Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    لاہور کے ڈیوس روڈ پر پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں منعقدہ آل پاکستان رائٹرزویلفئر ایسوسی ایشن کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لئے دن ساڑھے گیارہ بجے شہر کی آلود ترین سموگ کو چیرتے ہوئے ہم مقامی ہوٹل پہنچے تقریب کا آغاز ہوچکا تھا ہم بھی اپنی نشست تک پہنچ چکے تھے ،مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ادبی دنیاکے چند بڑے نام بھی اس پیاری محفل کا حصہ بنے مختلف موضوعات پراہل علم اپنے علم وادب کےموتی بکھیرتے رہے چونکہ منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہی نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تربیت شامل ہے تو ظاہر ہے علم وادب کے باذوق ترین حاضرین وہی علم کی شمع روشن کرنے والے اور اپنے قیمتی خیالات لوگوں تک پہچانے والے ہی ہال میں موجود تھے، سٹیج سے دور آخری نشستوں کے بیچ میں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو ایک بڑا لکھاری سمجھ رہے تھے لیکن ہمیں اپنی خبر ہے کہ ہم لکھنے میں اتنے ماہر نہیں ہیں کہ اپنے آپ کوبڑا لکھاری کہہ سکیں لیکن خیر تقریب کو لگے چارچاندسے ہم ضرور مستفید ہوتے رہے.

    خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ہماری عورتوں میں علم وادب کا شوق قدرے زیادہ پایا جاتا ہے جس پر ہم جتنا فخر کرسکیں کم ہے ہماری یہی مائیں بہنیں بیٹیاں یقیننا علم وادب کے میدان میں نئے لوگ لارہی ہیں جو خوش آئند ہے اور ادبی دنیا کی رونقیں آباد ہیں انشااللہ یہ آباد رہیں گی ہماری خواتین سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ثوبیہ نیازی کی شاعری اور ان کے کالم ہم بہت محبت سے پڑھتے ہیں ثوبیہ بھی محفل میں تشریف فرما تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی دیگر خواتین شعرا کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نگار اور اینکرز بھی موجود تھیں اور سٹیج پر اپنے علمی وادبی تجربات سے ہمیں آگہی دیتی رہیں .

    منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے منتظم جناب ایم ایم علی اورحافظ زاہد محمود تھے جو بھاگ دوڑ میں تھے ان سے راہ چلتے ہوئے ملاقاتیں ہوتی رہیں خوبصورت محفل سجانے پر ہم انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں معروف قلم کار ادیب کالم نگار اردشاد احمد عارف سے ملاقات ہوئی ہم نے ان کو بھی بتلایا کہ ہم بھی اسی میدان کے کھلاڑی ہیں اگرچہ اناڑی ہیں لیکن آپ جیسے سنیئر سے سیکھ رہے ہیں ڈرامہ نگار کالم نویس مصنف افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار احمد افی سے خوشگوار ملاقات بھی ہمارے دن بھر کی مصروفیت میں شامل رہی مبشرلقمان صاحب بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے تقریب میں ان کا آڈیو پیغام ممتاز اعوان صاحب لے آئے تھے جو محفل شرکا کو سنایا گیا ممتاز دن بھر ہمارے ساتھ رہے اور نئے لوگوں سے تعارف ہوتا رہا روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر جناب ندیم نذر سے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور انہیں بتایا کہ ہم بھی لکھتے ہیں ندیم نذر خوبصورت شخصیت کے باذوق انسان ہیں معروف شاعر ناصربشیر صاحب سے گپ شپ ہوئی گل نوخیزاختر سے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور اپنے دوست معروف سرائیکی شاعر نغمہ نگار افضل عاجز کی غیر موجودگی کے ذکر پر کچھ دیر کے لئے ہم اداس ہوئے کیونکہ افضل عاجز تقریب میں ہمارے درمیان نہیں تھے اپوا کے زیر اہتمام یہ تقریب ہرسال منعقد کی جاتی ہے یہ آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ تھی اس سے قبل بھی ہم ان خوبصورت لوگوں کی محفل میں شامل ہوتے رہے ہیں 9 نومبرکو اس دلچسپ تقریب میں شرکت گویا ہماری خوش قسمتی تھی

    دعا ہے کہ اپوا کے منتظمین اسی شوق لگن اور محنت سے اس ورکشاپ کا سالانہ اہتمام جاری رکھیں اور ہرسال ایک نئی جدوجہد اور پوری توانائی کے ساتھ متواتر یہ سلسلہ جاری وساری رہے تاکہ نئے لوگوں کو حوصلہ ملے وہ آگے آئیں اور علم وادب کی دنیا کو یونہی آباد رکھ سکیں

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن درس گاہ بھی ہے،امان گاہ بھی اور علاج گاہ بھی ہے-اپووا حرف کی تخلیق سے تشہیر تک تخلیق کار کی معاون و مددگار رہی ہے-اپنے قیام سے تادم تحریر سینکڑوں تقریبات،آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور درجنوں سیاحتی دوروں سمیت مقتدر ایوانوں تک تخلیق کاروں کی پذیرائی کو یقینی بنانا اپوا کا خاصہ ہے-آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کیا تھی؟ تخلیق کاروں کا ایک جھرمٹ تھا،چار سو بلکہ ہر سو حکمت و شعور کے چراغ جلانے والے مقدس نفوس تھے جو عزت مآب زبیر انصاری اور سفیر خوشبو برادرم ایم ایم علی کو خراج تحسین پیش کرتے دکھائی دے رہے تھے-تخلیق کاروں کے اظہار و بیان میں لذت تھی سو یہ تقریب حقیقی اعتبار سے واقعی ست رنگی تقریب تھی کہ فلم،ٹی وی،اسٹیج،صحافت،ادب،سیاست اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ایک خاندان کی طرح اس تقریب میں شریک تھے جبکہ وطن عزیز کے ہر بڑے شہر سے تخلیق کاروں کی خصوصی شرکت نے اس تقریب کو منفرد بھی بنائے رکھا-

    اپوا کے ایک ایک معزز رکن کے حضور انتہائی محبت سے حقیر سا تحفہ تحسین پیش ہے- امید ہے لفظوں کے یہ پھول ماحول کو معطر کرنے کی ایک کوشش قرار پائیں گے- اپوا میں موجود تخلیق کار اور انکے فالورز جانتے ہیں کہ لفظ کہنا، لفظ تحریر کرنا اور لفظ کا کرب سہنا ذرا سی بات تھوڑی ھے- حرف سے لفظ کی تخلیق کا مرحلہ اور پھر لفظ بھی وہ جو تصویر بنا رھا ھو وہی لفظ نگاہ سے دل اور دل سے روح میں اترتا ہے-ایک لفظ تخلیق ھونے سے پہلے کرب و بلا کے کتنے مرحلے طے کرتا ھے اس کا احساس صرف ماں کا منصب پانی والی خوش بخت عورت ہی جانتی ھے کہ وہ تخلیق کے عمل اور تخلیق کی اذیتوں سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہے- کڑے دن اور مشکل راتیں،مضمون کی زمین جتنی بھی زرخیز ھو اس پر ستارے، چاند، پھول، شبنم، شفق، رنگ بلکہ رنگ کا نیرنگ، آبجو، چاندنی، شجر و ہجر، صحرا و آبشار اور سورج اگانا بہت مشکل ھوتا ھے-

    خون میں جتنی بھی شدت اور حدت ھو ہوا کا رخ تبدیل کرنے میں زمانے لگانا پڑتے ہیں- جسم کے سارے اعضاء سکّوں میں ڈھال کر خرچ کرنا پڑتے ہیں- سخن کا آغاز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی ، آنکھ کے آنسو، پلکوں کی جھالروں کی جھل مل، لبوں کے ترنم اور کان کی سرگوشیوں سے ھوتا ھوا روح میں اترتا دکھائی دیتا ھے-ہنر کے تخت پر جلوہ افروز ہستیاں مہر و ماہ و انجم غلام کرتی ھیں- ظلمت شب میں نور کا پرچار کرتی ھیں- بہار کا سورج شام و سحر اہل ہنر کا طواف کرتا ھے- خود فریبی کے آئنے چکنا چور ھوتے ھیں- آوازوں کے شہر آباد ھوتے ھیں— باغوں میں کوئلیں راج کرتی ہیں-آپ بھی محبت کی شاخوں پر الفت کے پھول کھلائیے تاکہ آس و امید کی کلیوں اور کونپلوں کو دلفریب عکس دکھائی دیں-برف جذبوں میں خوشبوئیں گھولیں، بجھتے تاروں کی بزم میں چاند سے باتیں کرنے کا ہنر بانٹیں، دیپک راگ مزاجوں پر مثل ملہار راگ برسنے کی کوشش کیجیئے- ہم ہر پوسٹ پر عادتاً واہ، خوب اور کمال لکھ دیتے ہیں ہمیں اس عادت کو ترک کرنا ہوگا- ہمیں کسی بھی صاحب خیال پر اترنے والے مضامین پر اپنی رائے کا اظہار کرنا گا وہ رائے بھلے ہی اختلافی ہی کیوں نہ ہو اس عمل سے آپکے اندر تخلیق کا جذبہ انگڑائیاں لے گا جو یقیناً کسی لاجواب تخلیق کی جانب پہلا قدم بنے گا- آپ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی دم دم خیر-

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سلانہ تربیتی ورکشاپ (اپووا مینجمنٹ ٹیم کے زیر اہتمام) لاہور کے مقامی ہوٹل منعقد کی گئی۔جس میں ملک بھر سے نامور لکھاریوں شاعروں ادیبوں کالم نگاروں ڈرامہ نگاروں افسانہ نگاروں وکلاء برادری اینکرز ڈاکٹرز پروفیسرز محکمہ پولیس کے افسران اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں شرکاء کے لئے بہترین بیگز ایوارڈز اور مہمانوں کے لئے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

    سموگ رش اور روڈ بلاک کی وجہ سے کئی دوست تاخیر سے پہنچے مگر شاید کوئی ایک دوست ہی رہا ہو اتنی خوبصورت تقریب میں شرکت کے لئے میں بہت مشکور ہوں سر ایم علی صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ کے لئے اناونس کیا اور بوس زبیر احمد انصاری صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ دیا۔محترمہ ثمینہ طاہر بٹ صاحبہ جو ہمیں بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب سنگ ریزے اور محترمہ آپا سعدیہ ہما شیخ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے اپنی کتاب بال ہما دی جو انشاءلله انمول تحفوں کی طرح مطالعہ کرکے رکھیں گے ،حافظ محمد زاہد کا خصوصی شکریہ جہنوں نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی دعوت دی ،آپا ساجدہ چوہدری آپا سحرش خان میرے پیارے بھائی ڈاکٹر عمر شہزاد کا بھی شکریہ آپی ساجدہ چوہدری کا خصوصی شکریہ کیونکہ انکے بھائی کی اور میری شکل ملتی ہے اور وہ اکثر مجھے اپنے بھائی کے نام سے پکارتی اور یاد کرتی ہیں

    زندگی بھی گزر جاتی ہے لوگ بھی اچھی یادیں اچھے گزارے ہوۓ لمحات ہمیشہ دل و دماغ میں رہ جاتے ہیں,آخر میں بوس زبیر انصاری صاحب حافظ زاہد صاحب اور اپووا کی تمام ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جہنوں نے کئی روز کی محنت کے بعد یہ ورکشاپ کا انعقاد کرکے اسے کامیاب بنایا۔
    شکریہ اپووا

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدارتی ا نتخابات اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایسے ایسے تبصرے شروع کردئیے ان تبصروں سے نہ تو امریکہ کو فرق پڑتا ہے نہ پاکستانی معاشرے پر ان تبصروں سے کوئی نقصان یا فائدہ ہوتا ہے جس معاشرے کو تباہ کرتے ہیں، نجومی درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش ، جھوٹے راوی ، غنڈے خود ساختہ حق اور سچ کے دعویدار زائچے بنانے والے خوشامدی موقع پرست سیاستدان افواہ پھیلانے والوں کی بہتات ہو ،الیکٹرانک میڈیا پر معاشرے کو سدھارنے کی باتیں کی جائیں، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کے خلاف جہاد کریں، مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔ امریکی صدر کو کسی نجومی ، کسی زائچے بنانے والے نے کامیاب نہیں کروایا امریکہ میں موجود مخلوق خدا نے کامیاب کروایا ہے۔

    امریکہ بطور ریاست اور ٹرمپ بطور امریکی صدر کو بین الاقوامی تنازعات کا سامنا ہے ، امریکی پالیسی اُسی راستے پر چلتی رہے گی تاہم امریکی پالیسی کا انداز اور لہجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت ایک خبر کی کہانی اور سیاسی پنڈتوں کے لئے موضوع بحث ہے کچھ زیادہ نہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی سعودی حکمرانوں کے لئے بھی اچھی خبر ہے ٹرمپ کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے اچھے تعلقات ہیں تاہم دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین ،لبنان ،ایران کے درمیان جاری جنگ کو ٹرمپ اور سعودی حکمران کیا کردار ادا کرتے ہیں ، بائیڈن کی رخصتی اورٹرمپ کی آمد دنیا میں جاری جنگی ممالک میں کیا رُخ دیتی ہے ٹرمپ کے مزاج و انداز میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی؟تاہم پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہوگی اس کے لئے چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا

  • امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے موجودہ انتخابات دنیا کی تقدیر کا تعین کریں گے سلامتی اور معیشت کے ساتھ ساتھ اُن ممالک کی تقدیر کا تعین کریں گے جو بد نظمی کا شکار ہیں ،نیا وائٹ ہائوس کا ماسٹر دنیا کی اعلیٰ معیشت اور دنیا کی جدید ترین اور طاقتور فوج رکھنے والا بحری بیڑوں سمندروں کو حرکت دینے والا نئے ماسٹر کا پلان کیا ہوگا؟یقینا وہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کرے گا۔ اقوام عالم امریکی انتخابات کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نیٹو کے انتظار میں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم امریکی انتخابات کے نتائج کا شدت سے انتظار کررہے ہیں جبکہ روس کے صدر کو انتظار ہے ۔ روس اور یو کرین کی جنگ بندی کی چابی امریکہ کے ہی پاس ہے جبکہ مشرقی وسطیٰ کے رہنمائوں کی نظریں امریکی انتخابات کے نتائج پر لگی ہیں۔

    امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں یا محبت یا امریکہ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقتور معیشت اور طاقتور فوج اور طاقتور بحریہ پر امریکہ فخر کرتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ضمانتیں اور حل فراہم کرتا ہے۔ دنیا جنگوں اور تباہی سے بچنے کے لئے امریکہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس کے نئے ماسٹر امریکی داخلی سیاسی اور خارجہ پالیسی تبدیل ہو جائے گی جس سے امریکی عوام اوربین الاقوامی دنیا کو فائدہ ہوگا

  • تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    نام کتاب : تربیتی نصاب ( 3جلد )
    صفحات : 192
    قیمت : مکمل سیٹ720روپے
    ناشر: دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    ہر بچہ عقائد اور اعمال کا ذہن لے کر دنیا میں آتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی اچھی تربیت اور ذہن سازی اس میں بلند پایہ اوصاف پروان چڑھاتی ہے جس سے وہ معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس غلط تربیت سے عقائد و اعمال بگڑ جاتے ہیں اور ایسا شخص معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس۔ ہمارے ہاں مختلف سطح پر مختلف طرح کے کثیر تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیاں بھی ہیں اور دینی تعلیم کے ادارے بھی ہیں ۔ دنیوی تعلیمی اداروں میں تو تربیت کا بالکل ہی فقدان ہے ۔ دینی تعلیم کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا جذبہ تو ہے لیکن یہاں زیر تعلیم بچوں کے لیے ان کی ذہنی سطح کے مطابق تربیت کا کوئی ایسا سائنٹیفک اور رہنما نصاب کتابیں دستیاب نہیں جو مفید اسلامی معلومات، سیرت نبوی اور بزم ادب کے پروگرام پر مشتمل ہو اور بچوں کو مثالی مسلمان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ اسی اہم ضرورت کے پیش نظر دار السلام انٹرنیشنل بچوں کے لیے تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تیار کی ہے جسے جید علمائے کرام اور کہنہ مشق سکالرز نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تعلیم و تربیت کے اہم اور مفید پہلوو¿ں کا احاطہ کرتی ہے جنھیں 8 ہفتوں کے حساب سے سمیسٹر وائز تقسیم کیا گیا ہے۔ضروری ہے کہ نئی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کے لیے اس کتاب کو عام کیا جائے ، دینی اداروں سمیت سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے بچے بچیاں مفید پاکستانی بننے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں ۔

    طلبہ اور اساتذہ کی سہولت کی خاطر تینوں کتابیں سمیسٹر وائز ترتیب دی گئی ہیں ۔ہر سمیسٹر کا دورانیہ 2 ماہ ہے۔ ہر سمیسٹر میں 8 ہفتوں کے حساب سے مختلف تربیتی موضوعات تقسیم کیے گئے ہیں۔

    ہر سمیسٹر کے پہلے ہفتے میں قرآن مجید کی کچھ سورتیں حفظ کےلئے دی گئی ہیں ، دوسرے ہفتے میں مسنون دعائیں، تیسرے ہفتے میں حفظ احادیث ، چوتھے ہفتے میں بنیادی عقائد ، پانچویں ہفتے میں سیرت النبی ﷺ ، چھٹے ہفتے میں تجوید، ساتویں ہفتے میں اسلامی آداب اور آخری ہفتے میں پورے سمیسٹر کی دہرائی کے ساتھ ساتھ بچوں کو عملی سرگرمیاں شامل کتاب کی گئی ہیں ۔بچوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے اور گفتگو کی صلاحتیں نکھارنے کےلئے ہر کتاب کے آخر میں بچوں کےلئے حمد ونعت اور مختلف موضوعات پر تقاریر بھی دی گئی ہیں ۔ ہر کتاب کے شروع میں طلبہ اور اساتذہ کےلئے مفید تجاویز اور رہنما اصول بھی دیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ان کتابوں کو سمجھنا ، پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بالکل ہی آسان ہوگیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پر فتن اور آزمائشوں کے دور میں تین حصوں پر مشتمل اس کتاب کا مطالعہ ہر بچے بچی کےلئے بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح ان کتب کا مطالعہ والدین کےلئے بھی بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ ۔ یہ کتاب بچوں کو عملی مسلمان بنانے، معاشرے کا مفید شہری بنانے اور ان کی اچھی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گی

  • تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    زیر نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ اپنے نام کی طرح اسرار وتجسس سے بھرپور ایک کہانی ہے۔یہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ عام طور پر تجسس اور پر اسرار واقعات سے بھر پور کہانیوں میں بچوں کی تربیت واصلاح کا فقدان ہوتا ہے۔ یا پھر اسرار وتجسس کے نقطہ نظر سے لکھی گئی کہانیاں بچوں کو جرائم کی راہ پر لے جاتی ہیں لیکن دارالسلام کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس کی شائع کردہ کتابوں میں بچوں کے لیے اسرار وتجسس بھی ہے اسلامی معلومات بھی ہوتی ہیں ، اصلاح وتربیت اور سچائی وصداقت کا بھی بھر پور اہتمام ہوتا ہے۔جیسا کہ پیش نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ ہے۔ یہ کتاب ایک حویلی کے گرد گھومتی ہے جو کسی وقت میں آباد تھی۔ ایک باپ، دو بیٹوں اور دیگر اہل خانہ پر مشتمل ایک خاندان اس حویلی میں پیارو محبت کے ساتھ رہ رہا تھا لیکن پھر اس کے مکین ایک دوسرے کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ یہی حسد گھر کی خواتین کو جادو ٹونہ کرنے والے آستانوں پر لے گیا۔ پھر ایک وقت آیا جب جادو کی نحوست سے یہ خاندان بکھر گیا ، حویلی اجڑ گئی اور نشان عبرت بن گئی۔ یہاں سے تہہ در تہہ خوفناک واقعات رونما ہونے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول ایسے جھوٹے عاملوں سے بھرا پڑا ہے جو شیطان کے ساتھی ہیں، شیطان کی مدد سے لوگوں کو جادو میں مبتلا کرتے ہیں۔ شیطان ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ صرف جاہل ہی نہیں، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جعل ساز فقیروں ، نقلی پیروں اور کالے جادو کاعلم رکھنے والے عاملوں اور نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر آخرت اور دنیا دونوں برباد کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے شیطانی حربوں نے لوگوں کے دلوں کو نفرت سے بھر دیا ہے۔ گھروں سے اطمینان اور سکون رخصت ہو گئے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بے رخی عام ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فساد کا کوئی علاج بھی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہر بیماری کا علاج ، ہر مسئلے کا حل ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور عطا کیا ہے۔ جادو ٹونے کا حل بھی قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم قرآن وسنت کی حفاظتی تدابیر پرعمل کریں تو نہ صرف جادو اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر محافظ بھی مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ پرابلم یہ ہے کہ ہم وہم کا علاج جادو کے ذریعے سے کر تے ہیں۔ جھوٹے عاملوں، جعلی پیروں اور نجومیوں کے آستانے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں نادان لوگ اپنے ہی رشتوں کو، اپنے ہی پیاروں کو جادو کی بھینٹ چڑھانے کے لیے چلے آتے ہیں۔ شیطان کے ساتھیوں نے دنیا میں دکھ پھیلا دیے ہیں ان دکھوں کا بس ایک ہی علاج ہے اللہ کی طرف اپنا رخ موڑا جائے۔ یہ کتاب ” پر اسرار حویلی “ ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ حسد و بغض واضح تباہی و بربادی کا راستہ ہے اور اس سے بچاوصرف قرآن کی طرف رجوع میں ہے۔ کتاب میں جادو کی مختلف اقسام ، جادو اور اس کے اثرات اور جادو سے بچاﺅ کی تدابیر بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ کتاب محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جادو ، ٹونے سے بچاﺅ کے لیے رہنما کتاب ہے۔ اس وقت جعلی عاملوں ، پیروں ، فقیروں نے جس طرح سے معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور لوگوں کے ایمان ، مال اور عزتیں برباد کررہے ہیں ان حالات میں اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہوگا ان شاءاللہ۔ آرٹ پیپر 4کلر کے ساتھ طبع شدہ اس کتاب کی 670روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    ماہنامہ دعوت دین ( سیرت تاجدار ختم نبوت ایڈیشن )
    زیر تبصرہ جریدہ ’’ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کا سیرت تاجدار ختم نبوت ﷺ پر خصوصی شمارہ ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے ’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ فرقہ واریت سے پاک تبلیغی ، اصلاحی ، تربیتی اور دعوتی میگزین ہے ۔’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کی ادارتی ٹیم تجربہ کار ، نظریاتی اور فکری لکھاریوں پر مشتمل ہے جو فرد اور معاشرے کی اصلاح کو زندگی کا مشن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کی تربیت واصلاح کیلئے فی الوقت اس طرح کے جرائد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہنامہ دعوت دین کے ایڈیٹر محمد سہیل ہاشمی ہیں وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ’’ ماہنامہ دعوت دین معاشرہ کی اصلاح کیلئے مینارہ نور ثابت ہوگا ۔بات یہ ہے کہ فی الوقت ہمارا معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہے ، نوجوان نسل کا رابطہ َ کتاب سے تقریباََ ختم ہوتا جار ہا ہے اور اس کی تمام تر توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ ان حالات میں ایسی تربیتی اور اصلاحی کتب اور جرائد کی بے حد ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو دین کے ساتھ جوڑیں ، انھیں مقصد ِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں ، معاشرہ اور فرد کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں ۔’’ مجلہ دعوت دین ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ مجلہ ظاہری اعتبار سے جتنا خوبصورت ہے معنوی اور مضامین کے اعتبار سے اس بھی کہیں زیادہ خوبصورت ،جاذب نظر اور دلکش ہے ۔ آرٹ پیپر 4کلر ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے جو فوراََ ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے ۔ جبکہ ہر شمارے میں مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا ہے کہ قاری انھیں پڑھے بغیر خود کو تشنہ محسوس کرتا ہے ۔ سرورق کا اندرونی صفحہ معاشرتی مسائل ومعاملات کی اصلاح وتربیت کیلئے مختص ہے۔سیاست ، حالات حاضرہ ، دین ودنیا ، روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔میگزین کے خصوصی موضوعات ہیں ۔

    میگزین کے چار صفحات قرآن مجیدکی تفسیر اوردو صفحات مستقل درس حدیث کیلئے مختص ہیں ۔دو صفحات روز مرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل اور استفسارت کیلئے مختص ہیں ۔ زیر تبصرہ میگزین درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے : دعوت دین اور سیرت خاتم النبین ﷺ ، تاجدار ختم نبوت ﷺ کی سیاست وسیرت ، ختم نبوت اور قادیانی ٹولے کے عزائم ، تحریک ختم نبوت اور ڈاکٹر بہائوالدین ، تحریک ختم نبوت میں علمائے اہلحدیث ملتان کا کردار ، غیر مسلموں کا قبول اسلام ڈرائونا خواب کیوں ۔۔۔؟ میگزین میں ’’ آئینہ مرزائیت ‘‘ کے نام سے ایک تاریخی اور معلوماتی انٹرویو بھی شامل ہے ۔یہ انٹرویو سابق سٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر میاں احسان باری مرحوم کا ہے ۔ میاں احسان باری اپنے وقت کے دبنگ اور نہایت ہی بہادر طالب علم رہنما تھے ۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا ۔ان کی ساری زندگی ختم نبوت کی چوکھٹ کی پاسداری کرتے گزری وہ پابند سلاسل بھی ہوئے لیکن کوئی سی بھی صعوبت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکی ۔ جاوید ہاشمی اور شیخ رشید جیسے طالب علم رہنما میاں احسان باری کو سیاست میں اپنا استاد مانتے تھے۔23مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان سے سوات جانے والے طلبہ کے قافلے میں میاں احسان باری بھی طالب علم رہنما کے طور پر شامل تھے ۔ طلبہ کے اسی قافلے کو واپسی پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور پھر اسی ظلم کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے تاکہ قارئین جان سکیں کہ ڈاکٹر میاں احسان باری تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے اور اس ضمن میں رونما ہونے والے تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد تھے۔ ڈاکٹر احسان باری کا یہ انٹرویو حرف حرف انکشاف اور معلومات افزاء ہے جو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری کرنے والوں کیلئے خاص تحفہ ہے ۔یہ چونکہ دعوتی اور اصلاحی میگزین ہے اسلئے اس کی قیمت صرف 100روپے فی شمارہ رکھی گئی ہے تا کہ ہر آدمی باآسانی اس سے استفادہ کرسکے۔ جو احباب میگزین حاصل کرنا چاہئیں وہ درج ذیل فون نمبر0305-4033965اور 0310-2334595 پر رابطہ کرسکتے ہیں

  • ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب ”ابجد ہومیو پیتھی” برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آ گئی۔ بالمثل معالج پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی طرف سے لکھی گئی مذکورہ کتاب کو اسی اور نوے کی دہائی میں خاص طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس کے ترمیم شدہ نسخہ جات ہومیو پیتھک سے کسی بھی حوالے سے وابستہ احباب کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی میں صرف علاج معالجہ ہی نہیں صحت قائم رکھنے کے اصول و ضوابط بھی درج ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مرحوم کی جانب سے وہ راز بھی افشاء کیے گئے ہیں جو اطباء اپنے سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی نہ صرف مبتدی معالجین کے لیے بہترین گائیڈ ہے بلکہ ہر معالج کے لیے ایک بہترین معاون کا کام بھی دے سکتی ہے۔ اس میں فن ہومیو پیتھی کے حوالے سے مکمل معلومات اور کلینک پر پیش آنے والے واقعات کا مکمل نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03153242517 اور 03334289005پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

  • عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    پاکستان کی عدلیہ ان دنوں تنازعات کی زد میں ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے حالیہ طرزِ عمل پر۔ ان ججز کی جانب سے عدالتی روایات اور غیر جانبداری کے اصولوں کے برخلاف رویے نے عوام میں عدلیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کی حرکات اور بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ عدالتی اتحاد اور پروفیشنل اقدار کو اہمیت نہیں دے رہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ججز کو عدلیہ کی بھلائی کے لیے جلد ریٹائرمنٹ لینے پر غور نہیں کرنا چاہیے؟

    جسٹس منصور علی شاہ کا متنازع رویہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ طرز عمل ایک خاص پریشانی کا باعث ہے۔ ان کا سابق چیف جسٹسز، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الوداعی تقریبات میں شرکت نہ کرنا ایک حیرت انگیز اور اختلافی قدم ہے۔ ان تقریبات کی اہمیت محض روایتی نہیں بلکہ یہ عدلیہ میں احترام، تسلسل اور ہم آہنگی کی علامت ہوتی ہیں۔ کسی سینئر جج کا ان تقریبات میں شرکت سے گریز کرنا ان کے ادارے کے لیے احترام اور ہم آہنگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    ایسی تقاریب عدلیہ کے اندر ایک دوسرے کے کام اور خدمات کا اعتراف کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ جسٹس شاہ کا عدم شرکت کا فیصلہ ان کے خیالات اور ان کی ترجیحات پر ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ شاید وہ اپنے آپ کو عدالتی روایت سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ عدلیہ جیسے ادارے میں، جو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، یہ ضروری ہے کہ اس کے ممبران ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کریں۔

    جسٹس شاہ کا الزامی بیان اور اس کے اثرات
    اس سے بھی زیادہ تشویش ناک جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ عوامی بیان ہے، جس میں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدلیہ میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ بظاہر یہ بیان ذاتی تعصب پر مبنی معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی ٹھوس بنیاد پر۔ اس بیان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ اپنی عدم شرکت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بظاہر سرد مہری کو چھپانے کے لیے دوسروں پر بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں۔

    عوام کو توقع ہوتی ہے کہ ان کے اعلیٰ جج صاحبان سچائی اور وقار کا مظاہرہ کریں گے اور بلا تحقیق الزامات نہیں لگائیں گے۔ کسی جج کی جانب سے اس طرح کے الزامات ادارے کے وقار پر دھبہ ثابت ہوتے ہیں اور عوام میں عدلیہ کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ عوام عدلیہ سے غیر جانبداری اور اعلیٰ معیار کی توقع کرتے ہیں، نہ کہ ذاتی اختلافات کو پبلک فورمز پر لے جانے کا۔

    جسٹس منیب اختر پر سوالات
    دوسری جانب، جسٹس منیب اختر کا طرز عمل بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کی بعض سیاسی مفادات کے ساتھ وابستگی کی خبروں نے ان کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدلیہ کے ممبران کو اپنے اصولوں اور عدالتی فیصلوں میں عدل و انصاف اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن جسٹس منیب کے کچھ فیصلے اور ان کا سیاسی موضوعات میں جھکاؤ ان کے عہدے کی غیر جانبداری کے اصول کے منافی معلوم ہوتا ہے۔

    جب کسی جج کی طرف سے سیاسی جھکاؤ کا تاثر دیا جائے تو عدالتی عمل کی شفافیت مشکوک ہو جاتی ہے، اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یہ تاثر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے شاید کسی خارجی اثر کے تحت لیے جا رہے ہیں، جو عدلیہ کے وقار اور غیر جانبداری کے اصول کو مجروح کرتا ہے۔

    عدلیہ کی ضرورت اور ان ججز کا کردار
    پاکستان کی عدلیہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بیرونی دباؤ اور عوامی جانچ کے اس دور میں یہ نہایت ضروری ہے کہ عدلیہ کے ججز پروفیشنلزم، غیر جانبداری، اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔ سینئر ججز، خاص طور پر جسٹس شاہ اور جسٹس اختر، جو ان اصولوں کی پاسداری نہیں کر سکتے، وہ نہ صرف ادارے بلکہ ان عوام کی بھی خدمت میں کوتاہی کر رہے ہیں جن کی وہ خدمت کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں ان ججز کو ایمانداری سے یہ سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان کے لیے معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    عدلیہ کا وقار، غیر جانبداری اور باہمی احترام کی ضرورت
    عدلیہ کے وقار، غیر جانبداری اور احترام کے اصول محض اخلاقیات نہیں بلکہ عدلیہ کی طاقت کا بنیادی حصہ ہیں۔ عدلیہ کے سامنے ان اصولوں کی پاسداری ان مشکل وقتوں میں مزید ضروری ہو جاتی ہے۔ جسٹس شاہ اور جسٹس اختر کے اقدامات نے ان اصولوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث عدلیہ کے لیے غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے کردار کو نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سینئر ججز عزت و وقار کے ساتھ خود ریٹائر ہو جائیں تو عدلیہ ایک نیا آغاز کر سکتی ہے جس سے اس کے غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔

    وقت آ چکا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سنجیدگی سے اس بات پر غور کریں کہ ان کی موجودگی اور ان کے اقدامات ادارے کے لیے کیسا پیغام دیتے ہیں۔ عدلیہ اس وقت مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی جب اس کے ممبران خود ان اصولوں کو پامال کریں جن کی عدلیہ حفاظت کرنے کے لیے موجود ہے۔ اگر یہ سینئر ججز ادارے کے وقار، اتحاد، اور احترام کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں تو ان کا معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ہی مناسب ہوگا۔

    یہ مشکل فیصلہ عدلیہ کے وقار، عوام کے اعتماد اور عدالتی نظام کے لیے ضروری ہے