Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • زوالفقار علی بھٹو کی اقتدار کی ہوس نے ملک تقسیم کر دیا، وینا ملک

    زوالفقار علی بھٹو کی اقتدار کی ہوس نے ملک تقسیم کر دیا، وینا ملک

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ وینا ملک کا کہنا ہے کہ زوالفقار علی بھٹو کی اقتدار کی ہوس نے ملک تقسیم کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکارہ وینا ملک نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو اور بنگلہ دیشی عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمن اورر ان کے اقتدار میں ان کو حاصل ہونے والی نشستوں اور عوامی ووٹس کی تعداد کی تصویر شئیر کی جس میں وینا ملک نے پی پی پی کے چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو کو کو تنقید کا نشانہ بنایا-وینا کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی محرکات مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ تھیں-


    وینا ملک کی طرف سے شئیر کی گئی تصویر میں ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ ماضی میں لیڈرز کی اقتدار حاصل کرنے کی ہوس کی وجہ سے کی گئی سیاستوں کی بدولت مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہو گیا تھا-

    وینا ملک نے تصویر شئیر کرنے کے ساتھ غصے والا ایموجی شئیر کر کے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اقتدار کی حوس نے ملک تقسیم کر دیا-

    واضح رہے کہ وینا ملک نے امریکی خاتون سنتھیا کا پی پی پی کے رہنماؤں کے خلاف لڑائی میں سنتھیا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا وینا نے کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف ڈٹی رہیں میں آپ کا ساتھ دوں گی-

    وینا ملک کی سنتھیا کو تھپکی، "کم چک کے رکھو ہم تمہارے ساتھ ہیں” کی یقین دہانی

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

  • ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    فلسطین کے عظیم رہنما ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح سے متعلق معلوماتی کالم

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ ، جہاد فلسطین کا عظیم کردار

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح فلسطین کے علاقہ غزہ میں الشجاعیہ نامی علاقہ میں یکم جنوری 1958ء کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم، اسی علاقہ میں ہی حاصل کی اور پرائمری اسکول سے پاس ہونے کے بعد میٹرک بھی اسی علاقہ کے ایک اسکول سے کیا ۔ آپ نے اعلی تعلیم مصر میں حاصل کی اور معاشیات میں گریجویٹ ہونے کے بعد غزہ میں واپس مقیم ہو گئے اور یہاں پر آپ نے غزہ کی ایک اسلامی جامعہ میں معاشیات کے مضمون کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شروع کیں ۔ یہ سنہ1981کی بات ہے اور اس وقت فلسطین کے متعدد علاقوں پر غاصب صہیونیوں کا قبضہ تھا او ر فلسطین روزانہ صہیونیوں کے مظالم سے گزر رہا تھا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہہ زمانہ طالب علمی سے ہی فلسطین میں سرگرم عمل ’’جہاد اسلامی فلسطین‘‘ نامی تنظیم سے متاثر تھے اور آپ خود بھی فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط اور فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف تھے ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں تدریس کے دوران طلباء کو حریت پسندی کا درس دیتے تھے اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور مزاحمت کی تدریس کرتے تھے ۔ یہی وجہ بنی کہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ کی اس یونیورسٹی میں آپ کو تدریس کا عمل جاری رکھنے سے روک دیا اور رمضان عبد اللہ کو ان کے گھر میں ہی نظر بند کر دیا گیا ۔ اس زمانہ میں آپ کو شدید تکالیف برداشت کرنا پڑی لیکن آپ نے نوجوانوں کے لئے اسلامی مزاحمت کا درس جاری رہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ سنہ 1986ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے جہاں سے انہوں نے لندن کی مشہور جامعہ ڈرم سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ لندن میں مقیم رہتے ہوئے بھی آپ نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلہ کو اجاگر کرتے رہنے کی کوشش کی اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ۔ یہاں بہت سے دوستوں کے ساتھ آپ نے قریبی تعلقات قائم کئے اور ان کو فلسطین کے حالات پر نظر رکھنے اور فلسطین کے لئے سرگرم عمل جہاد اسلامی فلسطین کی خدمات پر ان کی مدد کرنے کے لئے آمادہ کیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ نے لندن سے اعلی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کویت میں شادی کی اور اس کے بعد واپس لند چلے گئے اور وہاں سے امریکہ کا سفر اختیار کیا ۔ آپ نے سنہ 1993اور سنہ1995 میں جنوبی فلوریڈا میں تدریسی فراءض انجام دئیے ۔ آپ مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے جن میں سے ایک زبان عبری زبان بھی ہے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ جس زمانہ میں مصر میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اسی زمانہ میں ان کی ملاقات فلسطین کی جد وجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے ایک عظیم مجاہد اور جہاد اسلامی فلسطین کے بانی ڈاکٹر فتحی شقاقی سے ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شہید فتحی شقاقی کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے حالانکہ رمضان عبد اللہ معاشیات کے شعبہ میں تھے جبکہ فتحی شقاقی طب کے شعبہ میں تھے ۔ ڈاکٹر فتحی شقاقی نے رمضان عبد اللہ کو اس زمانے کے اسلامی قائدین جن میں امام حسن البنا، سید قطب کی کتابوں سے آشنا کروایا ۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب تازہ تازہ رونما ہوا تھا اس دوران فتحی شقاقی ایرا ن کے اسلامی انقلاب کو بھی دقیق نگاہ سے مشاہدہ کر رہے تھے اور انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی سے بے حد متاثر تھے ۔ فتحی شقاقی نے رمضان عبد اللہ کو امام حسن البنا، سید قطب اور امام خمینی کی کتب اور افکار ونظریات سے آشنا کیا ۔ اس زمانہ میں دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی چلی گئی اور بات یہاں تک آن پہنچی کہ دونوں نے مشور ہ کیا کہ فلسطین کی آزادی کی جد وجہد کے لئے جہاد اسلامی فلسطین نامی تنظیم کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

    اس زمانہ میں فتحی شقاقی اخوان المسلمون سے منسلک تھے اور طلاءع الاسلامیہ نامی ایک چھوٹے سے گروپ کی قیادت کررہے ہیں ۔ رمضان شلح بھی اس تنظیم میں شامل ہوگئے ۔ اس کے بعد اس تنظیم کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اوراس میں مزید فلسطینی طلبا کی بڑی تعداد شامل ہوگئی ۔ وہیں سے اسلامی جہاد کی بنیاد پڑی مگر رمضان شلح غزہ واپسی کے بعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ۔

    ڈاکٹر فتحی شقاقی اور ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کی دوستی گہری سے گہری تر ہوتی رہی اور دونوں کی فکر اور نظریات بھی فلسطین کو صہیونی شکنجہ سے نجات دلوانے کے لئے یکساں تھے ۔ ڈاکٹر الشقاقی اور رمضان شلح برطانیہ اور اس کے بعد امریکا میں بھی ایک دوسرے سے جا ملے اور انہوں نے مل کر ایک جہاد فلسطین کے لیے ایک تنظیم کے قیام پرکام شروع کیا ۔ اس طرح باقاعدہ جہاد اسلامی فلسطین کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    غاصب صہیونی دشمن ہمیشہ سے ڈاکٹر فتحی شقاقی کی سرگرمیوں سے خوفزدہ تھا اور جہاد اسلامی فلسطین کے قیام کے بعد سے اسرائیل کو مختلف موقع پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مجاہدین کی کاروائیوں میں اسرائیل کو اکثر نقصان اٹھانا پڑتا تھا اور اس ساری کامیابی کا سہرا شہید رہنما ڈاکٹر فتحی شقاقی اور ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے سر تھا ۔ سنہ1990ء میں صہیونی غاصب اسرائیل کی بدنامہ زمانہ دہشت گرد ایجنسی موساد نے ایک بزدلانہ کاروائی میں جہاد اسلامی فلسطین کے بانی رہنما ڈاکٹر فتحی شقاقی کومالٹا کے دورے کے دوران شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کے بعد تنظیم کی قیادت کی ذمہ داری ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے کاندھوں پر آن پڑی جس کو انہوں نے اپنی وفات تک نبھایا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح نے جہاد اسلامی فلسطین کے بطور سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریوں کو احسن انداز سے نبھایا اور اپنے عزیز رفیق شہید فتحی شقاقی کے چھوڑے ہوئے نقش قدم پر چلتے ہوئے صہیونی دشمن کی نیندیں حرام کر دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اعتراف کیا کہ فلسطینیوں کی دوسری تحریک انتفاضہ کے دوران جہادی کاروائیوں میں بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی واصل جہنم ہوئے جس کے لئے براہ راست اسرائیل نے ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان تمام کاروائیوں کے احکامات خود ڈاکٹر رمضان شلح نے دئیے تھے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کے لئے فلسطین کی زمین تنگ کر دی گئی اور صہیونی دشمن نے ان کے قتل کی منصوبہ بندی میں تیزی لاتے ہوئے جلد از جلد ان کو راستے سے ہٹانے کا پلان بنا لیا تھا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کو اپنے وطن سے جلا وطن ہونا پڑا اور آپ دمشق تشریف لے گئے جہاں پر آپ کو دمقش حکومت سے والہانہ انداز سے اپناتے ہوئے دمشق میں جہاد اسلامی فلسطین کا دفتر جو پہلے سے قائم تھا اسے مزید تقویت دی گئی اور اس طرح آپ بیروت اور دمشق میں رہنے لگے اور صہیونی دشمن کی بزدلانہ کاروائیوں سے خود کو محفوظ کرتے ہوئے مجاہدین کی قیادت انجام دیتے رہے ۔ آپ کی فلسطین کے لئے کی جانے والی جہاد پسندانہ کوششوں کے جرم پرسنہ 2017ء میں امریکی ادارے ایف بی آئی نے آپ کو بلیک لسٹ قرار دیا تھا ۔ اس سے قبل سنہ 2003ء میں امریکا کی ایک عدالت نے 53 بین الاقوامی اشتہاریوں میں ڈاکٹر رمضان شلح کو شامل کردیا تھا ۔ سنہ 2007ء کو امریکی محکمہ انصاف نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح نے جہاں فلسطین کے لئے مزاحمت کی قیادت کی وہاں آپ نے فلسطین میں بعد میں قائم ہونے والی تنظیم حما س کے ساتھ بھی بھرپور تعاون جاری رکھا ۔ آپ شیخ احمد یاسین کے ساتھ دلی عقیدت رکھتے تھے ۔ آپ نے جہاد اسلامی فلسطین کو لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے ساتھ بھی بہترین رشتہ میں جوڑ کر رکھا اور اسرائیل مخالف کاروائیوں میں ہمیشہ جہاد اسلامی اور حزب اللہ نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دشمن کو نقصان پہنچایا ۔ یہ ڈاکٹر رمضان عبدا للہ کی قائدانہ صلاحیت ہی کا نتیجہ تھا کہ خطہ کی دیگر اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ بہترین تعلقات اور تعاون قائم کیا گیا ۔ نہ صرف مزاحمتی تنظیموں بلکہ ہر اس حکومت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار کئے جس نے فلسطین کے لئے بھرپور حمایت اور مدد کی، اس میں سب سے زیادہ ایران اور شام سر فہرست تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ اکثر و بیشتر ایران کا دورہ کرتے تھے اور وہاں اعلی قیادت کے ساتھ ملاقات کرتے اور موجودہ حالات پر گفتگو کرتے تھے ۔

    ڈاکٹر رمضان عبد اللہ شلح سنہ2018ء میں علیل ہو گئے اور آپ کی علالت کے بعد تنظیم نے زیاد النخالہ جو کہ آپ کے نائب تھے ان کو تنظیم کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا ۔ آپ تین سال بیروت کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 6اور 7جون کی درمیانی شب ہفتہ کو دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ طویل علالت کے بعد انتقال کرنے والے اسلامی جہاد کے عظیم مجاھد رمضان شلح نے پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ، اپنے وطن اور قضیہ فلسطین کی خدمت میں گذاری ۔ ان کی زندگی جود سخا، جہاد، مزاحمت اور خدمت خلق کا مجموعہ تھی ۔ آپ نے سوگواروں میں دو بچے اور دو بچیاں چھوڑی ہیں ۔ ڈاکٹر رمضان عبد اللہ کی وفات صرف فلسطین کا ہی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کا نقصان ہے اور ہر آنکھ آپ کے لئے اشک بار ہے ۔

  • با لی وڈ فلم انڈسٹری اپنے کام سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے  مہوش حیات

    با لی وڈ فلم انڈسٹری اپنے کام سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے مہوش حیات

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات کا کہنا ہے کہ با لی وڈ فلم انڈسٹری اپنے کام سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات نے حال ہی میں دئے گئے ایک انٹرویو میں اپنی آنے والی نے نظیر بھٹو کی سونح حیات پر بننے والی فلم اور مختلف موضوعات پر بات چیت کی۔

    بےنظیر بھٹو کی سوانح حیات پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے حوالے سے مہوش حیات نے کہا کہ میں ابھی اس فلم کے بارے میں زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ فلم ابھی ابتدائی مراحل میں ہے

    مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مجھے عوامی سطح پر اس فلم کے بارے میں زیادہ کچھ بتانے کی اجازت نہیں ہے لیکن اتنا کہنا چاہوں گی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو میرے لیے ایک شیکسپیرین ہیروئن ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اُن کا کردار نبھانے کا انتخاب کیا۔

    تمغہ امتیاز اداکارہ نے کہا کہ فلم میں محترمہ بے نظیر کے آکسفورڈ کے دنوں سے لکر اُنہیں شہید کرنے تک اُن کی تمام تر خدمات کو بطور کردار فلم میں ادا کرنا میرے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

    مہوش حیات نے کہا کہ میں کسی بھی کردار کے انتخاب کرنے سے پہلے اُس کے بارے میں جانتی ہوں کہ اس کردار کی خاصیت کیا ہے اور اس کردار میں عورت کو مضبوط دکھایا گیا ہے یا نہیں، یہ سب جاننے کے بعد ہی میں وہ کردار نبھاتی ہوں ۔

    مہوش حیات نے انٹر ویو میں بھارتی فلم انڈسٹری کے حوالے سے بھی بات کی کہا کہ بالی وڈ ایک بہت بڑی اور کامیاب فلم انڈسٹری ہے وہ اپنے کام سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرسکتی ہے-

  • رواں ماہ ہا لی وڈ فلموں اور ٹی وی شوز کی پروڈکشن شروع ہونے کے امکانات

    رواں ماہ ہا لی وڈ فلموں اور ٹی وی شوز کی پروڈکشن شروع ہونے کے امکانات

    کورونا وائرس کی وجہ سے تمام قسم کی شوبز سرگرمیاں رُک گئیں تھیں تاہم اب ہا لی وڈ فلموں اور ٹی وی شوز کی پروڈکشن دوبارہ شروع ہونے کے امکانات ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھرمیں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا جہاں کاروباری مذہبی تعلیمی ثقافتی اور اجتماعی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی وہیں فلم انڈسٹری کی بھی تمام سرگرمیاں رُک گئی تھیں سینما ہالز اور فیشن شوز وغیرہ بھی بند ہو گئے تھے تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اب کیلی فورنیا میں ہالی وڈ فلموں اور ٹی وی شوز کی پروڈکشن دوبارہ شروع ہونے کے امکانات ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

    اس حوالے سے کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا ہے کہ 12 جون سے پہلے مرحلے میں ان کاؤنٹیز کو دوبارہ پروڈکشن کی اجازت مل جائے گی جہاں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں بہتری آ چکی ہے۔

    کیلیفورنیا کے پبلک ہیلتھ آفس نے بتایا کہ مقامی صحت کے افسران کی منظوری سے ہی فلموں اور ٹی وی شوز کی پروڈکشن دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے خطرے کو کم کرنے کے لئے پروڈکشن ، کاسٹ اور عملہ کو لیبر اینڈ مینجمنٹ کے ذریعے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول کی پابندی کرنی ہوگی جس میں کاؤنٹی پبلک ہیلتھ افسران کی جانب سے مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہا لی وڈ کے بڑے اسٹوڈیوز اگلے ہفتے سے دوبارہ کام شروع کرسکیں گے یا نہیں کیونکہ کیلیفورنیا میں لاس اینجلس کاؤنٹی کورونا وائرس اہم مرکز ہے۔

    یاد رہے کہ اب تک کیلیفورنیا میں 125،000 سے زیادہ کرونا کیسز اور 4،500 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    پا کستان کا کورونا فری ہونے والے ملک نیوزی لینڈ سے موازنہ نہ کریں ہارون شاہد

    موجودہ صورتحال میں دنیا کو جیسنڈا جیسے لیڈرز کی ضرورت ہے علی ظفر

  • ہماری قوم نے ارطغرل سیریز سے محض ’ارطغرل پاپڑ‘ ارطغرل نسوار‘ ارطغرل سروس اسٹیشن جیسےنام رکھنا ہی سیکھے ہیں  صبا قمر

    ہماری قوم نے ارطغرل سیریز سے محض ’ارطغرل پاپڑ‘ ارطغرل نسوار‘ ارطغرل سروس اسٹیشن جیسےنام رکھنا ہی سیکھے ہیں صبا قمر

    پاکستان کی نامور اداکارہ صباقمر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ’چسکا نیوز ود صبا قمر اینڈ شاہ ویر جعفری‘ کے عنوان سے تیسری قسط نشر کردی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کی نامور اداکارہ صباقمر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ’چسکا نیوز ود صبا قمر اینڈ شاہ ویر جعفری‘ کے عنوان سے تیسری قسط نشر کردی اس قسط میں صبا قمر نے جہاں دیگر موضوعات پر بات کی وہاں سب سے پہلے پاکستان میں آج کل مقبول ترین ڈرامے ارطغرل پر ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی سے متعلق دلچسپ اور مذاحیہ انداز میں تبادلہ خیال کیا ۔ صبا قمر نےکہاجن لوگوں کے ذہنوں کو زنگ لگ چکا ہے وہ یا تو تیل لگائیں یا پھر ان کا چینل سبسکرائب کریں ۔ انہوں نےکہا کہ ان کا چینل ا ن کے مداحوں کے لیے ہے سستی ریٹنگ کے شوقین چھتیس ہزار چینل ہیں وہاں جائیں میرے چینل پر محلے کی پھپی کا کردار اداکرنے سے گریز کریں۔
    https://www.youtube.com/watch?v=vnAsNtV7E4s&feature=youtu.be
    مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے صبا قمر نے بتایا کہ وزیراعظم نے یہ ڈرامہ پاکستان میں نشر کیا تاکہ سوئی ہوئی قوم جاگ جائے اور کچھ سیکھ سکے لیکن وزیراعظم صاحب بھول گئے تھے کہ یہ قوم پیدا ہی سمجھدار ہوئی ہے دراصل پاکستانیوں نے ارطغرل سے کیا سیکھا؟ صبا قمر نے کہا کہ ہماری قوم نے اس سیریز سے محض ’ارطغرل پاپڑ‘ ارطغرل نسوار‘ ارطغرل سروس اسٹیشن‘ ارطغرل نہر و نہر جیسے دیگر نام رکھنا ہی سیکھے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اس سیریز سے اور کچھ سیکھیں نہ سیکھیں 2020میں پاکستان کے ہر گھر میں ایک ارطغرل خان، ارطغرل بھٹی، ارطغرل شیخ، ارطغرل وڑائچ م ارطغرل گجراور اسی قسم کے دوسرے نام کثرت سے ملنے کے امکانات ہیں۔

    اس قسط میں صبا نے کورونا وائرس کے دنوں میں شوبز شخصیات کی شادی ، خواتین کے مارکیٹ جانے اور پھر چھتوں سے چھلانگیں لگانے عمر اکمل کے ڈانس اور میرا کی امریکا سے واپسی کے لیے وزیراعظم سے کی گئی گزشتہ دنوں کی اپیل کو بھی مزاح سے بھرپور انداز میں پیش کیا-

    ادکارہ نے کہا کہ خبروں کی دنیا میں پانچ ڈرامے اس ہفتے ٹاپ ہر رہے نمبر پانچ پر آنے والا ڈرامہ عمر اکمل کا ڈرامہ ہے جس کا نام ہے مدت فروم این ادر برادر، یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ پر رہا ہے-نمبر 4 پر رہا میرا کا ڈرامہ میں اپنے وطن آ کر مرنا چاہتی ہوں نمبر تین پر کورونا میں احد سجل ، فیروز صدف،دانیال فریال کی شادی،حنا اور آغا کی شادی خالہ کے ماموں کے پھپھی کے بیٹے کی شادی اور امی ابو کی دوسری شادی،نمبر 2 میں ارطغرل ڈرامہ جس کے چلنے سے پرائیویٹ چینلز کو منی ہارٹ اٹیک آئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ اب وہ خطرے سے باہر ہیں اور ان کی سانسیں چل رہی ہیں-اور نمبر ون پر کرنل کی بیوی کا ڈرامہ رہا جس نے ارطغرل کی ریٹنگ کو بھی مات دے دی-

    اداکارہ کا کہنا تھا عوام کہتی ہے کہ ہمارے ہر مسئلے کو عمران خان حل کریں تو میں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ وزیراعظم ہیں کو سامری جادوگر نہیں جو ہوہو ہا ہا کر کے مسائل حل کر دے-ان کے حوصلے کو سلام ہے جو پھر بھی کہتے ہیں گھبرانا نہیں-

    اداکارہ کی اس قسط کو لوگوں کی بڑی تعداد پسند کررہی ہے۔

    صبا قمر کی دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    پیار غیر مشروط ہونا چاہیے، اس میں لین دین کے معاملات نہیں ہونے چاہیئں صبا قمر

  • زرین خان اپنی ننھیال کا آبائی علاقہ وادی سوات دیکھنے کی خواہش مند

    زرین خان اپنی ننھیال کا آبائی علاقہ وادی سوات دیکھنے کی خواہش مند

    بالی وڈ کی اداکارہ زرین خان کا کہنا کہ میری بہت خواہش ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے کی وادی سوات میں جاؤں جہاں سے میرے نانا کا تعلق ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے کوممبئ سے اسکائپ پر ممبئی سے انٹر ویو دیتے ہوئے بالی وڈ اداکارہ زرین کا کہنا تھا کہ ان کے نانا سوات سے ہیں اور وہ آزادی سے پہلے ہی بھارت آ گئے تھےمیرے نانا مجھے سوات علاقے کے بارے میں بتاتے رہتے تھے میں نے ان کی پرانی تصاویر دیکھں تو معلوم ہوا کہ وہ بہت خوبصورت جگہ ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ وہ سوات جانا چاہتی ہیں لیکن ابھی حالات ایسے نہیں کہ میں وہاں جا سکوں دعا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات ٹھیک ہو جائیں اور وہ اپنے نانا کے علاقے سوات کا دورہ کر سکیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اپنی مادری زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے لیکن میں پشتو کہ چند الفاظ ہی بول پاتی ہوں۔جب میری نانی زندہ تھی تو گھر میں کافی پشتو بولی جاتی تھی۔

    اداکارہ نے بتایا کہ میری امی، خالائیں اور نانا نانی آپس میں پشتو میں بات کرتے تھےلیکن میں نے پشتو نہیں سیکھی میں پاکستان میں اپنے پشتون مداحوں سے ’پخیر راغلے‘ کہوں گی ۔

    زرین خان نے موجودہ حالات کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے دوران میں نے ایسے سارے کام کئے جو پہلے کبھی نہیں کئے تھے میں نے اس دوران کھانا پکانے سے لے کر گھر کی صفائی تک سارے کام کئے اور معلوم ہوا کہ یہ سب کرنا کتنا مشکل ہے۔

    زرین خان نے فلمی کیرئیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مجھے فلموں میں کام کرنے کا شوق بالکل نہیں تھا اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ فلم انڈسڑی کا حصہ بنوں گی لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا-

    بھارتی اداکارہ نے اس حوالے سے بالی وڈ سلطان سلمان خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کے لیے ہمیشہ سلمان خان کی شکر گزار رہوں گی کہ ان کی وجہ سے میں فلم انڈسٹری میں آئی۔میں انہیں ایک فین کی طرح ملی تھی اور اسی دن مجھے اچانک پتہ چلا کہ وہ مجھے اپنی فلم ’ویر‘ کے لیے کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔

    دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا انجلینا جولی

  • فہد مصطفی اور ماہرہ خان کی فلم قائداعظم زندہ باد کی پہلی جھلک جاری

    فہد مصطفی اور ماہرہ خان کی فلم قائداعظم زندہ باد کی پہلی جھلک جاری

    اداکارہ ماہرہ خان اور اداکار و میزبان فہد مصطفی کی فلم قائداعظم زندہ باد کی پہلی جھلک جاری کر دی گئی ہے جس کو مداحوں کی طرف سے بھر پور پذیرائی ملی ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہدایت کار نبیل قریشی نے فلم کا پوسٹر شئیر کیا- جاری کی گئی تصویرکو مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ تصویر بہت جانداراورمعنی خیز ہے۔


    فلم کے ہدایتکارنبیل قریشی نے تصویرشئیرکرتے ہوئے لکھا کہ ’کبھی سوچا ہے نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر کیوں ہے؟


    دوسری جانب ماہرہ خان نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر فلم کا پوسٹر جاری کرتے ہوئے یہی سوال کیا کہ کبھی سوچا ہے نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر کیوں ہے؟

    قائداعظم زندہ باد کے لئے پاکستانی فنکاروں سمیت پاکستانی کرکٹرز اور صارفین نے بھی نیک خواہشات کرتے ہوئے کہا کہانہیں فلم کے ریلیز ہونے کا بے تابی سے انتظار ہے-


    یاد رہے کہ فلم ‘قائداعظم زندہ باد’ کی کہانی ایکشن اور کامیڈی پر مبنی ہے، جو ایک پولیس اہلکار کے کردار کے گرد گھومتی ہے پولیس اہلکار کا کردار فہد مصطفی نبھارہے ہیں امید کی جا رہی ہے کہ فلم کو عید الاضحی پر ریلیز کیا جائے گا۔ مذکورہ فلم رواں برس کی بڑی فلموں میں سے ایک قرار دی جارہی ہے۔

  • سوشل میڈیا پر سجل علی اور فیروز علی خان کی ڈانس ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر سجل علی اور فیروز علی خان کی ڈانس ویڈیو وائرل

    پاکستان کی معروف اداکارہ سجل اور اداکار فیروز خان کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دونوں ایک ساتھ ڈانس کرتے دکھائی دے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی فلم ’زندگی کتنی حسین ہے‘ میں ایک ساتھ کام کرنے والی جوڑی سجل علی اور فیروز خان کی سوشل میڈیا پر ایک ڈانس ویڈیو وائر ل ہو رہی ہے جس میں دونوں ایک ساؤنڈ اسٹوڈیو میں موجود گانا گا رہے ہیں اور گانے پر ڈانس کرتے ہوئے خوش نظر آرہے ہیں اور خوب محظوظ ہو رہے ہیں
    https://www.instagram.com/p/CA64P7Rn-7y/?igshid=1i61ua5lzyydz
    مذکورہ ویڈیو سجل علی اور فیروز خان کی 2016 ء میں ریلیز ہونے فلم کی پروموشن کے دنوں کی ہے-

    یاد رہے کہ سجل علی اور فیروز خان ماضی میں ایک دوسرے کے قریبی دوست رہ چکے ہیں

    واضح رہے کہ فیروز خان شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کر کے دینی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے 2018ء میں علیزے نامی لڑکی سے شادی کی تھی جبکہ اداکارہ سجل علی نے رواں سال لاک ڈاؤن کے دوران پاکستانی اداکار احد رضا میر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔

  • والدہ خیریت سے ہیں،غلط افواہیں پھیلانے سے گریز کریں  صاحبزادی روبینہ اشرف

    والدہ خیریت سے ہیں،غلط افواہیں پھیلانے سے گریز کریں صاحبزادی روبینہ اشرف

    عالمی وبا کورونا کا شکار پاکستان کی معروف اداکارہ روبینہ اشرف کی صاحبزادی منا طارق نے سوشل میڈیا پیغام میں والدہ کی صحت کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدہ صحت یاب ہو رہی ہیں براہ کرم غلط ا فواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے انسٹاگرام پر روبینہ اشرف کی صاحبزادی منا طارق نے اپنی اسٹوری میں سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی کہ براہ کرم میری والدہ کی صحت کے حوالے سے غلط افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، وہ خیریت سے ہیں۔

    منا طارق نے صارفین سے والدہ کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی درخواست بھی کی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے معروف اداکارہ روبینہ اشرف کے کورونا کا شکار ہونے کی خخبریں گردش میں تھیں جن کی بعد میں اداکار نے تصدیق کی تھی کہ وہ وبائی مرض کورونا کا شکار ہوگئی ہیں۔

    جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش میں تھیں کہ بیماری کی وجہ سے حالت بگڑنے پر انہیں گھر سے اسپتال منتقل کیا گیا اور اب آئی سی یو میں زیرعلاج ہیں اور ان کا خاندان عوام سے دعاؤں کی درخواست کررہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے پیغام میں پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر اورمیزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے جاری اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ روبینہ اشرف صاحبہ گھر پر رو بصحت ہیں ان کی آئی سی یو میں شفٹ کیے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں

    عامر لیاقت نے بتایا تھا کہ روبینہ اشرف صاحبہ کے شوہر طارق بھائی نے دعائے صحت کی اپیل کی ہے جبکہ رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی بھی اہل خانہ سے رابطے میں ہیں-

    روبینہ اشرف کی صحت سے متعلق زیر گردش خبریں بے بنیاد ہیں ڈاکٹر عامر لیاقت

    ہمایوں سعید کی کورونا وائرس کا شکار سینئیر اداکارہ روبینہ اشرف کے لئے دعاؤں کی اپیل

    پاکستان کی دو سینئیر اداکارائیں کورونا وائرس کا شکار

  • عمران عباس 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

    عمران عباس 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامورپُرکشش اور خوبرو اداکار و میزبان عمران عباس کو 2020 کے دنیا بھر کے 100 پرکشش چہروں کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے خوبرو اور پرکشش اداکار عمران عباس کو ٹی سی کینڈلر اورا نڈیپینڈنٹ کرٹکس کی جانب سے 2020 کے 100 پر کشش چہروں کے لیے نامزد کیاگیا ہے جس کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اداکرر عمران عباس نے اپنے اکاؤنٹ پر کیا ہے-عمران عباس نے مداحوں سے انہیں ووٹ کرنے کی بھی درخواست کی۔
    https://www.instagram.com/p/CBL6bQonjGl/?igshid=9m8gkle7gmob
    یاد رہے کہ اداکار عمران عباس گزشتہ تین برس سے مسلسل اس فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ 2019 میں مذکورہ فہرست میں 66ویں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے
    دوسری جانب ٹی سی سی کینڈلر نے بھی تمام نامزدگیوں کی فہرست اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی-

    واضح رہے کہ رواں سال کے دنیا بھر کے 100 پُرکشش چہروں کے لئے فواد خان نامزد کیا گیا ہے۔ 2017 اور 2018 کے بعد فواد خان ایک بار پھر اس فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔

    ہر سال دنیا کے خوبصورت ترین افراد کی فہرست جاری کرنے والے ادارے ’ٹی سی کینڈلر اور انڈیپینڈنٹ کرٹکس‘ کی جانب سے پاکستان بھارت، ترکی، ایران، افغانستان، امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے متعدد ممالک سے اداکاروں، اسپورٹس شخصیات اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد کو منتخب کیا جاتا ہے-

    2020 کے خوبصورت چہروں کے اُمیدواروں میں عمران عباس کے علاوہ فواد خان کینیڈین اداکار کيانو ريفز، انگلش اداکار ڈینیل ریڈکلف(ہیری پوٹر)، امریکی اداکار جیسن موموا، بھارتی اداکار سدھارتھ ملہوترا اورانگلش گلوکار زین ملک بھی شامل ہیں۔

    فواد خان 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل