Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے تحریک انصاف کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، تحریک انصاف میں تقسیم در تقسیم ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، بھٹو جب جیل میں تھے تو بڑی بڑی قدآور شخصیات نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا،پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کچھ ایسی صورتحال سے تحریک انصاف گزر رہی ہے،تحریک انصاف کا دور حکومت کوئی حیران کن نہیں تھا تبدیلی کا نعرہ اور احتساب کے گرد تحریک انصاف کا دور حکومت صرف اور صرف نوازشریف کے گرد گھومتا رہا ،نوازشریف ان کی بیٹی مریم نوازان کے سمدھی سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر کو کچلا گیا یہ احتساب نہیں بلکہ صرف ایک خاندان کے خلاف انتقام تھا،سینیٹر اسحاق ڈار کے تو ذاتی گھر پر قبضہ کر لیا گیا تحریک انصاف تسلیم کرے کہ ان کے دور حکومت میں عام آدمی کی زندگی قابل رحم ہو چکی تھی احتساب اور انتقام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا،

    تحریک انصاف کے دورمیں سفارتی سطح پر بری طرح ناکامی ہوئی، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،تحریک انصاف کے دور میں کشمیری بدترین لاک ڈائون کا شکار رہے ہیں عمران خان بھارت پر دبائو ڈلوانے میں ناکام رہے، کوئی بھی حکومت اگر عام آدمی کو زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو اسے حکومت نہیں کہا جا سکتا، آج کی مخلوط حکومت نے بھی بجٹ میں عادمی کے لئے کوئی پلان نہیں دیا غریب آدمی کے مسائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے،گزشتہ 75 سالوں میں قوم اور پاکستان بطور ریاست وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں محض سبز باغ ہیں جن کے برگ و بار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے راہزن رہنمائوں کا بہروپ دھار چکے ہیں،انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے جب کسی معاشرے میں انصاف اٹھ جاتا ہے وہ معاشرہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے، سیاست کی سرکس میں ملک و قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوا ان مداریوں کی وجہ سے آج ملک و قو م کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ امریکی کانگریس میں وطن عزیز کے نظام پر تحریک پیش ہوئی بلاشبہ ہم ترقی پذیر ہیں مگر کسی طاقتور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری آزاد ریاست کیخلاف تحریکیں پاس کرتا پھرے،یہ دن بھی سیاسی مداریوں نے ہی قوم کو دکھایا۔ ملک کے عزت، وقار کا کچھ تو خیال کریں۔

  • عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    ملکی و قومی سلامتی کے پیش نظر جب سے عزم استحکام کا ذکر ہوا ہمارے کچھ سیاستدانوں نے اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آپریشن عزم استحکام کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے، ملک و قوم کی سلامتی کے حوالے سے نوازشریف کے فیصلہ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے دوسری طرف سوشل میڈیا اور کچھ دانشوروں کو بھی اس آپریشن عزم استحکام پر تنقید کا موقع مل گیا ہے ،دنیا بھرکے ممالک کے اپنے داخلی و خارجی ضوابط ہوتے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کا میڈیا ضوابط کار کے مطابق عمل کرتا ہے مگر ہمارا میڈیا معاشرتی قانونی و اخلاقی حدود پھلانگ کر بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال چکا ہے سلامتی امور اور خارجہ سطح کے معاملات اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ اس موضوع پر بولنے اور لکھنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے ملکی و قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر بولنا اور لکھنا پڑتا ہے، ملک دشمن طاقتوں نے پاکستان کو چاروں اطراف سے ہر محاذ پر گھیر رکھا ہے ایسے نازک موقع پر پاک افواج اور جملہ اداروں کی کردار کشی کرنے والے کون سی اور کس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟

    وطن عزیز میں گزشتہ چند ماہ سے دہشت گردوں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں بالخصوص دہشت گردوں کے نشانے پر دو صوبے ہیں بلوچستان اور کے پی کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں دہشت گرد حملہ کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں ان کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی راکرتی ہے پاکستان میں چین کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے جس پر کبھی کام رک جاتا ہے اور کبھی شروع ہو جاتا ہے سی پیک منصوبہ پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے چین کے بعد کئی ممالک سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہیں 2040ء میں چین سی پیک کےتحت ٹرین کا نیا نظام قائم کرے گا، ملک دشمنوں کو یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا پاک فوج اور جملہ ادارے ہر قیمت پر اس منصوبے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں چینی انجینئروں اور ماہرین کا دفاع بھی پاکستان نے کرنا ہے، اس منصوبے سے وطن عزیز کی معیشت مستحکم ہوگی تو عوام خوشحال ہونگے لہٰذا ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آپریشن عزم استحکام ہی آپشن ہے کوئی دوسرا راستہ نہیں، ملک و قوم کی خدمت کا نعرہ لگانے والے سیاستدان موجودہ حالات جس سے پاکستان اور عوام دونوں سفر کر رہے ہیں آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے وہ کس کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں؟

  • غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے دور حکومت سے لے کر موجودہ مخلوط حکومت تک غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے چلا اٹھے ہیں، ان کی حکومتوں کے دور میں ان کے نمائندے ٹاک شوز میں مہنگائی کو اپنے پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی باتوں میں درد اور تکلیف نہیں ہے جس کی اذیت کا شکار عام انسان ہو رہے ہیں،مہنگائی کے وار سیاست پر براجمان دولت مندوں کے لئے محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں، عام آدمی مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے زخمی ہو رہے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی اب بجلی کے بل دیکھ کر اذیت ناک عذاب میں کراہنے لگی ہے ،موجودہ بجٹ کوغریب کش بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے غریب دوست بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ بجٹ محض اعداد و شمار کے ہیرپھیر اور نئے ٹیکسوں کے گورکھ دھندہ کے سواکچھ نہیں،

    سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی متحرک
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی عام آدمی کا یہی حال تھا اور آج کی مخلوط حکومت میں وہی پرانا جال ہے کھلاڑی تبدیل ہو ئے ہیں، میری عمر کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا 1985ء میں نوازشریف نے تعمیر پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ،پنجاب اور مرکز میں بلاتفریق عوام کی خدمت کی گئی کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر دیہات میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعمیر ترقی کے وہ سنگ میل تھے جنہوں نے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی، پھر نواشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں صنعتی پیداوار، نوجوانوں کو آسان قرضے ، پیلی ٹیکسی اور کسانوں کو ٹریکٹر دیئے، نوازشریف کے ہم رکاب آج کے وزیر خارجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے آج صوبہ پنجاب میں نوازشریف کی بیٹی نے بطور وزیراعلیٰ عوام کی حقیقی خدمت کا بیڑا اٹھارکھاہے پنجاب کی حد تک صوبے کیےعوام کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آرہی ہیں، سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے اس وقت سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی قیادت کے اقدامات کو عوام تک پہنچا نے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کے نام نہاد اکابرین وزیروں،مشیروں کے جھنڈے گاڑیوں پر سجا کر عوام سے دور ہو گئے بلکہ اپنی جماعت کا دفاع کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، نوازشریف کا ماضی حال مستقبل وطن عزیز کی ترقی کے لئے وقف ہے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے بدترین مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں آخر کیا مصلحت حائل ہے کہ ان کے ٹکٹ پر ایوانوں میں براجمان ہونے والے نام نہاد رہنما خاموش ہیں؟

  • عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام کسی ملک کے خلاف ہے نہ بے گناہ شہریوں کے خلاف ،یہ اُن کے خلاف ہے جو پاکستان کے عام شہریوں اور پاکستان کو بطور ریاست کمزور کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ، پاکستان کے عوام، مسلح افواج ،پولیس اور جملہ اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے ،جبکہ بھارت پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے میں دنیا میں افوا ہ سازی کا کام کرتا رہا ہے، ماضی کے ان تمام واقعات کی قوم اور دنیا گواہ ہے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج اور جملہ اداروں نے ملکی بقا اور سلامتی کے پیش نظر بلوچستان سے ٹی ٹی پی کی دفاعی شوریٰ کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا ہے جس کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کررہی ہے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانہ ’’ را ‘‘ کا د فترہے گرفتار کمانڈر نےکئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ان حالات میں کیا پاک فوج اور جملہ اداے پاکستان اور بے گناہ عوام کو ان دہشت گردوں کے حوالے کردیں ؟ اس کا واحد حل ضرب عضب کی طرز پر آپریشن عزم استحکام ہے، بلوچستان سے ٹی ٹی پی کے کمانڈر کی گرفتاری اور آپریشن عزم استحکام پر پاک فوج ا ور جملہ اداروں پر زہر افشانی محبان وطن کو افسردہ کرگئی،مولانا فضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف سے بھی صبر نہ ہوا انہوں نے ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر زہر افشانی شروع کردی،کیا پاک فوج اور جملہ ادارے بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دیں ؟ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہوئی تھی اور اب آپریشن عزم استحکام سے بھی ملک میں امن ہوگا اور معیشت بھی مستحکم ہوگی،حیرت ہے ہماری سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ ہائوس میں موجود ایسے افراد جو اقتدار کے مزے پاکستان میں لوٹتے ہیں اور جب بات ملکی بقا اور سلامتی کی آجائے تو پاکستان دشمنوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور اپنی ہی فوج اور جملہ اداروں پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کرتے ہیں ملکی سلامتی کے اداروں کا وقارمجروح کرتے ہیں ان نام نہاد سیاستدانوں کو کس نام سے پکاروں فیصلہ عوام کریں ؟

  • ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں ملکی تاریخ کا آئیے مل کر سوچیں ہم کیوں زوال پذیر ہیں ہماری معیشت کیوں سال ہا سال مستحکم نہیں ہوتی؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ کہاں شگاف ہے کہاں غلطیاں ہیں کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے اور ایسا کون سا گناہ ہے سختیاں پریشانیاں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں مگر اسلام کی الف پر بھی عمل نہیں کرتے؟ یاد رکھیئے پروردگار کا قانون ہے خداپاک کا قانون قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے کہیں ہم قرآن پاک اور سیرت النبی کا مطالعہ کرنا اور اس پر عمل کرنا تو نہیں چھوڑ گئے؟ کہیں ہم موت اور اس کے بعد روز محشر میں خدا پاک کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہونا تو نہیں بھول گئے؟ دوسری جانب رخ کریں تو بابائے قوم محمد علی جناح نے مجلس قانون ساز میں اپنے پہلے خطاب میں جن قباحتوں سے باخبر کیا تھا ہم ان قباحتوں پر عمل پیرا ہیں بابائے قوم کا خطاب اچھے دنوں میں نصاب میں پڑھایا جاتا تھا اب وہ نہیں پڑھایا جاتا۔ 25کروڑ عوام کو سیاستدان اور مذہبی جماعتیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بے وقوف نہیں بناسکتیں عوام کسی ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتے جو ریاست‘ ریاستی اداروں اور عوام کا وفادار نہ ہو اب تو پچیس کروڑ عوام کا سیاسی و مذہبی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے اب تو ملک کی بے بس مجبور لاوارث اور مظلوم عوام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کوستے سنے گئے ہیں کہ ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے ہمارا ایک طوفاں جب پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا یہ سوچو تم۔

    پروردگار کے قانون سے دوری اور بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی ایسے میں اس کا انت اور نتیجہ کیا برآمد ہوسکتا ہے اسے جاننے کے لئے کسی عقل افلاطون کی ضرورت نہیں دیوار پر لکھا صاف نظر آرہا ہے۔

  • آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،

    قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  • معیشت  کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے

  • پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ  مسعود عبدالرشید اظہر

    پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔

    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھا۔کیونکہ مکہ اور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔

    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔

    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر روڈ ٹو مکہ جیسے عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کردیا گیا ہے ۔ روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ کراچی ائیرپورٹ ، جبکہ لاہور ائیرپورٹ سے اگلے سال شروع ہوجائے گا ۔ اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔

    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔

    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔
    hafi masood ahar

  • تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    نام کتاب : اسلامی قانون وراثت
    تالیف: مولاناابونعمان بشیر احمد
    صفحات : 104
    قیمت :300روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034ن
    علم میراث کا شمار علم فرائض میں ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں اس اہم ترین علم ۔۔۔۔۔یعنی علم میراث کو بالکل ہی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ اکثر علمائے کرام بھی اس سے بے بہرہ ہیں ، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے علم میراث کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے ۔ فرمان نبوی کا ترجمہ ہے ” علم وراثت سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ جلد ہی میری موت واقع ہوجائے گی ، علم فرائض بھی اٹھالیاجائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی کسی مقررہ حصے میں اختلاف کریں گے اور کوئی آدمی ایسا نہیں پائیں گے جو ان میں فیصلہ کرسکے ۔“ اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم میراث کو سیکھنا اور سمجھنا کس قدر ضروری ہے ۔ موت اور میراث کاچولی دامن کا ساتھ ہے ۔ موت اٹل ہے تو میراث کے مسائل ومعاملات بھی ناگزیر ہیں ۔ یہ مسائل ومعاملات کس طرح حل کئے جائیں ۔۔۔۔؟ اس سے بیشتر لوگ آگاہ نہیں ہیں حالانکہ اسلام میں میراث کے تمام مسائل کے انتہائی اطمینان بخش جوابات موجود ہیں ۔عام لوگوں کی تو بات ہی کیا ۔۔۔۔؟ اکثر علمائے کرام بھی میراث کے مسائل سے آشنا نہیں ہیں ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ” اسلام کا قانون وراثت “ کے نام سے یہ کتاب شائع کی ہے ۔ کتاب کے مﺅلف مولانا ابونعمان بشیر احمد ہیں جبکہ شیخ الحدیث ، محدث دوراں حافظ عبدالستار الحماد نے نہ صرف موضوع کے حوالے سے گرانقدر تحقیقی مواد فراہم کیا ہے بلکہ اس کتاب کے مسودے پر نظر ثانی کی ذمہ داری بھی احسن طور پر ادا کی ہے اس طرح سے اس کتاب کی علمی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ یہ کتاب سادہ اور عام فہم اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ علما ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوسکیں ۔عام طور پر اسلام کے قانون وراثت کو ایک مشکل اور پیچیدہ علم سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کتاب میں جو عام فہم اور سادہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ بات آشکاراہوتی ہے کہ میراث کا علم ہرگز مشکل نہیں ۔ کتاب میں سوال وجواب کا انداز اختیار کیا گیا اس سے یہ کتاب مزید مفید طلب اور عام فہم ہوگئی ہے ۔ کتاب میں جہاں اسلام کے احکام میراث پر بات کی گئی ہے وہاں حقیقت بھی واضح کی گئی کہ اسلامی احکام میراث عدل وانصاف پر مبنی ہیں جو کہ تنازعات کے امکانات ختم کردیتے ہیں اور پرامن فلاحی معاشرے کی بنادیں مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” اسلامی قانون وراثت “ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی کہ اسلام تنازعاتِ ملکیت کو خوش اسلوبی سے اور انتہائی بروقت طے کرنے کی تعلیم وتربیت دیتا ہے ۔ کتاب میں درج ذیل موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے : علم میراث کی تعریف ، علم میراث کا موضوع اور غرض وغایت ، میت کا ترکہ ورثا میں کب تقسیم کیا جائے ؟وہ اسباب جن کی وجہ سے وارث وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے ؟ مال میراث میں مقررہ حصے اور ان کی تقسیم ، میت کے وہ رشتے دار جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ان رشتے داروں کےلئے اسلام میں کیا احکام ہیں ۔۔۔۔۔؟ تقسیم ترکہ کا طریقہ کارکیا ہے ۔۔۔؟ محنث کا وراثت میں حصہ ۔۔۔۔؟ وہ گم شدہ شخص جس کے زندہ یا فوت ہونے کا علم نہ ہوسکے اس کےلئے احکام وراثت ۔۔۔۔؟ میت کے وہ کون سے رشتے دار ہیں جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ، کن صورتوں میں ورثا کے مقررہ حصوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے ، میت کا ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے اس کے ورثا میں سے ایک یا ایک سے زیادہ فوت ہوجائیں تو ایسی صورت میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ۔۔۔؟وہ گمشدہ شخص جس کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں علم نہ ہوسکے تو اس کےلئے کیا احکام ہیں ، عاق نامے کی شرعی حیثیت ، یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ۔ کتاب میں میت کے تمام ورثا کے حصے نکالنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے اسی طرح ایک تفصیلی نقشہ بھی دیا گیا ہے جس سے وراثت کے تمام مسائل اور حصوں کو سمجھنا مزید آسان ہوگیا ہے ۔ دریں اثنا ان تمام وجوہات کی بناپر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب اور باکمال کتاب ہے اس کتاب کا مطالعہ ہر مرد وعورت کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    زیر تبصرہ کتاب ” عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “اپنے موضوع پر بہت ہی خوبصورت ، مفید اور جامع کتاب ہے جسے عبدالمالک مجاہد نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب خاص کر بچوں ، بچیوں ، طلبہ وطالبات کےلئے مرتب کی گئی ہے تاہم اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کےلئے بھی بے حدضروری اور مفید ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نے آرٹ پیپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار کلر کے ساتھ شائع کی ہے ۔ کتاب کاانداز بیاں سادہ اورسلیلس ہے ۔ یوں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے حالات زندگی کا مطالعہ ہر دور میں ہی ضروری رہا لیکن موجودہ دور میں اس کی ضرورت بے حد بڑھ چکی ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم وہ خوش نصیب جنھوں نے رسول مقبول ﷺ کے سایہ نبوت میں تربیت پائی ، ان میں دس اصحاب وہ تھے جنھیں آپ ﷺ نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی ۔ اس لیے انھیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ۔ان عظیم المر تبت صحابہ کرام میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ، یعنی سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضوان اللہ علیھم شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا سعید بن زید اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیھم کے اسمائے گرامی عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ۔ یہ سب امت مسلمہ کے لیے روشنی کے مینار ہیں جن کے بارے میں وقتاََ فوقتاََ سید المر سلین ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے الفاظ ان کی عظمت و مرتبت ، خوبی کردار اور شان ہدایت کی عکاسی کرتے ہیں ۔

    چاروں خلفائے راشد ین کا بابرکت عہد ” خلافت ِ راشدہ “ کہلاتا ہے جو ملت اسلامیہ کے لیے سیاست و حکومت ، معیشت و عدالت اور نظام ِ مملکت کا بہترین نمونہ ہے اور تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ دنیا بھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت و عزیمت ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت و فراست ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت و کرامت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و استقامت کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم نے جو فلاحی ریاست قائم کی ، دنیا کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی قوم اور کوئی معاشرہ ایسی فلاحی جمہوری ریاست قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ خلفائے راشدین کے عہد ِ مسعود میں شام ، عراق ، ایران ، خراسان ، فلسطین ، مصر اور طرابلس یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے ۔جبکہ اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے محاذ شا م کے فاتح سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور عراق و ایران کے فاتح سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ۔طلبہ و طالبات کی تعلیمی و تربیتی ضرورت کے پیش نظر انھیں عشرہ مبشرہ کی پاکیزہ زندگی سے متعارف کرانے کے لیے زیر نظر کتاب میں اس امت کی دس بہترین شخصیات کے عملی نمونے پیش کیے گئے ہیں ، تاکہ ان عظیم ہستیوں کے حسن سیرت کے آئینے میں وہ اپنی راہ ِ عمل متعین کر سکیں ۔” عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنھم کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “ اتنی مفید اور خوبصورت کتاب کہ جو بچوں بچیوں کو بطور گفٹ بھی دی جاسکتی ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب پڑھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگی کے روشن روشن واقعات ہماری نوجوان نسل کے لیے رہنما ثابت ہوں گے ۔ اس سے نہ صرف ہمارے بچوں بچیوں کی اسلامی تعلیمات میں اضافہ ہوگا بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو سنوارنے میں مدد بھی ملے گی ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ کتاب کی قیمت 450روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔