Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔

    شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
    جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
    "بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”

    اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
    شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
    "میری ساری محنت لٹ گئی”

    ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔

    غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
    یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
    اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
    پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
    مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔

  • تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔

    زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
    خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔

  • ایران  امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    ایران امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدی تنازعات نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات ماحول، موسم اور انسانی زندگی کے ہر پہلو تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں بھی واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، آئل ریفائنریوں کی تباہی، اور بڑے پیمانے پر ایندھن کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہو رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت اور فضائی معیار دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جب جنگی صورتحال میں صنعتی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف فوری آلودگی بڑھتی ہے بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک بارشوں کے نظام، درجہ حرارت اور موسمی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی میں خلل پڑا ہے جس کے باعث کئی ممالک مہنگے اور زیادہ آلودہ ایندھن کی طرف جا رہے ہیں، جو مزید کاربن اخراج کا سبب بن رہا ہے۔اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کمزور ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    اگر خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات اسی طرح برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوازن مون سون بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ، اور فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حالات کا تماشائی نہ رہے بلکہ ایک مضبوط موسمیاتی تیاری اختیار کرے۔ سب سے پہلے پانی کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ آنے والے سالوں میں پانی پاکستان کی معیشت اور بقا دونوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دوسرا اہم قدم شجرکاری اور جنگلات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں درختوں کی کمی گرمی اور آلودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں سبز کوریڈورز بنائے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جائے تو درجہ حرارت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان میں شہروں، سڑکوں اور خالی جگہوں پر نیم، پیپل، برگد، شیشم اور جامن جیسے مقامی درخت زیادہ لگائے جائیں تو یہ نہ صرف درجہ حرارت کم کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی کم کرتے ہیں اور شہری ماحول کو زیادہ قابلِ رہائش بناتے ہیں۔تیسرا اہم شعبہ توانائی کا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ جیسے حالات عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی یعنی شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ مہنگے تیل پر انحصار کم ہو سکے۔چوتھا پہلو شہری منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں جہاں گرمی جذب ہو کر حرارتی جزیرے کا اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے سبز عمارتیں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہے۔پانچواں قدم زراعت میں مزید بہتری اور اس کی مکمل جدید کاری ہے۔

    اگرچہ پنجاب میں پہلے ہی سپر سیڈر اور جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کیے جائیں جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور جدید زرعی تحقیق کو عام کاشتکار تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔آخر میں سب سے اہم چیز آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ پاکستان کو ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جو سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور فضائی آلودگی جیسے خطرات کے لیے بروقت وارننگ دے سکے اور فوری ردعمل ممکن بنا سکے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔ اگر پاکستان نے آج سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو 2030 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید اور خطرناک ہو سکتے ہیں، لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف ان خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

  • واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

    جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
    یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
    اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

  • تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
    دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے

    کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے

    امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔

    اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

    پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

    اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔

    پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔

    دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔

    اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا

  • عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ آتی ہے تو گلیاں قربانی کے جانوروں سے آباد ہو جاتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا شور سنائی دیتا ہے، مگر ایک سوال ہر حساس دل سے ٹکراتا ہے: کیا عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، یا اس کے پس منظر میں کوئی ایسا عظیم سبق پوشیدہ ہے جسے ہم نے رسموں کی دھند میں کہیں کھو دیا ہے؟-

    اگر ہم اس عید کے اصل مرکز کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک بوڑھا باپ نظر آتا ہے، جس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایک فرمانبردار بیٹا، جس کی جوانی اطاعت اور تسلیم و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ محض قربانی کی داستان نہیں، یہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو ہے جس نے قیامت تک کے انسانوں کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھا دیا۔

    قرآن مجید میں وہ منظر کتنا ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:
    “اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟”

    یہ الفاظ محض ایک حکم سنانے کے نہیں، بلکہ ایک باپ کے شفقت بھرے اندازِ تربیت کے عکاس ہیں حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو حکم صادر کر دیتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو اعتماد دیا، اس کی رائے پوچھی، اسے اس عظیم امتحان کا شریک بنایا، گویا اسلام ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اولاد سے مکالمہ کیا جائے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کی جائے، صرف حکم چلانا کافی نہیں ہوتا، محبت اور اعتماد کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔

    پھر بیٹے کا جواب تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب بن جاتا ہے:
    “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

    کیا آج کے دور میں یہ جملہ صرف پڑھنے کے لیے رہ گیا ہے؟ ایک طرف والدین ہیں جو اولاد کو صرف دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اولاد ہے جو والدین کی نصیحت کو بوجھ سمجھتی ہے گھر ایک چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں حضر ت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد گھر کے اندر باپ اور بیٹے کے رشتے سے شروع ہوتی ہے۔
    عیدالاضحیٰ دراصل جانور کی قربانی سے پہلے اپنی انا، خواہشات، ضد، غصے اور نفس کی قربانی کا نام ہے حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، انہوں نے اپنے دل کے سب سے محبوب رشتے کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا عزم کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنے خواب—سب کو اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں کر دیا تھا۔

    آج مسلمان اگر اس عید کا اصل فلسفہ سمجھنا چاہیں تو انہیں اس مکالمے کو اپنے گھروں میں زندہ کرنا ہوگا باپ صرف حکم دینے والا نہ ہو بلکہ رہنمائی اور محبت کا پیکر بنے، اور بیٹا صرف آزادی کا طلبگار نہ ہو بلکہ ادب، احترام اور اعتماد کا استعارہ بنے اگر گھروں میں مکالمہ، محبت اور اطاعت کی یہ فضا پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں۔

    افسوس یہ ہے کہ ہم نے عیدالاضحیٰ کو گوشت تقسیم کرنے اور رسم ادا کرنے تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت؛ اس تک صرف دل کا تقویٰ پہنچتا ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے “اسماعیل” کو اللہ کے سپرد کرے اور اپنے نفس کے “بت” کو ذبح کر دے
    عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت صرف قربانی میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ اطاعت میں ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جھلکتا ہے یہی وہ سبق ہے جسے اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں زندہ کر لیں تو ان کے گھر بھی امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور معاشرہ بھی محبت، احترام اور ایمان کی خوشبو سے مہک اٹھے گا کیونکہ عید صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں، اعتماد، اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے سب سے محبوب کو قربان کرنے کے جذبے کا نام ہے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی

  • سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    قاتل افسران کس کے پیروکار ؟

    پاکستان میں سالانہ ریپ (ذنا بالجبر) کے سات ہزار کیسز درج کرائے جاتے ہیں جبکہ بیس ہزار کے قریب واقعات عزت کے ڈر سے دبا دیے جاتے ہیں۔
    ہزاروں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کیا جاتا ہے اور کرنے والے مرد ہیں تو پھر حکومتی اور سرکاری آمرانہ سوچ کے مطابق زیادتی کی روک تھام کا واحد حل یہی ہے کہ سب کے نیفے میں پسٹل چلا کر سارے مرد نامرد کردیے جائیں، بلکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے زیعے ان کو ڈائریکٹ زہر دیا جائے یا گولیاں مار کر ہلاک کردیا جائے ؟

    پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ تیس ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہزاروں زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے فوری طور پر سڑکیں کھود دینی چاہئے اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے؟پاکستان میں لڑائی جھگڑوں اور دشمنیوں میں سالانہ پندرہ ہزار افراد کا قتل کیا جاتا ہے انسان کیونکہ قتل کرکے بدامنی پھیلا سکتا ہے اس لیے تمام مرد و زن کو مار دینا چاہیے؟
    اگر چند انسانوں کی غلطی کی سزا تمام شہریوں اور انسانوں کو نہیں دی جاسکتی تو پھر کتا کاٹنے کے چند واقعات کی وجہ سے تمام کتوں کی نسل کشی کا کیا جواز ہے؟

    پاکستان میں کتا کاٹنے کے محض چند سو کیسز حقیقی ہیں جبکہ ہزاروں اور لاکھوں کی جعلی اور فرضی تعداد صرف معصوم کتوں کے ناحق قتل کو جسٹیفائڈ کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔ پنجاب خاص طور پر لاہور میں جس بے دردی اور سفاکیت سے معصوم کتوں کو مارا جا رہا ہے، حیوانیت اور فرعونیت کی انتہا ہے۔اس حیوانیت، درندگی، سفاکیت اور فاشزم کے ماحول میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین کا فیصلہ انسانیت کی جیت اور اس مقدس ہستی حسین کے نام کی لاج ہے۔

    ایک سفر کے دوران امام حسینؓ کا گزر ایک ایسے باغ کے پاس سے ہوا جہاں ایک کتا موجود تھا اور وہ پیاس کی شدت سے نڈھال تھا۔باغ میں موجود غلام نے کتے کی حالت زار دیکھی تو اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پیش کیا۔ غلام کی بے زبان پیاسے کتے سے ہمدردی و شفقت سے متاثر ہو کر، حضرت امام حسین نے اس غلام کے اچھے اخلاق کے صلے میں اس کے مالک سے بات کر کے اسے آزاد کروا دیا اور باغ بھی اسی غلام کے نام کروا دیا۔ معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔

    اے اللہ معصوم اور بے گناہ کتوں سمیت دیگر جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام بھی یزید کے ساتھ کرنا۔ آمین
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بے گھر کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے سٹریٹ ڈاگ کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔ معزز جج نے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کے ایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔معزز جج کا کہنا تھا کہ کتے جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بے رحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جانوروں کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ، پنجاب اور دیگر صوبوں کی عدلیہ سے بھی گزارش ہے کہ قیامت کے روز حقیقی منصف کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو معصوم اور بے گناہ کتوں کی قتل و غارت اور ان پر مظالم کی فوری روک تھام کیلئے سخت احکامات صادر کیے جائیں اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس تاخیر کے نتیجے میں ظلم سہنے اور ناحق قتل ہونے والے کتے روز قیامت قاتل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آپ کو بھی اللہ کے سامنے کھڑا کریں گے۔ تمام پاکستانیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ظالم کا ساتھ دینا ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر سیدھے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔محبت شفقت اور رحمدلی اللہ کے رسول اور امام حسین کا بتایا ہوا صراط مستقیم ہے جبکہ ظلم و بربریت اور سفاکیت یزیدیوں اور لعنتیوں کا راستہ ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    قصاص زندگی ہے۔
    سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    "اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
    قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

    دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
    "یہ انصاف کا قتل ہے!”
    وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
    انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
    نہیں! ہرگز نہیں!
    تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
    عمر کی آواز بنیے۔

    ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
    Justice For Umer
    یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
    انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!