Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مایوس کن یا قابل ستائش: سوشل میڈیا صارفین کے ’یہ دل میرا‘ کے اختتام پر تبصرے

    مایوس کن یا قابل ستائش: سوشل میڈیا صارفین کے ’یہ دل میرا‘ کے اختتام پر تبصرے

    گزشتہ روز نامور اداکار احد رضا میر ،اداکارہ سجل علی اور نامور اداکار عدنان صدیقی کے ڈرامے یہ دل میرا کی آخری قسط ہم ٹی وی پر نشر کی گئی-

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز نامور اداکار احد رضا میر ،اداکارہ سجل علی اور نامور اداکار عدنان صدیقی کے ڈرامے یہ دل میرا کی آخری قسط ہم ٹی وی پر نشر کی گئی- آخری قسط کے ساتھ یہ دل میرا کا خاتمہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ 36 منٹ کے لئے تھا ، لیکن اس کےrecap میں لگ بھگ 7 منٹ لگے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس بہت زیادہ سین باقی نہیں بچے تھے-

    یہ دل میرا کا باقی واقعہ بھی ان تمام فلیش بیک سے بھرا ہوا تھا جو دیکھنے والوں نے 7 منٹ کی recap میں پہلے ہی دیکھ لیا تھا ، بہرحال ، جیسے جیسے یہ واقعہ آگے بڑھ رہا تھا ، یہ ظاہر ہے کہ ڈرامہ بنانے والے آئینہ اور عمان پر پوری توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے ، وہ بھی ان سب کے بعد بھی ، جس کے ذریعے وہ جائز نظر آئے۔ یہ دل میرا کو بڑا اختتام مل گیا اور کسی بھی معاملے میں دیکھنے والے یہ تصور کر کے خوشی سے زیادہ خوش ہوں گے کہ ایک دن ، آئینہ(سجل علی) عمان(احد رضا میر) کے پاس واپس جاکر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرے گی۔

    یہ دل میرا کا آخری واقعہ کچھ مثبت اور منفی سین کے ساتھ تھا۔ سب سے بڑی خامی یقینی طور پر میر فاروق زمان(عدنان صدیقی) کی موت کا ہونا ہے ، جسے انہوں نے اپنے لئے منتخب کیا۔ ان سب کا کیا ہوگا جو انصاف کی خدمت کے منتظر تھے؟ یہ یقینی طور پر ایک آسان آپشن تھا جس کا مصنف نے انتخاب کیا اور اسے عدالت کا سامنا کرنے اور ہر ایک کے سامنے بے نقاب ہونے پر غور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اس بات پر غور کیا کہ وہ ملک کا ایک مشہور تاجر کیسے ہے۔ میر فاروق زمان نے خفیہ طور پر جرائم کا ارتکاب کیا اور اس کی خوش قسمتی ہوگئی کہ وہ بھی رازداری سے مرنے کا انتخاب کریں؟ یہ یقینی طور پر اس کے کردار کا اختتام نہیں ہے۔

    یہ ایک غیر متنازعہ نقطہ نظر ہے جو ہمارے ڈرامہ بنانے والوں کے پاس عام طور پر ہوتا ہے جب اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کی بات آتی ہے ، جہاں کسی کردار کو مارنا یا اسے اپنا مطمعن ہونا دکھایا جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف دو آسان ترین انتخاب ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ میر فاروق زمان کے لئےکہ وہ اسی وقت اپنی بیٹی کے سامنے بے نقاب ہوکر فوت ہوگئے

    ایک اور کردارعلی بخش کو بھی آسانی سے موت کا سامنا کرنا پڑا اور اسے احتساب کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ حقیقت میں میر فاروق زمان ایک بزدل تھے جو اپنے جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کی جرات نہیں رکھتے تھے لیکن یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ اس بزدلی کو ظاہر کرکے ایک اچھی مثال قائم کرسکتے تھے۔ یا نہیں اسے علی بخش کے ساتھ مل کر قانون نے سزا دی کیونکہ وہ اس کے مستحق تھے!

    باقی واقعہ نے کچھ مناظر پر توجہ مرکوز کی جن پر شاٹ کیے گئے تھے کہ آئینہ اور عمان اپنی زندگی میں کس طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ ناخوش تھا کیونکہ وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس نے آئینہ کو کس طرح ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب وہ عنا کے لئے اپنے جذبات کو اس کی طرف نرم کرنے کے لئے اپنے جذبات کو ظاہر کرنے کا وقت تھا اور اس سے بڑھ کر ، یہ آئینہ ہی تھی جو ان سب کے بعد بھی اس کی مستحق تھی۔ عمان کے علاوہ آئینہ کی زندگی میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اب اسے تسلی دے

    آئینہ کا چیریٹی کرنے اور اسکول اور اسپتال بنانے کا فیصلہ دریا باغ میں ایک خوشگوار حیرت کی طرح ہوا ، ڈرامے کی آخری قسط میں چند وجوہات بھی وقع پذیر ہوئیں جن کی وجہ آئینہ نے نرگس بوا کو سمجھایا۔ کم از کم آئینہ کو احساس ہے کہ اس کے والد نے بہت سارے لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

    آخری قسط میں اس واقعہ کی اچھی بات تھی اور اتنے اچھے لمحات نہیں۔ اس پر عمل درآمد بہتر ہوسکتا تھا۔ قسط کے آخر میں شاٹس اچھا تھا امید ہے کہ وہ اکٹھے ہوں گے اور اس خوفناک خواب سے گذرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے لیکن اس کام کو کسی اور دن کے لئے روک دیا گیا تھا۔ کھلے عام خاتمہ یقینی طور پر یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن دو چیزوں نے جس سے اختتام کو عدم اطمینان بخش بنایا ، وہ ہیں میر فاروق زمان کی موت اور ان کے اس نقطہ نظر میں غلط ہونے کے بارے میں دستبرداری۔
    https://www.youtube.com/watch?v=7rqBSJGyMbQ&feature=youtu.be
    احد رضا میر اور سجل علی کو یہ دل میرا میں ایسی غیر معمولی پرفارمنس دینے پر خود پر فخر کرنا چاہئے۔ ان دونوں کی جاندار اداکاری نے ڈرامے کو بہت مقبولیت دی احد رضا میر خاص طور پر اپنے عنصر میں تھے اور انھوں نے عمان اللہ کے کردار کو نہایت ایمنداری کے ساتھ پیش کیا، خاص طور پر اس کے لمحے کے تاثرات اور اچھا موڈ میں اچھا بدلاؤ اپنے آپ میں گواہی دینے کے لئے ایک متناسب سفر تھا۔ سجل علی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے بہترین اداکار ہیں۔ پچھلی دو اقساط میں ا نہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اس سے ہر ایک ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔ کاسٹنگ ڈائریکٹر احد اور سجل کو اس پروجیکٹ میں شامل کرنے کے لئے خوش قسمت تھے کیوں کہ اگر یہ ان کے لئے نہ ہوتا تو یہ دل میرا نہ ہوتا جو اب ہے۔

    ڈرامے کی رائٹرفرحت اشتیاق نے اپنی بہترین کوشش کی احسن تالش نے اس ڈرامے کی ہدایات دی ہیں جبکہ مومنہ درید کی پروڈکشن تلے اسے بنایا گیا ہے مختلف کہانیوں نے یقینی طور پر اس کی مقبولیت میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ عدنان صدیق ، میرا سیٹھی ، زرنیش خان اور پارس مسرور نے بھی اپنا کردار واقعی میں بخوبی ادا کیا-

    ڈرامے کے اختتام پر یہ دل میرا ٹرینڈنگ میں ہے اور صارفین نے ڈرامے کے اختتام پراپنی اپنی رائے کا اظہار کیا-


    https://twitter.com/BingNorah/status/1270956032420745218?s=20
    https://twitter.com/hifzakhann/status/1270806789848793090?s=20

    ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے، جنید سلیم

    راجہ ریپسٹار کا کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    حنا الطاف اور علی انصاری جلد ہی جیو کے نئے ڈرامے میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے

  • ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے، جنید سلیم

    ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے، جنید سلیم

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مقبول ٹاک شو کے میزبان جنید سلیم کا تُرک سیریز ارطغرل ڈرامے کو پاکستان میں پی ٹی وی پرنشر کرنے پر اعتراض کرنے والوں کو کہنا ہے کہ ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے-

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی تیرھویں صدی کی اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز دیریلیش ارطغرل کو اردو میں ‌ڈب کر کے رواں سال اپریل کے آخر میں یکم رمضان المبارک سے پی ٹی وی وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر نشر کیا جا رہا ہے اس سیریز نے تمام پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے آئے دن یہ سیریز پاکستان ٹویٹر پینل پر ٹرینڈ کر رہی ہوتی ہے-اس ڈرامے کے کرداروں اور میوزک پر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کر کے لوگ اپنے پسندیدہ فنکاروں سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں یہاں تک کہ ڈرامے کے میوزک کو بھی اردو میں ڈب کر کے سوشل میڈیا پر شئیر کیا جارہا ہے-

    جہاں اس سیریز نے پاکستانی عوام سمیت معروف شخصیات کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے وہیں کچھ معروف شخصیات نے پی ٹی وی پر ارطغرل غآزی کو نشر کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراضات اٹھائے ہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک کی بجائے اپنے ملک کے کلچر کو پروموٹ کریں جس پر عوام ان اعتراضات کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں-
    https://twitter.com/junaidsalim_/status/1270779229106511874?s=08
    حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نجی ٹی وی چینل کے مقبول ٹاک شو حسب حال کے معروف میزبان جنید سلیم نے بھی ان اعتراضات کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا جس میں بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر ڈرامہ بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل ڈرامے پر ہے کہ ہم اپنا کلچر دکھائیں گے کیا یہ ہمارا کلچر ہے کہ سالی اپنے بہنوئی کے ساتھ عشق لڑائے؟

    و اضح رہے کہ اسلامی فتوحات کی تاریخ پر مبنی ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ جسے ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں دیکھا جا رہا ہے اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے

    ارطغرل غازی ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    ارطغرل لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گا ؛ شاہیر سیالوی

  • خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    خوش رہنا ایک فن ہے…اسے سیکھیئے…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    قارئین…!!!
    دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت دل کی خوشی بھی ہے۔۔۔۔
    دل خوش ہوتا ہے تو استقرار،سکون،ذہنی ثبات،روحانی مسرت و شادمانی ملتی ہے۔۔۔۔!!!!
    جدت و اختراع کی صلاحیت ابھرتی ہے۔۔۔
    لیکن یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ خوش رہنا ایک فن ہے آپ اسے سیکھیں گے تو خوش رہ سکیں گے۔۔۔
    اب سوال یہ ہے کہ ہمیں خوش تو اس دنیا میں رہنا ہے۔۔۔۔اس کے لیئے ہم سرگرداں رہتے ہیں۔۔۔
    کیونکہ ان شآ ء اللّٰہ اپنے اعمال کی بدولت جنت میں پہنچ گئے تو وہاں تو فکر و اندیشوں کا کوئی ڈر اور تصور بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔
    تو کامیاب ہم تبھی کہلائیں گے جب یہاں خوش رہنے کے فن سے آشنا ہو جائیں گے!!!

    اس سلسلے میں یہ جانیئے کہ سفر زندگی طے کرتے ہوئے انسان کو نشیب بھی دیکھنے پڑتے ہیں،
    فراز بھی۔۔۔۔
    خیر خواہ بھی ملتے ہیں۔۔۔
    رکاوٹیں کھڑی کرنے والے حاسد بھی۔۔۔۔
    آپ کامیابی کی طرف قدم بڑھانا چاہیں گے تو کئی ہمدردی کے روپ میں راہ کے روڑے بن جانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر ہمارے اندر قوت برداشت ہو گی،
    دل مضبوط ہو گا،،
    چھوٹی چھوٹی باتوں پر مضطرب نہیں ہوں گے۔۔۔!!!!
    تو راہ کی سب پریشانیاں اور بحران سمٹتے چلے جائیں گے۔۔۔
    کیونکہ انسان جب موت کا عادی ہو جائے اسے یقین ہو جائے کہ میری زندگی،میرا نصیب مجھے مل کر رہے گا۔۔۔۔
    میری موت کا وقت مقرر ہے تو وہ کبھی مصائب سے دلبرداشتہ نہیں ہو گا۔۔۔۔
    وہ خوشی کو کسی قیمت پر فروخت کرنے پہ آمادہ نہیں ہو گا۔۔۔۔!!!!!
    کیونکہ خوشی تب رخصت ہو جاتی ہے جب ہمارا ذہن تنگ ہو جاتا ہے۔۔۔
    بس اپنے آپ کو ہی دیکھنا۔۔۔
    اپنا ہی فائدہ سوچنا۔۔۔
    ساری کائنات کو خود میں ہی محصور سمجھنا۔۔۔۔۔
    اور کسی کی پرواہ نہ کرنا۔۔۔۔
    کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد یہ بھی ہے کہ کبھی اپنی ذات سے نکل کر بھی کچھ سوچیں۔۔۔اپنے خول سے باہر آ کر
    کسی کے ساتھ کچھ خوشی والا معاملہ کریں۔۔۔۔!!!!!
    خوشیاں بانٹنے سے ملتی ہیں۔۔۔۔
    زندگی میں اپنی فکر کو کبھی بے لگام نہ چھوڑیں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو آپ ماضی کی فائل میں جیتے رہیں گے۔۔۔۔
    اپنوں کے دیئے گئے دکھ،کرب،رکاوٹیں،پریشانیاں ہی سوچتے رہیں گے۔۔۔۔
    تفکرات کے غلبے تلے دب جائیں گے۔۔۔۔
    ذہن بٹ جائے گا۔۔۔۔!!!!!!!
    جب آپ صرف اپنے آج پر نظر رکھیں گے۔۔۔آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کریں گے تو آپ خوشیوں کے حصار میں رہیں گے۔۔۔۔
    امید کے چراغوں کے سنگ ٹمٹمائیں گے۔۔۔۔جھلملائیں گے۔۔۔۔!!!!
    اپنے ہدف پر نظر ہو گی۔۔۔
    ایسا نہ کرنے والے کے سامنے بس زخم خوردہ ماضی۔۔۔۔
    اندیشہ ناک مستقبل جلتا بجھتا رہے گا۔۔۔۔!!!!!
    احساسات کو ٹھیس پہنچے گی۔۔۔۔ہم کسی کے دیئے گئے دکھوں کو ہی روتے رہیں گے۔۔۔۔
    جذبات مجروح ہو جائیں گے۔۔۔
    تو ہم ہل کر۔۔۔۔بکھر کر رہ جائیں گے۔۔۔۔!!!!!
    چونکہ خوشی کا تعلق آپ کی نفسیات سے ہے۔۔۔
    یہ اندر کی کیفیت کا نام ہے۔۔۔!!!
    اس سلسلے میں خود کو حسد کی بیماری سے بھی دور رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔تب جا کر آنگن میں خوشیاں اٹھکیلیاں کرتی ہیں۔۔۔۔۔
    خوشگوار لمحات منڈلاتے ہیں۔۔۔!!!!!
    دل کو سکون ملتا اور دماغ کی سوچنے کی صلاحیت مثبت رخ پر محوِپرواز ہوتی ہے۔۔۔۔!!!!!
    خوشی کے اصول میں یہ بھی شامل ہے کہ اس دنیا کو اتنی ہی اہمیت دیجیئے جتنی اہمیت کی یہ حامل ہے۔۔۔۔
    یہاں اک پل خوشی آئے گی تو کیا خبر اگلا لمحہ کیا رنج لائے گا۔۔۔۔
    مگر سب کو تقدیر سمجھ کر سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کیجیئے۔۔۔۔
    اپنی خوشی کو کسی شخص،چیز وغیرہ کے ساتھ وابستہ نہ کیجیئے کیونکہ ایسا کرنے سے اس چیز کی رخصتی کے ساتھ ہی خوشی بھی رخصت ہو جائے گی۔۔۔۔اور یہ خوش رہنے کا اصول نہیں۔۔۔

    یہ بات بھی سچ ہے کہ بلکلیہ غموں کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔۔۔
    کچھ غم زندگی میں پیوست ہو کر رہ جاتے ہیں
    مگر اس دنیا کی فطرت اور حقیقت کو سمجھنا بھی تو ہمارا کام ہے ناں۔۔۔؟
    جب کبھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں تو گھر کے لوگوں سے گپ شپ کریں۔۔۔۔والدین کی مجلس کریں۔۔۔۔
    کسی خوشگوار جگہ چلے جائیں اور ذہن پر سوار غم کی کیفیت کو کم کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    یا دماغی سکون کے لیئے سو جائیں۔۔۔۔
    ایک ہی ڈھرے پر نہ چلتے چلے جائیں۔۔۔
    کائنات کے ذرے ذرے میں تغیر ہے۔۔۔۔
    عبادت کو ہی لے لیں۔۔۔۔آپ ان میں ایک تنوع اور جدت پائیں گے۔۔۔۔۔
    کچھ اعمال قلبی ہیں،کچھ عملی۔۔۔
    کچھ مالی۔۔۔۔
    تو اپنی زندگی میں خوشیاں کشیدنے کے لیئے مختلف سرگرمیوں کو اپنائیے۔۔۔۔
    لوگوں سے ملیئے۔۔۔۔
    مطالعہ کیجیئے۔۔۔۔
    کسی بیمار کی عیادت کیجیئے۔۔۔۔
    کسی کو مال دیجیئے۔۔۔۔
    کسی کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کیجیئے۔۔۔۔!!!!!!
    ذکر الہی کو لازم پکڑیئے کہ وہ دلوں کا سکون ہے اہل ایمان کے لیئے۔۔۔
    سجدے میں چلے جائیں اور راز و نیاز اپنے پروردگار کے سامنے رکھ کر مدد اور ہمت کا سوال کریں۔۔۔۔
    خوشی کے لمحے از خود لوٹ آئیں گے۔۔۔!!!
    کسی کے بارے میں فضول میں نہ سوچتے رہیں۔۔۔۔
    فلاں کے پاس کیا ہے،کیا نہیں؟
    فلاں نے یہ کیا،کیوں کیا۔۔۔؟
    فلاں کے پاس وہ ہے۔۔۔۔میرے پاس نہیں۔۔۔۔؟؟؟؟
    تو یہ ساری چیزیں اور سوچیں خوشیاں خرید لے جاتی ہیں۔۔۔۔
    اور ہم اتنے ارزاں نرخوں پر اپنی زندگی کا آکسیجن فروخت کر کے تہی دست ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    اضطراب کے اندھیروں میں۔۔۔۔
    بے چینی کے تھپیڑوں میں۔۔۔۔
    خوشی کے اسباب ہمارے اندر رہتے ہیں۔۔۔
    مگر ہم انہیں تلاشتے نہیں۔۔۔۔
    دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں
    اور ہماری ناکامی اور پریشانی کے اسباب بھی ہمارے اندر ہوتے ہیں مگر ہم ان کی وجہ بھی ہمیشہ دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔۔۔!!!!
    زندگی میں چار چیزوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں۔۔۔۔
    1)تقدیر سے گلہ۔
    2)معاصی کی لت میں مبتلا ہونا
    3)حسد کی عادت۔
    4)ذکر الٰہی سے اعراض۔
    یہ چاروں چیزوں آپ کی خوشی کی دشمن ہیں۔۔۔
    ہمیشہ مثبت سوچتے رہیں کہ
    یہ چیز خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوش رہنا آپ کی مثبت قوتوں میں اضافہ کرتا ہے۔۔۔۔کہا جاتا ہے ناں کہ
    "Happiness always gives you positive energies…”
    زندگی میں جو آیا وہ بھی ہمارے خالق کا فیصلہ تھا۔۔۔۔
    جو گیا وہ بھی اسی کی رضا۔۔۔۔
    اور ہمارا یقین ہو کہ وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے۔۔۔۔!!!!!!
    مسکراتے رہیں۔۔۔۔خوش رہیں۔۔۔۔
    کہ یہی زندگی کی کامیابی اور آگے بڑھنے کا اصول ہے۔۔۔ورنہ۔۔۔۔
    یہ زندگی بوجھ لگتی ہے۔۔۔۔
    طوق سی محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔
    اور ہم نے آذادی و خوشی کے ساتھ جینا ہے ناں۔۔۔۔؟
    کیونکہ ہمارا رنج۔۔۔۔
    خوشی کی رخصتی۔۔۔۔
    ہمارے حاسدین اور دشمنوں کے لیئے شادمانی بن جاتی ہے۔۔۔۔
    اور ہم نے ہر بلا سے لڑنا ہے۔۔۔۔
    کیوں ناں۔۔۔۔؟
    ایسا ہی ہے ناں۔۔۔۔!!!!
    تو پھر آئیے
    تیار ہو جائیں خوش رہنے کے لیئے۔۔۔۔
    اپنے آپ سے۔۔۔۔
    اپنے اردگرد سے۔۔۔۔
    اپنے چاہنے والوں کے درمیان۔۔۔۔
    اپنے ناقدین کے سامنے۔۔۔۔!!!!!!!
    ایک عربی شاعر کہتا ہے:
    ترجمہ
    "میں اپنے حاسدوں کے سامنے بھی سخت صبر کا مظاہرہ کرتا ہوں تاکہ یہ جتا دوں کہ میں گھبرایا نہیں۔۔۔۔”
    "کتنے لوگوں نے میرے شر کی تمنا کی مگر ان کی تمنا پوری نہ ہوئی۔۔۔۔”

    خوش رہنے کے فن کو سیکھ کر ہم ان لوگوں کو یہ پیغام دے سکتے ہیں جو ہمیں زندگی میں ناکام دیکھنا چاہتے ہوں کہ:
    "تم جب بھی ہمیں ملو،آنکھیں میچ کر ملنا پڑے۔۔۔ہمارے فن کو کبھی شکست نہ ہو۔۔۔”!!!!!
    >دن گزریں زندگی کے،
    سدا اس فن کے سنگ۔۔۔۔
    ہر رنج پاش پاش ہو۔۔۔
    کبھی نہ لمحہ یاس ہو۔۔۔۔
    خوشیوں کا سمندر پاس ہو
    خالق سے اپنے آس ہو۔۔۔
    میں جیؤں بھی۔۔۔
    تو اس فن کے سنگ۔۔۔۔!!!
    میں مروں بھی۔۔۔۔
    تو اس فن کے سنگ۔۔۔۔آمین !!!
    ===========================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ترکی میں  انتظامیہ نے غازی ارطغرل کا مجسمہ اکھاڑ کر ہٹا دیا

    ترکی میں انتظامیہ نے غازی ارطغرل کا مجسمہ اکھاڑ کر ہٹا دیا

    ترک حکام نے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد ارطغرل غازی کے مجسمے کو ہٹا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ، ترک رہنما کا مجسمہ جو صوبہ اوردو میں نصب کیا گیا تھا ، اداکار انجین اٹلان دزیتان سے مشابہت رکھتا تھا۔

    انجین نے ترکی کے مشہور ٹیلی ویژن سیریز میں ارطغرل غازی کا کردار ادا کیا تھا جو پاکستان میں سرکاری ٹی وی پر اردو ڈبنگ کے ساتھ بھی نشر کیا جارہا ہے۔

    حریت ڈیلی نیوز کے مطابق ، ایک منصوبے کے حصے کے طور پر ارطغرل کے مجسمے اور متعدد دیگر تاریخی شخصیات کے مجسمے نصب کئے گئے ہیں-

    ارطغرل کے مداحوں نے اس وجہ سے بحث تب شروع کی جب سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا کہ یہ پہلی نظر میں اداکار دوزنیتان سے مشابہت رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق میونسپل افسران اور انتظامیہ نے یہ مجسمی گرا دیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    میونسپلٹی نے ایک تحریری بیان میں کہا ، "ہم اس حقیقت سے پریشان ہوئے تھے کہ ارطغرل غازی کا مجسمہ ارطغرل سیریز کے مرکزی اداکار انجین التان دوزینتان سے مشابہت رکھتا ہے اور اسی دن یہ ہٹا دیا گیا۔”

    واضح رہے کہ مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز دیریلیس ارطغرل کو اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان کے سرکاکری ٹی وی پی ٹی وی پر ارطغرل غازی کے نام سے یکم رمضان المبارک سے نشر کیا جا رہا ہے اس سیریز کو پاکستان میں جو شہرت ملی وہ آج سے پہلے کسی تُرک سیریز کو نہیں ہو حاصل ہوئی-پاکستانی عوام سمیت شوبز شخصیات اور سیاسی شخصیات بھی اس ڈرامے کے سحر میں مبتلا ہیں- یہ الگ بات ہے جہاں اس ڈرامے کو ازحد پسند کیا جا رہا ہے وہاں کئی معروف شخصیات اس کو پاکستان میں پی ٹی وی پر نشر کرنے پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتی نظر آرہی ہیں-

    ہماری قوم نے ارطغرل سیریز سے محض ’ارطغرل پاپڑ‘ ارطغرل نسوار‘ ارطغرل سروس اسٹیشن جیسےنام رکھنا ہی سیکھے ہیں صبا قمر

    ارطغرل ڈرامے میں کلہاڑے والے پاکستانی ترگت کی ویڈیو وائرل

    لاہور کی ایک رہائشی کالونی میں ارطغرل غازی کا مجسمہ نصب

    اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

    ارطغرل غازی پر تنقید کے جواب میں ہم نیوز کے سنئیر پروڈیوسر نے شان شاہد کو کھری کھری سنا دیں

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

  • باربی مان اور اور سدھو موسے والا کا نیا گانا ’اج کل وے‘ ریلیز

    باربی مان اور اور سدھو موسے والا کا نیا گانا ’اج کل وے‘ ریلیز

    بھارتی پنجابی گلوکارہ باربی مان اور اور گلوکار سدھو موسے والا نے اپنا نیا گانا ’اج کل وے‘ جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی پنجابی گلوکارہ باربی مان اور اور گلوکار سدھو موسے والا نے اپنا نیا گانا ’اج کل وے‘ جاری کردیا- سدھو موسے والا نے اپنے یو ٹیوب چینل میں دو روز قبل یہ گانا اپ لوڈ کیا اس گانے کو لوگوں کی طرف سے بھر پور پذیرائی ملی-

    اس گانے کی مقبولیت اور لوگوں میں پسندیدگی اور کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ گانا سوشل میدیا پر ٹرینڈنگ میں ہے اور اسےدو روز کے مختصر وقت میں اب تک
    62 لاکھ 80 ہزار اور 4 سو 6 سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے-

    اس گانے کے لیرکس اور لمپوز سدھو موسے والا نے کیا ہے جبکہ اس کو گایا بھی سدھو موسے والا ور باربی مان نے ہے جبکہ میوزک پریت ہنڈال نے ترتیب دیا ہے-

    سدھو موسے والا اس سے پہلے بھی کافی گانے ریلیز کر چکے ہیں جن کو مداحوں نے خوب پسند کیا تھا اور ان گانوں کو بھی بے حد مقبولیت ملی تھی ان گانوں میں ڈئیر ماما، سیم بیف، سوہنے لگدے، سھکا اور دیگر شامل ہیں-

    جبکہ باربی مان کے گائے گئے سپر ہٹ گانوں میں میریاں سہیلیاں ، اکھیاں اور پچھلا ریکارڈ سمیت دیگر شامل ہیں

    مداحوں نے گانے کی بھر پور تعریفیں کرتے ہوئے گانے کیا کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا-

  • سنتھیا نے پاکستانیوں سے فنڈ مانگ لیا

    سنتھیا نے پاکستانیوں سے فنڈ مانگ لیا

    امریکی سیاح خاتون سنتھیا نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) قیادت سے لڑنے کے لیے پاکستانیوں سے فنڈ مانگ لیا-

    باغی ٹی وی :امریکی سیاح خاتون سنتھیا نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) قیادت سے لڑنے کے لیے پاکستانیوں سے فنڈ مانگ لیا- سماجی رابطے کی ویب سئاٹ ٹویٹر سنتھیا مے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ رحمان ملک ، سابق وزیر اعظم گیلانی ، اور پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان کا مقابلہ کروں۔
    https://twitter.com/CynthiaDRitchie/status/1270932954903183362
    سنتھیا نے کہا کہ ان سے قانونی لڑائی کے لئے قانونی بل ہوں گے۔ امریکی خاتون نے کہا کہ ان لوگوں کے لئے جو ان سے لڑنے میں میری مدد کرنا چاہتے ہیں میری فائنانشلی مدد کریں-

    سنتھیا نے اپنے ٹویٹ میں پاکستانی اکاؤنٹ نمبر کی تصویر بھی شئیر کی-

    ٹویٹ کے آخر نے سنتھیا نے اس لڑائی میں اس کا ساتھ دینے کا بھی شکریہ ادا کیا!

    سنتھیا کی اس ٹویٹ پر ٹویٹر صارفین نے دلچسپ کمنٹس کئے-


    پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ امریکی خاتون کو بغیر کسی ثبوت کے اس کے پس منظر ، اس کے عزائم اور جس طرح سے وہ بدنام کررہی ہے اور سب پر الزامات لگا رہی ہے اسے جانے بغیر اب ، آسان اور جذباتی پاکستانی اس عورت کو چندہ دینا شروع کردیں گے

    انہوں نے لکھا کہ اگر اس کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں تو ، اس کے دوست اسے چیف جسٹس تک لے جاسکتے ہیں-


    جنرل خرم نواز کی اس ٹویٹ کے جواب میں سنتھیا نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں۔ میں دولت مند عورت نہیں ہوں۔ اور میں نے پاکستان کے عوام کے بارے میں اپنی فلموں کی تیاری کے لئے گذشتہ برسوں میں اپنے بیشتر وسائل دیئے ہیں۔

    سنتھیا نے مزید لکھا کہ میرے شواہد کی حد تک آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ لہذا برائے مہربانی محدود معلومات کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کریں۔


    آصف علی سندھو نامی صارف نے لکھا کہ جو لوگ تمہیں یہاں تک لائے ہیں وہ پیسہ بھی دیں گے فکر نا کرو تمہیں کچھ نہیں ہوتا کیونکہ جو تمہیں یہاں لائے ہیں اُن کے خلاف کوئی ایک لفظ نہیں بول سکتا پاکستان کا قانون عدالتیں اُن کے آگے دُم دبا کے بیٹھ جاتی ہیں-
    https://twitter.com/maazdi/status/1270935437117292544?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ ڈیم فنڈ اور کورونا فنڈ کے بعد اب سنتھیا فنڈ شروع ہو گیا-


    ایک صارف نے لکھا کہ یہ تو بہت جلدی پاکستانی بن گئی ہے-
    https://twitter.com/aazharmahmood/status/1270949024733020161?s=20
    اظہر محمود نامی صارف نے میم شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ لگتا ہے عمران خان سے بھی ملاقات ہو گئی ہے۔


    ارشد سلیم نامی صارف نے لکھا کہ آپ واقعی ایک سستی عورت ہیں۔ ایک سستی امریکن۔ کیونکہ سستے امریکہ ملک میں جنگی حالات ہیں۔ اس لئے ہمیں مسلم ممالک سے ہر سستے امریکی شہری کو نکالنے کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے-


    ایک صارف نے پی ٹی آئی کارکنوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چلو بھئی یوتھیو اب تمھاری اوقات کا پتا چلے گا. ایک ہفتہ سے باجی کے اکاؤنٹ پر ناچ رھے ھو اب باجی کو پیسے بھی بھیجو-خالی ٹرینڈ ہی چلاتے بو پیسے بھی بھیجو..
    https://twitter.com/DrHamdard47/status/1270939991221420032?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ چندہ جمع کرنا نیازی سے سیکھا ہو گا-


    عرفان حیدر نامی صارف نے مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ نیازی کی ُسنت پر عمل کرتے ہوئے یہ بھی کٹورہ لیکر نکل پڑی تم انہیں سے کیوں نہیں مانگتی جو تمہیں یہ سب کرنے کیلے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔۔
    https://twitter.com/Hussyy12/status/1270941842150952960?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ اس میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی روح آ گئی ہے-
    https://twitter.com/Ashoo55679133/status/1270965116268412928?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ یہ ملین ڈالر اکٹھے کر کے بھاگ جائے گی-
    واضح رہے کہ سنتھیا اور پی پئی پی کے رہنماؤں کے درمیان اس مسئلہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سنتھیا نے گذشتہ 48 گھنٹوں سے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز پر اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ بی بی (بینظیر) اس وقت کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر انھیں دھوکہ دیتے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین "جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے” کی عصمت دری کرواتی تھیں۔

    پنی ٹویٹ میں سنتھیا کا مزید کہنا تھا کہ خواتین عصمت دری کے ایسے کلچر کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کبھی مردوں کو جوابدہ نہیں کیا جاتا؟ انصاف کا نظام کہاں ہے

    سنتھیا کی ٹویٹ کے بعد پیپلز پارٹی رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے میں درخواست بھی جمع کروا دی تھی-

    اپنے خلاف ایف آئی اے کو دی گئی درخواست پر ردِعمل دیتے ہوئے سنتھیا نے ٹویٹر پر کہا تھا کہ برائے مہربانی پی پی پی کے نام نہاد جمہوریت پسند لوگوں کی طرف سے مجھے دی جانی والی موت کی دھمکیوں پر بھی کارروائی کی جائے-

    پی پی پی کارکنان و قیادت کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں علاوہ ازیں سنتھیا نے پی پی پی کے سنئیر رہنما رحمن ملک پر ریپ کے الزامات کے بھی الزامات لگائے جن کی سینیٹر رحمن ملک کے ترجمان نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے خلاف پراپیگنڈہ ہے سنتھیا کسی کے کہنے پر سب کر رہی ہے ترجمان نے مزید کہا تھا کہ رحمٰن ملک نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور عزت کے لیے آواز اٹھائی ہے اور وہ ایسا کرتے رہیں گے۔ترجمان نے نشاندہی کی کہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رحمٰن ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین کی حیثیت سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف سنتھیا رچی کے ٹوئٹ کا نوٹس لیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رحمٰن ملک کے بیٹوں نے آزا دانہ طور پر سنتھیا رچی کے خلا ف قانونی کارروائی سے متعلق اپنے وکلا سے رابطہ کیا ہے۔

    شیری رحمان قتل سے قبل تم نے بی بی کو گاڑی میں کھڑے ہونے کا کہا تھا ، سینتھیا کا شیری پر بڑا الزام

    رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے الزامات جھوٹے قرار دے دیئے

    امریکی خاتون سنتھیا کے رحمان ملک پر ریپ کے الزامات ، رحمان ملک کے بیٹوں نے بڑا اعلان کر دیا

    اگر میں نے پی ٹی آئی منسٹرز پر ریپ کے الزامات لگائے ہوتے تو نام نہاد لبرلز میرا ساتھ دیتے ، سینتھیا

    بغیر نکاح کے چار ماہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بڑی ڈرامے باز ہے یا جس کو ریپ کیا گیا؟ وینا ملک کا سوال

    وینا ملک کی سنتھیا کو تھپکی، "کم چک کے رکھو ہم تمہارے ساتھ ہیں” کی یقین دہانی

  • دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ  …!!! تحریر:جویریہ بتول

    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ …!!! تحریر:جویریہ بتول

    صدائے ضمیر:فلاح کی رہ گزر …!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    فلاح کی رہ گزر۔۔۔دلوں کا بوجھ ہلکا کر دینے والی۔۔۔۔خوشی و غمی کے موقع پر صبر و شکر کرنے کا طریقہ۔۔۔۔ !!!
    آزمائش و فتح کی گھڑیاں ہوں۔۔۔۔یا قحط و خشک سالیاں۔۔۔
    سفر ہو یا حضر۔۔۔۔بیماری ہو یا تندرستی۔۔۔جنگ ہو یا امن
    جوانی ہو کہ بڑھاپا۔۔۔
    یہ فرض ہر حال ادا کرنا ہے۔۔۔دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی جس رکن کی ادائیگی پھر تادمِ آخر فرض ہو جاتی ہے۔۔۔۔
    جو کسی صورت معاف نہیں ہے۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔۔۔گواہی دینا کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صحیح بخاری_کتاب الایمان)۔
    جسے دین کا ستون کہا گیا کہ اس ستون کی مضبوطی سے عمارت قائم ہے،یہ ستون گرا تو عمارت گئی۔۔۔ !!!!
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "تمام معاملات کی اصل اسلام ہے،اور اس کا ستون نماز ہے۔”
    (ترمذی_کتاب الایمان)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ:
    "اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا پابند کیجیئے۔۔۔”(طٰہٰ:132)۔
    پیارے نبی کی خدمت میں جو بھی پہنچ کر اسلام قبول کر لیتا تو اسے سب سے پہلے نماز سکھائی جاتی۔۔۔
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینۂ اطہر پر اترنے والے قرآن کی تعلیم تھی:
    "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر پڑھنا فرض ہے”۔
    (النسآء:103)۔
    ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اللہ کے محبوب عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
    اوّل وقت پر نماز۔
    (رواہ البخاری)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوراً نماز کی طرف رجوع کرتے۔۔۔اس رجوع کا مطلب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اپنے راز و نیاز دل کھول کر رکھ دینا ہے۔۔۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے،جب وہ سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے”۔
    (رواہ مسلم)۔
    مگر آج ہم نام کے مسلمان ہو کر بھی گھرانوں کے گھرانے بے نماز۔۔۔۔بچوں کی تربیت میں یہ چیز شامل ہی نہیں کرتے۔۔۔
    مسائل و پریشانیوں کے گھیروں میں گھِرے،ان سے نکلنے کے فن سے نا آشنا۔۔۔
    وقت پر وقت گزرتے ہیں نماز کے۔۔۔
    مگر ہمیں وقت نہیں ملتا۔۔۔
    وہ اللہ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے والی ڈوری۔۔۔اپنے معاملات و مسائل شیئر کرنے اور ان سے نجات کی التجائیں کرنے کے مواقع۔۔۔جن سے ہمارا پروردگار خوش ہوتا اور اپنے بندے کے اس عمل کی قدر فرماتا ہے۔۔۔۔ !!!

    خشوع و خضوع سے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے،بابِ قبولیت سے ضرور گزرتی ہے۔۔۔
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے،جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون:1،2)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پسندیدہ بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    "جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔۔۔”
    (المعارج)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    قیامت والے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔۔۔۔(ترمذی_کتاب الصلوۃ)۔
    اب سوچیئے کہ اگر پہلے سوال کا ہی جواب نہ دے سکے تو۔۔۔۔؟؟؟
    نماز بے حیائی و فحاشی کے کاموں سے رکاوٹ،چہرے کا نور،روح کا سرور ہے۔۔۔
    اپنے پروردگار کی قربت کی علامت اور محبوب پیغمبر محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کا سامان ہے۔۔۔
    کہ اپنے صحابی کی جنت میں قربت کی خواہش پر فرمایا:
    کثرتِ سجدہ سے میری مدد کر۔۔۔
    (صحیح مسلم_کتاب الصلوۃ)۔

    واقعی بات گراں ہے۔۔۔۔تھوڑے سے وقفے کے بعد پھر نماز کی تیاری مشکل لگتی ہے مگر اس کی وضاحت بھی اللہ تعالی نے خود فرما دی کہ
    انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین¤
    (البقرۃ)۔
    یہ خشیت الٰہی سے سرشار دلوں پر گراں نہیں،بلکہ راحت و آسودگی کا ذریعہ ہے۔۔۔ !!!
    چاہیئے کہ موقع خوشی کا ہو یا غم کا،ہماری اور ہمارے بچوں کی نمازیں ضائع نہ ہوں،
    بلکہ وہ ان مواقع کو خوب صورتی سے ڈیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔۔۔۔
    کیسے نا معقول اور نا قابلِ قبول بہانے ہم بناتے ہیں کہ وقت نہیں ملتا۔۔۔
    ہم کاروبار،روزگار کی جگہوں پر ایک منٹ لیٹ پہنچنا گوارہ نہیں کرتے یا اسے ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں تو کیا ہمارا رب ہم سے نظم و ضبط اور مقررہ وقت پر نماز ادا کرنے کا مطالبہ کرے تو ہم اپنے رازق و مالک کی بات کی پرواہ نہیں کرتے۔۔۔؟؟؟
    نہیں یہ سب محبتوں کی سوداگری ہے ناں ؟
    جتنی محبّت شدید ہو گی۔۔۔اُتنی ہی فرض کی ادائیگی بھی خوش دلی سے ہو گی۔۔۔ !!!!!
    پتہ ہے ناں۔۔۔جب کڑاکے کی سردی میں نرم و گرم بستر سے نکل کر ٹمٹماتے تاروں سے بھرے اسمان اور روشن چاند پر ہم نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔
    یا گرمی میں اے سی کی ٹھنڈ سے اُٹھ کر عارضی سکوں سے ابدی سکون کا سفر کرتے ہیں…
    تو ہواؤں کے سُر میں تالیاں بجاتے درختوں کے پتے اوقاتِ سحر میں رگوں میں کیسی پیاری ٹھنڈ بھر دیتے ہیں۔۔۔؟
    وہ ٹھنڈ اپنے پروردگار کے حکم پر عمل کرنے کی خوشی کی ٹھنڈک ہوتی ہے ناں۔۔۔؟
    جو دل کے دریچوں میں اُتر کر سرور و انبساط کی دولت سے مالا مال کر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
    اور فرش پر رکھی پیشانی۔۔۔۔
    سجدہ کی حالت میں نکلتی بخشش و فلاح اور رب کی رحمت و رضا کی دعائیں۔۔۔ابدی بہاروں کا سامان پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
    فاذکرونی اذکرکم واشکرولی ولا تکفرون¤
    (البقرۃ:152)۔
    پھر یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے رب کو یاد کر رہے ہوں اور وہ ہمیں یاد نہ کرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اسے بھُلا دیں اور وہ اس بات کا حساب نہ رکھتا ہو۔۔۔۔ :
    استحوذ علیھم الشیطنُ فَاَنسٰھم ذکراللّٰہ۔۔۔۔(المجادلہ:19)۔
    "شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا،اور انہیں اللّٰہ کا ذکر بھُلا دیا۔”
    کوشش کیا کیجیئے کہ آپ کی نمازوں میں خلل واقع نہ ہونے پائے۔۔۔اپنے زیرِ نگرانی لوگوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کیجیئے۔۔۔
    یہ دنیا متاعِ قلیل ہے۔۔۔اور موت بغیر اطلاع کے آنے والی حقیقت ہے۔۔۔۔
    سب مصروفیات ختم ہو جائیں گی اور پھر۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    یاد رکھیئے کہ بہت سے مسائل کا حل صرف پیشانی اور زمین کے درمیان معلق ہوتا ہے…
    اور فلاح کی بہترین رہ گزر یہ نماز ہے،اسے فارغ رہ کر بھی،وقت پاکر بھی غفلت،سستی اور بہانوں کی نذر نہ کیا کیجیئے…
    یہ روح کا سکون اور اطمینان ہے…
    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ ہے کہ جب اپنے غم و پریشانی کا حال کھول کر رکھ دیا جائے…
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے رب کی بندگی کا حق ادا کریں تاکہ روزِ محشر ہمارا شمار ان خوش نصیبوں میں ہو،جن کے بارے میں اعلان ہو۔۔۔
    "اے میرے بندو !!!
    آج تم پر کوئی خوف و ہراس ہے نہ تم غمناک ہو گے۔
    جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے،اور تھے بھی(فرمانبردار)مسلمان۔
    تم اور تمہاری بیویاں،خوشی و راضی جنت میں داخل ہو جاؤ۔۔۔”(الزخرف :68،69،70)۔
    آمین ثم آمین۔
    {جویریات ادبیات}۔
    ==============================

  • راجہ ریپسٹار کا  کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    راجہ ریپسٹار کا کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار کا کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار نے کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز کر دیا پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار تحریک آزادی جموں و کشمیر پر اپنے ترانوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مقبول ہیں

    اور مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ بھارتی قابض فوج کے سامنے سینہ تان کر انکے گائے ہوئے ترانوں کے ذریعے دشمن کو للکارتا ہے، راجہ ریپسٹار نے اپنا نیا ترانہ تحریک آزادی جموں و کشمیر "فریڈم” ریلیز کر دیا-

    راجہ ریپسٹار نے اپنے "FREEDOM” کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترانے کا عنوان "فریڈم” کشمیری نوجوانوں کی فرمائش پر رکھا گیا ہے، جس میں کشمیری نوجوانوں کے جذ بات اور ان پر قابض بھارتی فوج کے مظالم دنیا کو دکھائے گئے ہیں

    راجہ ریپسٹار کا کہنا تھا کہ ترانہ ریلیز کر دیا گیا ہے، تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس ترانے کو بھرپور شیئر کریں تاکے ہمارے مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز بہری دنیا کو سنائی دے،
    https://youtu.be/X-If5b42IHA

    راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    "راجہ ریپسٹار” کا پہلا رمضان کلام "رحمت کا مہینہ” ریلیز

    یومِ تکبیر پر "راجہ ریپسٹار” کا ترانہ "یومِ تکبیر” ریلیز کر دیا گیا

  • دو چھوٹے بچوں نے ماہرہ خان کا دل جیت لیا

    دو چھوٹے بچوں نے ماہرہ خان کا دل جیت لیا

    بالی وڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان اور پاکستان کی صف اول کی نامور اداکار ماہرہ خان کی فلم رئیس کا گانا ظالما کی نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دو ننھے بچے مذکورہ گانے کو خوبصورت انداز میں گا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان اور پاکستانی ادکارہ ماہرہ خان کی فلم رئیس کا گانا ظالما کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے ویڈیو میں دو بچے ظالما گانا اتنی خوبصورتی سے گا رہے ہیں کہ ان کے گانا گانے کے انداز نے جہاں شاہ رخ اور ماہرہ کے مداحوں کے دل جیتے وہیں ماہرہ خان کا بھی دل جیت لیا-

    ویڈیو میں گانا گاتے بچوں کو اتنے اچھے سُروں اور سریلی آواز میں گانا گاتے دیکھ کر سب حیران ہیں اور بچوں کے انداز اور آواز کو سراہ رہے ہیں-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شاہ رخ خان کے مداح اشوک بشنوئی نے ان بچوں کی ویڈیو شئیر کی جو دیکھتے ہی وائرل ہو گئی اس ویڈیو کو اب تک کئی صارفین لایئک کر چکے ہیں اور بچوں کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے سراہ رہے ہیں اشوک بشنوئی صارف نے یہ ویڈیو شاہ رخان، ماہرہ خان،ہرش دیپ کور اور راہول ڈھولاکیا کو بھی ٹیگ کیا-


    دوسسری جانب ماہرہ خان نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس ویڈیو پر راپنا ردعمل دیتے ہوئے ننھے بچوں کی تعریف کی لکھا کہ کاش میں ان لڑکوں کے ساتھ گانا گاسکوں! وہ حیرت انگیز ہیں .. واہ!

    ماہرہ خان کا معروف قوال امجد صابری کو خراج عقیدت

  • معروف فیشن میگزین کی 153 سالہ تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون اعلی عہدے پر فائز

    معروف فیشن میگزین کی 153 سالہ تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون اعلی عہدے پر فائز

    ملٹی نیشنل معروف فیشن میگزین ہارپر بازار نے اپنی 153 سالہ تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون کو ایڈیٹر ان چیف کے عہدے پر تعینات کردیا۔

    باغی ٹی وی :1867میں ہارپر بازار امریکہ سے شروع ہونے والے ملٹی نیشنل فیشن میگزین کے اس وقت برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے الگ الگ ایڈیشن نکلتے ہیں جب کہ اس میگزین کو انگریزی اور عربی زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی شائع کیا جاتا ہے-

    یہ میگزین ہرسٹ کمیونی کیشن کمپنی کی ملکیت ہے جو کہ متعدد اخبارات میگزین اور ٹی وی چینلز کی شریک کمپنی ہے اس کمپنی کے والٹ ڈزنی سمیت اسپورٹس کے معروف چینل ای ایس پی این میں بھی شیئر ہیں۔

    ہارپر بازار میگزین کی کمپنی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نئی ایڈیٹر ان چیف کا ویڈیو پیغام جاری کیا گیا، جس میں سیاہ فام ایڈیٹر نے اپنا تعارف بھی کرایا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا-
    https://www.instagram.com/tv/CBOvZ5HBVtU/?igshid=r4k71sr8j1c8
    ہارپر بازار کے مطابق سمیرا نصر آئندہ ماہ 6 جولائی سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

    دوسری جانب سمیرا نصر نے بھی اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر یہ ویڈیو پیغام شئیر کیا-
    https://www.instagram.com/tv/CBOk_XhA3LT/?igshid=1fvi1tt8jmn29
    ہارپر بازار نے لبنانی نژاد امریکی خاتون سمیرا نصر کو اعلی ترین عہدے پر تعینات کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی معروف فیشن میگزینز کے اعلی عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں تاہم وہ پہلی بار اعلی ترین عہدے پر خدمات سر انجام دیں گی ان کی ہارپر بازار میں ایڈیٹر ان چیف کی تقرری پر کئی اہم شخصیات نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارک باد بھی دی۔

    سمیرا نصر ہارپر بازار کی ایڈیٹر ان چیف مقرر ہونے سے قبل معروف میگزین وینٹی فیئر میں فیشن ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں جب کہ وہ ان اسٹائل ایلے اور ووگ سمیت دیگر فیشن میگزینز میں بھی فیشن و کلچر ایڈیٹر کے اعلی عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔
    سمیرا نصر کی اعلی ترین عہدے پرتعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور دنیا بھرمیں لوگ سیاہ فام افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرہ گزشتہ ماہ 25 مئی کو اس وقت شروع ہوئے جب کہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر مینیا ایپلس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت ہوئی-

    دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا انجلینا جولی

    سیاہ فاموں، فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والےدرد ناک مظالم دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے نیلم منیر

    نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ چیز ہے حمزہ علی عباسی