قصور
پولیس نے اپنی حالت نہ بدلی جو کہ ڈی پی او قصور اور آئی جی پنجاب کے لیے سوالیہ نشان
تفصیلات کے مطابق تھانہ تھ شیخم کے SHO علی اکبر اور چوکی انچارج بلال احمد قبضہ مافیا کے سرپرست بن گئے صحافی فہیم قاسم کے خلاف 15 پر کال کرنے پر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی ڈی ایس پی اور ڈی پی او قصور سے بھی انصاف نہیں ملا تو عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ پولیٹ صحافی فہیم قاسم سے انتقام لینے کی خاطر زیر سماعت مقدمہ جس کا سٹے آڈر لے رکھا ہے 19 اکتوبر قبضہ مافیا نے دوبارہ پولیس سے مل کر توہین عدالت کرتے ہوئے دوکانوں کے تالے توڑ دیے اور قبضہ مافیا کی طرف سے صحافی کو مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں صحافیوں کے تحفظ کے لیے تھانہ تھ شیخم میں درخواست دی جس کی ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ صحافی نے آئی جی پنجاب شکایت سیل نمبر 8787 پر بھی اطلاع دی تاحال کاروائی عمل میں نہ آئی صحافی نے ڈی پی او قصور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے
Author: غنی محمود قصوری
-

قصور پولیس کی صحافی کے ساتھ ناانصافی
-

ڈی سی کی ناک تلے کرپشن کا راج
قصور
ڈی سی دفتر میں انتہا کی کرپشن
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس ,قصور میں بے نامی جائیدادوں کی بندر بانٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قصور کے آفس کا سپرنٹنڈنٹ سرور ڈوگر اہلکار بے نامی جائیدادوں کی بندربانٹ اور کرپٹ مافیا کا سرغنہ نکلا، اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے انتہائی قیمتی اراضی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر گورنمنٹ کے شیڈول کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اپنے بھائی کے نام منتقل کرنے لگا
ڈپٹی کمشنراور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے دفتر میں ہونیوالی انکوائریوں ودیگر معاملات کے متعلق بھاری رشوت کے ریٹس مقرر ہو چکے ہیں
ضلع کے سب سے بڑے افسر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اُن کی ناک تلے بے نامی جائیدادوں کی بندربانٹ کرنے والا کرپٹ مافیا کا سرغنہ سپرنٹنڈنٹ محمدسرور ڈوگر جوکہ 2009ء میں ڈسٹرکٹ آفیسر (ریونیو) قصور کا بطور ریڈر سکیل 14 میں بھی کام کرتا رہا ہے تب سے لے کر اب تک آنے والے ایماندار اور فرض شناس افسران کو بھی دھوکے میں رکھ کر اپنے سرکاری اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کرکے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہوئے بے نامی جائیداد کو اپنے برادرِحقیقی کے نام منتقل کرتا رہا ہے جس میں گورنمنٹ کے شیڈول کا بھی بالکل خیال نہیں رکھاگیا، موصوف نے 208 کنال انتہائی قیمتی زرعی اراضی موضع جوہدہ سنگھ والا قصور میں بروئے رجسٹری دستاویز نمبر 8022 بھی نمبر1جلد نمبر1566مورخہ 19.12.2009 کو اپنے حقیقی بھائی اشرف عابد ولد ہستا کے نام منتقل کر دیا جس کی سرکاری کاغذات میں کل مالیت کوڑیوں کے بھاؤ صرف 7 لاکھ روپے ظاہر کی گئی جبکہ زمین کی اصل قیمت کروڑوں روپے بنتی ہے اور اس میں اصل قیمت کے علاوہ گورنمنٹ کے نافذ کردہ شیڈول کی بھی دھجیاں اُڑائی گئیں حالانکہ اُس وقت نہ تو مذکورہ اہلکار کے بھائی اور نہ ہی باپ کا کوئی ذریعہ آمدن تھا صرف اپنی کرپشن کو چھپانے کی خاطر مذکورہ اہلکار نے قیمتی اراضی اپنے بھائی کے نام منتقل کروائی جبکہ مذکورہ اہلکار نے اپنی کرپشن سے کمائی گئی دولت سے دورانِ تعیناتی 2009 بطورِ ریڈر ایک عدد قیمتی پلاٹ واقع ڈیفنس کالونی قصورپر ایک عالیشان گھر تعمیر کیا ہوا ہے اور اس کے علاوہ مذکورہ اہلکار نے ڈپٹی کمشنراور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے دفتر میں کرپشن کے متعلق ہونے والی انکوائریوں کی ذمہ داری بھی لے رکھی ہے جس میں ملزمان کے ساتھ رشوت کے ریٹس مقرر کررکھے ہیں -

محکمہ زراعت سموگ کے سخت خلاف
قصور
سموگ کنٹرول کیلئے محکمہ اگریکچر متحرک ،گاؤں دیہات میں جا کر دھان کی فصل کی پرالی کو آگ لگانے سے روکنے کیلئے اعلانات،خلاف ورزی پر قانونی کاروائی کی جائے گی
تفصیلات کے مطابق قصور محکمہ ایگریکلچر نے سموگ کی روک تھام کیلئے گاؤں دیہات میں جا کر تشہیری مہم کے ساتھ مساجد میں اعلانات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں دھان کی کٹائی کے موقع پر کسانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ دھان کی پرالی و دیگر باقیات کو آگ نا لگائیں کیونکہ اس سے دھواں بننے سے سموگ بنتی ہے نیز اعلانات کے ذریعے کسانوں کو بتایا جا رہا ہے جس نے خلاف ورزی کی اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مقدمات درج کروائے جائینگے -

تبدیلی سے چینی کی قیمت پھر تبدیل
قصور
تبدیلی کا سفر جاری ،چینی کا توڑہ دو دنوں میں 250 روپیہ مہنگا ،غربت و مہنگائی کے مارے شہری سخت پریشان،شہر میں تاجروں کے گوداموں میں ہزاروں من چینی اب بھی موجود
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی گورنمنٹ کی تبدیلی کا سفر تیزی سے رواں دواں ہے پرسوں سے اب تک چینی کی ہول سیل قیمت میں فی توڑہ 250 روپیہ اضافہ کر دیا گیا ہے پرسوں چینی کا یہی پچاس کلو والا توڑہ 48 سو روپیہ کا تھا جو اب تبدیلی سے 5 ہزار دو سو پچاس روپیہ کا ہول سیل ریٹ پر ہو گیا ہے جس سے دکانداروں کو خود چینی ایک سو روپیہ فی کلو سے اوپر پڑ رہی ہے اگر وہ ایک سو دس روپیہ بیچینگے تو پرائس کنٹرولروں کو اپنا فرض یاد آجائیگا جبکہ ہول سیل ڈیلروں و بلیک مارکیٹنگ مافیا کے سامنے یہی کنٹرولر حضرات بولنے سے گھبراتے ہیں حالانکہ قصور شہر میں تاجروں کے گوداموں میں اب بھی ہزاروں من چینی موجود ہے مگر وہ پرانے ریٹ پر دینے کی بجائے اپنی من مانیوں پر دے رہے کیونکہ ان کو پتہ ہے پوچھنا کای نے نہیں جرمانے تو چھوٹے دکانداروں کو ہی ہونگے کیونکہ انتظامیہ نے فوٹو سیشن بھی کرنا ہوتا ہے -

کھلی کچہری میں ڈی پی او موبائل میں مگن رہا
قصور
کل آر پی او شیخوپورہ ریجن کی پولیس لائن قصور میں کھلی کچہری کے ڈی پی او قصور سوشل میڈیا پر مگن رہے
تفصیلات کے مطابق کل پولیس لائن قصور میں آر پی او شیخوپورہ کی کھلی کچہری میں لوگوں کے مسائل سننے کی بجائے ڈی پی او قصور عمران کشور بار بار موبائل پر واٹس ایپ و فیس بک دیکھتے رہے
واضع دیکھا جا سکتا ہے کہ آر پی او کے ساتھ بیٹھے ڈی پی او عمران کشور غیر سنجیدہ رویہ اپناتے ہوئے موبائل استعمال کرتے رہے جس سے لوگوں کو اپنی مشکلات بیان کرنے میں پریشانی ہوئی
جبکہ کھلی کچہری میں لوگوں نے پولیس کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیا جس پر تنگ آ کر کھلی کچہری میں لوگوں کو پولیس لائن کے اندر جانے سے بھی روک دیا گیا
جس کے باعث پولیس لائن کے باہر بچے خواتین اور بوڑھے زلیل ہوتے رہے -

محکمہ سوئی گیس کا ان بنڈلنگ پر احتجاج
قصور
سوئی گیس ملازمین کا ان بنڈلنگ کے خلاف احتجاج ، حکومت وقت سے درخواست کرتے ہیں کہ سالانہ اربوں روپے کا منافع دینے والا ادارہ ہے اس کی ان بنڈلنگ روکی جائے زبیر خان
تفصیلات کے مطابق سوئی گیس کے ملازمین نے ان بنڈلنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت وقت سے درخواست کی کہ سالانہ اربوں روپے کا منافع دینے والا ادارہ ہمارا ہے اس کی ان بنڈلنگ روکی جائے صدر یونین سوئی گیس زبیر احمد خان کی کال پر ملازمین احتجاج کرتے ہوئے آل ملازمین سوئی گیس آفس قصور چیئرمین مہر محمد اسلم باسط علی بھٹی کرامت علی جماعتی جان محمد کمبوہ چوہدری منظور احمد افتخار ڈوگر عدنان افضل ندیم عرفان ڈوگر ہارون مجید اور ایس ان اور کیجول سٹاف سراپا احتجاج ملازمین کے احتجاج کا مقصد ادارہ سوئی گیس کو ان بنڈلنگ سے روکنا ہے ان بنڈلنگ کی صورت میں گیس کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا جس کا مہنگائی کی ماری ہوئی عوام پر گہرا اثر پڑے گا -

فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟ از قلم غنی محمود قصوری
کفار ازل سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسی لئے نبی کریم نے فرما دیا کہ
الکفر ملت واحدہ
یعنی کفر ایک جماعت ہے
مذہب اسلام اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کی موجودہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے اور کرہ ارض پر اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں جن کے پاس اپنی فوجیں،معدنی ذخائر اور بیش بہاء نعمتیں ہیں مگر پھر بھی آج مسلمان ہی پستی کی جانب جا رہے ہیں
کافر جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کام کرتے ہیں یک جان اور اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں
نائن الیون کی بعد اور خصوصی اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے جس سے کافر کافی پریشان ہیں اور آئے روز مذہب اسلام کے خلاف غلیظ حرکتیں کرتے رہتے ہیں
دین اسلام میں اللہ کے بعد مقام پیغمبر امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہر ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو بھی پیغمبر امن محمد کریم کی ناموس اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے مسلمان اپنا جانی مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر توہین رسالت کبھی برداشت نہیں کرتا کیونکہ شان رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے
کافی عرصے سے عالم کفر اور خصوصی فرانس پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا چلا آ رہا ہے جس میں فرانس کا رسالہ چارلی ہیبڈو پیش پیش ہے اس رسالے کے دفتر پر کئی بار مسلمانوں نے حملہ کیا ایک بار ایک ایسے ہی حملے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے
فرانس نے ایک بار پھر سرکاری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جس کا سارا ذمہ دار فرانسیسی صدر کیمرون ہے جس نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ میں چارلی ایبڈو کو آزادی اظہار رائے سے نہیں روک سکتا اب اسی فرانسیسی صدر کی شہہ پر پہلے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے پھر ان کو سرعام عمارتوں پر لگایا گیا حالانکہ یہ بدبخت کافر یہ بات بھول گئے کہ جس طرح سے جنگوں میں محمد کریم اور ان کے اصحاب و تابعین و تبع تابعین نے فتوحات کیں اگر وہ بھی کفار کے ساتھ انہی کے جیسا سلوک کرتے تو آج روء زمین پر ایک بھی کافر زندہ نا ہوتا مگر یہ مشرک احسان فراموش لوگ بھول گئے کس طرح ان کو دوران جنگ عام معافیاں ملیں حالانکہ اس سے قبل جنگی قیدیوں،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو مار دیا جاتا تھا مگر میرے شفیق نبی نے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا ان کفار کو بھی پوری آزادی سے جینے کا موقع دیا
کافر بار بار توہین رسالت کرکے آج کے مسلمانوں کے ایمان کی حرارت جانچتا ہے کیونکہ وہ شان مصطفیٰ کا مقام جانتا ہے مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے جرآت ہو کیسے رہی ہے؟ تو اس کے لئے میں قرآن کی ایک آیت رقم کرتا ہوں
اے نبی ۔کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔۔ التوبہ 83
دیکھا جائے تو آج ہم عام مسلمان اور مسلمان حکمران اس فرمان باری تعالیٰ کے منکر ہو کر ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں کیونکہ ان کفار کو اللہ ہم سے زیادہ جانتا ہے اسی لئے اللہ نے ان کفار کے خلاف جہاد کرکے ان کو مغلوب رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ ناموس رسالت کیساتھ عام مسلمان کی عزت بھی محفوظ رہے سو اس شاطر ظالم کافر دشمن نے ناموس رسالت پر حملہ کرنے کیلئے ہمارے دلوں سے سب سے پہلے جہاد کی رغبت نکالی اور اس جہاد کو بدنام کرنے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ فسادیوں کو کھڑا کرکے جہاد جیسے مقدس فریضے کو بدنام کروانے کی کوشش کی جس سے وہ ہمارے اندر ہی فساد کروانے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں
مذید ہمارے حکمرانوں کو دباؤ میں لا کر ان منہج نبوی والی جہادی جماعتوں کو ختم کروایا جن سے کفار کی جان جاتی اور ان کی جگہ انہی خارجیوں فسادیوں کو فنڈنگ کی تاکہ جہاد رکا رہے مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں رہے اور یہ بدبخت حکمرانوں کو دباؤ میں رکھ کر گستاخیاں کرتے رہے ان کے منصوبے کی واضع مثال وہ خارجی جماعتی ہیں جو اپنے مسلمانوں پر تو ہتھیار اٹھاتی ہیں مگر ان کفار کو بعد میں دیکھنے کا بہانہ بنا کر نظر انداز کرتی ہیں اور دوسری جانب ہمارے غلام ذہن حکمران ہیں جن کو ڈالر و پاؤنڈ کے نشے میں مبتلا کرکے ان کفار نے قابو کیا ہوا ہے جو اپنی عزت نفس کی خاطر تو اپنے مخالفین سے جنگ تک کر لیتے ہیں مگر ناموس رسالت کیلئے سرکاری طور پر شاتم رسول شحض کے قتل کرنے کا اعلان تک کرنے سے گھبراتے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ہمارے حکمران اس ناپاک جسارت کہ جس کی سزا شرع اللہ میں قتل ہے ، پر محض معافی پر ہی اکتفاء کرتے نظر آ رہے ہیں اور کافر معافی مانگنے سے بھی انکاری ہے
آج دنیا کی بہترین افواج میں سے بہترین فوجیں مسلمانوں کے پاس ہیں نیز ایٹم بم تک ہمارے پاس ہے مگر وہن میں مبتلا عوام و حکمران حکمت کا راگ الپا کر خود کو اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
یقین کیجئے جس دن ہم نے سیرت نبوی کے مطابق زندگیاں بسر کرنا شروع کر دیں ہمارا کھانا ،پینا ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہتھیار اٹھانا سنت محمدی کے تابع ہو گیا اسی دن کافر ڈر کے مارے ہمارے غلام ہو جائینگے مگر اس کے لئے ہمیں خود کو سنت رسول اور حکم ربی کے تابع کرنے کی ضرورت ہے
آج فرانس کی گستاخیوں پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر کیا مجال کہ کسی مسلمان حکمران نے سرکاری طور پر زبانی کلامی ہی اسے مذہب کے خلاف جنگ کا نام دیا ہو یقین کریں جس دن کسی ایک بھی مسلمان حکمران نے توہین رسالت کو دنیا اور اسلام کے لئے خطرہ قرار دے کر فوجوں کو صرف حکم دے دیا کہ شاتم رسول سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اسی دن کافر توہین رسالت چھوڑ دے گا اور ناموس رسالت مذید بلند ہو جائے گی مگر آج ہم دنیاوی زندگی میں رنگے زبانی کلامی باتیں بھی کرنے سے گئے ان سے جنگ تو دور کی بات ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ ان کے برانڈز کے متبادل ہمارے اپنے ذاتی برانڈز موجود ہیں مگر ہمیں چسکا لگ چکا ہے کفار کی اشیاء کھانے پینے اور پہننے کا
حکمران تو پتہ نہیں کب جاگے گے ہمارا تو فوری فرض ہے کہ ہم فرانس کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں ہماری زبانیں ہماری قلمیں فرانس کے خلاف علم بغاوت بلند کریں تاکہ حکمران جاگ جائیں اور آقا نامدار پیغمبر اسلام پیغمبر امن جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پر آنچ نا آنے پائے سو قارئین آج سے تہیہ کر لیں ہم اپنے حصے کا کام آج سے ہی شروع کرتے ہیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنا قلم اپنی زبان اپنی تقریر اپنی تحریر ان کی مخالفت میں کرکے باقی ان شاءاللہ کل بھی عشق رسول کے داعیوں نے ان کی گردنیں کاٹیں تھیں اور آج بھی کاٹیں گے ان شاءاللہ
تو جلدی کیجئے تاکہ کل روز محشر جام کوثر پینے کے لئے بتلا سکیں کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی ناموس کی خاطر ان لعنتی کفار سے نفرت کی تھی
باقی ان حکمرانوں میں میرا رب غیرت عطا فرمائے تاکہ اسلام کا بول بالا رہے اور یہ کفار کی غلامی کی بجائے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اسلام کو دوام بخشیں -

سرکاری کنڈوم محکمے کے لوگ بیچنے لگے
قصور
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بری طرح ناکام ،ایل ایچ ڈبلیوز بن کو پیچھے سے دوائی نا آنے کا کہہ کر خود ممنوع شدہ سرکاری کنڈوم مارکیٹ میں فروخت کئے جا رہے ہیں
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی قصور میں بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ہے عرصہ دراز سے ایل ایچ ڈبلیوز کو میڈیسن اور کنڈوم نہیں دیئے گئے اور ان کو کہا جاتا ہے کہ یہ پیچھے سے نہیں مل رہے جبکہ قصور اور گردونواح میں سرکاری کنڈوم نجی مردانہ ٹائمنگ کریم کیساتھ فروخت کئے جا رہے ہیں اور ماہانہ لاکھوں روپیہ کمایا جا رہا ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ محلے کی ایل ایچ ڈبلیو سے جب بھی فرسٹ ایڈ میڈیسن اور کنڈوم مانگے جائیں تو جواب ملتا ہے کہ ابھی نہیں ملے مگر دوسری جانب یہی کنڈوم فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ عوام کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ ظاہری بات ہے کہ ان کنڈومز کو فروخت کرنے میں محکمہ صحت کے ہی افراد ملوث ہیں کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں سرکاری فروخت ممنوع والے کنڈوم ان کے پاس ہی ہیں جو وہ عوام کو نہیں دیتے مگر خود فروخت کر رہے ہیں لہذہ وزی اعلی پنجاب ،ڈی سی قصور اور سی ای او ہیلتھ قصور واقعہ کا نوٹس لے کر ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دلوائیں اور عوام کو ان کا بنیادی حق فرسٹ ایڈ میڈیسن اور کنڈوم وغیرہ مہیا کئے جائیں -

گیس ری فلنگ کا خطرناک عمل جاری
قصور
الہ آباد میں عوام کی جان خطرے میں مگر تحصیل انتظامیہ بے خبر ،لوگ سخت پریشان
تفصیلات کے مطابق چونیاں روڈ آلہ آباد میں غیر قانونی طریقے سے گاڑیوں میں ایل پی جی گیس کی ریفلنگ جاری ہے جس سے لوگ سخت پریشان ہیں کیونکہ اس عمل سے لوگوں کی جانوں کو سخت خطرہ ہے اور کوئی بھی بڑا حادثہ کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے اس بابت شہریوں کا کہنا ہے کہ
آلہ آباد اور گردونواح میں غیرقانونی ایل پی جی گیس ریفیلنگ کا کام بلا خوف جاری ہے مگر محکمہ سول ڈیفنس اور تحصیل انتظامیہ خاموش کیوں ہے؟ کیا عوام کی ان کو پرواہ نہیں یا وہ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں نیز شہریوں نے یہ بھی کہا کہ گیس ری فلنگ پر اعتراض نہیں اعتراض آبادی میں ری فلنگ کرنے پر اعتراض ہے لہذہ ان لوگوں کو شہر سے باہر گیس ری فلنگ کرنے کا پابند کیا جائے تاکہ لوگ کا جان و مال محفوظ رہ سکے -

ڈی پی او کا ڈکیتی کی واردات پر از خود نوٹس
قصور
گزشتہ روز ہوئی واردات کا ڈی پی او قصور عمران کشور نے از خود نوٹس لے کیا
تفصیلات کے مطابق قصور کے علاقے مصطفی آباد میں مسافر گاڑی کیساتھ ڈکیتی کا معاملہ ہر
ڈی پی او قصور عمران کشور نے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا ڈی پی او قصور عمران کشور نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا نیز ضلع کی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کیلئے جامع پٹرولنگ پلان تشکیل دیا جا رہا ہے لوگ پولیس سے تعاون کریں کیونکہ عوامی تعاون کے بغیر کی کارکردگی اچھی ہونا ناممکن ہے