Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وائٹ ہائوس کا نیا مکین کون ہوگا ؟بائیڈن یا ٹرمپ عالمی میڈیا کا تبصرہ جاری ہے,تاہم ٹرمپ کی امریکہ میں مقبولیت میں اضافہ ،بائیڈن کی جنگی پالیسیوں سے امریکی عوامی نفرت کا اظہار ہے،د وسری طرف بین الاقوامی برادری امریکی خارجہ پالیسی کی مستقبل کی سمت کے بارے میں بے تابی سے انتظار کررہی ہے، امریکہ کی خارجہ پالیسی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ا س کے فیصلے اور اقدامات پوری دنیا میں گونجتے ہیں، امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا دنیا کے رہنمائوں کے لئے بہت اہم ہے، بائیڈن اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی، عالمی دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ،یہ زیادہ دور کی بات نہیں،تیسری دنیا کے لئے امریکہ کی پالیسی کیا ہے اور کیا ہو گی ایک عالم گواہ ہے،

    پاکستان میں پردہ اسکرین پر جو سیاسی فلم دکھائی جا رہی ہے اس کا انجام کیا ہو گا اس کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کیا اور کہا کہ موجودہ شور شرابے کا انجام اچھا نہیں ہوگا، لگتا ہے یہ کمپنی زیاد دیر نہیں چلے گی،بلاشبہ راجہ پرویز اشرف نے درست ہی کہا عوام کی اکثریت سیاسی فلم تو دیکھ رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش ہے لیکن اس سیاسی فلم کی ناکامی کے بہت سے اسباب بھی ہوں گے ، فلم میں سنجیدہ اداکار نہیں پوری فلم مزاحیہ نظر آرہی ہے، ساری سیاسی فلم میں ہیرو نام کا کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، ایک ہیرو جیل میں، دوسرا ہیرو نواز شریف جاتی امراء میں ، تیسرا ہیرو بلاول بھٹو، ہر طرف جو کر راج کا منظر دکھائی دے رہا ہے، خدا نہ کرے یہ سیاسی فلم فلاپ ہو جائے ،یہ اپنے ساتھ پوری فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،

    جن سیاسی جماعتوں نے شہباز شریف کو ووٹ دیا اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا آنے والے کل میں بھی ساتھ رہیں گے ؟ سردست یہ دیکھنا اہم ہے کہ سانجھے کی ہانڈی میں سیاسی ابال کس حد تک آتا ہے،یہ بات طے ہے کہ ہم عوام اپنے سیاسی لیڈروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں حسینی اور یزیدی ٹولے موجود ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر ہر حد کراس کر جاتے ، حد کراس کرنے والوں کو خدا بھی معاف نہیں کرتا ،نواز شریف نام کے بھی شریف اور بحیثیت انسان بھی شریف ہیں قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن ارکان کے لئے فرد واحد کے خلاف نعرہ بازی آپ کو کو زیب نہیں دیتی.

  • یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    اس مرتبہ کا یومِ خواتین پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام …… جنہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔ مریم نواز کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ بھرپور استقامت کے ساتھ اپنا آئینی سفر مکمل کریں گی اور ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تاریخ میں سرخرو بھی ٹھہریں گی۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے فوری بعد ہی سے مریم نواز نے جو میچور سٹارٹ لیا، وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ منصب سے ایسا انصاف کم ہی وزرائے اعلیٰ کرتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر ان کی طرف سے جیسے اپوزیشن کے ساتھ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہاں تک کہ خود اپوزیشن پنجوں پر گئیں اور احوال دریافت کیا، یہ بلاشبہ ان کی مہذب شخصیت کی دلیل ہے۔

    مریم نواز کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ خود کو مختلف اور منفرد کو ثابت کرتے ہوئے صحیح معنوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بھی خود کو وقف کیا ہے۔ وہ پنجاب کی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری پر فوکس کا عزم لے کر آئی ہیں۔ اس ضمن میں وہ شارپ ویژن رکھتی ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور چادر چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں متحرک رہیں گی۔ اس کی آڑ میں کسی بھی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔ اس امر کا تجربہ ہمیں گذشتہ دنوں دیکھنے کو بھی ملا جب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے دوران بریفنگ دینے والی ایک خاتون کا سر دوپٹے سے ڈھانپا اور اس پر مخالفین کی جانب سے بلا جواز تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مریم نواز کا موقف تھا کہ کسی خاتون کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل پر تنقید کرنے والے اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، لیکن وہ اپنا کام کرتی رہیں گی۔

    اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے پہلے ہی ہفتے میں مریم نواز نے خواتین کو فوکس کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ وزارت اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کی خواتین کے نام کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر اور محفوظ پنجاب بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے منصب کو خواتین سے منسوب کرتے ہوئے ان کی ہراسمنٹ روکنے کا چیلنج لیا …… مراکز صحت کو ماں اور بچے کی صحت میں خصوصی دلچسپی لینے اور انہیں علاج کی معیاری اور بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دیں …… اسی طرح پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے خصوصی کاوشوں کا اعلان کیا …… خواتین پولیس کمیونیکیشن آفیسرز کیلئے ہاسٹل بنانے …… وویمن سیفٹی ایپ کو اپ گریڈ کر کے ری-لانچ کرنے…… خواتین کو ٹرانسپورٹ کارڈز اور سکوٹیز دینے…… بڑی تعداد میں ڈے کئیر سنٹرز بنانے سمیت دیگر اعلانات و اقدامات مریم نواز کے صرف پہلے ایک ہفتے کے کریڈٹ میں شامل ہیں …… آپ مریم نواز کے ابتدائی سات دنوں کا موازنہ کسی بھی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے کر لیں، اس قدر متحرک، مستعد اور کام کا دھنی چیف منسٹر کوئی نہیں پائیں گے۔ مریم نواز نے عزم کیا ہے کہ وہ تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتی رہیں گی اور خدمت کر کے تمام مخالفین کو غلط ثابت کریں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے اقدامات سے وہ اپنا نام تاریخ کے ابواب میں سنہرے الفاظ کی صورت رقم کرنے میں کامیاب ٹھہریں گی۔

    آج کا یوم خواتین پنجاب کی سب سے کم عمر اے ایس پی سیدہ شہر بانو کے نام سے بھی منسوب کیا جانا چاہئے جس نے اچھرہ کے بازار میں مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک خاتون کی جان بچائی۔ اے ایس پی شہربانو نے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور صنفی جرائم میں ملوث سفاک ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہر لحاظ سے پُرعزم شہر بانو نقوی انٹیلی جنس بیورو، پبلک مینجمنٹ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ کمزور خواتین اور بچوں کی حفاظت کیلئے تحفظ مراکز، پولیس اسٹیشنوں میں ڈے کئیر سنٹر کے آغاز کی کوششیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر کے قیام جیسی کاوشیں شہر بانو نقوی کی خدمات میں شامل ہیں۔ اے ایس پی شہر بانو کے اچھرہ واقعہ کو سانحہ بننے سے بچانے جیسے دلیرانہ اقدام پر انہیں پولیس کی جانب سے قائد اعظم گولڈ میڈل کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انہیں رواں سال میں عنایت کر دیا جائے گا، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف کو بھی ملاقات کے دوران اپنے ادارہ کے پلیٹ فارم سے ان کیلئے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت پاکستان کو بھی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ محض تعریفیں اور تھپکیاں انسان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتی ہیں، مگر اس کی خدمات کے اعتراف کا حق نہیں ادا کر سکتیں …… مجھے یقین ہے کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد بھی سیدہ شہر بانو نقوی ڈاؤن ٹو ارتھ رہیں گی اور تکبر کا شکار نہیں ہوں گی۔

    خواتین کی شراکت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی معاشرتی حیثیت مسلمہ ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ مریم نواز کی قیادت میں صنفی مساوات پر مبنی صوبہ تشکیل پائے گا اور پنجاب کی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے خاتون وزیر اعلیٰ کی کاوشیں تاریخ کے یادگار عنوان کی صورت میں یاد رکھی جائیں گی

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • تبصرہ کتب،نماز نبوی

    تبصرہ کتب،نماز نبوی

    نام کتاب : نماز نبوی
    مئولف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن ، تحقیق وتخریج ابوالطاہر زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    ناشر : دالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    قیمت ، ایمپوڑٹڈ ایڈیشن 1150روپے ، لوکل ایڈیشن 850روپے
    نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک نہایت اہم رکن ہے ‘ یہ عمل بھی ہے اور عقیدہ بھی ۔مومن کی پہچان بھی ہے اور معراج بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے اور ان (کافروں ) کے درمیان حدِ فاضل نماز ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ کفر کی طرف منسوب ہونے کے خوف سے منافقین بھی مسجد نبوی میں آکر نماز پڑھتے تھے ۔ نماز میں صرف زبان ہی اللہ رب العزت سے ہم کلام نہیں ہوتی ‘ بلکہ دل بھی اس کی بارگاہ میں تعظیم و محبت ‘ خوف و خشیت اور امید وانابت کے آداب بجالاتا ہے ۔ کسی نے خوب کہا ہے ـ: ’’ جب اللہ کی باتیں سننے کو دل چاہتا ہے تو قرآن پڑھتا ہوں جب اپنی سنانے کو دل چاہتا ہے تو نماز شروع کردیتا ہوں ‘‘ ۔ کیونکہ جب نمازی سورۃ الفاتحہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر ہر آیت کا جواب دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب نماز نبوی اسی موضوع پر دارالسلام کی شاہکار پیشکش ہے ۔ 380صفحات پر مشتمل اس کتاب میں نماز پنجگانہ ، نماز جمعہ ، نماز تہجد ، نماز عیدین ، نماز استسقا، سورج اور چاند گرہن کی نماز ، نماز تسبیح ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز جنازہ اور ان سے متعلقہ تمام امور زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ نماز کی فرضیت واہمیت ، اولاد کو نماز سیکھانے کی اہمیت ، ترک نماز کے نقصانات ، طہارت کے احکام ، نجاستوں سے پاکیزگی کیسے حاصل کی جائے ؟جنابت اور حیض سے متعلقہ احکام ومسائل ، غسل جنابت کیسے کیا جائے ؟ وضو کا مسنون طریقہ ، وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے ؟ تیمم کے احکام ، نمازی کا لباس کیسا ہوناچاہئے ؟مساجد کی فضلیت اور احکام ، اوقات نماز کب شروع ہوتے اور کب ختم ہوتے ہیں ؟ نماز کے ممنوعہ اوقات کون سے ہیں ؟ اذان واقامت ،قبلہ اور سترہ ،نماز باجماعت کی اہمیت ، خواتین کا نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد میں آنے کی شرعی اہمیت ؟ تکبیر اولیٰ سے سلام تک نماز کی مکمل ترتیب ، سجدہ سہو کابیان ، نماز کے بعد کے مسنون اذکار ، سنتوں کا بیان ، تہجد کی فضیلت واہمیت ، سفر میں نماز کیسے ادا کی جائے ؟ نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت واہمیت ؟ نماز عیدین اور ان کے احکام و مسائل ،سورج اور چاند گرہن کی نماز کا طریقہ ؟ نماز استسقا ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز تسبیح ، نماز جنازہ کے احکام ومسائل ، بیمار پرسی کا مسنون طریقہ ، تجہیز وتکیفین کا طریقہ ۔۔۔۔ جیسے تمام اہم موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔

    کتاب میں نماز کی اہمیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بلاشبہ نماز ایک مکمل عبادت ہے جو بدنی ‘ قولی اور قلبی عبادات کا حسین امتزاج ہے ۔ لیکن اس کی قبولیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ادا کیا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ نماز کے متعلق ہر کتاب کی پیشانی پر یہ حدیث نبوی ’’( نماز اسی طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھاہے ‘‘ )ضرور لکھی جاتی ہے۔ لہذا قبولیت کیلئے ضروری ہے کہ نماز سنت نبوی کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے تب ہی نماز اللہ کے ہاں قبولیت کے درجات طے کرے گی ۔ زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔یہ کتاب گرامی قدر ڈاکٹر سید شفیق الرحمن نے ترتیب دی ہے جو جامع سلیس اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں احادیث رسول و آثار سے مزین ہے ۔ نماز سے متعلق تمام موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے مبالغہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور مستند دستاویز ہے ۔ اس کتاب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث شامل کی گئی ہیں جبکہ ضعیف احادیث سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ احادیث کی تحقیق و تخریج معروف عصر حاضر کے معروف اور محقق عالم دین حافظ زبیر علی زئی مرحوم نے کی ہے۔ نیز کتاب پر نظر ثانی کا کام بھی ثقہ علماء کرام نے نہایت محنت اور نظر عمیق سے سر انجام دیا ہے اور حسب ضرورت حواشی بھی تحریر کیے گئے ہیں ۔ ان گرامی قدر علماء میں مولانا عبد الرشید ناظم ادارہ علوم اسلامیہ جھنگ ‘ مولانا اللہ یار مدرس دار الحدیث الحمدیہ جلال پور پیرا نوالا ‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ، دارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر مولانا عبدالجبار شامل ہیں ۔ اس طرح سے یہ اپنے موضوع پر ایک مستند اور جامع دستاویز بن گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے کراچی میں دارالسلام مین طارق روڈ کراچی(0321-7796655) اور اسلام آباد میں دارالسلام مرکزF-8 اسلام آباد (051-2281513) پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں ن لیگ ، سندھ پیپلزپارٹی، کے پی کے پی ٹی آئی اور وفاق میں مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت سچا پیار نہ ملنے کا گلہ نہیں کر سکتی، اب پارلیمانی سیاست کے پلیٹ فارم یعنی اسمبلیوں میں عوام کے حقو ق کا دفاع کیا جائے، دھرنوں غل غپاڑے، دھینگا مشتی کے ذریعے وطن عزیز اور جمہوری روایات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، وطن عزیز اور عوام کو بحرانوں سے نکالنے کا وقت آ گیا ہے، غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے ،قومیں کبھی دو عملی اور دو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہوتیں،اپنے وسائل پر توجہ دیں، کشکول پکڑے ہم کب تک عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے قطار بنائے کھڑے رہیں گے؟ بین الاقوامی مالیاتی ادارے وطن عزیز کو اپنی انگلیوں پر کس اطمینان سے نچاتے ہیں ،اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ،واحد حل یہی ہے کہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا، وطن عزیز کی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں، الزام تراشیوں کی سیاست سے نکل کر پاکستان کو بطور ریاست مستحکم کرنےاور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں، وطن عزیز اور عوام کے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا،سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے،

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے،کہاں غلطیاں ہیں ہم آج تک عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض کیوں ہیں؟ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کیوں نہیں،ہم آج تک بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار ہیں کیوں؟ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے،اب وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان اور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں باقی سب راستے غلط ہیں۔

  • غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت جاری ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک اس عالمی عدالت میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ امریکی صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی نے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات بائیڈن کی دوبارہ کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں جنگ مخالف غصہ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہائوس واپسی کا اشارہ دے رہا ہے۔

    غزہ کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ذرا چند ثانیوں کے لئے رک جایئے اگر آپ باپ بھی ہیں تو تھوڑا تصور کیجئے کہ جیتے جاگتے بچوں میں اور اس معصوم میں کیا فرق ہے سبھی کے دو ہاتھ ،دو پائوں، دو آنکھیں. ایک جیسے مگر غزہ میں اس پھول کو کھلنے کی اجازت نہیں۔ سوال نیتن یاہو اور امریکی صدر بائیڈن سے ہے کیا ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں؟ تم سب اہل کتاب ہو یہ ساری کائنات اور یہ سارے گورکھ دھندے اور نظام ارض و سما کسی دیوانے، (نعوذ باللہ) کا کھیل بھی نہیں ہے اور نہ کسی جادو گر کی ساحری کا امتیاز، بلکہ یہ مالک ارض و سما کے حکم کا ایک ادنیٰ سا نمونہ اور شاہکار ہے ۔ادھر کن کہا اور ادھر ہو گیا۔ اس کی طاقت آج بھی وہی ہے اس کا دائرہ اختیار بھی لامحدود ہے اور اس کے سامنے ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹے سے چھوٹی چیز بھی اسی طرح اس کے حکم کی محتاج ہے جس طرح روز آفرینش کو تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے معاملات جدا جدا ہیں کبھی کوئی عروج پر ہے اور کبھی کوئی۔ دنیا بھر کے وہ حکمران جو ضمیر فروش ہیں،

    فطرت الٰہی کے سرکشو، دولت کے پجاریو تمہیں نوشتہ دیوار نظر نہیں آتا۔ تم سے پہلوں کا کیا حشر ہوا؟ ذرا ڈھونڈو کہاں ہیں وہ سارے۔ اس عالم فانی سے ایک دن کوچ کرنا ہے خدا کی زمین پر قتل و غارت اور فساد پھیلا کر تم کس منہ سے روز محشر میں خدا کا سامنا کرو گے۔ ملکی اہل سیاست سے، سیاستدانوں کے طاقتور حلقوں سے، یہ پاکستان کی زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، دھرنوں، غل غپاڑے، دھینگا مشتی، سوشل میڈیا پر خیال پروروں کے ذریعے وطن عزیز کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے وطن عزیز کی اپنے گھر کی طرح حفاظت کی جائے۔ غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے۔ دنیا کے حالات دیکھ کر ہوش کیا جائے۔

  • ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کے حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں،اقتدار اور اختیارات کی جنگ ہمیں کہاں لے جائیگی یہ کہنا قبل از وقت ہے،تاہم سیاستدانوں کی اکثریت ایسی ہے،جنہوں نے جمہوریت کے نام پر ملک وقوم سے کھلواڑ کیا،آج پاکستان اور قوم جن مسائل سے گزر رہی ہے اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان ہی ہیں اس وقت ملک میں سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،دوسری جانب سوشل میڈیا، وی لاگرز،یوٹیوبزر نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا ہے کہ خدا کی پناہ ،ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے،جس ملک میں سیاستدان ایک دوسرے کو غدار اور عالمی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیں-

    کیا وہاں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رہ سکتی ہے وہاں عوام کیسے خوشحال ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ،جمہوریت کے دعویداروں سے سوال ہے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک قومی لیڈر کے خلاف جو نعرے بازی کی گئی کیا جمہوری اصول اس کی اجازت دیتے ہیں؟بلاشبہ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں لیکن ایک جمہوریت کے دعویدار جماعت کے چہیتوں نے جس زبان میں اور کلمات میں پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں نواز شریف کے خلاف نعرے بازی کی ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل نفرت بھی ہے، یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے اس ملک کودفاعی لحاظ سے مضبوط کیا ایٹمی طاقت دیکر نہ صرف دشمن کو منہ توڑ جوب دیا بلکہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا،لیکن اس ملک کی سیاست کی ستم ظریفی دیکھیں اسی نواز شریف کو کبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی –

    نوازشریف 1985 ء سے پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں،ملک کی خوشحالی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا،سی پیک جیسے میگا منصوبے دئیے، شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت بنائی گئی جس میں پیپلزپارٹی برابر کی شریک تھی،اس نے نواز شریف جیسے مدبر سیاستدان کی شہرت کو بھی داغدار کردیا،نواز شریف پاکستان ہی نہیں اس خطے کے تجربہ کار سیاسی لیڈر ہی-

    افسوس کہ ہم نےاپنے سیاسی لیڈروں کی قدر نہیں کی جس کا خمیازہ آج ملک وقوم دونوں بھگت رہے ہیں-جس طرح نواز شریف کے خلاف لندن سے لے کر پنجاب اسمبلی تک نعرے بازی کی گئی ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک پلان کے تحت قوم کوسیاسی یتیم بنا یا جا رہاہے،جس طرح ان کے خلاف کیا جا رہا ہے ،وہ ہرگز مناسب نہیں، شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے وہ افراد جنہیں صرف اقتدار میں رہنے کا شوق ہے وہ اپنے قائد کا دفاع کریں،جن حالات کاعوام کو سامنا ہے ، افق پر گہرے بادل دکھائی دے رہے ہیں کیسے لکھوں کہ ان گھنگور اور تاریک گھٹائوں کے حاشیے پر سنہری کرن دکھائی دے رہی ہے جو تابناک سحرکی نوید دیتی ہے ہرگز نہیں۔

  • تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    قیمت : پاکٹ سائز 190روپے ، میڈیم سائز 250روپے ،لارج سائز 390روپے
    برائے رابطہ : 024-37324034
    رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ رمضان المبارک میں فرضی نماز ہو یا نوافل یا روزمرہ کی دعائیں ان کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ انسان یہ سب عبادات مسنون طریقے کے مطابق بجا لائے ۔ عبادات میں سے نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے ۔ حدیث کی رو سے یہ دین کا ستون اور معراج کا عظیم تحفہ ہے ، روزِ قیامت سب سے پہلے نماز ہی کی پرشس ہوگی ، لہٰذا نماز کی حفاظت کے پیش نظر دارالسلام انٹر نیشنل نے زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کا نام علمی دینی حلقوں کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے ۔ وہ جید عالم دین، محقق، مفسر ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ، وفاقی شرعی عدالت کے جج اور کتب کثیرہ کے مصنف تھے ۔اردو کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں بھی ان کی کتابوں کے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ کے عنوان سے حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی مختصر مگر بہت جامع کتاب ہے جس میں نماز کے احکام کے علاوہ طہارت اور وضو کے مسائل ، نیز مسنون اذکار اور دعائیں بھی شامل کی گئیں ہیں ۔ یہ بات خلاصہ کلام کی حیثیت رکھتی ہے کہ نماز ہی مسلم و غیر مسلم کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے ۔ اسی لیے ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ نماز پابندی سے اور مسنون طریقے سے ادا کرے ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے ۔ کتاب میں غیر ضروری اور پیچیدہ مباحث سے پرہیز کیا گیا ہے ۔یہ بات بلا خوف تردید کی جاسکتی ہے کہ نماز کے متعلق کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اس کتاب میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ کتاب کے معنوی حسن کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری حسن کو خوبصورت کتابت نے چار چاند لگا دیے ہیں ۔ الحمد اللہ ، ان خوبیوں نے اس کتاب کو نماز کے موضوع پر لکھی گئی تمام کتب میں منفرد بنا دیا ہے ۔ کتاب میں نماز کے طریقہ نبوی کے علاوہ نماز پنجگانہ یعنی پانچ فرض نمازوں اور دیگر نمازوں کی تفصیل، ان کے ضروری احکام و مسائل اور روز مرہ کی دعائیں شامل ہیں ۔

    کتاب کی چند امتیازی خصوصیات درج ذیل ہیں :
    کتاب میں صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے ۔ تفصیل کی بجائے اختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض جگہ حوالوں کے بغیر بھی بہت سے مسائل بیان کیے گئے ہیں لیکن ایسا صرف اختصار کے پیش نظر کیا گیا ہے ورنہ کوئی مسئلہ بے دلیل نہیں ہے ۔ اکثر جگہوں پر حوالے موجود ہیں اور وہ مکمل شکل میں ہیں یعنی کتاب ، باب او ر حدیث نمبر تاکہ دلیل اور حوالہ کا متلاشی آسانی سے اصل کتاب تک رسائی حاصل کرسکے ۔ نماز اور دعاﺅں کا ترجمہ لفظی کیا گیا ہے تاکہ ہر لفظ کا ترجمہ سمجھ میں آجائے ۔ نماز اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے لیکن بد قسمتی سے اس سے بے اعتنائی بھی عام ہے ۔ اکثر لوگ تو اس فریضے سے بالکل ہی غافل ہیں او ر جو نمازی ہیں وہ بھی نماز میں تعدیل ارکان اور خشوع خضوع کا قطعاََ اہتمام نہیں کرتے ۔ اس لیے نماز کی حقیقت سے وہ بھی بے خبر اور اس کے فوائد سے یکسر محروم ہیں ۔ حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کامیابی کی نوید انہی اہل ایمان کے لیے بیان کی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع کا اہتمام کرتے ہیں ۔ نماز میں خشوع اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک سنت نبوی کے مطابق نماز نہ پڑھی جائے ۔ اس کتاب میں نماز کا طریقہ اس کے دیگر احکام و مسائل ، سب سنت رسول ﷺ ہی کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں ۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اس کتاب کا مطالعہ تمام مردو خواتین ، بچوں بزرگوں کےلئے بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے امیدیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے امیدیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)مریم نواز نے بطور نامزد وزیراعلیٰ پنجاب پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں اپنی حکومت کی ترجیحات مقرر کر کے صوبے کے عوام بالخصوص غریب اور مڈل کلاس طبقوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر ، امن و امان اور دیگر سہولیات کو ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور قصبہ، گائوں کی سطح تک پہنچانے کا عزم اور عوام کی مایوسیوں کو دور کرنے اور حکومت پر اعتماد کی بحالی انتہائی ضروری ہیں، کسی بھی حکومت کی پہلی ترجیح امن و امان ہوتی ہے اس سلسلے میں سیف سٹی لاہور کی طرز کا نظام پنجاب کے بڑے شہروں تک بڑھایا جائے، پنجاب میں پولیس افسران کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کی خود نگرانی کریں ،صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کریں، آئی جی پنجاب کو تبدیل کرنے اور چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کو فری ہینڈ دیں تاکہ یہ افسران اپنی مرضی سے صوبے میں تعیناتیاں کریں،

    گزشتہ چند سالوں میں نگران حکومت کو چھوڑ کر پنجاب حکومتوں کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو بھاری رشوت کے عوض من پسند اضلاع میں سی پی او، ڈی پی او، ڈی سی، اے سی، اور تحصیلدار حتی کہ پٹواریوں کی تقرریوں کی روش کی تقلید ہر محکمے میں معمول بنی رہی،ناقابل یقین حد تک سرکاری عمارات اور دیگر پروجیکٹس کی تعمیر و تکمیل اخراجات کے بلند تخمینوں اور کمیشن کٹوتیوں کا جو رواج محکمہ تعمیرات اور بلدیات میں ڈالا گیا اس سے بیورو کریسی اور ٹھیکیدار کروڑ پتی سے ارب پتی بن گئے اورعوام کے خون پسینے سے کشید کردہ ٹیکسوں کا بے دریغ ضیاع دیکھنے میں آیا .

    مریم اپنے قائد نوازشریف کے نقش قدم اور رہنمائی پر چلتے ہوئے بلاشبہ صوبہ پنجاب کی حکومتی مشینری کو نہ صرف لگام ڈالیں گی بلکہ کرپشن اور سفارش کا قلع قمع اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے شفاف نظام کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی ،ضرورت اس امر کی ہے کہ رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فارمولا اپنایا جائے ،کھڈے لائن لگائے گئے سول انتظامیہ، اعلیٰ پولیس افسران کی جانچ پڑتال کے بعد فیلڈ پوسٹنگ دی جائے ،نامزد وزیراعلیٰ کے پی کی طرح پولیس افسران کو دھمکیاں نہ لگائی جائیں، تمام محکموں کو وقت کی پابندی یعنی صبح سے بارہ تک عوام کی شنوائی اور مسائل کا حل ہوتا نظر آئے، ملاوٹ کے بے خوف و خطر اور من مانے نرخوں کا کنٹرول مدنظر ہونا چاہیے تاکہ پنجاب میں نوجوان خواتین اورنوجوانوں کو حقیقی تبدیلی نظر آئے،جس طرح نوازشریف نے اپنی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کو تبدیل کیا ترقیاتی کاموں کے حوالے سے، ماحولیاتی آلودگی، زراعت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، صوبے کےعوام کو انتہائی اعلیٰ کارکردگی کی حامل ٹیم کے ذریعے کرپشن، کمیشن، لینڈ مافیا سے پاک نظام کو عمل میں لانا ہوگا، امید ہے نامز وزیر اعلی پنجاب مسلم لیگ ن اور نوازشریف کی طرف سے سونپی جانے والی بھاری ذمہ داری کو سرانجام دینے میں دن رات کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گی۔