Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 224آرٹ پیپر 4کلر
    قیمت : 2500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ’’ خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ کے مولف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔پیش نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا زندگی کے ان تمام پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی مشعل راہ ہیں ۔سیدہ خدیجہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عقل و فہم ، دینداری ، ایمانداری ، اخلاص ، ثابت قدمی ، وفا شعاری اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المئومنین کی زندگی کا بچشم خودمشاہدہ کررہا ہے ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ امید ہے یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی ۔ دنیا بھر میں کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خاتون اول ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے نام اور تذکرہ سے آشنا نہ ہو ۔اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلامی کے اوراق گر دانتے ہوئے ایسی بے شمارخواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے شمع اسلام کی سر بلندی اور دین حق کی دعوت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ کے چہرے کو ضیاء بخشی ہے تاہم ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان عظیم خواتین سے عظیم تر تھیں کیونکہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے اوپر پہلی وحی کا تذکرہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیا ا ور کہا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو اس عظیم خاتون نے اپنی عظمت ، شان اور حکمت کے عین مطابق نبی آخر الزمان ، رسول خداﷺ کو ان الفاظ میں حوصلہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ آپ کو ناکام اور نامراد کردے ، آپ کی مدد نہ کرے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، تھکے ، ہارے اور درماندہ انسانوں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں ، بے ٹھکانہ مسافروں کو اپنا مہمان بناتے ہیں اور حق بجانب امور میں معین و مدد گار رہتے ہیں ۔ پھر صرف ان ہی جملوں پر اکتفا نہی کیا بلکہ اپنے سرتاج ، شریک حیات اور محسن انسانیت کومکمل یقین دلانے کیلئے انہیں چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ سنا کر اللہ کے رسول ﷺ کو مزید تسلی اور حق پر قائم رہنے کیلئے ہمت بندھائی ۔ دعوت اسلام کو پھیلانے میں ہماری اس ماں کا نہایت معتبر کردار اس کتاب کے اوراق میں تاریخ اسلام سے الفت رکھنے والوں کو میسر آئے گا ۔ اس عظیم خاتون کی تمام خوبیاں ایک طرف۔ان کی صرف یہی شان اور عظمت کافی ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے جب اسلام کی دعوت پیش کی تو خواتین میں سے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا ۔ خاتون اول محض ایک تاجرہی نہیں بلکہ نہایت مالدار، باوقار ، ذہین ، شریف ، معاملہ فہم اور دور اندیش خاتون تھیں ۔ انہو ں نے اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ، رسول ﷺ کی بیٹیوں کی نہایت عمدہ تربیت کا حق ادا کیا ، حضرت خدیجہ کا مرتبہ اورمقام سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول ﷺ اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی سردار کہا ہے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت خدیجہ کے بطن ہی سے ہی دنیائے فانی میں تشریف لائیں ۔ رسول ﷺکو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اتنی محبت تھی کہ ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ وہ بلا شبہ نہایت امیر کبیر شہزادی بلکہ ملکہ تھیں مگر شعب ابی طالب میں رسولﷺ کے ساتھ نہایت صبر و تحمل سے تین مشکل ترین سال گزارے ۔ زیر نظر کتاب ان مائوں ،بہنوں اور بیٹیو ں کے لیے لکھی گئی ہے جو امہات المئومنین رضی اللہ عنہا کے اسوہ حیات کو جاننا چاہتی ہیں ۔ اس کتاب کو خوبصورت ڈیزائن ، بہترین سرورق ،عمدہ بائینڈنگ،آرٹ پیپر پر چہار کلر طباعت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کیاگیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے مضامین اور طباعت کے اعتبار سے اتنی عمدہ ، خوبصورت اور جاذب نظر ہے کہ بیٹیوں کو شادی بیاہ کے موقع پر تحفے میں دی جانی چاہئے ۔اس سے یقینا ہماری بچیاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش دم چلیں گی

  • سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر    :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    مولانا دین محمد وفائی 14اپریل 1894ءکو سندھ مردم خیز ضلع شکار پور کے گوٹھ بنی آباد میں پیدا ہوئے ۔
    ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد حکیم گل محمد نے کی ۔جب مولانا نو برس کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کی ذمّہ داری قریبی مدرسے کے استاد محمد اسلم کو سونپی گئی ان کی زیر نگرانی مولانا نے صرف 12سال کی عمر میں فارسی زبان میں مہارت حاصل کرلی ۔عربی زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے لاڑکانہ کے علاقے سونو جتوئی میں واقع مدرسے کا رخ کیا ۔18 سال کی عمر میں آپ نے رسمی تعلیم مکمل کر لی۔اور اپنے کیریئر کا آغاز سکول ٹیچر سے کیا ۔کچھ ہی عرصے میں ان کی شہرت ایک بہترین استاد کی حیثیت سے پورے سندھ میں پھیل گئی ۔یہی وجہ تھی کہ رانی پور کے پیر نے اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے آپ کو استاد مقرر کیا ۔اس کے بعد امام الدین راشدی نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں ۔

    مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جن پر یہ دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
    مولانا صاحب ایک عالم فاضل شخص تھے ۔انہوں نے اگرچہ مغربی فلسفے سے بھی استفادہ کیا لیکن ان کی فکر کی اساس دانش مشرقی اور علوم دینیہ پر رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں اپنے قلم کو آزمایا ۔ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پانچ درجن سے زائد ہے ۔مولانا نے دنیائے صحافت سے اپنے جوہر منواۓ اور "توحید”کے عنوان سے سندھی پرچہ جاری کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے تحریک خلافت کے دوران بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران ترکی کے عثمانی خلیفہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔اس دور میں خلافت عثمانیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھا جاتا تھا ۔جب عثمانی خلیفہ نے سلطنت برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مہم تیز کر دی ۔1918ءمیں ترکی کو جنگ میں شکست حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے کر دئیے اور خلیفہ کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔اسی پس منظر میں بر صغیر کے مسلمانوں نے "تحریک خلافت”چلائی تھی ۔
    1919ءمیں مولانا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں سیاست سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتے اور یہ ان کی مذہبی ذمّہ داری ہے کہ وہ خلافت کے تحفظ کی عملی جدو جہد میں شریک ہوں ۔اس طرح انہوں نے تحریک خلافت کے سر گرم کارکن کے طور پر طویل اور صبر آزما جدو جہد کا آغاز کیا ۔جس کے نتیجے میں ان کا شمار سندھ کے قابل احترام سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا ۔
    انگریزوں نے جیسے ہی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی بو سونگھی فوراً ہی چند زر خرید علماء سے "تحریک خلافت”کی مخالفت میں فتویٰ دلا دیا ۔مولانا نے اس فتویٰ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ تحریک بھی چلائی ۔اس حوالے سے انہوں نے مولانا تاج محمد امروٹی کی رہنمائی میں ایک کتاب بھی تحریر کی جو مارچ 1920ءمیں لاڑکانہ میں منعقدہ”خلافت کانفرنس”کے دوران تقسیم کی گئیں ۔اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا عبد الباری لکھنوی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے ۔
    مذکورہ کانفرنس کے بعد مولانا صاحب کو جمعیت العلمائے سندھ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔
    مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو سندھی صحافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ہیں ۔1918ءمیں انہوں نے "الکاشف”کے نام سے ایک سندھی جریدے کی اشاعت شروع کی ۔1920ءمیں انہیں سندھی روز نامہ "الوحید”کی اشاعت اور مقبولیت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ان کے مضامین کو سندھی زبان وادب کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مولانا صاحب کی صحافتی صلاحیتوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے کراچی سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "توحید”کے نام سے جاری کیا اس پرچے کا سلوگن تھا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا ، نام ونشان ہمارا
    علمی ،ادبی،تاریخی،مذہبی،سماجی اور تعلیمی نوعیت کے مضامین اس پرچے کی زینت بنتے تھے ۔1943ءمیں مولانا صاحب نے ایک ہفت روزہ اخبار "آزاد”کے نام سے جاری کیا جو کراچی میں واقع ان کے پرنٹنگ پریس میں ہی چھپا کرتا تھا ۔بعد میں ان کے بیٹے علی نواز وفائی نے اس اخبار کی ذمّہ داریاں سنبھالیں ۔
    برٹش راج کے دنوں میں نصابی کتب کا آغاز ملکہ وکٹوریا کی تاجپوشی کے تذکرے سے اور اختتام اس وقت کے برطانوی حکمران شاہ جارج پنجم کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا پر ہوا کرتا تھا ۔مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانے کے لیے بھرپور جد و جہد کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کی یاد داشت کھو گئی ہو اور جب تک افراد ملت اپنے سنہرے ماضی سے بے خبر رہیں گے ان میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درکار خود اعتمادی پیدا نہ ہو سکے گی ۔
    مولانا سے متاثر ہوکر پیر علی محمد راشدی، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر دانشوروں نے سندھ کی تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ۔
    مولانا نے تاریخی موضوعات پر جو کام کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
    پیر حسام الدین راشدی نے انہیں "سندھی مورخین”کا امام قرار دیا ۔
    سندھ کے ممتاز ماہر تعلیم ،شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ انہیں "زندہ ڈکشنری”کہا کرتے تھے ۔
    جبکہ پیر علی محمد راشدی انہیں "چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا”کہا کرتے تھے ۔
    مولانا صاحب محض مذہبی علوم میں ملکہ نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تاریخ ،عمرانیات،جغرافیہ،لسانیات اور قدیم سندھی شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔
    انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے حوالے سے دو کتب تحریر کیں ۔جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی تعلیم و تربیت اور فکری ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جبکہ دوسری کتاب میں تاریخ بیان کی گئی ہے ۔انہوں نے 60سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے بعض کی اشاعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔
    ان کی مشہور و معروف تصانیف میں مشاہیر سندھ ،تجریدبخاری اور تجرید صحیح بخاری شامل ہیں ۔
    جسے احادیث کی مستند ترین کتاب کا پہلا سندھی ترجمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
    مولانا صاحب کی دیگر کتب میں الہام باری ،محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ،صدیق اکبر رضہ،فاروق اعظم رضہ ،سیدنا عثمان غنی رضہ ،حیدر قرار رضہ ،خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضہ ،اذکار حسین رضہ ،قرآنی صداقت،غوث اعظم ،ہندودھرم اور قربانی اور توحید اسلام جیسی کتب شامل ہیں ۔10اپریل1950ءکو سندھ کے اس عظیم مجاہد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں سکھر کے آدم شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین )

  • مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کا نام تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی اور بالآخر اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے کشمیر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا، جو آج بھی جاری ہے۔مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ترہگام گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ وہ بچپن سے ہی غلامی اور ناانصافی کے خلاف حساس تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے سری نگر اور پھر پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاست میں اپنی فکری نشوونما جاری رکھی۔

    ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں ہوا جب وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کی سوچ واضح تھی: کشمیر کو ایک خودمختار، آزاد ریاست ہونا چاہیے جو کسی بھی بیرونی تسلط سے پاک ہو۔
    1965 میں مقبول بٹ نے "جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ” (JKLF) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔ یہ تنظیم کشمیری قوم پرستی اور آزادی کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ مقبول بٹ نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کے بغیر کوئی قابض حکومت آزادی نہیں دیتی۔انہوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ 1966 میں وہ ایک اہم مشن کے دوران گرفتار ہوئے اور ان پر بغاوت، قتل اور غیر قانونی سرحد پار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں سزائے موت سنائی، لیکن وہ 1968 میں جیل سے فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پاکستان میں مقبول بٹ کو ایک اور چیلنج درپیش تھا۔ یہاں پر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود تھے۔ کچھ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جبکہ مقبول بٹ کشمیر کی مکمل خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات کو ہر جگہ مکمل حمایت نہ مل سکی۔ تاہم، انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔1976 میں وہ دوبارہ بھارت گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی، اور طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کے نظریات اور مقاصد مزید واضح ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جائے تو ان کی قربانی کشمیری عوام کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے گی۔

    11 فروری 1984 کو، بغیر کسی قانونی ضابطے کی تکمیل کے، بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی لاش کو بھی کشمیری عوام کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں مسلح جدوجہد مزید شدت اختیار کر گئی، اور یہ تحریک آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیر کی جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔ آج بھی کشمیری عوام ہر سال 11 فروری کو "یومِ شہادت” کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کا فلسفہ سادہ تھا: آزادی کی جدوجہد میں اگر جان بھی دینی پڑے تو یہ ایک معمولی قربانی ہے۔کشمیریوں کے لیے مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ نظریاتی، فکری اور عملی جدوجہد کی علامت ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بھی عالمی برادری نے کشمیر کے مسئلے پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت نے ہمیشہ اس معاملے کو "داخلی مسئلہ” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں انصاف کے اصولوں پر قائم ہیں یا صرف اپنے مفادات کے تابع ہیں؟ مقبول بٹ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور آج بھی ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔مقبول بٹ کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ وہ ایک ایسا بیج بو گئے جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیر کے بچے، بوڑھے، جوان سبھی ان کی جدوجہد کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کا عکس نظر آتا ہے۔

    کیا کشمیری عوام کو وہ حق ملے گا جس کے لیے مقبول بٹ نے جان دی؟ کیا عالمی برادری انصاف کرے گی؟ یہ سوال آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ جب تک کشمیری عوام میں مقبول بٹ جیسے جذبے موجود ہیں، آزادی کی یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی۔

  • قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    یادرکھیں فوج ہے تو ملک ہے ،ورنہ منہ کھولے دشمن اور حواری کھاجاتے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    جیل جانے والے ملاقاتیوں کے پاس ذرائع نہ جیل انتظامیہ کو پتہ،دوسرا خط کہاں سے آگیا

    سیاستدانوں میں مقبولیت کا نشہ اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبور کرجاتے ہیں پھر بعد میں اُس کو جوش خطابت کا نام دیا جاتا ہے، جمہوری عمل کو برقرا ر رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے، جلسوں ، چوراہوں ،گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر پاک فوج جملہ اداروں اور عسکری قیادت پر جس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں کیا کسی مہذ ب معاشرے میں اس طرح کی زبان اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بولی جاتی ہے ؟ پاک فوج میں غازیوں اور شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ، پولیس کے افسران اور پولیس کے نچلے درجے کے شہداء کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کی سلامتی کی خاطر شہید ہوئے، تاد م تحریر پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں، حکمران اور اپوزیشن ہوش کے ناخن لے، جمہوریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز جمہور تھوڑا نہیں پواسوچے ،غور کریں فکر کریں ، سیاسی گلیاروں میں باکردار با اخلاق شخصیات کا قحط ہے،سیاسی گلیاروں میں عصر حاضر میں باکردار بااخلاق شخصیات کا ظہور ممکن نہیں اب سیاسی گلیاروں میں چند سیاسی شخصیات ہی نظر آتی ہیں ،

    افسوس حکمرانوں اور اپوزیشن پر ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کے ایک رکن نے قیدی نمبر804 کی محبت میں پاک فوج اورجملہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا کیا یہ ایک خود مختار ریاست پر حملہ نہیں؟ چلیں امریکہ ،بھارت یا کوئی دوسرا ملک پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کیا جس ملک پر حکمرانی کررہے ہیں یا کرتے رہے آپ پر فرض نہیں کہ کسی بیرونی طاقت کو اس کا جواب دیں اگر آپ ان بیانات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو آپ اس وطن عزیز اور قوم کی خاطر شہید ہونے والوں کی کون سی خدمت کررہے ہیں؟ قیدی نمبر804 سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی منافع بخش انڈسٹری کا روپ دھار چکا ہے، جس پر وی لاگرز اور اینکر قوم کو مصروف رکھ کر ڈالرز کما رہے ہیں ، افسوس الیکٹرانک میڈیا بھی اب سوشل میڈیا پر انحصار کرنے لگا ہے، تمام میڈیا قیدی نمبر804 کے خط کے گرد گھوم رہا ہے، جس طرح امریکی صدر کے مشیر ایلون مسک بڑے یقین کے ساتھ لوگوں کو یقین دلاتا رہتا ہے کہ زمین ختم ہونے والی ہے اسی طرح ان خطوط کی داستان ہے خود الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،وکلاء اور جیل جانے والے صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ جیل کے اندر داخل ہونے پر ان کی تلاشی لی جاتی ہے ،لکھنا بھی ممکن نہیں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے موبائل لے لئے جاتے ہیں ایسی صورت میں خط کون لکھتا ہے ،کون باہر لاتا ہے بیرون ملک میں اخبارات میں مضمون کیسے شائع ہوتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچئے؟

  • مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    تحریر: تنویرالاسلام (سابق چئیرمین متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر)

    ریاست جموں و کشمیر دلکش قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے سبب ”جنتِ نظیر” کہلاتی ہے حقیقت میں صدیوں پر محیط ظلم و جبر اور انسانی تکالیف کی وجہ سے ”دکھوں کی سر زمین” ہے جہاں لوگ مدت مدید سے اپنی بقاءاور حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی جدوجہد” مزاحمت اور استقامت” کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہے ۔کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور غیر متزلزل عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی عزت، وقار اور حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کشمیری مسلمانوں کو پشت در پشت سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے تشخص اور اسلامی اقدار کو بچائے ر کھا ہے۔
    کشمیری مسلمانوں پر منظم جبر کا آغاز 1819ءمیں سکھ حکمرانی کے دور سے ہوا ۔اس دور میں بھاری ٹیکسوں، مذہبی بغض و عناد، سماجی و قانونی استحصال اور ظلم و جبر نے مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدحال کیا ۔1846ءمیں برطانوی سامراج نے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ڈوگرہ حکمرانی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو ناقابلِ بیان مظالم، مذہبی پابندیوں، جبری مشقت (بیگار)، بھاری ٹیکسوں اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
    29 اپریل 1865 ءکو کشمیری شال بافوں نے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ۔ اس احتجاج کے دوران 28 معصوم کاریگروں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ 21 جولائی 1924 ءکو سرینگر ریشم خانہ کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کیا جس کو ڈوگرہ حکمرانوں نے طاقت کے زور پر دبایا۔اس احتجاج کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے 10 مزدور شہید اور 20 زخمی ہوگئے ۔یہ مظاہرہ جنو بی ایشاءکی تاریخ میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ تھا جس کو بزور طاقت کچلا گیا ۔ریاستی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف 1930ءمیں ایک موثر تحریک شروع کی۔ 13 جولائی 1931ءکو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر اندھا دھند گولیاںچلائی گئی جس سے 21 معصوم مسلمان شہید کر دئے گئے ۔اس سانحہ نے کشمیری عوام کی تحریک کو جلا بخشی اور اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی جس کے نتےجے میں پنجاب میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے ”آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا ۔اس کمیٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے 14 اگست 1931ءکو لاہور کے موچی دروازہ میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقا د کیا ۔اس دن کو ”یومِ کشمیر” کے طورپر منایا گیا اور یہ دن کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ۔کشمیر کمیٹی کے خاتمے تک ہر سال 14 اگست کو یوم کشمیر کے طور منایا جاتا رہا ۔کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کی تحریک اپنے عروج پر تھی جب برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی منظم تحریک کا آغازکیا اور اس دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1944ءمیں کشمیر کا دورہ کیا ۔کشمیری مسلمانوں نے علامہ اقبال ؒکے ملی نظریے کی تقلید کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ساتھ وحدت کا مظاہرہ کرکے تحریکِ پاکستان میںبھر پور شمولیت اختیار کی جو اس عزم کی عکاسی تھی کہ کشمیری اپنے مستقبل کو آزادی اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے ۔بدقسمتی سے برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد برطانوی سامراج اور کانگریسی قیادت کی ملی بھگت کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا ءمیں پاکستان کے ساتھ ‘ا’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ” کیا مگر بعد میں بھارت سے الحاق کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموںکشمیر میں داخل کر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ۔کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور صوبہ سرحد کے قبائلی عوام کی مدد سے ریاست کے ایک حصے کو آزاد کرایا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
    بھارت نے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جس کے نتےجے میں اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ءکو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔ تاہم بھارت نے آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیالیکن جموں کشمیر کی غیور عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی لیکن حق آزادی سے محروم رہے۔ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق سال 1989ءمیںمسلح جدوجہد کا آغاز کیاسال 1990 ءمیں مقبوضہ کشمیر میں عسکری تحریک عروج پر پہنچی ۔جب بھارتی مظالم میں شدت آگئی تو 5 فروری 1990 ءکو جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی مکمل حمایت حاصل ہوئی جب سے یہ دن ہر سال”  یوم یکجہتی کشمیر "کے طور پر پاکستان میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینارز، اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس دوران مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں زخمی اور بے شمار نقل مکانی کرنے والے افراد کی قربانیوںاور کھربوں روپے کے املاک اور کاروباری نقصانات سے عبارت ہیں ۔بھارت نے کشمیریوں کے جائز مطالبے حق خودارادیت دینے کے بجائے کشمیر کی داخلی خودمختاری سلب کرکے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے بھارت میں ضم کردیا
    مسلمانان جموں و کشمیر 5اگست 2019ءکے بعد بھارت کی پاکستان اور مسلم دشمنی، سخت گیر انتقامی پالسیوں اور امتیازی قانون سازی کی وجہ سے مذہبی آزادی، انسانی حقوق کی شدید پامالیوں ، ثقافتی استحصال کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی تنزلی کے شکار ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو مزید گمبھیربنایا ہے جو بنیادی طور پر آزادی کشمیر، پاکستان کی سلامتی و استحکام اورہر پاکستانی کے امن و خوشحالی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت کے ”ہندو توا نظریہ“ اور خطرناک منصوبوں کے پیش نظر جہاں آج کشمیری مسلمانوں کاتحفظ و بقا،اسلامی تشخص اور تحریک آزادی کشمیر کا تسلسل انتہائی مشکلات کا شکار ہے وہاں آزاد کشمیر کی سلامتی ،پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ، سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ بھی سنگین خطرات کے زد میں ہے۔
    ہندوتوا نظریے کی علمبردار بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیںبلکہ عملی اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں ۔کشمیریوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ رسمی تقاریب کے بجائے موثر حکمت عملی اپنا کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے ، کشمیری عوام کی معاشی بدحالی اور متاثرین تحریک کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقاءو ترقی کے لئے حکمت و دانائی سے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ اقدامات کرنے ہوں گے اور دنیا کو باورکرا نا ہوگا کہ کشمیر اور پاکستان ملت واحدہ ہیں اور مسئلہ کشمیر کا عوامی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل جنوبی ایشاءکی امن و ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے

  • سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نہ صرف ایک آفاقی شاعر تھے بلکہ وہ عظیم مفکر ، فلسفی ، صوفی ، قانون دان اور مصنف تھے پوری دنیا میں ان کا کلام پسند کرنے والے اور ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور اقبالیات ایک وسیع موضوع بن چکا ہے وہ ہر دور کے شاعر ہیں پیغبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں سرشار تھے اور قرآن سے وابستگی نے ان کا اقبال مزید بلند کیا اردؤ شاعری کی طرح ان کی فارسی شاعری بھی لاجواب ہے لیکن فارسی عام زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ کلام زیادہ منظر عام پر نہیں آ تا

    علامہ اقبال کی ایک شاہکار فارسی نظم جو ،، رموز بےخودی ،، میں موجود ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کو جناب سیدہ کی کتنی معرفتِ تھی وہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی گہرائی کو سمجھ گئے تھے کہ ،، فاطمہ بضعتہ منی ،، ( فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ) اور یہ حدیث مبارکہ بھی کہ ،، فاطمہ سیدہ ۃ نساء عالمین ( فاطمہ سارے جہان کی عورتوں کی سردار ہے )

    اقبال کہتے ہیں
    مریم از یک نسبت عیسی عزیز
    از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
    ( بی بی مریم سلام اللہ علیہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بزرگ وبرتر ہیں جبکہ فاطمہ زاہرا تین نسبتوں سے بزرگ وعزیز ہیں آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نور چشم ہیں جو اولین و آخرین عالم کے رہبر و امام ہیں
    آ نکہ جان در پیکر گیتی دمید
    روز گار تازہ آ ئین آ فرید
    ( وہی رحمت للعالمین جنہوں نے کائنات کے پیکر میں روح پھونک دی اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی )
    بانوے آ ن تاجدار ھل اتیٰ
    مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
    ( آ پ ھل اتیٰ کے تاجدار مرتضیٰ شیر خدا کی زوجہ معظمہ ہیں)

    مادر آ ن مرکز پرکار عشق
    مادر آ ن کاروان سالار عشق
    ( ان کی ماں ہیں جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرکار عشق ہیں اور ماں ہیں ان کی جو کاروان عشق کے سردار ہیں )

    آ ن ادب پروردہ ء صبر ورضا
    آ سیا گردان ولب قرآن سرا
    ( صبر ورضا کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستی جاتی تھیں اور لبوں پر قرآن جاری رہتا)

    بہر محتاجی دلش آ ن گونہ سوخت
    با یہودی چادر خود را فروخت
    ایک محتاج اور مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آ یا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی)

    رشتہ آ ئین حق زنجیر پاست
    پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
    (آ ئین حق سے رشتہ تعلیماتِ اِسلام اور رسول اللہ کا فرمان میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے)
    ورنہ گرد تر بتش گردید می
    سجدہ ہا بر خاک او پاشید می
    ( ورنہ میں آ پ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور اس خاک پر سجدے کرتا )

    علامہ اقبال کی اس نظم کے آ خری اشعار حیرت انگیز اور بے حد متاثر کن ہیں انہوں نے سیرت جناب سیدہ فاطمہ کا کتنا گہرا مطالعہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں میں شریعت کی زنجیر نہ ہوتی تو میں ان کی قبر مبارک کا طواف کرتا اور سجدے کرتا ،یقننا جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا ایسی ہی قدر و منزلت والی ہستی تھیں رسول اللہ ان کے آ نے پر کھڑے ہو جاتے تھے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے تھے وہ شہر علم تھے علم نبوت کی رو سے جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کے پیارے بیٹے اپنے نانا کے دین پر قربان ہونگے اور وہ کفار مکہ جو ان کو طعنے دیتے تھے کہ آ پ کا کوئی بیٹا نہیں ہے آ پ کی نسل ختم ہوجائے گی اللہ نے اپنے پیارے حبیب کی نسل ان کی بیٹی سے چلائی ،اس زمانے میں جب جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کی قدر و منزلت فرمائی ان کو ہر طرح کے حقوق دینے بیٹی کے بچوں کو کندھے پر بٹھایا اور کہا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ،مدینے کے عیسائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے انکار کرتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ
    ،، اے رسول یہ تم سے عیسیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں اور پھر عیسیٰ کے بارے میں مباہلہ کرتے ہیں اور پھر جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ،،
    ( آیت نمبر 61 ، پارہ تیسرا ، محل نزول مدینہ)

    سورۃ آل عمران کی ان آ یات کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی حکم کے مطابق اپنے بیٹوں کے طور پر اپنے نواسوں حسن وحسین علیھم السلام اور فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کو لے کر میدان مباہلہ میں نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے گئے تھے ،فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بچوں نے بچپن میں ہی اپنے نانا جان کے ہمراہ توحید کی روشنی سے جہان کو منور کیا اور اپنی عالی مرتبت ماں کی تربیت سے ایک زمانے کو حریت وصداقت کا درس دیا

    اقبال فرماتے ہیں
    سیرت فرزند ہا از امات
    جوہر صدق وصفا از امات
    مزرع تسلیم را حاصل بتول
    مادران را اسوہ کامل بتول
    ( فرزندوں کوسیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے صدق وخلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے اور تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل بتول ہیں اور ماؤں کے لیے نمونہ کامل بتول ہیں)

    ( 3 جمادی الثانی جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے یوم رحلت پر لکھا گیا مضمون)

  • ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ۔اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت شوکت تھانوی کی بھی تھی جو اپنے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔شوکت تھانوی نے اردو ادب کی ہر صنف میں اپنا مقام بنایا ۔شوکت تھانوی مزاح نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔وہ اردو ادب میں بہترین ناول نگار تھے افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے ۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ۔وہ 3فروری 1904ءکو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ان کا آبائی وطن تھانہ بھون تھا اس لیے اپنے نام کے ساتھ تھانوی لکھتے ۔اردو ادب میں شوکت تھانوی کی کئی جہتیں ہیں وہ ادیب ،صحافی،شاعر،ڈرامہ نگار ،افسانہ نویس ،کالم نویس ،فلمی مکالمہ نویس ،فلمی کہانی نویس ،ناول نگار صدا کار اور ریڈیو فیچر نگار تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایک فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شوکت تھانوی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے ذوق و شوق ،محنت و لگن ہمت و کوشش اور اہل فیض و صحبت سے ادب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا ہے ۔بڑے سے بڑے اور سنجیدہ سے سنجیدہ مسلے کو وہ اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں حل کر لیتے تھے ۔

    عام طور پر ایک مزاح نگار کے بارے میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بھی سنجیدہ نہیں ہوگا لیکن شوکت صاحب اپنی زندگی میں نہایت سنجیدہ انسان تھے ۔وہ اپنے ایک خاکے "عشرت رحمانی”میں لکھتے ہیں کہ جن حضرات نے ان کے افسانے ،ناول اور مزاحیہ مضامین پڑھے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ شوکت صاحب کی زندگی کا کوئی لمحہ سنجیدگی سے نہیں گزرا ہو گا ،مگر یہ ان کی خام خیالی ہے ۔شوکت تھانوی جیسے مزاح نگار تھے اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے ۔

    شوکت تھانوی نے ادب کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ان میں خاکہ نگاری بھی شامل ہے ۔اس میں انہوں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے اور نمونے کے طور پر دو مجموعے "شیش محل”اور "قاعدہ بے قاعدہ”پیش کئے ۔ان دو مجموعوں کو بیحد شہرت ملی ۔ان کا ہر ناول دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ شگفتگی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ان کی خصوصیات معاشرتی تصور ہے ۔

    ان کا مزاح تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتا ہے ۔
    وہ زیادہ تر عملی زندگی کے واقعات سے مزاح پیدا کرتے تھے اور ان کے کرداروں کی تخلیق وہ اپنی آس پاس کی زندگی زندگی سے ہی کرتے تھے ۔
    شوکت تھانوی میں قوت مشاہدہ ،باریک بینی اور قوتِ اظہارکی خوبیاں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں ۔
    ان کی نظموں کے موضوعات گھریلو ،سماجی،سیاسی اور غیر سیاسی ہیں جس میں ہر برائی ،خامی اور ناہمواری کو ظریفانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ان کی ایک نظم فیملی پلاننگ ،مفلسی اور کثرت اولاد سے متعلق ہے ۔اس نظم میں ایک غریب آدمی کثرت اولاد کے مخالف ہے۔
    اور اپنے لخت جگر کو دنیا میں آنے سے پہلے کہتا ہے کہ وہ مفلسی کے اس حال میں پیدا نہ ہو ۔
    اے میرے بچے میرے لخت جگر پیدا نہ ہو
    یاد رکھ پچھتاۓ گا تو میرے گھر پیدا نہ ہو
    شوکت تھانوی اس صورتحال کو ظرافت کے پیرائے میں بڑی خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

    شوکت تھانوی ایک مزاح نگار ،شاعر،افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ صحافی بھی تھے ۔ان کی زیادہ تر تخلیقات اخبار اور رسائل کے ذریعے عوام کے سامنے آئیں ۔
    ان کی صحافتی زندگی کے متعلق احمد جمال پاشا لکھتے ہیں کہ شوکت تھانوی پیدائشی صحافی تھے ۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی میں 1920ءسے ہوا ۔اس وقت ان کی عمر صرف 16سال تھی جب شوکت تھانوی نے ذاتی طور پر اپنا قلمی رسالہ نکالا ۔منشی واجد علی لطف لکھنوی رسالہ "حسن ادب”لکھنؤ سے نکالتے تھے ۔1925ءمیں شوکت تھانوی نے اس رسالے کی بھی ادارت کی ۔اس کے علاوہ ان کے چچا زاد بھائی ارشد تھانوی 1928ءمیں ایک پرچہ "تحریک ہفتہ وار یار” بھوپال سے نکالا کرتے تھے اور جب وہ لکھنؤ منتقل ہوۓ تو اس پرچے کو لکھنؤ سے جاری کیا اور اس میں شوکت تھانوی کو بھی شامل کیا ۔اس اخبار کا فقاہیہ کالم جو
    "لالہ زار "کے عنوان سے لکھا جاتا تھا اس کو شوکت تھانوی کے سپرد کر دیا ۔وہ مختلف اخبارات میں
    "حرف و حکایت "اور "پہاڑ تلے”کے عنوان سے کالم نویسی بھی کیا کرتے تھے ۔

    شوکت تھانوی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔انہوں نے ریڈیو پر نشری اصناف پر طبع آزمائی کی شگفتہ اور دلچسپ تحریروں کو نشر کیا ۔اس طرح شوکت تھانوی کے تخلیقی سرمائے میں غیر نشریاتی ادب کے ساتھ ساتھ نشریاتی ادب کا ذخیرہ بھی ملتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شوکت تھانوی براڈکاسٹنگ کا بھی ایک روشن ستارہ تھے ۔1938ءمیں انہوں نے صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے ۔ساتھ ہی ساتھ صدا کاری بھی کرنے لگے ۔پھر جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو آپ لاہور آگئے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہو گئے فیچر نگاری کرنے لگے اور مختلف پروگرامز کے علاوہ اپنا معروف پروگرام "قاضی جی”بھی پیش کرتے تھے ۔ان کا یہ پروگرام ریڈیو کا مقبول ترین پروگرام تھا ۔جس کا اسکرپٹ خود شوکت تھانوی لکھتے تھے اور قاضی جی کا کردار بھی خود ہی ادا کرتے تھے ۔

    ریڈیو کی نشریاتی اصناف میں ریڈیو تقاریر ،ریڈیو ڈرامہ اور مضامین شامل ہیں ۔ان سبھی پر شوکت تھانوی نے لکھا ہے لیکن نشریاتی ادب میں شوکت تھانوی کو خاص شہرت و مقبولیت ریڈیو ڈرامہ کی وجہ سے ملی ۔کیونکہ ریڈیو ڈرامہ نشریات اور ادبی حیثیت سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ریڈیو پر شوکت تھانوی کا پہلا ڈرامہ "خدا حافظ”نشر ہوا جس میں ہیرو کا کردار بھی خود شوکت تھانوی نے ہی ادا کیا ۔اس کے بعد انہوں نے ریڈیو سٹیشن کی طرف سے ایک منفرد سیریز بھی پیش کی جس کا عنوان "منشی جی”تھا ۔

    ڈراموں میں شوکت تھانوی نے ایک مزاحیہ کردار کا سہارا لے کر معاشرتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو ظرافت کے پیرائے میں نہ صرف پیش کیا بلکہ نہایت لطیف اور دلکش انداز میں روزمرہ کی زندگی پر طنز کیا۔
    شوکت تھانوی چھوٹی بڑی تخلیق میں جدت اور نیا پن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔شوکت تھانوی کے ہر مکالمے اور جملے برجستہ اور دلچسپ ہوتے ۔شوکت تھانوی کے ریڈیو ڈراموں کی ایک کتاب "سنی سنائی”بھی ہے ۔کم وقت میں زیادہ لکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کی تصانیف کی کثیر تعداد ہے ۔ان کی تصانیف میں سو دیشی ریل سب سے زیادہ مشہور ہے ۔اس کے علاوہ موج تبسم ،طبر تبسم ،سیلابی تبسم ،بحرتبسم ،طوفان تبسم ،بار خاطر ،جوڑ توڑ ،سنی سنائی ،خدا نخواستہ،بقراط،قاعدہ باقاعدہ ،الٹ پھیر ،لاہور یار ،قاضی جی،منشی جی،بھابھی،کچھ یادیں کچھ باتیں ،غالب کےڈرامے ،کٹیا ، بیگم ، داماد،خامخواہ ،نیلوفر،غزالہ،وفا کی دیوی ،مولانا ،شیطان کی ڈائری اور پگلی وغیرہ شامل ہیں ۔شوکت تھانوی کی کئی تصانیف نصاب میں بھی شامل ہیں جن میں شاہین بچے اور لاڈلا بیٹا سر فہرست ہے ۔ان کے خاکوں کا مجموعہ "شیش محل” کے نام سے شائع ہوا ۔
    اسی طرح ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی جس کا نام ہے”ما بدولت ” ۔
    یادداشتوں پر مشتمل کتاب”کچھ یادیں”کے عنوان سے شائع ہوئیں ۔
    حکومت پاکستان نے شوکت تھانوی کی خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازا ۔ادب کی دنیا میں شوکت تھانوی کا نام روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا (انشاء اللہ)
    اردو ادب کے اس نامور ادیب اور مزاح نگار کا انتقال 4مئی 1963ءکوانسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے میاں میر قبرستان میں واقع ہے ۔

  • ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    یہ دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں، اور ہر کوئی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کسی سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ محبت کے جذبات بھی ان ڈیجیٹل راستوں پر بہنے لگے ہیں، جہاں ایک تصویر، ایک میسج، ایک ویڈیو کال کسی کو دل کے قریب کر دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت حقیقت میں بھی اتنی ہی گہری اور سچی ہوتی ہے جتنی کہ دکھائی دیتی ہے؟اونیجا اینڈریو رابنس نامی یہ امریکی خاتون گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں موجود ہیں اور اُس کی موجودگی خبروں اور تبصروں کی زینت بن رہی ہے۔ویزا کی معیاد پوری ہونے اور پاکستانی اور امریکی حکام کی متعدد کوششوں کے باوجود وہ واپس امریکہ جانے سے انکاری ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں ایک پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا ہو کر اُس کی تلاش میں پہنچی تھیں۔

    یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو امریکہ میں پلی بڑھی، آزادی اور خودمختاری کی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر دل پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ فیس بک پر ایک پاکستانی نوجوان سے دوستی ہوئی، اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ دن رات کی گفتگو، وعدے، خواب، اور یقین دہانیاں اسے اس حد تک لے آئیں کہ اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ اس کامحبت کا سفر تھا یا زندگی کی سب سے بڑی غلطی؟۔یہ لڑکی سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئی، دل میں خوشی، امید، اور محبت کا چراغ جلائے۔ اس نے یقین کر لیا تھا کہ جس شخص سے وہ ملنے جا رہی ہے، وہ اس کا سچا محبت کرنے والا ہے، جو اسے عزت، خوشی اور تحفظ دے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ پاکستان پہنچی، اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ وہ لڑکا جو اسے ایئرپورٹ پر لینے آنا تھا، غائب ہو چکا تھا۔بار بار کال کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں، میسجز بھیجنے پر کوئی ردعمل نہیں، اور جب اس نے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ لڑکا حقیقت میں کہیں اور مصروف تھا، اور اس کے جذبات محض ایک کھیل تھے۔ وہ لڑکی ایک اجنبی ملک میں، اکیلی، بے سہارا، اور دل شکستہ کھڑی رہ گئی۔

    یہ کہانی ایک سبق ہے۔یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے ان تمام لڑکیوں کے لیے جو سوشل میڈیا کی محبت کو حقیقت سمجھ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ محبت اور دھوکہ میں فرق کیا جائے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی کے میٹھے بول اور جھوٹی محبت کے جال میں آ کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ایک بڑی نادانی ہے۔آنکھیں بند کر کے اعتبار نہ کریں۔سوشل میڈیا پر کسی سے تعلق بنانا آسان ہے، لیکن اعتبار کرنے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے۔ جو شخص آپ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں کیسا ہے؟ کیا اس کی باتوں میں سچائی ہے؟ کیا وہ واقعی آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہے یا محض وقت گزاری کر رہا ہے؟ یہ سب جانچنا ضروری ہے۔محبت میں جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔محبت ایک خوبصورت احساس ہے، لیکن اگر یہ جذبات میں بہہ کر کی جائے تو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کسی سے محض آن لائن بات چیت کے بعد اس پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا حماقت ہے۔اپنے خاندان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔اگر کوئی واقعی آپ سے محبت کرتا ہے تو وہ آپ کے خاندان کے سامنے آنے سے نہیں گھبرائے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کو چھپ کر، خفیہ طور پر ملنے یا کسی اور ملک آنے کے لیے مجبور کر رہا ہے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ کچھ غلط ہے۔ خود کو قیمتی سمجھیں ،کسی بھی لڑکی کی عزت، خودداری، اور زندگی کسی کے جھوٹے وعدوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو آپ کی سچائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کے جذبات سے کھیل رہا ہو، وہ آپ کے لائق نہیں۔ایسی کہانیوں کو دہرانے سے کیسے بچا جائے؟یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے ان گنت دھوکوں میں سے ایک ہے۔

    آئے دن ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ کسی لڑکی نے کسی اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی زندگی برباد کر لی۔ اس سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں: کسی سے آن لائن دوستی ہونے پر پہلے مکمل تحقیق کریں۔ محبت کے جذبات میں جلد بازی نہ کریں۔کسی اجنبی پر بغیر ملے اور سمجھے اعتبار نہ کریں۔اگر کوئی شخص سچی محبت کرتا ہے تو وہ کبھی بھی آپ کو خود سے الگ نہیں کرے گ۔ااپنی عزت نفس، خودمختاری اور وقار کو ہر چیز سے زیادہ اہم رکھیں۔اس کے نتیجہ میں سچی محبت وہی ہے جو عزت دے۔سچی محبت وہی ہوتی ہے جو عزت دے، اعتماد دے، اور سب کے سامنے ہو۔ جو محبت چھپانی پڑے، جو آن لائن وعدوں اور جھوٹے خوابوں پر قائم ہو، وہ محض ایک دھوکہ ہوتی ہے۔وہ امریکی لڑکی شاید اب اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پر پچھتا رہی ہو گی، لیکن اگر اس کی کہانی کسی اور لڑکی کے لیے سبق بن جائے، تو شاید وہ اپنی زندگی برباد ہونے سے بچا سکے۔ محبت خوبصورت ہے، لیکن اس کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا ضروری ہیں۔یاد رکھیں عزت ہی سب کچھ ہے۔عزت وہ اثاثہ ہے جو نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ کسی کو دے کر واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو پوری زندگی کی تگ و دو بھی اسے واپس نہیں لا سکتی۔ دولت، شہرت، محبت سب کچھ فانی ہے، مگر عزت وہ دائمی دولت ہے جو انسان کی پہچان بنتی ہے۔ جو عزت کو قربان کر دے، وہ سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے قیمتی ہے، تو وہ عزت ہے—اور عزت ہی سب کچھ ہے!یہ کالم صرف لڑکیوں کے لئے ہے، امریکن لڑکی کی حالت پر غور کریں اس سے سبق سیکھیں،کیونکہ جو آپکے لئے آپ کے والدین سوچتے ہیں ، اسی میں عافیت اور بھلائی ہے، وگرنہ فیس بک کی دوستی پرامریکن لڑکی کی پاکستانی لڑکے سے شادی کے نام پر ذلالت تو آپ نے دیکھ ہی لی ہے

  • ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں مسخرے پن کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا،بھانت بھانت کی بولیاں
    دنیا بھر میں بدلتی صورتحال پر پاکستان کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت،سب ایک ہوجائیں
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بین الاقوامی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں مسخر ے پن کی حدوں کو کراس کرنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہو چکاہے۔ لہذا ذمہ داران ریاست کو بہت ہی زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے کا ایک انتہائی ملک ہے۔ بین الاقوامی پالیسیاں بالخصوص نئے امریکی صدر ٹرمپ کے تابڑ توڑ فیصلوں سے عالمی سیاست میں ہلچل سی پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر کے فیصلوں کااثر دنیا کے کئی ملکوںپر پڑنے والا ہے۔ جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران کو دھمکی دے دی گئی ہے۔ بھارت کی مثال لے لیں ،ٹرمپ کی کامیابی پر بھارتی میڈیا ڈھول کی تھاپ پر ناچنے کے مترادف اُچھل رہا تھا۔ ٹرمپ اور مودی کی دوستی کے چرچے ہو رہے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ امریکہ سے غیر قانونی بھارتی شہریوں کو پکڑ پکڑ کرنکالا جا رہا ۔ ابھی مودی حکومت جو روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر برکس میں شامل ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اسکا بھی بھارت سے جواب طلبی کرنے والا ہے ۔ غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے تاہم مشرق وسطی کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ روس اور یو کرین کا کیا ہوگا ان دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر اور امریکی سیاست نے جو انگڑائی لی ہے اس سلسلے میں سردست کچھ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں نفرت کی سیاست میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ دور کی نفرت کی سیاست میں ملک وقوم کا خیر خواہ کون ہے؟ موجودہ نفرت کی سیاست میں اور بین الاقوامی بدلتی پالیسیوں کو دیکھ کر پاک فوج اور جملہ اداروں پر ملک وقوم کی حفاظت ان کی سلامتی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ امریکہ نے چین ،کینیڈا، میکسیکواور دوسرے ممالک پر ٹیرف لگا کر ایک نیا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے ۔ ادھر یورپی یونین ایک نیا اقتصادی ماڈل بنا رہا ہے ۔ بین الاقوامی حالات اور پالیسیوں کے موجودہ دور میں فہم فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا جائے۔ سیاستدان مسخرے پن کی سیاست سے باہر نکل کر ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں کے بارے میں افوا ہ سازی سے گریز کریں ۔

    یادرکھیئے اداروں کو بقا اور شخصیات کوفناحاصل ہے جس ملک میں ادارے مضبوط ہوں وہاں فیوڈل روئیے دم توڑ دیتے ہیں جہاں فیوڈل نفسیات غالب ہوں وہاں اداروں کے لئے آکاس بیل بنی رہتی ہےنہ خودبرگ و آب ہوتی ہے اور نہ کسی کو ثمر آور ہونے دیتی ہے۔بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقررکرنا ہو