Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس معاشرے کا ایک بنیادی جزو ہے یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی نشانی بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ پولیس نے پاک فوج کے ساتھ مل کر اس ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردارا دا کیا ،ان گنت قربانیاں بھی دیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکا ۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں پولیس اصلاحات پر وہ کچھ نہیں کر سکے جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ملکی تاریخ گواہ ہے۔ نواب آف کالا باغ کے دور سے پولیس میں سیاسی مداخلت کا آغاز ہوا اوریہ مداخلت بڑھتی گئی، سیاستدانوں نے پولیس کے نظام کو اپنے اقتدار کے کھیل کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جبکہ بہت سے پولیس افسران اور اُن کے ماتحت افسران نے اس سیاسی مداخلت سے فائدہ اٹھایا اچھی جگہ تبادلے کے لئے حکمرانوں کی اور مقامی سیاستدانوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر اپنے ہی محکمے کو برباد کرنے میں بھی کردارادا کیا۔ سیاسی حکومتوں اور فوجی حکمرانی کے دور میں بھی اس محکمے کو استعمال کیا ۔

    پولیس کے افسران کو زیادہ سے زیادہ دولتمند بننے کے نشے نے اس قدر مدہوش کیا کہ وہ ملک میں لینڈ مافیا ،ڈرگز مافیا ، قبضے گروپوں کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن گئے جبکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ جرائم میں اضافہ ہوتا گیا اور پولیس افسران اور اُن کے ماتحت غفلت اور لاپرواہی کی حدوں کو کراس کر گئے۔ جرائم کو کٹرول کرنے اور تجربہ کار پولیس افسران کو کھڈے لائن جبکہ سیاسی غلامی برداشت کرنے والے اور ناتجربے کار افسران کو فیلڈ میں لگا دیا گیاجس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔

    حیرانگی کی حد تک آج پنجاب کے بہت سے افسران اپنی من پسند تعیناتی کے پیچھے پاک فوج کے اعلیٰ افسران کا نام لے کر اس ادارے جو سرحدوں کا محافظ ادارہ ہے ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کررہے ہیں۔جسے کسی بھی زوائیے سے درست قرار نہیں د یا جا سکتا ۔ یہ پولیس افسران عوام کو گمراہ کررہے ہیں ذمہ داران ریاست کو پنجاب کے ان پولیس افسران سے باز پرس کرنا ہوگی جو اس عظیم ادارے کو بدنام کررہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو ایک بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں انہیں پولیس نظام میں تبدیلی لانی ہوگی آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دے کر سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہوگا جب آئی جی پنجاب اپنی مرضی سے صوبے میں پولیس افسران تعینات کریں گے تو پھر حکومت اور عوام کو جوابدہ بھی ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کو سیاسی مصلحتوں سے باہرنکل کر بڑا فیصلہ کرنا ہوگا اگر ایسانہیں تو پھر سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

  • مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    راکٹوں اور ڈورنز کی رات، امریکہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ غزہ میں نیتن یاہو کے طرز عمل پر تنقید کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دیگا یا جو بھی اسرائیل کی سلامتی کو نشانہ بنائے گا اسکے ساتھ نرمی برتی جائے گی ،امریکہ واحد طاقت نہیں تھی جس نے ایرانی راکٹوں اور ڈورنز کو گرایا اس میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے، راکٹوں اور ڈورنز کی رات نے ایک پیغام بھی دیا جس نے ایران کی فوجی ٹیکنالوجی پر مغربی اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کو واضح کیا ، سیاسی اورسفارتی سطح پر ظاہر کیا کہ اسرائیل کو ان چیلنجز کے ساتھ مضبوط مغربی تحفظ حاصل ہے جو اُسے نشانہ بنا سکتے ہیں، بلاشبہ امریکہ نے ایرانی حملے کے تناظر میں نتین یاہو کی حمایت کی لیکن اس نے فوری طور پر یہ واضع کیا کہ وہ اسرائیلی ردعمل کی حمایت نہیں کرتا اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس میں حصہ نہیں لے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نتین یاہو امریکی مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایرانی حملے کا جواب نہیں دیں گے؟ تاہم ایران نے اسرائیل اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹوں اور ڈورنز کی رات اسرائیل کو ایک بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں راکٹوں اور ڈرونز کی رات کے بعد بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں، امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنا چاہیے،صدیوں سے جاری اس مسئلے کا واحد حل امریکہ کے پاس ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی امریکہ کے پاس ہے وہ ان مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ، فلسطین اورکشمیر میں خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں بے گناہ انسانوں سے قبرستان بھرچکے ہیں،تنازعات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جائے۔

  • حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایک ایسی ریاست جس کے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اُس ریاست کے سیاستدانوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی اُس وقت یاد آتی ہے جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے ایسے ایسے شعلے پھینکتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بلوچستان میں ایک جلسے میں تحفظ آئین کو لے کر ایسے ایسے سیاستدانوں کو آئین پر شعلہ بیانی کرتے دیکھا جو اقتدار میں رہے یہ اپوزیشن ہے اور ملک میں ہونے والے انتخابات سے افسردہ ہیں۔ اپوزیشن نے عمران خان کو فوری جیل سے رہانے کا مطالبہ بھی کیا۔اونچی آواز میں بات کرنا سیاسی گلیاروں میں کوئی نئی بات نہیں۔اصل بات عمل کی ہے کیا دور اقتدار میں آئین پر عمل کیا جمہور کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ؟ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ ملکی وسائل پر بھر پورتوجہ دی گئی؟ عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں پھنسے پاکستان کو آزاد کروایا ؟ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے گئے؟ قانون کی حکمرانی کے لئے کردارادا کیا گیا؟ آئین میں لکھے عوام کے حقوق کے بارے میں عمل کیا گیا؟

    موجودہ حکمران طبقے کو بھی اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان اور جمہور کی خدمت پر مامور ہیں بہتر راستہ ایک ہی ہے کہ اپنا قبلہ درست کریں اپنا ٰرُخ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی طرف موڑ دیں۔

    یاد رکھیئے موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے عوام پاگل ، گونگی ، یا نااہل نہیں ہے موجودہ دور پاکستان کا مستقبل نوجوان بچے اور بچیاں ہیں ان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیجئے ۔اہل سیاست ہی نہیں بیورو کریٹ ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سی شخصیات ، عدلیہ ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سب سے پہلے پاکستان کے استحکام عوام کی فلاح اور اپنے اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی ۔ ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے یہی ایک واحد راستہ ہے غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں۔ تکبر اور غرور کی حدوں کا کراس کرنے ، مسخرے پن سے باہر نکل کر سوچیئے

  • عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلا شبہ عمران خان ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ اور عوام میں مقبول ہیں لیکن کیا ان کے دور حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے ایسے فیصلے کروائے گئے یا انہوں نے خود کئے جس کا خمیازہ آج پاکستان بطور ریاست بھگت رہی ہے،نائن 11 کے بعد جو کچھ پاکستان میں ہوا ایک عالم گواہ ہے پھر نواز شریف کا دور حکومت آیا ، پاک فوج اور جملہ اداروں نے ضرب عضب کےنام سے آپریشن کا آغاز کیا ،ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا اس آپریشن میں پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے حصہ لیا،کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، پاکستان کو قیمتی جانوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،پھر عمران خان کا دور حکومت وجود میں آیا تو انہوں نے اسی ٹی ٹی پی سے معاہدہ کیا اور ان کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ عمران خان کی بہت ہی بڑی غلطی تھی اس ایک غلطی کی سزا آج پاکستان اور قوم بھگت رہی ہے، ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملے شروع کردیئے فوج اور پولیس نہ جانے کتنے ہی جوان آج تک شہید ہورہے ہیں، بالآخر فوج نے تنگ آکر افغانستان نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا تھا،

    سمجھ سے بالاتر ہے ایک اسلام کی دعویدار حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہی ہے اور ایک ہمسایہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کو ہی شہید کیوں کروارہی ہے، یہ افغانستان حکومت سے ایک سوال ہے ، آخر دہشت گردوں کو افغانستان ہی کیوں پناہ دیتا ہے؟ اس وقت پاکستان کی مضبوط معیشت سب سے اہم ضرورت ہے فوج اور دیگر اداروں میں جذبہ ایمانی موجود ہے شہادت کی آرزو بھی ہے فوج وہ کامیاب ہوتی ہے جسے اس کے عوام اور سیاستدانوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے، ہمارے حالات یہ ہیں عوام تو ہر حال میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہمارے کم عقل سیاستدان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، آج کل سوتنوں کی طرح تو طعنے دیئے جارہے ہیں، پاک فوج کےنیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے یاد رکھیے فوج اور جملہ ادارے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں جبکہ شہروں میں پولیس ڈاکوئوں‘ اجرتی قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے پر مامور ہے جمہوریت کے علمبردار جمہوری تقاضے پورے کریں۔

  • پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنے کے لئے عسکری قیادت برسرپیکار ہے سیاسی جماعتوں کو مخالفت برائے مخالفت سے بالاتر ہو کر انتہائی بردباری ،سیاسی تدبر کا مظاہرہ اورجمہوریت کے شجر کو مضبوط کرنا چاہیے،سب کوملکی ترقی میں اپناکردارا دا کرنا ہوگا،بلاشبہ سوشل میڈیا کا دور ہے ،میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کے لئے ملک و ملت کے مفادات کو دائو پر لگانے سے گریز کرنا ہوگا،بھارت پاکستان میں خونی کارروائیوں میں ملوث ہے ، بھارت خطے میں درندوں کی پشت پناہی کرنے والا ملک ہے ،عالمی برادری کو بھارت کے مکروہ کردار پر نظر رکھنا ہوگی، عالمی سازشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور معاشی صورت حال کے پیش نظر ارض وطن تقاصا کرتا ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے کے گریبان تار تار کرنے کا نہیں ہے

    بہت ہو چکا ملکی تمام ادارے آئین کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملکی استحکام اور بہتر معاشی نظام کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لائیں،پاک فوج اور جملہ ادارے ارض وطن کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملک وقوم کا نگہبان ہے اتنی تضحیک تودشمن بھی نہیں کرتے جتنی آج کل ملک میں ہو رہی ہے، کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی سازش ہمارے اداروں کے خلاف نہ صرف سازش کررہی ہے بلکہ ہمارے اداروں میں ٹکرائو کی بھی کوشش کررہی ہے۔ یاد رکھیے ہمارا دشمن بھارت ہی نہیں بہت سے عالمی سیاسی کھلاڑی بھی ہیں سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں یہ ہماری سیاست ہے یا ناکامی، ہم ایک مضبوط ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں کھڑے ہیں، ہماری قومی پالیسیاں کیا ہیں، قومی استحکام کی پالیسیاں کیا ہیں، ہمارا دشمن بیدار اور چالاک ہے ہمارے سیاسی رہنمائوں کوکچھ تو ہوش کرنی چاہیے، ملک وقوم کی خاطر معیشت مستحکم کریں اپنا اپنا کردار اداکریں ملکی وسائل اور زراعت پر خصوصی پر توجہ د یں ،مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔

  • جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کی تمام جماعتیں جمہوریت کی خود قاتل ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا ،محترمہ بے نظیر بھٹو کا راولپنڈی میں قتل جمہوریت کا قتل تھا۔ نواز شریف کو تین بار وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قاتل ہی ہیں ۔ آئین کی خود قاتل ہیں۔ ملک کا ہر نظام تباہی کے دہانے پر اگر آج نظر آرہا ہے تو اسکے ذمہ دار خود سیاستدان ہی ہیں۔ آج جس جماعت کو آئین قانون پارلیمنٹ کی آزادی نظر آرہی ہے۔ نظام میں خرابیاں نظر آرہی ہیں اسی جماعت نے آئین قانون جمہوریت کے خلاف سازش کی اور ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا سبب بنی ( نواز شریف کی حکومت) اگر بھٹو عدالتی قتل تھا تو نواز شریف کی حکومت کو بھی عدالتی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک میں جمہور کے قاتل سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں،

    خدا کی پناہ 75 سال کا عرصہ گزر گیا کروڑوں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ، بنیادی تعلیم ، طبی سہولتوں سے محروم،نوجوان بے روزگار ،معیشت ،زراعت ،ملکی وسائل پر توجہ نہیں ۔ میرٹ کی دھجیاں ، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے عوام محروم اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت اور آئین کے علمبرداروں سے سوال ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے جو عوام آپ کو ووٹ دے کر اقتدار فراہم کرتی ہے اس عوام کے لئے بھی آئین میں لکھا ہے کیا اٰن شقوں پر عمل کیا جا تاہے ۔ عوام کو فوری اور سستاانصاف فراہم کرنے کی صدائیں بلند ہوتیں ہیں کیا ایسا ممکن ہوا ؟ جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو اعلٰی اخلاقی اورجمہوری قدروں کی حامل ہو ۔ وہ حکومت سب کی ہو اور سب کے لئے ہو ،سب کے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔

    بدقسمتی سے آج بھی ہم نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ اعلی پولیس افسران سینئر ترین جنہیں فیلڈ میں ہونا چاہیے وہ دفاتروں میں بیٹھے ہیں۔ سول بیورو کریسی سے لے کر سول انتظامیہ میں بھی میرٹ کو دفن کرد یا گیا ہے ۔ پنجاب ، وفاق ،سندھ ، کے پی کے میں میرٹ دفن کردیا گیا۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن اور جونیئر کو آگے کیاجا رہا ہے ۔ جب تک رائٹ میں فار رائٹ جاب پر عمل نہیں ہوگا ۔ ترقی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزراء کے قلمدان بھی کچھ اس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔

  • سعودی وزیر دفاع  کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی وزیر دفاع کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اس میں شک نہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تو یہ بات قابل اصلاح ہے اسلئے کہ سعودی عرب بھی اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے بلکہ قیام پاکستان سے پہلے ہی سعودی عرب منصہ شہود پر آچکا تھا البتہ جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی اور یہ نعرہ لگا کہ ’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ‘‘ تو اس نعرہ کی گونج سعودی عرب تک بھی پہنچی اب چونکہ سعودی عرب بھی کلمہ توحید اور دین کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جبکہ ہمارا دین دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد وحمایت کا حکم بھی دیتا ہے اسی بنیاد پر سعودی عرب کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی اور جب پاکستان بن گیا تو بھی ہمارے ملک کی ہمیشہ اور ہر مشکل وقت میں مدد وحمایت کی ہے ۔

    سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ جو محبت اور دوستی ہے اس کے اظہار کیلئے 23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعودکو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ۔یہ اسلئے کہ 23مارچ ۔۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں سے سب اہم تقریب مسلح افواج کی پریڈ ہے ۔ جس میں پاکستان اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اور اعلانیہ اظہار کرتا ہے ۔ ٹینک ، لڑاکا طیارے ، توپیں اور میزائل نمائش کیلئے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کے بہترین کمانڈو دستے ، سپیشل سروسز گروپ کے جوان بھی فوجی پریڈ میں اپنی قوت اور طاقت کااظہار کرتے ہیں ۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ 23مارچ کی فوجی پریڈ میں بہترین دوست ملک کی کسی اہم شخصیت کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے ۔دوست ملک کی اہم شخصیت کا تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزازا ورافتخار کی بات ہوتی ہے ۔

    چنانچہ امسال 23مارچ کی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے بہترین دوست سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود تھے ۔ شہزادہ خالد بن سلمان۔۔۔۔۔سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت ہیں وہ ۔۔۔۔ سعودی بادشاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان کے سگے بھائی ہیں ۔ وہ 2017ء میں امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران ولیعہد شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی اور سعودی وزیر دفاع کو دورے کی دعوت دی تھی ۔ شہزادہ خالد بن سلمان مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کیلئے پہنچے تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔یہ ایک شاندار اور پروقار تقریب تھی جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سروسزچیفس نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا ارکان اسمبلی اور پاکستان میں غیرملکی سفرا بھی شریک ہوئے۔تقریب کے مہمان خصوصی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیزالسعود نے شاندار جوائنٹ سروسز پریڈ کا مشاہدہ کیا۔پاک فوج کے مختلف یونٹوں کے دستوں نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی جبکہ پاک فضائیہ کے جدید طیاروں جے ایف 17، ایف سولہ اور میراج طیارے نے فضائی مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ میںنئے شامل کردہ جے 10 سی، مقامی طور پر بنائے گئے ایف 16، جے ایف 17 اور میراج لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ AWACs، P-3C اورین اور ATR نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا اور حاضرین وسامعین کے لہو کو گرماکر دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    مسلح افواج کی پریڈ کے بعد دوسری اہم ترین تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر اعلی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس تقریب میں پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی موجود تھے ۔اس شاندار اور پروقار تقریب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ نشان پاکستان ‘‘ سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ ’’ نشان پاکستان ‘‘ ملنے پر سعودی وزیر دفاع کو مبارک باد دی جبکہ وزیر دفاع نے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اوران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ۔

    بعد ازاں سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی اور مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے خیر خواہ رہے ہیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں بالخصوص دفاع میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کی دعوت پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر دفاع عزت مآب شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تفصیلی بات چیت، علاقائی امن و سلامتی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاع ، سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور سعودی وزیر دفاع سے کہا کہ ہم آپ کے بڑے بھائی سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ دشمن پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ان حالات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت اور پھر پاکستانی عہدیداران سے ملاقاتین صدر پاکستان کی طرف اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازنا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بذات خود سعودی عرب جا کر شہزادہ خالد کو تقریب کی دعوت دینا پاک سعودی تعلقات اور بلخصوص موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا تو پاک سعودی تعلقات مضبوط تر ہوں گے ان شاء اللہ ۔

  • اسٹیبلشمنٹ  سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسٹیبلشمنٹ سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی جماعتیں، وی لاگرز، یوٹیوبرز، بعض دانشور، سوشل میڈیا پر جمہوریت کو لے کر اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کو کسی بھی زاویئے سے درست نہیں کہا جا سکتا۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے ۔ سیاسی حکومتیں اور ان حکومتوں کا نظام کچھ عرصے کے لئے ہوتا ہے تاہم بنیادی قومی مفادات اور متعلقہ پالیسیوں کے بارے میں بنیادی مفروضے ہمیشہ تبدیل نہیں ہوتے۔ دنیا کے تمام ممالک اپنی سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھنے اور اپنے قومی مفادات کی جراتمندی سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تاریخ کا مطالعہ کریں ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی طنزیہ انداز میں ریاست کے اندر ریاست کہا کرتے تھے کیونکہ یہ حکومتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے۔ یاد رکھیئے یہ نادیدہ قوت عوام کے مفادکے لئے حکومتوں پر نظر رکھتی ہے۔ سب سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی ہے امریکی سلامتی کا تقاضا ہے کہ امریکہ یورپی دنیا میں مستقل مسلح موجودگی رکھنا اپنی افواج کو دور دراز علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے تیار کرنا اور کسی بھی وقت کہیں بھی مداخلت کرنے کے لئے تیار رہنا سابق امریکی صدر اوباما اور بش کا دور حکومت یاد کریں دنیا کے کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ دفاع کی پہلی لائن ہے اور قومی مفادات پر کسی بھی طرف سے کسی بھی حملے کی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اس کے مقاصد ان سیاستدانوں کے مخالف ہیں جو قومی مفاد کے وژن کو ذاتی مفاد کو مقدم سمجھتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت شاید ہی اگلے انتخابات سے آگے سوچتے ہیں ان کی پالیسیاں انتخابات جیتنے اور اقتدار میں رہنے کی خواہش سے چلتی ہیں۔ اقتدار میں رہنے کی خواہش اپنی روح شیطان کے ہاتھ فروخت کرنے اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے اس شیطانی کوشش کو اسٹیبلشمنٹ نہ صرف روکتی بلکہ ہر دم چوکنا رہتی ہے۔

    ملکی تاریخ میں دو مثالیں واضح ہیں کیری لوگر بھی دوسرا بدنام زمانہ میمو اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ چوکنا نہ ہوتی تو سوچئے کیا ہوتا؟ دوسرا تاثر عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی کے معاملات خاص طور پر افغانستان، بھارت اور امریکہ سے متعلق اثرانداز ہوتی ہے جبکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی جہاں امریکی سلامتی کے مفادات شامل ہیں وہاں پینٹاگان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ملک میں موجود امریکی ہمدردوں نے ہر قابل فہم جرم میں اپنی سلامتی کے اداروں کو ملوث کیا ہے پاک فوج اور جملہ اداروں کوئی بھی منفی خبر بھارتی اور امریکی میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ غیر ملکی منفی پروپیگنڈہ سیاستدانوں کی ایماء پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات انتہائی لطیف انداز میں اسٹیبلشمنٹ کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے آج کے پاکستان میں کچھ بین الاقوامی اور کچھ ملکی سطح پر افراد اپنے قومی سلامتی کے اداروں پر روزانہ کی بنیاد پر زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی اکثریت اپنی عسکری قیادت پر اعتماد کرتی ہے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر دور میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ ہے۔

  • قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    صاحبان اختیارات ،ذمہ داران ریاست ،اعلٰی عہدوں پر فائز بیورو کریٹ ،بیورو کریسی کے افسران ، سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز ، یہ ارض وطن کی زمین کی ملکیت خدا پاک کی ہے اس میں بسنے والے یعنی رعایا ،بچاری ،مظلوم بے بس ، لاچار ، غریب ،کسمپرسی ،بھوک ، بیمار ی اور دیگر بنیادی مسائل میں مبتلا ہے۔ صاحبان اختیارات سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ ارض وطن پانی کی شدید کمی والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ ملک میں قحط اورخشک سالی کی دستک کی آواز بلند ہو رہی ہے اس آواز پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اگر اس پر توجہ نہ د ی تو پاکستان پانی کی مکمل قلت والے ممالک میں شامل ہو جائے گا بہت سی وجوہات ہیں جو پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی سرفہرست ہے فیکٹریوں اور کارخانوں کا ناقص زیر زمین پانی کو بے حد گندا کررہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے دنیا سے بہت پیچھے ہے ۔ یہ ا یک سنگین مسئلہ ہے ملک کے سیاستدان اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اس سر زمین کی زندگی بچانے کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے سر جوڑ کر فیصلہ کریں

    یہ مسئلہ خدا پاک کی ملکیت سرزمین کا ہے ۔ اس میں بسنے والے دانشوروں کو خوراک کی کمی ، قلت اور قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھائی دیتے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ زراعت کے لئے بھی پانی درکار ہے ۔زرعی شعور رکھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پانی کولے کر یہ صورت حال کس قدر تشویش ناک ہے۔ معیشت کومستحکم کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارو کو قسط دینے کے لئے ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے اُدھار لیا جائے گا؟ کس ملک سے پانی مانگا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی اس ریاست کے سنگین مسائل پر بھی توجہ دیں۔

  • کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پی ڈی ایم ٹو،پی ٹی آئی سے سوال ہے کہ عوام کی اقتصادی حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے،بالخصوص نئے وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ آپ کو عام آدمی جس کرب میں مبتلا ہے اس کا احساس ہے ،عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی پالیسی موجود ہے؟ عام آدمی کے بنیادی مسائل میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے، مرکز میں پی ڈی ایم ٹو، سندھ میں پی پی، پنجاب میں ن لیگ ،کے پی کے میں پی ٹی آئی، ان سب کے پاس اگر عام آدمی کے لئے کوئی پالیسی نہیں تو پھر یہ ملک میں الیکشن کا ڈرامہ کس لئے رچایا گیا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟

    ملک و قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،ایک طرف دہشت گرد دوبارہ ارض وطن میں سر اٹھا رہے ہیں، عین اسی وقت اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججوں پر مشتمل ایک لیٹر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر نظر آیا ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا، آیئے مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے، کہاں غلطیاں ہیں،کون سی کل انفرادی اور اجتماعی ٹیڑھی ہے اور ایسا کونسا گناہ ہے کہ سختیاں، پریشانیاں، امتحان ، آزمائش ختم ہونے کو نہیں آتیں، ایک سانحہ کا گرد و غبار نہیں جھڑتا کہ دوسرا جنم لے لیتا ہے، گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے، ارض وطن کے لئے ملک کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں عسکری قیادت، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، پولیس کے اعلیٰ افسران، ملک کی مقتدر ایجنسیاں منبر و محراب سب اکٹھے ہوں سرجوڑ کر صلاح مشورے سے جامع حکمت عملی تیار کریں ، قوم کابھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کرے.

    یاد رکھیے دہشت گردی کو لے کر ارض وطن حالت جنگ میں ہے ،حالت جنگ میں کمانڈروں کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں کی جاتی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں ، فوج ہو یا پولیس یا دیگر ادارے، پنجاب پولیس کے آئی جی کا کل کے واقعہ پر اپنی فورس کو الرٹ رہنے کا پیغام ہر قسم کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کی تجدید ہے، بلاشبہ ان حالات میں پنجاب حکومت بھی اپنی سکیورٹی اداروں کی پشت پر ہے، ملکی حالات کے پیش نظر بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں کی تبدیل ہوتی پالیسی کو مدنظررکھتے ہوئے ہمارے پالیسی سازوں دفاعی اور خارجہ پالیسی سازوں کو سرجوڑ کر غور کرنا چاہیے کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟