Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مسجد نبوی کے کھلنے پر فجر کے انتظار میں لوگ یوں بیٹھے تھے گویا پوری رات سوئے نہیں، عید سے بھی زیادہ خوشی کا اظہار

    مسجد نبوی کے کھلنے پر فجر کے انتظار میں لوگ یوں بیٹھے تھے گویا پوری رات سوئے نہیں، عید سے بھی زیادہ خوشی کا اظہار

    چین کے شہر ووہان سے دنیا بھر میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے تمام سکولز ،کالجز ، تمام قسم کی ثقافتی اجتماعی اور مذہبی سرگرمیاں ، شادی بیاہ کی تقریبات ،دینی مدارس، مساجد ،یہاں تک کہ مسجد نبوی اور خانہ کعبہ حرم پاک بھی بند کر دیئے گئے تھے کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے پیش نظر دنیا بھر میں مختلف ممالک کی حکومتوں میں لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے تمام سکولز ،کالجز ، تمام قسم کی ثقافتی اجتماعی اور مذہبی سرگرمیاں ، شادی بیاہ کی تقریبات ،دینی مدارس، مساجد ،یہاں تک کہ مسجد نبوی اور خانہ کعبہ حرم پاک بھی بند کر دیئے گئے تھے لیکن اب سعودی حکومت نے مسجد نبوی کو نمازیوں کے لئے کھول دیا ہے مسجد نبوی کے کھلنے پر فجر کے انتظار میں لوگ یوں بیٹھے تھے گویا پوری رات سوئے نہیں، لوگوں نے عید سے بھی زیادہ خوشی کا اظہار کیا-
    https://twitter.com/Mrbrary/status/1266905303179763712?s=08
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک سعودی صارف نے مسجد نبوی میں صبح فجر کی اذان کی ویڈیو شئیر کی اور لکھا کہ خدا کی قسم ، ایسا لگ رہا ہے گویا آج عید ہے ، لیکن عید کا ہی سماں ہے ، مسجد نبوی کی مسجد میں نماز کے اذان سے پہلے ایک بہت بڑا ہجوم مسجد نبوی میں جمع ہو گیا لوگوں کو مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا بے تابی انتظآر تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے لوگ اس خوشی میں پوری رات سوئے ہی نہیں

    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے صارف نے لکھا کہ اس منظر کو دیکھ کر لطف اٹھائیں ، اور اس آواز سے اپنی سماعت سے لطف اٹھائیں ، اور دعا کی کہ خدایا ، ہمیں اپنے گھروں اور ان میں موجود دعاؤں سے محروم نہ رکھو ، اور ہمیں ان کی قوم اور ان کے فن تعمیر سے ہمکنار کردے۔

    دلچسپ و انمول قرآنی معلومات،پڑھیں بھی ،اجربھی لیں

  • سی پیک ساؤتھ ایشاء کا مستقبل ہے اس کو ہم اگنور نہیں کر سکتے، مبشر لقمان کی اسرار کسانہ کے ساتھ کھری کھری باتیں

    سی پیک ساؤتھ ایشاء کا مستقبل ہے اس کو ہم اگنور نہیں کر سکتے، مبشر لقمان کی اسرار کسانہ کے ساتھ کھری کھری باتیں

    سینئیر صحافی اسرار کسانہ نے اپنے وہب چینل میں سئنییر اینکر پرسن مبشر لقمان کو مدعو کیا اور ان سے ملک کے حالات کے بارے میں سوالات کئے اسرار کسانہ نے کہا کہ مبشر لقمان نے پاکستان میں پورے کا پورا ماحول بدل دیا ہے خاص طور پر اگر جرنلزم کے حوالے سے بات کی جائے تو انہوں نے پاکستان میں ایک کلچر بدلا ہے

    باغی ٹی وی کے بارے میں سوال کرتے ہوئے اسرار احمد نے پوچھا کہ باغی چینل کو اردو اور انگلش کے علاوہ اب چائینیز زبان میں بھی شروع کر دیا ہے اور باغی کی ایڈورٹائز منٹ سرحد پار انڈیا میں بھی کی جا رہی ہیں اس ترقی کے پیچھے کا کیا راز ہے؟

    اس سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ اے آر وائی چینل کے مرحوم حاجی عبدالرزاق کہا کرتے تھے کہ رب مہربا ن تو گدھا پہلوان تو اللہ کی اگر مہربانی ہو تو ساتھ ہی ماں کی دعا بھی ہوتو پھر آدمی راکٹ بن جاتا ہے اور فائدہ ہمیں یہ ہے کہ اللہ نے چاہنے والے پیار کرنے والے بھی دیئے ہیں وہ ہر صحیح اور غلط بات مان بھی لیتے ہیں اور معاف بھی کر لیتے ہیں سپورٹ بھی کرتے ہیں

    سینئیر اینکر پرسن نے کہا کہ رمضان میں ہم نے سوشل میڈیا پر جو اسپیشل رمضان ٹرانسمیشن کی تھی وہ پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر بڑی ٹرانسمیشن تھی وہ ہم روزانہ چار گھنٹے ٹرانسمیشن کرتے تھے اور سترہ سترہ گھنٹے کام کرتے رہے ہیں

    مبشر لقمان نے کہا کہ باغی کے اس وقت 4 چینلز چل رہے ہیں یو ٹیوب پر ٹویٹر پر فیس بک پر اور اب ہم 4 سے پانچ یو ٹیوب چینل اور کھول رہے ہیں انٹرٹینمنٹ کا الگ سپہورٹس کا الگ اور اس طرح دوسرے چینل بھی-

    مبشر لقمان نے کہا کہ اللہ نے عالمی وبا کوویڈ میں ہم پر کرم کیا ہے دوران کوویڈ جب لوگ اپنا سٹاف فارغ کررہے تھے ہمیں اور اپنے چینل باغی کے لئے اور لوگ ہائر کرنے پڑے-

    سینئیر اینکر پرسن نے بتایا کہ چائینز میں ہمارا چینل لانچ ہوا ہے وہ ان آہستہ آہستہ انشاءاللہ اس پر کام آئے گا ابھی تو شروعات ہے انہوں نے کہا اس کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو چائینز آتی نہیں جو مرضی لکھ کر چلا جائے مبشر لقمان نے کہا کہ سی پیک ساؤتھ ایشاء کا مستقبل ہے اس کو ہم اگنور نہیں کر سکتے آپ کو چائنہ کی نیوز او چائنہ کو آپ کی نیوز بروقت ملے گی تبھی کاروبار ہوگا دنیا میں جہاں پر بھی کاروبار ہو گا جہاں پر بھی آمدنی ہو گی وہی ملک ترقی یافتہ کہلائے گا-

    اسرار احمد نے سوال کیا کہ باغی کا ماڈل آپ نے کیسے دیکھا کیسے کیا آپ تو مین سکرین جرنلسٹ ہیں آپ تو مین سکرین میڈیا پر آ رہے تھے؟ اس سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میں تو جرنلسٹ ہوں ہی نہیں لوگ مجھے جرنلسٹ مانتے ہی یہ تو ان کی مہربانی ہے انہوں نے کہا کہ باغی ہم نے کئی سال پہلے شروع کیا پھر درمیان میں بند ہو گیا پھر ہیک ہوگیا پھر سال پہلے دوبارہ نئی ٹیم کے ساتھ شروع کیا تو بڑی فورس کے ساتھ ہم نے کام کیا- پاکستان کے اس وقت سب سے بڑے ایڈورٹائزر ہیں کیو موبائل کے انہوں نے ہمیں سوشل میڈیا پراسپانسر کیا-

    پاکستان میں ‌کرونا کے وار جاری، دو اینکر پرسن بھی کرونا کا بنے نشانہ


    مبشر لقمان نے بتایا کہ انڈیا کے ایک بہت بڑے ایڈوائزر ہیں ویڈیو کون ان کے ساتھ پچھلے ہفتے میں نے ڈیل سائن کی ہے ان کو بتایا کہ ہم اپنا کونٹینٹ نہیں بدلیں گے ہم تو مودی کو بُرا بھلا کہتے ہیں گالیاں دیتے ہیں ہم کشمیر کے لئے بولتے رہیں گے جس دن آپ کا دل کرے اُس دن آپ بے شک نہ کریں اس بات پر ان لوگوں نے کہا کچھ ہاتھ ہلکا ہو سکتا ہے تو میں نے کہا نہیں ہو سکتا جو کرنا کر لیں اور عمر کے اس حصے میں آکر ہم نے کیا بدلنا ہے اور ہم مسلمان ہیں اور اس پر ہمیں فخر ہے اللہ کے جو سب کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں خاتم الانبیاء ہیں ہم ان کے ہیروکار ہیں ماننے والے ہیں

    سی پیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں سی پیک سلو ڈاؤن ہو گیا ہے ان سے پوچیں سی پیک ہے کیا اور بتاؤ کب ہوا تھا اور کہا ہوا تھا سلو ڈاؤن ہے کیا انہوں نے کہا سلو ڈاؤن ہوتا ہے تو ہوتا رہے ہمیں تو جو پیسے آنے تھے آ رہے ہیں جو ہمارے لئے فائدے کی چیز ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا یہ بات بھی ہے کہ سلو ڈاؤن ہوا تھا درمیان میں ضرورو ہوا تھا کیونکہ اتنے پرابلمز ہو رہے تھے افغانستان کے ذریعے دہشت گردی ہو رہی تھی پاکستان میں یا انڈا کی بلوچستان کے ذریعے ہو رہی تھی اور وہ سی پیک کو ہٹ کر ریے تھے بار بار اور آپریشن ردالفساد ہوا ہے پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کو پکڑ پکڑ کر مارا ہے اور جو رہ گئے تھے ان کو بھی اپنے ملک افغنستان بھیج دیا ہے اور بلوچستان کے اندر نیٹ ورک جو کلبھوشن یادو کے ساتھ شروع ہوا تھا اس کو انہوں نے مکمل ختم کر دیا-

    طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کئے اچھے برے جیسے مرضی اس میں انڈیا ان سے آؤٹ ہو گیا ٹوٹل تو اس طرح ان کے کتنے بھی ٹریننگ سینٹر تھے افغانستان کے اندر را کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے کے وہ سارے کے سارے بند کرنے پڑے

    امریکا اپنے انجام کی طرف رواں دوان : مظاہروں میں شدت، 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ،حالات پھربھی بے قابو


    سینئیر اینکر پرسن نے کہا کہ انڈیا کو تو بہت زیادہ مار پر رہی ہے اس وقت مبشر لقمان کے مطابق انڈیا کی تو کوئی ساڑھ ستی چل رہی ہے نصیب ہی خراب ہیں بیچاروں کے مبشر لقمان نے کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ مروا رہا ہے امریکہ کو پوری دنیا میں اس طرح مودی بھارت کو مروا رہا ہے اور نیتن یاہو اسرائیل کو مروا دے گا –

    میجر گورو جتنے پیسے بالی وڈ فلمز پر لگائے اسکا کچھ حصہ عوام پر لگاتے تو اکثر گھروں میں ٹوائلٹ ہوتے۔ وینا ملک


    اسرار احمد نے کہا کہ ہمارے میڈیا سے ہمارے لوگ سیٹسفائیڈ نہیں ہو رہے کہ اس کی کوئی ڈائریکش نہیں انہوں نے مولانا طارق جمیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیسے انہیں چھوٹی سے بات پر معافی منگوائی تو ہمارا میڈیا کیا آپ سیٹسفائیڈ ہیں اپنے میڈیا سے؟

    مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ نہیں بالکل نہیں انہو‌ں نے کہا کہ ہمارا میڈیا تو بہت سارے لوگوں کے کاروباروں کو بچانے کے لئے ہے وی جو مرضی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ہر ایک پر خرچ کر رہا ہے سوائے اپنے اوپر انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کم سوشل میڈیا وہاں ک آؤٹ لیٹس ہے وہاں نیویارک ٹوئم میوں بک رہا ہے وہاں سی این این کیوں چل رہا ہے وہاں فوکس نیوز کیوں چل رہا ہے اس کی کیوں ویور شپ کیوں نہیں ڈاؤن ہو رہی کیونکہ وہ اپنے لوگوں کے اوپر بھی انویسٹ کر رہے ہیں اپنی ریسرچ کے اوپر بھی انویسٹ کر رہے ہیں اپنی ٹریننگ کے اوپر بھی انویسٹ کر رہے ہیں اور اپنی کونٹیننٹ لۃکس کے اوپر بھی انویسٹ کر رہے ہیں

    طیارہ حادثہ ، جاں بحق ہونے والے 97 مسافروں میں سے 74 میتیں ورثا کے حوالے،اکثرلواحقین میں امدادی رقم بھی تقسیم کردی گئی


    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے یہاں ایک پھٹا جہاز گر گیا تو سارے آدمی وہی پھٹا چلانا شروع ہو جاتے ہیں کہ جہازگر گیا اس کے بعد حالات دیکھیں کہ کریٹیویٹی کیا ہے آپ کے میڈیا کی کہ پتہ چل گیا یہ پائلٹ یہ ائیرہوسٹس ہے تو اس کے گھر میں جا کر بیٹھے ہوتے ہیں پائلٹ کے والد سے پوچھ رہے ہوتے ہیں ابھی تک اس نے اپنے بیٹے کی لاش نہیں دیکھی ہوتی کیا یہ کوئی عقل میں آنے والی بات اور سوال ہے کیا پوچھنا آپ نے اس آدمی سے آپ جب تک میڈیا پر انویسٹ نہیں کریں کی ریسرچ ڈویلپمنٹ پر انویسٹ نہیں کریں گے اپنی پروڈکٹ کے اوپر انویسٹ نہیں کریں گے میڈیا مالکان کو ان کی بیوی بتائے گی کہ فلاں اینکر ٹھیک ہے تو وہ ٹھیک ہے یہ تو حال ہے ہمارے میڈیا کا-

    دلچسپ و انمول قرآنی معلومات،پڑھیں بھی ،اجربھی لیں


    اس سوال پر کہ ترقیاتی منصوبے بند ہیں قرضہ برھتا جا رہا ہے پیہسے جا کہاں رہے ہیں کی جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ پتہ نہیں میرے پاس تو نہیں آرہے انہوں نے کہا اصل میں اورنج ٹرین کی پیمنٹس ایڈوانس میں لر دی گئیں تھیں انہوں نے کہا 2021 تک پ اس کی پیمنٹس ہی دیتے رہیں گے بچتا نہیں ہے کچھ بھی انہوں نے کہا میں آفلیائم=ن بتا رہا ہوں اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے اور اس وہ بجٹ نہیں ہے جو مشردف یا ضیاء کے دور میں تھا باہر سے گرانٹ آ رہیں تھیں ابھی آپ کو پیسہ کمانا پڑ رہا ہے امریکہ جیسا ملک کہہ رہا ہے کہ اپنا ٹیکس ریٹ بڑھاؤ 22 کروڑ عوام ہے سولہ لاکھ ٹیکس دے رہے ہیں

    اس سوال پر کہ میڈیا کورونا کے حوالے سے خبریں نہیں دے رہا پاکستان میں سیاسی حوالے پر زیادہ بولا جا رہا ہے پاکستان میں کورونا کے حوالے سے بہت خراب حالت ہے کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میرے خیال سے تو بہت زیادہ دے رہے ہیں میرے نزدیک اس حساب سے نہیں دینی چاہیئے بار بار مریضوں کے جاں بحق ہونے کی ضخبر دی جا رہی ہوتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیئے ڈبلیو ایچ او یا حجومت پاکستان نے جو ایڈ بنائی ہیں اس طرح کی ایڈ چلانی چاہیئے لوگوں کو کوویڈ کی احریاطی تدابیر کے بارے میں پتہ ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط نہیں کرتے-

    کورونا وائرس سے 8 کروڑ 60 لاکھ بچوں کے غربت کا شکار ہونے کا خدشہ،دنیا ایک بہت بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے

  • عورتیں کالا جادو حسد جلن کی آگ میں اپنے شوہر کی حلال آمدنی جادوگر عاملوں پر لٹا رہی ہیں ، جویریہ صدیق

    عورتیں کالا جادو حسد جلن کی آگ میں اپنے شوہر کی حلال آمدنی جادوگر عاملوں پر لٹا رہی ہیں ، جویریہ صدیق

    جرنلسٹ اور کالم نگار جویریہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عورتیں ایک گناہ کبیرہ کا حصہ بن رہی ہیں وہ ہے کالا جادو حسد جلن کی آگ میں اپنے شوہر کی حلال آمدنی جادوگر عاملوں پر لٹا رہی ہیں ۔

    باغی ٹی وی : جرنلسٹ اور کالم نگار جویریہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عورتیں ایک گناہ کبیرہ کا حصہ بن رہی ہیں وہ ہے کالا جادو حسد جلن کی آگ میں اپنے شوہر کی حلال آمدنی جادوگر عاملوں پر لٹا رہی ہیں ۔ سمجای رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جویریہ صدیقی نے ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا ویڈیو میں اپنے پیغام میں انہوں نے کہ عورتیں ہی نہیں مرد بھی اخلاقی بُرائیوں میں شامل ہیں
    https://twitter.com/javerias/status/1266967592884936705?s=08
    انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کسی سے بھی حسد ہوتا ہے یا کوئی پسند نہیں آ رہا ہوتا تو اس پر کالا جادو ٹونہ کروا دیا جا تا ہے جس سے ان لوگوں کو پریشانیاں آ جاتی ہیں جویریہ صدیقی نے کہا کہ کتنی ہی خواتین ہیں جن کے شوہروں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کی بیویاں مختلف آستانوں پر جاتی ہیں اور ان کی حق حلال کی کمائی جادوگر عاملوں پر ضائع کرتی ہیں اور پورے خاندانوں کو انہوں نے تباہ کیا ہوا ہوتا ہے ان جادووں اور کالا جادووں کے چکر میں اس کے علاوہ حسد ، جلن اور دوسری کئی برائیاں جیسے غریبوں کے ساتھ بُرا سلوک یتیموں کا مال کھا لینا وغیرہ اتنی بُرائیاں ہو رہی ہوں تو وہاں ایسی بیماریاں اور عذاب ہی آئیں گے

    جویریہ صدیقی نے کہا کہ پوری قوم کو اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے جو لوگ کرپشن کر رہے ہیں ان کو اس کرپشن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور جو لوگ سرکاری اداراں میں مالزم ہیں اور اپنا کام ایمناداری سے نہیں کر رہے انہیں ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے اور جو حکومت اور سرکاری ٹیکسز کے اوپر بوجھ ہیں انہیں کام کرنا چاہیئے

    وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل کی کروڑوں کی آمدنی پرائیویٹ کمپنی کو جارہی ہے

    کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے اقرار الحسن

  • پی ٹی وی کا دوسرے ممالک کی پروڈکشن (ارطغرل) پر داد لینا حیران کن ہے ، بیرونی ڈرامے پاکستانی پروڈکشن کو تباہ کر دینگے۔ فواد چوہدری

    پی ٹی وی کا دوسرے ممالک کی پروڈکشن (ارطغرل) پر داد لینا حیران کن ہے ، بیرونی ڈرامے پاکستانی پروڈکشن کو تباہ کر دینگے۔ فواد چوہدری

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عواد چودھری کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کا دوسرے ممالک کی پروڈکشن (ارطغرل) پر داد لینا حیران کن ہے ، بیرونی ڈرامے پاکستانی پروڈکشن کو تباہ کر دینگے۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عواد چودھری کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کا دوسرے ممالک کی پروڈکشن (ارطغرل) پر داد لینا حیران کن ہے ، بیرونی ڈرامے پاکستانی پروڈکشن کو تباہ کر دینگے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ میں حیران ہوں کہ دوسرے ممالک کی پروڈکشن پر فخر محسوس کرتے ہیں


    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے لکھا کہ آپ لوگوں کو پاک پروڈکشن پر توجہ دینی ہوگی بصورت دیگر غیر ملکی ڈرامے پاک پروڈکشن کو برباد کردیں گے ، غیر ملکی ڈراموں کو درآمد کرنا ہمیشہ ہی سستا ہے لیکن اس کا ہمارے ہی پروگرامنگ پر طویل عرصے تک تباہ کن اثر پڑتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر 2019 میں پی ٹی وی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ کا آغاز کیا تھا۔ ویسے تو کئی تُرک ڈرامے پاکستانی چینلز پر نشر کئے گئے لیکن جو مقبولیت ارطغرل غازی کو ملی اس کی مثال نہیں ملتی-دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن پریکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    “ارطغرل گجر” پنجابی ٹریلر میدان میں ، دیکھئے اور انجوائے کیجیے

    اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

  • پاکستان، خواب سے تعبیر تک     بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک بقلم :علی حسن اصغر ، لاہور

    پاکستان، خواب سے تعبیر تک
    علی حسن اصغر ، لاہور

    عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
    عشق میری زندگی آزادی میرا ایمان ہے
    عشق پہ کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
    اور آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

    پاکستان آج سے بہتر سال پہلے 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پرابھرا۔ پاکستان کو قیام میں آنے سے پہلے اور قیام میں آنے کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ بدقسمتی سے ہم جن مسائل سے دوچار ہیں ہم انہیں مسائل سمجھتے ہی نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت کو جب ہماری ترقی برداشت نہیں ہوئی تو اس نے یکے بعد دیگرے پاکستان پر چارجنگیں مسلط کیں لیکن وہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس پر یہ بات عیاں ہوچکی کہ پاکستان کو میدان جنگ میں ہرانا ناممکن ہے تو پھراس نے سردجنگ کا سہارا لیا ۔ اس جنگ کا جس پر ہم ہنستے ہیں یعنی لطیفوں کے ذریعے پاکستان کی عوام میں تعصبات پیدا کرنا ۔
    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پشتون برادری انتہائی نازک احساسات رکھتی ہے ان احساسات کو پچھلے کئی سالوں سے مجروح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان پر اب تک ان گنت لطیفے بن چکے ہیں ۔لیکن کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ جب ہم اس لطیفے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے پٹھان بھائیوں پر اس وقت کیا بیتتی ہے؟یقیناً یہ بات ہم نے کبھی نہیں سوچی۔ اس بات سے تو ہم سب آشنا ہیں کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے خیبرپختونخوا کو ایک علیحدہ ملک پختونستان بنانے کے درپے ہے اور بلوچستان کو بھی علیحدہ کروانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر بلوچستان کی تمام معدنیات کو استعمال کیا گیا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا اور ان لطیفوں کے ذریعے وہ سب کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے یعنی
    DIVIDE AND RULE
    ہمیں چاہیے کہ ہم ان لطیفوں کو سختی سے رد کریں اور اپنے بھائیوں کے دلوں میں نفاق کا جو پودا بویا جا رہا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ دیں تاکہ کہ تعصب کی اس زہریلی ہوا کو ختم کیا جاسکے۔
    اسی طرح پاکستان کے عوام پر بھی اتنے لطیفے بن چکے ہیں کہ اگر پاکستانی عوام کا ذکر بھی آجائے تو ہمارے ذہن میں فوراً کیا سوچ آتی ہے؟ یہی کہ بے ایمان، نکمی، نالائق، ایک ایسے ملک میں رہنے والی عوام جہاں بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں، جہاں ترقی کے مواقع بھی میسر نہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔
    اپنے بارے میں ہمارا یہ نظریہ بالکل درست نہیں۔ پاکستان میں ترقی کے مواقع بھی میسر ہیں اور سہولیات بھی، پاکستانی عوام ہنر مند بھی ہے اور ایماندار بھی، اگر آج بھی کوئی عورت بغیر کسی خوف کے گھر سے باہر نکل سکتی ہے تو یہ اس کا پاکستان پر بھروسہ ہے یا پاکستانی عوام کی غیرت مندی ، اگر ہم ناساز حالات میں بغیر کسی کی مدد کے ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام ہنر مند نہیں ؟ پاکستان میں آج بھی ارفع جیسے قابل اور مند لوگ ہیں ۔ پاکستان کے متعلق جتنی بھی منفی سوچیں پائی جاتی ہیں حقیقت میں انکی کچھ بنیاد نہیں۔ پاکستان کی قوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی فوج رکھتا ہے جس میں خودکشی کی شرح 0% ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت کی فوج میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے ۔ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ دنیا کی نمک کی دوسری بڑی کان (کھیوڑا) پاکستان میں موجود ہے ۔ سوئی کے مقام پر نکلنے والی گیس کے ذخیرے کا شمار دنیا کے بڑے ذخیروں میں ہوتا ہے۔ دنیا کا بہترین نہری نظام، تھر کا کوئلہ، معدنیات سے مالامال بلوچستان، الغرض پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔
    پاکستان کو اتنے چھوٹے پیمانے پر ماپنا اور کہہ دینا کے پاکستان میں ہے ہی کیا؟ کیا یہ اس ملک کے درودیوار سے غداری نہیں ہے؟ وہ ملک جس نے ہمیں بچپن سے اب تک محفوظ پناہ گاہ دی اور ہمیں آزاد زندگی گزارنےکا موقع فراہم کیا اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ پاکستان نے آج تک ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ کیا یہ احسان فراموشی نہیں ہے؟ ہمیں ان سب باتوں پر غور کرنا چاہئے مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایسا کہنے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ پاکستان اسرائیل اور بھارت کی آنکھوں میں چبھتا کتنا بڑا کانٹا ہے اور وہ یہ پروپیگنڈا کیوں کر رہے ہیں۔
    آئیں اس پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں۔ پاکستانی عوام کا حوصلہ اور عزم بلند رکھیں ۔ یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد کے خون پسینے سے اور ان کی لاکھوں قربانیوں سے معرض وجود میں آیا۔ یہ وطن اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ یقینا یہ وہی ملک ہے جس سے متعلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
    "مشرق کی جانب سے مجھے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”
    پاکستان اسلام کا حقیقی قلعہ ہے۔ آئیں اس قلعے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

  • کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے   از:منہال زاہد سخیٓ

    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے از:منہال زاہد سخیٓ

    شاعری:منہال زاہد سخیٓ

    وہ صبح صبح اٹھ کے جو ہمیشہ ٹھنڈ میں جاتا ہے۔
    نہ اپنا خیال نہ کسی کی سوچ بچوں کیلئے کماتا ہے۔

    دن بھر تھک کر بھی اپنے لئے لیتا نہیں کچھ
    تھکا ماندا گھر پھر بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہے ۔

    پسینے میں شرابور تھکی ٹانگوں کے ساتھ آ لیٹتا ہے۔
    کہیں تھک نہ جائیں بچے وہ ٹانگیں نہیں دبواتا ہے ۔

    کھانے میں چوری چوری کچھ لقمے کھاتا ہے۔
    بچوں کو کھاتا دیکھ اس کا پیٹ بھر جاتا ہے۔

    راتوں کو اٹھ کر دیکھتا ہے کمبل کہیں اتر جائے تو ۔
    تکیے بچوں کو دے کر بن سرہانے سوجاتا ہے۔

    کسی بیماری کا تذکرہ نہیں کرتا بچوں سے
    بچوں کی خاطر ہمیشہ سب آنسو پی جاتا ہے ۔

    بچہ جو سمجھنے آجائے اسکول کا کچھ
    ایک جمع دو کر کے ریاضی بھی سکھاتا ہے ۔

    کہیں میں مر جاؤں تو کون پالے گا ان کو
    بچوں کے بارے میں سوچ کر بہت گھبراتا ہے

    ہمیشہ لمبا سایہ رکھ ہمارے سر پر باپ کا
    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے-

  • تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے  از : منہال زاہد سخی

    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے از : منہال زاہد سخی

    شاعر : منہال زاہد سخی

    ⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁩⁦❤️⁩(ماں)⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩

    ہمیشہ انتظار میں دروازے کی چوکھٹ پہ رہتی ہے
    میرے خیال میں اپنے خیال سے بھی ہٹ کے رہتی ہے

    چہرے پر وہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے رکھتی ہے
    حقیقت میں وہ اندر ہی اندر سے بٹ کے رہتی ہے

    اُس رات ایک چیخ کیا پڑ گئی اُس کے کانوں میں
    اِس رات بھی سُلاتے ہوئے لوری رٹ کے رہتی ہے

    بیٹے کی آئے دن محلہ سے آتی ہیں شکایتیں
    میرا بیٹا نہیں کر سکتا یوں وہ ڈٹ کے رہتی ہے

    کچھ لمحات ہی اضافی گزر جائیں اس کے بن
    ماں تو اپنے سے بھی ناطہ کٹ کے رہتی ہے

    پانچ وقت اس کی آنکھیں نم دیکھتا ہوں سخی
    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے

    #SAKHI

  • اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی  بقلم : عشاءنعیم

    اے بنت حوا ایک شمع جلا ایسی بقلم : عشاءنعیم

    اک شمع جلا ایسی
    تحریر: عشاء نعیم

    کسی بھی معاشرے میں جیسا کہ کہا جاتا ہے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو اس نوجوان نسل سے مراد صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی ہیں ۔ آج کے دور میں کسی بھی معاشرے میں لڑکی کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے بیٹی کا کردار محدود سمجھا جاتا ہے اور بیٹے کا کردار اہم ۔ سچ تو یہ ہے کہ معاشرے کی اصل روح بیٹی ہے ۔
    بیٹی ۔رحمت ،اور خوشی کا دوسرا نام ہے تو یہی بیٹی ہے جسے پاکر ان جانے خوف میں بھی گھر جاتے ہیں ۔
    اس خوف کی وجہ دنیا بھی اور بیٹی کا دنیا سے انجان ہونا بھی ہوتا ہے ۔
    والدین کا یہ خوف بہادر اور باشعور بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی ہیں اتار دیتی ہیں اور والدین خوشی و سکون محسوس کرتے ہیں ۔لیکن بھولی بھالی اور دنیا سے انجان بیٹیاں جب اس دنیا کے مکرو فریب اور داؤ پیچ کو نہیں سمجھ پاتیں، جب وہ نہیں جان پاتیں کہ اصل زندگی ہے کیا اور وہ ہر چمکتی چیز سونا سمجھ لیتی ہیں یا ہر میٹھا بول خلوص سمجھ لیتی ہیں تو یہی بیٹیاں ماں باپ کو کمزور کر دیتی ہیں۔یہی بیٹیاں جو خوشی کا باعث ہوتی ہیں ماں باپ کےلئے درد اور دنیا کے لئے بوجھ بن جاتی ہیں۔
    یہی بیٹی مثالی اور اعلی کردار پیش کر کے کئی بیٹیوں کے لئے راہیں کھول دیتی ہے اور یہی ایک بیٹی ذرا سی غلطی سے خود تو راہیں کھوتی ہی ہے لیکن کتنے ہی گھرانے اس ایک مثال کو لے کر اپنی بیٹیوں کو اندھیروں کی نظر کر دیتے ہیں۔
    ہمارے اپنے گھر کی مثال ہے کہ میرے دادا ابو بیٹیوں کو پڑھانے کے شدید مخالف تھے۔ وجہ معاشرے کی قائم کردہ مثالیں، وہ چند ایک نا سمجھ لڑکیاں تھیں جو نادانی کر بیٹھی تھیں۔میری پھوپھیاں اسی وجہ سے علم کی روشنی سے محروم رہیں، میرے بڑی بہنیں بھی سکول کا منہ نہ دیکھ پائیں ۔ لیکن والدہ کو تعلیم سے بہت محبت تھی خود بھی تھوڑا سا پڑھی ہوئی تھیں لیکن بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کا شوق تھا۔ اسی لیے ہر قسم کی رکاوٹ کو بالآخر عبور کرتے ہوئے مجھے سکول داخل کروادیا ۔
    گھر میں ہر وقت یہی سنا کہ پڑھائی لکھائی ٹھیک نہیں (ایک بہت بڑے گھر میں پورشن تھے دو تین فیمیلز اکٹھی تھیں وہ سب باتیں کرتے تھے۔)
    یہی وجہ ہے کہ جب مجھے سکول داخل کروایا گیا اور میں نے شعور کی سیڑھی پہ قدم رکھا تو اس قسم کی بات سے خوف کھانے لگی ۔پڑھائی کا جنون تھا اور کسی جھوٹی بات کے الزام سے بھی خوف زدہ رہتی۔کسی لڑکی کی ذرا سی ایسی بات پتہ چلتی دوستی ہی چھوڑ دیتی کہ کہیں اس کی وجہ سے مجھ پہ الزام نہ آ جائے یا میرا کردار نہ خراب ہو جائے۔
    ایسی ویسی بات سے ہی نفرت ہو گئی ۔
    ہر وقت اپنی عزت اور ماں باپ کی عزت ملحوظ رہتی ۔
    الحمداللہ، اللہ کی رحمت سے جب میٹرک کیا تو دادا ابو نے فخر سے کہا مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو نہیں پڑھایا ۔میری پوتی نے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔
    گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور الحمدللہ اپنے ماں باپ کو اتنا اعتماد دیا کہ بڑی آپیاں بھی پڑھنے لگیں۔
    پھر پھوپھیوں کی بچیاں بھی سکولز جا پہنچیں ۔
    جب ایک لڑکی پڑھ لکھ جاتی ہے تو اس کی اولاد لازمی پڑھی لکھی ہوتی ہے جبکہ ایک پڑھے لکھے مرد کی اولاد لازمی پڑھی لکھی نہیں ہوتی ۔
    اس کا مطلب ہے ایک لڑکی کئی نسلوں تک اپنا کردار پہنچاتی ہے۔
    یوں اک چراغ سے اگلا چراغ جلتا چلا گیا الحمدللہ۔
    علم کے زیور سے آراستہ ہونے کی بنا پر شرک و واحدانیت کا فرق سمجھ آیا، دین کی سوجھ بوجھ پختہ ہوئی تو الحمدللہ واحدانیت کو اپنایا جس سے اسی طرح روشنی بڑھی جس طرح تعلیم سے بڑھی تھی اور نہ صرف گھر میں ہر شخص موحد ہوتا چلا گیا بلکہ یہ روشنی بھی بڑھتی چلی گئی اور پھوپھیوں کے دلوں کو روشن کرتی چلی گئی۔
    اس کا مطلب ہے بیٹی کا کردار بہت ہی اہم ہے۔بیٹی، وہ فرد ہے جو اپنے کردار سے آپ کا سر فخر سے بلند تو کرتی ہی ہے کئی گھروں تک اس کے کردار کی خوشبو پہنچتی ہے جس سے وہ گھر بھی متاثر ہوتے ہیں اور اپنے کردار سے کئی گھروں کو اندھیروں میں ڈبو سکتی ہے ۔
    اس لیے اے بنت حوا!
    تو اپنے کردار سے جنت، جہنم کا فیصلہ تو کرتی ہی ہے معاشرے میں بھی دیکھ لینا تم کیا کیا اثرات مرتب کر سکتی ہو۔
    اگر پڑھتی ہو ،جاب کرتی ہو یا سوشل میڈیا پہ ہو ہر جگہ جو کردار ادا کرو گی وہ کردار صرف تمہارا ذاتی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اچھا یا برا وہ مثال بن جائے گا اور دیگر بیٹیوں کے لئے راہ متعین کر دے گا۔
    سوشل میڈیا پہ بیٹھی ہو تو ان ہاتھوں کے استعمال سے پہلے کچھ حروف کو ملا کر جو لفظ بناتی ہو تو دھیان رکھنا یہ کس کو کیا لکھ رہی ہو۔ کہیں تمہارے ہاتھوں سے نکلے چند لفظ جو جملہ بن جاتے ہیں کسی کے گھر پر بم بن کر نہ گر جائیں، کسی کے آشیانے کو آگ نہ لگا جائیں ۔
    کسی کی زندگی جہنم نہ بنادیں ۔کسی کا چین نہ لے جائیں ۔تمہارے ماں باپ کا سر شرم سے نہ جھکا جائیں ۔تمہیں اندھیروں میں نہ لے جائیں ۔
    ماں باپ جو تمہارے ناز، نخرے اٹھاتے ہیں باپ دن بھر محنت کرتا ہے اور ماں گھر میں جس طرح محنت کرتی اور گھر کو سنبھالتی ہے تم پہ وہ دونوں اعتماد کرتے ہیں تم بھی اپنے کردار سے ان کی محبتوں اور محنتوں سے اس کا سر فخر سے بلند کردو تو جنت کا ساماں بھی بنو۔
    انھیں اپنے دئیے گئے اعتماد سے رسوا کر کے پچھتاوا نہ لگاؤ کہ کیوں اعتماد کیا ۔
    صرف ماں باپ ہی نہیں روتے معاشرے کے دیگر ماں باپ بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور اس مثال کو لے کر بیٹیوں پہ اعتماد نہیں کرتے اور وہ اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔یعنی تمہارے کردار کی اک شمع سے جہاں کئی شمع جلتی ہیں وہیں اک غلط قدم اور اندھیرے میں قدم رکھ دینے سے کئی اور بھی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں ۔سو
    ہر قدم پہ دھیان رکھنا
    یوں ہی نہ نادان بننا
    جلا کر چراغ روشنی کرنا
    کہیں بھٹک کر نہ پشیمان ہونا

  • "ارطغرل گجر” پنجابی ٹریلر میدان میں ، دیکھئے اور انجوائے کیجیے

    "ارطغرل گجر” پنجابی ٹریلر میدان میں ، دیکھئے اور انجوائے کیجیے

    مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی ترکش سیریز ارطغرل غازی کا پنجابی ٹریلر بھی سامنے آ گیا –

    باغی ٹی وی : گزشتہ سال دسمبر 2019 میں پی ٹی وی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ کا آغاز کیا تھا۔ ویسے تو کئی تُرک ڈرامے پاکستانی چینلز پر نشر کئے گئے لیکن جو مقبولیت ارطغرل غازی کو ملی اس کی مثال نہیں ملتی-

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن پریکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بتایا گیا تھا کہ پی ٹی وی نے معروف ڈرامے دیریلیش ارطغرل کے اردو ترجمے کے بعد ایک اعلی مہارتی ٹیم کے ساتھ اس کی ڈبنگ شروع کی اور اسے پی ٹی وی پر نشر کرنا شروع کر دیا جسکے نشر ہوتے ہی اس ترک ڈرامے نے کئی ریکارڈ بنا ڈالے-
    https://twitter.com/Taahaa_/status/1266996798880722944?s=20
    پاکستان میں اردو ڈبنگ کے بعد اب ارطغرل گجر کے نام سے ارطغرل کی پنجابی میں بھی ٹریلر سامنے آگیا اس ارطغرل گجر کے اس ٹریلر سے شائقین لطف اندوز ہو رہے ہی‌ اور اسے بے حد پسند کیا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل کی کروڑوں کی آمدنی پرائیویٹ کمپنی کو جارہی ہے

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

  • والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں    ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام قرآن و حدیث کی روشنی میں ازقلم:- محمد عبداللہ گِل

    والدین کا مقام اور احترام
    ازقلم:-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
    (ترجمہ)
    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔

    (بنی اسرائیل:23)

    مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُف تک بھی نہ کہو،والدین کی عزت واحترام دینی و دنیاوی بہتری کا سبب ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

    وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
    ترجمہ :-

    اور اللہ کی عبادت کرو ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ( ٢٩ ) ساتھ بیٹھے ( یا ساتھ کھڑے ) ہوئے شخص ( ٣٠ ) اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی ( اچھا برتاؤ رکھو ) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ۔

    (النساء:36)

    اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے۔
    یَسۡئَلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

    ترجمہ

    لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے ) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین ، قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہئے ۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو ، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔

    (البقرہ:215)

    رسول کریم ﷺ نے بھی ہمیں والدین سے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ بتلادوں؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اورنہ والدین کی نافرمانی کرنا۔

    والدین کی حیثیت گھر میں نگران کی ہے ۔ اولاد اگر سنجیدگی اور تدبر سے کام لے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے بعد صحیح معنوں میں قابل احترام اور لائق اطاعت اگر کوئی ہستی ہے تو وہ والدین ہیں۔والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری بھی عبادت میں داخل ہے، لیکن اگر والدین کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہو تو ان کی اطاعت فرض نہیں بلکہ شریعت کی اطاعت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور وہ دونوں (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تُو ان کا کہنا نہ ماننا ،ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا‘‘ والدین کا مقام و مرتبہ اس قدر اہم ہے کہ توحید و عبادت کے بعد اطاعت و خدمت والدین کو ضروری قرار دیا گیا کیونکہ جہاں انسانی وجود کا حقیقی سبب اللہ ہے تو وہیں ظاہری سبب والدین۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گنا ہ والدین کی نافرمانی ہے،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

    (صحیح بخاری)

    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور اپنے والدین کو جھڑک مت اور ان سے نرمی سے پیش آ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ چنانچہ فرمایا (ترجمہ) اور تو کہہ کہ اے میرے رب میرے والدین پر رحم کر جس طرح بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔

    (بنی اسرائیل: 25)

    حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا والدین کی فرمانبرداری۔

    (صحیح بخاری)

    حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ آپؐ کے ساتھ ہجرت اور جہاد کرنے کیلئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ تو اس شخص نے کہا: دونوں حیات ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے پوچھا: کیا تو واقعی اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا طالب ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے والدین کے پاس جا اور ان کی خدمت کر۔

    (صحیح مسلم)

    ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟
    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ۔

    (صحیح بخاری)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے ۔ چنانچہ تمہیں اختیار ہے خواہ ( اس کی نافرمانی کرکے اور دل دکھا کے) اس دروازہ کوضائع کردو یا ( اس کی فرمانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر) اس دروازہ کی حفاظت کرو۔

    (جامع ترمذی)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھا دیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    آپ ﷺنے ارشاد فرمایا وہ شخص ذلیل وخوار ہو۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! کون ذلیل و خوار ہو ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر(ان کی خدمت کے ذریعہ) جنت میں داخل نہ ہو۔

    (صحیح مسلم)

    حضرت ابو اسید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللہ ؐ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ ہاں کیوں نہیں ۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو،ان کے لئے بخشش طلب کرو ، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو ۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حُسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔

    (ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین)

    حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور رزق میں فراوانی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حُسن سلوک کرے (اور اپنے عزیزواقارب کے ساتھ بنا کر رکھے) اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔

    (مسند احمد بن حنبل)

    انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرے ، اس کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ آنحضور ﷺ نے بیان فرمایا کہ بندے سے اللہ کا راضی ہونا بندے سے اللہ کا ناراض ہونا، والدین کی رضامندی و ناراضگی کے ساتھ وابستہ ہے۔
    ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا رب کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے،رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔

    (الجامع الصغیر)

    حضرت ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مقام جعرانہ میں دیکھا ۔ آپ گوشت تقسیم فرما رہے تھے ۔ اس دوران ایک عورت آئی تو حضور ﷺ نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی ۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون خاتون ہیں جس کی حضور ﷺ اس قدر عزت فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ حضور ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔
    قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا ہمیں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ خاص کر جب والدین یا دونوںمیں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا حتیٰ کہ ان کو اُف تک نہیں کہنا چاہئے۔ ادب و احترام محبت و خلوص کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ ان کا ادب واحترام کرنا چاہئے۔ ان سے محبت کرنی چاہئے۔ ان کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ ان کی خدمت کرنا،ان کو حتی الامکان آرام پہنچانا ، ان کی ضروریات پوری کرنا ، یہ سب ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔سال یکم جون کو دنیا بھر میں والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد والدین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ بلاشبہ ماں، باپ قدرت کی عظیم نعمت ہیں۔ وہ بچّے کو پیدائش سے لے کر اُس کی تعلیم وتربیت اور معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے تک اہم کردار ادا کرتے ہیں، اُس کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتے ہیں، اُسے زمانے کے ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں، گویا اُس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیتے ہیں، لیکن افسوس کہ جب وہی اولاد بڑی ہوجاتی ہے تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔ حالاںکہ اُس وقت اُن کو اُس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں کہ اولاد نے بڑھاپے میں ماں باپ کو گھروں سے نکال دیا، بے سہارا چھوڑ دیا، اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیا، اولڈ ہاؤسز میں داخل کرادیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بچّے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے والدین سے انتہائی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں، اُن کی نافرمانی وتیرہ بنالیتے ہیں، اولاد کے پاس والدین کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ دُنیاوی مشاغل میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ماں باپ کے پاس دوگھڑی بیٹھنا اُن کے لیے دُشوار ہوجاتا ہے۔ والدین بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ افسوس کہ نافرمان اولاد کے قصے کہانیاں زبان زدعام ہیں۔مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے جمعہ کا خطبہ والدین کے حقوق کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندگان خدا دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے پابند ہیں۔ سب سے پہلے اللہ کاحق آتا ہے۔ ہر فرد کو اللہ کے حقوق بلا کم و کاست ادا کرنے ضروری ہیں۔ جو لوگ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

    امام مسجد نبوی نے کہاکہ پانچوں نمازوں کی بروقت باجماعت ادائیگی اللہ کا حق ہے۔ اللہ او ررسول کے حقوق کے بعد سب سے پہلے والدین کے حقوق کا نمبر آتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے حق کا ذکر کرتے ہی والدین کے حقوق کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق پر اسلئے بہت زیادہ زوردیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ، والدین ہی کی بدولت انسان کو جنم دیتے ہیں۔ ماں بچے کی پیدائش کے حوالے سے غیر معمولی مشقت اور زحمت جھیلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو والدین کی خدمت کی غیر معمولی تاکید کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے کہ ایسا انسان جسے اپنے بوڑھے والدین نصیب ہوں یا ان میں سے کوئی ایک اس کی زندگی میں ہو اور پھر وہ جنت میں داخلے کا اہتمام نہ کرے تو وہ بدقسمت ہے۔ اسلام نے والدین کی اطاعت کا دائرہ بھی متعین کیا ہے۔ اگر وہ کسی معصیت کا حکم نہیں دیتے تو انکی اطاعت واجب ہے۔ معصیت میں انکی تابعداری سے اولاد کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ والدین کو اولڈ ہوم بھیجنا یا انکی نگہداشت میں کمی کرنا انکے ساتھ ظلم اور بڑا گناہ ہے۔ یہ غیر اسلامی طرز عمل ہے۔

    ادب اور اخلاق معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے، جو معاشرے کو بلند تر کرنےمیں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ کہاوت ہےکہ ’’باادب بانصیب اور بے ادب بدنصیب‘‘ یعنی ادب ایک ایسی صنف ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے۔ اسلام نے بھی ادب و آداب اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے۔

    مذہب اسلام نے ہر رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیئے ہیں۔ ادب و آداب کی تعلیم بھی دی گئی ہے، جس میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کا ادب ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق معاشرے کے ستائے ہوئے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد بھرپور توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

    خدمت خلق ہی ایک ایسا فعل ہے جس سے انسان کی عظمت کا صحیح طورپر پتا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے دو فرائض لگائے ہیں ایک اس مالک کل کی اطاعت دوسرے اس کے بندوں سے پیار۔ یعنی ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔ ہمارے نوجوان معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی اخلاقی ذمے داریوں کا معاشرے کے بزرگ افراد، والدین ، اساتذہ سے براہ راست تعلق ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ادب کے حوالے سے نوجوانوں کا منفی رویہ کافی تکلیف دہ ہے۔

    آج بوڑھے والدین کے ساتھ نوجوان جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر میڈیا پر یہ خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ چند روپوں یا جائیداد کی خاطر بزرگ والدین کو قتل کردیا۔ آج کے بچے، نوجوان والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں تھوڑی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ماں باپ کسی چیز کے متعلق پوچھ لیں تو بھنویں تن جاتی ہیں مگر یہی نوجوان بچپن میں والدین سے جو کچھ پوچھتے تو والدین خوشی خوشی بتاتے تھے۔

    ماں باپ کے آگے صرف دو وقت کی روٹی رکھ دینا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ والدین کی اطاعت، فرمابرداری، ادب و آداب ہی باادب اور کامیاب انسان بناتے ہیں۔والدین کی دعائیں کامیابی کا زینہ ہیں جس کی بدولت آپ ایک کامیاب انسان بن کر ملک وقوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ والدین کے غصے کے آگے آپ کی برداشت اور غفودرگزر ادب و آداب کی بہترین قابل تعریف مثال ہے۔ والدین کی ناراضی وقتی ہوتی ہے اور آپ کے اس عملی مظاہرہ سے والدین کے دل میں آپ کی جگہ بن جائے گی اور ان کی شفقت و محبت میں مزید بہتری آئے گی۔ آپ کی تقلید میں چھوٹے بہن بھائی اور گھر کے دیگر افراد بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔
    قارئین کرام! آج اپنے رب کو گواہ بنا کر ایک عہد کریں کہ والدین کے ساتھ جو پہلے بے ادبی برتی گئی اس پر معافی مانگتے ہیں ۔اور آئندہ کے لیے ان کی عزت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔