Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    ماحولیاتی تبدیلی کے زراعت خصوصاً گندم کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے کئی عالمی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IFPRI) کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا زرعی پیداوار پر نہایت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ FAO کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے وابستہ غیر متوقع موسمی حالات ہیں۔ اسی طرح ورلڈ بینک کی رپورٹ "کلائمیٹ چینج اینڈ ایگری کلچر” میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ اگر ان موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں گندم اور دیگر زرعی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کمی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر ہوگا جہاں زراعت مقامی معیشت اور غذائی سکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔

    انٹرگورنمنٹل پینل آن کلمیٹ چینج (IPCC) کی 2019 کی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سیلسیس اضافے سے گندم کی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہوتا ہے ۔ اس سال پاکستان میں سموگ اپنے وقت سے پہلے کئی علاقوں کا متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ وقت پر بارشیں نہ ہونے کے سبب پانی کی کمی آج کے دور کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور یہ مسئلہ خاص طور پر گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کے غیر مؤثر استعمال کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے جس سے آبپاشی کے وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے سبب پاکستان جیسے زرعی ملک میں فصل کی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی کی تکنیکیں اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن ابھی تک تو پاکستان میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسی تکنیکیں کو مکمل طور پر پاکستان میں متعارف ہی نہیں کرایا جاسکا۔ پاکستان نے 2017 میں یہ سسٹم 26000 ایکڑ پر انسٹال کیا تھا جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ساوتھ افریقہ اور چائنہ نے اس سسٹم کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ FAO کے مطابق ڈرپ ایریگیشن سسٹم میں پانی کی بچت روایتی آبپاشی کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے جس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی بہتری آتی ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے بھی اپنی تحقیق میں نشاندہی کی کہ اگر پانی کی بچت کے لئے جدید طریقے استعمال نہ کیے گئے تو گندم سمیت دیگر زرعی پیداوار پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پانی کی بچت کے لیے مؤثر حکمت عملی، جیسے پانی کی دوبارہ کارآمدی اور زمین کی نمی کو برقرار رکھنے کے طریقے اپنانے سے نہ صرف پیداوار میں استحکام لایا جا سکتا ہے بلکہ پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک اور مسئلے نےبھی کاشت کاروں کو پریشان کر رکھا ہے کہ افراطِ زر اور شرح سود میں اضافے کے باعث پاکستان میں بیج، کھاد اور کیڑے مار دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زرعی اخراجات میںیہ اضافے نے نہ صرف پیداوار کی لاگت کو بڑھا رہا ہے بلکہ پیداوار کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ محدود مالی وسائل رکھنے والے چھوٹے کسانوں کے لئے یہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور گندم کی طلب کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ برسوں کی نسبت پاکستان کے زر مبادلہ کا بیشتر حصہ دوسرے ممالک سے گندم کی خریداری پر خرچ کرنا پڑے گا۔

    FAO کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں 70 فیصد کسان چھوٹے کسانوں کی کٹیگری میں آتے ہیں جنہیں جدید زرعی وسائل تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان میں زراعت، خاص طور پر گندم کی پیداوار، حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کے باوجود حکومت کی طرف سے مؤثر مدد اور مالی امداد فراہم نہیں کی جا رہی جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور سبسڈی کی کمی نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ کسانوں کو مالی مدد سبسڈی اور جدید زرعی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور ملک میں غذائی خود کفالت کو یقینی بنا سکیں۔پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئےحکومت نے سولر انرجی پر ٹیوب ویل چلانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جو ایک اچھا اقدام ہے مگر اس پروگرام کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد زیادہ تر بڑے کسانوں تک محدود ہیں۔ یہ کسان پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہیں اور ٹیوب ویل کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس چھوٹے کسان جو زراعت کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس پروگرام سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام میں چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کرنا ایک امتیازی سلوک ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ زرعی ترقی کے لیے پالیسیاں صرف بڑے زرعی سرمایہ داروں کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اس پروگرام تک رسائی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو زرعی ترقی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بنے گا

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .

    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصوتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں

    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں

  • رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    اپنا مختصر سا تعارف کروا دوں کہ میں بھی ایک مرد ہوں کوئی خواجہ سرا نہیں جو یہ باتیں لکھ رہا ہوں تلخ لگ سکتی ہیں مگر حقیقت ہیں۔میں نے کہیں پڑھا تھا "”اگر آپ کسی عورت کو اکیلا دیکھ کر بھی ہوس سے پاک ہیں پھر یا تو آپ فرشتے ہیں یا پھر خواجہ سرا”
    اس بات کا مطلب کیا ہے؟
    کیا مرد اور عورت صرف میاں بیوی ہیں؟
    کیا عورت سے ہمارا اور کوئی رشتہ نہیں؟
    پھر ماں بہن بیٹی یہ سب کیا ہیں؟
    اگر اتنی ہی ہوس چڑھی ہے اگر نہیں ضبط ہو رہا تو یہ آپشن آپ کے پاس موجود ہیں۔
    ان ناموں سے بھی غیرت کا کیا فائدہ کہ ان رشتوں کا بھی پاس کہاں رکھا گیا معاشرے میں بہت کچھ غلیظ ہو رہا ہے جو بیان سے باہر ہے۔
    افسوس کہ آج ہمیں محض حوروں کی ہوس ہے جس کی وجہ سے ہم تھوڑے بہت اچھے ہیں لیکن خدا نیتوں کو جانتا اس لئے یاد رکھو کہ:-
    ” حوروں کی ہوس رکھنے والوں کو حورے ملین گے فرشتوں سے ”
    ہم اکثر منہ بولے رشتوں کی مخالفت اسی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو سوچئے ہم سگے رشتوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
    کہیں نانا دوتی کیساتھ لگا ہے کہیں باپ بیٹی کے ساتھ۔
    علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ:-
    "یہ کوئی نہیں کہتا کہ میں خود ہوں خراب
    ہر کوئی کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے”
    اپنی آنکھ کا شہتیر نظر انداز کرکے ہم دوسرے کی آنکھ سے تنکا نکالنا بخوبی جانتے ہیں. یاد رکھو کہ گناہ کی سوچ ہی گناہ کرنے کے مترادف ہے گناہ کر گزرنا ضروری نہیں۔
    پھر علی زریون بھی کہتے ہیں کہ:-
    ” ازل سے لیکر اب تک عورت کو
    سوا جسم کے کیا سمجھا گیا ہے ”
    ویسے حوس کا نشانہ تو خیر سے خواجہ سرا بھی ہیں بلکہ جانور پرندے بچے ہر شے ہی کئی لوگ تو اکیلے میں بھی ۔۔۔۔ تو کیا ہر چیز پردہ کرے؟ بات کو سمجھئے گا تحریر میں پردے کی مخالفت نہیں کی گئی”
    پھر مخالفت ہے لڑکی لڑکے کی دوستی کی یعنی خود کو ٹھیک نہیں کرنا مخالفت کرنی ہے۔
    پھر یوں کرو کہ سب سے بول چال بند کردو کیونکہ” ہم جنس پرستی ” بھی عام ہے۔
    میں فیشن کے خلاف نہیں ہوں فیشن نیا انداز ہے لیکن ” ہم نے بجائے اچھی چیزوں کو فیشن بنانے کے بدی کو فیشن بنا رکھا ہے اور جو روکے وہ پرانے خیالات کا ہے”
    ” کچھ اس وجہ سے بھی ہے بدی عروج پر
    خدا کی نظر سے کسی نے دیکھا نہیں عورت کو”
    ایک جگہ لکھا تھا۔
    مرد عورت کے بیچ تیسرا شیطان ہوتا ہے کیوں؟
    کیا آپ کبھی اپنی بہنوں کیساتھ نہیں بیٹھے؟
    اور اگر ایسا ہے بھی تو ہمیں اسے حاوی نہیں کرنا مقابلہ کرنا ہے تاکہ ہم سے بھاگ جائے”
    بھلے شاہ کہتے ہیں:-
    ۔۔۔۔پہلاں من اپنے نوں پڑھ
    فر مندر مسجد وڈ
    جدوں نفس جاوے ترا مر
    فر نال شیطاناں لڑ۔۔۔۔
    یعنی سب سے بڑا شیطان ہمارے اندر ہے ہمارا ” نفس ”
    ہم کہتے فلاں لڑکی کا لباس دیکھ کر ہم نے ایسا کیا بھئی مت بھولیں آپ اشرف المخلوقات ہیں۔
    اگر سامنے والا غلط ہے تو اس کا ردعمل کرکے آپ نے خود کو حیوان بنا لیا "
    کیونکہ فوری ردعمل انہی کا کام ہے انسان کے پاس تو قوت برداشت ہے۔
    خدا نے آدم کو محافظ حوا کو مددگار بنایا ۔۔۔
    لیکن افسوس دونوں بھول گئے۔
    دوستی کے حوالہ سے بھی کئی شعراء کہتے ہیں۔
    حوس و حوانیت سے اٹھ کر دیکھو
    لڑکیوں سے اچھا دوست مل جائے تو کہنا
    پھر
    نہ دیکھ حسن کو حوس و حوانیت کی نگاہوں سے
    عورت اگر دوست نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں
    ایک اور لائن تھی کہ:-
    "وہ مری دوست ہے میں اسے اچھا لگتا ہوں”
    یہ ہے دوستی بس اچھا لگنا بالکل ایسے جیسے بہن بھائی اور ہم نے اسے محبت سے جوڑ دیا جو بالکل الگ بات ہے۔
    ایک آخری بات یہ بھی کرنا چاہوں گا کہ ہمیں گلہ ہے کہ زمانہ محبت کو نہیں سمجھتا تو کیا ہم خود سمجھتے ہیں محبت کو؟
    …زمانہ سمجھے محبت کو یہ مسئلہ بعد کا ہے لیکن!!!
    پہلے سمجھیں تو محبت کرنے والے محبت کو…
    ہماری جہالت کہیں کہیں کہتی ہے کہ منہ بولے بہن بھائی ہو سکتے ہیں مگر لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں یہ سب ہمارے ہی ذہن کے خرافات ہیں۔
    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے
    بس نظر و نظریہ ہی وہم ہوتا ہے

  • دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    13نومبر کا دن تھا ، باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو چار سال پہلے ڈسکہ کے نواحی گاؤں بیاہی گئی تھی ۔ مگر نمبر دو روز سے بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
    باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
    جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا اور محبت کی تقسیم کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ پر رکھتا ہے جبکہ وہ الگ سے ماں کو پیسے بھیجتا تھا ، مگر ان کی خواہش تھی کہ سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ،اور وہ خود زارا کو ماہانہ خرچ کے طور پر دیں ، انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے پچھلے سال اٹلی بھی لے گیا اور حالات بہتر ہونے پر خود کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی اور توجہ ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
    لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
    تیری میری کی ہوندی اے
    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے

  • حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا، میرے لیے یہ شام بلاشبہ کئی شاموں پر بھاری تھی جسے میں نے بڑی احتیاط سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ، خلیق الرحمن اور ارشد معراج جیسے دوستوں کا ساتھ قسمت کی مہربانی ہے.

    ”حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا گزشتہ اجلاس 8 نومبر 2024 کو کانفرنس ہال اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں برطانیہ سے تشریف لائیں منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ گلناز کوثر کے نظمیہ مجموعہ "مایا” کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر وحید احمد بوجہ ناسازی طبیعت تشریف نہ لا سکے۔ سٹیج پر موجود دیگر مہمانِ خاص میں جناب محمد حمید شاہد، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور جناب ڈاکٹر ارشد معراج شامل تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری حلقہ جناب ڈاکٹر خلیق الرحمٰن نے سرانجام دیے۔ انہوں نے محترمہ پروین طاہر کا مضمون پڑھ کر سنایا جو بوجوہ تشریف نہ پاسکیں۔ اس کے بعد جن معروف علمی و ادبی شخصیات نے مایا کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی ان میں جناب منیر فیاض، محترمہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، جناب ڈاکٹر ارشد معراج، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب محمد حمید شاہد اور جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر شامل تھے۔ اس موقع پر محترمہ گلناز کوثر صاحبہ کو علمی ادبی شخصیات نے پاکستان آمد پر خوش آمدید بھی کہا اور انہیں گلدستے اور اپنے تازہ مجموعہ کلام پیش کیے۔ تقریب بہت بھرپور اور شاندار رہی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مختلف شہروں اور بیرون ملک مقیم مقیم اہم علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔

    اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
    تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
    یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
    ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
    امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
    پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
    بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
    مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں 03030204604

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    میں سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی بانی و چیئرمین اپووا ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کا دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میرا ایک دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کروایا ۔اپووا کے پلیٹ فارم پر محترم زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی صاحب کی گراں قدر خدمات لائق تحسین ہیں ۔میں ایک ادنیٰ سا گمنام کالم نگار ہوں اور ایک عرصے سے فیس بک پر اپووا میں شامل سینئر لکھاریوں کی تحاریر پڑھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان کی صف میں شامل ہو پاؤں گا کہ نہیں !پھر ایک دن اچانک اپووا کے فیس بُک پیج پر مجھے میرے ہی نام کا پوسٹر نظر آیا ۔
    اللّٰہ اکبر
    میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی میں نے ایم ایم علی بھائی کو میسنجر پر سلام پیش کیا اور انھوں نے اپنا نمبر سینڈ کر دیا ۔اور یوں پہلی بار میرا رابطہ میرے محسن کے ساتھ ہوا ۔میں دل سے شکر گزار ہوں اور ایم ایم علی صاحب کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں سر اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور مزید عزت و تکریم سے نوازے ۔
    اب باری تھی تربیتی ورکشاپ میں جانے کی ۔ الحمدللہ علی حیدر بھنڈر میرا اکلوتا نور چشم ہے اور میں اپنی ساری زندگی کی دینی و دنیاوی جمع پونجی خرچ کر کے اسے ایک پہچان دینا چاہتا ہوں اور شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں ۔علم و ادب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ میرے پسندیدہ مشاغل میں سر فہرست رہے ہیں ۔ لہذا میں علی حیدر بھنڈر میں بھی وہی گن بھرنا چاہتا ہوں ۔اسی لیے میں نے ایم ایم علی صاحب سے گزارش کی کہ مجھے علی حیدر کو ساتھ لانے کی اجازت دیں جس پر انھوں نے بخوشی اظہار مسرت فرمایا ۔

    دراصل میں علی حیدر کو کامیاب لوگوں کی کامیابی کی داستانیں ان کی اپنی زبانی سنوانا چاہتا تھا تاکہ علی حیدر کے دل میں بھی ادب سے محبت کا پودا پروان چڑھ سکے ۔لہذا ہم ایک پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر بروقت پر منزل مقصود ہیریٹیج ہوٹل جا پہنچے ۔ایم ایم علی بھائی نے کھلے بازو ہمارا استقبال کیا اور علی حیدر کے سر پر دست شفقت پھیرا ۔بس پھر ہم بھی تقریب کا حصہ بن گئے ۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز ہوا اور پھر ایک ایک کرکے مقررین نے حاضرین محفل سے خطاب فرمایا ۔اپووا تربیتی ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شعراء کرام اور ڈراما نگاروں کے خصوصی لیکچرز پیش کیے گئے جس کی چند جھلکیاں آپ کی بصارتوں کی نذر۔

    قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور لکھاریوں ، صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شاعروں ۔ ادارکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف ۔معروف اینکر پرسن ریحام خان ۔ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی ۔ لیجنڈ اداکار غلام محی الدین ۔ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی ۔ موٹیویشنل سپیکر اختر عباس ۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر ۔ سینئر صحافی عنبرین فاطمہ ۔ معروف شاعر و استاد پروفیسر ناصر بشیر ۔ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید ۔ افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی ۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی ۔ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک ۔ رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری ۔ معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیر ۔ معروف شاعرہ مہوش لاشاری ۔ میگزین ایڈیٹر ندیم نذر ۔ عقیل انجم اعوان ۔ ریاض احمد احسان اور ندیم اختر سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں کیونکہ اچھا لکھاری ہوتا ہی وہی ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو ۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے ۔ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے ۔
    تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کرتا رہا ۔ دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ ۔ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا گیا تھا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں فری چیک اپ کرنے کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنے طبعی مسائل اُن کے ساتھ ڈسکس کرتے رہے ۔ آخر میں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاءاللہ العزیز مزید اوپر جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔دھند اور سموگ کی وجہ سے موسم کی خرابی کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا کے عہدیداران کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا,اور یوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ۔

    اب واپس آتے ہیں علی حیدر بھنڈر صاحب کی جانب ۔علی حیدر کی خواہش تھی کہ اس کے بابا جان بھی اسٹیج پر جائیں اور خطاب کریں ۔شیلڈز اور ایوارڈ کی تقسیم ہوئی ۔ میڈلز اور اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔علی حیدر یہی سوچتا رہا کہ اس کے بابا جان کے حصے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ علی حیدر 2 بار شیلڈز والی ٹیبل پر گیا اور ایک ایک نام پڑھ کر اپنے بابا جان کا نام تلاشتہ رہا ۔علی حیدر پھر بھی پر امید تھا کہ شاید اس کی تلاش میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی اور بابا جان کا نام اسے نظر ہی نہیں آیا ہو گا وہ تقریب کے آخری لمحات تک پر امید تھا ۔کیونکہ اس کے بابا جان اس کے لیے سب سے اچھے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جس مقام پر آج اپنے بابا جان کے ساتھ آیا ہے اس کے بابا جان عمر میں چاہے بڑے تھے لیکن علم و ہنر اور تجربے کے لحاظ سے سب سے جونیئر تھے ۔بحرحال ایم ایم علی صاحب کی شفقت سے ملنے والے خوبصورت لفافہ میری لاج رکھ گیا اور اس میں سے ایک تعریفی سند بھی مل گئی لہذا میں نے اس سند پر ننھے لکھاری علی حیدر بھنڈر کا نام لکھا اور افتخار افی صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوا لیں ۔ افتخار افی صاحب نے ہمارا مان بڑھایا اور ایک یادگار تصویر بنوا کر شفقت فرمائی ۔
    شکریہ سر سلامت رہئے ۔

    سیالکوٹ سے آئیں فاکہہ قمر آپی نے بھی علی حیدر کے ساتھ یادگار تصویر بنوائی جو انشاء اللّٰہ اسے مستقل میں اعزاز محسوس ہو گا ۔ریاض احمد احسان صاحب نے علی حیدر کی آٹو گراف ڈائری پر سب سے پہلا آٹو گراف دیا اور خوب محبت کا اظہار کیا ۔ثناء آغا خان میری پیاری سی چھوٹی بہن نے بھی علی حیدر کو آٹو گراف دیا اور ڈائری میں نصیحت رقم کی کہ علی حیدر والدین بہت قیمتی ہیں ان سے محبت کرو اور ہمیشہ خوش رہو ۔مشہور شاعرہ مہوش لاشاری صاحبہ نے بے خیالی میں لی گئی علی کی تصویر اسٹیج پر ان کے ساتھ دیکھ کر شکوہ لکھا کہ انھیں متوجہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ورنہ میں خود علی حیدر کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتی ۔یہ واقعی ان کا بڑاپن ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپی انشاء اللّٰہ میری پوری کوشش ہے کہ بہت جلد علی حیدر شاعروں اور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔

    ماشاءاللہ علی حیدر بھنڈر پلے گروپ سے ہر سال مسلسل فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ حاصل کرتا آ رہا ہے ۔اور الحمدللہ اس کے بابا جان نے بھی ہر شعبے میں ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور صحافی ہونے کے ناطے کسی بھی صحافی کا ڈپٹی کمشنر لاہور سے آن ریکارڈ شیلڈ حاصل کرنا بھی ایک منفرد روایت ہے ۔میں دل کی گہرائیوں سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ بانی و چیئرمین ایم ایم علی ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور جن بہن بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ان سب کا شکر گزار ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ شاد و آباد اور مزید کامیابیوں سے سرفراز فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سجادجہانیہ کے بقول ادب اطفال کے ذیل میں دبستان ِملتان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں علی عمران ممتاز اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں ۔ادب اطفال کو ذریعہ ِاظہار بنا کر انھوں نے ملکی سطح پر شہرت اور شناخت پائی ہے ۔علی عمران ممتاز ادب اِطفال پر تیرہ کتب اب تک تصنیف کر چکے ہیں جن میں سے دو کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے ۔یہ امر دبستان ِملتان کے لیے نہایت خوش کن اور قابل ِفخر و اعزاز ہے ۔

    ”سبزخط“علی عمران ممتاز کی بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے ۔یہ پڑھنے میں کہانیاں ہیں ۔سمجھنے میں راہی کوراستادکھاتی ہیں ۔نصیحتیں کرتی یہ کہانیاں ہمیں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت وحدیث پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہیں ۔بچوں اور بڑوں کو کہانی کے انداز میں درس دینا بہترین حکمت عملی ہے ۔ہر کہانی کا انداز الگ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے کہانی میں مکمل طور پر دل چسپی لیتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں ۔

    علی عمران ممتاز ”پہلی بات“میں قلم فرسائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ”میری کوشش رہی ہے کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں بچوں کو روشن راہ دکھا سکوں اور بچوں کو بتا سکوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی آئے گا۔آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی حیات ِمبارکہ بچوں ہی نہیں بڑوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔”سبزخط“کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

    اختر عباس،علی عمران ممتاز کے بارے میں لکھتے ہیں ”اللہ جی انسانوں کی بھیڑ میں کم کم لوگوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ہم نے البتہ اپنی آنکھوں سے ملتان کے ایک نوعمر لڑکے کو اللہ جی کی رحمت کے سائے میں آتے اور پھر دھیرے دھیرے علی عمران ممتاز بنتے اور لکھنے والوں میں ممتاز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب اس کی پہچان محنت کش قاری و لکھاری کی نہیں ہے بلکہ اس کا تخلیقی کام اپنی خوب صورتی ،وسعت اور مقدار میں بھی نظر آتا ہے ۔اب وہ دو رسائل کے مدیر اعلیٰ ہونے کی کامیابی سے آسودہ ہے ۔کتنی ہی کتابیں اس کے قلم سے لکھی اور ترتیب پاگئی ہیں ۔”سبز خط“کی کہانیاں اس کے اعزازت میں اضافے کا باعث بننے والی ہیں ۔
    ریاض عادل لکھتے ہیں ”سبز خط“علی عمران ممتاز کی بچوں کے لیے کہانیوں کی نئی کتاب ہے جسے ہم سیرت کہانی یا حدیث کہانی کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔علی عمران ممتاز نے تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں ،بچوں کو کہانیوں کی صورت میں ،سماجی بُرائیوں سے دور اور محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے ۔علی عمران ممتاز کی کہانیاں بچوں کو یہ باور کرانے کی ایک بھر پور کوشش ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل نمونئہ حیات ہے ۔سماجی بگاڑسے بچنے کی واحد صورت یہی کہ بچوں کو جو ہمارا مستقبل ہیں ،سیرت طبیہ کے مختلف پہلوﺅں سے روشناس کروایا جائے۔

    علی عمران ممتازکی شخصیت اپنے اندر نام کی طرح تمام تر خوبیاں رکھتی ہے ۔خود میں بھی دو دہائیوں سے علی عمران ممتاز کو پڑھ اور دیکھ رہا ہوں ،مل رہا ہوں ،سمجھ رہاہوں۔کئی سفرایک ساتھ ہوئے ۔محفلیں سجیں،طبیعت کا شرمیلا یہ نوجوان اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے ۔اندازدھیما،گفتار سے گھبرانے والا ،قلم فرسائی کا شاہ سوار،لبوں پر مسکراہٹ رکھنے والا مردِقلندر ہے ۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ،اللہ سے محبت کرنے والا اور اسی ذات کریمی کا ذکر کرنے والا ہے ۔اس کی کامیابی و شہرت کی یہی وجہ ہے ۔اسی کے نام سے یہ مقام پاتا ہے اور نوازا گیا ہے ۔اس کی زندگی کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
    اس کا قلم محترک اور جوان ہے ۔اسلوب ِنگارش سادہ اور رواں ہے ۔زبان آسان اور عام فہم ہے ۔یہ دلوں میں اُتر جانے کا ہنر جانتا ہے ۔یہی چیز اس کی تحریروں میں جھلکتی ہے ۔چاہے کہانی ہو یا افسانہ ،ناول ہو ناولٹ۔ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان (جوشاید اب نہیں )ہر دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر جانتا ہے ۔اسی کے قلم سے موتی بن کر نکلنے والے لفظ”سبز خط“کی صورت ہمارے سامنے ہیں۔

    ”سبز خط“مجھے دو بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کا پروف بھی کیا ہے ۔اس کتاب میں کل چودہ (14) کہانیاں ہیں ۔ہر کہانی اپنے الگ اسلوب سے متاثر کرتی ہے ۔”سبزخط“سر ورق کہانی ہے ۔اس تخیلاتی کہانی نے رونگٹے کھڑے کر دئیے ہیں ۔ایک یتیم بچی جو قبرستان میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جھونپڑی میں رہتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتی ہے اور اپنا حال ِ دل بیان کرتی ہے اور مدد کے لیے بلوادیتی ہے ۔خط پر واپسی کا پتا لکھنا بھول جاتی ہے ۔جب ڈاکیا وہ منفرد خط دیکھتا ہے تو گھر بیوی سے ذکر کرتا ہے ۔ان کی اولاد نہیں ہوتی ۔ڈاکیا اس بچی سے ملنا چاہتا ہے لیکن خط سے معلومات نہیں ملتی ۔اسی کش مکش میں دوسرا خط بھی مل جاتا ہے ۔جس پر واپسی کا پتا درج ہوتا ہے ۔ڈاکیا کی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور وہ اس بچی تک پہنچ جاتے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے یہ کہانی پڑھ لیجیے ۔میری طرح آپ بھی نم دیدہ ہو جائیں گے ۔
    ”سبزخط“کی چند منفرد کہانیوں کے عنوان دیکھیے ”جنت کی مٹی “۔”میں کون ہوں “،یہ انعام تمھارا ہے “نیا گھر “اور”بارہ سو ساٹھ روپے “وغیرہ ۔معروف بچوں کے لکھاری ریاض عادل ،مزاح نگار حافظ محمد مظفر محسن اور نامورکالم و کہانی کار سجاد جہانیہ نے قلم فرسائی کرکے لکھاری اور اس کے فن پر سیرحاصل گفت گو کی ہے ۔
    ”سبز خط“کا انتساب ان بچوں کے نام کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو اپنے لیے مشعل ِراہ مانتے ہیں اور آپ کی سنت و احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہیں ۔کرن کرن روشنی پبلشرز نے فروری 2014ءمیں شائع کی ہے ۔سرورق معظم حسن واصفی نے تخلیق کیا ہے ۔کتاب کی قیمت سات سو روپے ہے اور کرن کرن روشنی پبلشرز سے رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے ۔سجادجہانیہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے میں بھی پُر اُمید ہوں کہ خالق ارض و سماعلی عمران ممتاز کو اس میدان میں استقامت و کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے خوابوں کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب وہ خواب ہمارے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج چکوال میں ہونے والے افسوسناک حادثے نے ہمیں پھر سے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باراتیوں کی بس، جو استور سے خوشیوں کے لمحات کو لیے راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، تھلیچی پل کے قریب اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ تیز موڑ کاٹتے ہوئے بس گہری کھائی میں جاگری اور دریا کے بہاؤ میں گم ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد زندگی سے محروم ہوگئے، اور کچھ لاپتہ ہیں جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

    ریسکیو ٹیمیں پوری کوششوں سے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک کچھ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں، مگر کئی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، اور ان کے خاندان ان کی واپسی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ یہ حادثہ ہمارے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ سانحے ہم روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اور اس کا جواب ہمیں "ہاں” کی صورت میں ملتا ہے، اگر ہم سب سڑکوں پر احتیاط کے اصول اپنانے کا عہد کریں۔

    یہی اصول ہمیں بار بار روڈ سیفٹی کی اہمیت اور اس کے اصولوں کی پابندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ہم صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیاں بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر چلتے ہیں۔ روڈ سیفٹی کے اصول، جیسے کہ رفتار کی پابندی، ڈرائیونگ کے دوران مکمل توجہ اور طویل سفر میں وقتاً فوقتاً آرام کرنا، ہمارے اور دوسروں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    اس شعور کو پھیلانے اور معاشرے میں روڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹی این این ڈیجیٹل کے سرپرست اعلیٰ، شیخ ناصر محمود، کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو روڈ سیفٹی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ گاڑی چلانا محض رفتار کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ احتیاط سے کی گئی ڈرائیونگ حادثات کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

    شیخ ناصر محمود کی خدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوششیں معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت بے شمار لوگوں نے روڈ سیفٹی کے اصول اپنائے، اور ان کی تربیت سے کئی حادثات کو روکا جا چکا ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر ہم سب روڈ سیفٹی کے اصولوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہم اپنے پیاروں کو حادثات سے بچا سکتے ہیں اور خوشیوں کے خواب بکھرنے سے روک سکتے ہیں۔

    آج کے حادثے کو ہمیں ایک یاد دہانی کے طور پر لینا چاہیے کہ زندگی کا ہر لمحہ نازک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ شیخ ناصر محمود جیسے لوگوں کی کاوشوں کو سراہنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم نے آج یہ عہد کر لیا کہ ہم سڑکوں پر احتیاط اور ذمہ داری سے سفر کریں گے، تو شاید ہم کل کئی زندگیاں محفوظ کر سکیں اور کئی خاندانوں کے خواب بکھرنے سے بچا سکیں۔

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی اٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ لاہور کے مقامی ہوٹل میں نو نومبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پورے ملک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین نے بھرپور شرکت کی۔لوگ دور دراز سے اپنے پسندیدہ شعراء، ادباء، اینکر پرسنز اور ادب کی دیگر اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیکچرز سننے کے لیے آئے۔ دنیائے ادب کی نامور شخصیات نے تقریب میں تشریف لا کر اس خوبصورت محفل کو چار چاند لگا دئیے۔نظامت کے فرائض راقم نے سر انجام دئیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترم حافظ محمد زاہد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر سماں باندھ دیا۔9 نومبر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دن کی مناسبت سے کلام اقبال پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کوثر اقبال صاحبہ نے ترنم سے کلام اقبال پیش کیا اور داد پائی۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی صدر پنجاب محترمہ ریحانہ عثمانی نے اپووا کا تعارف،اغراض ومقاصد،سالانہ تربیتی ورکشاپس،لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، اپووا کتاب ایوارڈ،سیمینارز اور تقریبات، تفریحی دورے،اپووا پبلیکیشن ،اپووا ڈائجسٹ،اپوواویب سائٹ، اپوواموبائل ایپلیکیشن،اپووا فیملی اور اپووا فنڈ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اورحاضرین محفل کی معلومات میں اضافہ کیا۔

    پروگرام کا اگلا مرحلہ اپووا کامیابی کی کہانیاں ان ممبرزکے لیے تھا جو ادب کےمختلف شعبہ جات میں کام کر رہے تھے اپووا میں شمولیت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیااور جواپووا میں بطور ممبر شامل ہوے، اپنی پہچان بنائی اور اب ادب کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے کی صدارت اپووا کی خواتین ونگ کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے کی۔سب سے پہلے اپووا کے بانی ایم ایم علی نے اپووا بنانے کا مقصد اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اس کے بعدثمینہ طاہر بٹ،ریحانہ عثمانی،سفیان علی فاروقی،سحرش خان،مہوش لاشاری،نبیلہ اکبراور مدیحہ کنول نے اپنی کامیابی کی کہانی شئیر کی۔
    اپووا سر پرست اعلی جناب زبیر احمد انصاری صاحب
    لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری صاحب
    سینئر صحافی و کالم نگار جناب ارشاد عارف صاحب
    فلاحی شخصیت سیدہ بلقیس اصغر صاحبہ
    معروف اینکر پرسن ریحام خان صاحبہ
    لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب صاحبہ
    اداکارہ اور گلوکارہ میگھا جی
    اینکر پرسن ثنا آغا خان
    لیجنڈ اداکار غلام محی الدین صاحب
    بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی صاحب
    موٹیویشنل سپیکر اختر عباس صاحب
    معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب
    سینئر صحافی عنبرین فاطمہ صاحبہ
    معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر صاحب
    نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب
    افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی صاحب
    معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی صاحب
    نوجوان نسل کے معروف شاعرمحترم اتباف ابرک صاحب
    رپورٹر جیو نیوز دعا مرزاصاحبہ
    سینئر تجزیہ نگار نوید چوہدری صاحب
    معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر صاحب
    میگزین ایڈیٹرجناب ندیم نظر صاحب
    شاعر آغر ندیم سحرصاحب
    رائٹر،ایڈیٹرندیم اختر صاحب
    مصنف عقیل انجم اعوان
    ادبی شخصیت ریاض احمدحسان صاحب
    سمیت کئی بڑے نام اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔
    تمام محترم مہمانان گرامی نے باری باری ڈائس پر آکر اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا قاری ہو ۔ اورا س کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ معاشرے کی ترقی و ترویج کے لیے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کر سکیں ضرور کریں ۔مزید برآں کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کام کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنے قلم سے وہ سب دکھا سکتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہے ۔معاشرے کی موجودہ ابتد حالت اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل بھی موضوع سخن رہے۔خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف سے آزاد ہو کر ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے قلم اور عمل سے خود کو منوا سکیں اور معاشرے پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو سکیں ۔

    مقررین نے سرپرست اپووا زبیر احمد انصاری،بانی اپووا ایم ایم علی،صدر حافظ محمد زاہد،سمیت دیگر عہدیدران کو ان کاوشوں ہر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اپووا نے اس ورکشاپ پر بھی فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے لے ہال میں فلسطینی پرچم آویزاں کیے۔اس کے علاوہ شرکاء کو فلسطین سے اظہار یک جہتی کے لیے بیجز بھی دئیے گئے ۔اس بار اپووا کی طرف سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ۔جہاں موجود ٹیم نے لوگوں کو مفت طبی مشورے فراہم کیے ۔خراب موسمی حالات کے باعث موٹروے کی بندش کی وجہ سے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کو سفری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ان سفری مشکلات کے باوجود ملک کے کونے کونے سے شرکاء نے ورکشاپ میں شرکت کی۔ہم آپکی آمد کے تہہ دل سے مشکور ہیں ۔

    دوران تقریب ایورڈز،میڈلز،اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ میدان ادب میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو سراہا جاتا رہا اور ان خوبصورت لمحات کو کیمروں میں مقید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ تقریب میں اپووا میگزین کے ممبران کو ان کے پریس کارڈز بھی جاری کئے گئے اور ایک سال سے میگزین میں اچھی کارکردگی دکھانے پر میڈلز دئیے گئے ۔واضح رہے کہ اپووا میگزین آن لائن ماہانہ شمارہ ہے اور اس وقت بہت سے مفید سلسلوں کو لے کر چل رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کی گئی اور گفٹ ہیمپرز اور کیش پرائز بھی تقسیم کیے گئے۔خوبصورت تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے پرتکلف بوفے لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا،جس میں چکن قورمہ، نان، بریانی،رائتہ سلاد،کولڈ ڈنکس،قلفہ،اور چائے شامل تھی۔شرکاء لنچ سے لطف اندوز ہوے اور اپنی اپنی منزل کی جانب چل دئیے۔

    ایک خوبصورت تقریب دل ودماغ پر انمٹ نقوش اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جو مدتوں یاد رکھی جاۓ ۔ انشاءاللہ

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد