Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آمریت سے لے کر جمہوریت اور جمہوریت سے لے کر آمریت کے دور حکمرانی دیکھے ۔موجودہ دور کی سیاست کے انداز بدل گئے ۔ سیاستدانوں کی وفاداری تبدیل بھی ہوتے دیکھی مگرموجودہ بحران ناقابل فراموش ہے اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ کیا اس موجودہ بحران جو وطن عزیز میں دیکھا جا سکتا ہے اگر سیاسی قائدین ، مذہبی قائدین اور انصاف کا نظام اس بات کا تادم تحریر اندازہ نہیں لگا سکا کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اُس کا حل کیا ہے اور کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آرہی اس موجودہ بحران کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔موجودہ بحران سیاست اور جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے موجودہ بحران پر اگر کسی نے توجہ نہ دی تو ایک ناقابل یقین ،اخلاقی تباہی سے آگے کسی اورچیز میں بدل دے گا۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز صرف اقتدار ، اختیارات اورطاقت رہ گئی ہے ۔ اس میں وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں اقتدار کی عادت پڑی ہے اور وہ ملکی بڑی سیاسی جماعتوں کے دوراقتدار میں ہمسفر رہے۔ آج جن مسائل کا پاکستان کا بطور ریاست اور عام آدمی کو سامنا ہے وہ ہے ملکی معیشت اور مہنگائی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔ آپ اگر اس وقت پورے ملک کا جائزہ لیں نتیجہ اخذ کریں کیا کسی جماعت کی توجہ معیشت اور مہنگائی پر ہے ؟ پاکستان اورعوام کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ کسی نے دکھایا ؟ اس وقت جو سیاسی جماعتوں کے درمیان جنگ ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ مقبول کون ہے ۔ مقبولیت کا انداز بھی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے ۔ملکی سرحدوں کے محافظ پاک فوج اورجملہ اداروں کے خلاف بات کرنا مقبولیت کہا جاتا ہے ۔ عالمی دنیا یں مقبولیت ملک و قوم کی خوشحالی کا نام ہے۔ وطن عزیز میں مقبولیت پاک فوج اورجملہ اداروں کو نشانے پر رکھنا مقبولیت کا نام ہے کیا یہ سیاست اور جمہوریت ہے ؟عالمی دنیا میں ملکی سلامتی کے ان اداروں کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا جس طرح ماضی حال وطن عزیز میںکیا جا رہا ہے۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ، کے پی کے کی سول بیورو کریسی اور مرکزی بیوروکریٹ اپنا چلن بدلیں۔اس ریاست کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچا دیا گیاہے

    بابائے قوم کے اس پاکستان کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنی پوسٹنگ اور ہوس زر سے باہر نکلیں ۔ زمین آسمان کی ملکیت خدا پاک کی میدان حشر کو سامنے رکھیں اختیارات کی باز پُرس ہوگی وہاں کوئی سیاسی سفارشی نہیں ہوگا ،ہوش کریں۔

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری

  • بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان کو لے کر اور سردار اختر مینگل کے استعفیٰ تک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور جن تازہ ترین حالات سے بلو چستان سے گذر رہا ہے ۔ اسی صورت حال سے نواز شریف کے دور حکومت میں گزر رہا تھا جس پر نواز شریف نے قابو پانے کے لئے اپنی جماعت کا قتدار قربان کیا تھا۔ نواز شریف نے سب سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔اچکزئی اور مینگل سے بھی نواز شریف کی دوستی تھی وہ بلوچستان کے حالات کو درست کرنے کے لئے نئی قیادت سامنے لائے سب کو خوش کرنے کی کوشش کی ۔ بلوچستان میں آج بھی نواز شریف جیسا کردار حالات کا رُخ موڑ سکتا ہے۔ لیکن کیا کہا جائے ہم نے بحیثیت قوم بھی اور بحیثیت سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا بقول میر:
    ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے۔ درد و غم جمع کئے کتنے تو دیوان کیا
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے اُن کا بیان کریں۔کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرے دیوان کریں

    مسلم لیگ (ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت اور نام نہاد مرکزی قیادت نام نہاد رہنما بقراط اور سقراط ایسے مسخرے لوگوں سے ریاست اور قوم کا واسطہ پڑا ہے کہ خدا کی پناہ ۔ ان کی نااہلی ، بدعنوانی ،اور کردار کی گراوٹ کاخمیازہ بلوچستان ہی نہیں ۔پورا ملک بھگت رہا ہے ۔ انتشار اور منافرتوں کے زہر پھیلتے جا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں سامراجی طاقتیں لوٹ مار کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ وطن عزیز کایہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے کسی زمانے میں یہاں کی خوبصورتی کے نظارے دیکھنے کے لئے سیاح آیا کرتے تھے۔ پاک فوج جملہ ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ جانوں کانذرانہ دے کر نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ وطن عزیز کی حفاظت قوم کو دہشت گردوں سے بھی بچا رہی ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ،مذہبی جماعتیں حکمران اور اپوزیشن اقتدار کی جنگ سے باہر نکل کر بلوچستان میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دشمنان پاکستان کا مقابلہ فوج اور جملہ اداروں پر ہی نہیں کچھ ذمہ داری آپ پر بھی ہے ۔نواز شریف کی طرح اگر اپنا اقتدار بھی قربان کرنا پڑتاہے تو وہ بھی کریں۔ضرب عضب سے لے کر رد الفساد تک پاک فوج ،جملہ اداروں ، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے قربانیاں دے کر وطن عزیز میں امن بحال کیا ہے۔ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔ اس کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ورنہ تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔

  • یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    6 ستمبر1965 ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کھی نہ بھولنے اور سبق آموز دن ہے۔ پڑوسی ملک بھارت نے رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کردیا وطن عزیز کے غیور اور متحد ملک نے دشمن کے جنگی حملہ کا پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا۔ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔1965 ء کی جنگ نے ثابت کردیا کہ جنگیں ریاست عوام اورفوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ قوم کی اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جانثاری جرات مندانہ جذبے نے مل کر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاک فوج نے ہر محاذپر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے افسروں اورجوانوں نے اسلحہ بارود کے ساتھ ساتھ وطن عزیز اور قوم کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر دشمن کی فوج اور ٹینکوں کو قبرستان بنا دیا۔ بلاشبہ اے پتر ہٹاں تے نیًں وکدے توں لبھدی پھرینیں بازارکڑے ۔

    یہی وہ پتر ہیں جنہوں نے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر وطن عزیز اور قوم کے لئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ پاک فوج نے ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور جان دے کر اپنی آزادی کو بچاتے ہیں۔ یاد رکھیئے آج دنیا بدل گئی نئی اور جدید ٹیکنالوجی آگئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں جاری ہیں آج ہمارا دشمن ایک نہیں کئی ممالک میں ایٹمی پاکستان اور ایک طاقت ور ترین فوج کی حامل ریاست ہمارے ظاہری اور خفیہ طاقتوں کو پسند نہیں اس لئے جب تک ہمارا دشمن زندہ یہ ۔ ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے کل بھی یوم دفاع تھا اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ جب پاکستان دشمن قوتیں وطن عزیزکے خلاف سازشوں میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتی رہیں پاک فوج آج بھی پاکستان کا دفاع ہر محاذ پر کرتی رہیں گی اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ یوم دفاع کے موقع پر وہ سیاستدان ،وہ فوجی حکمران ،وہ سائنسدان، وہ انجنیئر جو اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے خراج تحسین کے قابل ہیں۔ جنہوں نے 1965 ء کی جنگ کے بعد اپنا دفاع مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان سیاستدانوں میں نواز شریف سابق وزیراعظم کے اس کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    عام آدمی کی بہتری کیلئے آج تک کوئی قانون سازی نہ ہوئی
    ملازمتیں ملی نہ مہنگائی کم ہوئی،جو آیا اپنی جنگ لڑتا رہا

    وائٹ ہائوس کا مکین کون ہوگا؟ڈونالڈ ٹرمپ یا کیملا ہیرس، پوری دنیات کی نظریں امریکی انتخابات پر ہیں، جبکہ دونوں صدارتی امیدواروں کا امریکی عوام کیلئے موضوع معیشت ہے، دونوں امریکی صدارتی امیدوار اپنے معاشی پیغامات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاہم ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں امریکی عوام کی توجہ کا مرکز ہیں،امریکی معیشت اور امریکی مفادات دونوں ہی اُمیدواروں کے لئے اہم ہیں،اسی کا نام جمہوریت اور جمہور کی خدمت ہے، دونوں امیدواروں کی تقریریں امریکی مفادات اور عوام کے مفادات کے لئے ہیں،

    دوسری جانب دنیا کی توجہ بھی معیشت پر ہے، وطن عزیز کے نام نہاد سیاستدانوں کی پارلیمنٹ میں اگر تقریریں سنیں تو ذاتی مفادات سے شروع ہوکرذاتی مفادات کی قانون سازی پر ہی ختم ہوتی نظر آتی ہیں،عام آدمی کے مسائل اور ریاست کو درپیش مسائل کا ذکر دب کر رہ گیاہے، ایسی قانون سازی جس سے عام آدمی کو فوائد حاصل ہوں نظرہی نہیں آتی، کیاپارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے سیاستدانوں کو احساس ہے کہ ملکی معیشت ، وسائل ،صحت کی پالیسیاں ، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات پاکستان کی آنے والی نئی نسل کے لئے کوئی پالیسی،ریاست کو مستحکم بنانے کی پالیسی ،اگر ایسا نہیں تو پھر پارلیمنٹ ہائوس کیا اپنے مفادات کی جنگ لڑنے کی جگہ ہےیا عام آدمی اور ریاست کے مفادات کی بات کرنے کی جگہ ہے؟پارلیمنٹ کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کی خوشامد، ذاتی مفادات، پروٹوکول ، اختیارات اور صرف اقتدار کی جنگ لڑنے کی جگہ بنا دیا گیاہے، کیا پارلیمنٹ میں قوم کے لئے کوئی قانون سازی کی گئی ہے؟ کوئی ایسا قانون جو ہماری اجتماعی اقدار کی عکاسی کرتا ہو ؟ کیا یہ جگہ ملازمتوں میں توسیع دینے کے لئے ہے ؟ یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی جگہ ہے ؟پھر اپنی ناکام سیاست ناکام جمہوریت کا ملبہ پاک فوج پر جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے پر ڈالنے کا کیا جواز ؟ کیا پارلیمنٹ میں آئی پی پیز کے ہاتھوں ،بجلی کے بلوں تلے دبے عوا م کے حق میں کوئی آواز اٹھے گی ؟ ملاوٹ ،منافع خوری ، مل مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف کوئی آوازاٹھے گی ؟اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس کو سلطانی جمہور کہا جائے یا سلطانی مجبور ،میرا سوال یہی رہے گا ریاست کے ذمہ داران نے آج تک عام آدمی کیلئے کیا کام کیا،جو آیا اپنے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ور چلتا بنا

  • ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    دو حاضر میں جو افراد ملت کے مقدر کا ستارہ ثابت ہوئے ان میں سے ایک پروفیسرڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم ہیں ، مثالی منتظم اور صنعتی ماہر کے طور پر منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ تعلیمی خدمات کے عوض تمغہ امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ کوئی بھی انسان جو کسی شعبے سے منسلک ہو اس کی اہلیت اور قابلیت کا اندازہ اس کے کام اور کام کے نتائج سے کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کاکام اس امر کا اعلان ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ساتھ بے حد مخلص ہیں ۔ ان کی علمی اور تدریسی مہارت کو دیکھنا ہو تو خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ( رحیم یار خان ) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو دیکھا جاسکتا ہے ۔خواجہ فرید یونیورسٹی کا تو ڈاکٹر اطہر محبوب کو بانی وائس پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ رحیم یار خان ایک پسماندہ علاقہ ہے ، جو عرصہ دراز سے تعلیم اور شعور سے محروم چلا آرہا ہے۔جب حکومت نے رحیم یار خان میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس کا پہلا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو مقرر کیا گیا ۔ یونیورسٹی کا بانی وائس چانسلر بننا جہاں ایک اعزاز تھا تو وہاں ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا ۔ اس لیے کہ یہاں مسائل و مشکلات کے پہاڑ تھے ۔ایک ایسا ملک جہاں سرکاری کام چیونٹی کی رفتار سے رینگتے ہیں اور کسی بھی پراجیکٹ کی تعمیر پر برسوں لگ جاتے ہیں ایسے ملک میں ڈاکٹر اطہر محبوب نے کام کرنے کی ایک نئی روایت متعارف کروائی ۔ 29مئی 2014ءکو یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ جاری کیاگیا جبکہ چار ماہ بعد ہی ڈاکٹر اطہر محبوب نے کلاسز کا آغاز بھی کردیا ۔جب شیخ الجامعہ علم کا ایسا شیدائی ہو تو اسے علم سے محبت کرنے والے ساتھی اور شاگرد بھی مل جاتے ہیں۔ چنانچہ
    یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا
    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    کے مصداق چند ہی مہینوں میں طلبہ وطالبات کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ۔ کم وقت میں یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریس کا آغاز۔۔۔۔اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ وطالبات ۔۔۔۔؟ یہ یقینا پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا ۔ اس واقعہ نے ثابت کردکھایا کہ ڈاکٹر اطہر علم کے فروغ اور کام سے لگن کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ وہ قرون اولی کی علم دوست شخصیات کی طرح پاکستان میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح ” کام ۔۔۔۔۔کام ۔۔۔۔۔اور کام “ پر یقین رکھتے ہیں ۔

    پروفیسر ڈاکٹر اطہر کی علم سے محبت اور خدمت کا دوسرا شاہکار اور یادگار واقعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہے ۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمارتاریخی اقدامات کئے ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجراء کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ، طلبہ وطالبات کے دین کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے جامع الامام ابن کثیر سمیت یونیورسٹی کے مختلف کیمپس میں عالی شان مساجد بنائی گئیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب برملا یہ بات کہا کرتے تھے میں ” اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمی تعلیمی ادارہ بنانا چاہتا ہوں ۔“
    یہ وہ اقدامات تھے جنھوں نے یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے اور اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔ کلاسیں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں وہ13تک جاپہنچی ۔ پہلے کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب یہ تعداد 1400تک جاپہنچی ۔ پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔

    یہاں میں خصوصی طور پر ایک واقعہ بطور خاص قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ اس واقعہ کے راوی ڈاکٹر اکرم چوہدری ہیں جو سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ” میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا گورنر پنجاب وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنی اپنی جامعات کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے “ ۔

    یہ ہیں ڈاکٹر اطہر محبوب۔۔۔۔! اور یہ ہے۔۔۔۔ ان کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ !
    حقیقت یہ ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرح ڈاکٹر اطہر نے اسلامیہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بے حد محنت ہے ۔یہاں تک کہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں اور مافیاز کے کاروبار مانند پڑنے لگ گئے ۔ اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر ۔۔۔ایک بھیانک سازش تیار کی گئی ۔تاہم وہ جو کہتے ہیں جھوٹ کو دوام نہیں یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تو انھوں نے تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا تھا کہ آئی یو بی ، ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا اور اس میں جن افراد کو ٹارگٹ کیا گیا وہ سب شفاف کردار کے مالک ہیں ۔ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو سازشیوں کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ،اور انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے بعد صرف ایک سال میں یونیورسٹی ویران ھوکر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی تعداد نہ ھونے کے برابر ہے ۔
    رکاوٹیں ہمیشہ باصلاحیت لوگوں کے راستے میں ہی کھڑی کی جاتی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ بہت باصلاحیت ہیں جبکہ اس وقت پنجاب کی بہت سی جامعات وائس چانسلرز شپ سے محروم چلی آرہی ہیں جن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی شامل ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز شروع کیے ہیں ۔اہلیان جنوبی پنجاب کی خواہش ہے، کہ یونیورسٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بحال کرنے،اور یونیورسٹی کو نئے سرے سے آباد کرنے کے لیے دوبارہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو اسلامیہ یونیورسٹی کا وی سی مقرر کیا جائے ۔اسلئے کہ
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
    ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس یونیورسٹی کو اپنے خون سے سینچا اور کی آبیاری کی ہے ۔ یونیورسٹی میں ان کی دوبارہ تعیناتی ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہوگا اور یونیورسٹی کے لیے اعزاز بھی ہوگا۔ یونیورسٹی کا ہر گوشہ زبان حال سے ڈاکٹر اطہر محبوب کو کہہ رہا ہے
    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

  • مریم نواز  پنجاب کو بدلنے والی مضبوط سیاسی لیڈر،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مریم نواز پنجاب کو بدلنے والی مضبوط سیاسی لیڈر،تجزیہ : شہزاد قریشی

    رائٹ مین فار رائٹ جاب نے اور وقت کی پابندی نے دنیا کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں وطن عزیز کے مقابلے میں وسائل انتہائی کم ہیں لیکن وہ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کا تیسرا سب سے بڑا راز میرٹ پر عملدرآمد ہے ۔ ہمارے ہاں میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے کسی سرکاری یا غیر سرکاری دفاتروں میں بغیر سفارش اور بغیر تعلقات کسی کا کام ہونا ناممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلقات اور سفارشی کی بنا پر یا رشوت دینے سے کام نہیں کیے جاتے۔ کسی بھی محکمے میں تعلقات یا سفارش پر نہیں ہوتیں۔ صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ترقی یافتہ ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں ایک نئے سفر کا آغاز کیا ۔ پولیس سے لے کر سول انتظامیہ اور سول بیورو کریسی کی میرٹ پر تعیناتیاں ترقی کی جانب ایک اچھا اقدام ہے جبکہ نام نہاد سفید پوشوں کی غیر قانونی زمینوں پر قبضے پنجاب میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز پنجاب میں ملاوٹ شدہ ادویات اور خوراک کے خلاف اقدامات ترقی کی جانب اہم قدم ہے۔ وزیراعلی پنجاب کی حد تک عوام کو ایک ایسے نظام کی طرف لے کر جا رہی ہیں جس نظام نے دنیا کو ترقی یافتہ ممالک بنایا امید ہے کہ وطن عزیز کے دیگر صوبے اور وفاق بھی اسی طرح کے اقدامات کرکے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ارکان اسمبلی کو بھی اس نظام پر عملدرآمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہی وہ نظام ہے جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں عام آدمی اسی نظام سے مستفید ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے کسی حکمران یا سیاسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے استعمال کرتا ہے ؟ملک کے مستقبل اور لوگوں کی تقدیر کیلئے اس کا وژن کیا ہے؟ بعض اوقات تاریخ طاقتور ترین لیڈروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے اپنے والد کے ساتھ مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ہے وہ سیاسی گلیاروں میں ایک مضبوط سیاسی رہنما ثابت ہوئی ہیں مریم نواز نے سختیوں کے باوجود اپنی مسکراہٹوں سے مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھا اپنے والد نواز شریف کی طرح وہ جانتی ہیں غربت، بے روزگاری اور تعلیم عوام اور اس ملک کے لئے کتنی ضروری ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عام آدمی کی حالت بدلے گی۔

  • نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو یا دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں یا تحریک انصاف۔ پیپلزپارٹی کسی زمانے میں بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی تھی اب صوبائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی اب نوازشریف کی لندن اور بار بار جلاوطنی اور شہبازشریف اور ان کے ہمنوا ساتھیوں نے اس جماعت کو صوبے تک محدود کر دیا ہے جس طرح پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلزپارٹی کو صوبےتک محدود کردیا ہے اسی طرح شہبازشریف کی مفاہمتی سیاست نے ن لیگ کو بھی صوبے تک محدود کر دیا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بطور سیاسی جماعت کو قومی جماعت نہیں کہہ سکتی۔

    نوازشریف کی طرز سیاست نظام اور ڈھانچوں کو ایک ترقی یافتہ جمہوریت کے اصولوں آئین اور قانون کے تحت استوار کرنے کی کوشش تھی۔ ن لیگ میں حوس اقتدار کے ماروں نے وہ گل کھلائے کہ جمہوریت کی پری بھی شرما گئی ۔نوازشریف کو کبھی عدالتوں کے ذریعے اور کبھی ہائی جیکر بنا کر اقتدار سے الگ کر دیا گیا ۔کبھی اٹک قلعہ تو کبھی ہوائی جہاز کی سیٹوں کے ساتھ باندھ کر کراچی پہنچا دیا گیا۔ بھٹو جیسے عالمی لیڈر اور محترمہ بے نظیر کی پیپلزپارٹی کا حال یہ کر دیا گیا اب وہ پنجاب میں اختیارات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی ہے اس وقت آئینی عہدے رکھنے کے باوجود اور ایک صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے پاس صوبہ پنجاب میں کوئی ووٹ بنک نہیں ۔صوبہ پنجاب میں تازہ ترین حالات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی مقبولیت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور جی حضوری اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بقول شاعر؎
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

    سیاسی جماعتیں اپنی ناکام پالیسیوں ناکام سیاست کا بدلہ قومی اداروں سے لے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ذرا سوچئے ہم کن راہوں کو چل نکلے ہیں ہمارا کیا بنے گا؟ ملک اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں ، رک جائیں۔ غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں وطن عزیز تو اپنا ہے ہمارے سیاسی جھگڑے ختم کیوں نہیں ہوتے۔ نوازشریف اس پورے پاکستان کے سب سے پرانے اور زیرک سیاستدان ہیں سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار اداکر سکتے ہیں۔ نوازشریف بلاشبہ ماضی کے سیاسی زخموں سے بھرے پڑے ہیں بہت دھوکے بھی کھائے ہیں ایک مضبوط سیاسی رہنما بھی ہیں۔

  • نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    کراچی میں کارساز کے مقام پر امیرزادی نتاشہ کی طوفانی رفتار لینڈ کروزر سے ہلاک ہونے والے افراد کے بعد اگرچہ ملزمہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔ لیکن بااثر طبقات کی جانب سے وقوع پذیر ہونے والے ایسے کیسز اور واقعات کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نتاشہ وہاں کتنے سکون میں ہوگی۔ گو کہ اس کیس میں کراچی پولیس کا متاثرین کے ساتھ رویہ اور برتاؤ حیرت انگیز طور پر قابل تحسین ہے، پولیس حکام کے ساتھ ساتھ صوبے کے اہم حکومتی عہدیداروں نے بھی لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے …… لیکن ہائی پروفائل کیسز میں پولیس، قانون یا مجموعی طور پر جوڈیشل سسٹم کو بھلا کون خاطر میں لاتا ہے؟۔ ہمارے قانون کے اندر بھی ایک قانون موجود ہے جو ایسے اثر رسوخ رکھنے والوں کے تحفظ کی راہ نکالتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، شاہ رخ جتوئی، مجید اچکزئی اور نجانے ایسے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنی معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قانون اور نظامِ انصاف کی آزادی اور شفافیت کو عیاں کیا۔

    کارساز میں باپ بیٹی کو کچلنے والی نتاشہ کی مالی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدوں پر فائز اس خاتون سے جب واقعہ سرزد ہوا تو اس کے وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے کبھی نفسیاتی، کبھی ذہنی دباؤ کا شکار، کبھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر اور کبھی کچھ اور تاویلیں گھڑ کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بات بنتی دکھائی نہ دی تو موصوفہ کو درمیانی راستہ دینے کیلئے ایسے مزید حربے بھی استعمال کئے گئے۔ دوسری جانب نتاشہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی واضح ہے کہ ملزمہ کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ قانون کو انگلیوں پر نچانے کا یقین رکھے ہوئے ہے۔ ملزمہ کا اطمینان بھی بتا رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے گی اور جلد وکٹری کا نشان بنا کر نظامِ انصاف کا منہ چڑا رہی ہوگی۔

    وکیل کا کہنا ہے کہ نتاشہ فیملی، متاثرہ فیملی کو قانونی طور پر متعین کردہ 68 لاکھ روپے دیت فی فرد کے حساب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بگڑے ہوئے رئیس دیت کے اسلامی قانون کا فائدہ اپنے مقاصد کیلئے کتنی آسانی سے اٹھا لیتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں اس طرز کے سابقہ کیسز سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام عدل کے رکھوالے بھی اس طرح کے ”چھوٹے موٹے“ کیسز پر اپنا حق ادا نہیں کرتے، بلکہ عوامی مسائل کی بجائے غیر ضروری مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے صحافی دوست نوید چوہدری نے ایسے طرزِ عمل پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ”جس معاشرے میں زندگی لڈو کا کھیل بن جائے اور ریاست کا تمام نظام سانپ کو بچانے نکل پڑے، وہاں صرف سانپوں کا راج ہو سکتاہے“۔ ایسے واقعات میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ لواحقین جھک گئے اورانہوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ متاثرین کو سرنڈر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نظام عدل انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانون بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے میں غریب کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں بچتی۔

    نتاشہ جیسی حیثیت کے افراد کے کیسز میں بالخصوص جوڈیشل سسٹم کا کردار ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ متاثرین کے خون کی قیمت لگانا ”بڑے لوگوں“ کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ انصاف کو یہ اپنے گھر کے دربان سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ایسے میں ”نتاشہ کا کیا ہوگا“، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ جب قانون کا واسطہ کسی اثر و رسوخ رکھنے والے سے پڑ جائے تو قانون معمول کے تقاضے پورے کرنے سے نجانے کیوں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل خودمختار اور بااختیار ہو تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔

    یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمای بھولی بھالی قوم ہر کیس میں انصاف کی امید لگا لیتی ہے۔ موجودہ کیس پر بھی پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں تو یہ کیس آغاز سے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے صرف فارمیلیٹی پوری کی جا رہی ہے۔ جب نتاشہ کا میڈیا ٹرائل کچھ تھمے گا اور ہمیں دیگر عنوانات میں الجھا دیا جائے گا تو ہم بھی یہ موضوع بھول کر حالات کی رو میں بہنا شروع ہو جائیں گے اور متاثرین دل پر جبر کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے نظام میں مظلوم کی داد رسی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کرنے والا نظام نجانے کب تبدیل ہوگا اور ہمارا نظام عدل کب درست طریقے سے اپنا کردار ادا کر پائے گا، اس سوال کا جواب تلاش کرتے کتنی نسلیں گزر گئیں اور مزید نجانے کتنی گزر جائیں گی۔
    منفی افعال ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں اور ہم گذشتہ 77 سال سے یہ سب برداشت کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم …… کیا ہماری وقعت

  • بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر پورٹ کی تعمیر پر بھارت کومروڑ اٹھ رہے،گھٹیا پن پر اترآیا
    معصوم شہریوں کا قتل عام،خوف وہراس پھیلانے کی بھونڈی سازش
    پاک فوج نے وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ہردم اداکیا

    بلوچستان میں دلخراش واقعات نے ہلا کر رکھ دیا، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی وجوہات کیا ہیں؟ اصل وجہ گوادر پورٹ کی تعمیر ہے، بھارت سمیت وطن عزیز کے قریبی ہمسایہ ممالک اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں جنہیں چین کا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا وہ بلوچستان میں ان واقعات میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں، دنیا کے ممالک کے درمیان نئی تجارتی منڈیوں ،سمندری زمینی فاصلوں کی کمی سستی تجارت پر سردجنگ زوروں پر ہے، چین کے مغربی علاقوں میں کوئی سمندر نہیں اورگوادر پورٹ چین کے مغربی علاقوں تک واحد راستہ ہے ، چین اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے کاشغر تا گوادر ایک اقتصادی راہداری بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں،چین اور پاکستان کے اس عظیم الشان منصوبے سے پاکستان مخالف قوتیں اور چندقریبی ہمسایہ ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اس لئے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے خوف و ہراس پھیلارہے ہیں،

    میرا سوال ان نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ہے کیا دنیا کا کوئی ملک اپنی سلامتی یا قومی سلامتی پر حملہ آوروں یا اس مکروہ سازش میں ملوث افراد کو اجازت دیتا ہے ؟ ضرب عضب ہویا ردالفساد اور اب استحکام پاکستان یہ سب وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کے مفاد پر مبنی تھے اور ہیں،ان دلخراش واقعات کے پیش نظر پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین پربھی اس وطن عزیز کے لئے کردارادا کرنا اولین فریضہ ہے، جس طرح اپنے وزارت عظمی کے دوران میاں محمد نواز شریف نے قوم کے اتحاد اور سلامتی کے لئے بلوچستان میں اپنا اور اپنی جماعت کا اقتدار قربان کیا بلوچستان میں عوامی حکومت بنائی گئی ان لوگوں کو حکومت دی گئی جو سرداروں میں سے نہیں تھے،

    پاکستان کے موجودہ حالات کسی ایسے سیاسی لیڈر شپ کا تقاضا کرتے ہیں جو دشمنوں کے عزائم کو روک سکتا ہے یا دشمن کی سازش کو ناکام بنا سکتا ہے، ایک مضبوط سیاسی رہنما سلامتی اور استحکام کو نافذ کرتا ہے افراتفری سے بچاتا ہے ، کسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے چلاتا ہے ملک کے اور عوام کے لئے اس کا وژن کیا ہے، ایک زیرک سیاستدان اپنے ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔