Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس کا رشتہ بہت قدیم سے قائم ہے، ایک وقت تھا جب مسلمان علم و تحقیق کے میدان میں سب سے بڑھ کر تھے، جب ان کو علم و فکر کا جنون کے حد تک شوق تھا تب علوم و فنون اور سائنسی تجربات کے میدان میں ان کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ دنیا میں سب سے پہلے درسگاہیں مسلمانوں نے ہی قائم کیے، اس وقت انھی درسگاہوں سے ماہر علماء، حاذق اطباء، محققین اور ایسے سائنسدان نکلے جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں امت مسلمہ کا لوہا منوایا۔ اور اقوام عالم کی خدمت و سہولت کے لیے ایسے ایسے تجربات اور ایجادات کیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ ایسے ایسے مقالات (Theses) کتابیں اور تحریریں لکھے کہ آئندہ کی نسلوں کے لیے ایک ذخیرہ جمع ہوگیا، جس کا اقرار غیر مسلم بھی کرچکے ہیں۔
    عصر حاضر میں مسلمان مایوسی، احساس کمتری اور لاعلمی کا شکار ہے، انھیں دنیا کے سارے ایجادات و تجربات مغربی دنیا کی مرہون منت نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سائنس میں کوئی بھی کارنامہ نہیں ہے۔ ایسے باتیں عام طور ان لوگوں سے سننے کو ملتی ہیں جو ذہنی طور مغرب سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہی تصور لاعلم اور متعصب تعلیم یافتہ مغربی افراد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک تنگ نظر، نسل پرست اور غیر سائنسی مذہب قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اگر ہم تعصب کا عینک اتار کے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں مسلمان نہ صرف سائنسدان گزرے ہیں بلکہ سائنس اور سائنسی تجربات و مشاہدات کے اصل خالق و موجد ہی مسلمان تھے۔ جنھوں نے اپنے علم و تحقیق سے یہ مشقت طلب کارنامہ سر کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ موجودہ دور کے مسلمان علم و تحقیق اور مطالعہ کے کمی کے وجہ سے مسلمان سائنسدانوں سے لاعلم ہیں، علم و تحقیق کا شوق مسلمانوں میں آج نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور اسی طرح وہ مغرب کے طرف سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ چند ایک مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ ہوجائے تا کہ مسلمان اپنے ہیروز کو پہچانے اور مغرب کے تعصب زدہ پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوجائیں۔ مسلمان سائنسدانوں کی فہرست اور انکا تذکرہ بہت طول طلب موضوع ہے جو ایک کالم یا مضمون میں سمیٹنا مشکل ہے۔ چند مشہور مسلمان سائنسدان مندرجہ ذیل ہیں:۔

    ٭ جابر بن حیان: ان کے نام سے ہر کوئی واقف ہے، عالمی شہرت کے حامل ایک عظیم سائنسدان ہیں۔ مغربی و مشرقی سائنسدانوں کے ہاں مقبول اور علم کیمیائی کے ماہر ہیں۔ آپ کی مہارت فن و خدمات کے صلے میں آپ کو بابائے کیمیا (Father of chemistry) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی ایجادات و تحقیقات میں آکسیڈیشن (Oxidation)، بخارات (Evaporation)، عمل کشید یعنی بخارات کو مائع اور مائع کو بخارات میں تبدیل کرنے کا اہم کیمیا اور گندھک کے تیزاب (Sulfuric Acid) جیسی ایجادات شامل ہیں۔

    ٭ ابوالقاسم زَہراوی: ابوالقاسم زَہراوی اَندلس میں پیدا ہوئے تھے، آپ ایک بلند پایہ سائنٹسٹ تھے۔ سرجری کے آلات (Surgical Instruments) آپ ہی کی ایجاد کردہ ہیں۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے آج کل کے سرجیکل آلات کم و بیش وہی ہیں جو آپ نے ایجاد کیے تھے۔

    ٭ ابوبکر محمد بن زکریا رازی: آپ اپنے عصر کے بہت بڑے محقق، طبیب اور ڈاکٹر تھے۔ جراثیم اور انفیکشن کے درمیان تعلق آپ ہی نے معلوم کیا۔ الکوحل اور ایتھانول (Ethanol) آپ ہی کی ایجادات ہیں۔

    ٭ ابن سینا: آپ کے نام سے کون واقف نہیں! آپ علم طبیعیات (Physics) کے ماہر سائنسدان تھے۔ روشنی کے رفتار کی حدود کو سب سے پہلے آپ نے بیان کیا۔ انسانی آنکھ کی رگوں اور پٹھوں کی تفصیل سب سے پہلے آپ نے پیش کی۔ زہرہ سیارے کو آپ نے بغیر کسی آلے کے دیکھا تھا۔ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں اور سمندری مردہ جانوروں کی ہڈیاں کیسے پتھروں میں تبدیل ہوتے ہیں؟ یہ بھی آپ نے معلوم کیا۔

    ٭ ابن الہیثم: علم بصریات (Optics) کے ماہر سائنسدان تھے، آپ نے علم بصریات میں جامع کتاب ”کتاب المَناظر“ لکھ دی۔ آتشی شیشے (Burning Glass) اور کروی عدسے (Spherical Lens) آپ نے بنائے۔ آپ ہی کی تحقیق کی بنیاد پر مائیکرو سکوپ اور ٹیلی سکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی۔ دنیا کا سب سے پہلا کیمرا پن ہول کیمرا (Pin Hole Camera) اور اسی طرح دنیا کا پہلا کیمرہ آبسکیورہ (Camera Obscura) ابن الہیثم کی ایجاد کردہ ہیں۔ فوٹوگرافرز کہتے ہیں کہ روشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے میں داخل ہوتی ہے وہ سوراخ جتنا چھوٹا ہوگا اتنی ہی تصویر عمدہ بنے گی، یہ تحقیق بھی ابن الہیثم کی ہے۔

    ٭ عبدالمالک اصمعی: اصمعی نامور سائنسدان گزرے ہیں، آپ علم حیاتیات (Biology) اور علم حیوانات (Zoology) کے ماہر محقق و سائنسدان تھے۔ زولوجی کے موضوع پر آپ نے پانچ کتابیں لکھی ہیں، جنھیں زولوجیکل سائنس میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بالترتیب آپ کی پانچ کتابوں کے نام یہ تھے: اونٹ، گھوڑا، بھیڑ بکریاں، جنگلی درندے اور تخلیق انسانی۔

    ٭ محمد بن موسی خوارزمی: آپ کا تعلق عراق سے تھا، الجبرا (Algebra) کے ماہر سائنسدان تھے اور اس موضوع پر دنیا کی پہلی کتاب ”الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلة“ خوارزمی نے لکھی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے صفر سے 9 تک ہندسے بھی پیش کیے تھے، اس سے پہلے لوگ ہندسوں کے بجائے حروف کا استعمال کرتے تھے۔

    ٭ حسن الرماہ: آپ شام کے نامور سائنسدان تھے، ملٹری ٹیکنالوجی (Military Technology) پر آپ نے سن 1280ء میں کتاب لکھی تھی، جس میں آپ نے راکٹ کا ڈائی گرام پیش کیا تھا۔ اس کتاب میں آپ نے گن پاؤڈر بنانے کے اجزائے ترکیبی بھی بیان کیے تھے۔

    ٭ ابواسحاق زرقالی: آپ اندلس کے مشہور سائنسدان گزرے ہیں، آپ ستاروں کی مشخص (اسٹرونامیکل آبزرور، Astronomical Abserver) سائنسدان تھے۔ آپ نے ایک اصطرلاب بنایا تھا جس سے سورج کی گردش و حرکت کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے سب سے پہلے تحقیق کرکے یہ انکشاف کیا تھا کہ آسمانی کرے بیضوی مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ اور یہ اعتراف غیرمسلم سائنسدان کیپلر (Kepler) نے صدیوں بعد کیا تھا۔

    مسلمان سائنسدانوں اور انکی تحقیقات و ایجادت کی فہرست طویل ہے، یہ چند نام بطور ”مشت از نمونہ خروارے“ کے پیش خدمت ہیں۔ تا کہ مسلمان اپنے محسن اور ہیروز سے آگاہ ہوجائے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی اور مایوسی کا شکار نہ ہوجائے۔ متعصب لوگوں نے بہت ہی چالاکی سے یہ تاثر دنیا کو دیا ہے کہ مسلمان سائنس کو نہیں مانتے اور نہ ان کے پاس کوئی سائنسی تحقیق موجود ہے۔ یہ بات بعید از عقل ہے کہ ایک بندہ اپنے ہی تحقیق و ایجاد کو نہ مانے۔ مغربی دنیا اور لبرلز کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا سائنس میں صفر کارگردگی بھی نہیں ہے، تو ان متعصبین کو تعصب سے پرے ہو کر پتہ ہونا چاہیے کہ جس صفر کا تم مسلمانوں کو طعنہ دے رہے ہو یہی صفر بھی مسلمان سائنسدان خوارزمی ہی کی ایجاد ہے۔

  • نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بے دریغ اضافے پر جاری احتجاج اور مظاہروں میں عوامی نمائندوں کی عدم شرکت جمہوری سیاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ سیاستدانوں اور عوام کے درمیان واضح ہوتا ہوا خلا کیسے پُر ہو گا؟عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی اور بے راہنما قیادت پر مظاہرے جمہوریت نہیں جمہوریت کے دعویداروں پر سوالیہ نشان ہے ؟ عوامی احتجاج سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کرتا ہے کہ بیمار لا علاج ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود زندگی کو گھائل کرنے والے عذابوں کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ ملکی جمہوریت اور سیاسی نظام دنیا کے کسی کونے میں ا س طرح کا نظام انسانیت کو آسودگی اور آسائش دینے سے قاصر ہے ۔ موجودہ سیاسی نظام بدعنوانی اورمنافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ جب ہر طرف مجبوری و محکومی کا راج ہو تو سیاست بھلا کیسی ہوگی ؟ ہمارا جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ خود سیاستدان ہی ہیں۔ سیاست روبہ زوال ہے ۔

    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عوام مہنگائی سے چلااٹھے تھے پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں مہنگائی کے تابڑتوڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگائے ۔ ٹاک شوز میں دولت مندوں کے پارٹیوں کے نمائندے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں یہ محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں۔آج پاکستان اور عام آدمی کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر قرضوں پر ہی انحصار کیا جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔

  • تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    نام کتاب : اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں
    ناشر : دارلسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور

    مرتب : محمد حنیف شاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ( اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ )” Why Islam Is Our Only Choice “کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کو مرتب کرنے والے محمد حنیف شاہد ہیں جو نامور محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ انہیں اسلام سے گہری محبت ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ تعلیم وتعلم میں صرف کیا ہے ۔ محمد حنیف شاہد کی علمی وجاہت اور قدرومنزلت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کی کتابیں دنیا کے معتبر کتب خانے لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ڈی سی ( امریکہ ) میں بھی محفوظ ہیں ۔ اس کتاب میں ان خوش نصیبوں کے ذاتی تاثرات ، مشاہدات اور قیمتی خیالات جمع کئے گئے جو غیر مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر وہ اسلام کی حقانیت وصداقت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس طرح سے انھیں اسلام کی نعمت اور دولت عطا ہوئی۔ اس کتاب میں حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں نے یہ بتایا ہے کہ وہ اسلام سے اس قدر متاثر کیوں ہوئے کہ انہوں نے اپنے آباو اجداد کے مذاہب کو چھوڑنے کا بہت بڑا اور انتہائی مشکل فیصلہ کر ڈالا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسلام ہی دین واحد ہے جسے روزانہ بہت بڑی تعداد میں لوگ قبول کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام قبول کرنے والوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں ۔ مگر اس کتاب میں زیادہ تر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کی آرا ءشامل کی گئی ہیں۔

    کتاب کا انگریزی کا ترجمہ پروفیسر منور علی ملک نے کیا ہے محمد حنیف شاہد کی کتاب اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں بطور محقق ان کی زندگی بھر کی خدمت اسلام کا ایک حصہ ہے ۔یہ کتاب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کے قبول اسلام کے حوالے سے واقعات، تجربات، سابقہ عقائد ، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں جن لوگوں کے بیانات، احساسات اور خیالات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے اکثر اپنی قوموں کے روسا ، معززین ، دانشور، سائنسدان ، اعزاز یافتہ ، با رسوخ ، دولت مند ، عام افراد، پیشہ ور ماہرین، خواتین یہاں تک کہ اخلاق باختہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ اس کتاب کا تحقیقی مواد کرہ ارض کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں اور مذہب سے لیا گیا ہے ۔کتاب کاتحقیقی مواد دو صدیوں سے زائد عرصے کا احاطہ کرتا ہے ۔کتاب 6ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ہے ” اسلام کی آغوش میں “ اس باب میں 45افراد کے قبول اسلام کے واقعات بیان کیے گیے ہیں ۔ دوسرے باب کا عنوان ہے ” خواتین اسلام کی دہلیز پر “ اس باب میں 22خواتین کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے ایمان افروز واقعات درج ہیں ۔ تیسرے باب کا عنوان ہے ” اسلامی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے تاثرات “ اس باب میں 58نومسلم بہن بھائیوں کے اسلام کے بارے میں دل موہ لینے اور ایمان تازہ کردینے والے تاثرات سپرد قلم کئے گئے ہیں ۔چوتھے باب کا عنوان ہے ” اسلام کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے مختصر خیالات “ اس باب میں 18نومسلم مرد وخواتین کی آراءشامل کی گئی ہیں ۔

    پانچویں باب کا عنوان ہے ” قرآن حکیم کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے خیالات “ اس باب میں 11مرد وخواتین کے قرآن مجید کے بارے میں انتہائی خوبصورت خیالات شامل کئے گئے ہیں ۔ آخری باب کا عنوان ہے ” نبی کریم کے بارے میں نومسلموں کے خیالات “جن انتہائی قابل احترام مرد وخواتین کی آراءکتاب میں شامل کی گئی ہیں ان میں سے برطانیہ کے سٹینلے اینیان کہتے ہیں ” مجھے اسلام ہی مطلوب تھا “ ڈنمارک کے علی احمد ہولمبو کہتے ہیں ” مستقبل کا دین اسلام کے علاوہ کوئی اور نہ ہوگا “ ۔امریکہ کے کرنل راک ویل کہتے ہیں ” اعتدال اور تقوی اسلام کی کلیدی خصوصیات ہیں “ ٹی ۔ ایچ میک بارکلی کہتے ہیں ” اسلام واحد دین ہے جو جدید تہذیب کے لیے ہمیشہ قابل قبول رہے گا “ ۔ اے ایم ٹی کہتے ہیں ” میں اسلام کے لئے زندہ ہوں جو ہمیشہ قائم رہے گا “ بلجئیم کے ٹی یوڈ ڈئینیل کہتے ہیں ” صرف شریعت محمدی ہی امن وآشتی کی ضامن ہے ۔یہ تو صرف چند ایک مثالیں ہیں ساری کتاب ہی سونے پر سہاگہ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان حالات میں جبکہ یورپ میں اسلام دشمنی کا عفریت انگڑائیاں لے رہا ہے ہمارے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا ہم شافی وکافی جواب دے سکیں ۔

  • بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    از: صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری
    (سابق ممبر قومی اسمبلی و پنجاب اسمبلی، سابق ضلع ناظم شیخوپورہ )

    ‏مریم نواز، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف سارا جتھا لے کر مہنگائی مکانے آئے تھے لیکن مہنگائی مکانے کے لیے ظالموں نے عوام کو ہی ختم کرنے کا فارمولا بنادیا، اچھا ہے نہ عوام رہے گی اور نہ پھر مہنگائی۔

    بہرحال جب تک عوام ہے ان کے ریلیف کے لیے موجودہ بجلی بحران پر کچھ اہم ضروری سفارشات نگران وزیراعظم پاکستان کے سامنے پیش کر رہا ہوں جن پر عملدرآمد سے فوری طور پر بجلی بحران پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔۔
    1. ملک بھر کی مارکیٹوں کو غروبِ آفتاب کے ساتھ پابند کر دیں تا کہ صرف اور صرف دن کی روشنی میں کاروبار کیا جائے، آذان مغرب کے ساتھ ہی تمام دکانیں ماسوائے کھانے پینے کی اشیاء والی والی دکانوں کے بند کر دی جائیں اور اسی طرح آذان عشاء تک میڈیکل اسٹورز کے علاؤہ بقایا تمام دکانیں بھی مکمل طور پر بند ہو جانی چاہیں ۔ جس نے بھی خریداری کرنی ھے دن کی روشنی میں کرے۔

    2- ملک بھر میں تمام ٹرانسفارمرز کے ساتھ انفرادی میٹر لگایا جائے اور کسی ایک ریٹائرڈ محلےدار یا کسی ایک ذمہ دار فرد کو اس ٹرانسفارمر کے تمام بل جمع کرنے کی ڈیوٹی دی جائے ، جس پر مناسب اجرت دے دی جائے اس طرح ہر ٹرانسفارمر کا سارا حساب ہو تا رہے گا اور بجلی چوری گراؤنڈ لیول سے ختم ھو جائے گی ۔

    3- فیکٹریوں اور کارخانوں میں بجلی کے لوڈ کو مینج کرنے کے لیے ہفتہ وار پر ضلع کے مطابق پلان ترتیب دیا جائے اور اس کے مطابق ہر فیکٹری کو پانچ دن بغیر لوڈ شیڈنگ کے بجلی فراہم کی جائے اور باقی دو دن مختلف اضلاع میں مختلف ایام میں فیکٹریوں کو مکمل چھٹی دی جائے اور اس طرح پورے ہفتہ میں بجلی کا لوڈ ہر ضلع کے مطابق مینج ھو جائے گا۔

    4- ملک بھر میں ہر ادارے اور ہر فرد سے بجلی کی فری سہولت ختم کر دی جائے، واپڈا ملازمین سمیت تمام ادارے اپنی استعمال شدہ بجلی کا بل لازمی جمع کروائیں۔

    5- ملک بھر کی تمام عبادت گاہوں کو بجلی فری سہولت فراہم کی جائے تاکہ اجتماعی عبادتگاھوں کا بوج تمام شہری برداشت کریں۔

    یہی سفارشات 2014 میں وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی کو بھی پیش کی مگر عملدرآمد نہ ھوا ، جو کہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اگر ان سفارشات پر آج بھی عمل درآمد ہو جائے تو فوری طور پر بجلی بحران پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

  • میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    سعداللہ شاہ

    تاریخ پیدائش: 28 اگست

    ممتاز شاعر سعداللہ شاہ 28 اگست 1958 کو چشتیاں میں پیدا ہوئے۔ سعداللہ شاہ کا شمار عصرِ حاضر کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ سعداللہ شاہ نے اُردو، پنچابی اور انگریزی تین زبانوں میں شاعری کی۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی ادب کے اُستاد اور معروف کالم نگار بھی ہیں۔ سعداللہ شاہ کے 25 سے زائد شعری مجموعے شائع ہو کر پزیرائی کی سند حاصل کر چکے ہیں۔اُن کے شعری مجموعوں "تمھی ملتے تو اچھا تھا” ، "اک کمی سی رہ گئی” ، ” مجھے کچھ اور کہنا تھا” ، ” نیلے پھولوں کی بارش میں ” اور ” کتنی اُداس شام ہے” کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ سعداللہ شاہ زندگی کے شاعر ہیں۔ اُن کے ہاں بے کار فلسفوں کے بہ جائے زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ نمایاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار خواص و عوام میں یکساں مقبول ہیں۔ جہاں خواب، محبت اور اُداسی اُن کی شاعری کی نمایاں علامات ہیں وہیں مزاحمتی شاعری بھی اُن کا ایک حوالہ ہے۔ سعداللہ شاہ کے بے شمار اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور یہی وصف اُنھیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔

    منتخب اشعار

    اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے
    مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    مَیں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

    لوگ فہم و آگہی میں دُور تک جاتے مگر
    اے جمالِ یار تُو نے راستے میں دھر لیا

    مجھ کو اچھی نہیں لگتیں یہ شعوری باتیں
    ہائے بچپن کا زمانہ وہ اُدھوری باتیں

    کتنا نازک ہے وہ پری پیکر
    جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

    بحرِ رجز میں ہوں نہ مَیں بحرِ رمل میں ہوں
    مَیں تو کسی کی یاد کے مشکل عمل میں ہوں

    مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو
    کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو

    جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے
    ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے

    تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا
    نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا

    تُو نہ رسوا ہو اِس لیے ہم نے
    اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا

    کہنے کو اک الف تھا مگر اب کُھلا کہ وہ
    پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ

    اے مرے دوست ذرا دیکھ مَیں ہارا تو نہیں
    میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ

    رنجشِ کارِ زیاں ، دربدری ، تنہائی
    اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ

    کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے
    آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو

    اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے
    خواب ہو جاتے ہیں اِس شہر میں آنے والے

    عمر گزری ہے دربدر اپنی
    ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

    دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے
    ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے

    مجھ کو میری ہی اُداسی سے نکالے کوئی
    مَیں محبت ہوں، محبت کو بچا لے کوئی

    پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
    لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے
    دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے

    پھر چشمِ نیم وا سے ترا خواب دیکھنا
    اور اُس کے بعد خود کو تہِ آب دیکھنا

    کتنا دشوار ہے ہر اک سے فسانہ کہنا
    کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے

    مت شکایت کرو زمانے کی
    یہ علامت ہے ہار جانے کی

    وہ یہ کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو
    جس نے منصف کو بھی سولی پہ چڑھا رکھا ہے

    خود مصنف نے اُسے لا کے کہیں مار دیا
    ایک کردار جو کردار سے آگے نکلا

    اُس کی خاطر سوچنا، سوچنا بھی رات دن
    پھر بھی مجھ کو یوں لگا مَیں نے سوچا کچھ نہیں

    تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال
    جس کو چھوتی ہے اُسے خواب بنا دیتی ہے

    بے ربط کر کے رکھ دیے اُس نے حواس بھی
    جتنا وہ دُور لگتا ہے اُتنا ہے پاس بھی

    خودی کو سعد کسی مرتبے پہ لا کہ جہاں
    ادائے ناز قیام و قعود ڈھونڈتی ہے

    کون سمجھے مرا تنہا ہونا
    یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا

    جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
    تمھی کو ہم نے چاہا تھا تمھی ملتے تو اچھا تھا

  • بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ایک نگراں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے درمیان ملک کے داخلی معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی حل نکالنے کی کوششوں کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں، ملک کا معاشی عدم استحکام برقرار ہے اور بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حالیہ برسوں میں حکومتی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شہریوں کے لیے ایک سنگین صورتحال کا باعث بنا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس میں منتخب حکومتوں کی جگہ اتحادیوں اور اب نگراں انتظامیہ نے لے لی ہے۔ بدقسمتی سے، اس سیاسی ہنگامے نے معاشی عدم استحکام میں حصہ ڈالا ہے، جس میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خوراک اور توانائی جیسے ضروری شعبوں سے منسلک ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر اہم مالی بوجھ پڑا ہے۔ الیکٹرک بل، جو کہ بہت سے شہریوں کے لیے بنیادی تشویش ہے، میں سو گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا پیچیدہ نظام ہے۔

    پاکستان میں بجلی کے بلوں میں موجود یونٹس پر آنے والے بل کا تعین اس کے استعمال کے مطابق یونٹوں کی تعداد کرتی ہے۔ سو یونٹس سے کم بجلی ٹیرف میں فی یونٹ قیمت پانچ سو یونٹ والے بل سے نسبتاً کم ہو گی۔ لیکن اسی بل میں حکومت ٹیکسوں کی مد میں جو صارفین کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ چارج .43 پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتی ہے ٹیکسوں کی لمبی قطار۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک، آمدنی ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بیس فیصد، سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی 1.86 سے آٹھ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ای ڈی023. سے 23. فیصد ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی 87. سے 2 فیصد، ایکسٹرا ٹیکس 3فیصد سے دس فیصد، گھریلو صارفین سے ٹی وی فیس 35 روپے، Further tax دو سے پانچ فیصد، آر ایس ٹیکس تین سے پانچ فیصد، ایف پی اے کا آر ایس ٹیکس 0.08 سے دو فیصد، ایف پی اے پر جی ایس ٹی0.3 سے 1 فیصد، ایف پی اے پر 0.05 فیصد Further tax, پراگ آئی ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ سے پندرہ فیصد، پراگ جی ایس ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ فیصد سے اٹھارہ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک فیصد سے پندرہ فیصد، ایف سی سرچارج چار سے دس فیصد، بل ایڈجسٹمنٹ پانچ سے پندرہ فیصد، ٹوٹل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو فیصد سے دس فیصد تک ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سب ٹیکسوں کو اکٹھا کریں تو یونٹوں کے استعمال کے حساب سے ٹوٹل پچاس فیصد سے سڑسٹھ فیصد کے درمیان ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان کو اگر ہم مزید مختصر کریں تو ‏آسان الفاظ میں گھریلو صارفین سے 51 روپے فی یونٹ قیمت میں، ایندھن 6 روپے، 15 روپے بجلی گھر کرایہ، 16 روپے حکومت کا ٹیکس، 6.5 روپے دوسروں کو مفت یا سستا دینے کی مد میں اور آخر میں 6.5 روپے فی یونٹ بجلی چوری ہونے کا نقصان وصول کیا جاتا ہے۔ اسی شرح سے کمرشل صارف سے 66 سے اسی روپے فی یونٹ تک قیمت وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کی رائے میں ان حالات پر قابو پانے کے مختلف حل ہیں۔ جن میں سے چند نقاط پیش کئے گئے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو ہموار کرنے سے صارفین پر بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور محصولات کی وسیع رینج پر دوبارہ غور کرنا، اور معقولیت کے لیے اختیارات تلاش کرنا، مجموعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری مہنگے جیواشم ایندھن پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، بالآخر بجلی کی قیمتوں کو روک سکتی ہے۔ اس منتقلی کے مثبت ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس رعایتی عمل کو اچھی طرح سے ترتیب دیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    معاشی بحالی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول کا قیام بہت ضروری ہے۔ شفاف طرز حکمرانی اور پالیسیاں جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہیں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہیں، جو بالآخر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    توانائی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور چوری کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا لاگت کو روکنے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرمایہ کاری اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی چیلنجز کثیر جہتی ہیں، جو سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور ٹیکس کے پیچیدہ نظام سے پیدا ہوئے ہیں۔ شہریوں پر پڑنے والا بوجھ، خاص طور پر بجلی کے بے تحاشا بلوں سے، فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے تنوع، سبسڈی کی معقولیت، عوامی بیداری، سیاسی استحکام اور کارکردگی میں اضافہ پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ جیسے ہی قوم اس بحران سے گزر رہی ہے، پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات اور شہریوں کی مشترکہ کوششیں مزید مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب راہ ہموار کر سکتی ہیں

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔

  • ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بعض بیرونی ممالک بالخصوص بھارت بلوچستان کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا دہشت گردوں کو باقاعدہ وسائل فراہم کرتا رہا۔وسائل سے مالا مال یہ خط پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ اس صوبے کو نظر بد سے بچانے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1997 میں اپنی جماعت کی مدد سے اختر مینگل کو مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ بنایا ۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی(ن) لیگ کی حمایت رہی۔ اختر مینگل کا تعلق اور ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق دو مختلف جماعتوں سے تھا دونوں سیاسی پارٹیوں کی مدد سے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے کے قریب لایا گیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرانے لگا۔آج ایک بار پھر نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مخالف ممالک اور بالخصوص بھارت کو جواب دیا گیاہے۔ جو بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرتا رہا۔

    ملکی سلامتی کے پیش نظر فیصلوں کی حمایت ہی نہیں بھرپور حمائت کرنا چاہیئے ۔ سالوں کے بعد یعنی 75 سال کے بعد بحیثیت قوم ایک نہ ختم ہونے والی ہیجانی کیفیت سے گزر رہے ہیں ہم حقائق جانے بغیر اپنی رائے قائم کردیتے ہیں ہم اندر ونی خلفشار کا شکار ہیں ۔یہ اندرونی خلفشار نظام کو لپیٹنے کا آغاز ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا ۔ اس ملکی سلامتی اور عام آدمی کے مفادات کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ معاشی بحران بھی ایسا نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ پاکستان کو باکردار لوگوں کی ضرورت ہے۔

  • نگران حکومت سے عوام کی توقعات  ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    عام انتخابات سے قبل نگران حکومت کا قیام ایک قانونی تقاضا ہوتا ہے جس کا اہم مقصد ملک میں انتخابی عمل کو صاف اور شفاف انداز میں یقینی بنانا ہوتا ہے اس لیے اس کا باقاعدہ حلف اٹھایا جاتا ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہ آٹھویں نگران حکومت ہے ۔نگران حکومت کاایک مقصد شفاف شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہوتا ہے تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ جب بھی نگران حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوئے اپوزیشن نے کبھی بھی ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دھاندلی کا شور ہی مچا ہے ۔ نگران حکومت کی دیگر ذمہ داریاں منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت مملکت کا انتظام چلانا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ جاری ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر پایا تکمیل تک پہنچ جائیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

    جہاں تک نگران حکومت کو درپیش اجتماعی مسائل کا تعلق ہے ان میں امن و امان ، مہنگائی اور بے روزگاری ایسے مسائل سر فہرست ہیں ان مسائل سے نمٹنا بے حد توجہ طلب ہے۔ انتخابات وقت پر کروانے کے بعد دوسری اہم ذمہ داری عوام پر سے مہنگائی کا بوجھ کم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ عوام کے لیے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ اس تناظر میں نگران حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو نہ صرف عوام کے مفاد میں ہوں بلکہ آنے والے حکومت کے لیے بھی قابل تقلید ہوں ۔

    اس بات میں کوئی دو آرا ء نہیں کہ اس وقت قوم کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی سودی قرضوں کے لیے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے سودی معیشت جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ اور بغاوت کے مترادف ہے اس جنگ اور بغاوت نے ہمارا معاشی ، معاشرتی اور قومی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔حالانکہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ضروری تھا کہ پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ کرکے اسلامی طرز معاشرت قائم کیا جاتا لیکن یہاں دن بہ دن سودی نظام مضبوط ہورہا ہے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے شکجنے اور پنجے میں بری طرح جکڑی جاچکی ہے ۔ ہماری حکمرانوں کی بے حسی کی یہ حالت ہے کہ آئی ایم ایف سے جب بھی بھیک ملتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشیاں مناتے ہیں مگر یہ کسی کو بھی احساس نہیں کہ عوام کا دیوالیہ ہو چکا ہے اور مہنگائی کی شرح تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار روپے تنخواہ لینے والا شخص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ حکمران ان حالات پہ اس لیے توجہ نہیں دیتے کہ انہیں معاشی مسائل درپیش نہیں ہیں انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو تو پتہ چلے کہ عوام مالی طور پر حالات کے پل صراط سے کس طرح گزر رہے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے گھرانے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل ہیں نہ صحت کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ نگران ارباب اختیار کو چاہیے کہ وقت ضائع کیے بغیر ان گھمبیر اور سنگین مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بھوک اور افلاس کے باعث خودکشیوں کا رجحان دم توڑ سکے۔اس وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ لوگ مالی مشکلات کے باعث عفت و عصمت ایسے گوہر کو لٹانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ہماری درج ذیل گزارشات ہیں کہ وہ :
    اپنی کابینہ مختصر رکھیں ، اپنا اور اپنے وزرا کا شاہانہ پروٹوکول ختم کریں ، کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کریں، وفاق اور صوبوں میں ایسی تبدیلیاں لائیں جن سے اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی ہو، لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو روزانہ ہزاروں لیٹر ملنے والا مہنگا پٹرول بند کیا جائے ، خاص طور پر ججوں جرنیلوں اور بیوروکریٹ کو حاصل لامحدود مراعات واپس لی جائیں۔

    دکھ کی بات ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست میں دولت کی تقسیم کا کوئی قابل قبول فارمولا ہی نافذ نہیں تمام مراعات کا رخ طبقہ اشرافیہ اور ان کے اللوں تللوں کی طرف ہے اور غریب لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف نگران وزیر اعظم نے سابق حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے حالانکہ سابق حکومت نے ملک کا اور غریب آدمی کا معاشی طور پر تیاپانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سابق حکمرانوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا کہ چار پانچ افراد پر مشتمل گھرانوں کے وہ کفیل جن کی ماہانہ آمدنی 25 سے 30 ہزار روپے تک ہے وہ کن بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ بجلی کے بلوں نے عام آدمی کو خون کے آنسو رولا دیا ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب بجلی کے نرخوں میں نت نئے ٹیکس کا اضافہ نہ کیا جاتا ہویا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا ہو ۔اب نگران حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ غریب آدمی کو کچلنے اور مہنگائی کرنے میں سابقہ حکومت کے راستے پر ہی چل رہی ہے ۔حکومت بجلی چوری پر ہی قابو پا لیتی تو بجلی کے بل کم ہو سکتے تھے بجلی کے بلوں میں اضافہ ایسا مسئلہ ہے جو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے یہ بات ارباب اختیار کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے بجلی ، سوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروریات زندگی کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافوں کے باعث اگر عوام سڑکوں پر آگئی تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا قبل اس کے کہ ایسا وقت آئے عوام کی مشکلات کا مداوا ہونا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یا تو مہنگائی پہ کنٹرول کیا جائے یا آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔نگران حکومت کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ایک تو سرکاری اور پرائیویٹ محکموں میں روزانہ اجرت یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو 32 ہزار روپے کی ادائیگی ہو یا دوسرا یہ کہ جس طرح مستقل ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح غیر مستقل ملازمین کو بھی آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے معقول تنخواہ دی جائے ۔ معاشی ماہرین کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ارباب اختیار کو مشورہ دیں تاکہ وہ غیر مستقل ملازمین کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ضرورتیں تو سبھی لوگوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں کسی کی آمدنی کم ہو یا زیادہ مہنگائی کا بوجھ سب پر ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ خوشحال لوگ تو آج بھی مہنگائی کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے مگر غریب آدمی تو ذہنی توازن تک کھوتاجا رہا ہے کہ وہ خود کیا کھائے اور بچوں کو کیا کھلائے۔ ان مسائل پر خلوص نیت سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔

  • ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    یہ نہیں اسلام کا پیغام، ہم شرمندہ ہیں
    اے نجاشی! لائقِ اکرام، ہم شرمندہ ہیں

    تاجدارِ حبش! فخرِ عیسیٰ و عیسائیت
    خیر خواہِ بانئ اسلام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے دامن میں ملی اسلام کو جائے اماں
    یہ نہیں احسان کا انعام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے ہم مذہب بہت ہیں محترم اپنے لئے
    کیا دیا ہم نے مگر پیغام، ہم شرمندہ ہیں

    درد کا چارہ تھا واجب درد کے ہنگام میں
    ہم ہوئے لیکن سدا ناکام ہم شرمندہ ہیں

    جاں گنوا کر بھی حفاظت چاہئے سب کی مگر
    کر نہ پائے ہم کوئی اقدام، ہم شرمندہ ہیں

    ابنِ مریم بھی رسولِ حق ہیں اپنے دین میں
    کچھ نہیں اس بات میں ابہام، ہم شرمندہ ہیں

    اے خداوندانِ نفرت! اب رہے گا حشر تک
    اپنے سر اس بات کا الزام، ہم شرمندہ ہیں

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں