Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت ایسے ایسے بحرانوں سے دوچار ہے بقول کسی شاعر کے ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے ۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی ایسی بُری خبریں سوشل میڈیا پر دکھائی اور سنائی دیتی ہیں شاید ہم اس وقت بُری چیزوں کی زد میں ہیں۔ تاہم اس بحران اور بُری خبروں میں پنجاب کی عوام کے لئے ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے بجلی کے بلوں پر دو ماہ کا ریلیف صوبہ پنجاب میں سورج کی روشنی کے طور پریہ خبر ایک ایسی قوم کو ملی جو شاید بُری خبریں سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ موجودہ معاشی بحران میں دو ماہ کا ریلیف عوام کے لئے اندھیرے میں روشنی کے برابر ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے معاشی بحران کا ذکر کرتےہوئے 2017 کا ذکر کیا اور اپنی حکومت کی کارکردگی معیشت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بطور خاص نام لے کر کہا کہ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ حکومتیں اپنی عوام کے تحفظ اورمعاشی بدحالی کو روکنے کے لئے کوشش کرتی ہیں کوئی بھی اس پر اختلاف نہیں کرے گا۔ معاشی خطرے سے نمٹنا اولین سیاسی ترجیح ہوتی ہے ۔2017 بلاشبہ ملک معاشی مستحکم تھا سینیٹر اسحاق وزیرخزانہ نواز شریف کی قیادت میں رات گئے اپنے دفتر میں معاشی ماہرین کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    اس عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی افراتفری سے باہر نکلنا ہوگا بین الاقوامی رواں سال کئی ممکنہ سیاسی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔ بشمول مشرقی وسطیٰ امریکہ سمیت اگر دیگر عالمی قوتوں نے غزہ تنازعے کو حل کرانے میں کردار نہ کیا تو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل علاقائی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ یوکرین میں جاری جنگ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس صورت میں چین یا تو امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنائو کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہو یا پھر ممکنہ طور پر زیادہ نتیجہ خیز شراکت داری کا آغاز ہو ۔ ان تمام بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑیں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنے مفادات ملکی سلامتی اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا ملک کسی بڑی تبدیلی یا غیر یقینی صورت حال سے گزرتا ہے تو سماج دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خطے کو کس سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مڈ ل ایسٹ میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ،روس ،یو کرائن جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والی جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ ایک سوال ہے ؟ برطانیہ کی سڑکوں پر نسلی فسادات ، ایران میں اسماعیل ہانیہ کا قتل ،بنگلہ دیش کی صورت حال ، دنیا چونکا دینے والے حالات سے گزر رہی ہے ۔ا ن تمام حالات کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں اور قریبی ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر وطن عزیز میں افواہ ساز فیکٹریاں سوشل میڈیا پر ، یوٹیوبر ، وی لاگرز ، بغیر کسی وقفے کے ایسی ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

    پورے عرب ممالک کے سامنے ، فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ غزہ مین شہید ہونے والے خواتین نوجوان بچے ، بوڑھوں کے قبرستان بھر چکے ہیں۔ جنہوں نے آگے ہو کر اس قدیمی مسئلے کا حل کروانا تھا انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ کشمیر میں سالوں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون ، اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں نے کیا کیا؟ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جھوٹ ، بہتان فریب کی سیاست کو پس پشت ڈال کر ان بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کرنے میں کردارا دا کرنا ہوگا۔ پاک فوج اورجملہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم کیا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ اس وقت عدلیہ کو اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ۔ملکی سیاسی جماعتوں کو خارجہ اور اندرونی مسائل کو سامنے رکھ کر ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ دل شکن ماحول میں قوم کی نظریں عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامنے والوں پر لگی ہیں۔

  • اساتذہ  سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں  ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    اساتذہ سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    دور جدید میں سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور انسان کو یہ دنیا اور اس کی چیزوں کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے-سائنس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سائنس کی ہی مدد سے ہم کائنات کے بے شمار راز جاننے کے قابل ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ناممکن تھے – اس کے علم کی مدد سے ہی ہم زمین سے دوسرے سیاروں تک پہنچ پائیں ہیں -سائنس ایک بہت ہی دلچسپ مضمون ہے جو کہ طلباء کے اندر تجسس کو ابھارتا ہے اور نت نئے خیالات کو جنم دیتا ہے- لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنس کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے اور طلباء کی عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اسے ایک بوریت سے بھر پور مضمون سمجھتے ہیں – اس سلسلے میں استاد کا کرادر بہت اہم ہے – ایک قابل استاد کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کون سے ایسے طریقے ہیں کہ جن سے طلباء میں سائنس کو پڑھنے، سیکھنے ، اور سمجھنے میں دلچسپی پیدا ہو- وہ اسے شوق ، ذوق اور توجہ سے پڑھیں تاکہ یہی طلباء کل کو مستقبل کے معمار بن سکیں -وہ سائنس کے تصورات اور قوانین کو سمجھ کر مستقبل قریب میں نت نئی ایجادات کر سکیں –

    طلباء کے اندر سائنس کے مضمون میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کے لئے چند تجاویز درج ذیل ہیں :
    سائنس کے مضمون پر عبور حاصل کریں
    سب سے پہلے سائنس کے مضمون کو پڑھانے کے حوالے سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سائنس کے استاد کو اپنے مضمون پر عبور ہو – اور وہ ایک قابل اور تجربے کار استاد ہو جو کہ طلباء کو اچھے طریقے سے سائنس پڑھا نے اور سمجھانے کا فن جانتا ہو- وہ کوئی بھی سائنسی موضوع کو پڑھانے سے پہلے اس کی تیاری کرے، اس کے اوپر سوچ و بچار کرے اور بچوں کو پڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل بنائے – اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس مضمون کو پڑھانے والا ہی ماہر مضمون نہیں ہو گا تو وہ طلباء کو سائنس کے مختلف تصورات کیسے سمجھا پائے گا؟ اور ان میں مختلف سائنسی موضوعات بارے دلچسپی کیسے پیدا کر سکے گا؟

    کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنائیں
    کسی بھی استاد کی سب بڑی خاصیت اس کا کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنا نا ہے – اس حوالے سے ایک استاد یہ کر سکتا ہے کہ جب بھی وہ کلاس میں داخل ہو تو بجائے اس کے کہ وہ آتے ہی اپنا لیکچر شروع کر دے اسے چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے طلباء کو سلام کرے ، مسکراتے ہوئے ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ کرے جیسا کہ ان سے پوچھا جائے کہ کل آپ کا دن کیسا رہا ؟ آپ نے کل کیا کیا ؟ اس سے بچے آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے ، ان پر استاد کا ایک قسم کا خوف ختم ہو جائے گا اور انکی بوریت ختم ہو جائے گی – وہ آپ کو اپنا دوست سمجھیں گے اور جہاں مشکل پریشانی آئے گی وہ آپ سے بات کرنا پسند کریں گے –

    سبق پڑھانے سے پہلے بچوں سے مباحثہ کریں
    استاد کو چاہیئے کہ وہ کوئی بھی سبق پڑھانے سے پہلے اس کے بارے میں بچوں سے پوچھے اور انکی رائے لے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، ان کا اس موضوع کے حوالے سے خیال ہے؟ جیسا کہ استاد سائنس کے ایک موضوع ” جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق” کو کلاس میں پڑھانے سے پہلے اس کے بارے طلباء سے پوچھیں کہ کیا آپ کھانا کھاتے ہیں ، سوتے ہیں ، بھاگتے ہیں ، چلتے پھرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ؟ یقینا سب طلباء کا جواب ہاں میں ہو گا – انہیں بتائیں کہ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو آپ جاندار ہیں -اسی طرح ایک کرسی کے بارے میں پوچھا جائے جو کہ کلاس میں پڑی ہو کہ کیا یہ کھانا کھاتی ہے، بھاگتی ہے، سوتی ہے ، چلتی پھرتی ہے سانس لیتی ہے ؟ یقینا سب بچوں کا جواب ناں میں ہو گا – پھر انہیں بتایا جائے کہ یہ بے جان ہے – اس دوران کوشش کی جائے کہ دورانِ ڈسکشن بچوں کی طرف اشارہ کر کے ان کا نام لے کر ان سے اس بارے میں پوچھا جائے – اس سے تمام طلباء ہوشیار اور چست ہو جائیں گے اور آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے – پھر آپ انہیں بتائیں گے کہ کونسی چیز جاندار ہے اور کونسی بے جان ہے ؟ اس کے بعد سبق پڑھانا شروع کریں – آپ دیکھیں گے کہ بچے نہ صرف اس سے سبق میں دلچسپی لیں گے بلکہ ان کے اندر سائنس کے تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک لگن اور تجسس پیدا ہو گا –

    اپنے اردگرد موجود چیزوں سے بچوں کو سائنس سیکھائیں
    بچوں کو کتابوں کی دنیا سے نکال کر اپنے آس پاس میں موجود چیزوں کی مدد سے بھی سائنس سیکھائیں -اس مقصد کے لئے انہیں کسی باغ ، ندی، پہاڑ یا جنگل کی سیر کروائی جائے – تاکہ وہ اپنے ارد گرد قدرتی ماحول میں موجود نباتات ، حیوانات، چرند، پرند، اور فطرت کے اصولوں کا بغور مشاہدہ کر سکیں اور ان کو سمجھ سکیں – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو بچوں کے تصورات اور خیالات کو ایک نئی جہت دیں گی جس سے انہیں سائنس کے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کا موقعہ ملے گا –
    ” بچہ سماجی ماحول میں پنپتا ہے اس پر سماجی ماحول کا اثر لازمی ہے ”

    بچوں کو سائنسی تجربات کی مدد سے عملی طور پر سمجھائیں
    سائنسی علوم اور تجربات کا چولی دامن کا ساتھ ہے – سائنس ایک ایسا مضمون ہے کہ جس کی بنیاد ہی پریکٹیکل پر ہے – استاد کو چاہیئے کہ وہ جو بھی سائنس کا موضوع پڑھائے اسے عملی طور پر تجر بات کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرے – تجربات کی مدد سے سائنسی علوم کو پڑھانے سے بچوں کے اندر سائنس کو سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے – ان کے اندر سائنسی موضوعات کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے – وہ سائنس اور اس کے تصورات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں – ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لئے معلم کو بہت مہنگے اور وسیع تر آلات چاہیئے بلکہ آسان اور کم قیمت آلات کی مدد سے بھی وہ بچوں کو سائنسی تصورات اور ان کے حقائق سمجھا سکتا ہے – اس کے لئے استاد کو پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ کونسے ایسے تجربات ہیں جن کو آسانی سے کم وسائل میں سر انجام دیا جا سکتا ہے تاکہ اسے وسائل کی دستیابی میں کوئی مسئلہ نا ہو – اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کم لاگت اور محدود ذرائع سے ہی بچوں کو مختلف سائنسی موضوعات سمجھائے جا سکتے ہیں –
    امریکی ماہر معاشیات رچرڈ گریگسن لکھتے ہیں کہ :
    ” سائنس کی عظیم شخصیات نے اپنا کام انتہائی آسان آلات کے ساتھ کیا ہے لہذٰا ان کے نقش قدم پر چلنا اور بغیر کسی مہنگے اور وسیع تر آلات کے سائنسی سمجھ بنانا عین ممکن ہے آخر کار طالب علم کا ذہن مطلوبہ آلات میں سب سے مہنگا اوزار ہے”
    مثال کے طور پر ایک سائنسی موضوع ” آکسڈیشن کا عمل ” کو بچوں کو عملی طور پر سمجھنے کے لئے استاد کلاس میں ایک چھوٹی سی سرگرمی کر سکتا ہے – جس کے لئے وہ ایک عدد لیموں اور ایک عدد آلو لے -اب لیموں اور آلو دونوں کو دو حصوں میں کاٹ دے اور لیموں کے ایک حصے کو آلو کے ایک حصے پر لگائیں جبکہ آلو کا دوسرا حصہ ایسے ہی رہنے دے – اب آلو کے دونوں حصوں کو باہر ہوا میں کھلا رکھ دے-ایسا کرنے سے آلو کا وہ حصہ جس پر لیموں لگایا گیا تھا وہ بلکل ویسا ہی رہے گا جبکہ دوسرا حصہ بھورے رنگ کا ہو جائے گا – پھر طلباء کو بتائے کہ آلو کے ایک حصے کے بھورے ہونے کی وجہ اس کا ہوا کے ساتھ کیمیائی تعامل ہونا ہے جو کہ آکسیڈیشن کے عمل کو ظاہر کرتا ہے- جبکہ دوسرے حصے پر لیموں لگ جانے کی وجہ سے اس کا رنگ بھورا نہیں ہو گا کیوں کہ لیموں میں سٹرک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ ہوا اور آلو کے درمیان رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے آکسیڈیشن کے عمل کو سست کر دیتا ہے – اس تجربے کی مدد سے بچے عملی طور پر اس عمل کو سیکھ سکیں گے –

    بچوں کو خود سے سائنسی تجربات کرنے کا کہیں
    کسی بھی سائنسی موضوع کے حوالے سے تجربہ کرواتے ہوئے استاد اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں طلبہ دلچسپی بھی لیں – اس کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو خود عملی طور پر ان تجربات کو کرنے کا کہا جائے – مثلا ً اگر کلاس میں تیس بچے ہیں تو استاد پانچ سے چھ بچوں پر مشتمل کچھ گروپس بنا دے اور پھر انہیں خود سے تجربہ کرنے کو کہے – اس کے علاؤہ بچوں کو مختلف سائنسی ماڈلز بنانے کا کہا جائے اور اس سلسلے میں ان کی راہنمائی بھی کی جائے تاکہ وہ ان سائنسی ماڈلز کے ذریعے سے مختلف سائنسی موضوعات کو سمجھ سکیں اور ان کو رٹہ بازی سے نجات ملے گی – اسی طرح طلباء کو خوردبین (مائیکروسکوپ) کے ذریعے سے عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کو دیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ جاندار کیسے ہیں ؟ انکی ساخت کیسی ہے ؟ انکی کیا خصوصیات ہیں ؟ جب بچے اپنے ہاتھوں سے تجربے کریں گے تو اس سے ان میں سائنسی تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک شوق اور لگن پیدا ہو گی – اور اس سے بھی بڑھ کر جب بچے اپنے ہاتھوں سے کئے گئے تجربات کو کامیاب ہوتا دیکھیں گے تو اس ان کے اعتماد میں مزید اِضافہ ہو گا اور وہ ہر روز کچھ نیا سیکھیں گے – روزمرہ پڑھائے جانے والے سائنسی اسباق کو جب بچے تجربات کیساتھ سمجھیں گے تو یہی بچے نہ صرف ہمہ وقت نت نئے سائنسی تصورات کو سمجھنے میں پیش پیش ہوں گے بلکہ یہ بچے کل کو سائنسدان بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کر یں گے –

    طلباء کی رائے معلوم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں
    جب استاد سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق کوئی تجربہ کروائے تو اس کے بعد بچوں سے انکی رائے دریافت کرے کہ انہیں یہ سبق پڑھنے کے بعد اس کے متعلقہ تجربہ کو عملی طور پر کرنے سے کیسا لگا ؟ انہوں نے اس سے کیا سیکھا ؟ کوئی ایسی بات جو آپ کو پہلے پتہ نہ تھی ؟ کوئی نئی اور دلچسپ بات جو آپ اس کے متعلق بتا نا چاہیں ؟ اس کے بعد طلبہ کے جوابات پر ان کی حوصلہ افزائی کرے -یقیناً اس سے بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اِضافہ ہو گا اور وہ سائنس کے مظمون کو دلچسپی اور شوق سے پڑھیں گے-

    بچوں کو اچھی سائنسی ویب سائٹس بارے آگاہی دیں
    جہاں سکول و کالجز میں تجربات کی مدد سے بچوں کو سائنس سکھائی جائے وہی جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک استاد طلباء کو مختلف سائنسی موضوعات و تجربات بارے اچھی سائنسی ویب سائٹس کا لنکس مہیا کرے تاکہ بچے انٹرنیٹ کی دنیا کا استعمال کر کے اپنے علم و سوچ میں اِضافہ کر کے ان سے استفادہ حاصل کر سکیں –
    ان تمام تجاویز پر عمل کر کے استاتذہ بچوں میں سائنس جیسے مضمون میں دلچسپی پیدا کر سکیں گے- طلباء سائنس اور اس کے تصورات کو شوق ، ذوق، لگن اور جذبہ کیساتھ پڑھیں گے – اور یہی طلباء مسقبل کے عظیم سائنسدان ثابت ہوں گے –

  • فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرم کے خاتمے کیلئےپولیس ،بیوروکریسی میں بھی کڑا احتساب ناگزیر
    محض اتفاق کرسی پربھی بٹھاتا ہے اور کوڑے دان میں بھی پھینک سکتا

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاک آرمی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانضباطی کارروائی کا آغاز کرکے قوم پر ثابت کردکھایا ہے کہ پاکستان آرمی اور مقتدر حلقے استحکام پاکستان کے راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو مصلحت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاک فوج میں خود احتسابی ایک بہت سخت کڑا کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے اس احتسابی نظام میں کسی قسم کی کرپشن ،بے ضابطگی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جاتی جتنا بڑاآفیسر ہوتا ہے اتنا ہی سخت احتساب ہوتا ہے اوریہ اندرونی احتساب کا عمل ہر وقت متحرک رہتا ہے اور یہ محض الزامات پر ایکشن نہیں لیتا بلکہ ٹھوس شواہد پر ایکشن میں آتا ہے، پاک فوج نے ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان ا ور دفاع پاکستان ایک خواب نہیں، مضبوط عزم سے جنم لینے والی حقیقت ہے، فیض حمید کے خلاف کارروائی سے پاک آرمی نے عوام پر آشکار کردیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مقتدر حلقے اپنے وقار ، اخلاص ، محب الوطنی پر ذرا آنچ نہیں آنے دیتے،

    قارئین پاک آرمی اور مقتدر قیادت نے تو ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان کے سامنے کسی فرد ، عہدے ، طاقتور شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں، اب ملکی سیاسی جماعتوں ، حکمرانوں ، بیورو کریسی ، پولیس کو بھی اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے ، سیاسی جماعتوں میں مرکز ، ڈویژن ضلع و تحصیل ، پولیس ، بیورو کریسی میں تھانہ و پٹوارخانہ سے ضلع ڈویژن اور صوبے کی سطح پر لینڈ مافیا ، منی لانڈرنگ ، عوام سے لوٹ مار ، جواء، منشیات کے دھندوں میں ملوث بھتہ خور عناصر کو اپنے اپنے رینکس اور قطار میں گھس بیٹھیے نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور کرپٹ افسران سے نجات حاصل کرنا ہوگی، قومی سلامتی کے اداروں کو بیورو کریسی اورپولیس پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ استحکام پاکستان کے کاررواں میں سے رہزنوں کو نکال کر منزل کا حصول ممکن ہو ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ قوموں کو مایوس کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدا رمیں پہنچاتا ہے دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

  • محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پہنچی وہیں پہ خاک.جہاں کا خمیر تھا
    اصل غدار بے نقاب،ملک کو دولخت کرنے والے اپنے آقائوں کی بانہوں میں پہنچ گئے
    بھارتی آقائوں کے سامنے اقتدار کی ہوس کیلئے غلامی کا سودا مہنگا پڑ گیا
    فوج پر الزام لگانے والے سیاسی یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر معاف نہیں کرتی

    بھارت کی کوکھ اگرتلہ سے جنم لینے والی سازش مکتی باہنی کے بازئوں میں پلنے والے مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ننگے پائوں واپس اگرتلہ بھاگ گئی پاکستان کو دولخت کرنے والا ٹولہ اپنے آقائوں کی بانہوں میں پناہ لے کر خلیج بنگال میں ڈوب گیا، 1971ء میں ہم نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا اور آج ہم نے پاکستان سے غداری کرنے والے مجیب الرحمان اور اس کی باقیات کو عبرتناک انجام تک پہنچتے دیکھا، محب وطن پاکستانی عوام کو روحانی تسکین ہوئی اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی رانی حسینہ واجد کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنے والے علمائے دین جماعت اسلامی کے اکابرین اور مکتی باہنی کی آمریت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے رضاکاروں کی ارواح کو بھی تسکین ہوئی ہوگی، جنہوں نے غدار وطن مجیب الرحمان اور اس کی بیٹی کی آمریت پر شہادت کو ترجیح دی، افواج پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو بھی سکون ملا ہوگا کہ کس طرح دشمنان پاکستان سے اگرتلہ کے ایئربیس پر 1968ء میں سازباز کر کے مجیب الرحمان کو متحدہ پاکستان کے دارالخلافے میں پٹ سن کی خوشبو آنا شروع ہوئی اور اس نے بھارت کے آقائوں کے آگے اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے غلامی کا سودا کیا ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان اور محب پاکستان کے جان و مال اور عزتوں سے خون کی ہولی کھیلی اور بھارتی پروپیگنڈے اور وسائل کے بل بوتے پر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی اور اقتدار حاصل کیا اور پھر اس کی بیٹی نے بھی اپنے آقائوں کی آشیر باد سے دھونس دھاندلی سے ظلم سے اپنے اقتدار کو طوالت دی، آج افواج پاکستان پر لگائے جانے والے سقوط ڈھاکہ کے الزامات کو بھی قدرت نے جھوٹا قرار دے دیا،

    شہیدان ملت اور غازیان پاک فوج بھی سروخرو ہو گئے قدرت نے غداری اور محب وطن کو رات اور دن کے فرق کی طرح واضح کر دیا، افسوس ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پاک فوج پر الزامات لگاتی رہی اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی، مجیب الرحمان سے حسینہ واجد کے انجام سے ان لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا جو اب بھی بھارتی ایجنسیوں کے جھانسے میں آکر کوڑیوں کے مول اپنے اقتدار کے خوابوں کے بدلے وطن عزیز کے خلاف اور افواج پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر کبھی کسی غدار کو معاف نہیں کرتی۔

  • مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے وجود پر مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک جواب صرف نام نہاد اُمہ ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے؟ اگر اقوام متحدہ کا اور مسلم اُمہ کا کوئی وجود ہوتا تو کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا ، ان مسئلوں کا حل کرنے کاکردار کسی نے بھی کیا ۔اسلامی ممالک کے حکمران لاغر اور مفلوج ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کسی مسئلے کو حل کرنا اس کے بس کی بات ہی نہیں رہی۔ دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو اور ایسے ہی ہے جیسے ان کے ہاتھوں میں کوئی پستول ہو ، جہاں ان کے مفادات سے کسی مسئلہ کا حل ٹکرائو کھاتا ہے وہاںیہ اقوام متحدہ کی کنپٹی پر یہ اوزار رکھ کر اس سے اپنی بات منواتے ہیں۔ کشمیر جیسے اور فلسطین جیسے مسائل انہی طاقتوں کے مفادات کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ انہی طاقتوں کی محکوم اقوام متحدہ بھلا کیسے اور کیونکر حل کروائے گی ؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر تین جنگیں ہو چکی ہیں مذاکرات کے لامتناہی دھارے اور سربراہی ملاقاتیں ہمیشہ ناکام ہی رہیں۔ مسلم حکمران ان معاملات سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ کشمیر اورفلسطین میں خونریزی جاری ہے۔

    ہماری پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے سرحدوں کی حفاظت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ ایٹمی قوت کا حامل ایک اسلامی ملک عالمی سیاسی کھلاڑیوں کو ہضم نہیں ہوتا پاک فوج اور جملہ ادارے اپنی سلامتی اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ ہمارے فوجی وطن عزیز کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ میں اگر خط پوٹھوہار کا ہی ذکر کروں کوئی ایسا گائوں نہیں جسے کسی شہید کے مسکن ہونے کا اعزاز حاصل نہیں اور کتنے ہی مستقبل کے شہداء جو اس وقت ملک کے مختلف محاذوں پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔

    آج کے ملکی حالات کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ محسوس ہوتاہے کہ کوئی نہ کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ پاکستان بھارت کو آنکھیں نہ دکھا سکے۔ گذشتہ پنجاب پولیس نے شہداء کا دن منایا گیا ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے انگنت قربانیاں دی ہیں پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی ہیں۔ پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا پولیس کے شہید ہونے والے نوجوان بھی ہیرو ہیں۔ یہ ہمارے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا۔

  • کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں،،،،،(ریورس)
    فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بند کی جائے
    نوجوان نسل کو تباہی کی دھکیلنے والے ملک کی خدمت کررہے؟
    سرحدوں کے پاسبانوں پر حملے حب الوطنی نہیں،فوج ہے تو ہم ہیں

    آئے روز مختلف مفروضے اس سے بھی زیادہ پیشن گوئیاں سوشل میڈیا پر ملتی ہیں جبکہ حقائق مختلف ہیں، ملک معاشی بحران کی زد میں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ہے اورایرانی صدر کا طیارہ حادثہ اور اب حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی تہران میں شہادت،بلوچستان میں وطن عزیز کی سکیورٹی پر مامور نوجوان کی شہادت اور زخمی ہونا، افغانستان کے ذریعے بھارت کا وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنا، دیگر اسلامی ممالک میں آگ اور خون کا کھیل ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معاشرے میں شر پھیلا رہے، شرانگیز قوتوں کی پشت پناہی سیاسی اور مذہبی قوتیں کر رہی ہیں خدا کا قہر ایک آزاد ملک میں یہ کون سی حقیقی آزادی مانگ رہے ہیں؟ وطن عزیز کے نوجوانوں سے التجا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اکثریت اب ایسے لوگوں کی ہے جن کی میری طرح ایک پیر قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے ، کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے کسی کو علم نہیں، اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ چکی ہیں،موجودہ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامے عدلیہ کو اس وطن عزیز کے مستقبل کے لئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا ہوگا، عسکری اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا یوں تمسخر اڑانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں عدلیہ اور عسکری اداروں کے خلاف تقریری مہم جوئی کر کے اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف عوام میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، بیہودہ رویوں کو نکیل ڈالنے کے لئے عدلیہ اور عسکری اداروں کو اور اس ملک کے نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے حرکت میں آنا ہوگا۔، آج جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے جس عذاب سے عوام گزر رہے ہیں ،سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں یہ سب اقتدار میں رہے مذہبی جماعتوں نے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے؟ بقول نامعلوم شاعر
    دھوکہ دیتے ہیں اور معزز ہیں، کیسے لوگوں کا زمانہ ہے۔
    ضمیر زر کے ترازو میں تل رہے ہیں
    کہاں کا زہد و تقویٰ کہاں علم و ہنر
    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں
    جو رہبری کے نام پر سوداگری کریں

  • پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ، ماوزے تنگ ہر چینی، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہرپاکستانی اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں زندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے ۔ ان شخصیات کے ہم سفر نہ کوئی گوگی ، نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے آج کی ہماری ملکی سیاسی جماعتوں میں اس طرح کی مخلوق کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں د یا جاسکتا مگر قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج کل سیاسی گلیاروں کو جس رفتار سے دشنام طرازیاں حرف عتاب کی عذاب زدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے۔ اقتداراور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا

    شداد کی جنت نہ رہی فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں نظریات ، ضمیر اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں آئین موضوع بحث ہے سپریم کورٹ کے وکیل راجہ تنویر سے اس سلسلے میں میری بات ہوئی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا اگر آئین پر عمل ہو تا توایک منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی آج بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا اسی طرح منتخب وزرائے اعظم کو آج تک وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا اس کوبھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا یہ توہین عوام ہے۔ عوامی حکومتوں کو چلتا کرناکسی طرح بھی درست نہیں تھا۔

    قارئین گزشتہ دنوں سینیٹر عرفان صدیقی نے 28 جولائی 2017 ء کے بھیانک دن کا ذکر کیا انہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں منصب سے ہٹا کرجیلوں مین ڈال دینے کا زکر کیا انہوں نے کہا کہ ترقی کی شرح 6.3 اور مہنگائی 3 فیصد تھی۔ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی تھی ۔ دہشت گردی کا سر کچلا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا گیا تھا تمام عالمی ادارے نے پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہے تھے ۔یقینا سینیٹر عرفان صدیقی کی یہ بات درست ہے۔ نواز شریف کے اس ترقی کے سفر میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بھی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو رات گئے گام کیا کرتے تھے۔ نواز شریف وہ واحد وزیراعظم تھے جن کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یہ بھی توہین عوام کے زمرے میں آتا ہے نواز شریف کا نعرہ ووٹ کو عزت دو صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ووٹ کی عزت ملک کے تمام اداروں پر لازم ہے۔عوام کی منتخب حکومتوں کو چلنا نہ کیا جائے عوام کا ووٹ دینے کا اعتماد اٹھ جائے گا۔آئین ہے تو جمہوریت ہے آئین ہے تو عدالتی نظام ہے۔ آئین ہے تو پارلیمنٹ ہے آئین ہے تو عوام کے حقوق ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پر عمل کیا ۔ آئین نے جو حد مقرر کی حکومتیں اور تمام ادارے اس حد کوکراس نہ کریں ورنہ پاکستان اور عوام مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے۔

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔