Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں،،،،،(ریورس)
    فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بند کی جائے
    نوجوان نسل کو تباہی کی دھکیلنے والے ملک کی خدمت کررہے؟
    سرحدوں کے پاسبانوں پر حملے حب الوطنی نہیں،فوج ہے تو ہم ہیں

    آئے روز مختلف مفروضے اس سے بھی زیادہ پیشن گوئیاں سوشل میڈیا پر ملتی ہیں جبکہ حقائق مختلف ہیں، ملک معاشی بحران کی زد میں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ہے اورایرانی صدر کا طیارہ حادثہ اور اب حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی تہران میں شہادت،بلوچستان میں وطن عزیز کی سکیورٹی پر مامور نوجوان کی شہادت اور زخمی ہونا، افغانستان کے ذریعے بھارت کا وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنا، دیگر اسلامی ممالک میں آگ اور خون کا کھیل ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معاشرے میں شر پھیلا رہے، شرانگیز قوتوں کی پشت پناہی سیاسی اور مذہبی قوتیں کر رہی ہیں خدا کا قہر ایک آزاد ملک میں یہ کون سی حقیقی آزادی مانگ رہے ہیں؟ وطن عزیز کے نوجوانوں سے التجا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اکثریت اب ایسے لوگوں کی ہے جن کی میری طرح ایک پیر قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے ، کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے کسی کو علم نہیں، اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ چکی ہیں،موجودہ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامے عدلیہ کو اس وطن عزیز کے مستقبل کے لئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا ہوگا، عسکری اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا یوں تمسخر اڑانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں عدلیہ اور عسکری اداروں کے خلاف تقریری مہم جوئی کر کے اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف عوام میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، بیہودہ رویوں کو نکیل ڈالنے کے لئے عدلیہ اور عسکری اداروں کو اور اس ملک کے نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے حرکت میں آنا ہوگا۔، آج جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے جس عذاب سے عوام گزر رہے ہیں ،سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں یہ سب اقتدار میں رہے مذہبی جماعتوں نے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے؟ بقول نامعلوم شاعر
    دھوکہ دیتے ہیں اور معزز ہیں، کیسے لوگوں کا زمانہ ہے۔
    ضمیر زر کے ترازو میں تل رہے ہیں
    کہاں کا زہد و تقویٰ کہاں علم و ہنر
    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں
    جو رہبری کے نام پر سوداگری کریں

  • پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ، ماوزے تنگ ہر چینی، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہرپاکستانی اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں زندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے ۔ ان شخصیات کے ہم سفر نہ کوئی گوگی ، نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے آج کی ہماری ملکی سیاسی جماعتوں میں اس طرح کی مخلوق کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں د یا جاسکتا مگر قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج کل سیاسی گلیاروں کو جس رفتار سے دشنام طرازیاں حرف عتاب کی عذاب زدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے۔ اقتداراور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا

    شداد کی جنت نہ رہی فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں نظریات ، ضمیر اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں آئین موضوع بحث ہے سپریم کورٹ کے وکیل راجہ تنویر سے اس سلسلے میں میری بات ہوئی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا اگر آئین پر عمل ہو تا توایک منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی آج بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا اسی طرح منتخب وزرائے اعظم کو آج تک وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا اس کوبھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا یہ توہین عوام ہے۔ عوامی حکومتوں کو چلتا کرناکسی طرح بھی درست نہیں تھا۔

    قارئین گزشتہ دنوں سینیٹر عرفان صدیقی نے 28 جولائی 2017 ء کے بھیانک دن کا ذکر کیا انہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں منصب سے ہٹا کرجیلوں مین ڈال دینے کا زکر کیا انہوں نے کہا کہ ترقی کی شرح 6.3 اور مہنگائی 3 فیصد تھی۔ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی تھی ۔ دہشت گردی کا سر کچلا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا گیا تھا تمام عالمی ادارے نے پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہے تھے ۔یقینا سینیٹر عرفان صدیقی کی یہ بات درست ہے۔ نواز شریف کے اس ترقی کے سفر میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بھی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو رات گئے گام کیا کرتے تھے۔ نواز شریف وہ واحد وزیراعظم تھے جن کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یہ بھی توہین عوام کے زمرے میں آتا ہے نواز شریف کا نعرہ ووٹ کو عزت دو صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ووٹ کی عزت ملک کے تمام اداروں پر لازم ہے۔عوام کی منتخب حکومتوں کو چلنا نہ کیا جائے عوام کا ووٹ دینے کا اعتماد اٹھ جائے گا۔آئین ہے تو جمہوریت ہے آئین ہے تو عدالتی نظام ہے۔ آئین ہے تو پارلیمنٹ ہے آئین ہے تو عوام کے حقوق ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پر عمل کیا ۔ آئین نے جو حد مقرر کی حکومتیں اور تمام ادارے اس حد کوکراس نہ کریں ورنہ پاکستان اور عوام مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے۔

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔

  • ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی عدالت نے اسرائیل کو فوجی آپریشن فوری طورپر روکنے کا حکم دیا تھا، رفاہ میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا یہ حکم 15 میں سے 13 ججوں کی غالب اکثریت کے ساتھ صادر کیاگیا تھا ،یہ حکم صرف حکم ہی رہا ،اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ کو نشانہ بنایا،اس حملے کا مقصد حوثیوں پر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کریں،اسرائیل کو اقوام متحدہ کا خوف نہ عالمی برادری کا ڈر اور نہ ہی عالمی عدالت کے فیصلے کی پروا ہ،صرف یہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل ،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ،ترکی ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی مذمتی قرار دادیں، دنیا بھر بشمول اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ دیگر یورپی ممالک میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جلوس اور ریلیاں بھی اسرائیل کا ہاتھ نہ روک سکیں، دنیا ہوش کے ناخن لے قتل عام کی پالیسی آج اگر غزہ میں نافذ ہے تو آنے والے کل کہیں اور بھی ہوسکتی ہے، کشمیر میں بھارت قتل عام میں ملوث ہے اور غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کی پالیسی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے ،اس پالیسی کو روکنا ہوگا،

    دوسری جانب گذشتہ روز پاک فوج کے ترجمان نے جہاں 9 مئی کا ذکر کیا وہیں امن عامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں امن قائم رکھنا صوبوں کی ذمہ ہے،16 ہزار مدارس کا بھی ذکر کیا ان کو کون چلا رہاہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ،انہوں نے وطن عزیز میں دو قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا،ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، انہوں نے عزم استحکام کا بھی تفصیلی ذکر کیا، قارئین بلاشبہ وطن عزیز میں شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی یہ ندیاں دریا کا روپ دھار لیں گی، ہماری یکجہتی خواب وخیال بن کر رہ جائے گی، بدقسمتی سے ہماری سیاست کی دنیا میں ایسی ہوا اور وبا چلی کہ خدا کی پناہ سیاست تو عبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر سیاست میں مفاد پرست اور لالچی لوگوں نے اسے آلودہ کرکے رکھ دیا ہے، سیاست کا اجتماعی چہرہ گہناکر رہ گیا، استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے دیانتدار فرض شناس پیشہ وارانہ مہارت، بلند حوصلے کے پیکر پولیس افسران ،سول انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ذمہ دار افسروں کو تعینات کیا جائے جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں،جن افسران کا ماضی ،حال داغدر ہے وہ کیسے استحکام پاکستان میں کردار ادا کر سکتے،، ایں خیال است و محال است

  • حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک وسائل سے مالامال،ہم کشکول لئے کب تک پھرتے رہیں گے
    عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کے کارناموں سے دشمن خوش!
    ہر معاملے میں پاک فوج پر تنقید،دانشور سیاسیوں نے قائد کو بھی شرمادیا
    تجزیہ: شہزاد قریشی
    محسن کشی اور احسان فراموشی دیکھنی ہو تو وطن عزیز میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آج کے پاکستان کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ہمارے سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والے اقتدار اختیارات پروٹوکول عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کی کمال مہربانی سے دشمنان وطن کے ممالک میں شادیانے بج رہے ہیں۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کی منڈی میں جو سودے ہورہے ہیں یا کئے جارہے ہیں عوام کی اکثریت ان سے بے خبر ہے۔ سیاسی چالبازیاں عروج پر ہیں۔ ملکی و قومی سلامتی کیا ہے اس سے بے خبر ہو کر سیاستدان اپنے مفادات کے لئے اپنے ذاتی مخبروں کے ذریعے شاید اسٹیبلشمنٹ بھی اور عوام بھی ان کی اس شطرنجی سیاست سے بے خبر ہیں۔ آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے ماضی حال کو دیکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کو ملوث کرنا ملکی سلامتی کے پیش نظر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سیاسی گلیاروں میں بابائے قوم کے پاکستان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے؟

    وطن عزیز کو اس وقت معاشی صورت حال کے ساتھ بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے مورخ لکھے گا کہ جب پاکستان کی معیشت غیر مستحکم تھی’ 25کروڑ عوام اپنے بنیادی مسائل کا رونا رو رہی تھی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آرہے تھے۔ اس سے زیادہ بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں جو انداز سیاست اپنایا جارہا ہے سا سے تصادم کی فضا ہموار ہورہی ہے۔ بھارت سمیت عالمی قوتیں وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ 25کروڑ عوام پاک فوج اور جملہ اداروں کو انتہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کو غیر مستحکم کرنے کا ایک نہ دکھائی دینے والا عالمی منصوبہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک و قوم کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہورہے ہیں۔ استحکام پاکستان پر بھرپور توجہ دی جائے قدرت نے پاکستان کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے غضب یہ ہے کہ ہم قدرت کی ان نوازشات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہمارے ہاں دیانت لفظ صرف کتابوں اور زبانوں پر نظر آتا ہے عملی نہیں۔ عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ترقی ممکن ہے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  • عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بقول شاعر ،ہر سمت ظالموں کی خدائی ہے اے خدا،
    جینے کا حق نہیں ہے کسی بدنصیب کو،
    اس عہد نامراد میں رزق حلال کیا ،
    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،
    سی پی او راولپنڈی کے آفس سے چند گز کے فاصلے پر تھانہ سول لائن سے لے کر گوجر خان تک لہو کےسفر کی خبروں نے ہلا کر رکھ دیا ، انسانی حقوق کی بازگشت پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک سنائی دیتی ہے مگر کیا انسانی حقوق صرف اس ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے لئے ہیں، عام آدمی کے لئے انسانی حقوق کے قانون لاگو نہیں ہوتے؟ یہ سوال پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی، اعلیٰ عدلیہ، سول انتظامیہ، آئی جی پنجاب، مقتدر حلقوں سے بھی ہے؟ ذیشان نامی ملزم راولپنڈی پولیس نے چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا، دوران تفتیش راولپنڈی پولیس نے گوجرخان پولیس کے حوالے کر دیا ،مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ملزم کی حالت غیر ہو ئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا ،مرحوم چور تھا یا نہیں سوال یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حق تو قانون دیتا ہے پولیس کو جان سے مار دینے کا حق کس نے دیا؟

    یوں تو راولپنڈی کےسی پی او سمیت کچھ ایس پی اور ڈی ایس پی حضرات کی داستانیں زبان زدعام ہیں مگر اس دلخراش واقعہ نے راولپنڈی پولیس کی نااہلی، عدم کنٹرول، ڈسپلن کے فقدان اور خود احتسابی سے چشم پوشی آشکار کر رہی ہے ،سنتا جا شرماتا جا کی غیبی آوازیں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، راولپنڈی کی پولیس ہمیشہ ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژن سے مختلف اعلیٰ اقدار اور صلاحیتوں سے مزین افسران کا گلدستہ رہی ہے، یہاں چوہدری اسرار، رائو محمد اقبال، ناصر خان درانی، ڈاکٹر شعیب سڈل، سید سعود عزیز، فخر سلطان راجہ، طلعت محمود طارق، احسن یونس جیسے افسران اور دیگر بہت سے افسران جن کے نام یاد نہیں،تعینات رہے ان لوگوں نے راولپنڈی پولیس کی ورکنگ ڈسپلن، کارکردگی، اخلاق اور مورال کو ایک بلندی سے نوازا ،ان افسران کے کارناموں سزا و جزا کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، آج راولپنڈی میں پولیس کی ہوس زر کی داستانیں زبان زدعام ہیں لینڈ مافیا سے یارانے، جوئے کے اڈوں سمیت دیگر اخلاقی جرائم میں اضافہ راولپنڈی پولیس پر سوالیہ نشان ہے؟

    سی پی او سمیت راولپنڈی کے ایس پیز اور ڈی ایس پیز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ان کاوشوں کو ٹھیس پہنچائی ہے جو وہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر پولیس کے مورال اور عزت میں اضافے کے لئے دن رات کر رہے ہیں، راولپنڈی کے تھانوں اور علاقوں میں منشیات اور دیگر جرائم کا تقابلی جائزہ بھی شرمناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور مقتدر حلقوں کو یقیناً ضلع کی پولیس میں عمل تطہیر کے ذریعے ان داغوں کو دھونا ہوگا اگر استحکام پاکستان میں اس طرح کے افسران ہمسفر رہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے، راولپنڈی پولیس کے چند افسران نے راولپنڈی کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور راولپنڈی کو اپنی ذاتی جاگیر تصور کررکھاہے جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔

  • ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟تحریر:سید امجد حسین بخاری

    ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟تحریر:سید امجد حسین بخاری

    ایک ریسرچ آرٹیکل کی تیاری کے دوران 2013 کے اخبارات میں چھپے ایک جملے نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے۔ افضل گورو کو بھارتی پارلیمان حملے کے فرضی کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی، جس میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ حملے میں افضل گورو کے ملوث ہونے کی ثبوت تو نہیں ملے مگر عوام کے ضمیر کی تسکین کےلیے افضل کو پھانسی دینا ضروری ہے،عوام کے ضمیر کی خاطر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا،اسی خبر کے دوران جیپ کے آگے بندھا کشمیری نوجوان بھی نظر آیا، میرے تصور میں مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلے میں مارا جانے والا بزرگ شہری اور اس کی لاش پر بیٹھا تین برس کا نواسہ بھی آگیا۔ ان دونوں واقعات میں بھارتی میڈیا اور عوام کا کردار بھی میرے سامنے آیا۔ کیسے انہوں نے انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کا دنیا بھر میں دفاع کیا اور اپنی فوج کا دفاع کیا۔

    میں اس حیرت کے عالم میں دفتر پہنچتا ہوں، جہاں ٹی وی اسکرینز پر سیاستدانوں کے تبصرے، فیس بک پر تبرے سے بھری پوسٹیں اور ایکس پر بھانت بھانت کی بولیوں کے بیچ میری نگاہیں ایک خوبصورت جوان کی تصویر دیکھ کر ٹھہر سی گئیں، یہ تصویر 24 برس کے محمد اسامہ شہید کی تھی، جو ارض مقدس کے تحفظ کی خاطر اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ 24 سال کی عمر میں ایک عظیم ماں کا بیٹا سبز ہلالی پرچم میں لپٹا منوں مٹی تلے ابدی نیند سوگیا۔ شہید کی ماں ریاست سے شکوہ کرتی رہی کہ کب تک مائیں اپنے بیٹوں کو اس وطن پر قربان کرتی رہیں گی۔ یہ دہشتگردی آپ ختم کیوں نہیں کرتے؟ یہ صرف کیپٹن اسامہ کی ماں کا سوال نہیں بلکہ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے ہر نوجوان کی ماں کا سوال ہے۔ وہ ماں جوکہ اپنے بیٹے کو سہرے میں دیکھنا چاہتی تھی، اس ماں کا لخت جگر سبز ہلالی پرچم میں لپٹا گھر آتا ہے،اس تصویر اور ماں کے جذبات کو دیکھ کر مجھے صبح کے وقت اخبارات کے تراشوں میں انڈیا سے متعلق خبریں پھر سے ذہن میں آگئیں۔ یہ دہشت گرد ہمارے نوجوانوں کو چن چن کر ما رہے ہیں، یہ دہشت گرد ماؤں سے ان کے خواب چھیننے پر متفق ہیں مگر ہم ہیں کہ اپنے بچوں کے تحفظ پر بھی اختلافات کا شکار ہیں۔

    یہ پہلا نوجوان شہید نہیں ہوا بلکہ آج سے ٹھیک ایک ماہ قبل 10 جون خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کے حملے میں 25 سالہ کیپٹن محمد فراز الیاس شہید ہوئے۔ شہید کیپٹن فراز الیاس کے نکاح کی تیاریاں مکمل تھیں لیکن بارات جانے سے ایک ہفتہ قبل شہید کی میت گھر آگئی۔ شہید کا 19 جون کو نکاح طے تھا۔ کارڈ بھی چھپ چکے تھے۔ 26 مئی کو پشاور کے علاقے حسن خیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 25 برس کے کیپٹن حسین جہانگیر نے جام شہادت نوش کیا۔ حسین جہانگیر شہید کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو اپنے وطن سے محبت اور پیار تھا۔ اگر میرے ہزار بیٹے بھی ہوتے تو میں وطن اور اللہ کی راہ میں انہیں قربان کردیتا۔ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر مجھے فخر ہے۔ رواں برس 16 مارچ کو میر علی میں 23 سال کا کیپٹن احمد بدر دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگیا۔ تلہ گنگ میں شہید بیٹے کی لاش پہنچی تو صبر و استقامت کے پہاڑ باپ نے الحمدللہ کہہ کر اپنے لخت جگر کا استقبال کیا۔

    یہ داستان اتنی طویل ہے کہ شاید اسے بیان کرتے ہوئے میری زبان گنگ ہوجائے، اور انہیں پڑھتے ہوئے آپ کی نگاہیں دھندلا جائیں۔ 21 فروری 2022 کو بلوچستان کے ضلع کوہلو میں کلیئرنس آپریشن کے دوران 26 سالہ کیپٹن سید حیدر عباس جعفری نے جام شہادت نوش کیا۔ ’’میرا حیدر شیر ہے، شیروں کی طرح لڑا ہے میرا بیٹا۔‘‘ جب کیپٹن سید حیدر عباس جعفری کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو یہ وہ الفاظ تھے جو شہید کی ماں کے لبوں پر تھے۔ کیپٹن حیدر کی ماں کی آنکھوں میں آنسو تو تھے لیکن ان آنسوؤں میں دکھ اور غم سے کہیں زیادہ فخر جھلکتا دکھائی دیتا تھا۔ اس ماں کے چہرے پر دکھ و کرب کے اثرات تو صاف نظر آتے تھے لیکن ان کے پیچھے ایک سکون و طمانیت کا بھی احساس تھا۔ ماں کی جھکی کمر میں اردگرد کھڑے لوگوں کو ایک تفاخر نظر آرہا تھا، جو شہیدوں کی ماؤں کا خاصہ ہوتا ہے۔

    شہدا کے والدین تو اپنے بیٹوں کی شہادت پر فخر کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے بحیثیت قوم کبھی خود سے سوال کیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم پنجابی، بلوچی، سندھی، کشمیری اور پشتون کی بحثوں میں الجھے ہیں مگر ہمارے دشمن دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہم سیاسی اختلافات میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات کو بھی متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ ابھی آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ ہوا تو ہم نے اسے چینی آپریشن کہہ کر کنفیوز کرنے کی کوشش کی،مولانا فضل الرحمان کو خیبرپختونخوا میں 40 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی تو دکھائی دے رہی ہے مگر وہ آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما غیرت و حمیت کے نعرے تو بلند کر رہے ہیں مگر انہیں وطن عزیز کے شہید ہوتے نوجوان دکھائی نہیں دیتے۔ اے این پی کی مرکزی قیادت کے گھروں سے لاشیں اٹھیں، سب سے زیادہ نشانہ اے این پی بنی، مگر یہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ناقد ہے۔ دہشت گرد ہمیں مارنے پر متفق ہیں مگر ہم اس پر لب کیوں سیئے ہوئے ہیں۔

    دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوتی ہے مگر وہ سپریم کورٹ میں اپیل کردیتے ہیں۔ اس وقت بھی 300 سے زائد سزا یافتہ دہشت گردوں کی اپیلیں سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔ دہشت گردوں کو سزاؤں کے حوالے سے قانون سازی کی باتیں تو ہوتی ہیں مگر ہمارے نمائندے اس پر بھی پس و پیش سے کام لیتے ہیں۔ ہمارے بچے ہم سے چھینے جارہے ہیں مگر ہم صوبائیت اور لسانیت کی بحثوں سے نہیں نکلتے۔ صرف گزشتہ ماہ ہی وطن عزیز میں 27 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، ان حملوں میں سے 21 خیبرپختونخوا اور 6 بلوچستان میں رپورٹ ہوئے، جب کہ پچھلے ماہ ان حملوں کی تعداد 36 تھی۔ ان 21 حملوں میں اس وطن کے 32 بیٹے شہید ہوئے۔

    سیاستدانوں کے اختلافات محض عزم استحکام پر نہیں بلکہ ہر آپریشن کو متنازعہ بنایا گیا۔ لال مسجد سے سوات آپریشن تک، ضرب عضب سے عزم استحکام تلک ہر بار قوم میں اتفاق رائے نہ ہوسکا ۔ہمارے پڑوس بھارت میں چھتیس گڑھ سے خالصتان تک، منی پور سے لے کر کشمیری مجاہدین تک، بھارت کی سیکڑوں سیاسی جماعتیں، عدالتیں اور فوج سبھی میں اتفاق رائے پایا جاتا رہا۔ کشمیری مجاہد افضل گورو کو سزائے موت کےلیے قانون موجود نہیں تھا مگر بھارتی عدالت نے پھر بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کانگریس بی جے پی اور بی جے پی کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے کو بھی الجھا دیتے ہیں،آخر کب تک ہم دہشتگردوں کے مقابلے میں اختلافات کا شکار رہیں گے؟ کب تک اس دیس کی مائیں جواں سال اموات کا نوحہ پڑھتی رہیں گی؟ آخر کب تک اس قوم کی بیٹیاں جوانی میں بیوہ ہوتی رہیں گی؟ ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟ آخر کب ایک دوسرے کی دستار اتارنے کا سلسلہ بند ہوگا؟ قوم کے بیٹوں کے قاتلوں کو عدالتوں سے سزائیں کب ملیں گی؟ دہشت سے ملک کو محفوظ رکھنے کےلیے سیاستدان کب اپنے سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر اکٹھا ہوں گے؟ آج یہ سوالات قوم کی ہر ماں، بیٹی اور باپ ہم سب سے پوچھ رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس ان کے سوالوں کا جواب ہے؟

  • احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب احسان صادق کو اینٹی منی لانڈرنگ واینٹی ٹیررفنانسگ اتھارٹی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے بطور تعیناتی کا فیصلہ انتہائی احسن اور قابل ستائش ہے ۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستان کے معاشی و مالی معاملات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے اوریہ استحکام پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ احسان صادق پاکستا ن پولیس سروس کا ایک مایہ ناز ستارہ ہیں۔ حب الوطنی ، دیانتداری فرض شناسی پیشہ وارانہ مہارت ،تقویٰ ، پرہیز گاری اور بلند حوصلے کا پیکر ہیں۔ ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فنانشیل کرائم فرائض سرانجام دیتے ہوئے ڈاکٹر احسان صادق نے وطن عزیز کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے جس جانفشانی اور مخصوص جذبے سے سرشار ہو کر کام کیا اس کا اعتراف اس وقت کے وزیر خارجہ نے بھی کھلے دل کے ساتھ سراہا ۔ بطور ایڈیشنل آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب منظم کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ۔

    استحکام پاکستان ایک فوجی آپریشن کا نام نہیں جیسا اس کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ استحکام پاکستان” رائٹ مین فار رائٹ جاب کا نام بھی ہے” استحکام پاکستان میں اعلی کردار قومی جذبے ایماندار نیک نیتی اورپ یشہ وارانہ مہارت کے حامل افسران و اہلکاروں کا اہم عہدوں پر تعیناتی حکومت اور مقتدرہ کی جانب سے ان آفیسران کی بہتر کارکردگی میں معاونت کا نام ہے ۔ بلاشبہ احسان صادق کا انتہائی حساس مشن کی تکمیل کے لئے انتخاب حکومت اور مقتدرہ کااحسن اقدام ہے ۔ یقینا ایسے اقدامات کے ثمرات قوم کو جلد ملیں گی۔ ملک کے تمام صوبوں میں بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ ، اعلٰی پولیس افسران موجود ہیں جن کا ماضی حال داغدار نہیں، بدقسمتی سے جن کو فیلڈ میں رہ کر ملک وقوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینا چاہیئے وہ ” کھڈے لائن ”لگے ہیں جو قانون کی حکمرانی دیانتداری میں اپنی مثال آپ ہیں مگر افسوس سیاسی پشت پناہی اور دیگر عوامل ان شخصیات کا راستہ روکا ہوا ہے۔ راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے اس شہر سے لے کر پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران ، سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا ماضی اور حال دیکھیں تو کیا یہ استحکام پاکستان کے لئے سوالیہ نشان نہیں ؟عقاب کی نظر رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں لینڈ مافیا کے ڈیروں کو آباد کرنے والوں نے پولیس کے محکمہ کو بدنام کرکے رکھ دیاہے۔استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ذمہ دار بن کرریاست پنجاب اور دیگر صوبوں میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران اور سول بیورو کریسی کے افسران کی لسٹ منگوا کر غور و فکر کریں ایسے افسران کو تعینات کریں جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔

  • عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے نوجوان بچوں اور بچیوں، آپ وطن عزیز کا مستقبل ہو، آپ نے ا س مل کو آگے لے کر جانا ہے ۔ ملک کے سیاستدانوں کی اکثریت اپنے اقتدار کے لئے آپ کو استعمال کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ملکی سرحدوں کے محافظوں کے خلاف گندی اور غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔میری ذاتی رائے میں یہ ایک وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے سیاستدان اس سازش کا ایک باقاعدہ حصہ مبینہ طورپر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے ہماری ثقافت پر بھی حملہ ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے یو ٹیوب پر چینل کھول کر بیٹھے ڈس انفارمیشن سے خوب مال کما رہے ہیں آپ کے لائیکس سے ان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر وطن عزیز کے اداروں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں د ی جا سکتی ۔ حدود وقیود میں رہ کر اخلاقی دائروں میں رہ کراداروں پر تنقید برائے اصلاح ضرور کریں مگر چند ڈالروں کے خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں د ی جانی چاہیئے۔

    عراق،افغانستان ، شام ، لیبیا آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار تو اس کے پیچھے عالمی سازش تھی ان ممالک میں حوس زر اور حوس اقتدار کے ایسے لوگ جو عالمی طاقتوں سے مل کر اپنے ہی ملکوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کیا اور انہیں متنازعہ بنایا۔ امریکہ جیسے ملک میں سی آئی اے ، پینٹاگان اور کانگریس کے درمیان کئی پالیسیوں پر اختلافات ہوتے ہیں مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کی بنائی پالیسی پر حاوی ہو سکے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہر ذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تو اتر کے ساتھ گندی اور غلیظ مہم چلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں ،جھوٹ ، فریب اور سازشوں کے انبار نظر آئیں گے۔ ملکی سیاستدانوں کا روز مرہ افوا ہ پھیلانا معمول بن چکا ہے ۔ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سفید پوش لوگ بھی مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی قائدین اور انکے حواری مخصوص نشستوں کے لئے نبرد آزما ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ قومی سیاسی رہنما ہو ہی نہیں سکتے۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ اپنے اختیارات عزیز ہیں ۔دنیا میں جب کسی ملک کے قومی اداروں کو مفلوج کردیا جائے ۔ سیاسی شخصیات ان اداروں کو اپنا تابع بنائیں ۔ عدالتوں میں مخصوص لوگوں کو ریلیف دینا شروع ہو جائے۔ کسی بھی ریاست کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

  • غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری نکاح ، طلاق ،عدت پر جاری مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ پر شرعی حدود قیود ہیں،اس پر بحث کرنے سے منع کیا ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے درست کہاہے ۔ افسوس ہم اسلامی ملک کے دعویدار ہیں ،ہم اپنی آنے والی نوجوان نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر اس طرح کے بیانات پرکیا کبھی کسی نے سوچا ہے ،معاشرے کی نوجوان بچیوں اور بچوں کو کیا سبق پڑھا رہے ہیں؟ یہ عین شرعی مسائل ہیں ۔ ان شرعی مسائل کے بارے میں مباحثہ مناسب نہیں اس طرح کی بحث سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمر سیدہ سیاستدانوں ،بیورو کریٹ ، دانشور اور دیگر سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ معاشرے میں اخلاقی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معاشرہ ہرلحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس طرح کی بحث سے بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے ۔ حد ہو گئی کہ سینکڑوں علمائے دین ، مذہبی جماعتیں اس بے حیائی کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یاد رکھیئے فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کو اپنی مرضی ،اپنی طبیعت کے مطابق ڈھالنے کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی حلقوں کے اسٹیج سے فرضی کہانیاں بنانے والوں نے کبھی سوچا کہ ہم اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا کی زینت بن رہی ہے اس کے اثرات معاشرے پر کیا ہونگے؟

    پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے اپنی طاقت پر اترانے والوں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے ؟ معاشرے کو سدھارنے کی بجائے ہم معاشرے کو کدھر لے کر جا رہے ہیں؟ کیا ایک اسلامی معاشرے اورانسانیت کو پامال نہیں کررہے ۔یاد رکھیے مرنے کے بعد حساب دینا ہے ۔حساب لینے والا لے گا ۔ اپنے دل پر ہاتھ کر غور کریں کیا ہم حد کراس نہیں کررہے ۔ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو معاشرے کے نوجوانوں پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔معاشی لحاظ سے قوم پہلے ہی زوال پذیر ہے۔ خدارا اخلاقی زوال سے قوم کو بچا لیجئے۔