Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں توانائی کی کمی اور مہنگی بجلی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر پنجاب کے صوبے میں جہاں عوام کو بجلی کے بلز کی بھاری ادائیگی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کا ایک انقلابی حل سامنے آیا ہے جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعارف کرایا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کی باضابطہ ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے اس اہم منصوبے کا آغاز کیا۔ اس سکیم کا مقصد نہ صرف توانائی کی فراہمی کے نئے ذرائع کو فروغ دینا ہے بلکہ عوام کو مہنگے بجلی کے بلز سے نجات دلانا بھی ہے۔اس سکیم کے تحت ہزاروں گھروں کو مفت سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔ سولر توانائی ایک قدرتی اور ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے، جو نہ صرف توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سکیم کی بدولت لوگوں کو کم قیمت اور مستقل بجلی مل سکے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بجلی کے بلز میں بھی کمی محسوس کریں گے۔

    اس سکیم کے ذریعے ہزاروں افراد کو سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے، جس سے وہ بجلی کی مہنگی قیمتوں سے بچ سکیں گے۔ سولر توانائی سے گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا اور صارفین کی مالی حالت میں بہتری آئے گی۔سولر توانائی ایک صاف ستھری توانائی ہے جو ماحول پر کم سے کم اثر ڈالتی ہے۔ اس سکیم کے ذریعے صوبے میں آلودگی کم ہو گی اور قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے گا۔ سولر پینلز کی مدد سے گھروں کو بجلی کی مستقل فراہمی ہوگی، جس سے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف افراد کو توانائی کی بچت ہوگی بلکہ اس کے ذریعے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سولر پینلز کی تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ماہر افراد کی ضرورت ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود مختلف نمبر بتا کر اسکیم کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجے میں خوش نصیب صارفین کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور سولر پینل انسٹالیشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے بچانے کے لیے اس سکیم کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری انرجی نے بتایا کہ مارچ کے آخر تک اسکیم کے تحت فزیکل ویری فکیشن مکمل کر لی جائے گی، جبکہ جولائی کے آخر تک پہلے فیز میں انسٹالیشن مکمل ہوگی۔سیکرٹری انرجی کے مطابق، پہلے مرحلے میں 94483 سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ سکیم خصوصی طور پر ان گھریلو صارفین کے لیے ہے جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکیم کے تحت 0.55 کلوواٹ کے 47182 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔1.1 کلوواٹ کے 47301 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ان سسٹمز میں جدید ترین انورٹرز اور بیٹری سٹوریج کا نظام بھی شامل ہوگا تاکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔سولر پینلز کی تنصیب میں معیاری آلات اور مستند تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔فری سولر پینل سکیم کے لیے 861000 صارفین نے درخواست دی تھی، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد کو منتخب کیا گیا۔ یہ تمام عمل اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے تحت مکمل کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اسکیم کے تحت منتخب صارفین کو فزیکل ویری فکیشن کے بعد سولر پینل سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ان صارفین کو تربیتی مواد بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔صارفین کی ویری فکیشن ان کے بجلی کے بل پر درج ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے کی جائے گی۔اسکیم کے تحت صارفین کو ہیلپ لائن کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔سولر پینلز اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لیے انہیں صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ہر ضلع میں خصوصی سروس سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں صارفین کو اپنی شکایات اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا جائے گا جہاں صارفین اپنے درخواست کی حیثیت جانچ سکیں گے اور کسی بھی مسئلے کی رپورٹ درج کروا سکیں گے۔

    پنجاب میں ایک لاکھ سولر سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم کے تحت 57 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی۔وفاقی حکومت پر سبسڈی کے بوجھ میں کمی آئے گی۔متبادل توانائی کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جس سے ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔بجلی کی طلب اور رسد میں توازن پیدا ہوگا، جس سے لوڈ شیڈنگ کے مسائل میں کمی آئے گی۔گھریلو صارفین کو بجلی کے بل میں 50-60 فیصد تک کمی کا امکان ہوگا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ اسکیم توانائی بحران کے حل کے ساتھ ساتھ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کا ایک عملی اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم سے پاکستان میں صاف اور متبادل توانائی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ سکیم ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف توانائی کے بحران کا حل پیش کرے گی بلکہ عوام کی زندگی میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔ اگر یہ سکیم کامیابی کے ساتھ چلتی ہے تو پنجاب میں توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ سولر توانائی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے پورے ملک کی توانائی کی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔یہ سکیم نہ صرف صوبہ پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ پاکستان کی توانائی کی پالیسی میں بھی ایک اہم پیشرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

    اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

    اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

  • یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ  ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ارض وسماں کا مالک صرف اللہ،ہماری اکڑ کیسی؟جمہور کے نام نہاد علمبردار قوم کو تقسیم سے بچائیں
    ترقی کا راز قانون کی حکمرانی،متکبر افسر یادرکھیں ،آخر موت ہے،عوام کےخادم بنیں،حاکم نہیں
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    عالمی قوتیں ایک دوسرے کو دھوکہ دے ر ہی ہیں یا امریکہ ا پنے اتحادیوں کو دھوکہ دے رہا ہے ؟ یہ دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ کیا امریکی صدر دنیا کے لئے کچھ نیا کرنے جا رہے ہیں۔ کیا امریکہ فسٹ امریکی صدر کا نعرہ کوئی نئی پالیسی دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ یو کرین سے الگ ہونے کے لئے بے چین کیوں ہے ؟ کیا یہ بین الاقوامی سیاسی ڈرامہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے؟ کیا دنیا امریکی پالیسی کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے امریکی پالیسی کے خلاف جانا دنیا کے لیے ایک غلطی ہو سکتی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک امریکی پالیسی کے حامی ہیں ۔ تاہم امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے اثرات جلد ہی دنیا میں نظر آنا شروع ہو جائیں گے ۔

    پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر تبصرہ کیا کرنا بس قوم سے التجا ہی ہے کہ و طن انسان کی پہچان اور اس کا وقار ہوتا ہے ۔وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اسکی ترقی ، اس کی خوشحالی ، امن وامان میں ہر ممکن تعاون کرے ۔ وطن کی املاک ، سڑکیں ، گلیاں ، اسکول ، ہسپتال ، دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری ہر شہری کی ہے ۔ ملک وقوم کی سربلندی ہر شہری کا خواب ہونا چاہیئے ۔ منتشر اور خستہ حال ملک کے شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔پوری دنیا کی سرزمین اللہ تعالی کی ملکیت ہے پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس زمین پر فتنہ فساد پھیلانے والوں کی بھی باز پرس ہو گی اس زمین پر جتنی بھی نعمتیں ہیں آسمانی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں اس سرزمین کی آغوش میں نہ جانے کتنی نسلیںسو گئیں یہ کائنات صدیوں سے تھی اللہ تعالٰی کے حکم سے رہے گی ہم سب راہ گیر ہیں اور حقیر ہیں آج ہیں کل نہیںہوں گے ۔ نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ دنیا کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی ہے ۔ انصاف ہے ۔ ہمارے اقربا پروری کی انتہا ہے رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فقدان ہے۔ یہ میرا افسر یہ تیرا افسر ، یہ میرا بیورو کریٹ ، یہ تیرا بیورو کریٹ ،تکبر و غرور کی انتہا کی بلندیوں کو چھونے والے سیاستدان ،بیورو کریٹ ، بیوروکریسی کے افسران پولیس کے افسران اوردیگر محکمہ جات میں بیٹھے افسران خدا کی زمین پر اکڑ کر چلنے والے اپنی موت سے بے خبر زمین بوس ہونے والے کب سدھریں گے؟ یاد رکھیئے امریکہ اور یورپ میں مفاہمت اور اتحاد کا پرانا ریکارڈہے دوسری جنگ عظیم کے بعدافغانستان کی جنگ تک یورپ اور امریکہ ہر قدم پر ساتھ رہے ۔ امریکہ یورپ روس یو کرین کی سیاست سے باہر نکلیں ،اسلامی ممالک کے لیے موجودہ عالمی سیاست میں سعودی عرب کا کردار انتہائی اہم ہوگااپنی پالیسیوں پر توجہ دیں.

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
    چمن میں آۓ گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے

    28 فروری بروز جمعہ کا دن ایک دلخراش خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔ جمعہ کی رات فیس بک پر سکرولنگ کے دوران دارالعلوم ثانی جامعہ حقانیہ میں ہونے والے المناک دھماکے کی خبر نظروں سے گزری۔ پہلے تو یقین نہ آیا، فوراً سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سچ ہے۔ دل پر جیسے بجلی سی گر گئی اور پورا دن انتہائی سوگوار گزرا۔ پھر دھماکے کے بعد کی ویڈیوز دیکھیں، وہ معصوموں اور بے گناہوں کے بکھرے وجود کا منظر، جو آنکھوں کے سامنے سے ہٹانا ناممکن لگتا تھا۔

    دل غم کی شدت سے تڑپتا رہا کیونکہ مدارس والوں کو تو مدارس سے عشق ہوتا ہے۔ آج تک عالمِ اسلام میں مولانا سمیع الحق کی کمی پوری نہیں ہو پائی تھی کہ ایک اور سانحہ امت مسلمہ پر ٹوٹ پڑا۔ شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آہ! امت مسلمہ پھر سے یتیم ہوگئی۔

    کاش کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے یہ سمجھ سکیں کہ ان کی سازشیں امت مسلمہ کے دل میں انتقام کی آگ سلگانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ اسلام کو جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ اتنا ہی ابھر کر پھیلے گا۔وہ تو جنت کے باسی تھے، راہِ حق میں قربان ہونے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے تھے، جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے کو کفر سمجھتے تھے۔ یقیناً جب وہ اللہ کے حضور پہنچے ہوں گے، تو فرشتوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔ لیکن ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام لوگوں کا کیا قصور تھا جنہیں ان کی ضرورت تھی؟ کیوں ہمیں رمضان المبارک کی شروعات میں لاشوں کا تحفہ دیا گیا؟

    اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین

    دیوانے گزر جائیں گے ہر منزل غم سے
    حیرت سے زمانہ انھیں تکتا ہی رہے گا
    آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
    گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے جو فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایک اہم دینی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے حالیہ دنوں میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا، جو انہیں فتنہ الخوارج کے گروہ کا نشانہ بننے کی وجہ بنا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خواتین کی تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے انہیں فتنہ الخوارج کی جانب سے متعدد دھمکیاں بھی ملیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے اس خودکش دھماکے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس حملے کا مقصد مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔فتنہ الخوارج کی طرف سے اس نوعیت کی دہشت گردی کے حملے نئی بات نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ماضی میں بھی مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے 17 مساجد، 32 امام بارگاہوں اور 21 مزارات کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کئی اہم مذہبی شخصیات جیسے مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، علامہ ناصر عباس، اور خالد سومرو کو بھی شہید کیا گیا۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دین کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے دشمن بن چکے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اس دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو اپنی سیاست کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے کے بجائے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس حکمت عملی اپنائے اور عوام کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔یہ خودکش حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے بلکہ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض انتہاپسند گروہ دین اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر دہشت گردی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد، یہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

  • قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    زمانے بعد کسی ادبی محفل میں جانا نصیب ہوا، جو یقیناً سراسر وقت کا ضیائع ہی تھا، شدید تھکن اور بےزاری کا عالم دیکھ ہی لیں، جتنا برداشت ہوسکا کیا اور پھر سب سے کونے میں موجود نشست دیکھ ” انٹاغفیل”
    خیر، جانا نہایت مجبوری ۔۔۔ محفل میں افسانہ، نظم، غزل پڑھی جانی تھی، جس پر تنقیدی نگاہ ڈالنی تھی ۔۔۔افسانہ ہماری دوست کا تھا، ہم نے سب سے پہلے سبو پیاری کے ساتھ شاعر حضرات کو فرشی سلام کیا، بہت ہی دل جگرے کی بات، سوشل میڈیا کے بےجواز اور بلاوجہ وقت پاس کرنے تنقید کوتو جھیل جاؤ، مگر بچگانہ بحث، منفیت تبصرے، آمنے سامنے برادشت کرنا ۔۔۔۔ ست سلام ۔۔ شاعری ہماری لائن نہی، اسی لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہی لیکن ۔۔۔لکھنا تو۔۔.۔۔ افسانہ تھا ایک پہاڑی علاقے کے مقامی لوگوں کا، پوسٹ مارٹم میں جو یوزلیس تبصرے ہوئے،انگشت بدنداں ۔۔ حیرت سے انگلیاں منہ میں دابنی ہی رہ گئ سمجھیں ۔۔ ہم سمجھتے رہے وقت کچھ بدل سا گیا مگر ۔۔۔ نہ جی ۔۔۔ سوائے ایک دو لوگوں کے، جنہوں نے واقعی ڈھنگ کا تجزیہ کیا تھا باقی ۔۔۔
    ” افسانے میں بلندیوں کا زکر ہے، پستی کا نہی ”
    افسانے میں بہار کا زکر یے خزاں کا نہی ”
    ” افسانے میں صرف مقامی کلچر کا زکر ہے ”
    ۔۔۔۔۔
    بہ خدا، دس پندرہ سال پرانا وقت یاد آگیا، جب سوشل میڈیا پر ایک ادبی گروپ میں شامل تھے، دنیا بھر کے فارغ بابا اور بابی و چند نئے نئے ” جامے سے باہرجاتے ” لوگ بھی نمایاں، دو چار انتہا درجے کے ” چغد و ٹھرکی” افراد ہمراہ ” عورت کے جسمانی خدوخال کو واضح انداز میں بیان کرنا اور ان کے زہنی مسائل کو اجاگر کرنا جو صرف بیڈروم و بستر کے اردگرد گھومتا رہ وغیرہ وغیرہ ” شامل تھا ۔۔۔ اور ہاں کچھ وہ خواتین نما نفسیاتی مسائل کا شکار عورتیں بھی جو ” نیوڈ پینٹنگ اور ان پر کھل کے تبصرہ ” کو ادب کا درجہ دیتیں، چند ایک بار کچھ لوگوں سے جب پوچھا، ہم بستری کے علاوہ دنیا میں کچھ لکھنے نہی تو جواب ملا، یہ حقیقت ہے، جب ان سے پوچھا صبح سویر انسان کو اٹھ کے صرف باتھ روم جانے کی چاہ ہوتی، وہ حقیقت نہی ؟؟ کبھی اس پر بھی تو گولڈن الفاظ ہوجائے تو ۔۔۔ خیر ہم اس ادبی گروپ سے نکال باہر کیے گئے کیونکہ ایک تو ہم ڈائجسٹ رائٹر دوسرا جب پوچھتے، آپ کے گھر جو عورتیں ماں بہن بیوی بیٹی کے نام پر خوبصورت جسم رکھنے والی موجود ان کے نفسیاتی مسائل حل کیے تو پتہ نہی انہیں برا کیوں لگ جاتا تھا، ماحول کااندازہ تو ہوہی گیا ہوگا ۔۔۔ تو ہم اپنی کم عقلی کو اولین ترجیحات میں رکھتے سمجھتے رہے، ادب کا پرچار کرنے والے الگ لوگ ہوتے ہیں، ہم کمرشل لکھاری کو اسی لیے کمتر سمجھتے کہ وہ زیادہ گہرائی میں جاکے سمجھتے پڑھتے لکھتے ۔۔۔۔ اور الحمدلله، ایک بار پھر ہم غلط ثابت ہوئے ۔۔۔۔ واقعی ادبی لکھاری و ڈائجسٹ لکھاری کا کوئی تال میل نہی ۔۔۔ ہم لوگ ان سے زیادہ نفیس و ادب آداب والے ہیں ۔۔۔ کم از کم بہت ہی کم کسی کمرشل لکھاری کو کسی کی بات کاٹ کے اپنی بات کرتے، کسی کا تعارف صبر سے نہ سنتے، اپنا وقت پاس کرتے تنقید کرتے، بحث برائے بحث دیکھا ہے
    ” ڈائجسٹ لکھاری ۔۔۔۔ سوکالڈ ادبی لکھاری سے زیادہ ادب رکھتے ہیں "