قصور
اندرون شہر گاڑیوں میں سواری اتارنے سوار کرنے پر جرمانہ ہوگا
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر قصور ،چیئرمین ڈی آر ٹی اے قصور نے سیکرٹری ڈی آر ٹی اے قصور کو ہدایت جاری کی ھِے کہ اندرون شہر سے جو بھی کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مختلف غیر قانونی سٹاپ سے پک اینڈ ڈراپ کرتی ھیں مثلا نور محل ‘سینما چوک ‘پرانا لاری اڈہ’ قتل گڑھی چوک’ سٹیل باغ چوک’ریلوے پھاٹک’کوٹ بلوچاں سے جو گاڑیاں چلتی ہیں جو کہ شہر کی ٹریفک میں خلل ڈالتی ہیں انکے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ قانونا موٹروہیکل ایکٹ کے تحت کوئی بھی گاڑی شہری حدود میں داخل نہیں ھوسکتی اس سلسلے میں سیکرٹری ڈی آر ٹی اے قصور کل آج 14 اکتوبر 2020 سے کاروائی کا آغاز کر رہے ہیں
Author: غنی محمود قصوری
-

قصور میں غیر قانونی سٹاپس پر پک اینڈ ڈراپ ممنوع
-

ہسپتال میں زنانہ سٹاف کو ہراساں کرنے پر پرچہ
قصور
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں نجی سیکیورٹی کمپنی کے ملازمین کے خلاف فی میل نرسز کو ہراساں کرنے پر تھانہ میں ایف آئی آر درج
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں فی میل نرسز و دیگر زمانہ ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آ گیا جس میں درجنوں زنانہ ملازمین نے ایم ایس ڈی ایچ کیو قصور کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف درخواست دے دی ہے درخواست میں شفاقت نامی شخص کی طرف سے زنانہ سٹاف کو ہراساں کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں نجی سیکورٹی کا سپروائز شفاقت علی فی میل نرسز و دیگر زنانہ سٹاف کو ہراساں کرتا ہے درخواست گزار خواتین نے موقف اختیار کیا ہے کہ سپتال کے زنانہ عملہ کو فحش گوئی اور اشاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ سخت پریشان ہیں
نیز کہ ایک نجی کمپنی کے سپروائز کا کیا کام کہ وہ زنانہ ملازمین کے کمروں میں آئے لہذہ اس کے خلاف کاروائی کرکے اس سزا دلوائی جائے تاکہ زنانہ سٹاف امن و سکون سے اپنا کام کر سکے -

قصور جیل کا قیدی وفات پا گیا
قصور جیل میں قیدی وفات پا گیا
تفصیلات کے مطابق وارث علی عمر تقریباً 48/50 سال ولد محمد شریف رہائشی صابر بستی قصور ڈسٹرکٹ جیل قصور میں چل بسا
وارث علی پر منشیات کا کیس تھا اور وہ مقدمہ نمبر 189/20 بجرم (C)/-9 تھانہ سٹی بی ڈویژن کے تحت قید کاٹ رہا تھا
مرحوم ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھا اور لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج تھا اور وہیں پر آج دوران علاج جان کی بازی ہار گیا
مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے -

تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری
یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے
ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں قائد اعظم کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا
دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے
جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟
حالانکہ تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا
بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے
23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا
سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے کچہری میں ملزم کو اس لئے قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی
#قصوریات -

سرکاری ڈاکٹر ڈاکو بن کر لوٹنے لگا
قصو
ڈی ایچ کیو ہسپتال کے شبعہ آرتھو پیڈک کے سرجن ڈاکٹر خالد شیفع وحشی درندہ بن کر غریب مریضیوں کا خون چوسنے لگا
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتال قصور میں تعینات ڈاکٹر خالد شیفع آرتھو پیڈک سرجن وحشی درندہ بن کر غریب مریضوں کا خون چوسنے لگا ہے ضلع قصور کے نواحی قصبہ کھڈیاں خاص کے رہاٸشی آصف نامی شہری نے دروان لڑاٸی جھگڑا مضروب ہونے پر انگلی فریکچر ہونے کی غرص سے علاج و معالجہ کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی آرتھو پیڈک وارڈ میں داخلہ لے کر علاج معالجہ کے سلسلہ میں وہاں پر تعنیات آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر خالد شیفع سے علاج و معالجہ کی غرض سے درخواست کی تو ڈاکٹر نے اس کے علاج معالجہ کے عوض ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ہی پانچ ہزار روپے بطور رشوت وصول کر کے علاج معالجہ شروع کیا بعد میں ملزم ڈاکٹر نے مریض کو اپنے پراٸیوٹ کلینک اقبال پولی کلینک پر لے جا کر تقربیا پندرہ ہزار سے زاٸد رقم وصول کی اور ناقص آپریشن کر دیا جس پر مریض سے براۓ چیک اپ کے بہانے مذید رقم وصول کرتا رہا مریض نے تمام حالات و واقعات بذریغہ درخواست وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صاحب اور ڈاٸریکٹر اینٹی کرپشن ریجن بی لاہور اور ڈپٹی کمشنر قصور منظر جاوید علی کو ارسال کر دیئے ہیں -

تین دکانوں میں آگ سے کروڑوں کا نقصان
قصور شہر میں دکانوں میں آگ لگنے سے کروڑوں کا نقصان ،مہنگائی و لاک ڈاؤن کے مارے تاجر سخت پریشان گورنمنٹ سے مدد کی اپیل
تفصیلات کے مطابق قصور شہر میں واقع نور محل سینما روڈ پر دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی آگ لگنے کے باعث تین دکانوں کے اندر پڑا سامان جل کر خاکستر ہو گیا جن کی مالیت کروڑوں روپیہ ہے
آگ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے میں مصروف ہو گئیں اور جلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم آگ لگنے کے باعث دھوئے کے بادلوں نے شہر کو لپیٹ میں لے لیا
مہنگائی اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ دکانداروں نے گورنمنٹ سے مدد کی اپیل کر دی ہے -

سڑک تین فٹ گہرے گڑھوں میں تبدیل
قصور
رائیونڈ قصور روڈ پر واقع قصبے راؤ خانوالا کے لوگوں سے گورنمنٹ کا سوتیلی ماں جیسا سلوک،مین روڈ گڑھوں کی بدولت اپنی ساخت سے تین فٹ نیچے چلی گئی جس میں نالیوں کا پانی جمع ہونے سے ساری سڑک تالاب بن گئی لوگ کھلے عام حکمرانوں کو کوسنے لگے
تفصیلات کے مطابق قصور رائیونڈ روڈ پر واقع قصبے راؤ خانوالا کی انتہائی خراب حالت ہے اس پر اہلیان علاقہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دعوےٰ کیساتھ کہتے ہیں پورے ملک میں کوئی اس سے بدتر مین روڈ ہے تو ہمیں دکھایا جائے لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک تین فٹ گہرے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے جس پر ہر وقت نالیوں کا پانی بھرا رہتا ہے جس کے باعث پیدل چلنا تو دور کی بات گاڑیوں ٹرکوں کا گزرنا محال ہے لوگوں نے کہا کہ ہمارے حلقے سے ہر بار ن لیگ جیتتی ہے اس لئے ہمیں سزا دی جا رہی ہے اس روڈ کو نا بنا کر ٹو پی ٹی آئی قیادت نوٹ کرے اس الیکشن میں راؤ خانوالا سے اپنے ووٹ دیکھ لے اگلی بار اس سو گناہ کم ووٹ ملینگے کیونکہ ہم لوگ اپنے پیاروں کے جنازے پیدل لے کر نہیں چل سکتے بلکہ ٹرالیوں پر لاد کر قبرستان پہنچاتے ہیں اس گورنمنٹ نے ہمیں جنازوں کو کندھا دینے کے قابل نہیں چھوڑا تو ہم بھی اس گورنمنٹ کو الیکشن میں کسی کام کا نا چھوڑینگے
لوگوں نے کہا کہ ہم کسی بھی اعلی عہدیدار سے اس سڑک کی مرمت کا مطالبہ نہیں کرتے کیونکہ ہمیں پتہ ہے عمل بلکل بھی نہیں ہونا -

تحریک جوانان پاکستان قصور کی احتجاجی ریلی
قصور
تحریک جوانان پاکستان قصور کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی
تفصیلات کے مطابق قصور میں تحریک جوانان پاکستان کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت مظاہرے کا انقعاد ہوا جس کی قیادت معروف مذہبی اسکالر علامہ مفتی حکیم منیر احمد قصوری نے کی اس موقع پہ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت فرانس سے معاشی بائیکاٹ کرے، آج کفار کے پاس دلیل کا جواب دینے کے لیے دلیل موجود نہیں ہے اس لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پہ حملہ کرنے کے در پہ ہیں ہم اعلان کرتے ہیں کہ جب تک ہمارے جسموں میں جان موجود ہے ایک ایک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام موجود ہے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مظاہرے میں محمد احمد قصوری میڈیا کوارڈینیٹر تحریک جوانان پنجاب، علی رضا مغل، شہباز انصاری، چوہدری رحمت گجر، حاجی رفیق گجر و دیگر نے بھی خطاب کیا -

مستقبل کے معمار جوے کی لت میں پڑھائی کی بجائے کمائے پر
قصور
چونیاں میں مستقبل کے معماروں کی زندگیاں داؤ پر ،بچے سرعام جواء کھیلنے لگے
پولیس خاموش تماشائی کئی دنوں سے میڈیا،سول سوسائٹی اور شہریوں کی دہائی مگر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی
تفصیلات کے مطابق پولیس اسٹیشن چونیاں سے چند منٹ کے راستے پر ویڈیو گیم کی شکل میں کسینو ٹوکن کے نام پر جوا بازی مستقبل کے معماروں کی زندگیاں داؤ پر، دس روپے کا ٹوکن کھیلنے سے جیتنے پر سو روپے سے ایک ہزار روپے تک کا کیش دیا جاتا ہے جس سے بچے پڑھائی چھوڑ کر کمائی کے چکر میں
اس ویڈیو گیم کی شکل میں کسینو جوا خانہ میں ہر وقت شراب، چرس، افیون، اور چرس سے بھرے سگریٹ بھی بڑے دھڑلے سے فروخت کئے جا رہے ہیں۔تھانہ سٹی چونیاں پولیس یا تو ان جواریوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے یا پھر اپنا حصہ لے کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم ڈی پی او قصور، آر پی او شیخوپورہ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس ویڈیو گیم کی شکل میں کسینو جوئے کے اڈے اور اس منشیات کے اڈے کو بند کروایا جائے اور کسی نڈر پولیس آفیسر کو چونیاں سٹی میں تعینات کیا جائے تاکہ جو ان منشیات فروشوں اور جوئے کے اڈوں کی سر پرستی کرنے کی بجائے ان کو بند کروانے کی ہمت رکھتا ہو کیونکہ یہ مستقبل کے معماروں کے مستقبل کا معاملہ ہے اگر ان اڈوں کو بند نا کروایا گیا تو بچے جوے باز، چرسی اور کریمنل ہو بنیں گے جس سے سانحہ چونیاں جیسے واقعات مذید جنم لینگے -

بھینس گہرے کنویں میں جا گری
قصور
کنگن پور کے نواحی گاؤں میں بھینس گہرے کنویں میں جا گری ،ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر کافی مشقت سے بھینس کو باہر نکالا
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام کے بعد کنگن پور کے نواحی گاؤں چاہل نو میں ایک بھینس گہرے کنویں میں گر گئی جس کی اطلاع لوگوں نے ریسکیو 1122 دی جنہوں نے کافی مشقت کے بعد کامیاب ریسکیو آپریشن کرکے بھینس ہو باہر نکالا
اہلیان گاؤں نے ریسکیو ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا