Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حال ہی میں کی گئی 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت طے طریقہ کار کے مطابق جج جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ سب سے سینیئر جبکہ جسٹس منیب اختر دوسرے نمبر پر سینیئر ترین جج تھے۔نئی آئینی ترمیم سے قبل تو یہ پہلے ہی سے سب کو معلوم ہوتا تھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر آئندہ کون بیٹھے گا کیوں کہ عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینیئر ترین جج ہی آئندہ کے لیے چیف جسٹس ہوتا تھا۔

    پہلی مرتبہ 1994 میں سب سے سینیئر ترین جج کی بجائے جسٹس سجاد علی شاہ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ایڈوائس پر چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔1994 میں چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس سعد سعود سپریم کورٹ میں سب سے سینیئر ترین جج تھے لیکن اس وقت سینیارٹی لسٹ میں سجاد علی شاہ تیسرے نمبر پر تھے لیکن انہیں چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔بےنظیر بھٹو کو اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری نے برطرف کر دیا تھا اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس گیا تو چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان کی برطرفی کے صدارتی فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ اپنے دور میں خاصے متنازع رہے۔انہوں نے 1997 میں، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں جب 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان سے وزیراعظم اور قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار ختم کیا تھا تو سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے اختیارات کو بحال کر دیا تھا۔لیکن اسی روز جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے وہ فیصلہ معطل کر دیا جس سے ناصرف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے اختلافات کھل کر سامنے آئے بلکہ عدلیہ بھی منقسم ہو گئی۔

    انہی حالات میں منقسم عدلیہ کے بعض ججوں نے سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس ماننے سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کی کوئٹہ میں رجسٹری نے ان کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے اور پھر عدالت کے 10 رکنی بینچ نے ان کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفیکشن مسترد کر دیا تھا اور یوں ان کے دور کا اختتام ہوا۔

    سپریم کورٹ میں خلاف معمول ایک اور چیف جسٹس اس وقت سامنے آئے جب تین نومبر 2007 کو اس وقت کے صدر سابق جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا تھا۔جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججوں میں عبدالحمید ڈوگر چوتھے نمبر پر تھے لیکن ایمرجنسی کے بعد دیگر سینیئر ججوں نے صدر کے عبوری حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھانے سے معذرت کی تھی مگر عبدالحمید ڈوگر نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا اور انہیں چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ایمرجنسی کے خاتمے پر جب آئین بحال کیا گیا تو عبدالحمید ڈوگر سمیت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف بھی اٹھایا۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بطور پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی اور اس کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو نظریہ ضرورت تحت بھی جائز قرار دیا تھا۔ان کے دور میں بھی عدلیہ منقسم رہی اور عدلیہ کی بحال کے لئے وکلاء تنظیموں نے بھرپور مہم بھی چلائی اور پھر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ پر معزول کیے گئے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2009 کو بحال کر دیا گیا۔

    اب جبکہ سینیارٹی لسٹ پر تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے اور وہ 26 اکتوبر سے یہ منصب سنبھالیں گے تو ان کے لئے ایک اہم چیلنج عدلیہ کو مزید منقسم ہونے سے بچانا بھی ہو گا۔
    اگرچہ کئی وکلاء رہنما اور تنظیموں کی طرف سے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن اگر عدالت عظمٰی کے موجودہ ججوں کی اکثریت کی انہیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانا قدرے آسان ہو گا
    tasadeq

  • ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز میرٹ ،وقت کی پابندی ،رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان راستوں کا انتخاب کر کے صوبے پنجاب میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کی سول بیورو کریسی کن راستوں پر چل پڑی ہے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبائی سیکرٹریوں نے اپنے الگ راستوں کا انتخاب کر لیا ہے، ڈینگی کو لے کر سول بیورو کریسی اور پنجاب کی انتظامیہ جو اقدامات کر رہی ہے وہ نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب بلکہ عوام سے کھلے مذاق کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض یا دیگر امراض قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی ہوتی ہے اور وہ کامیابی سے مستعدی سے ان امراض پر قابو پاتے ہیں۔ مگر ڈینگی کو لے کر پنجاب بھر کی سول انتظامیہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر تمام محکموں کے ضلعی سربراہان کی بے سود میٹنگز اور فوٹو سیشن کاوشوں نے کیا ڈینگی کے بے قابو جن پر کنٹرول کر لیا ہے ہفتے میں چار پانچ دن ڈینگی کی میٹنگ سے دیگر محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے دیگر محکموں کے افسران عام آدمی کو میسر نہیں ہوتے بلکہ ان روزانہ کی میٹنگز سے خود کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، عوام اور ان کے مسائل کے حل سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران کو مکمل ذمہ داریاں ایک ہی بار سونپ کر فیلڈ سٹاف سے کارکردگی مانگی جائے اور دیگر محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں پرفارم کرنے کا موقع دیا جائے نہ کہ تعلیم، بلڈنگ، سماجی بہبود اور دیگر محکمے اپنے اپنے فوکل پرسن کے ذریعے فوٹو سیشن کی تصاویر بھیج کر ڈینگی کی سب اچھا کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں پنجاب کے ہسپتالوں کے وارڈز ڈینگی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں عملی طور پر نہ تو مکمل سپرے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی گندے و صاف پانی کے گڑھوں کو ختم کیا جا رہا ہے قد آدم سے بلند گھاس بوٹیاں ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، صفائی کے ایس او پیز تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی صفائی کا انتظام نہیں نظر آرہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بشمول سیکرٹری صحت وزیر صحت کو فیلڈ میں نکل کر انسپکشن کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضلعی افسران انتظامیہ و صحت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں

  • شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم کی توجہ آہستہ آہستہ رکن ممالک کے اقتصادی روابط اور ترقی کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ رکن ممالک کے ساتھ پائیدار اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی منتقلی سے فائدہ اٹھانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے، شنگھائی تعاون تنظیم ایک علاقائی فورم کے طور پر ابھری ہے جس کا مقصد تیزی سے عالمی اقتصادی، سماجی اور سفارتی تبدیلیوں کے درمیان تمام رکن ممالک کی تعمیر اور مضبوطی ہے جس کے نتیجے میں طاقت کا ڈھانچہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جہاں چین سب سے طاقتور معاشی کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر نمودار ہواہے اور عالمی اقتصادی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اصلاحات کے لئے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہا ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام سرحدی انتظام اور سلامتی سے متعلق معمولی مسائل کو حل کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا لیکن بعد میں اس میں توسیع کردی گئی، شنگھائی تعاون تنظیم حجم اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے اس کے ارکان دنیا کی آبادی کا تقریبا40 فیصد پر مشتمل ہیں اور ان کی جی ڈی پی 24 بلین امریکی ڈالر ہے، ان کے پاس 20 فیصد تیل اور 44 فیصد گیس کے ذخائر ہیں،سعودی عرب اور دیگر خواہش مندوں کی شمولیت سے مارکیٹ کا حجم، توانائی کے وسائل کا حصہ (تیل اور گیس)اور اقتصادی حجم میں مزید اضافہ ہوگا،یہ واحد تنظیم ہے جو چار جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک (چین، روس، بھارت اور پاکستان) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو ارکان کی میزبانی کرتی ہے، 2004 میں چینی وزیر اعظم نے ایس سی او کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدوں کے لئے کام کریں،2005 میں چین نے اس پر مزید غور و خوض کے لیے 100 ایکشن دستاویز بھی پیش کی تھیں،2018 میں سربراہان مملکت کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بین العلاقائی تجارت کے لیے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، 2019 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں ایک بار پھر ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں،2024 میں ارکان نے سربراہ مملکت کے اجلاس میں دوسری ترقیاتی حکمت عملی کی منظوری دی،اراکین نے تجارت، سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا اور سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے میں نجی شعبوں کو شامل کرنے کے لئے خصوصی پہل کی،چین اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دے رہا ہے اور مثالی طور پر آگے بڑھ رہا ہے،گزشتہ چند سالوں میں اس نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنی تجارت میں اضافہ کیا ہے،س وقت چین شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم کی اقتصادی صلاحیت، اس کے پلیٹ فارمز اور اس کے رکن ممالک کے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے۔

    وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے اعداد و شمار بہت زیادہ نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کی ازبکستان کو مجموعی برآمدات 27.91 ملین امریکی ڈالر، قازقستان کو 107.2 ملین ڈالر، تاجکستان کو 32 ملین ڈالر اور کرغزستان کو 10.6 ملین امریکی ڈالر ہیں، امپورٹ کے محاذ پر صورتحال ایک بار پھر ویسی ہی ہے،ا
    زبکستان سے پاکستان کی درآمدات 32.3 ملین امریکی ڈالر، قازقستان سے 1.9 ملین ڈالر، تاجکستان سے 202 ملین ڈالر اور کرغزستان سے 309 ملین امریکی ڈالر ہیں، روس ایک اور بہت اہم ملک ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم معماروں میں سے ایک ہے روس معروف معیشتوں اور ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے،یہ ایک سپر پاور تھی اور اب بھی بین الاقوامی معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی روس کو کل برآمدات صرف 88 ملین امریکی ڈالر ہیں اور اس کی درآمدات کی مالیت 885 ملین امریکی ڈالر ہے، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان اور روس اپنی پریشان کن تاریخ پر قابو پانے اور اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم اور چین نے دونوں ممالک کو برف پگھلانے کا موقع فراہم کیا اور اب دونوں ممالک مزید بہتری پر کام کر رہے ہیں، روس گوادر بندرگاہ کو تجارت اور رابطے کے لیے استعمال کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، ان اقدامات سے تجارت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،

    سب سے پہلے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کی منڈیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا، اس مقصد کے لیے پاکستان کو ان ممالک کی منڈیوں اور انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقل ادارے قائم کرنے چاہئیں، تمام ممالک کی منڈیوں اور گورننس کے ڈھانچے کی جامع تفہیم سے پاکستان کو ایک دانشمندانہ اور معروضی پالیسی وضع کرنے میں مدد ملے گی، دوسرا یہ کہ پاکستان کو تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جدید طریقے تلاش کرنے چاہئیں، بھارت پاکستان کا پڑوسی ملک ہے، کشیدگی ضرور ہے مگر بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کر کے تجارت بحال ہونی چاہئے، بھارت کے ساتھ روابط کو بہتر کرنے کے لئے پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے.

    تحریر:محمد راشد

  • ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    نواز شریف اور مقتدر حلقے ملکی ترقی اور خشحالی کے راستے پر گامزن
    نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے آج بھی ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے پر بضد
    ایس سی او کانفرنس کا انعقاد اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ

    پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا عزم میاں نواز شریف کی قیادت کا خاصہ ہے،اسلام آباد میں شنگھائی تعاون کونسل کے رکن ممالک کا سربراہی ا جلاس منعقد ہونا علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے اور پاکستان کے علاقائی ترقی اور باہمی تعاون میں کردار کا اعتراف ہے، شنگھائی تعاون کونسل کے سمٹ اجلاس میں پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کی راہیں پوشیدہ ہیں،اس تناظر مین پاکستان کے عوام کو ترقی اور تنزلی ، استحکام اور انتشار ،اتحاد اور امن اوربدامنی کے راستوں میں تفریق کرنی ہوگی، میاں نواز شریف اور مقتدر حلقے پاکستان کی ترقی ، امن ،استحکام اور باہمی اتفاق کے راستوں پر گامزن ہیں جبکہ چند ناعاقبت اندیش سیاسی و لسانی عناصر اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی عناد اور مفاد کی خاطر ادھر اُدھر دھرنا دھونس کی سیاست کے طبل بجا کر شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ہجوموں میں ” نک دا کوکا” نچنے دا دل کردا” ۔ ” پروگرام وڑگیا” کے بے مقصد نعرے نوجوان نسل کو پاکستان کی حقیقی منزل سے دور کررہے ہیں، اس سے قبل 2014 ء میں ہمارے پاکستان کے قابل فخر دوست چین کے صدر کے دورے کے عین وقت پر منسوخی نے سی پیک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پھر نئے پاکستان کے نام نہاد نعرے میں پاکستانی قوم نے اخلاقی اور تعلیمی انحطاط ، ترقی سے تنزلی اور اداروں میں سُست روی کا ایسا دور دیکھاجس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان میں شنگھائی تعاون کونسل کا اجلاس میاں نواز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ ہے،جس کے اثرات تمام خطے پر پڑیں گے اور خصوصاً پاکستان کا علاقائی ترقی میں کردار نمایاں ہوگا،عوام کی ترقی کی راہوں کا انتخاب مبارک ہو۔

  • پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات  ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    حکومت کو پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں

    حالیہ واقعات، خصوصاً خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک پولیس گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ، اسے محض ایک وقتی غصے کا اظہار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ، اور اس جیسے بے شمار دوسرے واقعات، پی ٹی ایم کی دشمنانہ کارروائیوں میں ایک خطرناک اضافہ کی عکاسی کرتے ہیں ایک تحریک جو حقوق کے لیے جدوجہد سے بڑھ کر انتہاپسندی کی حدود پار کر چکی ہے۔ پی ٹی ایم کے دہشت گرد نیٹ ورکس، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کی خودمختاری کے لیے براہِ راست اور سنگین خطرہ ہیں۔ حکومت کو اب صرف ان عناصر کو قابو میں رکھنے کے بجائے، ایک زیادہ جارحانہ اور جامع حکمت عملی اپنانی ہو گی تاکہ ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    پی ٹی ایم نے بارہا پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ریاست مخالف قوتوں کا سہولت کار ثابت ہوئی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی اس تحریک نے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کے ساتھ سازباز کی ہے تاکہ ملک کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی سے تعلقات کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پی ٹی ایم کے اجتماعات میں کھلم کھلا شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض ایک حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم نہیں، بلکہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پی ٹی ایم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت پابندی عائد کرنے کا حکومتی اقدام نہ صرف ضروری تھا بلکہ اس میں تاخیر بھی ہو چکی تھی۔

    مزید برآں، پی ٹی ایم کے غیر ملکی دشمن ایجنسیوں، خصوصاً افغانستان کے ساتھ گہرے روابط، صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پی ٹی ایم کو خفیہ حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس تحریک کی بیان بازی اور اقدامات پاکستان کے بجائے افغانستان کے مفادات کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی خودمختار ملک ایسی تحریک کو برداشت نہیں کر سکتا جو بیرونی طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے پراکسی کے طور پر کام کرے۔ پی ٹی ایم اب محض ایک مقامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور خطرناک نیٹ ورک کا حصہ ہے جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسی طرح، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی طرف سے لاحق خطرہ بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ جیسے پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط ہیں، ویسے ہی بی وائی سی کے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تشویشناک تعلقات سامنے آئے ہیں، جو کہ ایک بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے اور عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بے شمار حملوں کی ذمہ دار ہے۔ دونوں گروہ اپنے آپ کو "حقوق کی جدوجہد” کی زبان میں پیش کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال ایک اور تاریک ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں: علیحدگی، انتہاپسندی، اور تشدد۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگا کر درست قدم اٹھایا ہے، لیکن اب اسے بی وائی سی کے خلاف بھی اسی طرح کے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ پی ٹی ایم کی طرح، بی وائی سی بھی حقوق کی جنگ کی آڑ میں دہشت گردی اور ریاست کی تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ کوئی بھی تنظیم، چاہے وہ اپنے مقصد کو کیسے بھی پیش کرے، دہشت گرد گروہوں جیسے بی ایل اے کی حمایت یا فروغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی صرف مقامی مسائل کی تحریکیں نہیں ہیں، بلکہ یہ غیر ملکی عناصر کی مدد سے چلنے والے بڑے منصوبے کا حصہ ہیں، جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ریاست کو فوری اور بھرپور طاقت کے ساتھ ان گروہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تاکہ ان کے ایجنڈے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی ناکام بنائے جا سکیں۔

    اگرچہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ان تحریکوں کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کو بے اثر کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے کلیدی رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا، اور ریاست کو اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ بہت زیادہ عرصے سے ان تنظیموں کو نظرانداز کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی انتہاپسندانہ نظریات کو فروغ دیا اور انتشار کو ہوا دی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے جو ملک کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ پی ٹی ایم پر حالیہ پابندی ایک ضروری پہلا قدم تھا، لیکن بی وائی سی کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا چاہئے۔ یہ تنظیمیں، جو دشمن طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے چل رہی ہیں، کو بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہو گا اور ملک کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہو گا.

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،تنقید بند کی جائے
    سوشل میڈیا کے خطر ناک جراثیم کی ملکی اداروں پر تنقید کیوں،لگام کون ڈالے گا

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فرانکو جرمن جوڑی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کا کلیدی پتھر رہاہے،اس مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی اس بلاک نے اپنا راستہ برقرار رکھا اور بڑے استحکام کے ساتھ ترقی کی، عالمی بُحران کے دوران بھی یہ شراکت داری حل تلاش کرنے اور یوپی یونین کے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، وطن عزیز کی موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کا بغور جائزہ لیا جائے تو 2017 تک میاں محمد نواز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈاراپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،اس جوڑی نے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ، دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط کرنے میں اہم کردارا دا کیا ، دنیا بدل گئی سیاسی او رمعاشی بحران نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس جوڑی کی اہم اور غالب پوزیشن کو کمزور کرنے میں بہت سی سیاسی اور دیگر قوتوں کا ہاتھ رہا،جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام تاددم تحریر بھگت رہے ہیں، پاکستان کے معاشی مستحکم مستقبل بنانے کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیم نے پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانے کے قریب تر پہنچا دیامگرنادیدہ قوتوں نے ایک ایسی سازش کی کہ ترقی کے راستوں پر چلتا پاکستان دوبارہ معاشی کھائی میں جاگرا، سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں پاکستان معاشی مستحکم ہو سکے گا ؟

    بلاشبہ پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد عمران خان کی تبلیغ کا مرکز پختون خواہ ہی کیوں رہا؟ وہ افغانستان کی صورت میں گرفتار ہو گئے ؟ تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کا سارا فوکس احتجاج پر ہی کیوں رہا؟ سوشل میڈیا یوٹیوبر وطن عزیز کی مسلح افواج اور پاک فوج کو نشانہ کیوں بناتے رہے اور بنار ہے ہیں؟ بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر آخر عسکری اداروں کو ہی نشانے پر کیوں رکھا گیا ؟یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے،ملکی دفاعی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیوں نشانہ بنایا جا رہاہے؟ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے خطرناک جراثیم سے محفوظ کرنا کسی کی ذمہ داری بنتی ہے،ان خطر ناک جراثیم سے ملکی اداروں،معیشت اوراستحکام کو خطرہ ہے،سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،آئینی اصلاحات رواں ماہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں

  • پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہیں بدقسمتی سے مختلف محکموں میں ایسے افسران تعینات ہیں جن کو وطن عزیز کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی میرٹ پالیسی، وقت کی پابندی، چٹ سکیم کا خاتمہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اگر معاشی زوال پذیر ہیں تو اس کی ایک وجہ رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مل کر سوچنا ہوگا کہاں شگاف ہے۔ کہاں غلطیاں ہیں، کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے۔ پنجاب حکومت کی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر لگی ہے بلاشبہ وسائل کی کمی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اگر پنجاب کے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر صدق دل سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی خدمت کے ہمسفر ہو جائیں تو وسائل کی کمی دور کی جاسکتی ہے پنجاب میں اربوں کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی گوجر خان سمیت محکمہ جنگلات کی ہزاروں کنال زمینوں پر لینڈ مافیا قابض ہے جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں لینڈ مافیا سرکاری زمینوں پر قابض ہے حکومت پنجاب کو خوابیدہ افسران کو جگا کر اپنی کروڑوں اربوں کی قیمتی اراضی کو واگزار کرا کے اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے جنگلات کو بازیاب کرا کے ماحولیات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کی شہروں میں قیمتی پراپرٹی جن میں دکانیں، مکانات اور پلاٹ موجود ہیں جن کا کرایہ کوڑیوں ، چند سو روپے اور ہزار روپے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ انہی جائیدادوں کے نزدیک عوام کی ملکیتی دکانوں، مکانوں اور پلاٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔ محکمہ اوقاف کے کارندے اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب کے خزانے کو بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف و شفاف بے رحمانہ احتسابی عمل کو متحرک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے صوبے میں سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ٹی ایم اے، ضلعی کونسل اور دیگر سرکاری اراضیوں کو واگزار کرانے اور وسائل کے استعمال کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ صوبہ پنجاب میں خوشحالی، خودانحصاری اور ترقی کے بے مثال وہ دور شروع ہو سکے جو میاں محمد نوازشریف کا وژن ہے

  • ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف نے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کئی سکیمیں شروع کردیں
    عوام کونواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک، یاد ہے ذرہ،ذرہ
    پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کرے،خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر بدلے

    اسلام آباد (تجزیہ،شہزاد قریشی) ملکی ترقی کے راستے بند کرنے والے پاکستانی عوام کے لیڈر نہیں ہو سکتے،پاکستان بے پناہ جانی ومالی قربانیوں اور مسلمان پاک و ہند کی لازوال تحریک کے نتیجے میں بنا،نوجوانوں کو اپنے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں سے پاکستان کی آزادی کے حالات وواقعات سے آگاہی لینی چاہیے،پاکستان کی قدر اُن سے پوچھیں جنہوں نے آزادی کی ہجرت میں اپنے پیاروں کی جان ومال ، گمشدگیوں کو برداشت کیا اور اپنوں کی عزتوں اور جانوں کو اپنے سامنے پا مال ہوتے دیکھا،پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور محل وقوع اسے خطے میں اہم بناتا ہے، پاکستان میں شنگھائی کونسل کے ممبر ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے وقار اور ترقی کے ثمرات کا ضامن ہے،پاکستان میں سی پیک ٹو کی تعمیر کا مرحلہ ، ریلوے میں انقلاب ،صنعتی ترقی اور اس میں بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی ملک میں خوشحالی ، قرضوں سے نجات ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے اشارے ہیں جن کو پاکستان کے دشمن گوارہ نہیں کر رہے،ادھر افواج پاکستان سرحدوں پر دشمنوں کو شکست دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے عظیم سپاہی جانوں کا نذرانہ دےرہے ہیں،استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کی جاری اس جنگ کے دوران عوامی اور قومی اتحاد میں رخنہ اندیزیاں ہرگز ناقابل برداشت ہیں اور محب وطن حلقے ایسی تعصباتی سیاست ، طبقاتی و لسانی تفریق،ریاستی اداروں سے ٹکرائو،جلائو ،گھیرائو اور بے معنی تکرار و جملے بازی،الزام طرازی کو سراسر ناپسندیگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،

    اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ نواز ، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی،بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت اور کے پی کے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، سب صوبائی حکومتوں کو عوام کی ترقی ،خوشحالی کا سوچنا ہوگا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اورخدمت کی سیاست کو اپنا معیار اور شعار بنانا چاہیے، بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام دوست ، کسان دوست ، طلباء دوست ، مزدور دوست اور غریب دوست سکیموں کا آغاز کرکے صوبے کےعوام کی خدمت میں ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کو بھی ایسے اقدامات کرکے عوام کی محرومیاں ختم کرنی چاہیے نہ کہ آئے روز جلسوں ،جلوسوں میں سرکاری وسائل کا ضیاع کرکے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریں،میاں محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں حکومتی ترجیحات اور پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے لئے اٹھائے گئے جن اقدامات کا تذکرہ کیا ان میں کوئی مبالغہ نہیں، باشعور عوام کو میاں نواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک ہے اور ان کی حکومت کو ختم کرنے والے عناصر کی ناعاقبت اندیشی پر رنج و ملال بھی ہے، مقتدر حلقے اور موجودہ وفاقی حکومت ان غلطیوں کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور سب سے پہلے پاکستان کی ترجیح اپنائیں۔

  • خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی ناکامی کا استعارہ بن چکی ہے۔ کرم میں قبائلی جھڑپوں سے لے کر مالم جبہ میں پولیس افسر کی افسوسناک موت تک، جہاں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خیبر پختونخوا عدم استحکام سے دوچار ہے۔ صوبائی پولیس، جو کبھی ایک مضبوط ادارہ تھی، اب بے بس نظر آتی ہے، اور عوامی حفاظت کی ذمہ داری جن کے کاندھوں پر ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن یہ محض ان مسائل کی سطحی علامات ہیں جو ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہیں—ایک ایسی حکومت کا جو اپنے فرائض سے دستبردار ہو چکی ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت سیاسی بقا پر زیادہ توجہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود سنگین مسائل کو حل کرے۔ وزیراعلیٰ اپنے صوبے سے دور رہ کر سیاسی جلسے اور پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں وقت صرف کر رہے ہیں، جبکہ صوبے میں قانون نافذ کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے ہر شعبے میں نظام ناکامی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دیکھیں، وہ بدعنوانی اور غفلت کا شکار ہے۔ ملازمتیں رشوت کے عوض فروخت ہونے کی خبریں عام ہو چکی ہیں، اور صوبائی وزیر تعلیم چھوٹے چھوٹے مسائل تک حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نجکاری کے نام پر عوامی زمینوں اور اسکولوں کی فروخت ہو رہی ہے، جس سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیاری تعلیم صوبے کے غریب ترین شہریوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بدحالی بہت گہری ہے اور خیبر پختونخوا کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

    صحت کا نظام بھی کچھ بہتر حالت میں نہیں ہے۔ اسپتالوں میں رش، ناکافی فنڈز اور ایسے پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو یا تو مایوس ہیں یا بے اختیار۔ عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی ایک جاری بحران ہے جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم کر رہا ہے، جہاں صحت کی خدمات پہلے ہی نایاب ہیں۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرے اور سیاسی عدم استحکام کے وقت میں، اس لاپرواہی کی قیمت سب سے زیادہ کمزور لوگ چکاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے، جس نے حکومت کے ہر کونے کو متاثر کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر تشہیر کیے گئے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے، جسے کبھی صوبے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا تھا، میں بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات نے اس اور دیگر عوامی منصوبوں میں حیرت انگیز بدانتظامی کو بے نقاب کیا ہے، جن میں بہت مشہور بلین ٹری سونامی بھی شامل ہے۔ یہ واقعات محض حادثاتی نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں جڑ پکڑنے والی بدعنوانی اور نااہلی کی عمومی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ایک ایسے صوبے میں جہاں ہر شعبہ زوال کے دہانے پر ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گا؟ حکومت کے بنیادی فرائض بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اہم افسران کی اپنے عہدے چھوڑ کر لاہور میں گنڈا پور کے سیاسی جلسوں میں شرکت کی خبریں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ صوبے کے بڑھتے ہوئے بحرانوں کے بارے میں کتنی بے حسی پائی جاتی ہے۔ ہر خیبر پختونخوا کے شہری کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ قیادت کہاں ہے اور وہ کب حکومت کریں گے؟ امید کی کچھ کرنیں بھی ہیں۔ نیب کی کارروائی جس نے 168.5 ارب روپے بچائے، ایک شاندار کامیابی کے طور پر سامنے آئی، لیکن چند کامیابیاں ایک ناکام حکومت کو بچا نہیں سکتیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو صرف چند کامیابیوں کی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کے مستقبل کی حقیقی معنوں میں فکر کرے۔

    اصل المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی سے امیدیں وابستہ کی تھیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کا ووٹ معنی خیز تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اب ان کے اندر دھوکے کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔ عوام کیسے ایک ایسی حکومت پر بھروسہ کریں جو ان کی فلاح و بہبود کو اتنی بیدردی سے نظرانداز کرتی ہے؟ وہ تعلیم اور صحت میں بہتری کی امید کیسے کر سکتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے لوگ سیاسی ڈراموں میں مصروف ہیں اور اپنے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے؟ خیبر پختونخوا اس سے بہتر کا حقدار ہے۔ اس کے عوام اس حکومت کے مستحق ہیں جو سنتی ہے، عوامی خدمات کو سیاسی کھیلوں پر ترجیح دیتی ہے، اور تعلیم و صحت میں موجودہ سنگین مسائل کو حل کرتی ہے۔ وہ ایسی قیادت کے حقدار ہیں جو صرف اصلاحات کے دعوے نہ کرے بلکہ ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ہر شہری کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم ہو سکیں۔

    جب خیبر پختونخوا زوال کے دہانے پر ہے، تو سوال باقی رہتا ہے: عوام اس نظراندازی کو کب تک برداشت کریں گے اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں؟ حکومت کب یہ سمجھے گی کہ صوبے کا مستقبل سیاسی جلسوں میں نہیں، بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں میں بنتا ہے؟ اگر حکومت اپنے بنیادی فرائض میں ناکام رہتی ہے، تو وہ خیبر پختونخوا کو ایک ناقابل واپسی زوال کی حالت میں چھوڑنے کا خطرہ مول لے رہی ہے

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ