Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ماہیما چوہدری نے اپنے کیرئیر کے زوال کی وجہ بتادی

    ماہیما چوہدری نے اپنے کیرئیر کے زوال کی وجہ بتادی

    ماہیما چوہدری نے اپنی زندگی میں ہونے والے حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس حادثے نے ان کے کیریئر کو بہت نقصان پہنچایا۔ حادثے کے وقت انہیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ اب وہ زندہ نہیں بچیں گی جس وقت حادثہ ہوا اس دوران ان کے پاس کئی فلمیں تھیں لیکن انہیں ان تمام فلموں سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    باغی ٹی وی : 1997 میں بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ اپنی پہلی ہی فلم’پردیس‘ سےکروڑوں لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والی بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ماہیما چوہدری ماضی میں نہایت خوفناک حادثے کاشکار ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے چہرے پر گہرے زخم آئے تھے وہ موت کے منہ سے واپس آئیں تھیں بلکہ اس حادثے نے ان کے کیریئرکو بھی ختم کردیا تھا۔

    حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ماہیما چوہدری نے اپنی زندگی کےخوفناک حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا میں اجے دیوگن اور کاجول کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’دل کیاکرے‘ میں کام کررہی تھی اور بنگلورو میں فلم کی شوٹنگ کے لیے اسٹوڈیو جاتے ہوئے اچانک ایک تیزرفتار ٹرک نے میری کار کو ٹکر ماری اور گاڑی میں سامنے لگاہوا شیشہ ٹوٹ کر میرے چہرے پر لگا۔

    ماہیما چوہدری نےبتایا کہ اس وقت مجھے لگا میں مرجاؤں گی کسی نے بھی ہسپتال پہنچانے میں میری مدد نہیں کی اور مجھےبہت دیر بعد اسپتال پہنچایا گیا-

    اداکارہ نے بتایا کہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے چہرے پر بہت گہرے زخم آئےتھے سرجری کے دوران ڈاکٹرز نے ان کے چہرے سے شیشے کے 67 ٹکڑے نکالے ماہیما نے کہا وہ آج بھی اس خوفناک حادثے کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا اس حادثے کی وجہ سے ان کے چہرے پر کئی ٹانکیں آئے، انہیں گھر میں رہنا پڑا سورج کی روشنی سے بچنے کے لیے تاکہ چہرے پر زخموں کے نشانات باقی نہ رہیں میرے کمرے کو مکمل طور پر سیاہ کردیا گیا تھا۔ میں خود کو نہیں دیکھتی تھی میرے کمرے کوئی آئینہ نہیں تھا۔

    ماہیما چوہدری نے بتایا کہ اس حادثے نے ان کے کیریئر کو بہت نقصان پہنچایا۔ جس وقت حادثہ ہوا اس دوران ان کے پاس کئی فلمیں تھیں لیکن انہیں ان تمام فلموں سے ہاتھ دھونا پڑا

    بالی وڈ اداکارہ نے بتایا کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگوں کو میرے ساتھ ہوئے حادثے کے بارے میں پتہ چلے اگر میں اس وقت لوگوں کو اپنے ساتھ ہوئے حادثے کے بارے میں بتاتی تو وہ کہتے اوہ اس کا تو چہرہ خراب ہوگیا اب کسی اور کو فلموں میں سائن کرلو۔

    ماہیما نے بتایا کہ جب آہستہ آہستہ ان کی خوداعتمادی بحال ہوئی تو اکشے کمار نے انہیں ’دھڑکن‘ فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی جس کے بعد وہ مختلف فلموں میں مختصر کرداروں میں نظر آنے لگیں۔ تاہم حادثے کی وجہ سے ماہیما چوہدری کئی برسوں سے کسی فلم میں نظر نہیں آئیں لیکن اب انہوں نے شوبز میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے اور وہ بالی ووڈ فلم ’تمہاری سلو‘ میں ودیا بالن کی طرح کا کردار اداکرنے کی خواہشمند ہیں۔

    ریتک روشن اور کترینہ کیف بھارت میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر پر

  • شیری رحمان قتل سے قبل تم نے بی بی کو گاڑی میں کھڑے ہونے کا کہا تھا ، سینتھیا کا شیری پر بڑا الزام

    شیری رحمان قتل سے قبل تم نے بی بی کو گاڑی میں کھڑے ہونے کا کہا تھا ، سینتھیا کا شیری پر بڑا الزام

    امریکی سیاح خاتون سنتھیا رچی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شیری رحمان قتل سے قبل تم نے ہی بی بی کو گاڑی میں کھڑے ہونے کا کہا تھا-

    باغی ٹی وی : ستھیا رچی نے پی پی پی کے سینئیر رہنما رحمن ملک کے بعد اب پاکستان پیپلز پارٹی کی سئینئر رہنما سینیٹر شیری رہنما پر بھی ایک بڑا الزام عائد کر دیا- امریکی سیاح خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پی پی پی اسے جاری رکھیں –


    سنتھیا نے شیری رحمن کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ شیری رحمن مجھے کچھ حیرت انگیز دستاویزات ملی ہیں جن پر میں آپ کے تبصروں کو پسند کروں گی-

    سنتھیا نے شیری رحمن سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اور کیا بی بی نے بلیک واٹر سے اضافی تحفظ کے لئے کہا تھا؟

    امریکی خاتون نے مزید کیہا کہ اس کے علاوہ ، کیا آپ اس کی تصدیق کرسکتی ہیں کہ آپ نے بی بی بے نظیر بھٹو سے ان کے قتل سے قبل گاڑی میں کھڑے ہونے کو کہا تھا؟

    واضح رہے کہ سنتھیا اور پی پئی پی کے رہنماؤں کے درمیان اس مسئلہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سنتھیا نے گذشتہ 48 گھنٹوں سے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز پر اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ بی بی (بینظیر) اس وقت کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر انھیں دھوکہ دیتے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین "جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے” کی عصمت دری کرواتی تھیں۔

    اپنی ٹویٹ میں سنتھیا کا مزید کہنا تھا کہ خواتین عصمت دری کے ایسے کلچر کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کبھی مردوں کو جوابدہ نہیں کیا جاتا؟ انصاف کا نظام کہاں ہے

    سنتھیا کی ٹویٹ کے بعد پیپلز پارٹی رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے میں درخواست بھی جمع کروا دی تھی-

    اپنے خلاف ایف آئی اے کو دی گئی درخواست پر ردِعمل دیتے ہوئے سنتھیا نے ٹویٹر پر کہا تھا کہ برائے مہربانی پی پی پی کے نام نہاد جمہوریت پسند لوگوں کی طرف سے مجھے دی جانی والی موت کی دھمکیوں پر بھی کارروائی کی جائے-

    پی پی پی کارکنان و قیادت کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں علاوہ ازیں سنتھیا نے پی پی پی کے سنئیر رہنما رحمن ملک پر ریپ کے الزامات کے بھی الزامات لگائے جن کی سینیٹر رحمن ملک کے ترجمان نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے خلاف پراپیگنڈہ ہے سنتھیا کسی کے کہنے پر سب کر رہی ہے ترجمان نے مزید کہا تھا کہ رحمٰن ملک نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور عزت کے لیے آواز اٹھائی ہے اور وہ ایسا کرتے رہیں گے۔ترجمان نے نشاندہی کی کہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رحمٰن ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین کی حیثیت سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف سنتھیا رچی کے ٹوئٹ کا نوٹس لیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رحمٰن ملک کے بیٹوں نے آزادانہ طور پر سنتھیا رچی کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق اپنے وکلا سے رابطہ کیا ہے۔

    رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے الزامات جھوٹے قرار دے دیئے

    امریکی خاتون سنتھیا کے رحمان ملک پر ریپ کے الزامات ، رحمان ملک کے بیٹوں نے بڑا اعلان کر دیا

  • واحد وزیراعظم ہے جو پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر بے عزت ہوا اب کم کر کے بھی بے عزت ہی ہو رہا، ریحام خان

    واحد وزیراعظم ہے جو پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر بے عزت ہوا اب کم کر کے بھی بے عزت ہی ہو رہا، ریحام خان

    وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا کہنا ہے کہ عمران خان واحد وزیراعظم ہے جو پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر بے عزت ہوتا تھا اب کم کر کے بھی بے عزت ہی ہو رہا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان جائیں تو جائیں کہاں وہ عوام کے لئے کوئی بھی کام کر لیں کسی چیز کی قیمت بڑھا دیں یا ریلیف دے دیں عوام کی طرف سے داد و تحسین ملنے کی بجائے انہیں اُلٹا تنقید کا سامنا کر نا پڑتا ہے-


    اسی حوالے سے ریحام خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ہمارا کپتان وہ واحد وزیراعظم ہے جو پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر بے عزت ہوتا تھا اور اب کم کر کے بھی بے عزت ہی ہو رہا ہے ۔

    پاکستان کے عوام کو اول تو پہلے حکومت کی جانب سے کوئی سکھ کا سانس اور ریلیف ملتا ہی نہیں‌اگر کہیں کوئی آسانی اور سہولت غلطی سے مل بھی جائے تو اس سہولت اور ریلیف کو عوام الناس تک پہنچنے ہی نہیں‌ دیا جاتا.

    یاد رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم نے پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جس پر جہاں عوام خوش ہوئی وہیں پٹرول بیچنے والی کمپنیاں ناراض ہو گئیں اور پٹرول نایا ب ہو گیا جس پر عوام کو پریشانی کا سامنا ہے عوام کو تیل مل ہی نہیں رہا اور جہاں مل رہا ہے وہاں پر مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ پٹرول پچاسی یا نوے یا سو روپے لیٹر تک بھی فروخت کیا جارہا ہے اس کے باوجود بھی عوام کو پیٹرول کے حصول کے لیے انہیں کئی کئی گھنٹوں دھکے کھانا پڑتے .ہیں.

    پٹرول کہیں مہنگا تو کہیں نایاب، بحران پر لاہوری پھٹ پڑے باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

  • مارگلہ ہلز دیکھ کر مایوس ہو جاتی ہوں  مہوش حیات

    مارگلہ ہلز دیکھ کر مایوس ہو جاتی ہوں مہوش حیات

    اداکارہ مہوش حیات نے اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں پر گندگی دیکھ کر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ پاکستان کی وہ تصویر ہے جو ہم آنے والے سیاحوں کو دکھانا چاہتے ہیں؟

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مہوش حیات نے پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا کے بانی عمران غزالی کا ٹوئٹ شیئر کیا جس میں وہ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں پر ماحولیاتی آلودگی سے عوام کو آگاہ کرتے نظر آرہے ہیں۔


    عمران غزالی کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مارگلہ پر جگہ جگہ پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور دیگر کھانے کی اشیاء کے ریپر موجود ہیں۔

    عمان غزالی نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میری اسلام آباد کے تمام رہائشیوں سے گزارش ہے جو بھی مارگلہ ہلز ٹریل پر جاتے ہیں وہ ماحول میں آلودگی مت پھیلائیں۔ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کے لوگوں نے یہاں پلاسٹک کی بوتلیں اور پلاسٹک بیگز پھینکے ہوئے ہیں، یہ ایک خوبصورت ماحول کے ساتھ بہت بڑی ذیادتی ہے۔

    مہوش حیات نے عمران غزالی کا ٹویٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے مارگلہ پہاڑیوں پر جانا بہت پسند ہے لیکن میں ہمیشہ وہاں موجود گندگی اور کوڑے کو دیکھ کر مایوس ہوجاتی ہوں۔

    اداکارہ نے کہا کہ مجھے اسلام آباد کے عوام سے اُمید تھی کہ وہ قدرت کے ان حسین مناظر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اپنا ایک اہم کردار ادا کریں گے۔

    اُنہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پاکستان آنے والے سیاحوں کو یہ دکھائیں گے؟

    با لی وڈ فلم انڈسٹری اپنے کام سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے مہوش حیات

  • عائزہ خان کی انسٹا گرام پر بڑی کامیابی

    عائزہ خان کی انسٹا گرام پر بڑی کامیابی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائزہ خان نے انسٹاگرام پر 6 ملین فالوورز کے ساتھ انسٹاگرام پر ایمن خان اور ماہرہ خان کے بعد تیسری مقبول اداکارہ بن گئیں۔

    باغی ٹی وی : جیو انٹر ٹینمنٹ کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’مہر پوش‘ میں ’مہرو‘ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ عائزہ خان کے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر 6 ملین یعنی 60 لاکھ فالوورز ہوگئے ہیں۔اس حوالے سے عائزہ خان نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں اُنہوں نے اپنی انسٹاگرام پروفائل کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CBOESNzh-ME/?igshid=4x5250lfaxky
    عائزہ خان نے اپنی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انسٹاگرام پر 6 ملین فالوورز ہونا میرے لیے ایک خواب تھا۔

    اداکارہ نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں آج جس مقام پر ہوں صرف آپ سب کی محبت اور پیار کی وجہ سے ہوں۔

    یاد رہے کہ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی پاکستانی اداکاراؤں میں ایمن خان پہلے نمبرپر ہیں، ماہرہ خان دوسرے نمبر پر جبکہ سجل علی چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل ایمن خان انسٹاگرام پر 6 اعشاریہ 3 ملین یعنی 63 لاکھ فالوورز کے ساتھ پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی اداکارہ ہیں-

    انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والے اداکاراؤں میں اداکارہ ماہرہ خان کا دوسرا نمبر ہے جنہیں اس وقت انسٹاگرام پر 6 اعشاریہ 1ملین یعنی 61 لاکھ پرستار فالو کررہے ہیں۔

    جبکہ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والے اداکاراؤں میں اداکارہسجل علی کا تیسرا نمبر ہے جن کے انسٹاگرام پر 5 اعشاریہ 8 ملین یعنی 58 لاکھ فالوورز ہیں۔

  • ریتک روشن اور کترینہ کیف بھارت میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر پر

    ریتک روشن اور کترینہ کیف بھارت میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر پر

    بالی وڈ کے’ڈانسر کنگ‘ اداکار ہریتھیک روشن اور’باربی ڈول‘ کے نام سے مشہور بھارتی اداکارہ کترینہ کیف کا نام سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہریتھیک روشن دو فلاپ فلموں کے باوجود سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیت ہیں جبکہ کترینہ کیف اداکاراؤں میں مسلسل دوسرے سال بھی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی ہیروئن بن گئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق رواں سال بھارت میں ایک سروے کیا گیا جس میں لوگوں سے اُن کی پسندیدہ ہیروئن اور ہیرو کے بارے میں رائے لی گئی، سروے میں تقریباً 30 لاکھ افراد نے حصہ لیا۔

    سروے کے مطابق ہریتھیک روشن کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیت بالی وڈ سلطان اوردبنگ اداکار سلمان خان کی رہی جبکہ ان کے بعد بالترتیب رنبیر کپور، شاہد کپور، اکشے کمار، ارجن رامپال، عمران خان اور سیف علی خان کا نمبر آتا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی اداکاراؤں میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اداکارہ کترینہ کیف کے بعد دوسرے نمبر کی شخصیت ایشوریہ رائے بچن کی رہی جس کے بعد بالترتیب پریانکا چوپڑا، دپیکا پڈوکون، کرینہ کپور، انجنیلا ڈی سوزا، سونم کپور، بپاشا باسو، کونکنا سین اور نیکول فاریہ کا نمبر آتا ہے-

    واضح رہے کہ ان شخصیات کو سب سے زیادہ پسند کی جانے والی پچاس شخصیات میں سے ٹاپ ٹین چنا گیا ہے۔

    زرین خان اپنی ننھیال کا آبائی علاقہ وادی سوات دیکھنے کی خواہش مند

  • حنا الطاف اور علی انصاری جلد ہی جیو کے نئے ڈرامے میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے

    حنا الطاف اور علی انصاری جلد ہی جیو کے نئے ڈرامے میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے

    پاکستان کے معروف اداکار علی انصاری اور حال ہی میں لاک ڈاؤن کے دوران اداکار و گلوکار آغا علی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بنگھنے والی نامور اداکارہ حنا الطاف جلد ہی جیو کے ڈرامے کاسۂ دل میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے-

    باغی ٹی وی :اداکار علی انصاری اداکارہ حنا الطاف جلد ہی جیو کے ڈرامے کاسۂ دل میں ایک ساتھ سیونتھ اسکائی اور جیو کے ڈرامے کاسۂ دل میں جلوہ گر ہوں گے-

    نئی نسل کے پسندیدہ دونوں اسٹارز ان دنوں شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اداکار علی انصاری نے پانچ برس کے مختصرعرصے میں ٹیلی ویژن اسکرین پر جو کردار کیا اسے یادگار بنادیا۔ ان کے کامیاب ڈراموں میں خانی، ڈر خدا سے، محبت نہ کریو ، کم ظرف، بابا جانی، سیرت اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔

    علی انصاری نے شوبز کی چمکیلی دنیا کی تمام باصلاحیت اداکاراؤں کے ساتھ کا کیا ہے انہیں مدیحہ امام، کنزہ ہاشمی، ثنا جاوید، صبور علی، نمرا خان، حرا مانی، نیلم منیر، سارہ خان، مریم نفیس اور نور خان کے ساتھ بہت پسند کیا گیا اور اب وہ حنا الطاف کے ساتھ نظر آئیں گےاب دیکھنا یہ ہے کہ حنا الطاف کے ساتھ ان کی جوڑی کو مداحوں کی طرف سے کیسا رد عمل ملتا ہے-

    ڈرامے کے حوالے سے اداکار علی انصاری نے بتایا کہ میرا نیا ڈرامہ رومانس اور روٹھنے منانے کے ساتھ مزاح سے بھرپور ہوگا۔

    اداکار نے کہا کہ اُمید ہے جس طرح مداحوں نے آج تک مجھے اور میرے کام کو سراہا ہے اس ڈرامے کو بھی پسند کریں گے اور لطف اندوز ہوں گے-

    مذکورہ ڈرامے کو عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی تیار کر رہے ہیں ، جہانزیب قمر نے تحریر کیا ہے اور ذیشان احمد نے ہدایات دی ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

  • اداکارہ سکینہ سمو نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا

    اداکارہ سکینہ سمو نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئیر اداکارہ و ہدایتکارہ سکینہ سمو نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئیر اداکارہ و ہدایتکارہ سکینہ سمو نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا ہے گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر سکینہ سمو کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبریں زیر گردش ہیں جن کی سوشل میڈیا پر اداکارہ نے تدرید بھی کی تھی اب اُنہوں نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا ہےجس کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے کہ اُنہوں نے جھوٹی خبروں سے تنگ آکر اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کیا ہے یا پھر اس کی وجہ کچھ اور ہے۔

    سکینہ سمو نے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے قبل اپنے ایک ٹویٹ میں صارفین سے درخواست کی تھی کہ سوشل میڈیا پر کورونا کے حوالے سے کوئی بھی خبر انہیں ٹیگ نہ کریں۔انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ لوگ مجھ سے متعلق کورونا وائرس کی جھوٹی خبریں مجھے ٹیگ کرنے سے تھکے نہیں ہیں؟

    سکینہ سمو کا کہنا تھا کہ وہ ان خبروں سے تھک چکی ہیں۔

    اس کے قبل انہوں نے ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں سکینہ سمو نے صحافی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ کل سے ایک نام نہاد صحافی مجھے سارا دن فون کالز کرتا رہا کیونکہ وہ مجھ سے میری صحت کے متعلق جاننا چاہتا تھا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اس صحافی کی کال لینے اور اس کو جواب دینے سے انکار کردیا کیونکہ میں اپنی صحت کے حوالے سے کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہوں۔

    اداکارہ نے بتایا تھا کہ بار بار فون کالز کرنے پر میں نے اُس صحافی کا فون نمبر واٹس ایپ پر بلاک کردیا اور یہ ہوا یعنی جب میں نے اُس صحافی کو جواب دینے سے انکار کردیا تو اُس نے میرے بارے میں یہ جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر پھیلا دی کہ انہیں کورونا ہے اور وہ کورونا کے باعث انتقال کرگئیں ہیں-

    کورونا وائرس : سکینہ سمو کی اپنی صحت کے حوالے سے خبروں کی تردید

    پاکستان کی دو سینئیر اداکارائیں کورونا وائرس کا شکار

  • آخری کھلاڑی کے لیے تالی    تحریر:فلک شیر چیمہ

    آخری کھلاڑی کے لیے تالی تحریر:فلک شیر چیمہ

    ٭٭٭آخری کھلاڑی کے لیے تالی٭٭٭

    زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں !

    آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔

    قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ڈویژن سطح کے مقابلہ جات میں مختلف انعامات جیت چکا تھا اور اب سلیم صاحب نے بھی اپنے سکول کی طرف سے مقابلے کے لیے مجھے بھیجا۔ان دنوں عجیب بات تھی، کہ ایک دو بندوں سے بات کرنا مجھے قیامت ہوتی تھی ، لیکن مجمع سینکڑوں سے ہزاروں میں بڑھتا ، تو اعتماد ، گلا اور بدن مثل ربڑ کے کھلتا تھا بحمدہ تعالیٰ۔اچھی بات یہ تھی کہ اس دن ہال میں سینکڑوں بچے، اساتذہ اور دیگر مردوزن جمع تھے ۔

    پہلے ملی نغموں کے مقابلے ہوئے ، ایک نہم دہم ہی کی لڑکی نے ، جو شاید حافظ آباد ہی کے کسی پرائیویٹ سکول سے تھی، غالباً "اے جذبہ دل گر تو چاہے ” پڑھا۔ بہزاد لکھنوی کی یہ غزل عجیب چیز ہے ، کسی پہنچے ہوئےے بندے نے راجا عزیز بھٹی شہید ؒ پہ بننے والے پی ٹی وی ڈرامے میں یہ شامل کی ہے ، بس یہ محسوس کرنے کی چیز ہے اور بیت جانے کی بات ۔ سب نغمے سننے کے بعد مجھے لگا ، کہ اول انعام اسی لڑکی کو ملے گا ۔ خیر جب تقاریر کی باری آئی ، تو مجھے تقریباً آخری تین چار مقرروں میں بلایا گیا ، جیسا اللہ کو منظور تھا، میں بولا ۔جب تقریر مکمل کر کے میں وسیع سٹیج سے نیچے اترا، تو پورا ہال ضرور کھرا ہو گیا ، ظاہر ہے مجھے اچھا لگا اور امید بھی کہ اپنے ادارے اور خاص طور پہ سلیم صاحب کے لیے عزت کا سامان کروں گا ، سلیم صاحب کی شخصیت میں ایسی ہی کشش تھی، کہ یہ خواہش میرے اندر پیدا ہوئی تھی ۔ میری تقریر کے بعد باقی کے دو مقرر بھی بولے ، میں اتنی دیر میں ہال سے نکل کر لاشعوری سے انداز میں ہال کی عقبی اوپری بالکونی میں چلا گیا ، وہاں پہنچا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ، شاید نتائج کے انتظار میں جو ذہنی دباؤ تھا، اسے کم کرنے کے لیے ۔مجھے اپنی تقریر کے ہنگام سامعین اور سٹیج پہ بیٹھے مقامی سیاست دان مہدی بھٹی اور ان کے اردگرد منصفین و منتظمین کے ردعمل اور دیگر مقررین کی تقاریر کے تقابلی تجزیہ سے کچھ نہ کچھ اندازہ تھا، کہ مجھے وکٹری سٹینڈ پہ اول پوزیشن مل ہی جائے گی بتوفیق الٰہی ۔

    اب وقت ہوا نتائج کے اعلان کا ، تو ملی نغموں میں غالباً وہی لڑکی اول آئی ، انعام لے کر وہ اور اس کے سکول فیلوز اپنے ایک دو استاد کے ساتھ وہیں ہال کی پچھلی سیڑھیوں پہ کھڑے ہو گئے ۔ جب تقاریر کے انعامات کا اعلان ہوا، تو سوم کے بعد دوم کا بھی اعلان ہو گیا ، مجھے یقین ہو گیا کہ پہلی پوزیشن مجھے ہی ملے گی ، خون سارا سر کی طرف اور پسینہ پاؤں کی طرف رواں دواں تھا ، کہ اچانک پہلی پوزیشن کے لیے بھی کسی اور بچے کے نام کا اعلان ہو گیا ۔ مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔

    بس پھر، گھر، ماں اور مزعومہ کامیابی سے دور بچہ بے اختیار رونے لگا. 🙂

    ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ حیران کھڑے تھے اور وہ نغمے والی لڑکی رو رہی تھی ۔ میں خستہ و خجالت زدہ ہارے ہوئے جواری کی طرح باہر کی طرف نکلنےلگا ، کہ ہال میں بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور شور مچانے لگے کہ فلاں فلاں لڑکے کی تقریر سب سے اچھی تھی اور اس کی کوئی پوزیشن نہیں ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ہال کافی بڑا ہے اور ہنگامہ و حیرت بھی اتنی ہی زیادہ تھی ۔پتہ نہیں کیا ہوا، کہ سٹیج سیکرٹری نے روسٹرم سے معذرت کی اور ایک منٹ بعد دوبارہ نتائج کا اعلان کیا ، شاید انہیں سہو ہوا تھا ۔ نئے نتائج کے مطابق میری پہلی پوزیشن تھی ، انعام وصول کرتے ہوئے ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا ، اچھا لگا، شاید پہلے انعام جس طرح سے ملتا ، اس سے کافی زیادہ خوشی ہوئی ۔

    باہر نکلتے ہوئے میں نے اسی لڑکی کو زور زور سے تالیاں بجاتے اور خوش ہوتے دیکھا ، ظاہر ہے وہیں سے ، دور سے شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا ، کہ مصری شاہ محلہ متصل حافظ آباد ریلوے جنکشن ، علی گڑھ پائیلٹ سکول، جسے ابھی اپنی بقا اور قدم جمانے کے لیے ایسے کئی پر اپنے ماتھے پہ سجانے کی ضرورت تھی ، کی خدمت میں اپنی طرف سے ایک پر پیش کروں ۔

    آج بھی اپنے لیے ہال میں کھڑے ہونے والے ان نامعلوم سامعین ، آنسو اور تالی والی اس لڑکی اور استاد کہلانے کا حق رکھنے والے سلیم صاحب مجھے یاد ہیں ، جو کچھ کروانے کا گُن اور اس کے لیے لازم اپنا کردار پیش کرنے کے اہل تھے ۔ میں عمر کے جس حصے میں تھا ، وہ اس لڑکی کے کسی "اور تاثر ” والے نہ تھے ، کیونکہ یہ دن پچھلی صدی کے ختم ہونے سے تین برس قبل کےتھے ۔ یہ شاید شروع میں بیان کیے گیے جذبے کی وجہ سے یاد رہ جانے والی چیز ہے ۔

    یار! نیچے گرے ہوئے کا ہاتھ تھامنے سے بندہ زندہ رہتا ہے ، دوسروں کی دعاؤں اور یادوں میں ۔ ریس میں آخری نمبر پہ آنے والے کے لیے بھی تالی بجانا ، سادے سپاہی اور بے تمغے کے دلاور کے لیے بھی نعرہ تحسین بلند کرنا ، بندوں اور خدا کے ہاں اس کی گواہی دینا ، یہ بڑا کام ہے ۔

    خدا ان سب کو سلامت رکھے ، جنہیں اس "یاد گیری” میں اس فقیر نے یاد کیا ہے ، بہت آسانیاں اور بہت برکتیں ہوں ان سب آوازوں ، آنکھوں اور ہاتھوں کے لیے ۔

    فلک شیر چیمہ

  • اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی اور بُرائی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار…
    جس انداز میں بھی ہو اقرار…
    گر کرے نہ کوئی عمل بُرا…
    لیکن برائی کے ساتھ ہو کھڑا…
    تو ہے وہ بھی برائی کرنے جیسا…
    جو سوچ ہو،ہوتا ہے عمل ویسا…
    اچھائی کا جو رہے معاون…
    وہ اچھائی کا ہی رہے گا ضامن…
    اسی سے جاتے ہیں پرکھے کردار…
    اسی پہ بنتے ہیں عملوں کےمینار…
    اسی سے ہوتا ہے کوئی معتبر…
    کوئی ہوتا ہے زیر اور کوئی زبر…
    اصلاح و فساد بھی نہیں ہیں برابر…
    حق و باطل بھی نہیں ہیں برادر…
    علم کی راہوں پہ جلائے جو شمع…
    انسانیت کی بھلائی کی جو رکھے طمع…
    علوم و فنون کی جو رہ دکھائے…
    دنیا والوں کے لیئے دِیا اُمید کا جلائے…
    اٹھائے کانٹے راہوں سے،اور پھول سجائے…
    حُسنِ خلق کی خوشبو سے جہاں کو مہکائے…
    بھٹکائے انسانوں کو اور کرے بے راہ…
    حدوں کا ہو پاس نہ خیالِ حیاء…
    لیا جس نے سدا ہی غلط مفہومِ وفا…
    سیدھی راہ پر بنا جو رکاوٹ رہا…
    سب کا الگ ہے مقام و وقار…
    الگ الگ راہوں کے ہیں یہ سوار…
    ایک نہیں ہیں نا انصافی اور عدل…
    ہو نہیں سکتے ایک دوسرے کا بدل…
    خالق کے احکامات ہیں سب سے برتر…
    دُنیا یہ مانے یا انکار کرے یکسر…
    اسی معیار پہ تُلیں گے اعمال…
    یہی سے بنیں گے عروج و زوال…!!!
    عقائد کی بنیاد پر ہوتا ہے یہ سفر…
    کوئی تو پہنچتے ہیں ابدی منزل تک…
    اور راہوں میں بھٹکے رہ جاتے ہیں اکثر…!!!
    =============================