اس فلم میں محمد علی نے بطور ولن کردار ادا کیا جبکہ اس فلم کی ہیروئن اداکارہ زیبا بیگم تھیں اور اس فلم میں ہیرو کا کردار اداکار عارف نے ادا کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب تو نہ ہوئی مگر اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سید مرشد علی نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیاتو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ محمد علی کے فلمی کیریئر کا آغاز تھا ۔اداکار محمد علی نوجوانی میں فلموں کے لئے کافی پرفیکٹ تھے ۔اسی دور میں اداکارہ زیبا کا بھی فلموں میں بڑا چرچا تھا اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنا آپ منوا رہی تھی ۔محمدعلی اور زیبا کے درمیان ہم آہنگی پہلی فلم سے ہی پیدا ہونے لگی اسی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ۔ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم "تم ملے پیار ملا”کی عکس بندی کے دوران انہوں نے شادی کر لی ۔شادی کے بعد انہوں نے "علی زیب”کے نام سے فلموں کی پروڈکشن شروع کی اور پہلی فلم "جیسے جانتے نہیں”بنائی ۔اس کے بعد فلم "آگ”جیسی سپر ہٹ فلم پروڈیوس کی ۔اس کے بعد محمد علی نے اپنے کیریئر میں تقریباً 111ہدایتکاروں کی لگ بھگ 250سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی بطور ہیرو پہلی فلم”شرارت "تھی اور آخری فلم”دم مست قلندر "تھی ۔جبکہ کریکٹر رول میں آخری فلم”محبت ہو تو ایسی "تھی ۔1962ءسے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد علی نے 1964ءمیں فلم”خاموش رہو "میں ایسی لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی کامیابی کے بعد انہوں نے پلٹ کر واپس نہیں دیکھا ۔
اداکار محمد علی کی متعدد فلموں میں آنسو بن گئے موتی ،افسانہ زندگی کا ،انصاف اور قانون ،صائقہ،ہمراز،بن بادل برسات ،خدااورمحبت ،گڑیا،بدلتے رشتے،دنیا نہ مانے ،کنیز،صائمہ،وحشی،آس،آئینہ اور صورت ،انسان اور آدمی ،حیدر علی ،دوریاں،بوبی،جب جب پھول کھلے ،صورت اور سیرت ،بدل گیا انسان ،دامن اور چنگاری،پھول میرے گلشن کا ،لوری،بازی اور شعلے جیسی لا زوال فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
اداکار محمد علی پر زیادہ تر گیت مہدی حسن اور احمد رشدی کے پکچرائز ہوئے ۔
انہوں نے اپنے کیریئر کی کئی لاجواب فلموں میں بے مثال اداکاری کا مظاہرہ کیا اور کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے ۔انہوں نے اپنے ابتدائی دس سالہ کیرئیر میں لگا تار 6نگار ایوارڈ حاصل کیے ۔اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے ۔محمد علی کو اعلیٰ حکومتی ایوارڈ ،پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔بھارت سے نوشاد علی ایوارڈ اور دبئی سے الناصر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ۔اس کے علاوہ 1997ءمیں انہیں پرسنالٹی ایوارڈ بھی ملا ۔اس کے علاوہ محمد علی شہنشاہ جذبات کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اداکار ہیں ۔اداکارمحمد علی کو برطانیہ کی بھی شہریت حاصل تھی لیکن وہ ساری زندگی پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ۔اس کے علاوہ وہ اسلامی اقدار وروایات کے بہت بڑے حامی تھے اور ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔
محمد علی اور زیبا کی شہرت دیکھ کر بھارتی ہدایت کار منوج کمار نے اپنی فلم "کلرک”میں سائن کیا ۔
فلموں کے بعد وہ مکمل طور پر سماجی کاموں میں مصروف ہو گئے ۔
1997ءمیں انہوں نے "علی زیب فاؤنڈیشن”کے نام سے ایک رفاہی ادارہ بنایا جس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔محمد علی نے اپنے عہد میں ماسکو میں ہندوستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں قید جنگی قیدیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کے گھر پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے قیام کیا تھا ۔
ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ضیا ءکے دور میں اداکار محمد علی کو خاص مقام حاصل رہا ۔
صدر ضیاء الحق بھارت کے دورے پر گئے تو اداکار محمد علی اور ان کی اہلیہ زیبا بیگم بھی ان کے ساتھ گئے۔وہاں انہوں نے اندرا گاندھی کے گھر قیام کیا۔آخری دنوں میں اداکار محمد علی دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گئے ۔بالآخرفن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 19مارچ 2006ءمیں ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا (ان للہ وان الیہ راجعون)
Author: باغی بلاگز

شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر: راحین راجپوت

ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی .تحریر: ملک سلمان
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے دوسال کے طویل انتظار کے بعد ہائی پاور بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا انعقاد ممکن ہوسکا، بورڈ کا انتظار کرتے درجنوں افسران اگلے گریڈ میں ترقی حاصل کیے بن ہی ریٹائرڈ ہوگئے۔
پی ایم ایس افسران کے ساتھ ناانصافی اور حقوق غضب کرنے کا سلسلہ پہلے سے چلتا آ رہا تھا لیکن ابھی تو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان سمیت دیگر سی ایس پی افسران پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا۔
ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی کھیلی گئی۔ پرموشن ٹریننگ کورس کرنے اور اے سی آر میں ریکمینڈڈ فار پرموشن کے کمینٹس حاصل کرنے کے باوجود بہت سارے افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ افسران کی ترقی میں رکاوٹ بننے اور پوسٹنگ سے محروم کیے جانے کی وجوہات میں کچھ کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے موجودہ کرتا دھرتا افسران کو ماضی میں Favour نہیں کیا انکو اس گستاخی کا سبق سکھایا جا رہا ہے۔کرپشن اور پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے ناصرف موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی پوسٹنگ انجوائے کر رہے ہیں بلکہ پرموٹ بھی کردیے گئے ہیں۔ اگر عثمان بزدار کا قریبی ساتھی اور پرنسپل سیکرٹری عامر جان پرموٹ ہوسکتا ہے تو پھر باقیوں پر پی ٹی آئی کا ٹیگ کیوں؟
جن افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا اگر وہ اتنے ہی برے ہیں تو انکو اہم سیٹوں پر کیوں لگایا گیا؟ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی "ہٹ لسٹ” پر ہیں۔
جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟
جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ آپ بیوروکریسی کے دوست ہیں آپ کے ہوتے ہوئے میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ اپنی زیرنگرانی میرٹ پر انکوائری کروائیں جن افسران پر جیسے بھی الزامات ہیں انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ افسران کو ان الزامات سے اگاہ کرکے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔ابھی چند ماہ قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے انفارمیشن گروپ کے آفیسر طاہر حسن کی درخواست پر انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر افسر کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نا دینے کا سنٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم کر دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ ایسی انٹیلی جنس رپورٹ کی پرواہ نا کرے جس میں افسر کو محکمانہ سطح پر اپنے دفاع کا موقع نا ملا ہو، عدالت نے تحریری فیصلے میں ایسے کسی الزام پر دفاع کا موقع نا دینے کو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔جناب وزیراعظم پاکستانی عوام اور بیوروکریسی ہی نہیں عدلیہ بھی آپ کی قابلیت اور دوراندیشی کی قائل ہے اسی لئے معزز جج نے جناب وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا آپ جیسا قابل وزیراعظم بیوروکریسی کو ثبوت کے بغیر انٹیلی جنس رپورٹس کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے؟
بیوروکریسی کے سنئیر افسران کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئی بی کی بجائے آئی ایس آئی کی رپورٹس دیکھ کر فیصلہ کرلیں وہاں جو بھی لکھا ہو گا ہمیں قبول ہے۔ افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ پر کسی کا اختیارنہیں چلتا اس لیے جن افسران کو فائدہ یا نقصان پہنچانا مقصود تھا ان کو آئی بی کی رپورٹس پر نوازا اور فکس کیا گیا ہے۔انتہائی مصدقہ رپورٹ ہیں کہ چند افسران کی ”ٹارگٹگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی اور فرمائشی رپورٹس پیش کی گئں۔ انٹیلیجنس بیورو کی رپورٹس کو ملٹری انٹیلیجنس سے کاؤنٹر ویریفائی کروایا جائے تاکہ کسی بھی افیسر کے خلاف فیک اور من مرضی کی رپورٹ کا سہارا لے کر ویکٹیمائز نہ کیا جائے۔ ملٹری انٹیلیجنس کے کام کرنے کا طریقہ کار میرٹ اور شفافیت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں قابل تعریف حد تک سراہا جاتا ہے کیونکہ ملٹری انٹیلیجنس واحد ایجنسی ہے جس کو کسی کے حق یا مخالفت میں انفلینس نہیں کیا جا سکتا۔
جناب وزیراعظم بیوروکریسی کی ایک ہی درخواست ہے کہ آپ خود انکوائری کریں آئی ایس آئی رپورٹ اور ملٹری انٹیلجنس کی کاؤنٹر رپورٹس میں جو بھی آئے انہیں من و عن منظور ہے لہذا آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ ہائی پاوربورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا رویو اجلاس بلایا جائے۔ جبکہ زمینی خدا بنے سی ایس بی کے سرکاری و غیر سرکاری ممبران سے گزارش ہے کہ انصاف کے قتل عام کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ترقی سے محروم افسران کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ ان کا احترام اور رکھ رکھاؤ بھول کر عدالتوں کا رخ کریں۔
آخر پر سب سے ضروری بات پوسٹنگ اور ترقی سے محرومی کا جتنا دکھ بیوروکریسی کو ہوتا ہے اتنا ہے رینکر اور دوسرے چھوٹے ملازمین کو بھی ہوتا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ماتحت چھوٹے ملازمین کے ساتھ انصاف کریں تاکہ کل کو آپ کے ساتھ بھی انصاف ہو، وہ کہتے ہیں نہ کر بھلا سو ہو بھلا۔
افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی
اردوسائنس بورڈ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں بطور مہمان اعزاز شرکت کی ، اس سیمینار میں بہت معلوماتی گفتگو سننے کو ملی ، موضوع تھا ، روزہ صحت اور جدید سائنس ،
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ ضیاء اللہ طوروصاحب نے استقبالیہ کلمات ادا کئیے اور اردو سائنس بورڈ کی طرف سے اس نشست کو منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور آ نے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی نے ادا کیے اور باری باری مہمانوں کو گفتگو کی دعوت دیتی رہیں ، یہ نشست ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ( ڈایریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان ، اسلام آباد) کی صدارت میں تھی ، اور مہمانان خاص میں ،ڈاکٹر محمد رفیق خان ( پروفیسر آ ف انوائر مینٹل سٹڈیز / سئنیر ریسرچ فیلو)ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان ( ڈائریکٹر رحمان فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ ٹرینر مائینڈ سائینز)ڈاکٹر عبدالرروف رفیقی ( ڈائریکٹر جنرل اقبال اکادمی)،انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل( سابق صدر انسٹیٹیوٹ آ ف انجینئرز پاکستان)،ڈاکٹر طارق ریاض( وائس پرنسپل قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ، شوقپور،( ڈاکٹر جمیل احمد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اردؤ سائیس بورڈ)ڈاکٹر فضلیت بانو( ایسوسی ایٹ پروفیسر منہاج یونیورسٹی لاہور) شامل تھے.تمام شرکاء بہت قابل اور اپنے موضوع پر دسترس رکھتے تھے روزے کی صحت کے لیے افادیت سائنسی اصولوں پر بہت پرمغز گفتگو رہی
اس کے بعد افطاری اور پھر افطار ڈنر کا عمدہ انتظام تھا باقاعدہ نشست کے بعد بھی کتابوں پر علم و ادب پر گفتگو رہی ،اتنی معلوماتی اور عمدہ نشست منعقد کرنے پر ضیاء اللہ طورو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی ، ریسرچ آ فیسر شگفتہ طاہر اور ریسرچ آ فیسر فاطمہ شہزادی اور دیگر ٹیم ممبران تمام عمدہ انتظامات کے لیے بہت مبارکباد اور شکریہ




دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات.تحریر:ملک سلمان
تمام قومی اور بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں سے پاکستان معاشی مسائل سے نکل کر کامیابی کے راستے پر گامزن ہو رہا ہے۔ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری وفود کی آمد سے جہاں محبان وطن خوش ہیں تو وہیں پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام ہیں۔ پاکستان میں امن و امان اور معاشی استحکام کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے دہشت گرد عناصر دوبارہ سے منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر کے ذریعے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔بلوچستان اربوں ڈالر کے ’’سی پیک‘‘ کا اہم ترین روٹ ہے۔ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح اور گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کو قبول نہیں اس لئے انہوں نے بلوچستان کو اپنا مرکزی ہدف بنا رکھا ہے۔ دہشت گردی نے نہ صرف ہمیں اندرونی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیرونی دنیا میں ہماری ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ معاشی ترقی کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ہمیں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہو گا، کیونکہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر ایسی کارروائیاں ممکن نہیں۔ جاننا ہوگا کہ دہشت گرد بن جانے والے ہم وطنوں کو اپنے ہی ملک میں اپنی جانیں دائو پر لگا کر دہشت گردی پر آمادہ کرنے کے اسباب کیا ہیں، یہ لوگ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار کیوں بن جاتے ہیں؟
اے ڈی سی آر قبضہ گروپ اور رسہ گیروں کے ساتھ سرکاری و نیم سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پولیس اشرافیہ اور بدماشیہ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے سے باز نہیں آرہی۔ طاقتور افراد کی زور زبردستی اور لاقانونیت کے خلاف مظلوم اور کمزور افراد ملک دشمن دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر مزاحمت اور ردعمل کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ دشمن اس عمل میں شامل ہو جائے تو یہ رد ِعمل دہشت گردی کی شکل بھی اختیار لیتا ہے۔
فرقہ واریت کی نفرت امن و امان کی قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ اور دہشت گردی کی جڑ ہے۔ ایک ہی حل ہے کہ جو بھی کسی مذہب اور فرقے کی توہین کرے، اشتعال انگیز گفتگو کرے اسے قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے نشان عبرت بنا دیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آپریشن مکمل خاتمے تک جاری رہنا چاہئے کیونکہ یہی دہشت گردی استحکام پاکستان اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے والے طالبان اور علیحدگی پسند تنظیموں کو بھارت اور افغانستان کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے ہماری معیشت شدید دبائو کا شکار ہے۔ دہشت گردی اور عدم تحفظ کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کا عمل مفلوج ہو چکا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان کیا، ان میں سیکورٹی فورسز اور بے گناہ شہری دونوں شامل ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اقتصادی نقصانات کا تخمینہ 200ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاک فوج نے لا زوال قربانیوں کی داستان رقم کرکے ملک میں جو امن قائم کیا تھا کچھ اندرونی وبیرونی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اس کو سبوتاز کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کسی بھی ملک میں دہشت گردی معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے پاکستان مخالف قوتیں شرپسندی کو ہوا دے کر ملک کو کھوکھلا کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوجی آپریشن مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے لیکن جب تک دہشت گردی کے اسباب کو سمجھ کر سویلین حکومت اور ادارے اس کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حل کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کریں گے، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیاں قابل ستائش ہیں اور ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان محسنوں کی قربانیوں اور لہو کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پولیس اور سول انتظامی افسران دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی بجائے دہشت گردوں کی سہولت کاری والا کام کر رہے ہیں۔ ایجنسیز اور وزارت داخلہ کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پولیس اور سرکاری ملازمین بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں سفر کرکے دہشت گردوں کو بنا شناخت کھلے عام آزادی سے امن و امان سبوتاژ کرنے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کو چاہئے کہ بنا نمبر پلیٹ ،مہبم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ والی تمام سرکاری اور غیرسرکاری گاڑیوں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کرکے ان تمام افسران و افراد کو پابند سلاسل کیا جائے ۔کیونکہ ان افسران کی دیکھا دیکھا دہشت گردبھی بنا نمبر پلیٹ اور راڈ لگا کر چھپائی گئی گاڑیوں میں سفر کرکے آسانی سے اپنے اہداف پورے کررہے ہیں۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کو بیرونی سرمایہ کاری اور استحکام پاکستان عزیز ہے یا کرپٹ سرکاری ملازمین کا تحفظ۔
لاہور ٹریفک پولیس کی نااہلی کی وجہ سے لاہور بنا نمبرپلیٹ گاڑیوں میں سرفہرست ہے جہاں قانون کی رٹ نظر نہیں آ رہی۔ ٹریفک پولیس کی کرپشن کی قیمت معصوم پاکستانیوں کی جان و مال کی قربانیوں کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت کی رٹ بحال نہ کروانے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے ۔

دنیا بدل رہی،پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئیں.تجزیہ:شہزاد قریشی
سیکیورٹی ادارے،پولیس اور عوام دہشتگردی جنگ کے خلاف قربانیاں دے رہے
نواز شریف نے سیاسی بصیرت سے بلوچستان میں امن قائم کیا،اب بھی اسی پالیسی کی ضرورت
بلوچی سرداروں کو بھارتی مداخلت کا ادراک ،دشمن نوجوانوں کو گمراہ کرنے لگا
تجزیہ شہزا د قریشی
دنیا میں غیریقینی صورت حال بڑھ رہی ہے امریکہ سمیت دنیا بھرمیں خارجہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہیں چین، امریکہ یورپی یونین اپنے ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر تبدیلیاں کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپی ممالک امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کی نئی پالیسی پر عمل کریں گے یا امریکی پالیسی سے راہیں جدا کرلیں گے ۔یہ ایک بہت بڑ سوال ہے جس کاجواب تا دم تحریر نہیں مل رہا کیا، یورپی ممالک چین کے ساتھ بہتر تجارت اور ترقی کا خواب دیکھنے کی ہمیت کریں گے؟ وطن عزیز میں بھی بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں کی تبدیلی کے اثرات یقینی طورپر پڑیںگے ۔ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے رمضان کے مقدس مہینے میں بلوچستان میں جو خون کی ہولی کھیلی ہے ۔ پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے ۔بھارت اور کچھ دیگر ممالک کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ۔ بی ایل اے اور افغانستان میں موجودہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کویاد رکھناہوگا وطن کی پاک فوج جملہ ادارے او ر پولیس ماضی میں بھی قربانیاں دیتے رہے اور وطن عزیز کے امن کو بحال کرنے میںکردار ادا کرتے رہے ایک عالم گو اہ ہے کہ ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک پاک فوج جملہ اداروں پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں تاہم ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ بعض غیر ملکی بلوچستان کی مخصوص صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا بلوچستان کے سرداروں کو بخوبی احساس ہے بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کسی سردار سے پوشیدہ نہیں، بھارت بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اور دہشت گردوں کو وسائل فراہم کرتا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان میں اپنا سیاسی کردار بھی ادا کرنا چاہیئے صرف اقتداراوربس اقتدار نہیں کردار بھی ادا کرنا ہوگا پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز کی سلامتی کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔اقتدار کی کرسی پر بیٹھے سیاستدانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی آخر کوئی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان برادر یوں اور مختلف قبیلوں کی نفسیات اور مزاج کو سمجھنے والے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ماضی میں کچھ اسی طرح کے حالات کا بلوچستان کو سامنا تھا تو میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت جو بنانے کی پوزیشن میں تھے قربان کردی تھی۔ بلوچستان کے تناظر میں نواز شریف نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک کو بطور وزیراعلیٰ قبول کرکے قوم پرستوں میں ایک اچھی مفاہمت کا عندیہ تھا ۔ ذمہ داران ریاست اور حکومت دونوں کو مل کر بلوچستان کے مسئلے پرسرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا سیاسی اور مذہبی جماعتوں کبھی کردار ادا کرنا ہوگا.
بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان
بولان کے علاقے مشکاف ٹنل ڈھاڈر کے قریب امن دشمن دہشت گردوں نے منظم کاروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا کر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں اور عملہ کو یرغمال بنا لیا۔ تین سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے کی خبر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا کیلئے بھی بریکنگ نیوز تھی۔ ٹرین پر قبضے کے وقت بیس کے قریب مسافروں کی ہلاکت کی اطلاع، جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد، نوسگنل ایریا، سرنگ اور پہاڑی علاقہ ان مشکل حالات میں انٹرنیشنل میڈیا اور بیرونی دفاعی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مطالبات ماننے کے علاوہ کوئی حل ممکن نہیں جبکہ باقی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا انسانیت دشمن دہشت گردوں کے چنگل سے مسافروں کا ذندہ بچنا مشکل ہے۔
ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوجی آپریشن کے زریعے انتہائی جرات و بہادری اور کامیابی سے ناصرف تمام یرغمال مسافروں کو بازیاب کروایا بلکہ تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔
افواج پاکستان نے انتہائی احتیاط اور حکمت عملی سے دوران آپریشن تمام 300کے قریب مسافروں کومحفوظ رکھتے ہوئے تمام 33دہشت گردوں کو بھی ابدی نیند سلاتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان اس وطن عزیز کی ایک ایک انچ اور ہر شہری کی حفاظت کیلئے موجود ہیں اس لیے ملک دشمنوں کے عزائم کبھی پوری نہیں ہوسکتے۔ مشکل ترین حالات میں ناممکن کو ممکن بنانا افواج پاکستان کا ہی اعزاز ہوتا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر ٹرین حادثے کے حوالے سے مسافروں کی شہادت، افواج مخالف پروپیگنڈا، سنگین الزامات اور من گھڑت تجزیوں کی بھرمار رہی۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ محض ڈالروں کی خاطر سنسنی پھیلا کر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر پیسہ اکٹھا کرنے والے جسم بیچ کر کمائی کرنے والوں سے بھی زیادہ غلیظ ہیں۔ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور پراپیگنڈا کی تشہیر ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا وطیرا بن چکا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کئی ماہ پہلے سوشل میڈیا کا کنٹرول آرمی کے حوالے کرچکا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کو بھی فوج کے سوا کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا کے زریعے سنسنی پھیلانے والے شرپسند عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، اندرون و بیرون ملک جہاں کہیں سے بھی شر پسند اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں انکو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تا کہ آئندہ کوئی بھی شخص فیک نیوز اور جھوٹے پراپیگنڈا کے زریعے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی جرات نا کر پائے۔
شرپسند گروہوں اور ان کے حامی تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، من گھڑت افواہیں اڑائی جاتی ہیں، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے جاتے ہیں۔
”سائبرکرائم اور ڈیجیٹل دہشت گردی“ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کو پاتال سے بھی تلاش کرنا پڑے تو نکالا جائے اورکڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنا دیں۔ جھوٹ کا کاروبار کرنے اور عوام میں نفرت کا زہر گھولنے والے ڈیجیٹل دہشت گردوں کوسخت سزائیں دیے بن گزارا نہیں۔ قوم کو گمراہ کرنا، ورغلانا اور ذاتی مفادات کیلئے ملک میں فساد برپا کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے چین، روس، ترکی، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ایسی اشاعت جو ریاستی مفادات، سلامتی، خودمختاری، امن عامہ، خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہو، نفرت کے جذبات کو ہوا دے، ریاستی ادارے پر عوام کے اعتماد کو کم کرے ایسی اشاعت کرنے والے کو تین لاکھ درہم سے ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کیا جا سکتا ہے۔
پیکا کو مذید سخت کرنا ہوگا، متحدہ عرب امارات جیسے قوانین لاگو کرنا ہونگے جہاں سوشل میڈیا تو درکنار کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ اور گھر کی چار دیواری میں بھی ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کا نہیں سوچ سکتا۔میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ میں سائبر کرائم کے چند افسران کو جانتا ہوں جو ناقص تفتیش کرکے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرنے والے ملزمان کو سزاؤں سے بچاتے رہے ہیں۔ سائبر کرائم کے کچھ افسران نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جو مدعی اور ملزم دونوں کا موبائل لیکر فرانزک کی آڑ میں پرسنل ڈیٹا حاصل کرکے شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں لڑکے سے پیسے اور لڑکی سے عصمت کی سودے بازی ہوتی ہے۔
سائبر کرائم جیسے اہم ادارے کو صرف پولیس اور ایف آئی اے کے افسران کے حوالے کرنے کی بجائے اس کی”سپرویژن“ کیلئے آرمی افسران تعینات کیے جائیں تا کہ ناصرف سوشل میڈیا کے دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے بلکہ ہر طرح کے استحصال کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر کرائم کیلئے الگ سے ججز مقرر ہونے چاہئے جو خود سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، پروفیشنلی ٹرینڈ ججز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دہشت گردی میں ملوث ملزمان عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

ٹک ٹاک سٹارسرکاری ملازمین کا احتساب ناگزیر.تحریر: ملک سلمان
چاہئے تو یہ تھا کہ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین حکومت کا دست بازو بن کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی مثبت ایمج سازی کے لیے کام کریں لیکن سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد خود ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر حکومتی پارٹی اور حکومتی شخصیات کے حوالے سے ذومعنی اور تنقیدی مواد شئیر کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازم جو اپنا اصل کام چھوڑ کر صحافی، کالم نویس اور یوٹیوبر بنے ہوئے ہیں ان کی سرعام تنقید کے نتیجے میں عوامی رائے قائم ہو رہی ہے کہ یہ حکومت بے اختیار و بے بس ہے جو سرکاری ملازمین بلاخوف و خطر تنقید کر رہے ہیں۔
حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ سرکاری ملازم کی تنقید سے عوامی رائے عامہ خراب ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کرے اور حکومت مخالف مواد شئیر کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت سخت کاروائی کی جائے۔پیکا صرف صحافیوں کے لیے نہیں ہر اس فرد کے لیے ہے جو مایوسی اور گمراہی پھیلاتا ہے ۔ حکومت مخالف تنقید کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو بھی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے۔
سول ملازمین کے مقابلے میں آرمی اور جوڈیشری کے افسران کبھی بھی سیاسی معاملات پر رائے نہیں دیتے خاص طور پر آرمی افسران کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندی ہے، مس کنڈکٹ پر نہ صرف فوری نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے بلکہ کورٹ مارشل سمیت دیگر سزاؤں سے مثال قائم کی جاتی ہے اس لیے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی سوشل میڈیا فورم پر آرمی افسران کسی بھی حکومت یا ادارے کے حوالے سے تنقید کریں۔
اس کے برعکس سول افسران میں احتساب کا ڈر ختم ہوچکا ہے۔ ایک سول سرکاری ملازم بہت فخر سے بتا رہا تھا کہ میری ویڈیوز پر ہزاروں ویوز آئے ہیں، میں نے کہا کہ سرکاری نوکری کرتے ہوئے یوٹیوب چینل چلانا اور سیلف پروجیکشن غیر قانونی نہیں۔؟ مذکورہ سرکاری ملازم سوشل میڈیا سٹار نے کہا کہ سارے افسر ہی بنا رہے ہیں میں کونسا اکیلا ہوں۔میں پہلے بھی بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ سرکاری ملازمین اصل کام چھوڑ کر شہرت کی ہوس میں پاگل ہوچکے ہیں۔ حکومتی مثبت ایمج سازی کی بجائے سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ ملازمین کی صحافتی سرگرمیاں کالم نویسی، وی لاگ، پوڈکاسٹ پر واضح اور مکمل پابندی ہونی چاہیے۔سرکاری ملازمین سارا دن میڈیا والوں کی منتیں ترلے کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے انٹرویو کرو۔بیرون ملک پوسٹڈ افسران کی اکثریت اوورسیز کمیونٹی کی خدمت کی بجائے اپنی ذاتی پروجیکشن، صحافتی سرگرمیوں پوڈکاسٹ اور تحائف اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس وجہ سے اوورسیز پاکستانی حکومت سے سخت ناراض ہیں۔
وزیراعظم اور وزیراعلی کو چاہیے کہ بلا تاخیر سرکاری ملازمین کی صحافتی سرگرمیوں اور سیلف پروجیکشن پر پابندی عائد کریں۔ حکومتی امور کی تشہیر کے علاوہ افسران کے ہر طرح کے ذاتی انٹرویوز پر بھی مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر
عالمی یومِ خواتین پر ہمیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے ادب کے شعبے میں ” سوچ عورت ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے ہم خدا، والدین، شوہر، بچوں اور آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا بے حد شکریہ۔
جب ہم نے لکھنا آغاز کیا تو بس ایک آگ تھی جو خود بخود کاغذ پر الفاظ کی صورت اختیار کیا کرتی تھی۔ جب ادراک ہوا کہ ہم لکھ رہے ہیں تو بس ایک دھن تھی کہ اس دنیا کو خوب صورت دیکھنے کا ہمارا خواب پورا ہو جائے۔ جب احساس ہوا کہ لوگ ہمیں پڑھ رہے ہیں تو خوشی کے بجائے فکر لاحق ہوئی کہ لکھنا تو بڑی ذمہ داری کا کام ہے کیوں کہ اب یہ ذاتی معاملہ نہیں رہا۔
ہمیں خوشی ہے تو اس بات کی کہ ہم نے دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھا، اپنے دل سے محسوس کیا، اپنے ذہن سے سوچا اور جو درست سمجھا وہی لکھا۔ ہم نے اپنی تحریر میں فکری پر مائیگی، مطالعاتی بصیرت اور مشاہدے کی گہرائی وغیرہ کا دعویٰ کبھی نہیں کیا تاہم تمام تر انکسار کے باوجود یہ اصرار ہم نے ہمیشہ کیا ہے کہ جذبات و احساسات اور خیالات کی سچائی اور سنجیدگی کو ہم نے ہمیشہ فن کی بنیاد جانا ہے۔ ہماری سوچ لوگوں کو شعور، ہمت، طاقت اور مسرت دے رہی ہے یہ احساس ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
ہم نے شہرت کی کبھی نہ خواہش کی، نہ کوشش اس لیے اس کی قیمت بھی نہیں چکانی پڑی لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنے، اپنے دل سے محسوس کرنے، اپنے ذہن سے سوچنے اور حق بات کہنے اور لکھنے کی قیمت ابتدا سے چکائی اور آج تک چکاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں بلکہ گہری طمانیت ہے۔
آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ ہمیں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی ناپسند کرتا ہے تو اس کا بھی شکریہ کہ توجہ تو اس کی بھی ہماری تحریر پر ہے۔اور ہاں! یہ ایوارڈ کی جو جگہ جگہ تصاویر ہیں یہ اس مرد کی خوشی کا شاخسانہ ہیں جس نے ہمیں عورت ہونے کا احترام دیا۔ ہمیں انسان سمجھتے ہوئے پوری جگہ دی اور ہمارے وجود کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس وجود کو مقدم جانا۔ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کسی بھی کامیاب عورت کے پیچھے صرف مرد کا نہیں بلکہ ہمیشہ بھرے پرے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس عورت کی کامیابی سے خائف نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنا وزن رکھتا ہے، وہ کسی صورت اس عورت سے کم نہیں ہو جائے گا

خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقاریب، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ تاہم، اس دن کے بعد جو افسوسناک واقعہ سامنے آیا، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کے حوالے سے ابھی بھی ایک بڑی خاموشی اور لاپرواہی کا عالم ہے۔8 مارچ کے بعد، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف 9 پارک کے قریب ایک معروف فوڈ چین کے باہر ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان خواتین کو سڑک پر زدوکوب کر رہا ہے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا.اس ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچائی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک نئے سوالات اٹھا دیے۔ویڈیو میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے ساتھ تشدد کا ہے بلکہ اس میں ان کی بے بسی اور بدترین صورت حال بھی سامنے آتی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 23 فروری کی رات خواتین کو مارا پیٹا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔
پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمال کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ 10 مارچ کو یہ انکشاف ہوا کہ ملزم جمال اور متاثرہ خواتین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سب محض ایک غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے وہ یہ مقدمہ واپس لے رہی ہیں۔ خواتین نے عدالت میں یہ کہا کہ اگر جمال کو ضمانت ملتی ہے یا وہ بری ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم جمال نامی شخص کو گرفتارتو کر لیالیکن ایسے لگتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ لمبے تھے، اندراج مقدمہ کے بعد تشدد کا شکار خواتین نے ملزم کے ساتھ صلح کر لی اور عدالت میں بیان دے دیا کہ غلط فہمی ہوئی…ابے غلط فہمی کس چیز کی…ویڈیو سامنے آئی…تشدد ہوا..سر عام ہوا..مقدمہ درج ہوا…پھر غلط فہمی کس بات کی….یہی چلتا ہے پاکستانی معاشرے میں..ملزم کو ضمانت ملے گی کل وہ کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنائے گا پھر آوازیں اٹھیں گی ہائے خواتین پر تشدد..لیکن یہ جو خواتین تشدد کے بعد بھی صلح کر رہی…اب نام نہاد خواتین کے حقوق کی دعویدار تنظیموں کے منہ کو تالے کیوں لگ گئے، آئیں سامنے اور کہیں کہ ہم مدعی بنیں گی لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گی.
یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کرسکیں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ پاکستان میں خواتین کو تحفظ چاہیے تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مار کھا کر صلح کر لینا، مجرم کو مزید شہہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسی عورت کو ظلم کا سامنا ہو اور وہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو یہ ظلم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔کل کو اگر ان خواتین کو کہیں اور سے تشدد کا سامنا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان خود ہی ہوگی جنہوں نے اپنی خاموشی سے مجرم کو مزید حوصلہ دیا۔ ہمیں اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ حقوق کا تحفظ صرف اس صورت ممکن ہے جب ہم ان کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور معاشرتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت، ادارے، اور خواتین کی خود کی کوششیں اہم ہیں۔ ہمیں خواتین کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہوگا، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں اور معاشرتی سطح پر اپنی مقام بنا سکیں۔ جب تک ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، تب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل پائیں گے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات ہمیشہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان
مریم نواز شریف کے میو ہسپتال والے وزٹ سے اب تک میں نے لاہور اور پنجاب کے درجنوں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کا فیڈ بیک لیا تو 100فیصد کی رائے تھی کہ مریم نواز کے میو ہسپتال کے ایم ایس کی معطلی کے بعد باقی ہسپتالوں میں بھی فوری بہتری آئی ہے تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی احتساب کا ڈر ہوا ہے۔ خاص طور پر میو ہسپتال کے مریضوں اور لواحقین کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ان کی دل کی آواز بنی ہیں، مریم نواز کے وزٹ سے پہلے ڈاکٹرسرنج اور برنولہ تک باہر سے منگواتے تھے جبکہ محکمہ صحت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ سرنج اور اتنے ہی برنولہ میو ہسپتال کے پاس موجود تھے۔
پاکستان میں شعبہ صحت کیلئے گذشتہ تیس سالوں میں ہم نے ورلڈ بینک سے 2ارب20کروڑ ڈالر سے زائد کے پراجیکٹس لیے۔
دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی فنڈنگ اور حکومت کا سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود شعبہ صحت میں تنزلی کی وجہ صرف یہی ہے کہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز ڈاکٹرز کے حوالے کردیے۔ انتظامی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے بدانتظامی اور کرپشن کی نظر ہو گئے۔
میں نے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی ایم ایس کی سیٹ کوختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگانا ہوں گے۔
ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹنٹ کرنل، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ انیس کے افسران کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے،ان افسران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بلیک میلنگ اور ہڑتال ہوجائے تو پھر کہیے گا۔
ڈائریکٹر فنانس پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے چاہئے۔ایڈمنسٹریشن اور فنانس کی سیٹوں پر کسی بھی صورت ڈاکٹر کو نہیں لگانا چاہئے۔
تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیلئے گریڈ 18کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس افسران بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل لیول اور چھوٹے ہسپتالوں کیلئے گریڈ 17اور 18کے ایڈمنسٹریٹو تجربے کے حامل ایڈمن افسران کی بھرتی کی جائے۔
شعبہ صحت میں بہتری کا واحد حل یہی ہے کہ ڈاکٹرز کو انتظامی عہدوں سے مکمل الگ کر کے صرف علاج معالجہ پر فوکس کرنے کا کہا جائے اور انتظامی سیٹوں پر انتظامی افسران کی تقرری کی جائے۔
شعبہ صحت میں بہتری کے لیے پریکٹیکل اقدامات پر جہاں عام عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہی ہے وہیں چند سرکاری ڈاکٹر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف محاذ بنائے ہوئے غلیظ کمپین کر رہے ہیں ۔
میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحافی اور یوٹیوب پوڈکاسٹر بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی صحافتی سرگرمیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پیڈا ایکٹ لگایا جائے جبکہ حکومت مخالف پروپیگنڈا کرنے والے باقی افراد پر پیکا ایکٹ لگانا ہی واحد ہے۔








