Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کا قومی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21ستمبر 1949ءکو چین کے عظیم راہنما ماﺅزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی جبکہ یکم اکتوبر چین کا قومی دن قراردیا گیا ۔ ہر سال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے، جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاریوں کے ساتھ مناتی ہے۔ بیجنگ، شن جن، ہاربین، ہانگ جو اور شیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اس مناسب سے تقریبات کااہتمام کیا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو چین کی دوستی پر فخر ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 74برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ 1951 ءمیں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں سے پاکستان اور چین کے مابین باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ترہوتے چلے گئے د±نیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی سطح پر چین کی حمایت کی ہے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لیے کھلے دل کے ساتھ ہمیشہ مددو حمایت کی ہے ۔

    چین کی عظمت اور ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے جان لیا تھا ۔1930ءکی دہائی میں چین میں جب مازﺅتنگ نے اپنی انقلابی تحریک کاآغازکیا اسی وقت شاعرمشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم ” ساقی نامہ “ لکھی تھی جس کے آخری دوشعریہ ہیں
    گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
    ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
    30ءکی دہائی میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے چینی قوم کے بارے میں جوکچھ کہاتھا آج پوری دنیااسے حرف بحرف درست ثابت ہوتادیکھ رہی ہے۔چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن چکا ہے اوریہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں چین امریکہ کے مقابلے کی طاقت بن جائے گا یا پھر امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس وقت چین جس جگہ کھڑاہے وہاں جنگ عظیم اول اوردوم کے وقت امریکہ کھڑاتھا۔اس وقت امریکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاتھاجبکہ آج چین امریکہ کی جگہ لے رہاہے۔فرق یہ ہے کہ امریکہ کے عالمی طاقت بننے میں جنگ عظیم اول اور دوئم کابنیادی کردار ہے ۔یہ دونوںجنگیں امریکہ کے ساحلوں اورسرحدوں سے دوڑ لڑی گئی تھیں۔تمام متحارب ممالک میدان جنگ بن چکے تھے،ان کی فیکڑیاں اورکارخانے تباہ ہوچکے تھے ایسے وقت میں امریکہ کے ساہوکاروں نے اسلحہ بنابنا کربیچا اوراپنی تجوریاں دولت سے خوب بھریں۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرجنگ عظیم اول اوردوم برپانہ ہوتیں توامریکہ عالمی طاقت کبھی بھی نہ بنتا۔جب امریکہ عالمی طاقت یاسپرطاقت بن گیاتواس کے بعدبھی اب تک اس کا رویہ دنیاکو لڑاﺅ۔۔۔۔اپنااسلحہ بیچو۔۔۔ اوراپنی تجوریاں بھرووالاہے۔امریکہ اس وقت ایسے خونخواردرندے کاروپ دھارچکاہے کہ جس کے منہ کوخون لگ جاتاہے اوروہ خون کی پیاس بجھانے کے لئے ہروقت شکارکی تلاش میں رہتاہے۔امریکہ کے دامن پرلاکھوں کروڑں انسانوں کاخون ہے ، حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے گھناﺅنے الزامات ہیں، دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو قتل کروانے ، پھانسیوں پر لٹکوانے، جلاوطن کروانے کے بدنما داغ ہیں۔الغرض امریکہ کا رویہ خدائی خدمت گار اور تھانیدار والا رہا ہے، ہر ایک کے کام میں ٹانگ اڑانا ، ہر جگہ پنگے لینا ، بدمعاشی کرنا ، قتل وغارت کروانا، ڈاکے ڈالنااور اپنی تجوریاں بھرنا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے۔اس کے برعکس چین کارویہ دنیاکے ساتھ مفاہمانہ،دوستانہ ،جیواورجینے دووالا ہے۔ چین دوسرے ملکوں کوروندنے اورپامال کرنے کی بجائے تجارت،معیشت اورصنعت پریقین رکھتاہے۔ چینی قوم ایک طرف صنعت،تجارت،حرفت میں ترقی کررہی ہے تودوسری طرف اپنی زبان کی ترویج کے لئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اس لئے کہ انسانی تاریخ کی کسی بھی عالمی قوت کی طرح چین کو بھی ا س بات کا ادراک ہے کہ جب تک دنیا چینی زبان نہ سیکھے گی تب تک اس کا امریکہ کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانا ناممکن ہے۔ اسی لئے چینی حکومت دنیا کو چینی زبان سکھانے کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو اپنی ضرورت کے تحت اب بچوں کو چینی زبان سکھانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میںچینی حکومت خوداپنی زبان کی ترویج واشاعت کے لئے کوشاں ہے اس مد میںچین اربوں یوآن سالانہ خرچ رہا ہے۔ بہت سے افریقی ممالک جہاں چین نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان میں ہر سال سینکڑوں چینی استاد بھیجے جاتے ہیں جو وہاں جا کر چینی زبان کے مقامی استاد تیار کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ چینی حکومت بہت سے ملکوں کے طلباءکیلئے وظائف مہیا کرتی ہے کہ وہ چین جائیں اور چینی زبان سیکھیں۔ ایسے تمام طلباءجو چین میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں انکے لئے سال چھ مہینے کا چینی زبان کا نصاب لازمی ہوتا ہے۔الغرض چین کی طرف سے اس ضمن میں نہایت سنجیدہ اور کامیاب کوششیں جاری ہیں۔

    پاکستان اورچین کے تعلقات بہت گہرے اورمضبوط ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ترہوتے چلے جارہے ہیں خاص کرسی پیک کے بعدتعلقات کی مضبوطی اورگرم جوشی میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔سی پیک کے منصوبوں کے اجرا کے بعد پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا وفاق سمیت چاروں صوبوں میںرجحان بہت بڑھ چکا ہے ۔ چین کی مادی ترقی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن دنیا میں شائد چینی ہی ہیں جن کی انگریزی سب سے کمزور ہوگی۔ انگریزی زبان میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے پر فخر کرنے والے بھارت کی ترقی چین کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک کم ہے۔ وجہ سیدھی سی ہے چین نے اپنی زبان پر فخر کرنا سیکھا اور اس کو فروغ دیا۔ کئی عشروں تک فروغ کا عمل اندرونی حد تک محدود رہا۔ شائد ہی دنیا کی کسی زبان کی کوئی قابلِ ذکر کتاب ہو جو چینی زبان میں ترجمہ ہو کر ایک عام چینی کی دسترس میں نہ لائی گئی ہو۔ انٹر نیٹ کا زمانہ آیا تو ہر طرح کی ویب سائٹس کو چینی زبان میں متعارف کروایا گیا اور آج گوگل جیسی تحقیقی ویب سائٹ سے لیکروکی پیڈیا جیسی معلوماتی ویب سائٹ تک اور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لیکر یاہو اور جی میل جیسی ذاتی رابطے کی ویب سائٹ تک ، ہر طرح کی انٹر نیٹ کی سہولتیں ایک عام چینی کو اپنی زبان میں میسر کی گئی ہیں اور پھر یہ تمام سہولتیں چین کے اپنے دائرہ اختیار میں ہیں ، کوئی دوسرا ملک جب چاہے اس سے یہ سہولتیں واپس نہیں لے سکتا یا ان ویب سائٹس میں موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا(جیسا کہ ہمارے معاملے میں ہے)عرض صرف اتنی ہے کہ ہمیں چینی زبان سیکھنے کے معاملے میں وہ غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں جو ہم نے انگریزی کے معاملے میں کی ہیں اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں چینی زبان کے ساتھ ساتھ فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی اور دوسری اہم زبانیں بھی اپنے بچوں کو سکھانی چاہئیں لیکن ایک بامقصد اور وضع شدہ پروگرام کے ساتھ اور صر ف اپنے قومی مفاد میں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو بھی اس کااصل مقام دیں ۔آخری بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہمسائے اور قابل فخردوست چین سے سیکھیں کہ کیسے انھوں نے معاشی ترقی کی اور اپنے ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو کامیابی اور عزت کا راستہ ہے ۔ چین کی لیڈر شپ نے اپنے ملک کو جس راستے پر ڈالا اسے دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔۔اب چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے جارہا ہے ۔ اس کامیابی پر ہم چین کی لیڈر شپ اور چینی عوام کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔

  • کو ن تنازعات  کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ ،او آئی سی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے صدیوں سے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔لاکھوں انسان موت کی آغوش میں چلے گئے۔ جنگ کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان تازہ ترین جنگ میں عام لوگ ہی اس کی زد میں ہیں۔ مخلوق خدا کا خون سڑکوں ، گلیوں ، محلوں میں بہہ رہا ہے ۔ عورتوں اور بچوں کا بھی خون اور لاشیں سڑکوں پر نظر آرہی ہیں۔

    فلسطین اوراسرائیل کا تنازعہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اگر امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے صدیوں پر مشتمل یہ تنازعات حل نہیں کروا سکے تو پھر کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، لیبیا ، فلسلین ، کوسوو ، بو سنیا اور میانمار لاکھوں مکانوں کو شہید کردیا گیا موجودہ دور کو تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے ۔ ان ممالک میں سب کچھ عالمی دنیا اور عالمی اداروں اور امیر ترین مسلم ممالک کے سامنے ہو ا۔ مسلمان ممالک کی اکثریت کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ امیر ترین عرب ممالک ان کی مدد کریں گے۔ مگر آج عرب ممالک خود اپنی پالیسیوں کی بدولت مال و دولت کے باوجود مصیبت زدہ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک غور کریں مسلمان ممالک دنیا کی کمزور ترین قوم کیوں ہیں؟ علم سے دوری بیشتر ممالک ، دوسری قوتوں کے رحم وکرم پر ہیں۔

    جذباتی تقریر یں نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کا عالم یہ ہے جو اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتا وہ اغیار کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ دنیا پر غالب آنے کی بات کرتے ہیں۔ مسلمان ابھی تک استنجا خانے صاف رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ رَبِ زِدنِی علماکو چھوڑ دیا ۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو چھوڑ دیا۔ جہاں تک تازہ ترین فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعات طول پکڑ رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی تو عالمی دنیا کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر غزہ میں زندگی جہنم ہو تو اسرائیل کبھی جنت نہیں ہوگا اور یہی کچھ بھارت کے لئے بھی ہے۔

  • بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کا مہینہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو میری نظر میں کئی ایسے قریبی رشتہ دار اور دوست احباب گھومنے لگتے ہیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوئے اور آج ہم میں موجود نہیں۔ تب معاشرے میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے زیادہ آگاہی موجود نہیں تھی۔ گو کہ علم ہونے پر علاج کیلئے بہت بھاگ دوڑ ہوئی۔ کوئی ہسپتال، پیر، فقیر نہیں چھوڑا گیا۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر علاج کی ہر کوشش کی گئی۔ مگر بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ میرے اندر مذکورہ تمام متاثرین اور لواحقین کے دُکھ تازہ کر دیتا ہے۔
    مختلف بیماریوں سے نہ صرف آگاہی رکھنا، بلکہ ان کے علاج کی کوشش ہر فرد کا حق ہے۔ اس کا خود کو اس حق سے محروم رکھنا اپنے ساتھ ایک ایسی زیادتی ہے جس کا ازالہ سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔ خواتین میں چھاتی کے بڑھتے سرطان کی ایک بڑی وجہ جھجک ہے۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ یا، معمولی مسئلہ سمجھ کر پہلے ایسی بیماری کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر دیسی ٹوٹکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب بات بگڑ جاتی ہے تو علاج کیلئے یہاں وہاں بھاگا جاتا ہے، مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا موقف ہے کہ بریسٹ کینسر ایسی بیماری ہے جس کو ابتدائی طور پر ہی پکڑا جا ئے تو بچنے کے چانسز 95 فیصد سے زائد ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا کے بدلتے مزاج اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ اب صورتحال مختلف ہوچکی ہے۔ جس معاشرے میں پہلے مذکورہ حوالے سے بات کرنے میں جھجک آڑے رہتی تھی، وہاں اب ”پنک ربن“ نامی ایک پلیٹ فارم کی وجہ سے خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ سے آگاہی اور مختلف ہدایات دینے کے ضمن میں منظم آگاہی مہم بھرپور انداز میں چلائی جاتی ہے اور علاج میں کوتاہی نہ برتنے بارے انہیں خبردار کیا جاتا ہے۔
    پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح پورے ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر 9 میں سے 1 خاتون کو بریسٹ کینسر ہونے کا رسک ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین بریسٹ کینسر کے رسک پر ہیں۔ پاکستان تھرڈ ورلڈ ممالک سے تعلق رکھنا والا وہ ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ مہنگے علاج کے خوف سے بھی ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر تشخیص کی مناسب فیس بھی وصول کرے تو ادویات ہی اس قدر مہنگی ہوتی ہیں کہ انہیں ریگولر بنیادوں پر لیتے رہنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے آغاز میں چھاتی میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو معمولی گردانا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جو 18 میموگرام مشینیں انسٹال کی ہیں، ان سے استفادہ کرنے والی خواتین کی تعداد بے حد مایوس کن ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ اسی رویے کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد خواتین اُس وقت ہسپتال میں علاج شروع کرواتی ہیں جب وہ انجانے میں بریسٹ کینسر کی تیسری اسٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہیں اور یوں پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد خواتین موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔ اگر وہ تیسری اسٹیج کی بجائے ابتداء میں ہی مستند جگہوں سے اپنا چیک اپ کروانا شروع کر دیں تو نہ صرف علاج کے اخراجات کنٹرول میں رہیں گے بلکہ ان کا شمار صحتیاب ہو کر اس مرض سے چھٹکارہ پانے والی 95 فیصد خواتین میں ہوگا۔

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    ”پنک ربن“ کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے 90 ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اس صورتحال میں خواتین میں جھجک کا عنصر ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ آگاہی کا فقدان دور کرنے اور اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کیلئے آگاہی مہم کا دائرہ کار مساجد میں خطبوں، تعلیمی اداروں میں سیمینارز، ہسپتالوں اور کاروباری پوائنٹس پر تشہیری ذرائع کے استعمال حتیٰ کہ گھروں تک آگاہی پمفلٹس پہنچانے کی صورت میں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں لائف لانگ میسج سرایت کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر زون کی سطح پر فری ڈائیگناسٹک سروسز مہیا کی جائیں۔ جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن ہسپتالوں میں یہ سروسز موجود ہیں وہاں خواتین کو ٹیسٹوں اور علاج کیلئے شارٹ سے شارٹ ٹائم دیا جائے تاکہ ان کی تیز ترین ریکوری ممکن ہو سکے۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی شرح دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب ”لوگ کیا کہیں گے“ سے آگے نکلنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ امر بھی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ جو خواتین چھاتی کے سرطان کی تیسری اور چوتھی اسٹیج پر پہنچ چکی ہیں ان کیلئے علاج کی سہولیات کم لاگت کی جائیں تاکہ ان کے گھر والے بآسانی ان کا علاج کروا سکیں …… وگرنہ 20 لاکھ روپے کے قریب ہونے والا علاج ہر خاتون کیلئے کروانا ممکن نہیں

  • صدق دل سے انقلاب لانا ہے تو۔۔۔۔۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    صدق دل سے انقلاب لانا ہے تو۔۔۔۔۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    ملکی سیاسی جماعتیں ملک میں انقلاب لانے کی دعویدار ہیں یاد رکھیئے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا بدقسمتی سے انقلاب کا قائد دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انگریز کے غلاموں نے اس سرزمین کو کھانا شروع کردیا۔ اقتدار اور اختیارات کی سرد جنگ ایسی چلی کہ تادم تحریر یہ جنگ جاری ہے۔ جمہوریت اور عوام کے نام پر وہ گل کھلائے جس کو دیکھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر صدق دل سے ملک میں انقلاب لانے کا ارادہ رکھتی ہیں تو بے روزگاری ختم کرنے کا انقلاب لائیں‘ لوڈشیڈنگ کے خاتمے‘ زرعی انقلاب‘ معاشی انقلاب‘ ملکی وسائل پر توجہ کا انقلاب‘ سیاسی جماعتوں میں شامل لینڈ مافیا اور لینڈ مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں خو اٹھا کر جماعتوں سے باہر کریں۔ آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے شکنجے سے پاکستان کو آزاد کروائیں۔ ملک میں کرپٹ بیوروکریٹ اور اعلیٰ پولیس افسران جو کرپشن اور جرائم پیشہ افراد کے پشت پناہ ہیں ان کی پشت پناہی نہ کریں۔ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تکبر اور غرور سے باہر نکل کر مخلوق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ ملک کی مذہبی جماعتیں ملاوٹ کے خلاف انقلاب بلکہ جہاد کریں۔ ملک کا مستقبل بچے اور نوجوان ملاوٹ شدہ خوراک استعمال کرکے جسمانی لاغر ہورہے ہیں۔ نااہل‘ جاہل اور کرپٹ سول بیوروکریسی اور پولیس افسران کا راستہ روکیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت پیدا کریں دنیا تبدیل ہورہی ہے اور ہم کہاں جارہے ہیں؟ قائد کے پاکستان اور اس بے گناہ عوام سے کیا غلطی ہوگئی ہے جس کی یہ سزا بھگت رہے ہیں محسوس ہوتا ہے ہم جذبات اور احساسات کے قبرستان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انتخابات انتخابات کی صدائیں لگانے والے بتائیں ریاست اور عام آدمی کے لئے کیا کردیا اور کیا کرنا ہے؟ بہت ہوچکا ملک و قوم کے مفاد میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نام کتاب : نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، نزد لوئر مال لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔ انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے، جن کی تعریف وتوصیف خود آسمانے والے نے اپنی کتاب مقدس میں فرمائی ہے ، جو محبوب ملائکہ ہیں ، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار کے امام و پیشوا ہیں ، جو ساقی کوثر ہیں ، جو سرداران جنت حسن وحسین کے نانا ہیں ،جو عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ طاہرہ مطاہرہ کے شوہر ہیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہیں ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک اس دنیا میں جتنے ادور بھی گزرے، ان میں سے رسول ﷺ واحد ہستی ہیں کہ جن کی مبار ک زندگی پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے ۔ ادوار گزرے چلے جائیں گے، لکھنے والے لکھتے رہیں گے ، ان کے قلم ٹوٹ جائیں گے، سیاہیاں خشک ہوجائیں گی لیکن رسالت ماٰ ب ﷺ کی سیرت طیبہ کو لکھنے کا حق ادا نہیں کیا جاسکے گا ۔ سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔
    ارشاد احمد ارشد
     نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد  قریشی

    سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ ہائوس کو ہی جمہوریت کی فتح قرار دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی طرف سے قومی انتخابات آئین کے مطابق کروانے کامطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ حیرت ہے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جہاں بلدیاتی انتخابات کی صدا کوئی بھی سیاسی جماعت بلند نہیں کرتی۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے آخر جمہوریت کی دعویدار آئین کی دعویدار جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں راہ فرار ہیں؟ کیا ملک کی سیاسی جماعتیں قوم کو بتا سکتی ہیں کہ آخر پنجاب کو بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ بلاشبہ ملک میں مہنگائی ہے عام آدمی کا گزارا مشکل سے ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف لاہور‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹلز‘ بیوروکریسی‘ اشرافیہ‘ صنعتکار‘ تاجر ‘ سرمایہ دار‘ شام کا ڈنر ان مقامات پر کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بلا شبہ پٹرول مہنگا ہے مگر سڑکوں پر قیمتی گاڑیوں سے لیکر چھوٹی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں شاپنگ پلازوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے۔ آخر سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا‘ پرنٹ میڈیا‘ سیاسی بونے‘ اس وطن عزیز کو عالمی سطح پر غربت غربت کرکے اس ملک سے کون سے بدلہ لے رہے ہیں۔

    الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پاکستان کا مثبت چہرہ کیوں نہیں دکھاتا؟ غربت کے مارے لوگوں کو ضرور دکھایئے مگر خوبصورت شاپنگ پلازوں ‘ بڑے بڑے ہوٹلز‘ فوڈ اسٹریٹ‘ بڑی بڑی سڑکیں‘ خوبصورت مقامات کو بھی دکھایا جائے۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے گلیشیئر‘ پہاڑ‘ دریار‘ سمندر‘ ریگستان‘ گلگت کا سرد ریگستان باعث کشش ہے۔ پاکستان کی ثقافت تاریخ‘ ہنرمندی‘ خوبصورت مذہبی ہم آہنگی اور جدید پاکستان کو اجاگر کیا جائے۔ پاکستان دنیا کے چند ممالک میں ہے جہاں صحرا‘ پہاڑ‘ ریگستان‘ میدان‘ نخلستان اور چٹیل میدان موجود ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے اپنی بندرگاہیں موجود ہیں لاکھوں ایکڑ رقبے موجود ہیں۔ پاکستان کے کھانے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ پاکستان کے پھلوں کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ملک کی کپاس بہترین کپاس ہے۔

    پاکستان کی کاٹن انڈسٹری دنیا کو لیڈ کرسکتی ہے۔ عالمی دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے سفارتخانے‘ بیوروکریٹ اور دیگر ادارے اگر مثبت کردار ادا کریں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوجوانوں کی بڑی تعاد پڑھی لکھی ہے ان نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا ان پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ملک کے نوجوانوں کو صنعتی شعبے میں استعمال کرکے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو گمراہ نہ کریں اپنے اقتدار اور اختیارات حاصل کرنے کے لئے خدارا ابھی بھی وقت ہے۔

  • نواز شریف ایک بار پھر، عزم و اخلاص کے ساتھ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نواز شریف ایک بار پھر، عزم و اخلاص کے ساتھ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا ادھورا خواب بین الاقوامی اور ملکی سازشوں کا کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ بقول نواز شریف پاکستان 2017 میں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سے ناکام ریاست کیسے بنایا گیا ملک و قوم کو کن گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجوں میں جکڑنے والوں نے خودکشی کیوں نہ کی۔ آئی ایم ایف کے منہ پر اربوں ڈالر کے طمانچے مارنے والے اپنے دور حکومت میں غیر سنجیدہ حرکات میں کیوں ڈوبے رہے۔

    اعلیٰ سرکاری دفاتر ٹک ٹاکروں کی ٹھوکروں سے کیوں کر بے توقیر ہوئے۔ ترقی پر گامزن ملک کو تنزلی کا شکار کیوں کر کیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو اپنے ادھورے خواب کا رونا رونے والے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پوچھ رہے ہیں۔ قارئین گرامی کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اگر میاں محمد نواز شریف کے مختصر حالیہ خطاب کا تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک میر کاروان متاع کارواں کے لٹنے پر ماتم کررہا ہے ایک ایسا کارواں جو منزل سے چند قدم دور تھا اور لٹ گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
    ملک و قوم کی خاطر آج بھی نواز شریف کے حوصلے پرعزم ہیں اپنے استقلال سے لٹے ہوئے کارواں کو منزل گم گشتہ کی طرف ایک بار پھر گامزن کرنے کا عزم لئے پاکستان کی ترقی اور تعمیر کے لئے کمر بستہ ہورہے ہیں۔ بلاشبہ نواز شریف نے قوم کو موٹر ویز دیئے شاہرات کا جال دیا وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ایٹمی دھماکے کئے اور بین الاقوامی معاشی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے سی پیک جیسا منصوبہ تکمیل کے مراحل تک پہنچا دیا۔ نواز شریف ایک بار پھر وہی عزم‘ وہی حوصلہ ‘ وہی اخلاص اب بھی برسرپیکار ہے۔

  • نو ارب کی برآمدگی،مافیا کیخلاف کاروائی ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نو ارب کی برآمدگی،مافیا کیخلاف کاروائی ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مری روڈ راولپنڈی زیر تعمیر پلازے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 9 ارب روپے مالیت غیر ملکی کرنسی اور ڈالر برآمد کئے ۔ راولپنڈی میںیہ نجی بنک بتایا جاتا ہے کہ ہائوسنگ سوسائٹی مالکان کی ملکیت تھا۔ جنہوں نے ٹیکس بچانے کے لیے مل کر بنایا تھا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ جبکہ دوسری طرف چیئرمین آر ڈی اے نے غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی کے خلاف بڑا آپریشن کیا ہے۔

    چیئرمین آرڈی اے سیف انور جپہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آپریشن جاری رہے گا قبضہ مافیا اور ریاستی زمینوں پر قبضے کرنے والے مافیا کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قارئین گرامی اداروں میں اگر ایماندار اعلیٰ افسران ہوں تو پھر ملک ترقی کرتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے اس ترقی پذیر پاکستان کے طاقتور حکمرانوں نے عوامی راج کا نعرہ تو لگایا مگر عوامی راج کا سورج کبھی طلوع نہیں ہوا نہ ہی قانون اور انصاف کا راج ہوا اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر کا یہ حال ہے تو پھر کراچی اور پنجاب کے دوسرے شہروں کا کیا حال ہو گا ۔ کہیں چینی مافیا ۔ کہیں لینڈ مافیا ،کہیں ڈالر مافیا ، کیا یہ ملک ان مافیاز اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے لئے بنایا گیا تھا؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف دشمنی کی سوچ اصل میں پاکستان اور عوام دشمنی کی سوچ ہے،مریم نواز
    پرویز الہی ایک بار پھر گرفتار
    سیاسی جماعتوں میں شامل ایسے افراد کا بھی گھیرا تنگ کیا جائے جنہوں نے ا س ترقی پذیر ملک کے خزانے سے اربوں کا قرض لیا اور پھر معاف کروایا۔ مراعات در مراعات کے دریائوں میں غوطے لگانے میں مشغول قومی وسائل پرعیاشیاں کرنے والوں کوبھی پکڑاجائے ۔ ان عیاش افراد کی وجہ سے ریاست اور عام آدمی بے سروسامانی اور غربت کے سمندر میں غرق ہو رہا ہے۔ ذمہ داران ریاست ا س ملک کی قومی سلامتی پر اور عدلیہ تحصیل و ضلعی عدالتوں سے لے کر عدالت عظمٰی تک عدل کے بول بالا کے لئے اپنا کردار ادا کرے یہ ملک ترقی یافتہ صف میں کھڑا ہوسکتا ۔ انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے اور اعلیٰ پولیس افسران آزادی سے اپنا کام کریں۔

  • یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پوری قوم نے یوم دفاع منایا یہ دن شہیدوں کا دن ہے کل بھی یوم دفاع تھا جس کو چھ ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے سرحدوں پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت آج کے اس ایٹمی طاقت کے حامل ملک اور پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں کی بدولت فوجی جارحیت نہیں کرسکتا اس نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں آج بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار موجود ہیں تاہم ہمارے قومی ایمان کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک ہمارا دشمن زندہ ہے ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

    بلاشبہ اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ چینی اگر مہنگی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ میں کون ملوث ہے؟ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں عوام کو جوابدہ ہیں اور بیوروکریسی بھی جوابدہ ہے؟ کیا شوگر ملیں عام آدمی کی ہیں؟ کیا ڈالر کی اسمگلنگ میں عام آدمی ملوث ہے؟ ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا مقروض عوام نے بنایا ہے؟ ہرگز نہیں اس میں بڑے بڑے صنعتکار‘ سرمایہ دار اور ان کے ہم پیالہ بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں اور سیاستدان بھی۔ قارئین کو یاد ہوگا سابق صدر جنرل پرویز مشرف مرحوم کے دور حکومت میں وکلاء کی ایک تحریک شروع ہوئی جس کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سینئر وکلاء نے قیادت کی تھی اور دلفریب نعرہ تھا ریاست ہوگی ماں جیسی کیا پھر اس دلفریب نعرے پر کسی نے عمل کیا؟ اسی طرح سیاسی جماعتیں الیکشن کرائو کا نعرہ لگاتی رہیں کیا سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے کبھی جمہوریت کو مستحکم کیا؟۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی۔ قانون کی حکمرانی کے لئے کوئی عملی اقدامات کئے؟ اقتدار میں آکر ملکی وسائل پر توجہ دی؟ عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ریاست کو درپیش مسائل پھر توجہ دی گئی؟ آئین پاکستان گلہ کرے تو کس سے کرے۔ حصول اقتدار اور کون بنے گا وزیراعظم کی جنگ سیاسی جماعتوں کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی بدولت آج پاکستان اور عام آدمی بھگت رہا ہے۔ اس میں ہماری سول بیوروکریسی بھی شامل ہے۔ ذمہ داران ریاست نے گزارش ہے کہ بہت ہوچکا۔ بقول ساغر صدیقی
    چراغ طور جلائو بڑا اندھیرا ہے
    ذرا نقاب اٹھائو بڑا اندھیرا ہے
    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں انہیں کہیں سے بلائو بڑا اندھیرا ہے۔
    فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارا کہیں سے ڈھونڈ کے لائو بڑا اندھیرا ہے۔

  • کبھی سوچئے گا ، تحریر:سرفراز ملک

    کبھی سوچئے گا ، تحریر:سرفراز ملک

    کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک بھی کویڈ کے دوران گھٹنوں پر آگئے تھے لیکن پاکستان پر خدا کی رحمت تھی ۔ ایکسپورٹس اور ریمیٹینسسز بھی ترقی کررہی تھیں اور ساتھ ساتھ دنیا کی بہترین فلینتھراپی کے ماڈل کو بھی عالمی یونیورسٹیوں میں سراہا جارہا تھا تو پناہ گاہیں اور صحت کارڈز بھی چل رہے تھے ۔ کموڈیٹی سوپر سائیکل کہ جس میں عالمی منڈی 40 سالہ بلند مہنگائی کی سطح پر تھی اور اس مہنگائی نے لازما ایمپورٹس کے ساتھ ملک میں داخل بھی ہونا تھا اور روپے پر پریشر بھی اسی تناسب سے آنا تھا مگر ایمپورٹس مکمل طور پر کھُلی ہوئی تھیں لیکن ڈالر کا ریٹ بھی مارکیٹ بیسڈ تھا۔ معیشت بھی 6% سے ترقی کررہی تھی اور چند چند ماہ میں او آئی سی کے دو دو اجلاس بھی پاکستان میں ہورہے تھے ۔ محمد بن سلیمان جیسے شہنشاہ بھی پاکستان آرہے تھے اور بل گیٹس جیسے لوگ بھی عام مہمانوں کی طرح آتے تھے۔ ماحولیات میں بھی دنیا تعریف کررہی تھی اور میڈ ان پاکستان کی بھی خبریں آتی تھیں۔ ٹیکسٹائل والے بھی ٹارگٹس کے مطابق نتائج دے رہے تھے تو سٹارٹ اپس اور آئی ٹی سیکٹر کی کونپلیں بھی پھوٹ رہی تھیں۔ کارپوریٹس بھی تاریخی بُلند منافع کمارہی تھیں تو روزگار کی شرح بھی تاریخی بلند اور ٹارگٹ کے مطابق تھی ۔ عالمی منڈی میں بانڈز بھی بیچے جارہے تھے اور ڈیفالٹ سواپ اور کریڈٹ ریٹنگ بھی بالکل ٹھیک تھی ۔

    اس سب کے بعد کہ الیکشن سے ڈیڑھ سال پہلے کہ جس کے لئے کوئی بھی حکومت پلان کرکے بیٹھی ہوتی ہے اسمیں اس سے کرسی چھین لی گئ ۔ اس دن سے جیسے اس ملک میں سے برکت ہی اُٹھ گئی ۔ ہر قدم غلط پڑا ۔ ہر پلاننگ ناکام ہوئی ۔ پے در پے مصائب اس طرح یکے بعد دیگرے ٹوٹتے چلے گئے جیسے فرعون کے مصر میں ایک ایک کرکے یکے بعد دیگرے مصائب نازل کیے جاتے تھے ۔ امن اور اطمینان تھا جو خوف اور بھوک میں ڈھلتا چلا گیا۔ پچہتر سال سے پردے کے پیچھے کُچھ نہ کُچھ ہوتا رہتا تھا لیکن فیس سیونگ کے ساتھ ایگزیکیوٹ ہوجاتا تھا ۔ مگر اب یہ سب کُچھ اتنا واضح ہوکر سامنے آگیا کہ دہائیوں کوٹ ہوتا رہے گا۔

    سوچئے کہ یہ سب کُچھ الٹ کیوں ہوگیا ؟ کموڈیٹی سوپر سائیکل دنیا میں ختم ہوگیا لیکن یہاں افراط زر سوپر سائیکل کے دور کے مقابلے بھی 3 گُنا بڑھ گیا۔ ماحولیات کا تو لفظ بولنا ہی ایسا ہے جیسے کسی زلزلے کے عین دوران گھر سے باہر آجانے کی بجائے سب کو شجر کاری کی بحث پر بات کرنے کے لئے آواز دینا۔ ڈیڑھ سال سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے جو گہرے سے گہرا ہوتے ہر چیز پر چھاتا چلا جارہا ہے۔

    کبھی سوچئے کہ وہ ساری برکتیں یکدم کیوں اُٹھ گئیں ؟ اُمیدیں کیوں ایک دم مایوسیوں میں بدل گئیں ؟ کوئی تو تھا جسکی قدرت بھی قدر دان تھی ۔ آخر کون تھا کہ جس کی قدرت عالمی آفت کے دوران بھی اکرام کررہی تھی ؟ آخر ہم نے کسی کی تو بے قدری کی کہ اب قدرت ہماری بے قدری کررہی ہے ؟ سوچئے گا ۔ خدا کی برکت اور لعنت کی زمین پر عملداری سے دلچسپی ہوئی تو ضرور سوچئے گا۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا