Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی عوام دوست پالیسیوں کا گراس روٹ لیول پر اثر کیوں نہیں ہو رہا؟ رمضان پیکج اور الیکٹرانک سکوٹر برائے طلباء سکیم رنگ کیوں نہیں دکھا رہی ؟ مشاورت کے عمل میں کوئی خامی یا بیورو کریسی کے روایتی فریب سےرمضان نگہبان پیکج میں اُمراء، صاحب ثروت اور متنول گھرانوں شامل ہوگئے، معذور اور انتہائی مستحقین کیسے نظر انداز ہوئے ؟ اساتذہ سے محروم طلباء اور طالبات سرکاری کالجوں سکولوں سے دور رہنے پر مجبور لیکن ان کے لئے آسان قرضوں پر سکوٹیاں کیا رنگ لائیں گی شہری کالجوں ،سکولوں میں اساتذہ کی بھرمار طلباء ناپید ،دیہاتی کالجوں سکولوں میں طلباء کی بھرمار اساتذہ کی عدم دستیابی،قرضوں سے ادا کی جانے والی تنخواہوں کی افادیت کیسے حاصل ہوگی؟ بلاشبہ مریم نواز نے عوامی خدمت اور عوام کی شنوائی کیلئے دن رات ایک کررکھا ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات و ثمرات کو گراس روٹ سطح پر پذیرائی تب ملے گی جب بگڑے ہوئے نظام کی درستی اور دور اندیش مشاورت پر انحصار ہوگا،اس امر کی جامع مثالیں رمضان پیکج اور الیکٹرک سکوٹر سکیم ہے، رمضان سکیم میں جو ڈیٹا لیا گیاوہ نادرا سے حاصل کیا گیا اور فیلڈ کے تقسیم کے عمل میں تقریبا50 فیصد ایسے گھرانوں کو رمضان پیکج پہنچانے کی کوشش کی جو صاحب ثروت اور متنول گھرانے ہیں جبکہ معذور افراد اور حقیقی غربا محروم رہ گئے،اس تقسیم کار میں اگر نادرا کی بجائے سوشل ویلفیئر پنجاب، بیت المال اور زکواة کے کھاتوں میں رجسٹرڈ افراد کو شامل کیا جاتا تو عوام کی حقیقی خدمت کا احساس اجاگر ہوتا، جس رفتار سے یونین کونسل اور گائوں محلہ کی سطح تک گھر دروازے تک راشن پہنچایا جا رہا ہے اگر اس سرعت کے ساتھ لوکل انتظامیہ نمبردار نیٹ ورک کے ذریعے حقیقی مستحقین کی رجسٹریشن کرتی تو یہ صرف ایک ہفتہ میں مکمل کی جا سکتی تھی جس کی طرف کسی وزیر مشیر نے توجہ نہیں دی، بیورو کریٹ بھی سب اچھا ہے کی صدائیں بلند کرتے رہے،ادھر الیکٹرک سکوٹروں کی کھیپ پر خطیر رقم خرچ کرکے طلبا و طالبات کو نئے کھلونے دئیے جا رہے ہیں،پنجاب کے کالجوں میں سینکڑوں کالج ایسے ہیں جن میں کمپیوٹر ٹیچرکی پوسٹ ہی موجود نہیں، لاکھوں طلباء وطالبات کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم سے محروم ہیں جو کہ دور جدید کی اہم ترین ضرورت ہےگذشتہ ادوار میں دیہی کا لجوں اور سکولوں میں اساتذہ کی انتہائی کمی واقع ہوئی جبکہ شہری علاقوں کے کالجوں میں طلباء کی تناسب سے کہیں زیادہ اساتذہ مفت کی تنخواہیں ڈکارتے رہے جو قومی اور صوبائی خزانے پر بوجھ ہے،اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے نہ صرف شہری بلکہ دیہات کے کالجوں میں بھی تعیناتیاں کی جائیں ، ججوں کی طرح اساتذہ کی ملازمت کی عمر میں اضافہ ضروری ہےتاکہ ان کے تجربات اور پیشہ وارانہ مہارت سے قوم زیادہ سے زیادہ مفید ہو سکے،

    ایک رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں بڑھتے جرائم جن میں ڈکیتیاں ،گاڑی چوری ،قتل وغارت، قبضہ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم شامل ہیں ، سی سی پی او لاہور کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جنہیں تمغہ خدمت سے نوازا گیا ہے۔

  • ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی  مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے جبکہ افغانستان کو بھی غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔دونوں اسلامی ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا مقصد چین ہے اور چین کو کمزور کرنے کا مقصد امریکہ کی پالیسی ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں میں موجود چند سیاستدان اپنے مفادات کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں اور کہہ بھی رہے ہیں کچھ سیاستدان حقائق کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ملک کی سیاسی جماعتیں اور ان سیاسی جماعتوں میں چند سیاستدان ملکی سلامتی کے اداروں پر چڑھ دوڑے ہیں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر وہ کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کر رہی ہیں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر جام شہادت مگر دوسری طرف سوشل میڈیا، وی لاگرز، یوٹیوبر اور الیکٹرانک میڈیا پر انہی ملکی سلامتی کے اداروں پر افواہ سازی کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پاک چین راہداری کے منصوبے پر تکیہ کئے بیٹھا ہے جن ممالک کو ہمارا یہ منصوبہ کھٹک رہا ہے وہ اپنی کوششوں میں مصروف ہیں پاکستان میں بدامنی پھیلا کر اس اہم منصوبے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم میں اس تاثر کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور ایک منصوبے کے تحت ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے قوم کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دینی چاہئے، بلاشبہ سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال ہے تاہم ملکی سلامتی کے ادارے ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو سیاستدان، دانشور، ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر اپنے ہی سلامتی کے اداروں کے بارے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ فوجی بھائی فوجی بھائی ہوتے ہیں یہ شہید ہوتے ہیں یا غازی ہوتے ہیں۔ قوم اپنے فوجی بھائیوں کے حق میں دعائیں کیا کریں۔

  • تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کی جنگ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک جنگ روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟ عرب دنیا اور دیگر اسلامی ممالک بھی ناکام ہی ہیں اس کی بنیادی وجہ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک بھی عظیم عالمی رہنمائوں سے محروم ہیں۔ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ماملک بھی رہنمائوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جو عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک صدیوں سے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے بہتے لہو کو نہیں روک سکا وہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کوکیا کردار ادا کرے گا؟ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے سامنے کشمیر کو لے کر پاک بھارت جنگیں بھی ہوئیں اقوام متحدہ دیگر عالمی ادارے کچھ نہیں کرسکے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کا بھی یہی حال ہے ان ممالک کا بھی ایسا ہی حال ہے ۔ ان قوموں کی رہنمائی بڑی بڑی قد آور سیاسی شخصیات کے ہاتھوں میں تھی۔ ونسٹن چرچل ، جرمن چانسلر ولی برپنڈٹ مارگریٹ تھیچر، چارلس ڈی گال ، جان ایف کینیڈی ، ہیلمٹ کوہل اور حال ہی میں انجیلا مرکل ، عرب ممالک دیگر اسلامی ممالک امریکہ سمیت مغربی ممالک میں شاندار لیڈروں کا دور اب ختم ہو گیاہے ۔

    امریکہ سمیت پوری دنیا میں اب سیاسی لیڈروں کے بڑے بڑے مالیاتی اسیکنڈل سامنے آتے ہیں۔ موجودہ دور میں بین الاقوامی برادری غیر مستحکم دور سے گزرر ہی ہے امریکہ اور چین کے تعلقات کا جائزہ لیں دونوں ممالک کے تعلقات ٹھیک نہیں۔ چین امریکہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے چین کو کمزور کرنے کے لئے امریکہ طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے ۔ بھارت کی پشت پناہی ہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ بھارت امریکہ کی پشت پناہی میں افغانستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پشت پناہی بھارت ہی کرتا ہے۔ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر اپنی فوج کے ذریعے ظلم کررہا ہے۔ 23 مارچ قریب ہے ۔ 23 مارچ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا درس دیتا ہے ۔تاریخ کا سبق یاد رکھنے کی آواز لگتا ہے 23 مارچ دشمن کے سامنے سراُٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے۔ ارض وطن میں خون کی ہولی بند ہونے کی دہائی دیتا ہے ۔ جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی آج پاکستان کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اُس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا۔

  • تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تیس دروس اور مخصوص مسائل پر مستند فتوی
    مصنف : ابو انس حسین بن علی
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 96
    قیمت : 190روپے
    احکام ومسائل میں خواتین مردوں کے تابع ہیں ، اس لئے کتاب وسنت میں عمومی طور پر مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ لیکن کئی مسائل عورتوں کے ساتھ خاص ہیں ۔ خصوصاََ رمضان المبارک کے حوالے سے خواتین کو کئی ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو عام طور پر بیان نہیں کئے جاتے ۔ خصوصاََ جو خواتین مسجد نہیں جاتیں وہ زندگی بھر ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہیں ۔ اس ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب دارالسلام نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں مختصراََ ان تمام مسائل کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق خواتین اور رمضان المبارک سے ہے۔ تمام مسائل قرآن مجید اور مستند احادیث سے بیان کئے گئے ہیں ۔ انداز بیان بہت دلچسپ، عام فہم اور عام کتابوں سے منفرد ہے ۔ کتاب روزوں کے ایام کی مناسبت سے تیس دروس پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلے بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک کااستقبال کیسے کیا جائے؟ ماہ رمضان سے استفادے کا پروگرام کیسے ترتیب دیا جائے؟

    رمضان کے حوالے سے خواتین کے لئے نہایت بیش قیمت نصیحتیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔ بتایاگیا ہے کہ مرد اور عورت اعمال وثواب میں برابر ہیں ، مسلمان خواتین کے لئے جنت کاآسان راستہ ، خواتین اور زیورات کی زکوة ، زیورات کی زکوة نکالنے کا کیا طریقہ ہے ؟ خاتون خانہ کے لئے نماز تراویح ، حیض ونفاس ، حاملہ اور دودھ پلانے والے خاتون ، بوڑھی عورت جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، مانع حیض گولیوں کے استعمال کے کیا احکام ہیں ، بچی پر روازہ کب واجب ہوتا ہے ؟ جنتی خواتین کون ہیں ۔۔۔۔؟ بعض ایسی گھریلو برائیوں کی نشاندھی کی گئی ہے جن سے ایمان اور روزے کی حفاظت کے لئے اجتناب ضروری ہے ۔ خواتین اور صدقہ ، اخراجات میں اعتدال اور افراط وتفریط سے اجتناب کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت ، خواتین کے مسائل کے حوالے سے چنداہم فتوے خواتین کے ذوق مطالعہ کی نذر کئے گئے ہیں ۔ خواتین کی مجالس ، فرماں بردار خواتین کی دعائیں ، بچوں کی تربیت اور خاتون خانہ ، دعا کامرتبہ ومقام اور آداب ، چندقرآنی دعائیں ، رسول ﷺ کی مسنون دعائیں ، مسلم خاتون اور عید ، رمضان کے بعد عمل قبول ہونے کی علامات ، رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت ، کیا عورت عورتوں کو نماز تراویح کی امامت کرواسکتی ہے۔۔۔۔؟ حیض ونفاس والی عورت کاقرآن مجید، کتب حدیث پڑھنااور دعائیں کرنا ، نماز تراویح میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرآت کرنا ، مستورات کااعتکاف جیسے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہماری ہر ماں ، بہن ، بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے تو وہ جہاں بہترین مومنہ صالحہ بن سکتی ہے وہاں وہ رمضان لمبارک کی رحمتوں ، سعادتوں اور برکتوں کو بھی سمیٹ کر جنت کی حقدار بن سکتی ہے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • مفاداتی سیاست  کرنے والے  ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفاداتی سیاست کرنے والے ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں ایسے ادوار آئے اور چلے گئے مضبوط سیاسی لیڈر موجود تھے۔پاکستان ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں لیڈر نظر نہیں آتے تاہم ناقص ترین کارکردگی کے نام نہاد رہنما نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور قوم اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، سیاسی نظریات کو دفن کرکے مفاداتی سیاست کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جانے لگا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی لیڈرشپ کا فقدان کیوں ہو رہاہے۔ شاندارلیڈر شپ کا دور بظاہر ختم ہورہا ہے ۔ نواز شریف جو اس ملک کے سینئر ترین سیاستدان ہیں ،عمران خان بلاشبہ جو اس وقت جیل میں ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہیں۔انہوں نے سینئر ترین سیاستدان نواز شریف کے خلاف ایسی سازش کی کہ ان کو لندن ان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہائوس اور گلی چوراہوں میں منی لانڈرنگ اور چور ثابت کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا اسے پاکستان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے آج وہ خود اور ان کی جماعت بھگت رہی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کے خلاف اس سازش میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مبینہ طور پر چند اشخاص بھی شامل تھے۔

    ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے دعویداروں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کیا کردار ادا کیا ؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے، آئین اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جس کے ذمہ دار خود سیاستدان ہیں۔ سیاستدانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے تحت ان کی تابع رہے۔ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست رکھیں۔ آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے آپ کی پسند وناپسند مختلف ہوگی لیکن فوج تو اپنی ہے اور ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہے۔ جن کی وجہ سے آپ کی سیاست بھی قائم ہے ۔ سیاستدانوں کی جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کم عقل سیاستدان ملک میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دارفوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ماضی اور حال میں فوج کو سیاستدا ن سو کنوں کی طرح طعنے ہی دیتے ہیں ، سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے۔

  • دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسلم لیگ (ن) کے اصل میرکاررواں نوازشریف تھے مگر اس کاررواں میں شامل (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمیٰ میں جاکر درخواست دائر کرتا کہ نواشریف کو تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا اس کے اسباب کیا تھے؟ بھٹو کا مقدمہ پیپلزپارٹی لے کر عدالت میں گئی ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھٹو کا ٹرائل درست نہیں تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دینا اس کا نقصان ملک و قوم کو جو ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف نے استحکام پاکستان اور قوم کے سہانے مستقبل کا خواب دے کر بھاری قیمت ادا کی ۔قربانیوں کی اس داستان میں اپنے والدین سے جدائیاں اپنی شریک حیات سے نزع کے عالم میں پابند سلاسل کی کال کو لبیک کہا یہ وہ واقعات ہیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ اقتدار کے پجاری اقرباء اور رفقاء نے جس تیزی سے پیٹھ دکھائی وہ کہانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے میر کاررواں کی کشتی میں سوار، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو کشتی میں سوراخ کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاک فوج اور جملہ اداروں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے غور کریں اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی یا فوج دھاندلی کرتی تو کے پی کے کیا پہنچ سے دور تھی ،وہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں اگر پاک فوج اور جملہ ادارے دھاندلی کرتے تو کیا بانی پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی ملتی؟

    سیاست چونکہ ایمانی باتوں سے دور ہے اس لئے شکوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سابق ادوار میں نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھ کر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی نشستیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی۔ ملک کے معاشی، سیاسی حالات کے پیش نظر اپوزیشن اگر حکومت کے ہمرکاب ہونا نہیں چاہتی تو قومی مسائل جس میں معیشت اہم ہے رخنہ اندازی نہ کرے اداروں کو متنازعہ بنانے کے عمل سے گریز کیا جائے عوام کی اکثریت مہنگائی ، بیروزگاری اور دیگر مسائل جن کا عوام کو سامنا ہے بیزار ہے۔ اپنا رخ شور شرابے کے بجائے ملک و قوم کی طرف موڑ دیا جائے

  • وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ عرب ممالک کی ترقی کے راز میں جہاں بہت سے دوسرے عوامل شامل ہیں و ہاں وقت کی پابندی شامل ہے۔ نظام کائنات بھی پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے ۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ چاند سورج کا ایک مقررہ وقت ہے۔ انسان اگر وقت کی پابندی کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی یا نااہلی کے سوا کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیاہے۔ وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے۔ ملک میں حکومتوں کی ناکامی کی ا یک وجہ وقت کی پابندی ہے بالخصوص بیورو کریٹ، سول انتظامیہ ، وقت کی پابندی کرنا شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

    بلاشبہ مریم نواز نے صوبے میں نئی روایت ڈالی ہے۔ صوبائی کابینہ کی اکثریت نئے اور پڑھے لکھے وزراء کی ہے جو قابل تحسین ہے ۔ پنجاب میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح ا ورترقیاتی عمل کی بحالی بلاشبہ عوام میں اُمید کی کرن پیدا ہو گئی ہے مگر اس سمت میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مزید اقدامات اٹھانا ہوںگے۔ چیف سیکرٹری ، صوبائی سیکرٹری ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، تحصیل آفس میں اسسٹنٹ کمشنر ، تحصیلدار ، پنجاب میں ہر سرکاری محکمے میں کسی بھی دفتر میں عملہ حکومت کا چہرہ ہوتا ہے تمام حکومتی عملہ کو وقت کا پابند بنایا جائے ۔ قومی فریضہ جان کر حکومتی عملہ عام آدمی کے مسائل حل کرے عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ عام آدمی کو غلام سمجھنے کی بجائے خادم بن کر اُن کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردارا دا کرے۔ عوام تک حکومت کی رسائی اور رہنمائی یقینی بنائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی حکومت اور گڈ گورننس کا عمل نظر آئے ۔

    آج بھی پنجاب میں چیف سیکرٹری کے ماتحت سول انتظامیہ مغلیہ دور کے شہزادوں کے طرز پر زندگی گزار رہی ہے ۔ کسی بھی ضلع میں کمشنر سے لے کر تحصیلدار تک وقت پر دفتر نہیں آتے ،عام آدمی کی رسائی نہ دربار میں اور نہ سرکار میں اگر سول انتظامیہ کا مغلیہ دور کے شہزادوں کا طرز ندگی رہا تو پھر گڈ گورننس ایک سوالیہ نشان رہے گا۔

  • تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    نام کتاب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : 190روپے
    صفحات : 188
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” رمضان المبارک فضائل ، فوائد وثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام “ سے واضح ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی مفید، جامع اور رہنما کتاب ہے۔ یہ کتاب دینی کتابوں کے مستند عالمی ادارہ ” دارالسلام انٹر نیشنل کی شائع کردہ ہے ۔ کتاب کے مصنف معروف عالم دین، مفسر قرآن فضیلتہ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں ۔ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے لکھنے کاحق ادا کردیتے ہیں ۔ انھیں اللہ تعالی نے دین و شریعت کے علم کا پختہ رسوخ عطا فرمایا تھا ۔ ایک مصنف کی حیثیت سے ان کے قلم میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر موضوع کو جہاں کتاب و سنت کے استد لال سے مزین کرتے ہیں ‘ وہاں اس کی پیش کش میں ایک ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں جس میں سلامت ‘ روانی ‘ شگفتگی‘ وضاحت اور تحریر و انشاءکے تمام اوصاف موجود ہوتے ہیں ۔حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی پیش نظر کتاب۔۔۔۔ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔

    کتاب میں بتایا گیا کہ ہم رمضان المبارک کااستقبال کیسے کریں ، رمضان المبارک کے خصوصی اعمال وظائف ،صحیح احادیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت وفرضیت ، روزے کے فوائد وثمرات ، روزے کے احکام ومسائل ،روزے کی تعریف ، روزے کے ضروری احکام ، کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، قضائے روزہ، اعتکاف ، تروایح ، صدقة الفطر کے مسائل جیسے اہم موضوعات کتاب میں بیان کئے گئے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں روزے کی فرضیت اور اس کے مختصر احکام بیا ن کیے گئے ہیں مگر روزوں کا مکمل نقشہ احادیث کی کتابوں میں پوری تفصیل اور تشریح کے ساتھ موجود ہے جبکہ روزوں سے متعلق تقریباََ تمام صحیح احادیث اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں ۔ جہاں تک رمضان المبارک کی عبادات اور فضائل و برکات کا تعلق ہے اس پر درجنوں صحیح احادیث پیش کی جاتی ہیں مگر رسول ﷺ کا یہ فرمان کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے ‘ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ یہ ایک عظیم خوشخبری اور بشارت ہے ‘ جس سے محرومی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ لیکن یہاں ایک بات پر خصوصی توجہ رہنی چاہیے کہ اتنے بڑے انعام کا استحقاق صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب رمضان المبارک کے روزے مسنون طریقہ پر رکھے جائیں اور ایمان و احتساب کی شرائط کو پورا کیا جائے‘ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اس مقصد کیلئے دارالسلام کی یہ کتاب اہل ایمان کے لئے لاجواب اور نہایت ہی عمدہ پیشکش ہے ۔

    دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ اس مختصر کتاب کے مطالعے سے ہر مسلمان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر سکتا ہے، اس مقدس مہینے کے تمام شرعی اور مسنوں احکامات کو جان سکتا ہے ۔ اس کتاب میں جہاں روزے کے احکام و مسائل کو واضح کیاگیا ہے وہاں قیام الیل ( تراویح ) ‘ لیلتہ القدر ‘ اعتکاف اور صدقہ الفطر کے حوالے سے بھی کافی اور شافی مواد پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب درحقیقت اہل ایمان کے لئے دارالسلام کی طرف سے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصی سوغات اور تحفہ خاص ہے ۔ یہ کتاب دیکھنے میں اگر چہ مختصر ہے لیکن اختصار کے باوجود اس میں اتنی جامعیت ہے کہ ا س میں تمام ضروری اور اہم مسائل بیان کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کی تفصیل موجود ہے ۔اسی طرح کتاب میں رمضان المبارک سے متعلق بعض مشہور مگر ضعیف احادیث کی وضاحت بھی موجود ہے ۔ روزے کے فوائد و ثمرات کا تذکرہ ہے ‘ یعنی تقویٰ کیا ہے جو روزوں سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے ؟ روزوں سے تقویٰ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور تقویٰ سے کیا فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں ؟ قیام الیل یعنی نماز تراویح کے مسائل اور اس کی تعداد کی تحقیق بھی کتاب میں شامل ہے جو قابل مطالعہ ہے ۔ اعتکاف کے مسائل اور لیلتہ القدر کے فضائل کی وضاحت بھی کتاب میں شامل ہے ۔ اس اعتبار سے یہ کتاب بلا شبہ ” بقامت کہتربہ قیمت “ کے مصداق اور اس لائق ہے کہ ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے اپنا دامن بھرنے اور رحمت و مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کی کوشش کرے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • نواز  شریف  کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)
    نواز شریف محسن پاکستان ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے میں کردار ادا کیا تووہ میاں محمد نواز شریف ہی ہیں۔ موٹر ویز ،میٹرو بسیں اور رینج ٹرین۔ مضبوط دفاعی نظام ۔ تعلیم صحت میں منصوبہ بندی ، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی سے نجات سمیت صنعتی اور معاشی ترقی کے اقدامات اگر دھرنا کلچر سازسوں کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ نہ کیا جاتا تو سی پیک کی تکمیل کے بل بوتے پر ملک کی تقدیر کچھ اور ہوتی ۔ غربت افلاس بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے اندھیرے چھٹ چکے ہوتے۔ بلاشبہ مریم نوازاپنے والد کی طرح پنجاب میں عوام کی فلاح اور معاشی استحکام کاشروع کر چکی ہیں۔

    لیکن صد افسوس کہ رمضان پیکج کے تحت تقسیم ہونے والی آٹے کی تھیلوں پر میا ں محمد نواز شریف کی تصویر لگا کر محسن پاکستان نواز شریف جنہوں نے ایٹمی دھماکے کئے ان کی بے توقیری کی جا رہی ہے نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ہے۔ نہ نواز شریف کا وژن ایسی سستی شہرت ہے نہ نواز شریف کا قد کاٹھ اتنا چھوٹا ہے کہ اُن کو اس طرح کے حربوں کے ذریعے عوام کی فلاح کے منصوبوں پر ذاتی تشہیر کا سہارا لینا پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف کی پنجاب میں سرگرم ٹیم ہوش کے ناخن لیں چاپلوس بیورو کریٹس کے خوشامدی حربوں سے چوکنا رہنا ہوگا۔ یہی بیورو کریسی تھی جنہوں نے تقرریوں اور تبادلوں میں کروڑوں روپے کھائے خوشامدی حربوں کے ذریعے میاں محمد نواز شریف کی بے لوث خدمت انتھک مخلصانہ کوششوں کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان خوشامدی ٹولے سے بچ کررہنا ہوگا۔
    Nawaz sharif

  • انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات سے متعلق کہا ہے کہ ہمارا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ۔ سیکورٹی دینے کے سوا۔ بلاشبہ فوج کا کام سیکورٹی کی فراہمی تھی ۔ عوام کو بھی الزام لگانے والوں سے سوال کرنا چاہیئے کہ فوج جو سیکورٹی پر مامور تھی اُس نے جعلی ووٹ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کیا ؟ پھر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں پر یلغار کیسی ؟ الیکشن کروانا ،الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اگر الیکشن کمیشن ملک میں آزادانہ ، منصفانہ الیکشن نہیں کروا سکتا تھا اس پر سوالیہ نشان ہے ؟ فوج اورجملہ ادواروں پر نہیں۔ تاہم سیاستدانوں میں ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کہ ان کی نظر میں حقیقی جمہوریت کیا ہے؟ جمہوریت نہیں۔ اور یہ مغالطہ مدت سے چلاآرہا ہے آج سے نہیں ؟ 1977 کے الیکشن میں دھاندلی کا شور۔ 2018 دھاندلی کا شور ۔ آج ایک بار پھر یعنی 2024 دھاندلی کا شور۔ کے پی کے میں عین اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن جبکہ باقی صوبوں میں غیر اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن ۔

    ملکی سیاسی جماعتیں یاد رکھیں شور شرابے ، دھرنوں ، غل غپاڑے ، سینہ کوبی سے ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو گی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ضد ، انا ، ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر بھرپور توجہ ملکی معیشت اور عوام کے بنیادی مسائل پر دیں۔

    فی زمانہ عالمی سیاست بھی معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے اپنے وسائل اور معیشت پر توجہ دیں۔ گلے پھاڑ کر نعرے لگانے سے نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ ہی آسمان سے من و سلوا اُترے گا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس عوام اور اس ملک پر رحم کریں۔ نواز شریف ایک مدبر زیرک سیاستدان ہیں وہ مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی جماعت کی مقبولیت میں اضافے اور مستبل کے لئے جو کردار ادا کررہے ہین وہ (ن) لیگ کے لئے بطور سیاسی جماعت قابل ستائش ہے ورنہ اس جماعت کے چند لوگوں کا ایسا کردار ہے جنہوں نے جن کے کردار سے بدبو آنے لگی ہے ۔ا ن چند کرداروں کی وجہ سے مسلم لیگ(ں) مقبول نہیں غیر مقبول ہوئی ہے۔اسی طرح جیسے کہاں بھٹو کی پیپلزپارٹی اور کہاں آج کی پیپلزپارٹی ۔۔۔۔ایک بھٹو کے اور نواز شریف کا تھا؟