Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔

     

  • کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شاعر ی وہ لطیف اور حساس اظہار ہے جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات، خوابوں اور حقیقتوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس فن میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ سرگودھا کی تاریخی تحصیل بھیرہ کے نوجوان شاعر کامران حسانی بھی ایسے ہی خوش نصیب اور باصلاحیت شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
    کامران حسانی کا نام ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام "احساس” ایک خوبصورت تجربہ تھا جسے قارئین نے بے حد سراہا، اور اب ان کی دوسری کتاب "گل تازہ” کی رونمائی ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 23 فروری 2025، بروز اتوار، شام پانچ بجے بلوچ میرج ہال بھیرہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مشہور شاعر علی زریون مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل ہوگی، جہاں سخن کے متوالے ایک اور خوبصورت شعری مجموعے کو خوش آمدید کہیں گے۔کامران حسانی – ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔کامران حسانی کی شاعری ایک نئے انداز کی نمائندگی کرتی ہے۔
    مری زندگی ہے چراغ سی مجھے روشنی پہ کمال ہے
    مری دشمنی ہے ہواؤں سے مرا زندہ رہنا محال ہے
    مجھے خوف کیا ہو بلاؤں کا ترے ہاتھ ہیں جو اٹھے ہوئے
    تری خیر ہو مری والدہ تری یہ دعا مری ڈھال ہے
    تجھے روکنے کا جواز تو مرے پاس تھا ہی نہیں مگر
    تجھے کہ دیا ہے جو الوداع مری حسرتوں کا زوال ہے
    وہ جذبات کے گہرے سمندر میں اتر کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ایک ہی نشست میں ان کے اشعار کو پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی ہے اور جدید رجحانات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف محبت، حسن اور وفا جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں بلکہ سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور جدید دور کی بے حسی کو بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔
    دل نشیں دل ربا محبت ہے
    میرا تو مدعا محبت ہے
    اور دوں گا جہاں تلک پہنچے
    یار میری صدا محبت ہے
    ایک درویش نے کہا تھا مجھے
    دل محبت ، دعا محبت ہے
    تجھ کو آنا ہے گر مرے دل تک
    ایک ہی راستہ محبت ہے
    اس نے غصے سے پوچھا کیا ہے تمھیں ؟
    میں نے بھی کہہ دیا محبت ہے
    نام دونوں نے ریت پہ لکھے
    اور یہ بھی لکھا محبت ہے
    ایک مدت کے بعد جیون کا
    راز مجھ پر کھلا ، محبت ہے
    سارے الزام سہہ لیئے لیکن
    میں یہ کہتا رہا محبت ہے
    حل نکالے گا کوئی کیا اس کا
    مسئلہ آپ کا محبت ہے
    کاش تم یہ سمجھ سکو اے دوست
    آدمی کی بقا محبت ہے
    چاہتا ہوں جسے میں حسانی
    یار وہ سر تا پا محبت ہے
    کامران کی شاعری میں ایک خاص کشش ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں منفرد اور سادہ ہے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ آزاد نظم اور جدید انداز میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، خواہش، بے قراری، وصل، ہجر، خواب اور حقیقت کی حسین آمیزش ملتی ہے، جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔”گل تازہ” – ایک خوبصورت پیشکش ہے۔”گل تازہ” کامران حسانی کے جذبات، احساسات اور تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے شعری سفر کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہوگی۔ اس کتاب میں موجود اشعار میں محبت کی خوشبو، ہجر کی تپش، زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی نرمی یکجا ملے گی۔کتاب کا عنوان "گل تازہ” ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک تازگی اور خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ کامران حسانی نے اپنے تخلیقی فن سے اس کتاب میں وہ رنگ بھرے ہیں جو کسی بھی ادب دوست کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادبی منظرنامے پر کامران حسانی کی اہمیت موجود ہے۔پاکستان میں نوجوان شعراء کی کمی نہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔ کامران حسانی بھی انہی خوش نصیب شاعروں میں شامل ہیں جو اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف جذباتی اور رومانی شاعری میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اشعار میں فکری گہرائی بھی ہوتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو ایک نئے انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور یہی چیز انہیں دوسرے شعرا سے منفرد بناتی ہے۔
    فقط اتنی کہانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    جہاں تک زندگانی ہے ، محبت جاودانی کے
    ہمیں موسم بدلنے ہیں ، فلک کے دوش پر مل کر
    دھنک ہم نے سجانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    ابھی کھویا نہیں کچھ بھی ابھی سے تم پریشاں ہو
    ابھی تو جاں گنوانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    فنا ہونے کو اس دنیا کے میلے میں سنو یارو
    بھلے ہر چیز فانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    محبت مر نہیں سکتی تمھیں اتنا بتانا ہے
    محبت جاودانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    اسی صحرا کے آخر پر تمھیں دریا ملے گا دوست
    ذرا ہمت بڑھانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    تمھارے بعد بھی ہم کو ملے ہیں لوگ ڈھیروں پر
    تمھارا کون ثانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    سنو نفرت خسارا ہے جو سب کچھ لوٹ لیتی ہے
    مگر جو کامرانی ہے ،محبت جاودانی ہے
    ان کے اشعار میں محبت کی خوشبو بھی ہے، فراق کا کرب بھی، زندگی کی حقیقتیں بھی اور خوابوں کی حسین دنیا بھی۔ یہی تنوع ان کی شاعری کو مزید دلکش بناتا ہے۔تقریبِ رونمائی – 23 فروری 2025 کا دن بھیرہ کے ادبی حلقوں کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ بلوچ میرج ہال بھیرہ میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے نامور شاعر علی زریون بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ علی زریون کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے، اور ان کا موجود ہونا اس تقریب کو مزید یادگار بنا دے گا۔یہ تقریب نہ صرف "گل تازہ” کی رونمائی ہوگی بلکہ ایک مشاعرہ بھی ہوگا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء شرکت کریں گے۔ اس محفل میں سخن کے رنگ بکھریں گے، خوبصورت اشعار کی گونج ہوگی، اور سامعین ایک منفرد ادبی تجربہ حاصل کریں گے۔کامران حسانی جیسے نوجوان شعراء اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کی شاعری میں جو خلوص، سچائی اور گہرائی ہے، وہ انہیں ایک بڑا شاعر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ "گل تازہ” نہ صرف ان کے ادبی سفر کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اردو شاعری کے دامن میں بھی ایک خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف قارئین کے دلوں کو چھوئے گی بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔ کامران حسانی کی یہ کامرانی قابلِ ستائش ہے، اور ہم ان کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے، محنت اور لگن سے اردو شاعری کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں۔
    یوں تری بزم سے اٹھوں گا چلا جاؤں گا
    تلخیاں دل کی سمیٹوں گا چلا جاؤں گا
    میں بھی اس فکر کی منڈی کا بیوپاری ہوں
    جو بکامال،وہ بیچوں گا چلا چاؤں

  • کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر  :  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    اے دنیا کے منصفو ، سلامتی کے ضامنو
    کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

    27 اکتوبر 1947 ء کو نام نہاد بھارت نے تقسیم ہند کی مخالفت کرتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر غاصبانہ قبضہ کیا ۔ اسی قبضے کے تناظر میں کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو اپنا حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں ۔
    78 سال قبل 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی ، جس میں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کی حمایت کی گئی ، تاہم اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ آج اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لئے کردار ادا کرے ۔
    آج 2025 ء میں 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام پر بھارت نے ظلم و ستم اور درندگی کی ہر حد پار کر لی ، نہ ہی کسی کی بزرگی کا خیال کیا اور نہ ہی عورتوں کا اور نہ ہی بھوک اور پیاس سے سسکتے بلکتے معصوم بچوں کا ، بس اپنی ہی دھن میں مگن بھارت نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں ، بارود اور گولیوں کی وحشت سے کشمیریوں کے دل دہلائے ہیں ۔
    سفاک اور انتہا پسند بھارت ، کشمیر پر جتنے مرضی ظلم کے پہاڑ توڑ دے ، جتنا مرضی پابند سلاسل کردے ، لیکن جلد یا بدیر فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور کشمیری عوام ظلمت کی تاریک رات کو مٹا کر آزادی کے سورج کو خوش آمدید کہیں گے اور کشمیری عوام ایک بار پھر اس روشن صبح کو طلوع اسلام کا سورج قرار دیں گے ۔
    (انشاء اللہ)
    یارانِ جہاں یہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

  • باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کی شہرت اس کی بے باک اور سچی صحافت کی بدولت ہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے باغی ٹی وی کی نمائندگی لینے کا فیصلہ کیا اور قصور سے باغی ٹی وی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کی۔ باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب، جو کہ سچائی اور حقائق پر مبنی تجزیے اور تبصروں کے لیے جانے جاتے ہیں، میرے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان "کھرا سچ” ہے، اور یہی وہ فلسفہ ہے جس پر باغی ٹی وی کا پورا نیٹ ورک قائم ہے۔ مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کے حوصلہ افزائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ہمیشہ سچائی کی راہ اپنائی اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

    اگرچہ باغی ٹی وی کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن میری مبشر لقمان صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی۔ وہ ملاقات میرے لئے ایک بہت اہم موقع تھی میں نے ان سے کہا کہ میں قصور میں باغی ٹی وی کا دفتر قائم کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر لقمان صاحب نے نہ صرف میری خواہش کو سراہا بلکہ مجھے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دفتر بنائیں، اور میں خود آ کر اس کا افتتاح کروں گا۔” ان کی یہ بات میرے لئے ایک تحریک کا باعث بنی اور یہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا کہ ایک دن وہ خود ہمارے دفتر کا افتتاح کرنے کے لئے قصور آئیں گے۔

    بالآخر وہ دن آیا جب مبشر لقمان صاحب نے قصور آ کر ہمارے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ موقع نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قصور کے صحافیوں اور عوام کے لئے بھی ایک خاص لمحہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں باغی ٹی وی اور روزنامہ قدامت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا، جس میں وکلا، صحافیوں، اور مقامی دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہایت پروقار اور یادگار تھی جہاں پھولوں کی پتیوں کو نچھاور کر کے دوستوں کا استقبال کیا گیا اور مالا پہنا کر انہیں عزت دی گئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران، مبشر لقمان صاحب نے قصور کے صحافیوں کو اہم نصیحتیں دیں اور انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف سچ کو اجاگر کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ کسی بھی رائے یا طاقتور طبقے کے خلاف ہو۔ ان کی باتوں نے ہم سب کو نئی توانائی اور حوصلہ دیا کہ ہم سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں۔

    میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا بھی شکر گزار ہوں۔ ان دونوں کی رہنمائی اور حمایت کی بدولت ہی میں نے اپنا کام بہتر طور پر انجام دیا ہے۔ جب بھی کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہوتی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے اسے بروقت شائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی محنت اور ٹیم ورک کی بدولت، باغی ٹی وی کی کامیابی کو مزید جلا ملی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصور کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور انہیں حل کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے۔ باغی ٹی وی کے ذریعے ہم عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھائیں گے اور مبشر لقمان صاحب کی نصیحت کے مطابق، مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں اس بات کا پختہ عزم ہے کہ ہم اپنے شہر اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، سچ اور حق کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

    ایک بار پھر میں باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے دفتر کے افتتاح کے لیے قصور آنے کا وقت دیا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سچائی کی راہ پر چلنا ہی صحافت کا اصل مقصد ہے۔باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور آگے بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ان کی نصیحتوں کے مطابق، ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کے افتتاحی موقع پر ملنے والے حوصلے اور اعتماد کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    baaghitv

  • اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    ایک بار پھر اللہ کریم کا ہزار ہا شکر گزار ہوں جس نے مجھ نا چیز پر قلم اور قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو سراہنے کی ذمہ داری ڈالی۔جسے میں اور اپووا کی پوری ٹیم جانفشانی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔اپووا نے اس بار ادبی کانفرنس کے لئے شہر ِ شاعر مشرق(سیالکوٹ) کا انتخاب کیا ۔اس کانفرنس کی میزبانی معروف شاعرہ ثوبیہ راجپوت نے اپنے ذمہ لی اور میزبانی کی ذمہ داری خوب نبھائی بھی …

    ہمیشہ کی طرح اپووا ٹیم کی یہ خواہش تھی کہ ایسے لوگوں کو بطور مہمان بلایا جائے جو اپنے تجربات کی روشنی میں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔۔اپووا کی بنیاد رکھتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اتنی جلدی اپنی گرہیں مضبوط کر لے گی۔چیئرمین سر زبیر احمد انصاری کی سر پرستی میں ہماری تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنی کام یابی کا لوہا منوا چکی ہے۔زبیر بھائی سماجی اور سیاسی شخصیت تو ہیں ہی مگر ادب سے بھی بے پناہ لگاو رکھتے ہیں۔۔ایک مخلص اور ادب دوست انسان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے اور اپووا ٹیم کو سپورٹ کیامیں ان کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا۔کانفرنس سے تقریباً ایک ماہ پہلے زبیر صاحب ہی کی قیادت میں اپووا ٹیم نے سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا جہاں سی ای او اللہ مالک ہوٹل گروپ محترم نواز انصاری صاحب نے پھر پور مہمان نوازی کی تھی اور تب ہی یہ طے ہوا تھا کہ سیالکوٹ میں ادبی کانفرنس اللہ مالک ایوینٹ کملیکس میں ہوگی۔

    بات ہو رہی تھی اپووا کی تواپووا کا مقصد یہ نہیں کہ صرف بڑے بڑے نامور لکھاریوں کو اعزازات سے نوازے۔ بلکہ اپووا کا مقصد دور دراز کے چھوٹے اور گمنام علاقوں سے ٹیلنٹ کھوج کر سامنے لانابھی ہے۔اور ان نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہی ہمارا حقیقی مقصد ہے۔بات ہو رہی تھی سیالکوٹ کانفرنس کی تو اپنے شہر سے دور جا کر کوئی بھی ایوینٹ کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہوتا ہے اور کافی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں ۔ایسے میں ثوبیہ راجپوت نے اپنی ذمہ داریاں بااحسن نبھائیں اور ان ہی کی تواسط سے گھوئنکی لائن کلب کے صدر محترم عمر سلیم گھمن صاحب نے بھی بھر پور معاونت فراہم کرکے ادب دوست ہونے کا عملی ثبوت دیا ۔اس کے علاوہ بہت ہی پیاری آپی فرظینہ مقصودبٹ(USA) جو اپووا صدر ثمینہ طاہر بٹ کی چھوٹی بہن بھی ہیں انہوں نے اس بار بھی اپنی بھر پور محبتوں سے نوازاآپ دیار غیر میں بیٹھ کر بھی اپنے وطن کی مٹی اور اپنے وطن سے جڑے لوگوں سے بہت انسیت رکھتی ہیں جو آپ کے اعلی ظرف ہونے کا ثبوت ہے۔ ان کے علاوہ میں شکر گزار ہوں دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کا جنہوں کانفرنس کے موقع پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا اور دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کی وائس چیئر پرسن راحیلہ اشرف صاحبہ مصروفیات کے باوجود کانفرنس کے اختتام تک میڈیکل کیمپ میں موجود رہیں۔عین ضرورت کے وقت ہمیشہ کام آنے والے میرے دیرینہ دوست اور نائب صدر اسلم بھائی اور میں کانفرنس سے ایک روز قبل سیالکوٹ پہنچے۔ہمارا لنچ ثوبیہ راجپوت صاحبہ کے گھر تھا ثوبیہ کے گھر سے پرتکلف لنچ کرنے کے بعد ہم کاروان قلم کی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اور کانفرنس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی ۔رات کا ڈنر سیالکوٹ کے معروف صحافی و لکھاری مہر اشتیاق نے اللہ ملک ہوٹل میں دیا اور ہماری رہائش بھی مہر اشتیاق کے دولت خانہ میں تھی اشتیاق بھائی نے بھی میزبانی کا خوب حق ادا کیا اگلے دن صبح انہوں نے ہمیں پائے کا بھر پور ناشتہ کروایا اور اس کے بعد ہم اللہ مالک ہوٹل پہنچے تو مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا… سب سےپہلے،فاکہہ قمر اس کے بعد قرۃ العین خالد اور ان کی بہن الماس العین خالد ان کے ساتھ ہی ڈاکٹر ندیم ملک اور امین رضا مغل ڈسکہ سے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اس کے بعد سرگودھا سے معروف ادبی شخصیت اور انتہائی محبت اور شفقت کرنے والے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب تشریف لائے ان کے ہمراہ معروف براڈ کاسٹر ممتاز عارف صاحب بھی موجود تھے ممتاز عارف صاحب کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا ۔

    کھاریاں سے معروف قانون دان سعدیہ ہماشیخ بھی تشریف لائیں۔لاہور سے وائس چیئرمین حافظ محمد زاہد کی زیر نگرانی ،لیجینڈاداکار راشد محمودصاحب ،معروف شاعر شہزد نیئر صاحب،سنئیر صحافی ندیم نظرصاحب،معروف براڈ کاسٹر اور شاعرہ ریحانہ عثمانی ڈرامہ نگار ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول،معروف ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری،معروف لکھاری اظہر حسین بھٹی ،محترم نادر فہمی،نائب صدر و مصنف سفیان علی فاروقی،فاطمہ طاہر بٹ ،سوشل ایکٹیوسٹ ساجدہ اصغر صاحبہ اور کینڈا سے ان کی صاحبزادی ۔معروف صحافی سجاد علی بھنڈر،معروف لکھاری و صحافی نبیلہ اکبر،نوجوان لکھاریہ لاریب اقراء اور بالخصوص رشنا اختر جو اپووا ویب کی ایڈیٹر بھی ہیں وہ محمود کوٹ سے طویل سفر طے کر کے پہلے لاہور اور پھر لاہور سے کارواں کے ساتھ سیالکوٹ پہنچیں ۔معروف سیاسی و سماجی رہنما ریاض احمد احسان ،معروف شاعرہ عروج درانی،معروف شاعر ضیغم عباس گوندل بھی لاہور سے تشریف لے آئے سیالکوٹ سے بھی مہمانوں کی آمد کا سلسہ جاری رہا ۔جن میں گھوئینکی لائن کلب کے عہدیدرارن و ممبران کے علا وہ سمیرا ساجد،مقبول شاکر،ڈاکٹر نصیر احمد اسد،عاصمہ فراز،ڈاکٹر الیاس عاجز،اعجاز عزائی ،سید زاہد حسین بخاری،ملک ساجد اعوان ،ڈاکٹرمحمد خرم ،عبدالشکور,ڈاکٹر اکبر غازی،آصفہ مریم اور دیگر بڑے بڑے نام شامل تھے .

    مدیحہ کنول نے حسب روایت اپنی کمپرئینگ کی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھائیں۔ہمیشہ کی طرح تقریب کا اآغاز زاہد بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اور حفصہ خالد نے نعت رسول صلی اللہ وسلم پڑھ کر سماء باندھ دیا ،گجر انولہ سے تشریف لائی معروف شاعرہ فرحانہ عنبر نے اپووا پر لکھی خوبصورت غزل سنا کر خوب داد سمیٹی ۔سبز صحافت تنظیم کی طرف سے چئیرمین زبیر انصاری،وائس چئیرمین حافظ محمد زاہد ،صدر ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول اور راقم کو نشان صحافت دیا گیا جس پر میں فیصل افضل بھائی کا طے دل سے مشکور ہوں۔تقریب میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے علاوہ وہ تمام دوست احباب اور ٹیم ممبرز جنہوں نے پوری محنت سے اس کانفرنس کو کامیاب کروانے میں مدد کی ان سب کا بھی شکر گزار ہوں چونکہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے نام بہت زیادہ ہیں اس لئے سب کے نام نہیں لکھ پایا جن کے نام رہ گئے ان سے دلی طور پر معزرت خواہ ہوں۔اپووا سے جڑے ایک ایک فرد کی میرے دل میں جگہ اور عزت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔الحمد للہ مجھے مخلص لوگوں کا ساتھ ملا۔اس کام یابی میں اپووا ٹیم کا پورا ساتھ اور پورا ہاتھ ہے۔

    کانفرنس کے بعد سیالکوٹ سے واپسی پر قرۃ العین خالد کے دولت خانے پر مختصر قیام کے بعد کا رواں رات گئے لاہور پہنچ گیا ۔ذہنوں پر انمنٹ نقوش لئے یہ پر وقار تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔سیالکوٹ کے ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں منفرد نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی ۔اور ہماری حوصلہ آفزائی کے لئے یہ بات ہی کافی ہے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم ادب کو فروغ دیں اور ادب پر محنت کی جائے تا کہ ادب اور بالخصوص اردو ادب کا لوہا ملکی اور غیر ملکی سطح پر منوایا جا سکے۔۔نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کے مواقع دئیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہم اردو زبان کو عالمی سطح پر ایک خاص مقام پے دیکھنا چاہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسی کانفرنسز کو بیرون ملک تک لے جایا جائے۔اور میرا ایک بڑا خواب ہے کہ لکھاریوں کے لئے ایک الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا سکے،جس میں لکھاریوں اور ان فیملیز کو علاج کی مفت سہولت میسر آسکے۔ جسے میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔مجھے امید ہے، بلکہ یقین ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا(ان شاء اللہ) میرے ہوتے نہ سہی میرے بعد سہی۔۔ آخر میں نئے لوگوں سے اتنا ضرور کہوں گا ہم اپنے حصے کی شمع روشن کر چکے ہیں۔اب مزید مشعلیں روشن کرنا آپ کا کام ہے۔میں تمام شرکا کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جو سیالکوٹ یا سیالکوٹ سے باہر دور دراز سے تشریف لائے۔ اپووا ٹیم نے کانفرنس کو کام یابی سے ہمکنار کروانے میں دن رات محنت کی اگر کہیں کوئی کمی کوتائی رہ گئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔۔میری یہ دعا ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو مدتوں یاد رکھا جائے اور اپووا ٹیم کے حوصلے ہمیشہ یوں ہی بلند،رہیں۔۔۔۔۔۔آمین

  • اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام سیالکوٹ میں منعقدہ ادبی کانفرنس اپنی تمام تر رعنائیوں اور کامیابیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف اہلِ ادب کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی بلکہ نئے لکھاریوں کے لیے بھی ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کر گئی
    کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد اپووا کے معزز عہدیداران اور معروف ادبی شخصیات نے افتتاحی خطابات کیے، جن میں ادب کی ترقی اور ترویج پر زور دیا گیا۔ملک کے نامور شاعر، ادیب اور نقاد اس ادبی محفل کا حصہ بنے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال، اس کے چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی۔اس کانفرنس میں نئے لکھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اورادبی ترقی کی نئی راہیں سامنے آئیں ۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو شیلڈز،میڈلز اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے ۔

    اختتامی تقریب میں اپووا کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے علمی و ادبی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ادب کے فروغ کا یہ سفر جاری رہے۔کانفرنس کے شرکاء نے اس پروگرام کو ایک شاندار اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایسی تقریبات ادب دوست افراد کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں اور انہیں مزید فروغ دینا چاہیے۔یہ ادبی کانفرنس سیالکوٹ کی سرزمین پر ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گئی، جہاں الفاظ نے جذبات کو چھوا، خیالات نے نئے آفاق دریافت کیے، اور ادب کی شمع مزید روشن ہو گئی۔ اپووا کی یہ کاوش بلاشبہ قابلِ تحسین ہے، جو اردو ادب کی خدمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
    مدیحہ کنول
    جنرل سیکرٹری( اپووا)

  • مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    مریم نواز ثابت قدم رہنا. آپ تاریخ کا روشن باب رقم کرنے جا رہی ہیں. تحریر: ملک سلمان

    ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے سنئیر صحافیوں اور حکومت پاکستان کی دعوت پر آئے بنگلہ دیشی صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔
    ایک بجے کا وقت تھا مہمان پونے دوبجے کے قریب پہنچے تو ہم نے پی آئی ڈی والوں سے پوچھا کہ آپ خود لیٹ پہنچے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ ہر طرف ٹریفک جام اور تجاوزات ہیں کیا کریں، مینار پاکستان سے گلبرگ پہنچنے میں 55منٹ لگے اگر غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات نہ ہوں تو یہ فاصلہ صرف پندررہ منٹ کا ہے۔
    سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ شکرکریں ابھی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کرچکی ہیں ورنہ آپکو اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا تھا۔ بنگالی مہمانوں نے لاہور کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔ ایک اور بنگالی صحافی نے کہا کہ ہارس اینڈ کیٹل شو کے ایڈورٹائزنگ بینرز اور بورڈ مجبور کر رہے ہیں کہ ہمیں بھی یہ ثقافتی میلہ لازمی دیکھنا چاہئے۔ ایک بنگالی صحافی نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ تاریخی اہمیت کے حامل شہر لاہور میں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیاں کیسے چل سکتی ہیں، پاکستان کی میزبانی میں چیمپئن ٹرافی جیسا اہم ایونٹ شروع ہوچکا ہے تو بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں اور رکشے سکیورٹی تھریٹ نہیں؟چند ہفتے پہلے چائنیز نے بھی بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پنجاب کی ٹریفک پولیس آوورآل جبکہ لاہور ٹریفک پولیس خاص طور پر ناجائز پارکنگ مافیا کے خاتمے کی بجائے انکو سپورٹ کرنے سے باز نہیں آرہی۔ فلیشر لائٹ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ سڑکوں بازاروں اور عام گلیوں میں بھی ناجائز پارکنگ سٹینڈ بن چکے ہیں۔ چوک چوراہوں اور بیچ سڑک پارکنگ اور تجاوزات مافیا کا راج ہے۔سنئیر صحافی مجیب الرحمٰن شامی، سلمان غنی، حسین پراچہ، نوید چوہدری، محمد مہدی سمیت اکثریت کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایسا کام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا اقبال ٹاؤن، گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ لاہور کا حصہ نہیں وہاں تو تجاوزات ویسے کی ویسے ہیں۔ میں نے انہیں اپنی مثال دی کی میری رہائش احمد بلاک گارڈن ٹاؤن ہے میں چھے دفعہ راجہ مارکیٹ اور برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن تجاوزات کی ویڈیوز بھیج چکا ہے۔ ویڈیو کے فوری بعد ڈپٹی کمشنر تجاوزات ہٹوا دیتے ہیں لیکن ٹھیک دو چار گھنٹے بعد ساری تجاوزات واپس آجاتی ہیں۔ ماضی کی حکومت میں اتنے جعلی آپریشن ہوئے ہیں کہ اب تجاوزات مافیا کو قانون کا ڈر ہی نہیں رہا۔
    میڈم وزیراعلیٰ کو سمجھنا چاہئے کہ بیوروکریسی ایک دفعہ کا فوٹو شوٹ کرکے جعلی کارگردگی شو کر رہی ہے۔ جو تجاوزات چھے دفعہ شکایت کرنے کے بعد واپس آگئیں باقی علاقوں کا کیا حال ہوگا۔ گذشتہ دنوں راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا تو ایسا لگا کا تجاوزات کے ہیڈ آفس آگیا ہوں۔

    آج کل اتنی شادیاں اٹینڈ کرنا پڑ رہی ہیں کہ پورے پنجاب کے کئی چکر لگ چکے ہیں۔ ذاتی مشاہدے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ خانیوال، خوشاب، بہاولپور سیالکوٹ، گجرات، چکوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، ہر طرف گندگی جبکہ فوٹو شوٹ کے بعد تجاوزات وہیں کی وہیں ہیں۔

    معروف کالم نویس حسین پراچہ کا کہنا تھا کہ بار بار تجاوزات ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ سرکاری جگہوں پر قبضے کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سزائیں دینے سے ہی قانون کی رٹ بحال ہوگی۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے کے مشن میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ناراض کرکے اس مشن کو چلائے ہوئے ہیں اب بیوروکریسی کو بھی شرم کرنی چاہئے کہ قانون پسند وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ساتھ دیں نہ کہ تجاوزات مافیا کا۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈپٹی کمشنر تو تجاوزات ہٹوانے میں رتی برابر ا سیریس نہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے تجاوزات کا خاتمہ آپکی جرات اور حب الوطنی کی پہچان بن چکا ہے۔تجاوزات فری پنجاب مریم نواز کا ٹریڈ مارک ہونا چاہئے۔سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا مریم نواز نے اٹھایا ہے اس کیلئے پنجاب کا ہر فرد وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ اس نیک کام کو روکنے کیلئے تجاوزات کی کمائی کھانے والے چند سیاستدان اور سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو لیکن میڈم وزیراعلیٰ آپ نے ثابت قدم اور مضبوط رہنا ہے انشاء اللہ آپ کا یہ کارنامہ تاریخ کا روشن باب ہوگا۔

    میڈم وزیراعلیٰ آپ اپنی اپیکس کمیٹی کی میٹنگ سے اندازہ لگا لیں کہ وہاں بھی کچھ لوگ تجاوزات کے خلاف ایکشن میں نرمی کا کہہ کرحقیقت میں تجاوزات مافیا کو سپورٹ کرنا چاہ رہے تھے لیکن آپ کی استقامت اور دوراندیشی کو سلام کہ آپ نے سمپل جواب دے کر سب کا منہ بند کروادیا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن ریاست کے مفاد میں ہے؟ اگر ریاست کے مفاد میں ہے تو جاری رہے گا، مجھے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں میرے لیے اس مٹی کی حفاظت زیادہ عزیز ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ نے 70ہزار ارب کی سٹیٹ لینڈ کو ریکور کروا کر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے نجات دلانی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کی ٹریفک پولیس پارکنگ مافیا کی بی ٹیم بن چکی ہیں۔ ٹریفک پولیس میں سخت بھل صفائی کی ضروت ہے۔

    حکومت دہشت گردوں ، سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.حافظ خالد نیک

    پاکستان میں کاروباری اعتماد میں بتدریج اضافہ ہوا،گیلپ سروے

    malik salman

  • دو ریاستی حل  پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    دو ریاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری،تجزیہ شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورم پر سوالیہ نشان ہے ؟عالمی طاقتیں اپنے ریاستی مفادات کے لئے استعمال کرتی آرہی ہیں۔عرب بادشاہوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ فلسطین اور کشمیری عوام پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ اقوام متحدہ اورد یگر عالمی ادارے فلسطینی عوام اور کشمیری عوام کو انصاف دلانے میں تادم تحریر ناکام رہے۔ روسی اور چینی حکمرانوں کی پالیسیاں بھی معاشی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے فلسطین اورکشمیر کو داخلی دوکانداری کے لئے استعمال کیا۔ غزہ اور کشمیر دونوں میں کھلی اور آزاد فضا میں سانس لینا مشکل ترین ہے۔ دونوں کی عوام قید خانوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ میں جب خیموں میں لپٹی ہوئی آبادی پر گولہ باری اور بھوک پوری طرح سے گر رہی تھی۔ اقوام متحدہ ، دیگر عالمی ادارے ،عالمی طاقتیں ،عرب بادشاہ ،د یگر جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار اسلامی ممالک کہاں تھے؟ وہ عرب بادشاہ اور عرب ممالک کہاں تھے ،جب غزہ کی خواتین اور بچے چیخ رہے ہیں تھے، مدد کو پکار رہے تھے ۔ عالمی دنیا بھی کہاں تھی۔عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے مطابق فلسطینی علاقوں ایران اور یوکرین میں اہم ڈیڈ لائنز قریب آرہی ہیں دو رسیاستی حل پر مبنی امن کے لئے عرب وژن ضروری ہے، اس جاری مسئلے کا واحد حل کا یہی راستہ ہے سعودی عرب ایک سرکردہ عرب اور دیگر اسلامی ممالک جو اس مسئلے کے حل کے لئے صلاحیت رکھتے ہیں،کردار ادا کریں ٹرمپ کی تجاویز کا متبادل منصوبہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر تیار کریں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات کریں دنیا بدل رہی ہے پاکستان کو بھی اگر بدلنا ہے تو ہمارے حکمرانوں ،سیاسی جماعتوں کے قائدین اورطاقتور حلقوں کو بدلنا ہوگا دنیا کے ساتھ نئے طور طریقے بدلنا ہوں گے۔ ریاستی مفادات اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر بدلنا ہوگا۔ داخلی بُحران کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔بلاشبہ مسائل پیچیدہ ہیں لیکن ان کا حل ناممکن نہیں۔ اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ اس پاکستان کی بقا اور سلامتی کی خاطر اس مقدس سرزمین کے لئے بڑی قربانیاں دی گئیں اس کے وقار میں اضافے کا سبب بنیں ۔ پاکستان خطے کا اور اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے۔ اس کا کردار عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں اہم ہی ہونا چاہیئے ۔ اس کے لئے صدق دل سے اپنے ذاتی مفادات کو وطن عزیز کے لئے قربان کرنا ہوگا۔

  • مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک ایسی شخصیت بن کر ابھری ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پنجاب نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔مریم نواز نے جیل بھی کاٹی. گرفتاریاں بھی دیں لیکن والد کا ساتھ نہ چھوڑا.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریمنواز کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے جو عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو سمجھا اور ان کے حل کے لئے کوششیں کیں۔عام انتخابات میں مریم نواز الیکشن جیتیں تو انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر نامز د کیا گیا، وہ وزیراعلیٰ بنیں تو پنجاب بدلنے لگا.وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب نے کئی ترقیاتی منصوبے دیکھے ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ان کی توجہ قابل ستائش ہے۔ طلبا کو سکالر شپ،لیپ ٹاپ، غریب عوام کے لئے اپنا گھر منصوبہ، کسانوں کے لئے کسان کارڈ، معذوروں کے لیے وہیل چیئر،آلہ سماعت، غرض جس شعبے میں جائیں، ہر طرف وزیراعلیٰ مریم نوا ز کا نام اور کام بول رہا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی مقبولیت کا راز ان کی عوام سے قربت ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتی ہیں اور ان کے مسائل کو سنتی ہیں۔ ان کی سادگی اور اخلاص نے عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی فعال موجودگی ہے جہاں وہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہتی ہیں۔یقینی طور پر، وزیراعلیٰ پنجاب کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل ابھی تک موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ تاہم، ان کی قیادت میں پنجاب حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بہترین سیاستدان بن کر ابھری ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب کا مستقبل روشن ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے عوام کی خدمت کرتی رہیں گی اور پنجاب کو ترقی کی مزید منازل تک لے کر جائیں گی۔
    noor fatima

  • روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں اور پالیسی سازوں نے زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقرر کرنے اور عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ اور یورپی تعلقات کو لے کر پینٹگان کے سربراہ نے نیٹو کے اجلاس کے لئے یورپ کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ روس اور یو کرین کی جنگ کو لے کر امریکی صدر اور روس کے صدر کی طویل ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ عالمی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایک مضبوط اور مصروف امریکہ نہ صرف براعظم کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ امریکی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے لئے ضروری ہے ۔ یورپ امریکی معیشت کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے۔

    ادھر گزشتہ ہفتے ترکیہ کے صدر نے تین ممالک کے دورے کئے ہیں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ترکیہ کی مصروفیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکی کے صدر نے ملائیشیا ، انڈونیشیا اور پاکستان ک ا دورہ کیا۔ ترکی کے صدر نے ان تین ممالک کے دورے کے دوران غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی شریک سربراہی کا وعدہ کیا ۔غزہ سمیت عالمی انسانی مسائل جیسے پلیٹ فارمز کی ڈی ایٹ اور او آئی سی وغیرہ کی اہمیت پر زور دیا ۔ ترکیہ اور پاکستان کا صدیوں سے ایک رشتہ چلا آرہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ۔دفاعی ،جدید ٹیکنالوجی بالخصوص فوجی تعاون نے ترکی اور پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترکی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی عالمی تبدیلی ایشیاء کی طرف محور کا رحجان مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورت حال ترکی کی عملی خارجہ پالیسی نے ایشیا ء کی طرف انقرہ نے ایک اہم موڑ کو تشکیل دیا ہے۔تاہم انقرہ کو مزید اور مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔

    پاکستان نے اگر دنیا کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل کرنا ہوگا۔ نااہل کرپٹ ، بددیانت ، ذاتی مفادات ، اقربا پروری ، متکبر اور چاپلوس ، خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہوگی ۔ روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی پر ہے۔ پہلے پاکستان پالیسی پر ہے ۔ پاکستان کے مفاد پر ہے ۔ تباہ کن انداز کو اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہوگا۔ بہت ہو چکا اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھیں،پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مشرق وسطیٰ ، امریکی نئی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مد نظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں.