Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز نے حقیقی تبدیلی کا رخ موڑ دیا،صوبے کی قسمت بدلنے کیلئے کوشاں
    بھارت میں مودی اور حواریوں نے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی،مسجدوں سے مند رنکل رہے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں مخبروں کے مزے ہیں، سیاسی جماعتوں میں مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے اور مخبروں کی تعدا د میں اضافہ ہو چکا ہے، ان حالات میں جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکتی ہے، بھارت کو ہی لیجئے وہاں کوئی بھارتی مسلمان جو کہیں بھی کسی شعبے میں مامور ہے، اس کی زندگی کے درپے ہیں آج کل ایک کے بعد ایک مسجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نیچے بھگوان کی مورتی نکل رہی ہے ،ہندوئوں نے اب اجمیر شریف کا رخ کر لیا ہے ،بھارتی عدالتیں قانون و آئین کا مذاق بنا رہی ہیں بھارت میں خانہ جنگی کا ماحول ہے ،ہندو بھارت میں موجود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ،بھارت میں مسلمان محفوظ نہ عیسائی م، مودی حکومت پشت پناہی کر رہی ہے ،بھارتی فوج انتظامیہ ، ہندوئوں کے ہم رکاب ہے، بھارتی عدالتیں ان کی ہم خیال ہیں،

    ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور ان کی ہم رکاب چھوٹی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے رونقیں لگارکھی ہیں ،بدتمیزی اور بداخلاقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،پاکستان اس وقت بدتمیزی، بداخلاقی، جھوٹ، فریب، جعلی ویڈیو، جعلی آڈیو کی زد میں ہے، ایک ہمارے سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں شطرنج کھیل رہے ہیں کوئی نہ کوئی ایسی چال چلتے ہیں ،امریکہ سے مغربی ممالک کے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف ہو جاتا ہے تاہم ان کی جماعت میں مخبروں کا اضافہ ہو رہا ہے،یہ جماعت بھی مستقبل میں کے پی کے تک محدود ہوتی نظر آتی ہے، پنجاب میں مریم نواز اور نوازشریف خود اور ان کے چند ساتھیوں کی توجہ کام پر ہے ،ایک کے بعد ایک مریم نواز کے ترقیاتی منصوبے، میرٹ نے صوبہ پنجاب میں تبدیلی کا رخ موڑ دیا ہے، بے گھر لوگوں کو گھر، زراعت، صفائی کے منصوبوں نے مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے ،مریم نواز کی توجہ عوام کے مصائب پر کم کرنے پر ہے ،پنجاب میں تبدیلی کا نعرہ اور حقیقی آزادی کے دونوں نعروں کو مریم نواز نے بے معنی نعرہ بنا دیا ہے،مسائل میں گھرے ہوئےعوام کی توجہ دھرنوں سے ہٹ کر مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں کی طرف ہو چکی ہے، کے پی کے حکومت، سندھ حکومت اور باقی صوبوں کو بھی چاہیے،عوامی مسائل پر توجہ دیں، افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے اور دے رہا ہے، سیاسی جماعتیں اپنی سیاست پر توجہ دیں یاد رکھیئے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں کا حل فوج کے پاس ہی دیکھتے ہیں۔

  • پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں جہاں پورن سائٹس پر پابندی ہے، وہیں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سوال اب تک کئی بار اٹھ چکا ہے کہ اگر پورن مواد غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھا جاتا ہے تو پھر نجی ویڈیوز کی شیئرنگ اور ان کا بے رحمی سے پھیلاؤ کیوں کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا؟ کیا ہم اس دوہری سوچ کا شکار ہیں؟

    پاکستان میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پورن دیکھنا ایک اخلاقی غلطی ہے اور اس پر قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، نجی ویڈیوز یا "نائیڈ” ویڈیوز کا لیک ہونا اور ان کا سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلنا ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اکثر یہ ویڈیوز مختلف افراد کی رضا مندی کے بغیر انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہو جاتی ہیں، اور ان ویڈیوز کے شیئر ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

    پاکستان میں جب کسی نجی ویڈیو کا لیک ہونا ہوتا ہے، تو اکثر افراد اس ویڈیو کو دیکھنے اور شیئر کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا معیار واضح طور پر موجود ہے کہ لوگ پورن ویڈیوز کو اخلاقی طور پر غلط سمجھتے ہیں لیکن جب بات کسی کی نجی ویڈیو کی ہو تو وہ اسے شیئر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان ویڈیوز کے پھیلاؤ سے معاشرتی سطح پر بھی بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کی صورت میں فرد کی عزت اور ساکھ پر حملہ ہوتا ہے، جس کا اثر ان کے خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ معاملہ ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد اپنے آپ کو تنہائی، شرمندگی اور بے عزتی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت کی جانب سے وی پی این (VPN) پر پابندی لگانے کا اقدام ایک طرف تو انٹرنیٹ پر مواد کی کنٹرولنگ کی کوشش ہے، لیکن اس سے نجی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کے اصل اسباب کا تجزیہ کرنا ہوگا۔نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ صرف افراد کی ذاتی آزادی یا انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرتی، اخلاقی اور قانونی مسائل بھی ہیں جنہیں بہتر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں تشکیل دینی ہوںگی جو اس نوعیت کے مواد کی تشہیر کو روکے اور ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے جو اس قسم کے ویڈیوز کو جان بوجھ کر شیئر کرتے ہیں۔

    حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ لیک ہونے والی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر سخت سزا کا تعین کیا جانا چاہیے۔حکومت کو ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس سے لیک ہونے والی ویڈیوز کو فوراً ڈیلیٹ کیا جا سکے اور ان کی تشہیر کو روکا جا سکے۔ سوشل میڈیا کمپنیز کو اس بات کی ذمہ داری دینی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی فوراً نشاندہی کریں اور اسے ہٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان کمپنیز کو پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔عوام میں اس بات کا شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ نجی ویڈیوز کا شیئر کرنا صرف اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جرم بھی ہے جو دوسرے انسان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔

    پاکستان میں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ ایک سنگین نوعیت کا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ صرف وی پی این پر پابندی لگا کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے تاکہ اس طرح کی ویڈیوز کی تشہیر کو روکا جا سکے اور ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی انتشار سے نکل کر عالمی دنیا کی بدلتی صورت حال پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کوایسی قیادت کی ضرورت ہے جوپاکستان کو داخلی انتشار سے نکال کر قوم کو متحد کرسکے ۔ دنیا میں تبدیلیاں ہونے والی ہیں خاص کر امریکی نو منتخب صدرٹرمپ نے برکس کے رکن ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ڈالر کے متبادل کرنسی کے مقابلے میں وہ خاموش رہنا پسند نہیں کریں گے امریکہ مستقبل میں برکس ممالک کے ساتھ اگر برقرار رکھے گا تو ٹیکس کے معاملے میں ان ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ ٹرمپ برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تلخی سے اظہار کررہے ہیں ابھی تک برکس کے رکن ممالک نے ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی کو متعارف کرانے کے کسی بھی فیصلے پر ابھی تک مُر نہیں لگائی۔ برکس رکن ممالک کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مستقبل کی پیش بندیوں کا اظہار کرتے ہوئے ڈالر کے خلاف ترچھی نگاہ بھی نہ ڈالیں۔ برکس کے رکن ممالک میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، مصر ، ایران ،ہندوستان اور متحدہ عرف امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں امریکہ بھارت اور مودی کی خود ساختہ دوستی کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوگے یا تو بھارت کو برکس کے رکن ممالک سے باہر آنا ہوگا یا پھر امریکہ سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی جو ناممکن ہے کہ امریکہ چپ چاپ برکس کو ڈالر سے دور ہوتے برداشت کر سکے گا۔

    ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی توجہ کا مرکز پانچ وسطی ایشیائی قازستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر بھی ہو سکتی ہے وسطی ایسیاء امریکہ کے لئے جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس وسطٰی ایشیا میں امریکی مصروفیات کو نئی شکل دینے اور اس اہم خطے میں مضبوط امریکی موجودگی کو محفوط بنانے کا منفرد موقع ہے۔ یاد رکھیے پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو صدق دل سے قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے داخلی انتشار سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور پھر مستحکم پاکستان کی جانب سفر کرنا ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھرمیں سفارتخانوں کے سفیروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی بالخصوص وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھیں بین الاقوامی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں۔

  • قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!

    کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

    مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
    انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
    "لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
    لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
    پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
    سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
    آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
    لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
    بس اب:
    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
    مسکان احزم

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے