Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    زیر تبصرہ کتاب”نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار “ بطور خاص ننھے منے بچوں بچیوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں۔ عبدالمالک مجاہد کا نام محتاج تعارف نہیں وہ دارالسلام انٹرنیشنل کے بانی ہیں اور لاتعداد وبے شمار کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی کتابوں کی ہے۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں اس کتاب میں بچوں کے لیے نہایت ہی ضروری دعاﺅں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جو بچے بچیاں کم عمری میں ہی دعائیں اور اذکار سیکھ لیں گے اور انھیں یاد بھی کرلیں۔۔۔۔وہ دعائیں ساری زندگی ان کے کام آ ئیں گی۔دعائیں یاد کرنا اور اذکار پڑھنا سنت ہے، روحانی شفا اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ صبح وشام کے اذکار پڑھا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اذکار یاد کرنے کی تلقین وترغیب کیا کرتے تھے۔زیر تبصرہ کتاب ’ ’نونہالوں کے لئے سنہرے اذکار “ روزہ مرہ کی اہم ترین دعاﺅں پر مشتمل ہے۔مثلاََ نیند سے بیدار ہونے کی دعا ، بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا ، بیت الخلا سے نکلنے کی دعا ،وضو سے پہلے کی دعا ، وضو کے بعد کی دعا ، سیرت وصورت بہتر بنانے کی دعا ، لباس پہننے کی دعا ، گھر سے نکلتے وقت کی دعا ، مسجد میں داخل ہونے کی دعا ، سلام پھیرنے کے بعد کی دعا ، مسجد سے نکلنے کی دعا ، گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا ، بیمار پرسی کے وقت کی دعائیں ، سیدالاستغفار ، جب بارش ہو تو کیا دعا مانگی جائے ، چاند دیکھنے کی دعا ، کھانا کھانے سے پہلے کی دعا ، کھانے سے فراغت کے بعد کی دعا ، چھینک کی دعائیں ، سواری پر بیٹھنے کی دعا ، بازار میں داخل ہونے کی دعا ، سوتے وقت کی دعا ۔

    اس کتاب کی آرٹ پیپر پر 4کلر باتصور طباعت اتنی عمدہ ، دلکش ، جاذب نظر اور خوبصورت ہے کہ جو بچہ بھی اسے دیکھ لے وہ اسے پڑھے بغیر نہیں رہ سکتااس طرح سے بچے کا دل خود بخود دعائیں یاد کرنے کی طرف راغب وآمادہ ہوگا ۔کتاب کی اہم ترین خصوصیات یہ ہیں کہ تقریباََ ہر دعا کے ساتھ ضروری ہدایات بھی درج کی گئی ہیں ۔ مثلاََ بیت الخلا میں داخل ہونے والی دعا کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ پہلے بایاں پاﺅں اندر رکھا جائے ۔دعا واش روم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جائے ۔ واش روم میں باتیں نہ کی جائیں ۔ واش روم میں قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھا جائے ۔ خود کو پانی سے پاک کیا جائے ۔ قضائے حاجت کے بعد واش روم صاف کرنے کے لیے پانی والا لیور ضرور دبایا جائے ۔اسی طرح دیگر دعاﺅں کے ساتھ بھی ضروری ہدایات دی گئی ہیں ۔ ہر دعا کے ساتھ حدیث کی کتاب کانام اور حدیث نمبر بھی درج کیا گیا ہے ۔ یوں اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ کتاب کی اہمیت وافادیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے اس کتاب کا ہر گھر میں اور ہر بچے کے پاس ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف بچوں بلکہ والدین کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت مسلم والدین کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین مسئلہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ والدین بچوں کی تربیت کے حوالے سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے غفلت کرتے ہیں۔ بلاشبہ بچوں کی اسلامی اور اخلاقی اصولوں پر تربیت ایک اہم ترین اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بچوں کی ابتدا ہی سے تربیت اسلامی اصولوں پر کی جائے۔نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار سے جہاں بچوں کے لئے دعائیں یاد کرنا آسان ہے وہاں اس کتاب کے مطالعہ سے بچوں کا دین کی طرف بھی شوق بڑھے گاان شاءاللہ ۔کتاب کی قیمت 320روپے ہے یہ خوبصورت اور جاذب نظر کتاب یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    میاں نواز شریف کا سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ممبران سے خطاب، پاکستان کے عوام کے لئے امید کی کرن اور سیاسی اکابرین کے لئے مشعل راہ ہے،میاں نواز شریف کے قول و فعل اور ان کے سیاسی افکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی مایوس ہوئے نہ پاکستان کی ترقی کا مشن ترک کیا اور نہ ہی عوام کی خدمت کی ترجیحات بدلیں میاں نواز شریف نے غل غپاڑے اور شور شرابے کی نام نہاد سیاست کا راستہ کبھی نہ اپنایا. انہوں نے اپنے اقتدار کھو جانے پر کبھی پاکستان کے مفادات کے خلاف نہ تو لب کشائی کی اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کو دعوت دی جبکہ یہاں تو ایک حادثاتی سیاستدان یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانا تھا تو بہتر تھا بم پھینک دیتے،

    میاں محمد نواز شریف پاکستان کی ترقی، استحکام اور معاشی آزادی کی جنگ کے مجاہد ہیں اور یہ جہاد انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی صورت میں آئندہ نسلوں کے لئے وقف کردیا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کو یہ تنبیہ کرنا کہ مہنگائی کے طوفان سے عوام کو ہر صورت بچایا جائے پاکستان کے عوام کےلئے دل موہ لینے والے تاثرات ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    nawaz

  • مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسی ہی مایوسی ۔ ہر طرف ہر جانب ہر سمت نہ کوئی سکون نہ کوئی خوشی۔سوشل میڈیا پر افوا ہ سازی ۔ ان حالات میں وزیر خارجہ اور ان کی وزارت خارجہ کی ٹیم کی طرف سے وطن عزیز کے لئے خوشی کی خبر ملی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اُن کی پوری ٹیم کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر اسحاق ڈار کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن انہوں نے بطور وزیر خزانہ سال 2013 اور سال 1998 میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں وطن عزیز کی غیر مستحکم معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا وہ ملکی تاریخ کا حصہ ہے اور پاکستان کو 2013 میں دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔ پھر اسی دوران سیاسی بربادیوں کے سوداگروں نے نواز شریف اور پاکستان کے خلاف سازش کا حال بُنا اور ترقی کے منازل طے کرتا پاکستان دوبارہ معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اورعوام نے بھگتا۔ معیشت کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا رہا اور آج وطن عزیز اور عوام ہر روز مہنگائی کے نئے حملوں سے گزر رہی ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بجلی اور گیس کے چند سو بل دینے والے آج ہزاروں بل دے رہے ہیں۔ ملک اور عوام کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ملک کے حالات عالمی معیشت کی صورتحال کے پیش نظر وطن عزیز میں بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ ملکی وسائل پر خصوصی توجہ دے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ وطن عزیز میں ایک ایسے شخص پر بحث کی جا رہی ہے جو ایک بدترین آمر اور طالع آزما شیخ مجیب جس کو بابائے جمہوریت کا نام دیا جا رہاہے۔ آج کی نوجوان نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان دوستوں کا قتل عام کروایا اور اُن کی بیٹی حسینہ واجد کے سر پر خون سوار ہے آئے روز بے گناہوں کوپھانسیاں دی جا رہی ہیں جن کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں وہ پاکستان کے وفادار تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کو لیڈر اور مسیحا ماننے والے تاریخ کا مطالعہ کریں۔؟
    qureshi

  • 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد قریشی) پاکستان میں نہ تو 71ء جیسے حالات ہیں اور نہ ہی 24کروڑ عوام کا ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہی نہیں بلکہ اسے جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیاء اور اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ دیوالیہ ہونے کی رٹ ناکام ہوگئی اور اب 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ملکی معیشت اور سٹاک ایکسچینج کے عشاریئے اور مہنگائی میں کمی جیسے اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عوام کی بہتری اور پاکستان کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

    آئے روز سڑکوں پر ادھم مچانے میڈیا پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کی بجائے قومی اسمبلی اور سینٹ میں سنجیدہ بحث اور تجاویز کے ذریعے قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کو مہنگائی غربت اور سماجی ناانصافیوں میں پسے ہوئے عوام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور وطن عزیز کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربانی دینے کی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ اگر پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے اور اقتدار اور حزب اختلاف کے استحقاق ہیں اسی لئے سب سے پہلے استحقاق پاکستان اور استحقاق عوام کو ترجیح دیں ورنہ تاریخ کسی بھی غدار کو معاف نہیں کرے گی۔

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    ڈیرہ مرادجمالی۔31 مئی 2024

    نوتال اور بختیار آباد کے درمیان قومی شاہراہ پر جمعرات کے روز ایم این اے نواب زادہ خالد خان مگسی پر ڈاکوؤں کی فائرنگ اور گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،اسی مقام پر دو گھنٹے قبل دو مسافر ویگنوں کو لوٹ لیا گیا کسی نے نوٹس نہیں لیا؟ خالد خان مگسی پر فائرنگ کا واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دیکھتے ہی دیکھتے بلوچستان حکومت سمیت تقریبا بااثر شخصیات نے واقعہ کی مزمت کی اور فوری ڈاکوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا اور وزیر اعلی نے نوٹس لیکر نصیرآباد اور کچھی انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ہر وہ غلط کام کی مذمت ہونے چاہیے لیکن قومی شاہراہ اور لنک سڑکوں پر جس طرح بختیار آباد، نوتال کے درمیان، بختیار آباد، بھاگ روڈ، نوتال، گنداوہ روڈ بختیار آباد اور لینڈسے (لمجی) کے درمیان، ڈنگڑا قومی شاہراہ پر اس کے علاوہ ہر دوسرے یا تیسرے دن مسلح ڈاکو مسافر بسوں ویگنوں۔ٹرکوں سمیت چھوٹے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں اور خواتین کو لوٹ لیا جاتا ہے لیکن ان غریب عوام، ڈرائیورز،اور خواتین کے لیے نہ صوبائی حکومت،نہ سرداران،و دیگر بااثر شخصیات جو نواب زادہ خالد خان مگسی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی طرح حرکت میں کیوں نہیں آتے کوئی وزیر نواب سردار یا بااثر شخصیات نے یک زبان ہو کر مزمت نہیں کیا لیکن بلوچستان کے سارے سردار نواب سرمایہ دار جاگیردار وزیر،مشیر پارلیمانی سیکرٹریز صوبائی و وفاقی حکومت ایک ہوگے لیکن غریب عوام کے لئے یہ اشرفیہ کبھی ایک نہیں ہونگے لیکن ووٹ غریب عوام سے لیکر اسمبلیوں میں پہنچ جانے کے بعد وزیر، مشیر و پارلیمانی سیکرٹری بن کر خوب عوامی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ کر صوبے اور ملک کو دیوالیہ کیا جاتا ہیں لیکن عوام اور تاجروں کو آئے روز بازاروں قومی شاہراہوں پر دن دھاڑیں اور رات کے اندھیروں میں ڈاکو لوٹ مار کرنے کے ساتھ گاڑیاں نہ روکنے پر فائرنگ کی جاتی ہے کئی مسافر اور ڈرائیورز زخمی اور ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے لیے کوئی نواب سردار یا وزیر بیان تک دینا گوارا نہیں کرتے اس طرح نواب زادہ کےلیے حکومت سمیت تمام بااثر شخصیات ایک پلیٹ فارم پر متحدہ ہوئے اسی طرح عوام کے لئے درد محسوس کرتے ہوئے متحدہ ہوجائے تو بلوچستان امن کا گوارا بن جائے گا اسی دوہرے معیار کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال گمبھیر سے گمبھیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک غریبوں کا نہیں بلکہ امیروں سرمایہ داروں،اور اشرفیہ کا ملک ہے

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    28مئی ۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کہ جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا ۔28مئی کو یوم تکبیر کانام دیا گیا ۔ یوم تکبیر بہت مبارک اور خوبصورت نام ہے۔ اس نام میں جوش بھی ہے جذبہ ہے ۔ جرأت بھی ہے اور ہمت بھی ہے۔تکبیر کا مطلب ہے ۔۔۔۔اللہ کی کبریائی، بڑائی اور عظمت ۔ قرون اولیٰ کے مسلمان جب تکبیر کا نعرہ بلند کرتے تو کفر کے ایوان لرز جاتے اور صنم منہ کے بل گرکے ھواللہ احد کہتے تھے ۔ آج مسلمان جھاگ کی طرح ہیں ان میں ہمت ہے اور نہ جرأت ہے اسلئے کہ دل جذبہ ایمان سے خالی ہیں ۔ جب تک دلوں میں ایمان نہیں ہوگا کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوسکتا ۔ کہنے کی حد تک پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن قوم میں تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی عملی اقدامات نہ کیے گئے ۔ ضرورت اس امر کی تھی قوم میں تکبیر جیسا جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ۔اسلئے کہ اسلحہ کے ساتھ جذبہ نہ ہوتو کوئی قوم نہ تو جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے ۔امسال اگرچہ سرکاری سطح پر یوم تکبیر کااہتمام کیا گیا تھا ۔ اسی طرح کچھ جماعتوں نے یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا ہوا تھا تاہم اس طرح کے مواقع پر مرکزی مسلم لیگ ہی واحد جماعت ہے جو بکھری قوم کو مجتمع کرنے ، منزل کا تعین کرنے ، دو قومی نظریہ کا سبق یاد کروانے اور تکبیر کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 28مئی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں شایان شان طریقے سے ’’ یوم تکبیر ‘‘ کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ بھی کراچی سے پشاور تک ہر شہر میں یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت لاہور ہے اور لاہور کا دل مال روڈ ہے ۔دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی تکبیر کارواں کا انعقاد کیا گیاجس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت۔
    تکبیر کارواں سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے خطاب کیا ۔ مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر چوہدری محمد سرورنے کہا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنالیا اس کے بعد ایٹمی دھماکے بھی کرلیے اور جس دن ایٹمی دھماکے کیے گئے اس دن کانام ’’ یوم تکبیر ‘‘ رکھ دیا گیا لیکن المیہ یہ ہے کہ قوم تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ سال میں ایک بار یوم تکبیر منالینا کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قوم کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے اور دھماکے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔۔۔؟ وہ عوامل جن کی وجہ سے پاکستان کو ایٹمی اسلحہ بنانا پڑا ۔۔۔۔وہ عوامل اور خطرات آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔ ہمارے دشمن بھارت نے صرف طریقہ کار بدلا ہے ۔دشمنی ختم نہیں کی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کروارہا ہے ۔ان حالات میں جہاں پاکستان کو عسکری اعتبار سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں تکبیر کو جذبوں کو بھی سمجھنے اور عام کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔

    ہم نے یوم تکبیر منانے کا اعلان کیا تو ہمیں ملامت کی گئی ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم نہ ہی ڈرے اور نہ ہی پیچھے ہٹے ہیں ۔ہم آج سے اپنی تحریک کا آغاز کررہے ہیں کہ اس وطن کو لا الہ الا اللہ کا ملک بنائیں گے۔سیاسی معاشی اعتبار سے ملک کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں تاہم وطن عزیز کی صورتحال پارٹیاں یا چہرے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوگی، اسلام پر عمل سے بدلے گی۔ ہم نے صرف ووٹ کی نہیں بلکہ نظریہ کی جنگ لڑنی ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حکمران اپنوں کو پس زنداں ڈال رہے ہیں اور غیروں کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا دشمن تقسیم در تقسیم کے ذریعے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا معرکہ سر کرے گی۔ ہم پارٹی اور دھڑے بازی کی بجائے خدمت کی سیاست کا علم لے کر نکلے ہیں ۔

    تکبیر کارواں کے ایک اہم ترین مقرر فلسطین سے آنے والے معزز مہمان الشیخ ابو عبیدہ تھے ۔ حاضرین وسامعین نے الشیخ ابوعبیدہ کا استقبال پرجوش نعروں سے کیا ۔ فلسطینی رہنما نے رقت آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ ماہ سے غزہ میں جنگی جرائم اور فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔اہل غزہ نے جانیں دے کر استقامت کی انمٹ مثالیں پیش کی ہیں ۔فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں یہاں قبلہ اول ہے ، فلسطین انبیاء علیھم السلام کی سرزمین ہے لیکن انبیاء علیہ السلام کی سر زمین یہودیوں کے ہاتھوں لہولہان ہے ۔ فلسطینی مسلمان غزہ کی نہیں قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا عالم اسلام فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوجائے ۔مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن جرأ ت، دلیری بہادی اور شجاعت کا دن ہے۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لئے زندہ وبیدار ہیں ۔پاکستان محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد ، قتیبہ بن مسلم ، صلاح الدین ایوبی کے جانثاروں اور قبلہ اول سے محبت کرنے والوں کا وطن ہے ۔پاکستان کے غیور وجسور اور بہادر عوام کسی صورت بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔آج جو شیخ مجیب کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنا قبلہ درست کریں۔ہم ہر چور اور ڈاکو کو کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا وقت پورا ہوا۔اب یہ وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجنئیر عادل خلیق کا کہنا تھا کہ ابن الوقت سیاستدانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ملک میں مایوسی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ ایک سازش کے تحت حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ نوجوان ملک سے مایوس ہوجائیں ، ہم نے ان مفاد پرست سیاستدانوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور ملک کو بھی مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف گامزن کرنا ہے ۔تکبیر کارواں سے ریاض احمد احسان،عمر عبداللہ ، ادریس فاروقی ، چوہدری مختار گجر،شیخ صداقت ،ڈاکٹر عمران، امین بیگ،حافظ عثمان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے باز رہے، معاشی استحکام کے لیے حکومت کفایت شعاری اور خود انحصاری کی پالیسی بنائے۔ ایٹمی صلاحیت کی بنیاد پر ہر بیرونی دشمنوں سے ہم محفوظ ہیں لیکن حالیہ بڑھتی ہوئی منافرت اور تقسیم تباہ کن ہے۔ مقتدرہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر وطن عزیز کو اس بحران سے نکالیں۔ اپنی اناؤں کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں یوم تکبیر کی تقریبات سے دلوں کو اک ولولہ تازہ ملا ہے، قوم کو حوصلہ ملا ہے اور دشمنوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم زندہ وبیدار ہے ، ہوشیار ہے ۔ اس میں شک نہیں قوم تو زندہ ہے مگر ستم یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں ملک اور قوم نہیں بلکہ ان کی اپنی ذات اور اقتدار ہے ۔ حالانکہ یہ وقت سیاست نہیں ملک بچانے کا ہے اقتدار نہیں اقدار کے فروغ کا ہے ۔ اسلئے کہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ملک کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔
    irshad arshad

  • تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    نام کتاب : مسنون حج وعمرہ
    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : بڑا سائز 1000روپے ، درمیانہ سائز 425روپے ، چھوٹا سائز 200روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ 042-37324034
    اِسلامی عبادات میں حج کی ایک خاص اہمیت وفضیلت ہے۔ اِسے اِسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں حج کو استطاعت کے ساتھ فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کی درست اور مسنون ادائیگی کو گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میںحج مبرور کی جزا اور صلے میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِسی طرح عمرے کی مسنون ادائیگی پر اس کی فضیلت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حرمِ کعبہ میں ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ اسی طرح حرمِ نبوی کی ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی ہزار نمازوں سے افضل بتایا گیا ہے۔ حج وعمرے کی یہ اہمیت وفضیلت اور اس کے دوران میں اذکار و عبادات کی یہ قدر و منزلت صرف اِسی صورت میں ممکن ہے کہ مناسک حج کو مسنون طریق پر نبوی منہج کے عین مطابق ادا کیا جائے۔ حج کااجروثواب بے مثال ہے بیت اللہ کی زیارت اورحج وعمرہ کرنے کاارمان ہرصاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتاہے۔دنیا کے مختلف اطراف واکناف سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرے کی سعادت کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔جبکہ لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ جوزندگی میں ایک دوبارہی اس سعادت سے مستفیدہوپاتے ہیں۔اسی مناسبت سے سبھی کی آرزوہوتی ہے کہ یہ مقدس فرض قرآن سنت کی تعلیمات کے مطابق اداہوجائے تاکہ عبادات کے بجالانے میں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔اس مقصد کے لئے ہرشخص کوایسی رہنماکتاب کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس میں حج وعمرہ کے احکام ومسائل آسان زبان میں قرآن وحدیث سے بتائے گئے ہوں۔خاص طورپرمحترم خواتین ایسی کتاب کی جستجومیں رہتی ہیں جس میں حج وعمرہ کے دوران ان کے مخصوص مسائل کادینی حل پیش کیاگیاہو۔ ان حجاج کرام اور عمرہ ادا کرنے والے معتمرین کی ایک کثیر تعداد صرف اْردو زبان کے حوالے سے اِسلامی تعلیمات کو سیکھ سکتی ہے۔

    اْردو خواں طبقے کی اِسی ضرورت کے پیش نظر دار السلام نے مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد حج وعمرہ کے تمام ضروری، ضمنی اور ذیلی مسائل کے موضوع پر مستند مواد کے حوالے سے ’’مسنون حج وعمرہ … فضیلت واہمیت احکام ومسائل ‘‘ کے عنوان سے تین مختصر مگر جامع کتب تیار کی ہیں۔ان کتب میں حج وعمرہ کے تمام احکام و مسائل قرآن وسنت کی روشنی میں جزئیات سمیت بہ تمام وکمال بتائے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے دوران پڑھی جانے والی اورروزمرہ کی دیگردعائیں بھی درج کردی گئی ہیں۔مزیدبراں تمام مقدس مقامات کونہایت ہی خوبصورت تصویروں اورنقشوں کے ذریعے بخوبی اجاگرکیاگیاہے۔ان کتابوں کی خصوصیات یہ ہیں کہ ان کے تمام مندرجات صرف کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں۔کتابوں میں بفضل اللہ تعالیٰ کسی ایک موضوع یا ضعیف حدیث کا حوالہ نہیں ملے گا، نیز تمام احادیث کی مکمل تخریج بھی کر دی گئی ہے۔ حج اور عمرے کے دوران میں پیش آنے والے تمام مسائل کی اصطلاحات کو حج وعمرے کے مناسک کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ حج وعمرہ کی ادائیگی کے دوران پیش آمدہ مسائل کو مرحلہ وار لکھا گیا ہے۔ان کتب میں خصوصیت کے ساتھ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والے خواتین کے مخصوص مسائل بھی درج کردیے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے مختلف مناسک کے دوران پڑھی جانے والی مسنون دعائوں اور اذکار کو آسان اْردو ترجمے کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔کمسنون دعائیں بھی پیش کی گئی ہیں تاکہ حرمین میں ہمارے شب و روز مسنون دعائوں اور اذکار سے مزین ہو سکیں۔یہ مستند کتب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر علمائے کرام عمار فاروق سعیدی ، مولانا عبدالصمدرفیقی مرحوم ،مولاناعبدالجبار اورحافظ عبدالخالق جیسے ممتاز محققین نے ترتیب دی ہیں۔یہ کتب تین سائز میں دستیاب ہیں۔۔۔ تینوں کتابوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور حجم کے اعتبار سے ان میں مسائل بیان کئے گئے ہیں۔دارالسلام ریسرچ سنٹر کی یہ کتب خودبھی پڑھئے اورعزیزواقارب کوبھی پیش کیجیے تاکہ ہرمسلمان حج وعمرہ کے فرائض مسنون طورپرآسانی اورسہولت سے اداکرسکے اورحج وعمرہ کی عبادات کے ضائع ہونے کاذرہ بھی احتمال نہ رہے۔

  • نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی قوتوں اور عوام کو ریاستی اداروں پر تنقید پر اکسانے والے پاکستان سے مخلص نہیں ۔ریاستی و قومی ادارے ہی وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے ضامن ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کہنہ مشق سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میاں نوازشریف کی صورت میں ہی موجود ہے۔ تمام تر سپر پاور کے دبائو کو نظرانداز کر کے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنانا اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا، وطن عزیز میں موٹرویز کا جال بچھا کر معیشت کے پہیے کو نئی رفتار بخشی۔ نوجوانوں کے لئے آسان قرضے، پیلی ٹیکسی کی آسان قسطوں پر فراہمی کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے جیسے اقدامات کے بعد میاں نوازشریف نے تکمیل پاکستان کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو دور کیا ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں صنعتکار پاکستان سے اپنی ملوں کو اٹھا کر دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے تھے اور مختصر عرصے میں چائنا سے معاہدے کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا۔

    میاں نوازشریف کی انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری رہا اور سی پیک کے منصوبے اور گوادر سی پورٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ایشین ٹائیگر بنانے جیسے اقدامات کے تمام حلقے معترف ہیں۔ اگر اس وقت دھرنا سیاست کے ذریعے چینی صدر کے دورے کو منسوخ نہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کا معاشی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ اگر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جاتے تو آج پاکستان معاشی طور پر خودکفیل بن چکا ہوتا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعلیٰ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر کے میاں نوازشریف کی غیر متزلزل قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم کرنا چاہئے۔

  • عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محکمہ تعمیرات اور بلدیات کو گلیات اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل ویسٹ مینجمنٹ اور سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی ضروری مرمت کے احکامات اور کوالٹی کنٹرول کی ترجیحات کو مدنظر رکھنے جیسے اقدامات قومی سرمائے کے درست استعمال کی جانب قابل تحسین قدم ہے جس سے عوامی فنڈز کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار میں گلیات اور سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی دوسرے ہفتے میں واٹر سپلائی یا ٹیلی فون یا گیس والے بنی بنائی گلی سڑک کو اکھاڑ کر چلے جاتے تھے جس سے گلی نالی کی پے درپے تعمیر پر ترقیاتی گرانٹوں کا زیاں اور ٹھیکیدار کلچر کا فروغ دیکھنے میں آیا اور سیاسی اثر و رسوخ حتیٰ کہ بلدیات کے ملازمین نے ہی اپنے رشتے داروں کو ٹھیکیدار رجسٹر کراکے اپنے خاندانوں کی چاندیاں کیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیات اور تعمیرات کے محکموں کے پلاننگ شعبوں اور مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے کسی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل نیچے موجود ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی کیلئے کلیئر کریں اور ٹھیکیدار کی مانیٹرنگ پر مقامی نمائندوں کو فوکل پرسن اور اہلیان علاقہ و محلہ کے ایماندار افراد کی کمیٹی کو کوالٹی کنٹرول میں شامل کیا جائے جو کہ کنکریٹ کے میٹریل کی کوالٹی اور کام مکمل ہونے کے بعد اس کی آبیاری کو بھی ٹھیکیدار سے یقینی بنائے. آئے روز گلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور اہلیان محلہ کی جانب سے خود ہی نالی یا گیس کنکشن کی کھدائی کے ذریعے یا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے کی بلا روک ٹوک روش کو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنی کاروائی میں شامل رکھے بلدیاتی افسران اور محکمہ تعمیرات کے افسران جن میں ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ سب انجینئر‘ بلدیہ کے سی او اور کلرک صاحبان جس دیدہ دلیری کے ساتھ 10فیصد کمیشن کی رواجی کمائی کے عادی ہوچکے ہیں اس کے بغیر وہ ٹھیکیدار کا چیک سائن نہیں خرتے اس کرپشن کا قلع قمع بھی ہونا چاہئے تاکہ عوام کا فنڈ مکمل طور پر عوام پر ہی خرچ ہو نہ کہ افسر شاہی کے نذر نذرانوں کی نذر ہو۔