غلامی ایک بہت بڑی لعنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کو ناپسند کیا ہے اس کئے میرے نبی نے غلبہ اسلام کے لئے غزوات کئے اور صحابہ و امت محمدیہ کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا
آج ہم بات کرتے ہیں اپنے ہمسائے اور اسلامی دوست ملک افغانستان کی یہ ملک مختلف ادوار میں مختلف سپر پاروں کے قبضے میں رہا مگر ہر بار شکشت سپر پاوروں کا مقدر ٹھہری پچھلی صدی کی فرعون صفت سپر پاور برطانیہ نے 1919 میں افغانستان پر قبضہ کیا تو افغانی اپنے لیڈر شاہ امان اللہ خان کی قیادت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور وقت کی سپر پاور کا ستیا ناس کر دیا
اس کے بعد دنیا کی بہت بڑی سپر پاور جسے دنیا سرخ ریچھ کے نام سے پکارتی تھی افغانستان پر قابض ہو گئی مگر 1979 سے 1989 تک اس دس سالہ جنگ میں افغانیوں نے اس سرخ ریچھ کو ایسے مارا کہ دنیا آج بھی اس کے ہوئے ٹکڑے دیکھ کر ششدرہ رہ جاتی ہے اس جنگ میں پاک آرمی نے افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا یو افغانستان میں ایک اور سپر پاور کی قبر کا اضافہ ہو گیا اس کے بعد افغانیوں کی آپسی لڑائی سے خانہ جنگی شروع ہو گئی اور آخر افغان طالبان اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جو موجودہ وقت کی سپر پاور امریکہ کو ایک آنکھ نا بھاتا تھا اور اسی دوران 2001/9/11 کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملہ ہوا جس کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا جو اس وقت افغانستان میں تھے اور اسی کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان پر حملہ کر دیا
امریکہ کا خیال تھا ساری دنیا اس کے تابع ہے اور جلد افغانی بھی زیر ہو جائینگے اور یوں اسے پاکستاں پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو گی مگر وہ بھول گیا کہ اس کی پنجہ آزمائی افغانستان اور پاکستان سے ہے گو کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا تھا مگر اصل کردار پاکستان کا ہی ہے خیر وقت کا فرعون امریکہ آج 19 سال بعد بھی افغانستان میں خاک چاٹ رہا ہے جبکہ افغان طالبان نے 80 فیصد علاقے پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے اب امریکہ پاکستان سمیت افغانیوں اور دیگر ممالک کی منت سماجت کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو مگر افغانی کہتے ہیں جو لینے آئے تھے ابھی وہ تو لیتے جاؤ یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہونا جیسا کہ برطانیہ و روس ہو چکا اس لئے امریکہ بار بار امن معائدے کر رہا ہے انہی طالبان سے جنہیں وہ کہتا تھا کہ یہ جانوروں سے بھی بدتر لوگ ہیں میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا مگر آج 19 سال بعد بھی افغانی اسی آن بان شان سے لڑ رہے ہیں جبکہ امریکی فوجیوں سمیت امریکہ عوام سڑکوں پر نکل رہی ہے کہ افغانستان جنگ کو ختم کیا جائے مگر ان شاءاللہ پاکستان اور افغان طالبان امریکی ریاستوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے تک ہر صورت اس جنگ کو جاری رکھیں گے چاہے امریکہ اس وقت سپر پاور نہیں بھی رہا مگر مقصد اسے توڑنا ہے جو کہ ان شاءاللہ پورا ہونے ہی والا ہے
سوچنے کی بات ہے بھوک افلاس کے مارے افغانی جن کی معیشت انتہائی کمزور ہے وہ اس قدر غالب کیوں ہو رہے ہیں اس کے لئے ہم پہلے دیکھتے ہیں رب کا فرمان کہ افغانی اس پر کس قدر عمل پیرا ہیں
اللہ تعالی فرماتے ہیں تمام مسلم ممالک ،حکمرانوں اور لوگوں کیلئے
اور ان کافروں کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان جمع رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم ان پر رعب جمائے رکھو ،ان پر جو کہ کفر کی بدولت اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارے لئے کچھ کمی نا ہو گی۔ الانفال 60
اس سورت میں اللہ تعالی تمام مسلمانوں ،حکمرانوں کو غالب رہنے کا طریقہ بتا رہے ہیں کہ جن کافروں اللہ کے دین کے باغیوں کو تم جانتے ہو ان کیلئے قوت جمع رکھو اور اس قوت سے ان پر رعب طاری رکھو قوت سے مراد فی زمانہ اسلحہ ہے جیسے کبھی تلواروں تیروں کا دور تھا آج ویسے ہی کلاشن کوف و دیگر اسلحہ قوت ہے خود میرے نبی کی اسلحہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو گھر میں چراغ جلانے کو تیل نا تھا مگر رب کے فرمان اور ان کافروں کیلئے قوت تیار رکھو، پر عمل کرتے ہوئے نو تلواریں موجود تھیں آج افغانی بھی رب کے فرمان اور محمد ذیشان کے حکم پر ہتھیار بطور قوت لازمی رکھتے ہیں ان کا بچہ بوڑھا اور جوان تو دور عورتیں بھی اسلحہ چلانے میں ماہر ہوتی ہیں بلکل جیسے دور نبوی میں تمام اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقٹ جنگ کے سپاہی بن کر رہتے تھے آج بلکل اسی کی مانند افغانی بھی ہر وقت جنگ کیلئے تیار رہتے ہیں
ان کی جنگی تیاریوں کا ایک حقیقی قصہ آپ کو سناتا ہوں
یہ 2001 کی بات ہے کراچی کا ایک تاجر تھا جو کہ اکثر و بیشتر بسلسلہ کاروبار کابل جایا کرتا تھا چونکہ اس وقت بارڈر کھلا تھا اس لئے آنے جانے میں دقت نا تھی وہ کہتا ہے کہ ایک دن میں اپنے چار دوستوں کے ہمراہ کابل گیا وہاں میرا ایک حاجی قدرات اللہ نامی تاجر بڑا اچھا دوست بنا ہوا تھا جو کہ کراچی میرے پاس آتا رہتا تھا اس کا گاڑیوں کا بہت بڑا شو روم تھا
مجھے خریداری کرتے ہوئے دیر ہو گئی تو میں سلام دعا کیلئے قدرت اللہ کے پاس چلا گیا جس نے اپنی طرز کی خصوصی مہمان نوازی کی تو میں نے جانے کی اجازت مانگی تو کہنے لگا بھائی رات ہو گئی ہے آج رات میرے پاس ہی رک جاؤ تاجر کہتا ہے میں نے اس کی بات مان لی اور اس کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا جبکہ میرے ساتھی میری گاڑی میں پیچھے ہو لئے نصف گھنٹے کے سفر کے بعد ایک بہت بڑا دروازہ آ گیا جس کے کھلنے پر گاڑی اندر داخل ہو گئی تو مجھے افغانی دوست نے ایک کمرے میں بیٹھنے کو کہا جو کہ مٹی کا بنا ہوا تھا بلکہ مین گیٹ سے سارا گھر ہی مٹی سے تیار کیا گیا تھا کہتا میں سوچنے لگا یہ 5 سو سے اوپر گاڑیوں کے شو روم کا مالک ہے اس کا تو گھر بہت شاندار ہو گا شاید یہ اس کا کوئی فارم ہاؤس ہو خیر اتنے میں حاجی قدرت اللہ داخل ہوا اور ہم کھانا کھانے لگے میرے دوسرے دوست اور حاجی قدرت اللہ کا منشی بھی ساتھ تھا کہتا مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے پوچھ لیا کہ حاجی صاحب آپ کا گھر کہا ہے تو اس پر حاجی صاحب مسکرا کر بولا یہی تو گھر ہے جہاں ہم بیٹھے ہیں کہتا مجھے شدید جھٹکا لگا کہ کڑوروں کا مالک اور کچہ گھر کہتا ہے میں حاجی صاحب سے کہنا لگا کہ حاجی صاحب آپ ماشاءاللہ صاحب حیثیت ہیں بہت بڑا کاروبار ہے آپ کا تو پھر یہ کچہ گھر کیوں؟ جبکہ ہمارے پاکستان میں تو رواج ہے اگر کسی کے پاس ایک کروڑ روپیہ آ جائے تو وہ نصف کروڑ سود وغیرہ پر ادھار پکڑ کر اعلیٰ ترین مکان بناتا ہے تاکہ لوگ داد دے سکیں اور سٹیٹس اونچا رہے اور لوگ کہیں کہ یہ بنگلہ فلاں صاحب کا ہے
اس پر حاجی صاحب کہنے لگے بھائی صاحب یہ دنیا فانی ہے گھر سنگ مر مر کا ہو یا مٹی کا اس میں تو وقتی گزارہ ہی کرنا ہے آپ تو جانتے ہیں کہ ابھی روس سے لڑے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے اب اوپر سے امریکہ دھمکیاں دے رہا ہے کیا پتہ کب یہ گھر چھوڑنا پر جائے اور مجھے اپنی کلاشن اٹھا کر پھر سے ملا عمر کیساتھ جہاد میں نکلنا پڑے سوچو اگر میرا بہت قیمتی گھر ہو گا تو مجھے اسے چھوڑنا مشکل ہو گا اب یہ گھر میرے لئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا آپ تو جانتے ہیں کل روس آ گیا تھا اس کے خلاف لڑے تھے اب امریکہ آنکھیں دکھا رہا ہے اب اس کے خلاف لڑنا فرض ہے اس لئے بھائی صاحب میرے لئے گھر زیادہ ضروری نہیں ملکی دفاع ضروری ہے
تاجر کہتا ہے میں اس کی باتیں سن کر ششدرہ رہ گیا اور واپس کراچی آ گیا ٹھیک چار ماہ بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اس کے بعد میرا حاجی قدرت اللہ سے رابطہ نا ہوا تقریبا 16 ماہ بعد حاجی قدرت اللہ کا منشی میرے پاس کام کے سلسلے آیا تو میں نے اس سے پوچھا حاجی صاحب اور اس کے خاندان کی بتاؤ کیسے ہیں تو منشی کہنے لگا جب امریکہ نے دھمکیاں دینا زیادہ کر دیں تو حاجی صاحب کو اندازہ ہو گیا تھا اب امریکہ جنگ کے بغیر نہیں رہے گا سو اسی دن حاجی صاحب نے اپنے بال بچے پشاور پاکستان بھیج دیئے اور خود واپس آ کر مجھے گاڑیوں کی اصل قیمت کی لسٹ بنا کر دے دی پوری 480 گاڑیاں تھیں سب کی اصل قیمت خرید ساتھ لکھی تھی اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں امریکہ کے خلاف امیر المومنین ملا عمر کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے لگا ہوں سو میں یہ کاروبار ختم کر رہا ہوں یہ گاڑیوں کی اصل قیمت ہے اگر ہو سکے تو ان کی اصل قیمت کے علاوہ کچھ نفع دے دیں ورنہ اصل قیمت ہی دے دیجئے کیونکہ مجھے معرکہ حق و باطل میں اسلام کا دفاع کرنا ہے منشی کہتا ہے کہ میں وہ لسٹ اور گاڑیاں لے کر دوسرے تاجروں کے پاس گیا جن کا حاجی صاحب سے لین دین تھا کسی نے نفع دیا تو کسی نے نا دیا میں ساری رقم لے کر حاجی صاحب کے پاس واپس آ گیا جو اب اپنی کلاشن کوف پکڑے ہوئے تھے انہوں نے مجھے میری رقم دی اور باقی رقم سے کچھ پشاور گھر پہنچا دی اور کچھ کا اسلحہ خرید لائے اب اللہ جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں مگر ان کا خاندان پشاور میں رہ رہا ہے
تاجر کہتا ہے یہ سنتے ہی میں کافی دیر سوچ میں ڈوبا رہا کہ ان افغانوں کی اصل کامیابی کا راز کتاب اللہ اور سنت محمد پر عمل کرتے ہوئے کفار کیلئے قوت تیار رکھنا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا پیدا ہونے والا بچہ چلنے بولنے کیساتھ ہتھیار چلانا بھی سیکھ جاتا ہے ان کے گھر تو کچے ہوتے ہیں مگر ان کا اسلحہ اور ان کی گاڑیاں جدید اور طاقتور ہوتی ہیں اور ان کے ایمان انتہائی مضبوط
قارئین اللہ رب العزت کوشش مانگتا ہے نتیجہ نہیں آج افغانیوں کی کوشش کو 19 سال ہو گئے جس کی بدولت اپنے ساتھ سپر پاور لکھنے والا فرعون صفت امریکہ سپر پاور کا لفظ ہی بھول گیا ہے اور اب قطر میں تو کبھی کسی ملک میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا نظر آتا ہے اور وہ افغانی اپنے تانے ہوئے سینوں سے امریکہ کے دلوں پر رعب طاری کئے ہوئے ہیں
افغانی سپر پاوروں سے زیر اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ ان کے دلوں میں وہن نہیں وہ حکم ربی کی بدولت جہاد و قتال کے لئے تیار رہتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسلام و پاکستان کیلئے کافروں کے دلوں میں رعب طاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Author: غنی محمود قصوری
-

افغانوں کی فتح کا خاص راز!!! ازقلم غنی محمود قصوری
-

پولیس نے رقم اصل ورثا تک پہنچا دی
قصور
تھانہ کنگن پور کی کاروائی گرفتار ملزمان سے ریکوری کرکے اصل ورثاء تک پہنچا دی گئی
لوگوں کا پولیس کو خراج تحسین
تفصیلات کے مطابق SHO نصراللہ بھٹی کے زیر نگرانی Si افتخار بخاری نے
سرقہ بالجبر کے مقدمہ نمبر217/20 میں ملوث ملزمان سے ایک لاکھ روپے کی ریکوری کی جو کہ حاصل ہونے کے بعد اصل مالکان کے حوالے کی گئی پولیس کی اس کاوش پر انجمن تاجران کنگن پور اور الہ آباد نے ایس ایچ او نصراللہ بھٹی کو خراج تحسین کیا اور کہا کہ پولیس کا ایس رویہ ایک مثال ہے -

خود ہی سموگ پر آگاہی خود ہی آگ جلا کر تیاری
قصور
خود ہی آگاہی خود ہی خود ہی شور اور خود ہی چور ، چور مچائے شور
تفصیلات کے مطابق قصور ضلعی انتظامیہ نے ایک طرف تو سموگ کی روک تھام کیلئے تشہیری مہم کا آغاز کر رکھا ہے تو دوسری جانب خود ہی اس تشہیری مہم کی دھجیاں بکھیر رہی ہے قصور شہر بھر میں کوڑے کے ڈھیروں کو اٹھانے کی بجائے ان کو آگ لگا کر سموگ کا موجب بنارہے ہیں سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج میں صاف دیکھا جاسکتا ہے مین فیروز پور روڈ ،ڈیرہ مقصود صابر انصاری ،کالی پل، شہباز خان روڈ و دیگر علاقوں میں کوڑے کے ڈھیروں کو آگ لگا کر شہر میں زہریلا دھواں اور سموگ پھیلا کر شہریوں کو بیماری کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے شہر قصور کے باسیوں کی وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لیکر ڈی سی قصور کو فوٹو سیشن سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے -

اپنوں پہ کرم غیروں پہ ستم،سی ای او ہیلتھ کا بیٹا سرگرم
قصور
اپنوں کے کرم غیروں پہ ستم ،باپ کے اختیار کا ناجائز استعمال بیٹے نے شروع کر دیا من پسند لوگوں کو بچانا اور منتھلیںاں نا دینے والے افراد کو پھنسانا شروع کر دیا
تفصیلات کے مطابق طاقت کے نشے میں سی ای او ہیلتھ قصور ڈاکٹر جاوید اقبال کے بیٹے عامر اقبال نے محکمہ ہیلتھ کئیر کمیشن سے منظور شدہ پرائیویٹ لیبارٹریز ، میڈیکل سٹورز اور پرائیوٹ کلینکس کو تنگ کرنا شروع کر دیا کیونکہ موصوف کے ہیلتھ کیئر کمیشن سے بڑے اچھے تعلقات ہیں اس بابت تحصیل چونیاں کے گردونواح نواح اور خصوصی الہ آباد میں عامر اقبال کی ہاں میں ہاں ملانے والے مزے کر رہے ہیں جبکہ اس کو ناں کہنے والے آئے روز ہیلتھ کیئر کمیشن کے زیر عتاب رہتے ہیں
متاثرہ میڈیکل سٹور، کلینکس و لیب مالکان نے وزیر صحت،وزیر اعلی پنجاب اور ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

یوٹیلیٹی سٹور کے عملے سے لوگ تنگ عملہ بدلنے کی اپیل
قصور
یوٹیلٹی سٹور کا عملہ عوام کے لیے جلاد بن گیا آنے والے شہریوں سے بدتمیزی کرنا اور ان سے بد اخلاقی کرنا اپنا معمول بنا لیا شہری یوٹیلٹی سٹور کے عملے کے رویے سے تنگ ہو گئے ہیں اور اعلی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس عملے کو تبدیل کیا جائے اور اچھا و با اخلاق عملہ تعینات کیا جائے
مہنگائی کے دور میں یوٹیلیٹی اسٹورز شہریوں کے لیے حکومت کی طرف سے ایک چھوٹی سی امید کی کرن ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی سے ستائے شہریوں کی کثیر تعداد یوٹیلٹی سٹور کا رخ کرتی ہیں لیکن وہاں پر موجود یوٹیلٹی سٹور کا عملہ آنے والے شہریوں سے بدتمیزی اور بد اخلاقی سے پیش آتا ہیں شہریوں کا کہنا ہیں کہ یہاں جب بھی آتے ہیں آٹا یا چینی پوچھنے پر جواب نفی ملتا ہے اور مذید پوچھنے پر بدتمیزی کی جاتی ہے شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹور کا عملہ آٹا چینی اور گھی وغیرہ جس پر حکومت نے سبسٹڈی دے رکھی ہے یہ لوگ ان چیزوں کو اپنے من پسند لوگوں کو دیتے ہیں جس سے وہ انہیں مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر تے ہیں جس سے غریب عوام کی حق تلفی ہورہی ہیں شہریوں نے ڈی سی قصور اور وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم سے اپیل کی ہیں کہ یوٹیلٹی سٹور پر ایک ایماندار اور بااخلاق عملے کو رکھا جائے تا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والی ہر سہولت غریب عوام تک پہنچ سکے -

28 ہزار افراد کی رات سے بجلی معطل واپڈا افسران فون سننے سے انکاری
قصور
تحصیل قصور کے سب سے قریبی اور سب سے بڑے گاؤں کھارا کی بجلی رات 12 بجے سے معطل،ایس ڈی او ،ایکسیئین سٹی اور لائن میں صارفین کے فون سننے کے بھی رودار نہیں
تفصیلات کے مطابق قصور تحصیل کے سب سے قریبی گاؤں کھارا جس کی آبادی تقریبآ 28 ہزار ہے اور فاصلہ قصور بائی پاس سے محض ڈیڑھ کلومیٹر ہے،کی بجلی رات 12 بجے سے معطل ہے اس بابت جب سب ڈویژن بہادر پورہ اور ایکسیئین کا نمبر ملایا تو بار بار صارفین کے ملانے کے باوجود کسی نے فون سننے کی زحمت نہیں کی اور بجلی کے بارے معلوم کرنے پر دفتر جا کر ہی معلوم کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب ڈویژن بہادر پورہ کے افسران کا فون نا سننے کا ریکارڈ پہلے بھی قائم ہے
رات گئے سے لوگ عزیت میں مبتلا ہیں جب کہ واپڈا حکام صارفین کو بجلی کے تعطل کی وجہ بتانے سے بھی گریزاں ہیں اس پر اہل دیہہ نے ڈی سی قصور،ایس ای لیسکو قصور سے استدعا کی ہے کہ ان افسران کی انکوائری کرکے اہل دیہہ کو بتایا جائے کہ فون سننا ان کو کیوں نا گوار ہے اور بجلی کی فراہم کو یقینی بنایا جائے -

بل نا آنے پر سوئی گیس صارفین پریشان
قصور
تحصیل چونیاں میں سوئی گیس ملازمین کی من مانیاں تحصیل بھر میں سوئی گیس کے بل صارفین کو نہ مل سکے آخری تاریخ قریب صارفین کو میٹر کٹنے اور کروڑوں روپے لیٹ فیس کی مد میں کروڑوں کے نقصان کا خدشہ
تفصیلات کے مطابق چونیاں تحصیل کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں ہزاروں صارفین سوئی گیس کے بل آج تک بھی نہ مل سکے ہیں
ہر ماہ کی19 تاریخ بل جمع کروانے کی آخری ہوتی ہے مگر بل جمع کروانے کی تاریخ قریب پہنچنے کے باوجود بل ڈسٹری بیوٹر نے بل تقسیم نہیں کئے جبکہ محکمہ سوئی گیس صارفین کو بل لیٹ ادا کرنے پر کروڑوں روپے جرمانہ کی مد میں ڈال دے گا
سوئی گیس صارفین کے مطابق ان کو بلاوجہ لیٹ فیس کی مد میں جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اور اپنے میٹر کٹنے کی بھی پریشانی لاحق ہو گئی ذرائع کے مطابق لاہور ڈویژن کے بل ڈسٹری بیوشن کا ٹھیکہ کسی نئی فرم کو ملنا بتایا جا رہا ہے
گیس بل ڈسٹری بیوشن کی نئی کمپنی کے پاس بل تقسیم کرنے کے لئے ابھی تک عملہ ہی نہیں ہے سوئی گیس اور نئی ڈسٹری بیوٹر کمپنی کی غفلت کی وجہ سے گیس صارفین کو کروڑوں کا ٹیکہ لگایا جائے گا عوام پہلے ہی مہنگائی کے عذاب سے پریشان ہے اور اب محکمہ سوئی گیس نے پریشان کر رکھا ہے -

پولیس چور پکڑنے میں ناکام
قصور
ڈی پی او کے حکم کے باوجود 10 دن گزرنے کے باوجود تھانہ اے ڈویزن قصور ایف آئی آر پر ملزم گرفتار کرنے سے قاصر
تفصیلات کے مطابق 10 دن قبل مقامی تاجر اور فلاحی،سماجی کارکن چوہدری خاور مسعود کا ڈگری کالج گراونڈ قصور میں نماز جنازہ پڑھتے ہوئے نامعلوم چور جیب سے موبائل لے اڑا جس پر تاجر اندراج مقدمہ کیلئے تھانہ اے ڈویژن گیا تو مقامی ایس ایچ او کو موجود نہ پاتے ہوئے محرر کے دفتر میں چلا گیا تو آگے منشی محرر دفتر ٹائم مین حقہ کے کش لگانے میں مصروف تھا اور ایس ایچ او کے بارئے لاعلمی کا اظہار کر رہا تھا جس پر تاجر نے قصور ڈی پی او کے دفتر پیش ہوکر آپنا موقف بیان کیا تو ڈی پی او نے ذاتی طور پر مقامی پولیس کو ایف آی آر اندراج کا حکم دیا جو جلد ہی درج تو ہوگئی مگر آج تک مقامی پولیس کی موبائل ریکوری اور ملزم کی گرفتاری میں بے بس نظر آرہی ہے جس پر مقامی سماجی، فلاحی افراد، ووکلا نے حکام بالا سے ملزم کی گرفتاری اور موبائل ریکوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

ن لیگی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے
قصور
ن لیگ کے ملک گیر جلسے سے ڈرے حکمران کارکنوں کو گھروں میں ہراساں کرنے لگے ہارون اسماعیل
تفصیلات کے مطابق قصور مسلم لیگ ن کے راہنما ہارون اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے گجرانوالہ میں ملک گیر جلسے سے حکومت گھبرا کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور حکومت گوجرانوالہ جلسہ سے خائف
ن لیگی راہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں
یوتھ ونگ پی پی 176 کے صدر ہارون اسماعیل کے گھر پولیس کا چھاپہ اور ن لیگی رہنماؤں سے زبردستی فارم فل کروائے جا رہے ہیں فارم میں ن لیگ سے لا تعلقی کا حلف مانگا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ ہو رہا ہے مگر جلسہ ہر صورت ہو گا حکومت جو کر سکتی ہے کرلے ہم تیار ہیں -

ون وے کی خلاف ورزی کے باعث حادثات
قصور
لوگ دیپال پور روڈ پر سرعام ون وے کی خلاف ورزی کرنے لگے جس سے روزانہ کئی حادثات رونما ہوتے ہیں مگر انتظامیہ بلکل خاموش تماشائی،لوگوں میں تشویش
تفصیلات کے مطابق قصور دیپالپور روڑ پر ون وے کی خلاف ورزی کے باعث حادثات ہونا معمول بن گیا اور روزانہ کئے حادثات ہوتے ہیں مقامی انتظامیہ ون وے اور اوور لوڈنگ ، تیز رفتاری کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے جس پر اہل علاقہ سخت پریشان ہیں کیونکہ اس سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں
اہل علاقہ کی ڈپٹی کمشنر قصور،سٹی ٹریفک پولیس قصور اور پیٹرولنگ پولیس سے استدعا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی کو روکا جائے تاکہ لوگ حادثات سے بچ سکیں