Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
    چمن میں آۓ گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے

    28 فروری بروز جمعہ کا دن ایک دلخراش خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔ جمعہ کی رات فیس بک پر سکرولنگ کے دوران دارالعلوم ثانی جامعہ حقانیہ میں ہونے والے المناک دھماکے کی خبر نظروں سے گزری۔ پہلے تو یقین نہ آیا، فوراً سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سچ ہے۔ دل پر جیسے بجلی سی گر گئی اور پورا دن انتہائی سوگوار گزرا۔ پھر دھماکے کے بعد کی ویڈیوز دیکھیں، وہ معصوموں اور بے گناہوں کے بکھرے وجود کا منظر، جو آنکھوں کے سامنے سے ہٹانا ناممکن لگتا تھا۔

    دل غم کی شدت سے تڑپتا رہا کیونکہ مدارس والوں کو تو مدارس سے عشق ہوتا ہے۔ آج تک عالمِ اسلام میں مولانا سمیع الحق کی کمی پوری نہیں ہو پائی تھی کہ ایک اور سانحہ امت مسلمہ پر ٹوٹ پڑا۔ شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آہ! امت مسلمہ پھر سے یتیم ہوگئی۔

    کاش کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے یہ سمجھ سکیں کہ ان کی سازشیں امت مسلمہ کے دل میں انتقام کی آگ سلگانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ اسلام کو جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ اتنا ہی ابھر کر پھیلے گا۔وہ تو جنت کے باسی تھے، راہِ حق میں قربان ہونے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے تھے، جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے کو کفر سمجھتے تھے۔ یقیناً جب وہ اللہ کے حضور پہنچے ہوں گے، تو فرشتوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔ لیکن ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام لوگوں کا کیا قصور تھا جنہیں ان کی ضرورت تھی؟ کیوں ہمیں رمضان المبارک کی شروعات میں لاشوں کا تحفہ دیا گیا؟

    اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین

    دیوانے گزر جائیں گے ہر منزل غم سے
    حیرت سے زمانہ انھیں تکتا ہی رہے گا
    آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
    گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے جو فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایک اہم دینی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے حالیہ دنوں میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا، جو انہیں فتنہ الخوارج کے گروہ کا نشانہ بننے کی وجہ بنا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خواتین کی تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے انہیں فتنہ الخوارج کی جانب سے متعدد دھمکیاں بھی ملیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے اس خودکش دھماکے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس حملے کا مقصد مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔فتنہ الخوارج کی طرف سے اس نوعیت کی دہشت گردی کے حملے نئی بات نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ماضی میں بھی مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے 17 مساجد، 32 امام بارگاہوں اور 21 مزارات کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کئی اہم مذہبی شخصیات جیسے مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، علامہ ناصر عباس، اور خالد سومرو کو بھی شہید کیا گیا۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دین کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے دشمن بن چکے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اس دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو اپنی سیاست کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے کے بجائے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس حکمت عملی اپنائے اور عوام کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔یہ خودکش حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے بلکہ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض انتہاپسند گروہ دین اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر دہشت گردی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد، یہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

  • قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    زمانے بعد کسی ادبی محفل میں جانا نصیب ہوا، جو یقیناً سراسر وقت کا ضیائع ہی تھا، شدید تھکن اور بےزاری کا عالم دیکھ ہی لیں، جتنا برداشت ہوسکا کیا اور پھر سب سے کونے میں موجود نشست دیکھ ” انٹاغفیل”
    خیر، جانا نہایت مجبوری ۔۔۔ محفل میں افسانہ، نظم، غزل پڑھی جانی تھی، جس پر تنقیدی نگاہ ڈالنی تھی ۔۔۔افسانہ ہماری دوست کا تھا، ہم نے سب سے پہلے سبو پیاری کے ساتھ شاعر حضرات کو فرشی سلام کیا، بہت ہی دل جگرے کی بات، سوشل میڈیا کے بےجواز اور بلاوجہ وقت پاس کرنے تنقید کوتو جھیل جاؤ، مگر بچگانہ بحث، منفیت تبصرے، آمنے سامنے برادشت کرنا ۔۔۔۔ ست سلام ۔۔ شاعری ہماری لائن نہی، اسی لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہی لیکن ۔۔۔لکھنا تو۔۔.۔۔ افسانہ تھا ایک پہاڑی علاقے کے مقامی لوگوں کا، پوسٹ مارٹم میں جو یوزلیس تبصرے ہوئے،انگشت بدنداں ۔۔ حیرت سے انگلیاں منہ میں دابنی ہی رہ گئ سمجھیں ۔۔ ہم سمجھتے رہے وقت کچھ بدل سا گیا مگر ۔۔۔ نہ جی ۔۔۔ سوائے ایک دو لوگوں کے، جنہوں نے واقعی ڈھنگ کا تجزیہ کیا تھا باقی ۔۔۔
    ” افسانے میں بلندیوں کا زکر ہے، پستی کا نہی ”
    افسانے میں بہار کا زکر یے خزاں کا نہی ”
    ” افسانے میں صرف مقامی کلچر کا زکر ہے ”
    ۔۔۔۔۔
    بہ خدا، دس پندرہ سال پرانا وقت یاد آگیا، جب سوشل میڈیا پر ایک ادبی گروپ میں شامل تھے، دنیا بھر کے فارغ بابا اور بابی و چند نئے نئے ” جامے سے باہرجاتے ” لوگ بھی نمایاں، دو چار انتہا درجے کے ” چغد و ٹھرکی” افراد ہمراہ ” عورت کے جسمانی خدوخال کو واضح انداز میں بیان کرنا اور ان کے زہنی مسائل کو اجاگر کرنا جو صرف بیڈروم و بستر کے اردگرد گھومتا رہ وغیرہ وغیرہ ” شامل تھا ۔۔۔ اور ہاں کچھ وہ خواتین نما نفسیاتی مسائل کا شکار عورتیں بھی جو ” نیوڈ پینٹنگ اور ان پر کھل کے تبصرہ ” کو ادب کا درجہ دیتیں، چند ایک بار کچھ لوگوں سے جب پوچھا، ہم بستری کے علاوہ دنیا میں کچھ لکھنے نہی تو جواب ملا، یہ حقیقت ہے، جب ان سے پوچھا صبح سویر انسان کو اٹھ کے صرف باتھ روم جانے کی چاہ ہوتی، وہ حقیقت نہی ؟؟ کبھی اس پر بھی تو گولڈن الفاظ ہوجائے تو ۔۔۔ خیر ہم اس ادبی گروپ سے نکال باہر کیے گئے کیونکہ ایک تو ہم ڈائجسٹ رائٹر دوسرا جب پوچھتے، آپ کے گھر جو عورتیں ماں بہن بیوی بیٹی کے نام پر خوبصورت جسم رکھنے والی موجود ان کے نفسیاتی مسائل حل کیے تو پتہ نہی انہیں برا کیوں لگ جاتا تھا، ماحول کااندازہ تو ہوہی گیا ہوگا ۔۔۔ تو ہم اپنی کم عقلی کو اولین ترجیحات میں رکھتے سمجھتے رہے، ادب کا پرچار کرنے والے الگ لوگ ہوتے ہیں، ہم کمرشل لکھاری کو اسی لیے کمتر سمجھتے کہ وہ زیادہ گہرائی میں جاکے سمجھتے پڑھتے لکھتے ۔۔۔۔ اور الحمدلله، ایک بار پھر ہم غلط ثابت ہوئے ۔۔۔۔ واقعی ادبی لکھاری و ڈائجسٹ لکھاری کا کوئی تال میل نہی ۔۔۔ ہم لوگ ان سے زیادہ نفیس و ادب آداب والے ہیں ۔۔۔ کم از کم بہت ہی کم کسی کمرشل لکھاری کو کسی کی بات کاٹ کے اپنی بات کرتے، کسی کا تعارف صبر سے نہ سنتے، اپنا وقت پاس کرتے تنقید کرتے، بحث برائے بحث دیکھا ہے
    ” ڈائجسٹ لکھاری ۔۔۔۔ سوکالڈ ادبی لکھاری سے زیادہ ادب رکھتے ہیں "

  • چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

    چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

    عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی ہے، ورلڈ بینک نے پاکستان کو پہلے ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا ہے جہاں وہ 10 سالہ شراکت داری کی حکمت عملی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ عالمی بینک پاکستان کو 20 بلین ڈالر کے قرضوں کے علاوہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک کے ذیلی اداروں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ذریعے مزید 20 بلین ڈالر کے نجی قرضے کی حمایت بھی کرے گا اس طرح کل پیکج 40 بلین ڈالر ہو جائے گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب پالیسیوں اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں چالیس ارب ڈالر کا تاریخی پیکچ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا لیکن وزیراعظم سے گزارش ہے کہ اس وقت پاکستان سرکاری ملازمین کی مزید کرپشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی سے لیکر حال تک یہی ہوتا آ رہا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز کو عوام کیلئے استعمال کرنے کی بجائے وہاں تعینات افسران خود کو ورلڈ بینک اور باقی سب کو حقیر سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں، پراجیکٹ ہیڈ لگنے والے افسر کاسب سے پہلے نعرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ میں اتنے سو ارب کا مالک اور اکیلا ہائرنگ فائرنگ اتھارٹی ہوں۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے عوام کے نام پر حاصل کیے گئے ہزاروں ارب لوٹ کر بیرون ملک اپنی جنت بنانے والے سرکاری افسران پاکستان کو عام آدمی کیلئے جہنم بنا رہے ہیں۔ ہوش ربا کرپشن کی واردات رقم کرنے کیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم کے منصوبے میں گریڈ 18کے جونئیر کو ’’آل ان آل‘‘ لگانے والا اور شیلڑ دینے والے سینئر افسران برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ تین سے چار افسران مل کر مجموعی منصوبے کا بیس سے چالیس فیصد لوٹ لیٹے ہیں۔ حکومت کو ان منصوبوں کیلئے افسران کے لاڈلے اور کمائوپتر افراد کی بجائے ایماندار افسران کا تقرر کرنا چاہئے۔ کرپٹ ترین افسران کو ڈوئیر کا نام دے کر سیاہ و سفید کی آزادی دینا ہرگز عقلمندی نہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ورلڈ بینک سے ہم 363پراجیکٹ کی مد میں 49183ملین ڈالرز یعنی 14ہزار ارب لے چکے ہیں۔ ورلڈ بینک کی فنڈنگ اور قرضوں سے حالیہ رننگ پراجیکٹس کی رقم لگ بھگ چار ہزار ارب سے زائد ہے۔ وفاق میں ایک ہزار ارب سے زائد کے پراجیکٹس ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے چل رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ڈیمز کی ایکسٹیشن اور تعمیر کے 772ارب کے علاوہ 576ارب کے مختلف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ سب سے زیادہ 992ارب کے پراجیکٹس سندھ میں جبکہ پنجاب میں 621ارب اور بلوچستان میں 76ارب کے پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا صرف رننگ پراجیکٹس کا ہے۔ ورلڈ بنک فنڈنگ والے منصوبوں میں 30ارب سے لیکر 500ارب تک کے پراجیکٹس ہیں۔ درجنوں ایسے پروگرام چل رہے ہیں اور سینکڑوں آئے اور ختم بھی ہوگئے۔ پچیس کروڑ عوام کے نام پر کئی سو کھرب روپے کے فنڈز مخصوص افسران کھاگئے۔ پہلے والوں کااحتساب جب ہوگا تب سہی کم از کم موجودہ لوٹ مارکرنے والوں کا ہاتھ روکنے کیلئے ’’ انٹرنیشنل فنڈز مانیٹرنگ اتھارٹی‘‘ بنائی جائے۔ ضروری ہے کہ اس اتھارٹی میں آرمی کے افسران، آڈیٹر اور ایکسپرٹس رکھے جائیں۔احتساب اور میرٹ کیلئے واحد حل آرمی افسران پر مبنی اتھارٹی کا قیام ہے اگر سول افسران رکھے گئے تو یہ بھی ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی طرح فنڈنگ پراجیکٹس والے افسران کی کرپشن روکنے کی بجائے حصہ وصول کر کے سب اچھا کی رپورٹ کر دیں گے۔ آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یو ایس ایڈ اور دیگر بین الاقوامی پراجیکٹس میں عجب کرپشن کی غضب داستانیں ہیں۔ ماضی میں سب سے زیادہ کرپشن صاف پانی، زراعت، کلائمیٹ چینج، وائلڈ لائف و جنگلات، حقوق نسواں، صحت اور تعلیم کے فنڈڈ پروگراموں میں کی گئی ہے۔ اربوں روپے کے ان میگا پراجیکٹس کے باوجود ان شعبوں میں بہتری اس لیے نہیں ہوسکی کہ جن پراجیکٹس کے نام پر کھربوں روپے کے قرضے لیے اور کھائے گئے عام آدمی تو درکنار سرکاری ملازمین کی اکثریت نے انکا نام تک نہیں سنا۔ فائیو سٹار ہوٹل میں رہائشیں اور سیمینار کرکے بلز بنائے جاتے ہیں۔ مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زائد ریٹ پر پرائیویٹ عمارتیں کرایہ پر لیکر من پسند افراد کو نوازا جاتا ہے اور کک بیک کی صورت ریگولر کمائی کی جاتی ہے۔ ایک پراجیکٹ میں درجنوں دفعہ اسیسمنٹ اور ویلوایشن کے نام پر کنسلٹینسی فیسیں دی جاتی ہیں۔ من پسند افراد کو من مرضی کے پیکج بانٹے جاتے ہیں۔ اگر سرکاری افسران کی یہ ساری جعل سازیاں اور دونمبریاں بند نہ کیں تو آج لیا ہوا چالیس ارب ڈالر یعنی 11158ارب روپیہ، ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کی پیش نظر مستقبل میں تیس سے چالیس ہزار ارب ڈالر کرکے واپس کرنا پڑے گا۔ ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کو روکنے اور روپے کی قدر میں اضافے اور بیرونی قرضے کے درست استعمال کیلئے آزاد اور خود مختار مانیٹرنگ ایجنسی بنانا ناگزیر ہے۔ مانیٹرنگ ایجنسی وفاق سمیت تمام صوبوں میں موجود انٹرنیشنل فنڈنگ کے تمام منصوبوں کی تحقیقات میں بالکل آزاد ہونی چاہئے کیونکہ اس بیرونی قرض کے منصوبوں میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں جو ریکارڈ ساز لین دین ہوئی ہے اس کا خمیازہ تو حکومت پاکستان اور عوام کو ہی بھگتنا ہے۔

  • اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ!
    آج میں ایک باپ کی حیثیت سے آپ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، میری دنیا اجڑ چکی ہے، میری امیدوں کا چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ میں حیدر علی، ایک مظلوم باپ، جس کے جگر کا ٹکڑا، 23 سالہ معصوم صفدر علی، ناحق قتل کر دیا گیا۔ وہ میرا خواب تھا، میری امید تھا، میرے بوڑھے کندھوں کا سہارا تھا، مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    سمن آباد، فیصل آباد کی وہ سڑکیں، جو کبھی میرے بیٹے کے قدموں کی آہٹ پہ مسکراتی تھیں، آج سسک رہی ہیں۔ میرے صفدر کو نانا پاپا پیزا شاپ کے مالک کے حکم پر ایک بے حس سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار دی۔ ایک ایسی گولی جو میرے بیٹے کے سینے میں اتری اور میرے دل کو چھلنی کر گئی۔ کیا یہ ہے قانون؟ کیا ایسے قتل عام کا کوئی حساب نہیں؟ کیا میرے بیٹے کا خون اتنا سستا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخص اپنی مرضی سے اسے بہا سکتا تھا؟صفدر علی کوئی بدمعاش یا جرائم پیشہ فرد نہیں تھا، وہ تو صرف اپنی محنت کی کمائی سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کے خواب، اس کے ارمان، سب ایک لمحے میں چھین لیے گئے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرے بچے کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں مارا گیا؟

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، کیا میرا بیٹا قصوروار تھا؟
    آپ بھی ایک ماں ہیں، آپ بیٹے،بیٹیوں کی عزت کی داعی ہیں، آپ نے ہمیشہ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا لخت جگر اس کے سامنے خون میں لت پت ہو۔ مگر میں ایک باپ ہوں، اور میرا دل اس دکھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحبہ! میری اہلیہ کا برا حال ہے، وہ دن رات اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کو یاد کر کے تڑپ رہی ہیں۔ ہم سب کو انصاف چاہیے۔ ہمیں بس یہی پوچھنا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کا خون اتنا ارزاں ہو چکا ہے کہ کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص، کسی بھی دن، کسی بھی وقت ان کی جان لے سکتا ہے؟

    قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے!
    ہمیں بتایا گیا ہے کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، لیکن کیا ان پر واقعی وہی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جو کسی عام مجرم پر ہوتا؟ یا پھر وہ بااثر ہونے کی بنا پر کسی رعایت کے منتظر ہیں؟ بتانے والے بتاتے ہیں کہ حوالات میں وہ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف مقدمہ درج ہو، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ صرف زبانی تسلیاں دی جائیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، وہ انصاف جو کھلی آنکھوں سے نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی ماں کے لعل کو یوں چھیننے سے پہلے ہزار بار سوچے۔یہ کیس صرف صفدر علی کا نہیں ہے، یہ ہر محنت کش کا کیس ہے، ہر اس باپ کا کیس ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رات دن ایک کرتا ہے۔ اگر آج صفدر کے قاتل آزاد گھومتے رہے، اگر آج ان کو ان کے جرم کی سخت ترین سزا نہ دی گئی، تو کل کوئی اور صفدر علی مارا جائے گا، کوئی اور ماں اپنا بیٹا کھو دے گی، کوئی اور بہن اپنے بھائی کی جدائی میں آنسو بہائے گی۔میری اپیل، میری آخری امید
    محترمہ مریم نواز صاحبہ، میں آپ کے انصاف پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کیس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔ آپ کو اپنے صوبے کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، اور میرے بیٹے کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوا کر ثابت کرنا ہے کہ پنجاب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں:صفدر علی قتل کیس کو فوری طور پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں لایا جائے۔
    ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں۔اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے تاکہ میرے بیٹے کے خون کے ساتھ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔نانا پاپا پیزا شاپ کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور اس کے مالکان کو بھی برابر کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے ایک معصوم جان کے قتل کا حکم دیا تھا۔سیکیورٹی گارڈز کے غلط استعمال پر سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی غیر ذمہ دار شخص کسی کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، میں ٹوٹ چکا ہوں، مگر انصاف کے لیے ابھی بھی کھڑا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری فریاد سنیں گی اور میرا دکھ بانٹیں گی۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو کل یہ آگ کسی اور کے گھر پہنچے گی۔
    میں انصاف مانگتا ہوں، میں انصاف کا حق دار ہوں!
    اللہ آپ کو اس آزمائش میں سرخرو کرے اور آپ کو وہ ہمت دے کہ آپ ایک مظلوم باپ کے آنسو پونچھ سکیں۔حیدر علی، والد صفدر علی

  • عالمی تحفظ ختم نبوت  کانفرنس پچنند .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچنند .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    الحمداللہ اس بار عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچنند ضلع تلہ گنگ کی تیرہویں سالانہ کانفرنس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی قصبہ پچنند ایک پسماندہ اور دور افتادہ علاقہ ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ دوسو کلومیٹرز دور مغربی سمت میں واقع اس علاقے میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے اغراض ومقاصد کا علم ہونا ضروری تھا بچپن سے یہ تو سن رکھا تھا کہ یہاں قادیانی فتنہ کا وجود بھی ہے لیکن اس فتنہ کے دجل وفریب کی داستان کا علم ہرگز نہیں تھا یہاں لوگوں کی زندگیاں اسی غفلت میں ہی گزر رہی تھیں اورقریب ہی ایمان فروشی جیسا گھٹیا ترین عمل جاری تھا اور مسلسل پھیل رہا تھا سادگی اور آگہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ غلاظت تعفن پھیلانے کا سبب بنتی رہی برطانوی راج کے دوران چالاک انگریز نے مرزا قادیانی کو اپنا شر پھیلانے میں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اس دوران بہت سے مسلمان مرتد ہوئے اور ہمارے سچے مذہب اسلام کو نقصان پہنچایا گیا.

    پچنند میں قادیانی فتنہ کا آغاز یہاں کے مقامی ایک شخص محمدخان سے ہوا جو برطانوی فوج کا ملازم تھا یہ 1914ء میں قادیانی ہوا انگریز سرکار کی طرف سے اسے نوازا گیا اور اس نے پچنند میں باقاعدہ اپنی چوہدراہٹ قائم کرلی تب انتظامی امور انگریز کے ہاتھ میں تھے جس کی وجہ سے یہاں قادیانیت کے شر کو پھیلانے میں آسانی تھی اس دوران بیس کے قریب مسلمان قادیانی ہوئے جن کی اولادیں اکثریت میں آج بھی اسی فتنہ کی پیروکار ہیں پچنند کے سرکاری سکولوں میں قادیانی ٹیچرز بھرتی کئے گئے سادہ لوح لوگوں کو بھٹکانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے گئے مالی طورپر مستحکم ہونے اور بااثر ہونے کی وجہ سے ایک وقت میں پچنند کا نمبردار بھی قادیانی تھا یعنی قادیانیت اپنے عروج پر تھی اور یہ چالاکی اور بدمعاشی سے اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے تھے 97 سال بعد اس دھرتی پر اللہ رب العزت نے کرم کیا عالمی تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے امیر حضرت مولانا عبیدالرحمن انور اور بزم شیخ الہند کے جید علمائے کرام نے اس فتنہ کی روک تھام کے 2011ء میں اپنا عملی کردار ادا کرنا شروع کیا اس دجل وفریب اور ان کفریہ عقائد سے ایمان بچانے کے لئے ان علمائے کرام کا اس سر زمین پر ایک بہت بڑا احسان ہے میں نے کانفرنس سے پہلے جماعت کے ضلعی امیرمولانا عبیدالرحمن انور سے مقامی سطح پر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کانفرنسز پر بات کی کہ یہاں سادگی اور شعور کی کمی کی وجہ سے رسول اللہ کی زندگی جو ایک عملی نمونہ ہے اس بارے لوگوں کے اندر شعور پیدا کیا جائے لیکن چونکہ مجھے تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی بنیادی ضرورت کا علم نہیں تھا جو بعد ازاں انہی علمائے کرام کی محنت سے میرے علم میں لایا گیا میں نے محسوس کیا کہ بلاشبہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہی تو یہ بنیادی درس ہے جو اسی کانفرنس میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے اسی فتنہ کے خاتمے کے لئے جب اتنا بڑا کام کیا جارہا ہے تو یقیننا عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعور ہی تو پیدا ہورہا ہے مجھ جیسے بہت سے سادہ لوح شاید اس کام کو چھوٹا سمجھیں لیکن ختم نبوت پر ایمان ہی اصل ایمان ہے اوریہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کا تحفظ ہم مسلمانوں پر فرض ہے آج عالمی تحفظ ختم نبوت اور بزم شیخ الہند کے علمائے کرام کی محنت سے یہ فتنہ مقامی سطح پر زوال کا شکار ہے اور انشااللہ یہ جلدہی اپنے بھیانک انجام کی طرف چلاجائے گا اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے صرف علمائے کرام یا مولوی حضرات کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدے کا محافظ ہے اور اس کے لئے عملی کردارادا کرنا بھی ضروری ہے.

    پچنند کے مقام پر اس تئیس کنال رقبے پر محیط پنڈال میں لوگوں کی ہزاروں کی تعداد میں عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سپاہی ہونے کا عملی مظاہرہ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی اللہ رب ذوالجلال کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اے باری تعالی تو اس علاقے سے ان کفریہ عقائد کے پیروکاروں کو جلد ہدایت دے دے پچنند کی سر زمین پر اور پوری دنیا میں اس فتنہ کا نام ونشان مٹا دے آمین ثم آمین

  • آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    اللہ کریم نے آپ کو عزت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی محنت سے زیادہ اس رب کا آپ پہ کرم ہے۔
    سو اسی ودود کی محبتوں کو سمیٹتے ہوئے مخلوق خدا کو بھی اسی عزت سے نوازیں جس کے آپ خود کو حقدار سمجھتے ہیں۔
    اگر آپ کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو آپ کو کسی کی بھی عزت نفس سے کھیلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔جیسے آپ اپنی فیلڈ کے شاہ سوار ہیں،ہو سکتا ہے سامنے والا اپنی فیلڈ میں آپ کی توقع سے بڑھ کر کامیاب ہو!!!!
    اپنی نظر سے دنیا کو مت دیکھیں۔اپ کا نظریہ آپکی رائے آپکا جمہوری حق ضرور ہے مگر ضروری نہیں درست بھی ہو!!!
    دنیا کو اس نظر سے بھی مت دیکھیں کہ جس نظر سے دنیا اپکو دیکھے گی تو اپکو برا لگے گا۔

    مجھے قلم کے میدان میں لکھتے، سیکھتے دو دہائیاں ہو گئی ہیں۔۔۔۔میں نیشنل جرنلسٹ بھی ہوں۔یہ مقام میں نے بہت رگڑے کھانے،زندگی کی بہت سی ماریں کھا کر حاصل کیا ہے۔صرف میں وہ تکلیف سمجھ سکتی ہوں جو کسی لڑکی کو اک محدود ماحول میں سہنا پڑی ،اک ایسے چھوٹے علاقے میں جہاں مردانہ راج ہے،جہاں میٹریکولیٹ صحافت ہے،جہاں تھانے کچہری کی سیاست ہی صحافت ہے،جہاں پولیس کے اک کانسٹیبل کے ساتھ اک تصویر ہی ڈی پی کا فخر سمجھی جاتی ہے،جہاں انتظامیہ سے تعلقات ہی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،جہاں کورٹ کچہری سے بھی زیادہ کیسز میٹرک پاس انتظامیہ کا سر چڑھا لفافہ "صوحافی” دونوں طرف سے پیسے بٹور کر حل کرلیتا ہے،اور ایمانداری سے اپنا حصہ نکال کر باقیوں کا تقسیم کرتا ہے۔۔۔جہاں کی رپورٹنگ قل خوانی،ککڑ کڑاہیاں،فاتحہ جنازہ،ولیمے کی تصاویر لگا کے ساتھ "سنئیر جرنلسٹ کی فلاں ولیمے میں شرکت” کے کیپشن کے ساتھ کی جاتی ہے۔۔۔۔

    وہاں سات سال باقاعدہ اک میڈیا گروپ آفس میں رہنا اور تن تنہا ہزاروں مخالفتیں سہہ کر بھی شفاف صحافت جاری رکھنا اک عورت کے لیے کتنا مشکل تھا۔۔۔۔
    صرف میں جان سکتی ہوں۔۔۔۔آپ نہیں!!!
    سو آپ کو میرے بارے بنا جانے رائے دینے کا حق بھی نہیں!
    حق سچ پہ کالمز لکھنے پہ اغوا میں ہوئی تھی،اپ نہیں
    سو آپ کو حقیقت جاننی چاہیے
    حق لکھنے،حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور سیاسی شخصیات کا نام لے کر کالم لکھنے والی اس لڑکی جسے اسی پاداش میں ایک ہی ہفتے میں مسلسل سات بار ایکسیڈنٹ کے زریعے مارنے کی کوشش کی گئی ،میں ہوں۔۔۔میں نمرہ ملک۔۔۔
    اور اس بات کے دوستوں کے ساتھ دشمن بھی گواہ ہیں۔۔۔۔میری زبان تک کٹ گئی تھی۔۔۔۔لیکن قلم نے ہار نہیں مانی تھی۔۔۔( اس حوالے سے کسی کو بھی شک ہو تو وہ پریس فورم میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو ریاض انجم سمیت کسی بھی زمہ دار شخص سے تصدیق کر سکتا ہے)
    مجھے یہ نو سو کے قریب شیلڈز، قومی و سرکاری اعزازات،سوموٹو اور پندرہ کتب کا خالق ہو جانا کسی سیاسی پارٹی کی چاپلوسی کی وجہ سے نہیں ملے۔۔۔۔۔اگر ملتے اور مجھے کھاؤ اور کھلاؤ پالیسی آ جاتی تو آج میں صحافتی پابندیوں کی زد میں نہ ہوتی۔۔۔۔
    یہ مجھے میرے قلم کی کمائی سے ملے ہیں۔وہ قلم جسے میں نے چوری چوری استعمال کرنا شروع کیا تھا،اور پھر وقت نےاسی قلم کی بدولت مجھے اس دور کے سب سے بڑے میڈیا میں لا کھڑا کیا!!!
    سچ کہوں ناں تو یہ مجھ سے بھی زیادہ میرے والدین کا قصور ہے جنہوں نے حرام نہیں کھلایا اور نہ کھانے کی ترغیب دی،ورنہ میں بھی رچ بس جاتی،مس فٹ نہ ہوتی!!!

    جب آپ لوکل سطح پہ سالوں اک میڈیا گروپ کو رن کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں تو خود بہ خود نظروں میں رہتے ہیں، کہیں آپ کی بے حد عزت کی جاتی ہے تو کہیں آپ کے پیٹھ پیچھے برائیاں ،کردار کشی اور پاؤں کے نیچے زمین کھینچ لینے کی بھرپور کوشش کی جاتی یے۔۔۔
    مجھے بھی یہ سب دیکھنا پڑا!!!دیکھتی آئی ہوں اور اب بھی دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔

    جہاں میری کامیابیوں سے تعصب زدہ معاشرے میں تکلیف دہ حالات نے مجھے ہر موڑ پہ آزمایا وہاں میرے علاقے کا۔۔۔۔میں دہراتی ہوں۔۔۔۔۔
    میرے اپنے علاقے کا
    میرے تلہ گنگ چکوال پنڈی ڈویژن کا ہر وہ شخص جو میری قلمی فتوحات کو سمجھتا ہے وہ مجھے بہت محبت اور عزت دیتا ہے۔کیونکہ میں نے جب جب لکھا،عام آدمی کے لیے لکھا
    ٹوٹی سڑکیں کھڈے بنیں تو قلمکار نے ٹوٹے ہوئے قلم کو تلوار بنایا۔۔۔
    تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی بات آئی تو قلم نے بھرپور آواز اٹھائی،جہاں کہیں کسی کو ضرورت پڑی،قلمکار نے اپنا ہنر بیچا نہیں ،آزمایا اور فتح پائی ۔۔۔۔
    وہ ٹرانسپورٹ والے ہوں
    وہ عام دکاندار ہوں ،مجھے عزت دیتے ہیں،میرے لیے سیٹ خالی چھوڑ دیتے ہیں،کیونکہ یہ ہی میرے قلم کی کل خرید ہے،کل سرمایہ ہے،کل کائنات ہے!!!
    وہ سٹی ہاسپٹل کا ٹراما سینٹر ہو یا سٹاف۔۔۔
    وہ بائی پاس کے سٹے ہوں یا روڈز
    وہ ملکی و قومی نمائندگی ہو یا علاقے کی ترجمانی۔۔۔۔
    وہ صحافت ہو ناول نگاری۔۔۔میں نے اپنی طرف سے جو حق ادا کرنے کی کوشش کی سو کی،لیکن میرے عام لوگوں نے مجھے بے حد عزت دی ہے
    اور جب عام آدمی آپ کو عزت دینے لگ جائے تو آپ سمجھ جائیں ،آپ کا ایلیٹ طبقہ جتنا مرضی آپ کے خلاف ہو،حق کا ساتھ ہمیشہ چھوٹے لوگ دیتے ہیں۔
    جب میری کسی پزیرائی پہ مجھے طنزا کہا جائے کہ”تم کیا کوئی وزیراعظم لگی ہوئی ہو؟؟؟ جو تمہیں لوگ پروٹوکول دیں،” تومجھے ان لفظوں سے تکلیف ضرور ہوتی یے۔لیکن یہ احساس بھی ساتھ رہتا ہے کہ سامنے والے نے وہ دکھ،وہ تکلیف نہیں دیکھی جو بحثیت اک خاتون صحافی کے میں نے دیکھی ہے۔سو جب کوئی میرے قلم کی بدولت مجھے عزت دیتا ہے تو مجھے وہ انسلٹ یاد نہیں رہتی جو کسی تعصب یا بنا کچھ جانے کسی کے لفظوں سے محسوس ہوتی ہے۔مجھے وہ محبتیں یاد رہتی ہیں،وہ دعائیں یاد رہتی ہیں جو میں نے کہیں نہ کہیں اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کر کے بلا معاوضہ اپنے نام کی ہیں۔
    "چھوٹے لوگوں کے لیے بڑی باتیں مت کرنا شروع کر دیا کرو” کہنے والو!!!
    میں نمرہ ملک وزیراعظم نہیں ہوں،بہت چھوٹے قد کی چھوٹی سی قلمکار ہوں مگر مجھے فخر ہے کہ میں بہت سے چھوٹے لوگوں کی بڑی محبتوں کی آمین ہوں ۔