Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آچکی ہے ۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے ۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔
    چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا ۔
    بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
    ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا ۔
    ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا ۔
    ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔
    گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا ۔

    یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے ۔
    پھر ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں ؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا ؟
    ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں ، بےشک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے ۔
    لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے ؟
    ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں ؟ مخالفت ؟ موافقت ؟
    اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں ؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے ؟ آپ اس کو جسٹفائی کیسے کرتے ہیں ؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا ؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا ؟
    اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے ، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
    آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں ، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے ۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے ۔
    انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے ، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب وروز کی گرد
    دبتی چلی جاتیں ہیں ۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے ۔
    حل کیا ہے ؟
    معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم ، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے ۔
    دنیا تب ہی گلزار ہو گی !

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔

  • انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آج 10 دسمبر ہے، انسانی حقوق کا عالمی دن۔ دنیا بھر میں یہ دن اقوام متحدہ کے 1948 میں منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریریں، سیمینارز، اور واکس کا انعقاد ہوتا ہے۔ لوگ انسانی حقوق کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں، ان کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور معاشرتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حقوق عملی طور پر کب فراہم ہوں گے؟ کیا انسانی حقوق صرف تقریبات اور وعدوں تک محدود رہیں گے یا ہم کبھی انہیں حقیقت میں نافذ کرنے کے قابل ہوں گے؟

    انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال:
    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تعلیم، صحت، اظہار رائے، مذہبی آزادی، خواتین اور بچوں کے حقوق اور مزدوروں کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کے وعدے اکثر سیاسی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

    1. تعلیم اور صحت کے حقوق:
    آئین پاکستان ہر شہری کو مفت تعلیم کا حق دیتا ہے لیکن ملک میں لاکھوں بچے آج بھی سکول جانے سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں سکولوں کی کمی، ناقص تعلیمی نظام اور والدین کی غربت اس مسئلے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، مہنگی ادویات اور طبی عملے کی کمی عوام کو معیاری صحت کی سہولت سے محروم رکھتی ہے۔

    2. خواتین اور اقلیتوں کے حقوق:
    پاکستان میں خواتین اور اقلیتیں سماجی، مذہبی، اور قانونی امتیازات کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین کو گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور تعلیم و ملازمت کے مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح اقلیتیں جنہیں آئینی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں، عملی طور پر مذہبی تعصب اور تشدد کا شکار ہیں۔
    3. اظہار رائے کی آزادی
    جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن پاکستان میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو سنسرشپ، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے۔ میڈیا پر دباؤ اور سوشل میڈیا کی نگرانی نے آزادی اظہار کے تصور کو محدود کر دیا ہے۔

    4. بچوں کے حقوق
    پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد چائلڈ لیبر، جبری مشقت اور استحصال کا شکار ہے۔ تعلیم کے حق سے محروم یہ بچے کم عمری میں ہی غربت کی چکی میں پسنے لگتے ہیں جبکہ قانون کا نفاذ اس حوالے سے ناکافی ہے۔

    انسانی حقوق کے مسائل کی وجوہات:پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کئی وجوہات ہیں
    1. حکومتی غفلت: حکومت کی ناکامی انسانی حقوق کے مسائل کا بنیادی سبب ہے۔ پالیسیاں بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
    2. سماجی رویے:معاشرتی تعصبات اور روایات انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
    3. معاشی مسائل: غربت، بیروزگاری، اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فروغ دیتی ہے۔
    4. قانونی کمزوری: قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونا مسائل کو بڑھاتا ہے۔

    انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے تجاویز:انسانی حقوق کے عملی نفاذ کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں
    1. قانونی اصلاحات اور عملدرآمد: حکومت کو چاہیے کہ انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ عدلیہ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم ہو سکے۔
    2. تعلیم اور شعور کی بیداری .عوام میں انسانی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
    3. سماجی رویوں میں تبدیلی .معاشرتی تعصبات اور دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جائیں۔ یہ مہمات انسانی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    4.معاشی مسائل کا حل.غربت کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے حکومت کو معاشی پالیسیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ بیروزگاری کم کرنے اور سماجی بہبود کے پروگرامز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
    5. بین الاقوامی تعاون .انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے اور ان کے فراہم کردہ وسائل اور رہنمائی کا فائدہ اٹھایا جائے۔

    انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور انہیں ان کے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ لیکن یہ حقوق صرف تقریبات یا وعدوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ انسانی حقوق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن اگر نیت اور عمل مخلص ہو تو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

  • لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ارشد انصاری کا شمار پاکستان کے ان ممتاز صحافیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثالی خدمات انجام دیں بلکہ پریس کلب کی فلاح و بہبود اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ایک تجربہ کار اور متحرک صحافی ہیں جنہوں نے کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پروگریسو گروپ کے امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے، جس میں انہوں نے صدارت کی سیٹ پر 984 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت اور کام کی وجہ سے کلب کے اراکین نے ان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا​​​​۔ارشد انصاری کی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے دور میں کلب میں درج ذیل نمایاں تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے کو ملیں ،انتظامی اصلاحات اور سہولیات میں اضافے کے طور ،پریس کلب کی لائبریری کو جدید ای-لائبریری میں تبدیل کیا گیا، جہاں کمپیوٹرز اور کیمرے نصب کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد ای-بکس کے ساتھ نئی کتابیں مہیا کی گئیں​​۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔کئی سالوں بعد کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی، اور اہم مقامات جیسے کیفے ٹیریا اور لائبریری میں ایئر کنڈیشنز نصب کیے گئے​​۔کلب کے کیفے ٹیریا کے معیار میں بہتری لائی گئی، جہاں کھانے کے معیار اور سہولیات کو اپ گریڈ کیا گیا۔رمضان کے موقع پر خصوصی محفل حسن قرأت و نعت کا اہتمام کیا گیا، اور ممبران کو عمرے کے ٹکٹس فراہم کیے گئے​​۔خواتین ممبران کے لیے خصوصی ٹورز کا اہتمام کیا گیا، جو پریس کلب کی تاریخ میں ایک نمایاں قدم ہے۔اندرون سندھ اور کراچی کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جو صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم ہیں​​۔ارشد انصاری کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا ان کی قیادت کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سربراہی میں کلب میں کی گئی اصلاحات نے ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کیں، اور صحافتی برادری کی حمایت حاصل کی۔ 2023 کے انتخابات میں ان کے پینل نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس میں زاہد عابد نے سیکرٹری، اور دیگر عہدوں پر ان کے پینل کے امیدوار بھی کامیاب رہے​​​​۔ارشد انصاری کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے:صحافیوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی۔ممبران کی رکنیت سے جڑے مسائل کا حل۔کلب کو مزید جدید اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا۔ارشد انصاری کی قیادت نے لاہور پریس کلب کو ایک متحرک اور جدید ادارہ بنایا ہے۔

    ارشد انصاری کی حالیہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے اہم کارنامہ وہ فیز 2 کے حوالے سے 200 ایکڑ اراضی کی منظوری ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے لیے حاصل کی۔ یہ زمین صحافیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو کئی دہائیوں سے رہائشی مسائل سے دوچار تھے۔ اس منصوبے کے تحت صحافیوں کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ارشد انصاری کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صحافی کو ایک محفوظ اور پرسکون رہائش فراہم کی جائے۔ یہ کالونی نہ صرف رہائشی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ ایک جدید طرز زندگی کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، پارکس، اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ارشد انصاری کو اس ہاؤسنگ کالونی کے منصوبے کی تکمیل کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیوروکریٹک رکاوٹوں، مالی مسائل، اور زمین کے حصول کے پیچیدہ عمل کے باوجود انہوں نے اپنی قیادت اور عزم سے ان مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس منصوبے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ان کی خدمات، اختراعی اقدامات، اور ممبران کے ساتھ مؤثر رابطے نے انہیں صحافی برادری کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کلب کی بہتری کے لیے مسلسل پرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافیوں کے اعتماد اور کلب کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ارشد انصاری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیادت کی صلاحیت ہے۔ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری، جرات، اور صحافیوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں صحافی برادری میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ارشد انصاری کی خدمات نہ صرف صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب ایک رہنما عزم اور خلوص کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ 200 ایکڑ اراضی کی منظوری اور ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ان کی محنت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی غیر معمولی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی حوالے ممبران لاھور پریس کلب نے آئندہ پریس کلب الیکشن میں ارشدانصاری کو دوبارہ صدر بنوانے کا عزم کیا ہے،کیونکہ ان کے اقدامات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے بھی یادگار رہیں گے۔

    shahid naseem

  • کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    مدھر سریلی آواز ، خوبصورت سجیلا وجیہہ گلوکار،مبلغ،نعت خواں ……
    جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو طیارہ حادثہ میں دنیائے فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی یادیں مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں
    جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا، انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کی نعت ’محمد کا روزہ قریب آرہا ہے‘ بھی دلوں میں گدازپیدا کرتا رہے گی

    اللہ کریم جب کسی سے بہت خوش ہوتا ہے اور اسے کچھ بہت خاص نوازنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا کرتاہے۔ ہدایت کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی بھی نعمت بن مانگے عطا کردیتا ہے مگر ہدایت اس سے مانگنا پڑتی ہے۔ ہدایت نصیب کی بات ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ ایسے ہی نصیب والوں میں اک نام جنید جمشید کا بھی شامل ہے۔ جنید انتہائی بلند نصیب والے انسان تھے جب گلوکاری کرتے تھے تب بھی شہرت کے بام عروج پر رہے اور جب عشق نبی میں مغلوب و سرشار ہوکر نعت خواں بن گئے توبھی اللہ کریم نے ان کے نام کو چار چاند لگا دیئے۔ گلوکاری سے نعت خوانی اور نعت خوانی سے تبلیغ اور تبلیغ سے شہادت تک کا یہ سفر محبت، عبادت اور سعادت کا سفر تھا۔ جنید جمشید کے بارے میں سوچو تو رشک آتا ہے کہ ان کے سفر حیات سے سفر آخرت تک قسمت ان پر کتنی محبت سے مہربان رہی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں توجہ اور محبتیں سمیٹیں ۔ آزمائشوں سے بھی گزرے مگر پھر بھی ان کی زندگی کا ہر دور ہی ان کےلئے وجہ شہرت بنا۔بظاہر ان کی زندگی کا سفر حویلیاںکی پہاڑیوں پر ختم ہوگیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گزشتہ برس 7دسمبر کو چترال سے جماعت کی نصرت کے بعد واپس اسلام آباد آرہے تھے تو ان کا جہاز تباہ ہوکر پہاڑی سے جاٹکرایا۔ جنید جمشید سمیت اس حادثے میں سوارتمام مسافر بھی شہید ہوگئے۔ ان تمام انسانی جانوںپر جتنا بھی افسوس کیا گیا یا کیا جائے گا، کم ہے کہ جانیں تمام ہی قیمتی ہوتی ہیں لیکن اس حادثے کے بعد تمام فوکس جنید جمشید کی شہادت پر رہا۔ تمام ملک ایک صدمے کی کیفیت میں ڈوب گیا بلکہ اس دکھ اور رنج کی لہریں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے محسوس کیں اور کئی روز تک ٹی وی چینلز کے شوز میں اور لوگوں کے دل اور ذہنوں میں صرف جنید جمشید ہی چھائے رہے۔ ان کی زندگی کے تمام پہلو زیرموضوع رہنے لگے۔ ہر آنکھ نم اور ہر دل افسردہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ کیوں جنید کو اس قدر محبت اور توجہ ملی۔ اس کو جاننے کے ئے جنید کی زندگی کی کہانی کو ایک بارپھردہراتے ہیں۔

    روداد حیات
    3ستمبر1964ءکو پیدا ہونے والے جنید جمشید کی 52سالہ زندگی نشیب و فراز اور جدوجہد سے عبارت رہی۔ جنید جمشید کے والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث ان کے والد نے کوشش کی وہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہوں۔ جنید نے لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پاک فضائیہ میں بطور کنٹریکٹراپنی سروس کا آغاز کیا۔ جنید کو دور طالب علمی سے ہی موسیقی سے لگاﺅ تھا۔ دوستوں کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ بھی تشکیل دے دیا اور گلوکاری کرنے لگے۔ جنید جمشید نے اپنے بارے میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ گلوکاری میں منصوبہ بندی سے نہیں آئے بلکہ روحیل حیات کی ان پر نظر پڑ گئی جب انہیں ایک جگہ پر گاتے ہوئے سنا تو انہیں اپنے ساتھ گانے کی دعوت دی اور پھر انہیں گائیکی کی ایسی تربیت حاصل ہوئی کہ نامور موسیقار سہیل رعنا تک انہیں بے حد سراہنے پر مجبور ہوگئے۔
    وائٹل سائنز میوزیکل گروپ انہوں نے 1980 کے عشرے میں بنایا جس میں جنید جمشید مرکزی گلوکار اور روحیل حیات اور سلمان احمد موسیقاروں میں شامل تھے۔ وائٹل سائنز کے گانوں کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور جب 1987 میں جنید جمشید نے دل دل پاکستان گایا تو یہ نغمہ ہر دل کی دھڑکن میں سما گیا اور پھرجنید کی شہرت کے ڈنکے چاروں طرف بجنے لگے۔ اس وقت کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو یا میوزیکل پروگرام ایسا نہ ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ ٹی وی سے لے کر نجی تقریبات، شادی بیاہ تک ان کا یہ ملی نغمہ چھایا رہا۔ یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں پر اس نغمے کی دھنیں بجانا لازمی بن گیا۔
    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دل دل پاکستان دنیا کے پراثرترین قومی نغموں میں بھی شامل ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنید جمشید کو 2007 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وائٹل سائنز نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور بہترین دھنیں پیش کیں۔90ءکے عشرے میں یہ گروپ باہمی اختلافات کا شکار ہوا لیکن جنید جمشید نے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ یہ خوبصورت سجیلا، وجیہہ و رعنا نوجوان ہر کسی کی نظروں سے دل میں جذب ہوتا گیا اور اس کی سریلی مدھر آواز ہر سماعت میں رس گھولتی گئی۔ اس کے گانوں کی شاعری کمال کی ہوتی اور اکثر گانوں کی شاعری میں سننے والوں کےلئے مثبت پیغام ہوا کرتے تھے۔’سانولی سلونی تیری جھیل سی آنکھیں‘ جیسے کئی نغمات سماعتوں میں رس گھولتے رہے۔

    ایک نیا سفر
    پھر اچانک جنید کاحلیہ اور طرززندگی بدل گیا بلکہ جنید کا دل بدل گیا۔ بقول جنید جمشید کہ وہ فائر فائٹربنناچاہتے تھے مگر نہیں بن سکے۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر نہیں بن سکے، وہ گلوکار نہیںبننا چاہتے تھے مگر گلوکاربن گئے۔ گلوکار ی سے انہیں عزت، شہرت، محبت اور دولت سب کچھ ملا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اتنی عزت و پذیرائی کے باوجود انہیں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا تھا۔ یہی بے چینی اور بے قراری انہیں دین کی طرف کھینچ لے گئی اور بالآخر ان کے اندر کا ضطراب ایک روحانی انقلاب میں بدل گیا۔ اس تبدیلی پر کئی بار گفتگو کے دوران ایک واقعے کا بھی ذکر کرتے تھے کہ ایک میوزیکل شو کےلئے ان کی کار کی ٹکر سے ایک کتا جان سے چلا گیا۔ انہوں نے کار سے اتر کر کتے کو سڑک سے ہٹایا اور قریب ایک خالی پلاٹ میں دفن کردیا اور اللہ کو گواہ بنایا کہ وہ اپنی زندگی کوتبدیل کرلیں گے۔

    جنید جمشید جب تک گلوکار تھے تب تک نوجوانوں اور بچوں کے دل میں بستے تھے جب گلوکاری چھوڑ کر دین کے لئے وقف ہوگئے تو ہر بچے، بڑے، نوجوان، بوڑھے غرض ہر انسان کے دل میں گھر کر گئے۔ جنید ایک انتہائی باوقار، بلند اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ اخلاق اور اخلاص ان کی ہر ادا میں نظر آتا تھا۔ سعادت ان کی پیشانی پر لکھی تھی۔ قسمت روزاول سے مہربان تھی۔ اللہ کریم نے انہیں حسن وجاہت، دولت و شہرت جیسی نعمتوں سے تو پہلے ہی نواز رکھا تھا پھر دین ہدایت کی محبت دے کر اپنے خصوصی فضل سے نواز دیا اور جنید نے بھی راہ ہدایت پر قدم بڑھا دیے تو پھر پلٹ کر نہ دیکھا ۔ شہرت کی پرواہ کی نہ دولت کی۔ اللہ کے رستے پر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس رستے پر شیطان کے بہکاوے اور شاطرانہ چالیں بھی پیچھا کرتی ہیں۔ انسانوں کے دل شکن رویے اور کئی کئی طرح کی رکاوٹیں اور آزمائشیں بھی آتی ہیں اور یہ اللہ کا اپنے بندے سے امتحان بھی ہوتا ہے کہ وہ دی ہوئی نعمت کی قدر اور حفاظت کیسے کرتا ہے۔ آیا وہ استقامت سے نبھاتا ہے یا نہیں اور جنید نے استقامت اور اخلاص کا بہترین مظاہرہ کرکے دکھایا۔عجز و انکساری اور خوش اخلاقی کے علاوہ جنید جمشید کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبصورتی اور خوبی ان کی برداشت کرنے کی خوبی تھی۔ اس سفر میں اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہر مصیبت اور تکلیف دہ سلوک اور ناروا رویوں کو بہت خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی سے جھیل گئے۔
    راہ حق کے سفر میں کئی تنازعوں کاشکار ہوگئے۔ ملامت اور بدسلوکی کی گئی، طعنوں اور گالیوں سے نوازا گیا مگر آفرین ہے اس اعلیٰ اخلاق کے مالک آہنی اعصاب کے مرد ابریشم اور مخلص و عاجز و منکسر انسان پر کہ پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا بلکہ معافیاں مانگتے رہے اور دلوں کو جوڑنے کی فکر میں رہے تاکہ رب کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھ سکیں۔ان کے منہ سے کبھی بین المسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے والے الفاظ نہیں نکلے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس ان کے کوسٹار وسیم بادامی بار بار میڈیا پروگرامز میں گواہی دیتے رہے کہ میں روایتی انداز میں نہیں کہہ رہا جیسے کہ مرنے والوں کےلئے اچھے جملے بولے جاتے ہیں، میں پورے ہوش و حواس سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر گواہی دے رہا ہوں کہ خدا کی قسم میں نے جنید جمشید سے زیادہ اچھا انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا اور ہم پانچ برس اکٹھے کام کرتے رہے ان پانچ سالوں میں، میں نے انہیں پانچ سکینڈ بھی کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا۔جنید توڑنے والوں میں سے نہیں بلکہ جوڑنے والوں میں سے تھے وہ ہمیشہ دلوں کو جوڑنے میں لگے رہے۔ اس سفر میں کسی ملامت نے انہیں بددل نہیں کیا بلکہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے اور دین کی تبلیغ کرنے میں استقامت سے مصروف رہے جب ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کئے جاتے تھے تب دل میں خیال آتا کہ شاید اب جنید جمشید اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہوں گے۔ ایسے ہی وقتوں کی بات ہے کہ ایک میڈیا پرسن نے ان سے سوال کر ڈالا کہ کیا آپ کے دل میں کوئی پچھتاوہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پچھتاوہ کیسا بلکہ بے انتہا خوش ہوں، اتنا خوش ہوں کہ کوئی مصیبت آ بھی جائے تودل میں اللہ سکون بھر دیتا ہے۔

    کلین شیو جنید پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا جب جنید دین کی طرف آئے تو ان پر اعتراضات کے دفتر کھول دیئے گئے، کبھی کسی قول کو لے کر کبھی کسی بیان اور کبھی کاروباری تنقید، تاہم جنید نے اپنی زندگی نے ہر دور میں صبر و تحمل اور رواداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا۔ انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کا نعتیہ کلام ’میرادل بدل دے‘ رویے بھی دلوں کو گداز کرتا رہے گا۔ کہاں دنیاوی شان و شوکت سے آراستہ زندگی اور کہاں پھر دین کی تبلیغ اور مبلغ بن کر گزارے جانے والی عجزوانکساری والی زندگی۔ کہاں جینز گٹار والا جنید اور کہاں داڑھی اور ٹوپی، تسبیح اور نور سے روشن چہرے والا جنید جمشید۔ بس یہی وہ خوبی اور قربانی جس نے جنید کو سب سے ممتاز کردیا اور اس کی استقامت صبرواخلاق نے دلوں کو فتح کرایا جو شخص خود کو اللہ کے راستے میں وقف کردے بلکہ فنا کردے تو پھر ایسے ہی دنیا بھر کی تمام عزتیں، برکتیں اس کا حصار کر لیتی ہیں۔ یہی ہمیں سمجھا گیا گزشتہ برس شہادت کا رتبہ حاصل کر کے جہان فانی سے رخصت ہونے والا جنید جمشید۔ ان کی زندگی نوجوانوں اور بزرگوں سب کےلئے قابل تقلید ہے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ افرادکے دلوں میں بھی زندہ رہے گا اور آخرت کی فکر کرنے والوں کا محبوب بھی رہے گا۔

  • کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    سعید آسی اردو ادب کاوہ معتبر نام ہے، جو اپنی متنوع تحریری صلاحیتوں کی بنا پر ادب، صحافت اور تحقیق میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ان کا سفرنامہ "کس کی لگن میں پھرتے ہو” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک ایسا تخلیقی آئینہ ہے جو قارئین کو مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے خطوں کی تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کے حسین رنگ دکھاتا ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ادیب کی خالص جمالیاتی حس اور محقق کی باریک بینی کا حسین امتزاج ہے، جس نے قارئین کو ان ممالک کے دلکش مناظر اور منفرد پہلوؤں سے روشناس کرایا۔کتاب کا عنوان "کس کی لگن میں پھرتے ہو” ایک شعری کیفیت اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف سفر کے ظاہری پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے باطنی معنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ نام قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید یہ سفر صرف مقامات کے بیچ کا نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری، اور تہذیبی جستجو بھی ہے۔سعید آسی صاحب کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ سادہ مگر موثر الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا یہ سفرنامہ بھی اس خوبی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی تحریر کا بہاؤ اور مناظر کی جزئیات نگاری قارئین کو ان کے ساتھ ہر لمحہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ نہ صرف مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد کے رہن سہن، ان کے خیالات اور اقدار کو بھی نہایت گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

    سعید آسی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ 1990ء میں مالدیب گئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سفرنامے کا پہلا باب ’’کالا پانی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جس میں سعید آسی نے کالا پانی کی سزا پر دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔
    سعید آسی مالدیپ کے نیلگوں پانیوں، شفاف ساحلوں اور قدرتی حسن کی شاندار تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کی سادگی، مہمان نوازی، اور مالدیپ کے منفرد ثقافتی ورثے کو بڑی محبت اور احترام سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدات نہ صرف سیاحتی مقامات تک محدود تھے بلکہ وہ ان جزائر کی تہذیب اور اس کی روحانی گہرائی میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    برونائی کا سفر سعید آسی نے مارچ 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ سعید آسی نے اپنی کتاب میں ایسے واقعات کو بھی تحریر کیا ہے جو عام مسافروں کو جہاز کے سفر میں پیش آتے ہیں۔برونائی کی شاندار مسجدیں، سلطنت کا انتظام، اور لوگوں کی روحانی وابستگی سعید آسی کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ برونائی کے عوام کی خوشحالی کو نہ صرف ان کے معاشی نظام بلکہ ان کے روحانی اصولوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا ملک اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    انڈونیشیا کا سفر اس کتاب کے سفرنامے کا آخری حد ہے۔ یہ سفر محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور نصرت بھٹو کے ساتھ طے ہوا۔ اس دورے میں صدرسہارتو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس عظیم مسلمان لیڈر سے ملاقات کا تفصیلی اور سیر حاصل ذکر بھی سفرنامے بھی موجود ہے۔پاکستان میں کئی لوگوں نے سفرنامے لکھے ہیں لیکن ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ ایک منفرد اور دلچسپ سفرنامہ ہے۔ انڈونیشیا کی رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع اس سفرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعید آسی نے انڈونیشیا کے مختلف جزائر کی تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، اور ان کی ثقافتی رنگینی کو اپنی نثر میں بڑی مہارت سے پیش کیا۔ وہ انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔یہ کتاب ایک عام سیاحتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک فکری اور تہذیبی جستجو کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ سعید آسی کا مشاہدہ محض خارجی دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ان ممالک کے لوگوں کے جذبات، ان کی امنگوں، اور ان کی زندگی کی قدروں کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”کس کی لگن میں پھرتے ہو” صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ کتاب قارئین کو سفر کے ظاہری لطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیبی گہرائی اور روحانی تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سعید آسی اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ سفر صرف جگہوں کا بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
    saeed aasi
    سعید آسی کا یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک خزانہ ہے جو دنیا کو ایک سیاح، ایک محقق، اور ایک روحانی مسافر کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے حسین ممالک کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قاری کو ایک ادیب کی دنیا کے حسین سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ سعید آسی کی نثر، مشاہدہ، اور فلسفیانہ سوچ ان کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔آسی صاحب کی روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ تقریبا پینتالیس برس کی رفاقت ہے۔ اُن کی کتاب ” کس کی لگن میں پھرتے ہو” بہت متاثر کن ہے۔اس کتاب کے منفرداسلوب نے انہیں اور زیادہ محبوب بنا دیا۔ وہ شعر و ادب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں ، اُن کی اردو شاعری اور پنجابی شاعری کی دو کتابوں سمیت بارہ کتابیں منظر عام پر ہیں ۔ ایک بہت اہم دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ سعید آسی صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے کسی کی رائے اوردیباچہ وغیرہ شامل نہیں کیا۔سعید آسی کے سفرنامے پر مشتمل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جو ادب کی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان اور شناخت رکھتی ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل جناب علامہ عبدالستار صاحب نے اسے بڑے پیار و محبت کے ساتھ شائع کیا ہے۔اب یہ کتاب دوبارہ دستیاب ہے،آرڈر کرنے کیلئے ـ0515101-300-0092ــ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
    shahid naseem

  • ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ہرن مینار دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی۔۔۔ کبھی موقع ملا نہ فرصت اور جب یہ دونوں ملے تو یاد نہ رہا۔۔۔ سردیوں کے ابتدائی خوش گوار ترین دنوں میں سیر و تفریح کا شوق کچھ بڑھ جاتا ہے۔۔۔ یونہی بیٹھے بٹھائے فیملی سے ہرن مینار کا پروگرام بنانے کو کہا اور سب نے لبیک کہ دیا۔۔۔
    یکم دسمبر کے روشن صبح تین گاڑیوں کا قافلہ لاہور سے شیخوپورہ روانہ ہوا۔۔۔ راستے کے کھیت کھلیان اور فصلوں کی آب و تاب نے سفر کا لطف دوبالا کر دیا۔۔۔ اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا تو ٹریفک کا زور قدرے کم تھا۔۔۔ ٹکٹیں لے کر قدیم تاریخی عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔۔۔ مرکزی دروازے سے مینار تک کے فاصلے میں وسیع و عریض باغات ہیں۔۔کچھ آگے ایک بڑا تالاب ہے ، جہاں کشتی رانی کی سہولت ہے۔۔ صبح میں لوگوں کا رش کم تھا ، جو سہ پہر واپسی تک بہت بڑھ گیا۔۔ ہرن مینار کی سیڑھیوں اور تالاب کے وسط میں موجود بارہ دری کو مقفل کیا ہوا تھا ۔۔۔ مینار بہت خستہ حالی کا شکار ہے۔۔۔ ایک پرانا کنواں بھی مقفل تھا ۔۔۔ بادشاہ کے لاڈلے ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ مینار کے ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں ، کچھ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے ہرن بھی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ کینٹین بھی مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔۔۔

    قدیم تاریخی عمارتوں کو دیکھنے سے ایک الگ ہی طرح کا احساس دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔۔ کچھ دیر کو جیسے نظریں اور دھیان ساکت ہو جاتا ہے۔۔ تخیل اس دور کے شکوہ کی تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔۔۔ حال اور ماضی کا ربط اور زمانی فاصلہ کسی فلم کی طرح چلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔ ایسی عمارتیں خود بولتی ہیں اور اپنی کہانی سنانے لگتی ہیں ۔۔۔ بس ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے۔۔۔