آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
لاہور ؟
لاہور ؟
لاہور ؟
یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
Thank-you!
اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
ایک نہیں۔
دو نہیں۔
تین نہیں۔
چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
دور دور تک کوئی نہیں۔
مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
میرے بعد کوئی نہیں یے !
الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔
‘
‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
کیوں کہ:
ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
Author: باغی بلاگز
-

ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق
-

منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ، اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ایک ایسی ہی شخصیت سعید خان المعروف اداکار رنگیلا کی بھی تھی جو اپنی لازوال اداکاری کے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے اور آج رنگیلے کو ہم سے جدا ہوئے بیس سال گزر گئے لیکن وہ اپنی خودساختہ اداکادی کی وجہ سے رہتی دنیا تک ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
سعید خان المعروف اداکار رنگیلا دنیائے شوبز کا وہ نام ہے جس کا نام لیتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے انڈسٹری کو ایک نئی جہت اور ایک نئی پہچان دی ۔24 مئی 2025 ء کو رنگیلے کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال مکمل ہو جائیں گے ، لیکن ہم چاہ کر بھی رنگیلے کی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ سے بے نیاز ہو کر نہ صرف پاکستان فلم انڈسٹری کا نام روشن کیا بلکہ انڈسٹری پر اپنے عہد کی ایک گہری چھاپ چھوڑی ۔ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی ۔ انہوں نے چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے شائقین فلم کو محظوظ کیا ۔
اداکار رنگیلا یکم جنوری 1937 ء کو ضلع ننگرہار ، افغانستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد سعید خان تھا ، جبکہ انڈسٹری میں شہرت انہوں نے اپنے مزاحیہ نام رنگیلا سے حاصل کی ۔ذریعہ معاش کے سلسلے میں انہوں نے افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور اور بعد میں لاہور کا رخ کیا ، جہاں شروع میں انہیں فلمی سائن بورڈ پینٹ کرنے پڑے ، لیکن بعد میں باضابطہ فلمی کیریئر کا آغاز 1958 ء میں فلم "جٹی” سے کیا ۔ اس فلم میں رنگیلا مزاحیہ اداکار کے طور پر سامنے آئے ۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ۔ اس فلم میں لوگوں نے رنگیلے کے کردار کو بہت پسند کیا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھان لی ، یہی کامیابی بعد میں جنون کی کیفیت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگیلے نے اپنے آپ کو فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار ، کہانی نویس اور موسیقار کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔
1969 ء میں رنگیلا نے اپنی پروڈکشن میں پہلی فلم ” دیا اور طوفان ” بنائی جس میں انہوں نے بحیثیت فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار اور مصنف کام کیا ۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے رنگیلے کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگا دئیے ۔ اس فلم میں رنگیلے نے اپنا لکھا ہوا گانا ” گا میرے منوا گاتا جا رے ، جانا ہے ہم کا دور ” بہت دردناک آواز میں گایا ۔ یہ گانا اسی فلم کے ہیرو اداکار اعجاز پر فلمایا گیا ۔اس کے بعد ” رنگیلا پروڈکشن "کے بینر تلے ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں ایک فلم "رنگیلا ” 11 ستمبر 1970 ء کو پاکستانی سینما کی زینت بنی جس میں رنگیلے نے ٹائٹل رول ادا کیا ، اس فلم کے نغمات اسٹریٹ ہٹ ثابت ہوئے ، اس فلم میں رنگیلے کے گائے ہوئے دو نغمے بھی شامل کئے گئے جو بہت مشہور ہوئے ، جن میں ایک نغمہ ” ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ، آج ان کی تعبیر ملی ۔ ” اور دوسرا ” منور ظریف کے ساتھ ” چھیڑ کوئی سرگم ” یہ دونوں نغمے موسیقار کمال احمد نے لکھے ، اور اس فلم کی موسیقی بھی خود کمال احمد نے ترتیب دی ، اسی فلم کا ایک گانا تصور خانم کی آواز میں اداکارہ نشو بیگم پر پکچرائز کیا گیا ، ” وے سب توں سوہنیاں” نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا ۔ الغرض یہ فلم منفرد انداز میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی ۔
یکم اکتوبر 1971 ء میں ان کی ایک اور ہیٹ ٹرک فلم ” دل اور دنیا منظر عام پر آئی ۔ اس فلم نے بھی کراچی سرکٹ میں شاندار پلاٹینم جوبلی منائی ۔ اس کے علاوہ ان کی سپر ہٹ فلم ” انسان اور گدھا ” جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی دیگر فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، نوکر مالک ، سونا چاندی ، مس کولمبو ، باغی قیدی ، تین یکے تین چھکے ، آنسو بن گئے موتی ، جیسے جانتے نہیں ، امانت ، دو رنگیلے ، کبڑا عاشق ، عشق نچاوے گلی گلی ، ہمراز ، ہیرو ، انٹرنیشنل گوریلا ، عورت راج ، دو تصویریں ، دوستی ، گہرا داغ ، بازار حسن ، میڈم باوری ، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ ، میری محبت تیرے حوالے ، صبح کا تارا ، گنوار ، جہیز ، نمک حلال ، دو رنگیلے ، ایمان دار ، بے ایمان ، کاکا جی ، راجا رانی ، امراؤ جان ادا ، پردہ نہ اٹھاؤ ، صاحب بہادر اور فلم قلی شامل ہیں ۔ رنگیلے کو بہترین سکرین پلے رائٹر ، کامیڈین ، مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے نو مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے جتنی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں وہ سب کی سب ہی لازوال اور اپنے عہد کی شاہکار فلمیں ثابت ہوئیں ۔ پردہ سکرین پر رنگیلے کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی ۔ رنگیلے نے فلموں میں کامیڈین سے لے کر ہیرو تک کا سفر انتھک محنت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر طے کیا ، یہاں تک کہ رنگیلے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔ رنگیلے کے پاس ہر ڈائریکٹر ، پروڈیوسر کی لائن لگی ہوتی کہ وہ ہماری فلم میں کام کرے ۔ رنگیلے نے اپنی محنت اور ذہانت سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی تقریباً تمام ہیروئن کے ساتھ کام کیا ۔
اداکار رنگیلے کی آواز بھارتی گلوکار مکیش سے ملتی تھی ۔ جب مکیش کا انتقال ہوا تو بھارت نے رنگیلے کو بطور گلوکار کام کرنے کی پیشکش کی ، لیکن مصروفیت کے باعث اس نے بھارت میں کام کرنے سے انکار کردیا ۔
رنگیلے نے تین شادیاں کیں ۔ چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اس عظیم اداکار کو زندگی کے آخری ایام میں گردوں ، جگر اور پھیپھڑوں کے مسائل نے آ گھیرا ، جس کے علاج کے لئے اسے کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں امداد کی پیشکش ہوئی تو اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔ وفات سے پہلے اداکارہ نشو بیگم نے اپنے اور رنگیلے پر فلمایا گیا گانا ” وے سب توں سوہنیاں ” رنگیلے کے پاس بیٹھ کر اتنی دردناک آواز میں گایا کہ پاس بیٹھے سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سب لوگ رنگیلے کی زندگی اور صحت کے لئے دعائیں مانگنے لگے لیکن افق کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ ان موذی امراض کا مقابلہ کرتے کرتے بالآخر 24 مئی 2005 ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں اس ابدی سفر پر روانہ ہو گیا جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔ ان للہ وان الیہ راجعون ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم اداکار رنگیلا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔ -

ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم
کرونا وبا کے بعد پوری دنیا کے کام کرنے میں تبدیلی آئی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی مثال ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام ہے ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ورک فرام ہوم کئی لحاظ سے مفید ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں ،پہلے ہم ا س کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں
روزانہ دفتر آنے جانے میں کئی گھنٹے ضائع ہوتے ہیں، جو گھر سے کام کرنے کی صورت میں بچ جاتے ہیں۔
ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ، دفتر کے کھانے اور لباس کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔یہ بچت سالانہ ہزاروں روپے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو کام یا والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ سب ذہنی سکون میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جو کام کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔بغیر رکاوٹ کام کرنے سے بعض افراد کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔دفتر کے غیر ضروری شور، غیر متعلقہ ملاقاتوں یا داخلی سیاست سے بچاؤ ملتا ہے۔کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ملازمین دنیا کے کسی بھی مقام سے کام کر سکتے ہیں۔ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تک پہنچ سکتے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔افراد اپنے آبائی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔کم سفر کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔دفاتر میں توانائی کی بچت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایک "گرین ورک کلچر” کی طرف مثبت قدم ہے۔
ورک فرام ہوم کے چیلنجز
1. پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی کمی:ہر فرد کے لیے خود کو منظم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔گھر کے ماحول میں کام اور آرام کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے، جس سے توجہ متاثر ہوتی ہے۔غیر منظم معمولات، دیر سے سونا یا بروقت کام نہ کرنا عام مسائل بن جاتے ہیں۔
2. تنہائی اور ذہنی دباؤ:
دفتر کا سماجی ماحول نہ ہونے کے باعث انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ٹیم ورک، ساتھیوں سے مشورے، اور غیر رسمی گفتگو جیسے عوامل کی کمی ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
3. رابطے اور تعاون میں کمی:
ورچوئل میٹنگز ذاتی تعامل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔غلط فہمیاں اور موثر رابطے کی کمی ٹیم کے کام کو متاثر کرتی ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو آمنے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔
4. ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار:
مستحکم انٹرنیٹ اور جدید آلات کی عدم دستیابی کام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے ناآشنا افراد کے لیے یہ نظام ایک چیلنج بن سکتا ہے۔5. کارکردگی کی نگرانی کا مسئلہ:
گھر سے کام کرتے ہوئے آجر کے لیے ملازم کی کارکردگی اور وقت کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سے مائیکرو مینجمنٹ اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو ملازمین کے حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔6. کام کی زیادتی اور وقت کی حد بندی کا فقدان:
گھر اور دفتر کی حدود واضح نہ ہونے کے باعث "آف ڈیوٹی” وقت بھی کام میں لگ سکتا ہے۔یہ بات ذہنی تھکن (Burnout) اور جسمانی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ -

تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری
تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
دن تے گن میں مر جانا ای
تیرے بن میں مر جانا ای
میں گُڈی دے کاغذ ورگا
توں کن من میں مر جانا ای
جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
اوسے دن میں مر جانا ای
۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
تول نہ، من میں مر جانا ای
ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
مرن توں ڈردے او بادشاہو
مرن توں ڈردے او بادشاہو
کمال کردے او بادشاہو
کسے نوں مارن دا سوچدے او
کسے تے مردے او بادشاہو
تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
آپ تے صدقے ہو سکناں میں
اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
اکو واری کُھو لے بیبا
ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
جے میرے تے میں نئین مرنا
ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
“ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
پتھر اُتے لیک ساں میں وی
ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
آدم تک تے سبھ نوں دسنا
خورے کتھوں تیک ساں میں وی
حرمل جس دم تیر چلایا
چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
اوہنے گل سوئی ول موڑی
نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
عمرے! مینوں رول رہی ایں
تینوں نال دھریک ساں میں وی
ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
دُنیا بند پٹاری وانگر
کھولے کون مداری وانگر
ساہ جُثے دا سچا رشتہ
کھوٹا ساڈی یاری وانگر
دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
قسمے چیز کراری وانگر
اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
اُس بازار دی باری وانگر
اک ہیرے نوں کہندا رہناں
کٹ کلیجا آری وانگر
ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
میرے لیڑے رت بھرے نیں
تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
کٹھیاں جین دی عادت پا کے
وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
ہسن والی گلّ تے وی
ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
قسمت لُٹن آئی سی
کردا تے کیہ کردا میں
سارے بھانڈے خالی نیں
ہوکا وی نہیں بھردا میں
خود مریا واں تیرے تے
تیتھوں نہیں ساں مردا میں
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین -

اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی
اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

-

محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ
کس کی داستان پہلے کہیں مماثلت اتنی ہےکہ خدشہ ہے پہلے کی پڑھ کر دوسرے کی سمجھ جائیں گے سب۔ بہرحال شہرہ آفاق مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم کے صفحہ نمبر 269 ، باب شہر دو قصہ ذیلی باب پنجم میں ملا عبد الصمد عرف مُلا عاصی کا قصہ لکھتے ہیں جس میں ایک مقام پر ذکر ہے بی اے کے امتحانات سے قبل مُلا عاصی کی ریاضت کا جو انہوں نے کامیابی کے حصول کے لیے کی۔ کوشش ہے اپنے الفاظ میں بیان کروں مشابہت ہوگی چونکہ متاثرین مشتاق یوسفی سے ہوں لہذا قلم و اسلوب میں ان کا رنگ جھلکے گا کیونکر کہ مشتاق یوسفی کو جس نے بھی پڑھا سیکھالازمی یہ کمال صاحب کتاب کا ہے نہ کہ صاحب تحریر کا۔
ملا عاصی نے امتحان کی تیاری شروع کرنے کا آغاز کیا سب سے پہلے بازار سے سونف اور دھنیا خشک لائے اور اس کو ملا کر سفوف تیار کیا۔ اس کے بعد تمام تصاویر جو ان کے کمرے میں تھیں(انڈین ایکٹریسسز کی) اتار کر خاندان کے بزرگوں کے فوٹو ٹانگے ۔ مثنوی زہر عشق اور اس نوع کی کتب صندوق میں بند کیں۔ ہر کام اور عیش و عشرت چھوڑنے کا تہیہ کیا کرسمس کے دن سے یوم امتحان تک اور دل ہی دل میں Both days inclusive کہہ کر مسکرا دیے کی تیاری کے دباو کے زیر اثر چہرہ دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے لہذا آئینے پر کپڑا ڈالا۔سر منڈایا کہ دماغ کو تراوٹ ملے اس پر سرسوں کے تیل کی مالش کرائی 7 بادام توڑ کر ان کو پانی میں بھگویا کہ تاروں کی چھاوں میں رات بھر بھیگے بادام حافظہ بڑھاتے۔ علی الصبح بادام نوش فرمائے اور پھر بازار سے پچھلے پانچ سالہ پر چے، خلاصے اور کتب خرید کر لے آئے اس ذخیرہ میں سابق طلبا نے قلم زد اہم حصوں کے علاوہ ان خطرناک مقامات کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں اکثر طلباء فیل ہوئے بعض حصے تو مثل لائٹ ہاوس تھے جو علم کے سمندر میں بھٹکے مسافروں کو انتباہ کرتے تھے کہ یہاں کئی اداس نسلیں مدفون ہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سب سے لائق طالب علم کے پاس جاکر اس کی تمام کتب مستعار لیں محلے کے ایک لڑکے کو اجرت پر مقرر کیا کہ کہ ان کتب کو دیکھ کر اہم انڈر لائن حصے میری کتب پر بھی انڈر لائن کر دو اپنی کتب نے سائیکل پکڑی تمام تر درسی کتب معہ خلاصہ جات ایک پرانی کتابوں کی دکان سے خریدے اور پچھلے سال ٹاپ کرنے والے طالبعلم کے گھر جاکر اس کے اہم حصوں پر نشان لگوا لیے۔ واپسی پر کھڑے پیر پریس سے دو مہریں Important اور Most important بنوا کر ایک ٹاپر کی منت کی کہ بقدر اہمیت مہریں لگاتے جاو۔ اس کے بعد مُلا عاصی نے تمام کتب کے وہ حصے جو اہم نہ تھے قینچی سے کاٹ دیے کہ کتاب کی صخامت سے طبیعت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ، تجربہ اور کشف کی بنیاد پر چند مزید اسباق بھی کتر دیے۔ اس کے بعد جب ملا عاصی کو لگا کہ ممتحن کے خلاف آدھی جنگ تو وہ جیت چکے لہذا اب پڑھ لینا چاہیے تو انہیں یاد آیا کہ سب کتابیں پڑھ کر امتحان دینا کہاں کی دانائی ہے انسان کو خود سے بھی کچھ پتا ہونا چاہیے لہذا فیصلہ کیا کہ زندگی اور بینائی نے اگر وفا کی تو امتحانات تک چیدہ چیدہ کتب کے اہم حصے ایک نظر دیکھ لیں گے کس واسطے کہ ہر کتاب کو عرق ریزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب امتحان سر پہ پہنچا تو کمرہ نشیں ہو کر قریبی پڑوسی سے کہا کہ باہر سے تالا لگا دو تاکہ یکسو ہو کر پڑھائی ہو سکے لیکن شام تک دماغ کا تالا نہ کھلا۔ لہذا پڑھائی شروع نہ کی۔ ایک ہندو طالبعلم سے برہمچا رہنے کا گُر پوچھا تھا اس نے کہا تھا کہ سوئی پاس رکھو اور کسی بھی بری تمنا یا خیال کے آنے پر انگوٹھے میں چبھو لو خیر ایک گھنٹے میں دونوں انگوٹھے پن کُشن بن چکے تھے اب کی بار پاوں کے انگوٹھے میں پن چبھونی پڑی۔
رات ڈھلے سائیکل لی اور صبح تک شہر کے تمام پرنٹنگ پریس کی ردی بوروں میں بھر کر گھر منتقل کی اور کاغذ کی کترنیں جوڑ کر اندازے قائم کیے جس جس استاد پر شبہہ تھا کہ پیپر سیٹر ہو سکتا اس کے گھر کے ملازمین بچوں تک کو کھنگال ڈالا۔ گھر کے دروازے پر رات گئے جاکر مراقبہ کیا۔ جب امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا تو تمام کاوشوں پر مبنی دس سوال کا ایک پرچہ آوٹ کیا اور پوری رات گھوم کر علم کے متلاشی طلباء میں بانٹا۔ ستم بالائے ستم کہ ان کے آوٹ کردہ دس میں سے آٹھ سوال پہلے پرچے میں آ گئے اور ملا عاصی نے امتحان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ جس علم سے ذاتی فائدہ ہو رہا ہو وہ کشف باطل کر دیتا۔ غرض یہ کہ جتنی محنت انہوں نے کورس کے انتخاب اور پرچہ آوٹ کرنے میں کی اس کا ایک چوتھائی کر لیتے تو امتحان پاس ہوجاتا۔
محکمہ تعلیم کے بارے سمجھ تو گئے ہوں گے مختصراً عرض کر دیتا ہائیر سیکنڈری، ہائی ، مڈل پرائمری، پی ایس ٹی ، ای ایس ٹی، ایس ایس ٹی، ایس ایس، ٹرپل ایس، ہیڈ ٹیچر، ایچ ایم ایس ایم، سب کا حال بیان ہے الگ الگ ذکر قارئین کو الجھائے گا۔ اسمبلی میں ناخن چیک، بال چیک، یونیفارم چیک، ٹائی، کیپ بیلٹ لازمی۔ بعد از اسمبلی ناظرہ قرآن و ترجمہ بلحاظ کلاس ۔ منتھلی سٹوڈنٹ رینکنگ پروفارما، ٹیچر رینکنگ، حاضری رجسٹر پر الگ ایپ پر الگ روزنامچہ ترتیب دینا۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں میں رابطہ، داخلہ مہم اس کے ذیل میں کارنر میٹنگز، یوپی ای رجسٹر بنانا۔ داخلے اوپن تو ہیں ہی گھروں سے جاکر آوٹ آف سکول طلباء لانے داخلے کے ہر سال ٹارگٹ اکتوبر میں پھر نیا داخلہ ٹارگٹ، ڈی ورمنگ ہر سال، الیکشن، مردم شماری زراعت شماری، ووٹرز کا انراج، ویری فیکیشن، میٹرک نہم دہم۔ ایف اے امتحان، پیپر مارکنگ، پر یکٹیکل امتحان ڈیوٹی ، پولیو، کورونا چلو گزر گیا وہاں بھی رہی ڈیوٹی۔ گندم خریداری سرکاری طور پر جب ہو ٹیچرز کی ڈیوٹی کاکردگی ایپ پر زیبرا کراسنگ سکول کی ہر ہفتے پکچرز، سارا سال ڈینگی ایکٹوٹیز، سکول کے اندر شجر کاری، صفائی پنکھے تک صاف جالے ختم۔ پینے کا صاف پانی واش پوائنٹ واش کلب، سکول مینیجمنٹ کونسل اجلاس این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈ بینک کے چکر ایک ہیڈ چینج ہو تو سائن اپ ڈیٹ کرانے کے لیے دو رنگین تصاویر، شناختی کارڈ بائیو میٹرک ویری فیکیشن سیلری سلپ کوسگنیٹری کی پینشن بک یا زمین کا فرد معہ فزیکل حاضری بینک۔ سکول میں کوئی درخت جو کٹوانا ہو دیوار کے پاس ہو یا موٹر کے تو درخواست ہائر اتھارٹی کو ان کی جانب سے محکمہ جنگلات کو فارورڈ محکمہ جنگلات کا وزٹ درخت کی سرکاری قیمت کا تخمینہ اس کے بعد کم از، کم بولی کا ریٹ مقرر، منتھلی پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کاروائیاں درج لگ۔ بزم ادب معہ رجسٹر کاروئی۔ Tablet پر اخراجات کا انراج الگ کیش بک پر مینوئل الگ ۔ باتھ روم صفائی، کریکٹر بلڈنگ کونسل اب سکول بیس ایمرجنسی پلان، سالانہ ایکشن پلان، ورک پلیس تحفظ جواتین کمیٹی، COT فارم، اے ای او وزٹ ایم ای اے وزٹ، ٹیچر ڈائری مکمل لیسن پلان بنے ہوں۔ دفتر سے روزانہ تقریباً ڈاک اس سب میں پڑھائی کا تعلق ملا عاصی کی پڑھائی جتنا رہ جاتا
۔ اوپر سے 2018 کے بعد بعدبھرتی بند۔ ریشنلائزیشن معطل، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ -

ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان
ایسا لگتا ہے ٹریفک پولیس نے سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔ ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا والوں کے ترلے منتیں کرکے فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ فرمائشی انٹرویوز میں بلند وبانگ دعوے اور بھڑکیں مارنے کا مقصد اپنی کمائی کے اڈوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چھے لاکھ رکشے ہیں جن میں سے تین لاکھ کے قریب لاہور میں ہیں۔میں نے چند ماہ قبل بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں والوں کاسروے کیا تو ہر دوسرے رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ چلاتے ہیں اور اس کے عوض مختلف علاقوں کے حساب سے 500سے لیکر 2000روپے تک روزانہ دیتے ہیں۔ اگر تین لاکھ رکشہ ڈرائیور میں سے محض ایک لاکھ رکشہ والے 1000 روپیہ بھی دیں تو یہ رقم لگ بھگ دس کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اگر رکشہ والوں کے الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی 100میں سے کم ازکم 90 کی بیک سائڈ پر نمبر پلیٹ نہیں ہوگی۔ رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ, بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔ موٹرسائیکل اور رکشہ سمیت بے شمار ٹرانسپورٹ والے فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کررہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟
اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔
لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ آٹھ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان13لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے چالیس کروڑ روزانہ، 12ارب ماہانہ 144ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5446ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ اس سے بڑی لاقانونیت کیا ہوگی کہ موجودہ سی ٹی او کے دور میں ٹریفک پولیس لاہور پارکنگ کمپنی کے ملازمین کو سرکاری پارکنگ فیس وصول کرنے پر زدوکوب کرتی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کرواتی رہی ہے جبکہ غیر قانونی پرائیویٹ پارکنگ فیس وصول کرنے والے آزاد ہیں۔ پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔
مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مال اور پارکنگ سٹینڈ بغیر رجسٹریشن سو روپے سے لیکر پانچ سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔خطرناک پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ مافیا سرکاری جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ فیس صول کررہا ہے۔ مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔
ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سڑک اور بازار کے دونوں اطراف روڈ پر موجود غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سو فٹ چوڑی سڑک بامشکل 15فٹ باقی رہ جاتی ہے۔تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ کسی کو بھی سرکاری پارکنگ فیس کے بغیر گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
-

اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب بھارت نے پہلگام ڈرامے کا سارا الزام حسب روایت پاکستان پر لگا کر خطے میں ایک اور جنگی جنون کی لہر دوڑا دی۔ بھارت کی اس بے بنیاد الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا جواب پاکستان نے نہایت دانشمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے دیا۔ عالمی برادری کو باور کروایا گیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، تاہم اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پھر وہ دن بھی آیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، دس مئی کا دن، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری تاریخ میں ایک مثال بن گیا بلکہ دشمن کے تین ہفتوں پر محیط جنگی منصوبوں کو صرف تین گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی حکومت، جس نے جنگ کا شعلہ بھڑکانے کی کوشش کی، وہی حکومت چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔

آپریشن بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی پر پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ ہر طرف جذبہ حب الوطنی کی فضا قائم ہوئی اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی مناسبت سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے ایک پُروقار تقریب منعقد کی گئی ،اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے پر بلا تامل لاہور کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ صحافی دوست عباس علی بھٹی تھے۔ ہم پریس کلب لاہور کے قریب واقع ہوٹل پاک ہیری ٹیج پہنچے جہاں ممتاز اعوان نے پرتپاک استقبال کیا۔

تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتے سے ہوا، جس کے بعد قلم کے سپاہیوں نے ایک زبان ہو کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ناصر بشیر،اشفاق احمد،چوہدری غلام غوث،نوید شیخ،سید امجد حسین بخاری،ندیم انجم،عبدالصمد مظفر،حاجی لطیف کھوکھر،محمد نادر کھوکھر،امجد نذیر،محمد سعید،محمد دانش رانا،امان اللہ نیر شوکت،مہر اشتیاق احمد،ملک فیصل رمضان،سجاد علی بھنڈر،فہد نفیس،خرم شہزاد،محمد ابرار شریک ہوئے،اس کے علاوہ اپووا کے قائدین بانی و صدر ایم ایم علی،سینئر نائب صدر،حافظ محمد زاہد،نائب صدور: سفیان فاروقی، محمد اسلم سیال،جوائنٹ سیکرٹری، محمد بلال،ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن، نادر فہیمی بھی شریک ہوئے،مدیحہ کنول، نیلوفر سمیع، آصفہ مریم، نرگس نور، ثوبیہ خان نیازی، نادیہ وسیم، نیئر سلطانہ، یاسمین محمود،شاعرہ ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد،سونیا معراج، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول بھی تقریب میں شریک ہوئیں.

اپووا کی تقریب میں پرتکلف ناشتے کے بعد اس خوشی میں کیک کاٹا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ امن و استحکام کا پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ماضی میں ڈی ایس پی قصور بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مبارکباد دی گئی اور اُن کے ادبی و انتظامی کردار کو سراہا گیا۔اپووا کی اس تقریب نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے اہلِ قلم صرف تخیل کی دنیا میں ہی نہیں جیتے، بلکہ جب وقت آئے تو وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اپووا نے ایک نئی مثال قائم کی کہ لکھنے والے بھی دفاع وطن کے محاذ پر پیچھے نہیں رہیں گے۔ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے جسے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج کے دن ہم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔بانی صدر ایم ایم علی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جلد ہی اپووا کا وفد قصور کا دورہ کرے گا۔



-

صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان
پاکستانی معاشرے کے لیے اہم وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ملک کو دانشورانہ سرمایہ فراہم کر سکتی ہیں ، نیز اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات کے ساتھ زیادہ قریب سے جوڑنے ، اساتذہ کے علم کو بڑھانے ، اداروں کے درمیان صحت مند موابلے کو فروغ دینے اور علم سے جڑی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صنعت کاری کو فروغ دینے ، تکنیکی پارکس بنانے اور یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی پہل اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد کرے گی ۔ پیداوار میں اضافہ ، مسابقت اور معاشی ترقی معاشرے اور کاروبار کے تمام شعبوں میں ہنر مند مزدوروں کو تخلیقی صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ ٹیلنٹ ہنٹ گالا کے دوران ، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے طلباء اور عہدیداروں کی شاندار بات چیت دیکھی گئی ۔ ملک کی تقریبا 80 معروف ترین کاروباری کمپنیوں نے نئی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور اپنے اداروں کی تشہیر کے لیے اپنے بوتھ لگائے ۔ اوپن ہاؤس میں کارپوریٹ سیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت ادارے میں دی جانے والی تعلیم پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے ۔
فاؤنڈیشن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباۂ کی مارکیٹ میں روزگار کی شرح بہت بہتر ہے ۔ 2024 کی بی بی اے کلاس کے آن لائن بزنس مالک اجواد عرفان نے اس رپورٹر کو بتایا کہ ان کے تقریبا 11 ساتھی کل وقتی کام کر رہے ہیں اور 5 یا 6 اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ۔ 2022 کے کمیونیکیشن سائنس گریجویٹ ، سید انیس ، جنہوں نے خود اپنی رائے شیئر کرتے ہوئے ایک ویگر اور انفلوئنسر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے ، نے نوٹ کیا کہ ان کی کلاس کا 70% مناسب ملازمت حاصل کر سکے لیکن اس شعبے میں نہیں جس میں وہ تعلیم یافتہ تھے بلکہ دوسرے شعبوں میں۔ یونیورسٹی کے دیگر گریجویٹس نے بھی اسی طرح کے تبصرے کئے ۔ اس لیے اگر کوئی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا چاہتا ہے تو تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مہارت اور پیداواری محنت میں سرمایہ کاری کرنا بہت ضروری ہے ۔ معاشی ترقی کئی عوامل سے نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے جن میں حکومتی پالیسی ، بیرون ملک تجارت ، سرمایہ کاری اور تکنیکی پیش رفت شامل ہیں ۔ حالیہ گریجویٹس تب ہی کام کر سکیں گے اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کالج اور وزارت صنعت تعاون کریں گے ۔ منافع پر مبنی کاروباروں کا اثر تحقیق میں یونیورسٹیوں کے روایتی کام پر سوال اٹھا رہا ہے ، اس لیے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔ چونکہ یونیورسٹیوں نے انڈرگریجویٹ تعلیم سے آگے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں ، اس لیے طلباء کو روزگار کے بازار کے لیے بہتر طور پر لیس کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ۔ اقتصادی تعاون اور معیار زندگی میں اضافہ کرکے ، یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونے میں متعلقہ رہنا ہوگا ؛ یہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے ۔ سمجھدار پالیسیاں جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اگر وہ لوگوں کو مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت دیں ، اس لیے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے ۔ پاکستانی صنعت انتہائی مسابقتی نہیں ہے ، اور کئی مطالعات نے اس کی بنیادی وجہ پرتیبھا کی عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی اکثریت اس سطح سے مطمئن نہیں ہے جس پر حالیہ کالج گریجویٹس کی مہارت کے سیٹ موجودہ ملازمت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔
عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیاں قابلیت سے زیادہ صلاحیتوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ان حالات میں ، ایک یونیورسٹی کے لیے شاندار صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹس تیار کرنا قابل ستائش ہے ۔ اس مسئلے کو تین اہم شعبوں کو حل کر کے حل کیا جا سکتا ہے ۔ گریجویٹس کے درمیان مہارت کے فرق کو دور کرنے کے لیے پہلے انٹرن شپ پروگراموں کو نافذ کرنا ، مارکیٹ پر مبنی کورسز بنانا اور کبھی کبھار اپ ڈیٹ کرنا ، اور صنعتی کلسٹرز کے لیے مہارت میں بہتری کے تربیتی منصوبے قائم کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارتیں وہ شعبہ ہے جس میں لوگوں میں اپنی مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلباء کو کئی شعبوں میں انٹرن شپ تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے میں ان کی مدد کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں ہنر مندی پیدا کرنے کے لیے مختصر سیمینار چلائے جانے چاہئیں ۔ ممکنہ کمپنیوں کا فی الحال کورسز کے ارتقاء پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، معاشیات ، کاروبار اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجودہ دستیاب کورسز سے کم مطمئن ہیں ۔ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وہاں کی یونیورسٹیوں کو سال میں ایک بار ہنر مندی کی ترقی ، بازار کی ضروریات کے ساتھ نصاب کی صف بندی ، اور جدت طرازی پر رپورٹ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ ایچ ای سی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ کافی بات چیت کریں اور ضرورت کے مطابق اپنے پروگراموں میں ترمیم کریں ۔ دوسرا ، اگر یونیورسٹیوں کا مقصد روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے ، تو تعلیمی تربیت کو مہارت کی تشخیص پر بنایا جانا چاہیے ۔ اس مقصد تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ مہارت پر مبنی تعلیم پر بہت زیادہ وزن کا اندازہ لگانا ۔ موجودہ درجہ بندی کا نظام تخلیقی اور مہارت پر مبنی سیکھنے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ عملی مثالوں کے ذریعے اپنے علم کو ظاہر کرنے والے طلباء کے بجائے حفظ اور بازگشت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ کام کے کافی تجربے اور قابل فروخت صلاحیتوں کی کمی کے باعث گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ طلباء کی تحقیق اور حتمی منصوبوں میں حاصل کردہ چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کرنے کے لیے درجہ بندی اور تشخیصی نظام کو بتدریج تبدیل کرنے سے روزگار کے فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔
یونیورسٹیوں کو طلباء کی خدمت کے مراکز اور معیار میں بہتری کے خلیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا تعین کرنے کے لیے طلباء کو باقاعدگی سے رائے شماری کرنی چاہیے اگر وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلباء یونیورسٹی کے نصاب کے ذریعے پیش کردہ ہنر مندی کے فروغ کے امکانات سے کتنے خوش ہیں ۔ تیسرا مسئلہ صنعت کے سلسلے میں تمام مہارتوں پر طلباء کی اوسط حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں منفی ادراک کا فرق ہے ۔ نوجوانوں کی ملازمت کی اہلیت ، پیداواری صلاحیت اور مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو مل کر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی سازوں ، اسکالرز اور کاروباری اداروں سب کو رابطے کی کھلی لائن برقرار رکھنی چاہیے اور جان بوجھ کر تعاون کرنا چاہیے ۔ مطالعے کی تمام سطحوں پر طلباء کو کمپنیوں کی طرف سے قابل قدر مختلف قسم کی صلاحیتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ، کیریئر کے مشورے کو یونیورسٹی کے کورسز میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ طلباء کے باقاعدہ پروگراموں بشمول کانفرنسوں ، سیمینارز ، ورکشاپس ، واقفیت ، اور مطالعاتی دوروں سے طلباء کو اپنے شعبے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ نیٹ ورک کرنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں ۔
-

"پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر : عائشہ اسحاق
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان سیز فائر کے نام پر ایک سازش کا شکار ہوا۔ وہ مقاصد آج بھی ادھورے رہ گئے جن کے لیے کئی دہائیوں سے بارہا کوششیں کی گئیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان اس سازش کا کس طرح سے شکار ہوا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 6 مئی 2025 کو بھارت پاکستان کے کئی شہروں میں حملہ آور ہو کر کھلی جارحیت دکھانے کے ساتھ ساتھ تمام تر جنگی قوانین اور بین الااقوامی حدود کی بھی خلاف ورزیاں کرتا رہا۔ بھارت نے پاکستان کی مساجد عام شہری بے گناہ مرد و خواتین اور معصوم بچے شہید کیے۔ پاکستان نہ صرف صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا بلکہ تمام عالمی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ بھی اس طرف دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ بھارت کس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر خاموش رہیں ۔ بھارت کو کھلی جارحیت سے روکنا تو دور کی بات رہی کسی نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر مذمت تک نہ کی۔ سب سے بڑھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر لا تعلقی دکھاتے ہوئےبیان دیا ہے کہ یہ معاملہ بھارت اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے اور وہ دونوں ممالک کے اس معاملے سے دور رہیں گے۔ مگر جب 10 مئی 2025 کو پاکستان نے ریٹیلییٹ کرتے ہوئے آپریشن "بنیان مرصوس” کا آغاز کیا اور بھارت کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ عظیم آپریشن محض چند گھنٹے جاری رہا جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی تنصیبات اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔بلا شبہ بھارت پاکستانی شاہینوں کے پنجوں میں جکڑا گیا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔ بھارتی مکروہ عزائم خاک میں مل چکے تھے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا غرور چکنا چور ہو چکا تھا۔ پاکستانی جانباز مجاہدین غازی بن کر لوٹے اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ پاکستانی قوم اپنے شاہینوں اور غازیوں کو تہ دل سے سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ عزوجل نے آپریشن "بنیان مرصوص” کو نصرت فرمائی اور یہ آپریشن اپنے نام کی طرح عظیم طاقت بن کر پوری دنیا کے دل و دماغ پر اپنا روعب و ہیبت طاری کرنے میں کامیاب رہا۔ بھارت پسپا ہو چکا تھا اور پاکستان اپنی طاقت ہمت ,شجاعت, زہانت اور دلیری کا لوہا پوری دنیا میں منوا چکا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب ایک نئی سازش کی گئی۔ بھارت اپنی پسپائی اور مزید ہونے والی تباہی کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہا تھا اسی وجہ سے مکار اور ہوشیار دشمن نے فورا جنگ بندی کی اپیل کرنا شروع کر دی اور بھارت کا ساتھی امریکہ فوری طور پر حرکت میں آگیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کل تک جو لا تعلقی کا بیان آرہا تھا وہ فورا تعلق میں بدل گیا اور دونوں ممالک کو مسئلح کاروائیوں سے روکنا شروع کر دیا۔ یہیں سے امریکہ کا منافقانہ طرز عمل واضح ہوتا ہے۔ جب تک بھارت پاکستان پر حملے کر رہا تھا اور جارحیت پھیلا رہا تھا ہمارے جوانوں اور معصوم سویلینز کو شہید کر رہا تھا تب تک امریکہ اس معاملے سے لا تعلق رہا اور جیسے ہی پاکستان نے ریٹیلییٹ کرنا شروع کیا اور بھارت پسپائی کی طرف گیا تو امریکہ فورا اس معاملے میں کود پڑا۔ یہ منافقانہ عمل واضح کرتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے بھارت کا حمایتی رہا۔ پاکستان نے سیز فائر کی پیشکش کو فورا قبول کرتے ہوئے ایک سنہری موقع ہاتھ سے گنوایا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان باسانی کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا۔ وہ کشمیری مسلمان بہن بھائی جو کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم تشدد اور بربریت کا شکار ہوتے رہے ہیں انہیں ان سے چھٹکارا دلایا جا سکتا تھا۔ سیز فائر کا سراسر فائدہ بھارت کو ہوا بھارت شروع سے ایک مکار دشمن رہا اس طرح سے بھارت کو دم سادھانے کا موقع ملا جو اوسان خطا ہو گئے تھے دوبارہ سے اپنا آپ سنبھالتے ہوئے بھارت ماضی کی طرح پھر سے کسی روز کوئی نئی چال چلے گا نیا وار کرے گا۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ بھی ابھی تک معطل ہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کشمیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے بھارت نے سیز فائر میں اپنی عافیت جانی۔ جب کہ پاکستان سیز فائر کی پیشکش کو جلد قبول کر کے بھارتی اور امریکی سازش کا شکار ہوا۔ بطور پاکستانی آج ہم سب خوشی منا رہے ہیں لیکن بطور مسلمان ہم بھارت اور امریکہ کی سازشی وار کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے مسلمان کشمیری مظلوم بہن بھائی جو اس آپریشن سے آزادی کی امید جگا کر انتظار کر رہے تھے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم سے نجات حاصل کر جائیں گے ۔نہایت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شکست خوردہ بھارت ان مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سنہرا موقع تھا جب پاکستان اپنے زور بازو پر کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑوا سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیز فائر کی پیشکش پر یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے تھا کہ کشمیر کو ایک آزادانہ ریاست قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات نہایت قابل غور ہے کہ اگر امریکہ کے کہنے پر پاک بھارت جنگ بندی ہو سکتی ہے تو اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو سکتی۔؟ آج جب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے تو بطور مسلمان گزارش ہے کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کو تنبیہ کرے کہ وہ فلسطین میں کیے جانے والے مظالم بند کرے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان امت محمدی اور پھر پاکستانی ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ اپنے دیگر مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بھی اسی طرح سے اپنی جرات اور طاقت کا مظاہرہ کریں جس دلیری اور شان کے ساتھ ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا۔ یہ ان مظلوموں کا ہم پر حق ہے اور ہمارا فرض ہے۔ لہذا کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پیش رفت ہونا بہت ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستانی میمز بنا کر لطف اندوز ہونے میں مصروف ہیں اپنے کشمیری اور فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں پر کیے جانے والے مظالم اور غم کو کس طرح سے فراموش کر سکتے ہیں۔ فلسطینی معصوم بچوں کی ہوا میں اڑتی لاشیں کس طرح سے بھول گئے ہیں وہ کشمیری بچے جو بھارتی ظلم و جبر کے وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں انہیں کیسے فراموش کر دیا گیا ہے۔؟ جب کہ وہ مظلوم ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ غزہ انتہائی غذائی قلت کا شکار ہے اور ہزاروں بچے بھوک پیاس کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں یاد رہے ان مظلوموں کے حوالے سے روز محشر جب ہم سے باز پرسی کی گئی تو ہم کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے کیوں کچھ نہ کیا۔ لہذا مسلمان ہونے کے ناطے پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان سے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر بہترین حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کریں۔