Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی سیاست کا دھارا عام آدمی کے مسائل کی طرف سے کسی اور طرف موڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اختلاف اور اتفاق رائے کا حق ہر جماعت اور ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر عوام کا استحصال کیا جائے ،جمہوری حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت پنجاب میں صوبے کی چیف منسٹر مریم نواز کی توجہ صوبے کے عام آدمی کے مسائل پر ہے جس کے اثرات پولیس تھانوں سے لے کر دوسرے محکمہ جات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر صوبے کے چیف سیکرٹری، سول بیوروکریسی کے سیکرٹریوں کے دفاتر اور صوبہ بھر کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر پر توجہ دیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

    پنجاب کی سول بیورو کریسی کا رویہ مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہے ماضی کی کئی جمہوری حکومتوں کی ناکامی میں بیورو کریسی کا کردار روا ہے، بیورو کریسی کا چال چلن اگر مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہوگا جمہوری نظام کیسے چلے گا ،کیسے کامیاب ہوگا ،عوامی مسائل کس طرح حل ہونگے؟۔ صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کو سول بیورو کریسی کو عوام کا حاکم نہیں خادم بنانے پر توجہ دینا ہوگی صوبے کی چیف منسٹر کے عوامی منصوبوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر صوبوں کےوزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان اپنا رخ عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑ دیں۔

    پنجاب پولیس میں تھانہ کلچر میں تبدیلی میرٹ کی پالیسی پر عمل، جس طرح پنجاب میں ہوا ہے انہی راستوں کا دیگر صوبوں کو بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور وقت کی پابندی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے شفاف انتظامی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب ریاست بنانے کے لئے ہمیں اپنے ریاستی محکموں میں اصلاحات کا ایک مربوط نظام لانے کی ضرورت ہے ،ملک کو عقل سے عاری نااہل اور مفاد پرست منہ زور سول بیورو کریسی اور بیورو کریٹ افسران نے جکڑ رکھا ہے۔ منہ زور افسر شاہی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ حکمرانوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی خدمت کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ قابل ستائش ہے تاہم سول انتظامیہ کی تنظیم نو کرنے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا

  • خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    عمران خان کی حکومت میں جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے قریبی دوست عبدالحفیظ پاشا کو 40 منزلہ گرینڈ حیات ہوٹل واپس بخش دیا۔ جب اس غیر قانونی فیصلے پر سوال کیا گیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے کے حق میں دو دلائل دئیے۔

    پہلی دلیل یہ کہ ۔۔ اگر ایسے ہی غیر قانونی تعمیرات گرانی ہیں تو آدھا اسلام آباد گرانا پڑے گا۔
    دوسری دلیل ۔۔ میں نے رات کو خواب دیکھا تھا اور جرمانہ بھی مجھے خواب میں دیکھایا گیا تھا۔

    (جیسے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے سے پہلے یوتھیے صحافی اوریا مقبول جان نے خواب دیکھا تھا کہ باجوہ کو سپاہ سالار حضورﷺ نے بنایا ہے)

    ہوٹل کی لیز پر چالیس منزلہ رہائشی ٹاورز بنانے والوں نے اربوں نہیں کھربوں چھاپ لیے۔ کہا جاتا ہے پاکستان کے اس سب سے مہنگے ٹاؤر میں عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالحسن کا بھی ایک ایک فلیٹ ہے۔

    آج سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے میں اعتراف کیا کہ ہم نے مخصوص نشتیں اپنے ضمیر کے فیصلے پر پی ٹی آئی کو دیں۔ آئین اور قانون کی کوئی شق لاگو نہیں کی۔

    فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ ۔۔۔
    پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں موجود نہیں،
    درخواست گزار نہیں،
    جیتنے والے امیدواروں نے حلف نامہ سنی اتحاد کونسل کے لیے جمع کروایا ہے،
    مخصوص نشتیں بھی سنی اتحاد کونسل نے مانگی ہیں،

    لیکن ہم نے گمان کر لیا کہ آزاد امیدوار دراصل پی ٹی آئی کے تھے،
    آزاد امیدواروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے حلف نامے جھوٹے تھے،
    پی ٹی آئی نے مخصوص نشتیں نہیں مانگیں لیکن شائد دل میں مانگ رہی تھی،
    لہذا ہم یہ نشتیں پی ٹی آئی کو دیتے ہیں۔

    یہ جسٹس ثاقب نثار کے خواب دیکھنے والے فیصلے سے ملتا جلتا فیصلہ ہے۔ آئین پاکستان اٹھائیں اور اس فیصلے کی ساری رواداد دنیا کے کسی جج کے سامنے رکھیں وہ اس کو ایک بھونڈا مذاق ہی سمجھے گا اور کچھ نہیں!!

    اگر آئین اور قانون کو سائیڈ پر کر کے جج اپنی منشاء کو "ضمیر” کا نام دے کر اس کے مطابق فیصلے کرنے لگیں تو پاکستان کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی جج دنیا کے بدترین جج اور پاکستان کی عدلیہ دنیا کی بدترین عدلیہ مانی جاتی ہے۔ ان کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ عدالتی اصلاحات کیے بغیر پاکستان میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

    تحریر شاہد خان
    @BloggerShahid

  • خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، مگر اس کی حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ اب بھی مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ساری توجہ بیان بازی اور دوسرے صوبوں میں جلسے جلوسوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر مرکوز ہے۔سب سے پہلے اگر امن و امان کا جائزہ لیا جائے تو صوبے کی قانون و ترتیب کی صورتحال بالکل تسلی بخش نہیں ہے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے صوبائی پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آج ایک افسوسناک واقعہ سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں پیش آیا جہاں غیر ملکی سفارت کاروں کی سکیورٹی پر مامور پولیس وین ایک آئی ای ڈی کی زد میں آگئی۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار نے شہادت پائی جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔

    اس واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ لاقانونیت کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی نااہل ثابت ہو رہی ہے، اور بیڈ گورننس اور مالی کرپشن کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے رویے سے ایک شرپسند شخص کے طور پر سامنے آرہے ہے، جس کی واحد صلاحیت پی ٹی آئی کے بانی کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ اس وقت صرف غیر آئینی سیاست میں مصروف ہے۔ نہ اسے ملک کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی صوبے کے امن و امان کا خیال ہے۔ اسے پولیس کے اہم محکمے کی طرف توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی اسے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا احساس ہے۔

    سوات کے علاقے مالم جبہ کے افسوسناک واقعے کے علاوہ ضلع کرم میں قبائلی جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ سے چھ افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ ایک طرف لاقانونیت بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ بھی احتجاج کرنے کی باتیں کر رہی ہے۔ فتنہ الخوارج، غیر قانونی سرگرمیاں، اور غیر قانونی افغان باشندوں کے مسائل بھی صوبے کو درپیش ہیں، لیکن یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ صوبے میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے، اور جب حکومت ہی نہیں تو اس کی رٹ کیسے قائم ہو سکتی ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں وزارت داخلہ غیر متحرک ہے۔ اگر کسی وزیر کے پاس داخلہ امور کی ذمہ داری ہے تو اس کا نام تک سامنے نہیں آیا ہے۔ کئی واقعات ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک کسی وزیر داخلہ کا کوئی وجود خیبر پختونخواہ میں نظر نہیں آیا۔ اگر وزیراعلیٰ نے خود یہ قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے تو پھر اللہ ہی اس صوبے کا حافظ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، جس کے صوبے میں سکیورٹی اہلکار، پولیس اہلکار اور عوام مجرموں کے رحم و کرم پر ہیں، وہ کبھی جلسے کامیاب کرانے کے لیے ترنول، کبھی سنگجانی، اور کبھی لاہور بھاگتا پھر رہا ہے۔ اس شخص کی نظر میں صرف پی ٹی آئی کے جلسے اور پارٹی کے بانی کی ہدایات اہم ہیں۔ نہ پہلے کبھی اس نے عوامی مفاد کے بارے میں سوچا تھا اور نہ اب ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ جس صوبے کا وزیراعلیٰ خود دہشت گردی کرتے ہوئے کلاشنکوف اٹھا کر ٹرکوں کے شیشے توڑے، وہ دہشت گردوں کو کیسے روکے گا؟

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی بنیادی وجہ کرپشن اور ہر سطح پر حکومتی بدانتظامی ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومتی شعبہ ہو جو رشوت ستانی اور بدانتظامی سے محفوظ رہا ہو۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے کی حالت بھی ابتر ہو چکی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی حیثیت اتنی کم ہو چکی ہے کہ وہ چوتھے درجے کے ملازمین کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتا، وائس چانسلر کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟ صوبائی وزیر تعلیم بیس لاکھ روپے میں نوکریاں فروخت کر رہا ہے۔

    صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کی زمینیں بیچنی شروع کر دی ہیں، اور اب سرکاری اسکولوں کو نجکاری کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس تک اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں وزیر اور اس کے ساتھ سیکرٹری اور باقی عملہ اسلام آباد آتا ہے۔خیبر پختونخواہ میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے صوبے میں بی آر ٹی منصوبے میں بھی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں، جس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل بلین ٹری منصوبے میں بھی کرپشن کی کہانیاں سامنے آئی تھیں۔

    اس طرح کی صورتحال میں صوبہ کیسے چلے گا؟ گزشتہ روز یہ حال تھا کہ کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی موجود نہیں تھا، پشاور میں تک کوئی سرکاری افسر نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ سب کو لے کر وزیراعلیٰ لاہور فتح کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے آج ایک بڑی کارروائی کے ذریعے قومی خزانے کو 168.5 ارب روپے بچائے، جب انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے کنٹریکٹرز کا 31.5 ارب روپے کا دعویٰ خارج کروا دیا گیا۔ بی آر ٹی پشاور کے کنٹریکٹ کے غیر قانونی ایوارڈ، سرکاری فنڈز میں خرد برد، اور جعلی پرفارمنس گارنٹی کی تحقیقات میں گھپلوں کا انکشاف ہوا، جس کے بعد نیب کی تحقیقات میں کمپنیوں کے جعلی معاہدوں کا پردہ چاک ہو گیا۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے سرکاری ادارے کو دھوکہ دے کر کوئی کام کیے بغیر تقریباً ایک ارب روپے وصول کیے۔ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 400 سے زائد بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کی۔ نیب تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ مقامی کنٹریکٹرز نے معاہدہ حاصل کرنے کے لیے بوگس آڈٹ رپورٹس جمع کرائیں۔ نیب نے ان غیر ملکی کمپنیوں کو متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے شامل تفتیش کیا۔ نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں پراجیکٹ کو اصل لاگت پر مکمل کروایا گیا اور قومی خزانے کے 9 ارب روپے بچائے گئے۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مخدوش حالات میں خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ہی کیوں ہونا چاہیے؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بہتر مستقبل کے لیے انہیں ووٹ دیا؟

    ایک ایسا صوبہ جہاں لاقانونیت بڑھ رہی ہے، کیا وہاں مستقل وزیر داخلہ کا ہونا ضروری نہیں؟ صوبے کے ہر شعبے میں کرپشن کی جڑیں گہری ہیں، تو پھر اس ناکام اور نااہل حکومت سے کس طرح بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟

  • جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی لاہور کا جلسہ کامیاب تھا یا ناکام اس سے قطع نظر میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی وسیع القلبی اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی آنسو گیس اور لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی کنٹینر کھڑے کر کے راستے بلاک کئے گئے صاحبان اقتدار کا یہ رویہ قابل تحسین اور جمہوری اقدار کا آئینہ دار ہے۔ اسی کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اگر بنیادی جمہوری اصولوں کے پیش نظر تحمل وسیع القلبی باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کریں تو پاکستان کا جو خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ نہ پانے کی بڑی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول ہے اقتدار کے جام کو تھام کر عقل اور شعور کی جگہ جاہ و جلال نے لے لی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اپنی پستی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا رواج عام ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ کیا کبھی کسی سیاسی جماعت نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ جمہوریت آمریت کی آغوش میں کیوں اور کیسے جاتی رہی جمہوریت کو آمریت کی آغوش میں پہنچانے والے خود سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی سیاستدان نے یہ سوچنے کی زحمت کی سیاست کے افق پر چمکنے والے ستارے زمین بوس کیوں ہوتے ہیں؟

    اس وقت ملک و قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا حل تصادم نہیں بلاشبہ سیاسی گلیاروں میں بھٹو نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں مفتی محمود نہیں۔ خان ولی خان نہیں۔ نوابزادہ نصراللہ نہیں معراج خالد نہیں مولانا عبدالستار خان نیازی نہیں۔ قاضی حسین احمد نہیں۔ اسی طرح دیگر جو اس دنیا میں نہیں لیکن ان سب کے درمیان بیٹھنے والے ان سے سیکھنے والے موجود ہیں پھر نوازشریف جیسا لیڈر موجود ہے تصادم کی سیاست کو دفن کرنےکا فن نوازشریف سے بہتر کون جانتا ہے نوازشریف اس ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے اپنا کردار ادا کریں اے پی سی ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان اور عوام کو درپیش مسائل سے نکال بھی سکتی ہے اور جمہوریت کو درپیش خطرات سے نکالنے کا بھی یہی راستہ ہے نوازشریف اے پی سی کا اجلاس بلائیں

  • انتشار  اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کبھی حالت جنگ میں ہوتا ہے تو کبھی حالت انتشار میں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاک فوج جملہ اداروں پولیس ، عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ حالت جنگ کا یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تو قربانیاں دینے والوں نے دی ۔اب اس حالت انتشار کے خاتمے کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قربانی دینا ہوگی۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہے گی ؟صدارتی نظام بھی آزما چکے۔ ٹیکنو کریٹ بھی، اب اس انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت ہے ؟ بین الاقوامی دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ عالمی دنیا کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک روس اور یو کرائن جنگ میں بھی مصروف ہیں۔جبکہ مڈل ایسٹ کے حالات عالمی دنیا کے سامنے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان اور شام میں تباہی مچا دی ہے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے جس کا اعلان امریکی ترجمان نے کیا ہے ۔ پاکستان ان تمام حالات سے آگاہ ہے۔

    وطن عزیز کے حکمران ،اپوزیشن کو بین الاقوامی سیاسی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کے پیش نظر سیاست کرنا ہوگی ۔ خدا کی پناہ ایک اسلامی مملکت میں یہ جج آئے گا تو ہمارا فائدہ ہوگا یہ جج ہمیں نقصان دے گا کیا ہم ایسے بیانات دے کر ملک کے وقار میں اضافہ کر رہے ہیں؟ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں عدلیہ کو لے کر کبھی اس طرح کے بیانات سُنے؟ تمام ججز قابل احترام ہیں۔ ملائی اور حلوائی کی باتوں سے باہر نکل کر دنیا کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں۔ ملکی وسائل ملکی معیشت پر توجہ دیں ملکی اداروں کے درمیان ٹکرائو کروانے سے گریز کریں ۔ اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔ اگر سیاسی قائدین ملک میں جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک مضبوط لیڈر قوم اور دنیا میں ثابت کریں۔ اس کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالت انتشار کی ایک وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے یہ اس ریاست کی شان کے خلاف ہے کہ ہم دین الٰہی سے دور رہیں ۔ سود زدہ معاشی نظام خالق کائنات سے برسرپیکارہے.

  • آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کو لے کر دو دن جو کچھ ہوتا رہا، قوم سمیت عالمی دنیا پاکستان نہیں پاکستانی سیاستدانوں کا تماشا دیکھتی رہی۔ سیاسی قافلوں کے قائدین ہی جب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کریں تو پھر آئینی ترمیم کیسی؟ وفاقی حکومت میں اتحادی اور آئینی عہدے رکھنے والی جماعت کے قائدین ہی ایک دوسرے کی سیاسی کامیابی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو پھر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کیسی؟ سب لیڈر شپ کا فقدان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی لیڈر تھے محترمہ بینظیر بھٹو سیاسی لیڈر تھیں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کرنے والے لیڈر نہیں، سیاستدانوں میں اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم سیاستدان ہیں لیڈر نہیں (ن) کے لیڈر نوازشریف ہیں۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ ہی تھی جس نے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد واجپائی کو مینار پاکستان پر کھڑا کر دیا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکے کئے تو عالمی دنیا میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی جب پی ٹی آئی نے 126 دن دھرنا دیا تو پی ٹی آئی لیڈر شپ سمیت کسی کارکن پر نہ لاٹھی چارج ہوا نہ آنسو گیس گرفتاریاں نہ مقدمات کا اندراج لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا نشانہ تادم تحریر نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آئی پی پیز نہ تو نوازشریف، نہ ان کے دونوں بیٹے اور نہ ہی دونوں بیٹیوں کا تعلق اور نہ ہی ان کی ملکیت ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کو ئی ترجمان نہیں وفاقی وزراء کی لائن ہے مگر مسخروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے سوشل میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اس ملک اور قوم کے لئے خدمات آج کی نوجوان نسل کو علم ہی نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات کئے نوازشریف وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک اور ایٹمی دھماکوں تک اس ملک کے لئے جو خدمات ہیں ان خدمات کو پس پشت ڈال کر مسلم لیگ (ن) نے مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا (ن) کا ہر وفاقی وزیر اپنی جماعت اور نوازشریف کی ملک و قوم کے لئے خدمات بیان کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس کا خمیازہ (ن) لیگ بطور جماعت بھگت رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر ایک کارکن سوشل میڈیا عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی اپنی بات ختم کرتا ہے۔ وطن عزیز کا موجودہ بحران اور انتشار کا حل ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے اس وقت مسئلہ سیاسی قوتوں اور اداروں کے ٹکرائو کا نہیں مسائل میں گھری عوام کا بھی ایک مقدمہ ہے۔ طرز سیاست کو بدلنا ہوگا۔ عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    امریکی انتخابات عالمی دنیا کی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ سپُرپاور ہے امریکی صدارتی امیدواروں کی توجہ امریکی عوام ، معیشت ، خارجہ پالیسی ، جدید سے جدید ٹیکنالوجی ، موسمیاتی تبدیلی ،دفاع اور نیٹو، عالمی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام ، امیگریشن بارڈر سیکورٹی ، اسرائیل غزہ اور مشرقی وسطی ، روس یو کرین جنگ، تجارت ، موضوع ہیں۔

    ہماری پارلیمنٹ کا موضوع آئینی تبدیلی ، جلسے ،جلوس ،دھرنے کمیٹیاں ، ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں ، ملازمت میں توسیع ، بحیثیت قوم ہم قوم اورپاکستانی نہیں کوئی بلوچی ، کوئی سندھی ، کوئی کے پی کے ، کوئی پنجابی کی صدائیں بلند کرتا نظر آرہا ہے کہیں سے بھی میں پاکستانی ہوں کی صدائیں بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ عالمی دنیا کو ایک طرف رکھیں ۔ ہمارے قریب ترین ممالک ایران کسی اپلائی سے سوال کریں وہ اپنا تعارف ایرانی بتانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ افغانستان افغانی جبکہ ہمارے ہاں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایک صوبہ کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مذاکرات کا اعلان کرتی ہے۔ لگتاہے ہم مخلوق خدا ضرور ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہم خدا کی زمین پر حکمرانی کرتے ہیں مگر طرز حکمرانی خداکے حکم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جس پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں۔یہ 1970 کے اُن سیاستدانوں کو ضرور یاد کریں کیا اُن سیاستدانوں کا ملک وقوم کو لے کر کردار یہ تھا؟

    حکمرانوں کولیکر اپوزیشن اور اپوزیشن کو لیکر مذہبی جماعتوں تک نے مسخرے پن کی حدود کو کراس کردیا ہے۔یہ ریاست اور ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ملکی اداروں پی آئی اے اور دیگر اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی وسائل سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ خدا کی پناہ عالمی دنیا میں یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ یہ جج میرا یہ جج تیرا ،عدلیہ جیسے ادارے اور ملکی سلامتی جیسے اداروں کو جلسے،جلوسوں ،چوراہوں ، گلی کوچوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا لیا گیاہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ وطن عزیز اور عوام کو معاشی بُحران کا سامنا ہے پارلیمنٹ میں بہت سے نام نہاد رہنما ہیں کسی نے معاشی بُحران کا حل پیش نہیں کیا آج کی سیاست ،آج کی جمہوریت ، آج کی پارلیمنٹ ،ایک افسوسناک عکاس ہے۔ کسی کی توجہ معاشی بُحران نہیں ذاتی بُحران ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
    دل تباہ تو ہی کچھ بتا ہمیں
    چمن پہ کیوں خزاں کا رنگ چھا گیا

  • سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    اگر آپ سیاستدان ہیں تو سیاست کریں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جن مسائل کا سامنا جمہور کو ہے ان کو حل کریں۔ آئین قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔وطن عزیز کی مظلوم غربت، بیروزگاری، مہنگائی کی ماری عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے ریاستی اداروں کیخلاف بھڑکانے سے گریز کریں ان ریاستی اداروں کی وجہ سے ریاست چل رہی ہے سیاست کرنے کے لئے ایک مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ جوش خطابت میں ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کی جگہ ہے پولیس کا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر داخل ہو کر ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کردار قابل تحسین ہے ایاز صادق کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے نوازشریف کی تربیت کے اثرات ایاز صادق میں نظر آئے جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے میں عمران خان کی سیاسی تربیت نظر آئی بلکہ پوری قوم نے دیکھی۔ اس وقت ملکی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اس کی بنیادی وجہ سیاسی گلیاروں میں لیڈر شپ کا فقدان ہے لیڈر شپ کے فقدان کے ساتھ سیاسی جماعتوں میں درباری مزاج کے حامل افراد کی اکثریت موجود ہے حکمرانوں سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتو ں میں درباری کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

    اس وقت واحد صوبہ پنجاب ہی نظر آرہا ہے جہاں عوامی مسائل کو حل کرنے بھرپور توجہ دینے کی کوشش جاری ہے سول بیورو کریسی انتظامیہ پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب ہدایت دیتی دیکھی جا سکتی ہیں باقی کے صوبوں میں سیاست جاری ہے جبکہ پنجاب میں عوامی مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی پشت پر میاں محمد نوازشریف کی تربیت اور رہنمائی اور ان کی ٹیم کی معاونت اور تجربہ شامل ہے۔ صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم ہو یا محکمہ صحت ،زراعت ہو یا جنگلات ،انتظامیہ ہو یا پولیس وزیراعلیٰ کی قیادت کا احساس اور خدمت کی جھلک ملتی ہے وزیراعلیٰ کا آفس عوامی خدمت کا مرکز بنا ہے دیگر صوبہ کے چیف ایگزیکٹو صاحبان کے لئے قابل تقلید ہونا چاہئے۔ سیاست سیاست کا کھیل ختم کر کے الخدمت الخدمت کا دستور اپنانا ہوگا تاکہ استحکام پاکستان کا سفر جاری رہے۔

  • بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آمریت سے لے کر جمہوریت اور جمہوریت سے لے کر آمریت کے دور حکمرانی دیکھے ۔موجودہ دور کی سیاست کے انداز بدل گئے ۔ سیاستدانوں کی وفاداری تبدیل بھی ہوتے دیکھی مگرموجودہ بحران ناقابل فراموش ہے اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ کیا اس موجودہ بحران جو وطن عزیز میں دیکھا جا سکتا ہے اگر سیاسی قائدین ، مذہبی قائدین اور انصاف کا نظام اس بات کا تادم تحریر اندازہ نہیں لگا سکا کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اُس کا حل کیا ہے اور کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آرہی اس موجودہ بحران کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔موجودہ بحران سیاست اور جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے موجودہ بحران پر اگر کسی نے توجہ نہ دی تو ایک ناقابل یقین ،اخلاقی تباہی سے آگے کسی اورچیز میں بدل دے گا۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز صرف اقتدار ، اختیارات اورطاقت رہ گئی ہے ۔ اس میں وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں اقتدار کی عادت پڑی ہے اور وہ ملکی بڑی سیاسی جماعتوں کے دوراقتدار میں ہمسفر رہے۔ آج جن مسائل کا پاکستان کا بطور ریاست اور عام آدمی کو سامنا ہے وہ ہے ملکی معیشت اور مہنگائی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔ آپ اگر اس وقت پورے ملک کا جائزہ لیں نتیجہ اخذ کریں کیا کسی جماعت کی توجہ معیشت اور مہنگائی پر ہے ؟ پاکستان اورعوام کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ کسی نے دکھایا ؟ اس وقت جو سیاسی جماعتوں کے درمیان جنگ ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ مقبول کون ہے ۔ مقبولیت کا انداز بھی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے ۔ملکی سرحدوں کے محافظ پاک فوج اورجملہ اداروں کے خلاف بات کرنا مقبولیت کہا جاتا ہے ۔ عالمی دنیا یں مقبولیت ملک و قوم کی خوشحالی کا نام ہے۔ وطن عزیز میں مقبولیت پاک فوج اورجملہ اداروں کو نشانے پر رکھنا مقبولیت کا نام ہے کیا یہ سیاست اور جمہوریت ہے ؟عالمی دنیا میں ملکی سلامتی کے ان اداروں کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا جس طرح ماضی حال وطن عزیز میںکیا جا رہا ہے۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ، کے پی کے کی سول بیورو کریسی اور مرکزی بیوروکریٹ اپنا چلن بدلیں۔اس ریاست کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچا دیا گیاہے

    بابائے قوم کے اس پاکستان کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنی پوسٹنگ اور ہوس زر سے باہر نکلیں ۔ زمین آسمان کی ملکیت خدا پاک کی میدان حشر کو سامنے رکھیں اختیارات کی باز پُرس ہوگی وہاں کوئی سیاسی سفارشی نہیں ہوگا ،ہوش کریں۔

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری