Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    صوبہ بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا میاں محمد نواز شریف پر اظہار اعتماد اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت دراصل نواز شریف کی بطور وزیراعظم ان کا وشوں کا اعتراف ہے جو کہ نواز شریف نے بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے بلوچی بھائیوں کے زخم پر مرہم رکھنے اور صوبہ کو گوادر سی پورٹ اور مواصلاتی و ترقیاتی منصوبوں سے لیس کرنے کے اقدامات تھے ۔ نواز شریف نے گذشتہ ادوار میں بطور وزیراعظم جہاں پاکستان بھر میں میگا پراجیکٹس کی بھرمار کردی تھی وہاں بلوچستان منصوبہ کو بھی سی پیک و گوادر پورٹ کے منصوبوں سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے تاریخی اقدامات کیے تھے۔ اس ترقی کا عمل وہیں کا وہیں روک دیا گیا جس کا خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا۔ آج بلوچستان میں نواز شریف کی جو عزت افزائی ہوئی اور قومی سطح کے اعتماد بھائی چارے کی فضا کو جو فروغ ملا اس پر چند سیاسی طالع آزما ئوں کو اور کچھ دانشوروں تجزیہ کاروں کو تاریخ کے صفحات پلٹ کر ایک نظر ان حقائق پر بھی ڈالنی چاہیئے ۔

    جب قومی و جمہوری و مفاہمتی سیاست کے د عویدار جناب آصف علی زرداری نے اپنے خفیہ موکلوں کے بل بوتے پر مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت کو رخصت کیا تھا اور سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کی عددی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروا کر ( ایک زرداری سب پر بھاری ) کے خوشامدانہ نعر ے اور نعروں سے اپنے دامن پرجمہوریت کے قتل کے داغ سجا لئے تھے۔ آج لیول پلنگ فیلڈ کے نام پر اپنے ماضی کے گناہوں سے چشم پوشی کرنے والوں کو وہ وقت بھی یاد رکھنا ہوگا۔ قوم نے نواز شریف کی وزارت عظمٰی سے معزولی کی بھاری قیمت جو ادا کی تھی وہ ترقیاتی عمل سے تنزلی کا سفر ، سی پیک رول بیک ، جی ڈی پی میں کمی ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سہولیات کے فقدان کی صورت میں بھگتا ہے ۔ملکی سیکورٹی اور فوجی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ قومی مفاد سے آشنا ، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو چاہیئے کہ عوام کو باور کرائیں کہ دھرنا دھندوں عقل کے اندھوں سیاسی نعروں سے نکل کر صوبوں میں برابر ترقی کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں .دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اورہم ذرا سوچئے؟

  • دنیا اقتدار  اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ۔ ماموزئے تنگ ہر چینی ، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں ز ندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے۔ ان کے ہمسفر نہ کوئی گوگی ،نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے، آج کی سیاسی جماعتوں میں یہ سب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ اس طرح کے سیاستدانوں جن کے ہمراہ اس قسم کی مخلوق ہوتو اپنے ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پھینک دیتا ہے ۔ سیاستدان اخلاقیات سے عاری اور منافقت کے چلتے پھرتے نمونے بن چکے ہیں۔ حیرت ہے یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے اور یہ ادارے ملکی بقا اور قومی سلامتی کی علامت ہوتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اس جرم میں ملکی سیاسی جماعتیں ملوث ہیں ۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ سے لے کر مغربی ممالک اور مڈل ایسٹ میں ان قومی سلامتی کے اداروں کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ ان اداروں کو بدنام یا کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    مسجد اقصٰی کا مستقبل نہ امریکہ نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی عالمی دنیا کے کسی مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے مسجد اقصٰی کا مستقبل وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے ۔ اس کی وہی حفاظت کرے گا جس پر وردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ آج کے عالمی حکمرانوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنے اپنے مفادات ،آج کی دنیا میں قیامت کا سماں برپا ہے ۔ نفانفسی کا عالم ہے ۔ دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں لگی ۔مگر ان انسانوں کو کون سمجھائے دولت اور حکمرانی خدا پاک کی طرف سے عطا کردہ آزمائشی تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا دنیا پر ایک بطور امتحان ہے تاہم یاد رکھیئے نشیب وفراز کی کنجی صرف خدا پاک کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فرعون کے نقش قدم پر چلے توکیا کہا جا سکتا ہے۔؟

  • علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    پاکستان میں آج کل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی نظریات اور مفادات کے درمیان ایک کشمکش کا ماحول ہے۔ الزامات لگتے ہیں، جوابی الزامات لگتے ہیں، کردارکشی ہوتی ہے اور اب تو کردارکشی کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے آڈیو اور وڈیو بھی تیار کرکے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس ساری کشمکش میں اتنی گرد اڑائی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات یکسر محو ہو جاتی ہے کہ اس ملک خداداد کو قائم کرنے کا مقصد کیا تھا۔

    برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور شاعر، فلاسفر اور وکیل علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ برصغیر سے مغل حکومت کے خاتمے کے بعد اس بات کے واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ اگر انگریز ہندوستان سے نکل گئے تو ہندو اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے۔ انیسویں صدی کے لسانی فسادات کے بعد سرسید احمد خان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی تضادات کی وجہ سے دونوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ بعد کے واقعات نے ان خدشات کی تصدیق کر دی۔

    ہندوؤں نے آل انڈیا کانگریس قائم کی اور اس کا پہلا سربراہ ایک انگریز کو بنایا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ 1905 کے تقسیم بنگال کے فیصلے کے بعد کانگریس اور قوم پرست ہندوؤں کا ردِعمل واضح طور پر مسلم دشمنی کا مظہر تھا۔ جب مسلمان لیڈروں کو احساس ہوا کہ آل انڈیا کانگریس اصل میں آل ہندو کانگریس ہے تو اس کے جواب میں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقسیم بنگال، جو تمدنی اور معاشی طور پر بنگالی مسلمانوں کے لئے فائدہ مند تھی، ہندوؤں کو منظور نہ تھی۔ ان کے شدید ایجی ٹیشن نے انگریزوں کو صرف چھ سال بعد ہی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر مجبور کر دیا۔ یہی بات مسلم زعما کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اپنے حقوق کے لئے انہیں اپنے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح، جو کانگریس کے بنیادی رکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے، ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس اتحاد سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اس پس منظر میں علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبۂ آلہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا تصور پیش کیا۔ اس خطبے کا مرکزی نکتہ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور ان کے لئے متحدہ ہندوستان کے اندر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا۔ یہ خیال رہے کہ اقبال نے جداگانہ مسلم قومیت کا تصور اس وقت پیش کیا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا نیشن سٹیٹ کے جدید تصور کو اپنا چکی تھی اور ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کئے جا چکے تھے۔ کیونکہ اقبال اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے نیشن سٹیٹ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا تھا:

    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

    1930ء کا خطبۂ الہ آباد انگریزی زبان میں ہے اور قدرے طویل ہے کیونکہ اس میں علمی اور نظریاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس خطبے میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب ،شمال مغربی صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے۔ ان کا ابتدائی تصور "ہندوستان کے اندر مسلم ہندوستان” تھا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار حکومت اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے۔ آلہ آباد سے پہلے یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی مگر کمیٹی نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو اتنی وسیع ریاست وجود میں آجائے گی کہ جس کا انتظام مشکل ہوگا۔

    اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی: "جہاں تک رقبہ کا تعلق ہے یہ بات درست ہے لیکن آبادی کے لحاظ سےمجوزہ ریاست بعض موجودہ ہندوستانی صوبوں سے چھوٹی ہو گی۔ انبالہ ڈویژن اور ممکن ہے ایسے اضلاع کو الگ کر دینے سے جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اس کی وسعت اور بھی کم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی تعداد میں غلبہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی حدود کے اندر یہ متحدہ ریاست غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت پوری قوت سے کر سکے گی-”

    اقبال نے قائد اعظم کو ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی قیادت کے لئے قائل کیا جس کے نتیجے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے اقبال اور قائد کی وفات کے بعد پاکستان ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے قائد کی وفات کے بعد ان کی گیارہ اگست والی تقریر میں دئے گئے وژن کو مسترد کرنے کے لئے "قرارداد مقاصد” منظور کرائی۔ اقبال اور قائد مسلمانوں کے لئے ایک جمہوری ملک کا تصور رکھتے تھے جس کو مسخ کر کے کبھی سوشلزم کے تجربے کئے گئے کبھی قرون اولیٰ کی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔

    اقبال اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہے جس میں دوسری قومیتوں کو نہ صرف برابر کے حقوق حاصل ہوں گے بلکہ مجوزہ مسلم ریاست ہندوستان کے غیرمسلموں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی خطبۂ الہ آباد کی روح کے عین مطابق ہے انہوں نے کسی مرحلے پر بھی اسے بادشاہت کے تحت مذہبی ریاست بنانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اسی لئے مولویوں نے اس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    پاکستان کو خطبۂ الہ آباد اور گیارہ اگست کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز جائے۔ پاکستان ہندوستان کی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلم اقلیت کے استحصال کو روکنے کے لئے ایک جمہوری ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقصد قیام کو بار بار مسخ کیا گیا تاکہ ان طبقات کو پاکستان پر کنٹرول کرنے کا جواز دیا جا سکے جنہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

  • غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ ،او آئی سی ، عرب لیگ دوسرے بین الاقوامی ادارے ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدارو ،سعودی عرب، قطر ، ایران ، مصر اورترکی ، مسلمان ملکوں میں بے گناہ انسانوں کو ذبح کرنے والو۔ امت مسلمہ کا درس دینے والو۔ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 30دن ہو گئے ۔ نسل آدم کی لاشیں گر رہی ہیں آپ کا کردار کیا ہے ؟

    جمہوریت کی دوکانیں چلانے والو، بالخصوص جنت کے دعویدارو. تمہارے سامنے غزہ لہو لہو ہے ۔ جنت کے دعویدارو کیا تم موت کو بھول بیٹھے ہو مرنے کے بعد زندہ ہونا اور خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ نیتن یاہو غزہ کے ساتھ اسرائیلی قوم کا بھی قاتل ہے اسرائیلی عوام بھی سراپا احتجاج ہے ۔ عرب ریاستوں کا کردار پہاڑ پر چڑھ کر جنگ کا نظارہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے بھارت صدیوں سے بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ بھارت میں عیسائی ، مسلمان ، غیر محفوظ ۔ عالمی ادارے تادم تحریر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    بوڑھے سیاستدان جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دیکھ لیں، اہم ریاستوں کی امریکی کمیونٹیز ، بائیڈن کی اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہو رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کو اپنانا ہوگا۔ موجودہ تباہی کے بعد بائیڈن کے پاس مشرقی وسطی میں امن کی بحالی کے بعد فوری طورپر مردہ حالت میں واپس لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور عالمی دنیا کو فوری مداخلت کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر جنگ ہو تو بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے ۔ عالمی طاقتیں تماشائی نہ بنیں اپنا کردار ادا کریں انسانیت کی خاطر۔

  • انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آمدہ قومی انتخابات کب ہوں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔تاہم اگر انتخابات ہوئے تو یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ آمدہ قومی انتخابات میں کیا ہونے والا ہے کس کی جیت ہوگی کس کی ہار ہوگی تاہم ملکی سیاسی جماعتوں کو قانون کی حکمرانی آئین اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی مسائل سے لے کر ریاستی مسائل کو حل کرنا ہوگا ایک دوسرے کے خلاف انتقام اور انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک کی معیشت ملکی وسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ قرضوں میں ڈوبے پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کے خونخوار پنجوں سے آزاد کروانا ہوگا۔ کیا مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئے گی کیا نواز شریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے بہرحال جو چیز پردہ غیب میں ہے اس کے بارے میں قیاس کے گھوڑے دوڑانے کا کچھ حاصل نہیں ہے سیاست بچوں کا کھیل نہیں آج کل ن لیگ بالخصوص میاں محمد نوازشریف کے نزدیک ایسے ایسے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جنہو ں نے نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم کیخلاف پروپیگنڈے بھی کئے اور ن لیگ کے خلاف بآواز بلند مخالف جماعت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے

    ملکی سیاسی گلیاروں میں شاید یہی لوگ کامیاب ہیں۔ تاہم میں نے مریم نواز کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیشیاں بھگتے دیکھا ہے مریم نواز خود ہی بتائیں ان کے ساتھ اس مشکل ترین وقت میں کون کھڑا تھا ۔ تاہم ٹکٹ لینے وزیر مشیر بننے کے لئے ایک بار پھر نعرے سننے کو مل رہے ہیں قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اپنے اندر زیادہ خوش گمانی پالنے کی ضرورت نہیں نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سمجھ ہے یہ خوشامد اور خوشامدی کیا ہوتے ہیں ملکی کی سیاسی جماعتیں عوام اور پاکستان کے مستقبل پر توجہ دیں حالات و واقعات تبدیل ہو چکے ہیں۔

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • ایف اے ٹی ایف  اجلاس کے بڑے فیصلے

    ایف اے ٹی ایف اجلاس کے بڑے فیصلے

    25 سے 27 اکتوبر 2023 تک منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے پلینری اجلاس میں نمایاں نتائج برآمد ہوئے ہیں حالانکہ ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے کی وجہ سے اسے پاکستان میں محدود توجہ حاصل ہوئی۔ جبکہ تین روز کے دوران مندوبین نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پھیلاؤ سے متعلق اہم امور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک جامع ایجنڈے پر توجہ دی۔ اس اجلاس کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
    1.دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے کراؤڈ فنڈنگ رپورٹ: مندوبین نے دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے کراؤڈ فنڈنگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک جامع رپورٹ تیار کی ، جس میں اس شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی۔

    2. ایف اے ٹی ایف کی سفارشات میں اہم ترامیم: ایف اے ٹی ایف کی سفارشات میں خاطر خواہ ترامیم کی گئیں، جس سے رکن ممالک کو ان کی داخلی سرحدوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مجرمانہ اثاثوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے منجمد، اور ضبط کرنے کے بہتر وسائل سے لیس کیا گیا۔

    3. غیر منافع بخش تنظیموں کے لئے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات میں ترمیم: غیر منافع بخش تنظیموں پر لاگو ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر نظر ثانی کی گئی تاکہ ان تنظیموں کو ممکنہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے غلط استعمال سے بچانے کے لئے واضح اقدامات قائم کیے جاسکیں ، جس میں خطرے پر مبنی اقدامات پر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔

    4.سائبر فراڈ سے غیر قانونی مالی بہاؤ پر رپورٹ: فنانشل انٹیلی جنس یونٹس اور انٹرپول کے تعاون سے ایک جامع رپورٹ تیار کی گئی، جس میں سائبر سے ہونے والے فراڈ کے نتیجے میں غیر قانونی مالی بہاؤ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کی گئی۔

    5.سرمایہ کاری پروگراموں کے ذریعہ شہریت اور رہائش کے غلط استعمال پر رپورٹ: او ای سی ڈی کے اشتراک سے تیار کی گئی ایک اور رپورٹ میں سرمایہ کاری کے پروگراموں کے ذریعہ شہریت اور رہائش کے غلط استعمال کے مسئلے پر غور کیا گیا اور ان پروگراموں سے وابستہ ممکنہ کمزوریوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔

    جبکہ اسٹریٹجک اقدامات کا خاکہ بھی پیش کیا گیا، جن میں اثاثوں کی بازیابی کو بہتر بنانا، دہشت گردی کی مالی تعاون کے لئے غیر منافع بخش تنظیموں کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا، دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے کراؤڈ فنڈنگ، سائبر سے چلنے والی دھوکہ دہی سے پیدا ہونے والے غیر قانونی مالی بہاؤ سے نمٹنا اور سرمایہ کاری پروگراموں کے ذریعہ شہریت اور رہائش کے غلط استعمال کو روکنا شامل ہے۔

    اگرچہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے لیکن منی لانڈرنگ اور متعلقہ امور کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس سمت میں ایک اہم قدم افغان مہاجرین کی بروقت وطن واپسی ہے۔ موجودہ خامیوں کو ختم کرنے اور مالیاتی نظام کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے فوری کارروائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہ کی جائے۔

  • جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت میں جمہوریت آئیڈیل نہیں رہی۔ اس کا خمیازہ ملک اور قوم نے بھگتا اوربھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں فیوڈلز لوٹتے رہے ۔ عوامی مفاد کا بل کبھی پارلیمنٹ میں منظور نہیں کیا گیا قانون سازی اشرافیہ کو بچانے کے لئے کی جاتی رہیں۔ جن ممالک میں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے وہ قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ اگر ملک میںجمہوریت مستحکم نہیں ہوئی تو ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت کے وہ کھیل کھیلے گئے کہ جمہوریت خود شرمانے لگی ہے ۔ آج اگر نواز شریف نے کہہ ہی دیا ہے کہ آئو مل کر اس ملک اور قوم کی خدمت کریں تو اس پر تمسخر اڑانے اُڑایا جا رہا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جمہوریت کو مستحکم کرنے اور ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر ملک وقوم کی خاطر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ جمہوریت کی بہترین شکل آئین ہے ۔ آئین نے تمام ملکی اداروں کی حدیں مقرر کی ہیں۔ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کیوں نہ اس ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے ۔ انتخابات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں ، کیا قوم کو بتائین گی کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ا دا کریں گے اور پھر اس پر صدق دل سے قائم رہیں گے؟ پارلیمنٹ میں عوام کی بہبود کے لئے قانون سازی کی جائے گی ؟ 1977 ء کے الیکشن اور پھر بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کیا کردار رہا ؟ نواز شریف کوتین بار نہ صرف اقتدار سے الگ کردیا گیا جبکہ جیلیں اور جلا وطنی میں زندگی گزارنے میں سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ؟پاک فوج اور جملہ اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز کی سلامتی کو برقرار رکھا ۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمہوریت کے لفظ کو شرمسار کیا ۔

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !