Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے روشنی میں واضع احکامات ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے۔یعنی حضور ؑ نے اپنی اُمت کے مسلمانوں کو راستوں میں رکاٹیں ڈالنے سے منع فرمایاہے۔مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت نماز ہے جن مقامات پر نماز نہیں ہوتی اُن میں سے ایک راستے بھی ہیں۔اگر راستوں پرفرض عبادت میں شمار نماز ادا کرناجائز نہیں تو رزق کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ حکومت پنجاب محترمہ مریم نواز نے جہاں ریڈھی بازاروں کے قیام سے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقاروسیع اہتما م کو پھیلاؤ پر گامزن کیا ہوا ہے وہاں راستوں سے ناجائز تجاوازات اور ریڈھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام شرعی اور اخلاقی طور پر سو فیصددرست کیا ہے۔حکومت پنجاب کی طرح میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالفت نہیں ہوں مگر آپ کونظریہ مریم نواز صاحبہ کاپس منظر ضرور دیکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔جولوگ کہتے ہیں حکومت پنجاب اور پیرا فورس غریب عوام پر ظلم کر رہے ہیں ان کے شعورکی درستی ہو جائے گئی۔

    (الکاسب حبیب اللہ)خدا کہتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اس کا دوست ہے تو اس دوست کی نشانی یہ ہے کہ وہ شرعی اور اخلاقی تقاضوں پر مزدوری کمانے والا ہوگا۔ فرمان رسول اللہ ؑ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔مگر کتنے مزدور آپ نے ایسے دیکھے ہیں جو اس طرح مزدوری کرتے ہیں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں؟عوامی گزرگاہوں پر ریڈھیوں سے راستے بند کرنے والے کتنے لوگ ہیں جو دُکان کرایہ بجلی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا سودا مہنگے کرایے اور بل ادا کرنے والے دوکانداروں سے کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں؟خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر ناقص سودا مہنگے داموں بیچنے والوں سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے؟ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پراسلامی و اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ان ریڈھی والوں کے ہر طرح کے ظلم کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟

    ریڈھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل اچھی خوراک اچھا گھر اور پرائیویٹ سکول میں بچے پڑھانے والوں کی ہے پچیس فیصد کمزور حالات کے مالک ہوتے ہیں جن کے لیے حکومت پنجاب نے وسائل فراہم کرتے منصوبوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔عوام کے زہنوں میں ایک تاثر گردش کرتا ہے کہ ریڈھی لگانے والا بڑا ہی تنگ دست برے حالات میں جینے والا انسان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کسی کے چھوٹے کام کی وجہ سے اس انسان کو تنگ دست سمجھنے لگتے ہیں۔ایک ریڈھی والا ایک دوکان دار سے زیادہ پرکشش منافع کماتا ہے اسی لیے وہ دُکان کرایہ اور بجلی بل جیسے اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کرعوامی راستوں پر مشکلات پیدا کرتے ہیں ورنہ انہیں ریڈھی سے دکان کی ترقی پر جانے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح بھیک کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اس عقل مندی میں قید ہوتے ہیں کہ اس روزگارمیں دُکان کرایہ بجلی بل کے علاوہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔

    میری تحریر کا موضوع عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر آگاہی و نشاندہی فراہم کرنا ہے لہذا ہم اسی جانب چلتے ہوئے ایک ذاتی اور اہل محلہ کی شکایت بھی احکام بالا تک پہنچاتے چلیں تاکہ اس مسلے کا بھی مداوا ہو سکے۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے مستقل بنیادوں پر ناجائز تجاوازات اور ریڈھیاں ہٹانے میں ماضی و حال میں تمام ادارے ناکامی سے دوچار رہے ہیں جس کی وجوہات میں پہلی یہ کہ روڑ سے منسلک دُکان مالکان پیسے لیکر سڑک کرائے پر دیتے ہیں اور دوسری وجہ جو ریڈھی والے دوران کاروائی پکڑے جاتے ہیں وہ پیسے دیکر چھوٹ جاتے ہیں اورپھر سے روڑ پر قابض ہو جاتے ہیں۔مقامی رہائشی افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگرسوال یہ ہے کہ سٹرک کی رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شریف شہریوں کی گلیوں میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں؟کیا یہ لوگ ٹیکس پیڈ پاکستانی نہیں ہیں؟

    ناجائز تجاوزات اور ریڈھی بانوں کی تکلیفوں سے برسوں کی شکار رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر۹والے بازار سے وابستہ رہائشی گلیو ں کی معززمذہبی عوام وزیراعلیٰ حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ اسسٹنٹ کمشنرو پیرا فورس انچارج تحصیل رائیونڈ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب سٹرک پر لگی ریڑھیاں ہٹانے کے لیے کاروائیاں کی جاتی ہیں تو یہ ریڑھیوں والے مقامی رہائشی گلیوں میں پناہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں کی بندش تکلیفوں سے دوچار کرتی ہے جس طرح مین سٹرک سے عام حالات میں ایمبولینس نہیں گزر سکتی اسی طرح جب ریڈھیوں والے گلیاں بند کرتے ہیں تو بوڑھے بچے مردعورتیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارشریفانہ انداز میں ریڈھی والوں سے منت سماج بھی کئی مگر وہ قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کی وجہ سے بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی گلیوں میں قابض رہتے ہیں۔برسوں سے مالکانہ حقوق رکھتے شریف حق پرست مقامی افراد نے اس زلت آمیز صورتحال سے جان چھڑوانے کے لیے مورخہ 22-10-2025کو پیرا فورس آفس اوراسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ آفس درخواست دائر کروائی جس کا ڈائری نمبر 1185ہے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کی طرف سے اس کا حل نہ نکال کر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی اداروں کے زریعے عوامی خدمت کے بیانے کو ابہام میں مبتلا کر دیا ہے۔اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو شکایت درج کروائی گئی جس کا نمبر 1555754جو 26جنوری 2026کو رجسٹر ہوئی۔اس پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہونی ہے۔اس لیے اشتہار بازی اور بیان بازی پر کان نہ دھریں عملی طور پر عوام کے مسائل رشوت شفارش سے ہی حل ہو رہے ہیں جواس سے محروم ہیں وہ مسائل کی زد میں ہیں۔غفلت سستی نظر اندازی تنقید کو جنم دیتی ہے اور اعلیٰ ظرفی اصلاح کا نتیجہ۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے پھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانیت و انسانیت کے جذبے سے متاثرہ عوام کی دادرسی کرکے سرخرو ہوں۔

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    پچیس برس بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک شہر میں بسنت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بسنت نہ کوئی اسلامی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی قومی روایت،یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے، جسے دنیاوی تفریح کہا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ بسنت کھیل ہے یا تہوار؛ اصل سوال وہ تضاد ہے جو اس فیصلے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ یہی بیانیہ عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور خود ہمارے سیاسی و میڈیا حلقوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب صرف لاہور جیسے ایک شہر میں کروڑوں روپے پتنگ بازی پر اڑا دیے جائیں، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے اگر یہاں پیسہ ہے، تو پھر غربت کہاں ہے؟ اور اگر غربت ہے، تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟یہ تضاد پاکستان کے اس سرکاری بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم عالمی اداروں کے سامنے مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

    دوسری طرف، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قیمتی جان ضائع ہو چکی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ بسنت کے ساتھ کیمیائی ڈور، چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ہنگامہ آرائی جڑی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن کی تفریح کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک لاش؟ چند زخمی؟ اور ایک بار پھر وہی پرانا المیہ؟ریاست کی ذمہ داری صرف اجازت دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں، تو پھر اس سرگرمی کے جواز پر سنجیدگی سے غور لازم ہو جاتا ہے۔

    بسنت سے نہ معیشت کو دیرپا فائدہ پہنچتا ہے، نہ غربت کم ہوتی ہے، نہ ہی قومی وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم بطور قوم ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہیں،جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے وقتی تماشوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جشن منانے اور قومی ذمہ داری میں فرق سیکھیں۔ خوشی منانا جرم نہیں، مگر خوشی کی قیمت اگر انسانی جان ہو اور قومی بیانیہ کمزور پڑ جائے، تو یہ خوشی نہیں، غفلت بن جاتی ہے۔

  • کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ تھی ،ہے اور رہے گی، کشمیر پر ریاست بیرونی دباؤ میں آنے کی بجائے اصولی مؤقف اختیار کرے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی رائیگاں نہیں جائے گی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر بانی صدر اپووا ایم ایم علی، سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان سمیت دیگر موجود تھے،تابش قیوم کا کہناتھا کہ کشمیر کی وادیوں میں آزادی کے لیے نوجوانوں نے قربانیاں دیں آج انکو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، حالات جو بھی ہوں لیکن کشمیر کے ساتھ بیوفائی کی گئی، شہدا کی تحریریں پڑھ کر یقین ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ،کشمیرایک فلیش پوائنٹ ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرے، بیرونی دباؤ، غلط فہمیاں ختم کرے، آزادی کشمیر کی جدوجہد کی حمایت کرنے والوں پر پابندیاں لگا کر تحریک کشمیر کو کمزور کیا گیا،مقبوضہ کشمیر میں سیدہ آسیہ اندرابی ایک خاتون ہونے کے باوجود ڈٹ کر کھڑی ہیں،اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ کشمیر کا نام لیں گے تو قرضہ نہیں ملے گا،اب حالات دیکھ لیں دشمن کشمیر تک نہیں رکا،بلوچستان خیبر پختونخوا میں موجود ہے،دشمن نے کشمیر تو دور آپ کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کیا،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کی مسجدوں پر حملے کئے تو مسلح افواج نے بنیان مرصوص شروع کیا ،پھر دشمن کی حیثیت دیکھ لی ،پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فوج کچھ بھی نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے حوالہ سے عالمی سطح پر حکومت کام کرے، بیرون ممالک میں کشمیر ڈیسک بنائے جائیں، تعلیمی اداروں میں تحریک بنا کر کشمیر پر قوم کو متحد کیا جائے.

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائےعالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔

  • یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )،  کامران ہاشمی

    یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی

    5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔

    آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔