Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تازہ ترین خبر کے مطابق دوبئی لیک سامنے آئی ہے۔ چلئے کوئی کمیٹیاں بنا دیں۔آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔ دوبارہ پھر کسی نواز شریف جیسے فرد واحد کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے اور باقی کے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں بچوں سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم دوبئی لیک سے ثابت ہو چکا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے تمام راستے صاف ہیں بلکہ موٹر وے کی صاف راستے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں، ہمارے بیوروکریٹس ، دیگر اعلیٰ افسران ، سیاستدان ، اشرافیہ ، لوٹ مار، منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے ننگے ناچ میں مشغول ہے۔ بدقسمت ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کس کرب میں مبتلا ہیں اس سے ان کو کوئی سرورکار نہیں۔ بے حسی، بے پناہ مہنگائی ،بے قابو غربت ، غیر معمولی حدوں کو چھونے لگی ہے۔

    حکومت میں ہوتے ہوئے حزب اختلاف کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اصلیت ہے مگر اس میں جوش کا پتہ نہیں،ہیرو ہیں جن کے کارنامے نہیں۔ تاریخ ہے جس میں واقعے نہیں۔ تبدیلی کی رفتار ہے جیسے اگر کوئی طاقت حرکت میں رکھنے والی ہے تو محض کیلنڈر ۔ محلاتی سازشوں اور درباری تماشوں میں محو ہیں۔ ہر بار معیشت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سیاست نظر آتی نہیں رہی مفاد ذاتی سیاست کا دورہے ۔ ایمان۔ ضمیر۔ وفا جیسی چیزیں سیاستدانوں کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کا سیاستدان کل کا جس پارٹی کو گالیاں دیتا ہے پھر دوسری پارٹی بدل کر گالی د ینے والی پارٹی کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔ سیاستدان کی وفاداری تبدیل ،ضمیر تبدیل ، معیار تبدیل، خیال تبدیل ،ان حالات میں منی لانڈرنگ ، کالا دھن سفید نہ ہو تو کیا ہو۔ جن کی اپنی کوئی منزل نہ ہو۔ وہ پاکستان اور عوام کے رہبر کیسے کہلوا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ خطہ ہی نہیں ہے یہ ساری دنیا خدا پاک کی ملکیت ہے ۔ قرآن پاک کا مطالعہ کریں ،سرکش انسانوں کی داستانیں بھری پڑی ہیں اور عبرت حاصل کرتے وقت توبہ کریں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے میرٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کی تقرریاں کرکے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ریاستی مشینری کو عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر ایسے عہدے ہیں جن کا سیاست سے پاک ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح پولیس کے محکمہ میں تھانہ سے لے کر آئی جی کے آفس تک کے افسران کو بھی اپنی پیشہ وارانہ آزادی سے کام کرنا چاہئے اور ان افسران کو سیاسی مداخلت سے بے نیاز ہو کر کام کرنا چاہئے جبکہ مقامی منتخب نمائندوں مثلاً ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو بھی بے جا مداخلت سے اجتناب برتنا چاہئے البتہ علاقے کی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے منصوبوں کی نشاندہی اور ان انتظامی افسران کی راہنمائی کے لئے مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی عوام کی بہتری اور ترقی کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی کاوشوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا سفارش تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حضرات مہنگائی کے کنٹرول‘ تجاوزات کے خاتمے‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الاضلع اور مقامی روٹوں پر ٹرانسپورٹروں کی کرایوں میں اضافے سے لوٹ مار‘ جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پیٹرول پمپوں میں ڈیزل پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی اور خصوصاً پٹواری مافیا کے قلع قمع کرنے میں کوشاں نظر آنا چاہئے اور غفلت لاپرواہی اور کرپشن میں ملوث پائے جانے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ صاحبہ کو بھی عوامی شکایات پر نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کرنے کا ایک موثر نظام بھی فعال کرنا ہوگا تاکہ کرپشن فری انتظامی مشینری عوام کی خدمت میں مصرف عمل موجود ہے۔

  • سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) پاکستان کی مقتدرہ سیاست عوام اور میڈیا کو پاکستان سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے مفادات، سالمیت اور بقا کو دائو پر لگا کر سیاست اور اقتدار کی دکان چمکانے والے کسی طرح بھی محب وطن نہیں، سوشل میڈیا بشمول الیکٹرانک میڈیا کو عوا م کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے چاہئیں نہ کہ اپنی ریٹنگ کے چکر کی دوڑ میں قومی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ پولیس کسی بھی معاشرے میں امن و امان اور عوام کی حفاظت کی ضامن ہوتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دستہ اول کے طور پر پولیس نے عوام کی جانوں کی حفاظت میں پولیس نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور ایک تاریخ رقم کی۔ پولیس کو عوامی تذلیل اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنانا دراصل عوام کو عدم تحفظ اور بے لگام معاشرے اور لاقانونیت کے جنگل میں دھکیلنے کے مترادف ہے، مسند اقتدار پر براجمان بعض سیاستدان نہ جانے کن آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ٹی وی پر آکر زبان درازیوں اور بازاری جملہ بازیوں کے کرتب دکھا رہے ہیں اور نوجوانان قوم کو بے لگام آزادی کے خواب دیکھنے میں مشغول کر رہے ہیں قومی سیاستدانوں، مسند اقتدار پر براجمان شخصیات کے ہر قول و فعل حتیٰ کہ لباس اور حرکات و سکنات میں بے مثال سلیقہ نظر آنا چاہئے جو عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے لیکن ناعاقبت اندیش ہستیاں عارضی اقتدار کے نشے میں سستی شہرت کے حصول کی خاطر نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ان کی تقلید کرنے والوں کو عراق ، یمن ، اردن ، لیبیا اور دیگر زوال کا شکار ہونے والے ممالک کی ماضی قریب کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے وہ بھی ایسے ہی فتنوں اور جھوٹی آزادی کے خوابوں میں مبتلا ہو کر حقیقی آزادی سے محروم ہو گئے اور ان کی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدرہ، سیاست اور حکمرانوں کو مل بیٹھ کر وطن عزیز کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے اپنی حدود کے تعین اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے تمام اداروں کو عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مخلص افسران کی تعیناتیوں کو عمل میں لانا ہوگا۔ ہر نئی حکومت نئے عہد و پیمان لے کر آتی ہے اور قومی سرمایہ کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کے وعدے لاتی ہے اور ان کے جانے پر دریافت ہوتا ہے کہ انہوں نے کمال ہوشیاری سے کرپشن کی جس کی زندہ مثال حالیہ گندم اسکینڈل میں تین سو ملین ڈالر کا ٹیکہ ہے، مقتدرہ اور حکمرانوں کو اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچا کر عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

  • نواز شریف  کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی مسند صدارت پر دوبارہ بیٹھنا پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت اشارہ ہے ،میاں نواز شریف کے جدید پاکستان کے وژن کے ادنیٰ سے ثبوت لاہور شہر میں اورنج ٹرین‘ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹر وبس، پاکستان بھر میں موٹر ویز کا جال بچھانے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کی تعبیر کی طرف سی پیک اور گوادر سی پورٹ جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جبکہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کے منصوبے کی منظوری اور اب اس پراجیکٹ پر عملی اقدامات ایسے منصوبے ہیں جن سے عوام کی زندگی میں سہولیات اور آسانیاں اور ترقی یافتہ انقلاب آتا ہے۔

    آج لاہور کی عوام شدید گرمی کے ایام میں ٹریفک جام کی اذیتوں سے آزاد ہو کر یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کی سہولتوں سے فائدہ مند ہورہی ہیں اور خصوصاً خواتین کو اور طالبات کو لوکل ٹرانسپورٹ میں خوار ہونے سے نجات مل چکی ہے جو کہ میاں نواز شریف کی عوام دوست پالیسیوں کے عملی ثبوت ہیں۔

    ادھر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عوامی گورنروں کی تقرریوں کے لئے سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی کی منظوری دے کر پارٹی کارکنوں کے دل جیت لئے ہیں جس سے جمہوری سیاست میں گراس روٹ سطح پر ورکروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ورکروں اور پسے ہوئے طبقے کو آگے لانا ہوگا کیونکہ گزشتہ ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی پر خاندان پرور سیاسی مداریوں کے قبضے نے بینظیر بھٹو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کو پامال کئے رکھا جس سے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ابن الوقت ٹولے کی حوصلہ شکنی کرکے پنجاب بھر میں ورکروں کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔

    میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حقیقت پسندانہ اقدامات سے وطن عزیز میں سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور سیاسی طاقتوں کو پرورش کی فضا ملے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے ثمرات ملیں گے۔

    qureshi

  • تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : بلوغ المرام/ جدید ایڈیشن( دوجلد )
    تالیف : شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی
    صفحات : 1138
    ناشر  : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئرمال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب” بلوغ المرام من ادلة الاحکام “ ابو الفضل حافظ شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی کی بے مثال کتاب ہے ۔فقہائے محدثین کے سلسلے میں ایک بہت بڑا اور معتبر نام نویں صدی ہجری کے امیر المومنین فی الحدیث شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد المعروف ابن حجر العسقلانی کا ہے جنہیں معاصرین نے حافظ مشرق والمغرب کا لقب بھی دیا ہے۔ وہ بہت بڑے مفسر ، محدث ، فقیہ ، مورخ اور ماہر لغت تھے ۔ شرعی احکام کے حدیثی دلائل پر مبنی فقہ میں ان کی مایہ ناز کتاب بلوغ المرام ہے جو صدیوں سے دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں معروف چلی آرہی ہے ۔ یہ کتاب ضخامت میں مختصر ہے لیکن جامعیت اور افادیت کے اعتبار سے بے نظیر ہے ۔ مسائل و احکام کا یہ نہایت اہم اور گراں قدر مجموعہ علماءاور طلباءکے لیے یکساں مفید ہے ۔ اس نامور کتاب کا اردو میں نہایت خوبصورت ترجمہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے ۔ اگرچہ اب تک اس کتاب کے سینکڑوں تراجم شائع ہوچکے ہیں لیکن یہ ترجمہ پیش رو تمام تراجم سے یکسر مختلف اور منفرد ہے ۔

    اس کی پہلی انفرادیت یہ ہے کہ یہ ترجمہ معروف سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے کیا ہے ۔ اس کتاب کی دیگر خصوصیات یہ ہیں کہ کم و بیش ہر حدیث کے نیچے پہلے لغوی تشریح پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح اور تفہیم آسان ہو جائے۔ راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں۔حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتاب میں فقہائے محدثین کے اسلوب کا تدبر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے کیا ہے انہوں نے ہر مسئلے کو احادیث نبویہ کے ذریعے سے واضح کیا ہے جبکہ علماءاس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک عام مسلمان احکام شریعت پر عمل کرنے کے لیے کوئی ایسی کتاب منتخب کرے جو مختصر ہو ، آسان ہو ، فقہی ابوا ب کے کے مطابق مرتب ہو ، تمام مسائل کے بارے میں مکمل رہنمائی کرتی ہو اور اس پر کسی تردد یاذہنی تحفظ کے بغیر عمل کیا جا سکتا ہو تو اس کے لیے بلوغ المرام سب سے عمدہ انتخاب ہوگا

  • اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    @HWriter27672

    زندگی مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے، اور یہ شعبے ایک دوسرے سے باہم یوں جڑے ہوئے ہیں کہ ہر شعبہ جتنا بھی ترقی کا سفر طے کرے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر وہ دوسرے شعبہ کا محتاج ضرور رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک شعبہ مزدور طبقے کا بھی ہے، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مزدور کے بغیر اسکی زندگی کیسے گزر سکتی ہے! مزدور کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم کتنے ہی کامیاب اور کروڑ پتی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمارا کوئی بھی کام مزدور کے بغیر چل نہیں سکتا۔ ایک متوسط فرد سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور بیوروکریسی تک زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ فرد مزدور کا محتاج ہے۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی اس ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم مزدوروں کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ اختیار کرچکے ہیں جو مذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو لامحالہ ہمیں مزدور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزدور طبقہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، انکی تخلیق میں کوئی جسمانی اور ذہنی کمی نہیں ہے سوائے اسکے کہ مزدور لگژری زندگی سے بہت دور ہیں اور انکے بعض افراد تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے ساتھ جو سلوک اپنایا گیا ہے، اس سے بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ انسان بھی نہیں اور نہ انھیں راحت و آرام کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مزدور کو کمتر سمجھنے اور اسکا معاشی استحصال کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے ہر کوئی مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن معاوضہ بھی ہم اپنی پسند کا دیتے ہیں جس سے مزدور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتا۔

    ہم انکی عام اجرت میں زائد وقت کا کام بھی لیتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں اسے کام سے فارغ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مزدور سے اسکی طاقت سے زیادہ کام لینا گویا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، لیکن اجرت دیتے وقت ہمارا انداز یہ ہوتا ہے جیسے ہم اس پر احسان کررہے ہیں۔

    آج دنیا میں یوم مزدور منایا جاتا ہے، سارے سرمایہ دار چھٹی انجوائی کرتے ہیں لیکن کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن مزدور بھی چھٹی کرلیتے ہیں یا کام کرتے ہیں؟ مزدور کے ساتھ یکجہتی کےلیے چھٹی منانا اچھی بات ہے لیکن یہ جاننے کےلیے ہم نے کبھی کوشش کی کہ مزدور کو اسکے حقوق میسر ہیں بھی کہ نہیں؟
    اسلام نے مزدور و مالکان دونوں کے فرائض کو واضح طور بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی نہ کریں۔ اسلام نے مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، اگر مزدور سے کام لیا جائے تو اسکو اس کا حق فوراً دے دے۔

    اسلام نے مزدور کا جو تصور دیا ہے وہ اقوام عالم کےلیے مشعل راہ ہے۔ مزدور کے بابت اسلام نے جو رہنمائی کی ہے اگر اسکو عملی کیا جائے تو مزدور کا حق ضائع نہ ہوگا اور اسی طرح وہ اپنے کام کو خوب محنت اور ایمانداری سے پورا کرے گا، یوں مزدور اور مالک دونوں مطمئن رہیں گے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مزدور افراد تمہارے ہی ہم شکل، ہم جنس اور تمہارے بھائی ہیں، بات اتنی ہے کہ اللہﷻ نے انھیں آپ کا ماتحت بنادیا ہے، سو جو آپ کھاتے ہیں وہ انکو بھی کھلائیں! اور جو آپ پہنتے ہیں وہ انکو بھی پہنائیں! اور اس سے اسکے وقت اور طاقت سے زیادہ کام نہ لیں! اگر لینا ہے تو اسکی مدد کریں! اور زائد وقت کی مزدوری بھی دیں!

    اسلام کا مندرجہ بالا اصول کتنا زبردست اور واضح ہے! مگر کیا ہم اس کو عملی کرنے کی کوشش کریں گے؟اسلام کا حکم ہے کہ مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے لیکن ہماری صورتحال کیا ہے؟ اسکا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ حضور اکرمﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن جن تین افراد کے خلاف میں مدعی بنوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے کام تو پورا لے لیکن اسکی مزدوری پوری نہ دے یا کم دے یا بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرے۔
    مزدور کے ذمہ کچھ فرائض مذہبی بھی ہیں جن کو ادا کرنا اس پر لازم ہے، اسلام کے رو سے جس طرح مزدور کو اس کی اجرت کا وقت پر دینا لازم ہے اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ کام کے دوران فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائیگی کےلیے وقت اور جگہ فراہم کی جائے۔
    غلطی سے کوئی بھی انسان مبرا نہیں ہے! مزدور سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اسکو معاف کرنا چاہیے! حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر مزدور ستر مرتبہ غلطی کرے تو بھی اسے معاف کریں۔

    مزدور کے متعلق اسلام نے جس طرح مالکان کےلیے ہدایات بیان کی ہے بالکل اسی طرح مزدور کےلیے بھی ہدایات بیان کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مزدور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ:
    * وہ اپنا کام معاہدے کے مطابق بروقت ایمانداری اور اخلاق کے ساتھ پورا کرے۔
    * مزدور مالک کے کام کا امانت دار ہے، سو وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام اور اسکے متعلق اشیاء کا ایمانداری سے حفاظت کرے، اور اسے کام کے بعد مالک کے حوالے کرے۔ اگر کوئی چیز اتفاقاً خراب ہوجائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں ہے لیکن اگر مزدور نے اسے قصداً خراب کیا تو اس چیز کا تاوان دے گا۔
    • اگر مزدور مالک کے ہدایت کے خلاف کام کرے اور اس میں کوئی نقصان پیش آئے تو مزدور اسکا تاوان ادا کرے گا۔
    * جتنے دن کےلیے کام کا معاہدہ ہوا ہے تو مزدور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کام پورا کیے بغیر اس کو چھوڑ دے۔

    اسلام کے یہ رہنمائی کتنی واضح ہے! اس جامع اور رہنما اصولوں کو اپنائے بغیر معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کا قیام ناممکن ہے، ان اصول کو اپنانے سے ہی مزدور کا استحصال ختم ہوگا اور مالکان کو ان کا کام پورا ملے گا۔ اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مزدور کی روایتی چھٹی منانے کے بجائے زیادہ توجہ اپنے اور مزدوروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننے پر دیں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق اپنے کاموں کو آگے بڑھائے۔

  • نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قرارداد میں پارٹی کی صدارت سنبھالنے کی دعوت ایک راست اقدام ہے۔ میاں نوازشریف نے پنجاب کی دومرتبہ وزارت اعلیٰ اور وطن عزیز کی تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے دوران ثابت کر دکھایا کہ انہیں اپنے وطن کے عوام، غریب، کسانوں، تاجروں ، صنعتکاروں، محنت کشوں ، طالب علموں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے ایک عشق ہے انہیں پاکستان کے عوام اور پاکستان کے قریہ قریہ کو ترقی کے ثمرات سے چمکانے کی لگن تھی اور لگن ہے۔ پاکستان بھر میں موٹرویز کا جال بچھا کر نوازشریف پاکستان کی ٹرانسپورٹ اور مواصلات کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔

    نوازشریف نے تعلیم کے میدان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میرٹ پر ملازمتیں دیں اور سکولوں میں بھی ایم فل،پی ایچ ڈی اساتذہ فراہم کئے اس سے قبل میں نوازشریف نے بیروزگار نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے جاری کر کے اور پیلی ٹیکسی اور صنعتی و کاروباری قرضے دے کر مائیکرو اکنامک ترقی کو گراس روٹ سطح پر متحرک کیا جس کے ثمرات میں غربت اور بیروزگاری میں کمی ہوئی تھی اور پاکستان کی جی ڈی پی اور شرح نمومیں اضافہ ہوا تھا سی پیک اور گوادر پورٹ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا ایک عملی قدم تھا۔

    سی پیک منصوبے پاکستان کی عوام میں ایک امید پیدا کی تھی اور پاکستان کو بیرونی قرضوں کی چنگل سے نجات اور بیرونی امداد کے کشکول کو توڑنے کا ایک عملی ثبوت تھا اور پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بن کر سامنے آرہا تھا اور چین ،یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت ایشیائی و افریقی ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے لپک رہے تھے آج بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے پاکستان کی ترقی اور پاکستان کو درپیش چیلنج کے تناظر میں ایک احسن قدم اٹھایا ہے اور میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے کی دعوت دی ہے اور میاں نوازشریف کو چھ سال قبل ایک منصوبے کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا اور حتیٰ کہ پارٹی قیادت سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔

    اب میں نوازشریف کو پارٹی قیادت اور صدارت سنبھالنے سے مسلم لیگ ن پر عوام کے اعتماد، محرومیوں کے شکار صوبوں میں امید کی کرن اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے وقار میں اضافے کا رجحان پیدا ہوگا۔ بیشک میاں نوازشریف عوام اور پاکستان کی فلاح و ترقی کی نبض پر دست شفا رکھ سکتے ہیں اور عوام میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافے اور فعال کردار سے جمہوری استحکام پیدا ہوگا۔

  • تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی  مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تالیف : مولانا مختار احمد سلفی
    صفحات : 270
    قیمت :920روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 024-37324034

    قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے عربی علوم میں ’’فن نحو کو ‘‘ بنیادی مقام حاصل ہے ۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ کو کماحقہ سمجھنا ممکن نہیں ۔ قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے نحو کا علم بنیاد ہے ۔ا س کے متعلق مشہور زمانہ مقولہ ہے’’ نحو کی کلام میں وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہے ‘‘ الغرض ’’ نحو ‘‘ ایک نہایت اہم علم ہے۔ اسی کے پیش نظر مدارس اسلامیہ میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں علمائے اسلام نے اس فن کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اور اسے آ سان سے آ سان تر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ زیر نظر کتاب مختار النحو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔یہ اپنے موضوع پر نہایت ہی لاجواب اور آسان کتاب ہے۔ اس میں قرآنی مثالوں کے ذریعے علم النحو کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی عبارت عام فہم ہے ۔ عربی زبان کے تمام بنیادی قواعد کو عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔ ہر قانون کی توضیح مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے ۔ کتاب ایک مقدمہ تین ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے ۔ پوری کتاب کو 70 اسباق پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں نحو کی بنیادی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔

    پہلا باب اسم، دوسرا باب فاعل اور تیسرا باب حرف کے بیان میں ہے۔ اسباق کے آ خر میں مشقی سوالات اور قران و حدیث کی مثالوں سے مزین تمرینات دی گئی ہیں۔تمام مثالیں قرآ ن و حدیث اور احادیث نبویہ سے ماخوذ ہیں۔ کوشش یہی کی گئی ہے کہ ہر مثال آ سانی سے سمجھ میں آ نے والی ہو ۔ کتاب کے آ خر میں نحو کے قوانین کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجرا اور مطالعہ کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہر سبق کی ایک مثال کی ترکیب کر دی گئی ہے تاکہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے باقی مثالوں کی ترکیب کرنا آسان ہو جائے ۔ کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ قارئین کی ذہنی استعداد میں باآسانی اضافہ ہو ۔ جو قارئین محنت اور کوشش سے اس کتاب کو پوری طرح سمجھ کر پڑھیں گے وہ کافی حد تک فن نحو کے ابتدائی قواعد میں ماہر ہو جائیں گیاور عربی زبان کو صحیح طرح سے پڑھنے ، سمجھنے ، لکھنے اور بولنے پر قادر ہوجائیں گے ان شاء اللہ ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات  کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کو کون سمجھائے اُن کو بین الاقوامی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے جن راستوں کا انہوں نے انتخاب کیا یا کروایا جا رہاہے اور پھر اُن کی جماعت، کیا سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو جیل سے رہائی دلوا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، جیل سے رہائی پانے کا واحد راستہ قانونی ہے۔ رہا سوال ملک کی سیاسی تاریخ تو اُن کو بھٹو خاندان کی تاریخ اور بھٹو پر کیا گزری ان کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ بڑے بڑے سیاسی قد آور سیاسی شخصیات نے بھٹو کا ساتھ چھوڑد یا تھا۔ نیلسن منڈیالا تقریبا 27 سال پابند سلاسل رہے جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے پُر تشدد تحریک خیر آباد کہہ کر مذاکرات کار استہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کا خواب لئے ا س جہاں سے چل بسے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے یہ وہ ٹولہ ہوتا ہے جو اپنے ہی جماعت کے قائدین کا مخبربھی ہوتا ہے ہو سکتاہے کہ پی ٹی آئی میں بعض مفاد پرست اور مخبروں کا ٹولہ موجود ہو اگر یقین نہیں تو میاں محمد نواز شریف اس کی زندہ مثال ہیں۔

    بلاشبہ عمران خان ملک کے ہیرو قرار پائے، کرکٹ کا ورلڈکپ سب پاکستانیوں کو یاد ہے تاہم یہ بھی پاکستانیوں کو یاد ہے کہ آپ وزارت عظمٰی تک کیسے پہنچے، وہ ملاح بھی سب کو یاد نہیں جو آپ کی کشتی کے ملاح تھے۔ نیلسن منڈیلا جب کیپ ٹائون میں وکٹر ورسٹر جیل سے رہا ہو کر باہر نکلے تو ایک بڑے جلسے سے عاجزی سے خطاب کیا انہوں نے ایک پُرتشدد تحریک کو ختم کیا اور نئی زندگی کا آغاز کیا۔

    اہل موبائل اور سوشل میڈیا کے دیوانوں نے ملکی سلامتی کو پس پست ڈال دیا ہے، اصل الفاظ کی چاشنی گم ہو چکی ہے کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو ۔کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو ۔ کیا کھایا کیا پہنا کہاں گھومیں۔ کس سے ملے ۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں، پھر کتنے لائق کتنے کمنٹس کتنے شیئر ، ایک محتاط انداز ے کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 93 بلین سلفیاں لی جاتی ہیں۔ اب تو بھارت کی بھی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے ۔اب تو مرنے والوں کے ساتھ سیلفی ،جنازوں کی سیلفی ،بیماریوں کی سیلفی ،کسی کو خوراک دیتے وقت سیلفی ، زکوة دیتے وقت سیلفی ، ملکی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہمنوائوں کو سیلفی سیاست سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے ملکی ترقی اورخوشحالی کے سفر میں شامل ہو کر ضرور سیلفی بنائیں تاکہ دنیا اور قوم آپ پر فخرکریں۔

  • معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بقول شاعر:
    ریت پر تھک کے گرا ہوںتوہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئے وزیر خزانہ کے لئے یہ شعر ہے لیکن کیا کہا جائے ڈاکٹر کو چھوڑ کر نرس سے آپریشن کروایا جائے گاتو مریض صحت یاب نہیں ہوگا۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے تجربہ کار اسحاق ڈار کو چھوڑ کر ،ایک بینکر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ معیشت کو مستحکم کریںگے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ایک 25 کروڑ عوام کا ملک ہے ،یہ کوئی میونسپل کمیٹی نہیں۔

    اسرائیل اور ایران کو لے کر دنیا میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چین اور تائیوان ، روس ، امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ والے ممالک بلاک بنانا چاہتے ہیں بلاشبہ پاکستان اس وقت مڈل ایسٹ اور امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس پورے خطے میں مگر قرض کا بوجھ اتنا ہے کہ ایک بینکر کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کو معیشت مستحکم کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اپنے وسائل پر توجہ د ینے کی ضرورت ہے ۔ آخر میں ہم کب تک فقیروں کی طرح مانگ کر شہنشائیوں کی طرح اُڑاتے رہیں گے۔ معیشت کی مکمل بہتری کے لئے لازمی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔ رہا سوال فلسطین ،اسرائیل جنگ اور اب ایران اسرائیل بڑھتے ہوئے جنگی ماحول اورکشمیر ،جو عالمی ادارے بنا ئے گئے تھے۔ اُن کا کردار نہ ہونے کے برار ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ،انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اقوا م متحدہ کا نسل کشی کنونشن اور جنیوا کنونشن جنگ ان کے لکھے جانے کی ان دستاویزات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن نے روانڈا میں نسل کشی کو نہیں روکا ۔ جنیوا کنونشن ویت نامیوں کو امریکی جنگی قیدیوں کو اذیت د ینے سے نہیں روکا۔ روس ا ور یو کرائن کی جنگ کو نہیں روکا۔ جن ممالک نے ان دستاویزات پر دستخط کئے انہوں نے خود پاسداری نہیں کی۔ ان عالمی اداروںں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے آج کے دور میں اسرائیل ،فلسطین ، کشمیر، مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہاہے تمام اسلامی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدوں پرمزیداورشہر میں سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔