Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ڈاکٹر اسرار اور مصحف  : بقلم ؛ فردوس جمال

    ڈاکٹر اسرار اور مصحف : بقلم ؛ فردوس جمال

    قرآن کریم سے ہم سب محبت کرتے ہیں ہم عجمی اس کتاب کا ظاہری ادب بھی بہت کرتے ہیں لیکن ایک شخص جس نے ہم عجمیوں کے قبیلے میں صدا لگائی کہ یہ قرآن فقط تلاوت و قرآت، شادی بیاہ اور حلف برداری میں تبرک کے لیے نازل نہیں ہوا ہے بلکہ یہ کتاب انقلاب ہے،

    یہ کتاب ہدایت ہے،یہ کتاب حکمت و دانائی ہے،یہ دستورالعمل ہے،یہ کتاب دنیا میں حکومت کرنے آئی ہے،وہ شخص صرف گفتار کا رسیا نہیں تھا اس نے صرف منبر و محراب پر قرآن نہیں پڑھا بلکہ وہ اس کتاب میں جیا،اس کتاب کو اپنا رفیق مرشد اور راہنما چنا ،زندگی بھر اس کتاب کی خدمت کا حق ادا کر دیا،اس کتاب کے آفاقی پیغام کو ایشیا سے یورپ تک جہاں جہاں اسکی آواز جاتی تھی پہنچایا،وہ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو ،رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز ،اس خادم قرآن اور عہد ساز ہستی کا آج یوم وفات ہے،اللہ تعالٰی
    ڈاکٹر اسرار رحمة اللہ علیہ کو غریق رحمت کرے،کیا عجب
    انسان اور وقت کے درویش تھے. بقلم فردوس جمال !!!

  • کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟
    تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور تعلیمِ کتاب و سنت کے لیے سوشل میڈیا کسی نعمت سے کم نہیں ۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ یہاں اہل علم کی اکثریت ایک "داعی” کی بجائے "صحافی” کا کردار پیش کر رہی ہے۔صحافی کا کام کسی Hot Issue پر سنسنی خیز خبر پھیلا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے اور ایک عالم دین اس سے بے نیاز ہوتا ہے۔

    عالم دین تو مستقل بنیادوں پر لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا ہے اور ان کی علمی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔۔۔ عرب علما اس سلسلے میں بڑا کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ کا نام ہی کافی ہے جو حقیقی معنوں میں سوشل میڈیا سے خیر کا کام لے رہے ہیں۔۔۔ دوست ایک بار شیخ کے پیج کی سیر ضرور کریں۔

    اس کی وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ وہاں فرقہ واریت کی وہ صورت حال نہیں جسکا ہمیں یہاں سامنا ہے ، اور دوسرے انھیں حکومت وقت کی "کلاس لینے” کیلیے اتنا وقت صرف نہیں کرنا پڑتا۔۔۔۔ ہمارے یہاں یہی دو کام ہوتے ہیں۔۔۔۔ یا حکمرانوں کو گالیاں۔۔۔۔ یا دوسرے مسلک کا آپریشن۔۔۔۔ رہی اپنی عوام کی اصلاح تو اس کے لیے ہم کسی ۔۔۔۔۔۔۔ کے منتظر ہیں۔۔

    کسی نے ہمارے رویے پر بڑا مناسب تبصرہ کیا ہے کہ ” مولوی صاحب سو کر اٹھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ آج حکومت کی کس پالیسی پر اعتراض کرنا ہے۔۔۔ اگر کچھ نہ ملے تو دوسرے مسلک کے کس مولوی کی کون سی بات کا رد کرنا ہے”.
    نوٹ: یاد رہے کہ میں فرق باطلہ و ظالہ کے رد کا مخالف نہیں۔۔۔ بات صرف اتنی ہے کہ خدمتِ دین صرف اسی کام میں محصور نہیں۔

  • ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف

    ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف

    ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف، رفاہ انٹرنیشنل ہسپتال کرونا کے مریضوں کیلئے تیار، کرونا ٹیسٹ سے ڈرنے والوں کیلئے خصوصی پیغام، ڈاکٹر اسامہ ظفر سے خصوصی گفتگو

    جب قوموں پر مشکل وقت آجاتے ہیں تو قومیں میں سے ہی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انہیں مشکل وقت ست نکالتے ہیں اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہے اور پوری دنیا کو اس مشکل وقت سے نکالنے میں جو لوگ اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہ ڈاکٹر اور پورا پہرا میڈیکس سٹاف ہے

    ڈاکٹر اسامہ جو سماجی کارکن سوشل ایکٹویسٹ ہیں اور انہوں نے خود کو کورونا وائرس کے خلاف جہاد میں خود کو پیش کیا اور یہ رفاء نامی فلاحی ادارے کے ساتھ بھی منسلک ہیں

    رضی طاہر کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں۔ڈاکٹر اسامہ نے کورونا کی علامات اس کے علاج احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کی خدمات کے بارے میں بھی بتایا کہ ڈاکٹر کس طرح ان مشکل حالات میں اپنی زندگی کو ایک بڑے رسک میں ڈال کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں

    رضی طاہر کےایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ڈبلیو ایچ او نے اسے وبائی مرض قرار دیا ہے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے انہوں نے کہا ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے جو ہمارے فرائض ہیں وہ ہم۔سرانجام دے رہے ہیں

    انہوں نے اپنے ادارے رفاہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کے چانسلر حسین محمد خان نے جب وبا پھیلی سب سے پہلے وینٹینلی اپنے ہاسپٹل کو پیش کیا اور گورنمنٹ کو 30 بیڈ کورونا متاثرین کی valention کے لیے دیئے اور کورونا آئسولیشن کی وارڈ کے لیے اب بیڈز کے ساتھ مکمل سامان کے ساتھ 12 وینٹی لیٹر بھی دئیے اور ایمرجنسی کے لیے ایک آئی سی یو بھی مکمل طور پر تیار کر رکھا تھا تاکہ اگر وبا پھیلتی ہےتو اس سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں

    انہوں نے کہا ہمارے ادارے رفاہ نے ہمیشہ ہی ہر مشکل۔صورتحال میں اہم۔کردار ادا کیا ہے چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب یا وبا ہر مشکل۔صورتحال میں پیش پیش رہا ہے ڈاکٹر اسامہ کے مطابق کورونا کے حوالے سے اپنے سٹاف کو ٹرینڈ کیا لوکل ایریاز میں ہیلپ لائن متعارف کرائی اس پر کوئی بھی کسی بھی ٹائم کال۔کر کے بیماری کے حوالے سے پوچھ سکتے ہیں ڈاکٹر ہر وقت لوگوں کی مدد کے لیے موجود ہیں مستحق لوگوں کی مدد کر رہے ہیں

    ڈاکٹراسامہ نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کا ایک پوراسوشل ویلفئیر کا شعبہ ہے جس کی سربراہی اظہر حلیم کرتے ہیں راشن دے رہے ہیں اور غریبوں کا مفت علاج کر رہے ہیں

    جو لوگ چیک اپ کروانے سے ڈر رہے ہیں اپنی بیماری کو چھپا رہے ہیں ان کو پیغام دیتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی علامات جیسے کھانسی نزلہ زکام بخار سانس کا۔رکنا ظاہر ہوتی ہیں تو فورا چیک اپ کروائیں اس بیماری کو نہ چھپائیں اس طرح آپ اپنےبساتھ ساتھ اپنے خاندان کا بھی نقصان کریں گے انہوں نے بتایا 85 فیصد لوگوں میں معمولی نزلہ ہوتا ہے جو ٹھیک ہو جاتا ہے جبکہ 15 فیصد میں یہ صورتحال شدید علامات کے ساتھ ظاہر ہرتی ہیں جن میں بوڑھے شوگر اور دل کے مریض یا وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام۔کمزور ہو شامل ہیں

    انہوں نے بتایا کہ ان کی فیملی میں 25 سے 30 ڈاکٹر ہیں جو اس وقت پاکستان انگلینڈ اور آئرلینڈ میں اس خطرناک بیماری کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جن میں ان کی والدہ والد کزنز اور وہ۔خود شامل ہیں

    ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ وہ خود اور ان کے کزنز کوٹلی آزاد کشمیر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے بتایا کورونا کے خلاف ان کی فیملی بہت محنت کر رہی ہے دن رات ڈیوٹی کر رہی ہے انہوں نے کہا ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرز کو بھی آئسولیٹ ہونا پڑتا ہے تاکہ ہمارے سے یہ بیماری کسی۔دوسرے کو نہ لگ جائے

    انہوں نے کہا کورونا کے مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کی زندگی بھی کورونا مریض کے جیسی ہوتی ہے کیونکہ ڈاکٹر بھی مکمل طور پر آئسولیٹ ہوتا ہے وہ۔کسی سے مل۔نہیں سکتا خود کو آئسولیٹ کرنا پڑتا ہے خدانخواستہ اگر ڈاکٹر میں علامات آجاتی ہیں تو وہ باقی لوگوں کوبھی متاثر کر سکتا ہے

    ڈاکٹر اسامہ نے کہا ہمیں ٹریٹمنٹ کے دوران خود کو۔محفوظ رکھنے کے لیے مکمل سامان مہیا نہیں ہے ہمارے ڈاکٹر متاثر ہو رہے ہیں یہ وہ چیزیں ہیؑ جس سے ڈاکٹرز کی زندگی رسک میں ہے

    ڈاکٹر اسامہ نے کہا گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس سٹاف کو خود کو محفوظ رکھنے کا۔مکمل سامان مہیا کریں اگر طبی عملہ اور ڈاکٹرز انفیکٹ ہونا شروع ہو گئے تو بیماری کا۔علاج کون کرے گا صورتحا مزید کشیدہ ہو جائے گی

    ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی،کرونا وائرس کےمزید 30 کیسز، مریضوں کی تعداد 2856 ہوگئی ، ترجمان

    اہم ٹیکسٹائل یونٹ نے لوگوں کی جانیں بچانے والوں کی جانیں بچانے کے لیے 1 ہزارحفاظتی کٹس عطیہ کردیں

    خیبر پختونخواہ کے ڈاکٹرزسمیت طبی عملے کے 25 اراکین میں کرونا کی تشخیص، ایک کی ہوئی موت

  • انصاف امداد موبائل ایپ میں درخواست  جاننے کا سٹیٹس بھی متعارف

    انصاف امداد موبائل ایپ میں درخواست جاننے کا سٹیٹس بھی متعارف

    بصد احترام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ

    انصاف امداد موبائل ایپ کو 28 لاکھ افراد نے ڈاؤن لوڈ کیا, چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور

    موبائل ایپ کرونا لاک ڈاون سے متاثر غریب طبقے کی امداد کیلئے درخواستوں کے حصول کی خاطر بنائی گئی

    لاہور : انصاف امداد موبائل ایپ کو 28 لاکھ افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں جس سے کرونا متاثرین کو گھر بیٹھے درخواست دینے کی سہولت حاصل ہوئی ہے چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور کا مزید کہنا تھا کہ انصاف امداد ایپ میں درخواست کا سٹیٹس جاننے کا فیچر بھی متعارف کرا دیا گیا ہے جس سے درخواست دہندگان اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر درخواست پر ممکنہ ایکشن بارے جان سکیں گے

    پی آئی ٹی بی کی وضع کردہ ایپ موبائل ایپ‘ 8070ایس ایم ایس اور آن لائن فارم سے ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں انصاف امداد ایپ میں شامل نوٹیفیکیشن بٹن کے باعث درخواست دہندہ کو ضروری اطلاع خودکار موصول ہو سکے گی

    کرونا ریلیف فنڈ، چیئرمین نیب بھی میدان میں آ گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب کا منڈی بہاؤالدین، گوجر خان کا دورہ،امداد کی تقسیم پر خواتین نے کیا کہا؟

    کرونا ریلیف فنڈ، اوورسیز پاکستانیوں سے وزیراعظم عمران خان نے کی بڑی اپیل

  • حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں،متحدہ علماء محاذ
    مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے،علماء مشائخ کا مطالبہ
    زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40فیصدکمی کا اعلان کیا جائے
    حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،استقبال رمضان کی تقریب میں قرارداد

    کراچی: متحدہ علماء محاذپاکستان کے تحت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں استقبال و تقدس رمضان اور کورونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ تشویشناک صورت حال پر اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے وفاقی و صوبائی حکومت کے ناقص اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں ایک دوسرے پر الزامات اورباہمی توتکار سے ریاست کی جگ ہنسائی ہورہی ہے مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے

    مختلف شہروں میں روکے گئے تبلیغی جماعت کے افرادکو گھروں کو روانہ کیاجائے۔زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40 فیصدکمی کا اعلان کیا جائے متحدہ علماء محاذ کے چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی،بانی سیکریٹری جنرل مولانامحمدامین انصاری،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،مولانا انتظارالحق تھانوی، علامہ یونس صدیقی سلفی،یعقوب احمد شیخ،علامہ علی کرار نقوی،علامہ مرتضی خان رحمانی،حافظ گل نواز و دیگر نے کہا کہ: قدرتی آفت کورونا کی آمد سے لیکر آج تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں وفاق و صوبوں کے ایک دوسروں پر الزامات اور باہمی توتکارسے عالمی سطح پر ریاست پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے،

    سرکاری سطح پر باقاعدہ علاج معالجے اور عوامی ضروریات کیلئے تاحال موثراقدامات نہیں کیے گئے،کچھ عناصر کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ پوسٹیں شیئر کرکے ملک کو فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں، حکمرانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے

    انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے جن افرادکو روکاگیا ہے انہیں فی الفور باحفاظت گھروں کو روانہ کیاجائے،ان کے ساتھ ظلم جبر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،صوبائی اور مرکزی حکومتیں مل بیٹ ھ کر مسائل کو حل کریں ملک بھر کے تاجروں کو محدود وقت کیلئے معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ آئمہ مساجد و خطباء کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں‘

    انتظامی افسران کو سنسی خیزی پھیلانے کی بجائے حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کا پابندکیاجائے حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے اور عوام الناس کو بتایاجائے ایسے حالات میں اللہ سے رجوع ضروری ہے اور اللہ کے حکم سے ہی اس موذی بیماری سے چھٹکارا ملے گا۔ کورونامساجد آباد کرنے سے ختم ہوگا مساجد پر پابندیاں عذاب خدا وندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،راشن و امداد کے نام پر تصاویر و ویڈیوبناکر سفید پوش ضرورت مند مرد و خواتین کی تحقیر و تذلیل کے غیر شرعی عمل سے اجتناب کیا جائے

  • وباء کے بعد دنیا کیسی ہوگی کیا جلد نیا عالمی نظام متعارف ہوگا؟

    وباء کے بعد دنیا کیسی ہوگی کیا جلد نیا عالمی نظام متعارف ہوگا؟

    کورونا وائرس دنیا بھر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے اس نے ایک لاکھ سے زائد جانیں نگل لیں ہیں اور لاکھوں افراد اس سے بالواسطہ متاثر ہیں جرنلسٹ نوید شیخ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وبا کی وجہ حالیہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح دنیا اس وبا سے نپٹنے کے لئے احتاطی اقدامات کر رہی ہے اور اس کے بعد کے دنیا کیسی ہو گی

    نوید شیخ نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ گذشتہ تین ماہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے جس کے باعث کئی ہزار اموات ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جس جس ملک میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں وہاں پر باقاعدہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

    لاک ڈاؤن ہونے والے ممالک میں چین، اٹلی، فرانس،لبنان،عراق،غزہ، فلسطینی مقبوضہ علاقہ،اردن،غاصب صہیونی ریاست اسرائیل، اسپین،پاکستان اور برطانیہ سمیت امریکہ کی اتحاد ی ریاستیں بھی شامل ہیں اسی طرح کئی ایک اور ممالک ایسے ہیں جو اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔صورتحال یہاں تک آ ن پہنچی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں

    جرنلسٹ نے بتایا کہ ایک عام رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہو چکا ہے۔سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے دنیا بھر میں اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سماجی دوری کو حل قرار دیا جا رہاہے غرض یہ ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ احتیاط اور طریقہ کار کو خاطر میں لایا جا رہاہے

    اس طرح کے حالات میں کہ جب پوری انسانیت خطر ناک دور سے گزر رہی ہے اور ایک تجزیہ کے مطابق شاید گذشتہ کئی صدیوں میں اس طرح کا بحران دنیا کو سامنا نہیں ہوا ہے حالانکہ دو بڑی جنگیں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورتحال تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کر چکی ہے

    ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہاہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟یقینا یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے

    ان تمام تر سنگین حالات میں کہ جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے باعث نظام زندگی متاثر ہے وہاں ساتھ ساتھ دنیا میں ان ممالک اور علاقوں کی بات بھی سامنے آنا بہت ضروری ہے کہ جو نہ صرف اس وباء سے نبرد آزماہیں بلکہ ساتھ ساتھ عالمی صہیونزم اور ظلم کا شکار ہیں اس عنوان سے ہمارے سامنے آج کی موجودہ صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ سب سے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی بھارت کی ریاستی دہشت گرد ی کا سلسلہ جار ی ہے، شام کے سرحدی علاقوں پر ترک افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے بھی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، یمن پر جاری سعودی جارحیت بھی انسانیت کے چہرہ پر سیاہ کلنک کی مانند واضح نظر آ رہی ہے

    ایران پر امریکی معاشی دہشت گرد ی بھی جاری ہے حالانکہ ایران بھی چین، اٹلی، اسپین، فرانس کے بعد پانچواں ایسا ملک ہے کہ جہاں اموات کی شرح زیادہ ہوئی ہے لیکن اس صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کو سخت کیا جا رہاہے اور میڈیکل امداد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے کورونا وائرس کی اس دنیامیں عالمی سامراج اور صہیونزم کی دنیا اپنے ظالمانہ عزائم سے باز نہیں آ رہی ہے اور دنیا کے مظلوم خطوں پر مظالم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے ایسے حالات میں یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟

    آج ہم دنیا میں ایسی صورتحا ل کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کی طول تاریخ میں مثال نہیں ملتی کم سے کم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ صورتحال کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطر ناک ہے انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد مشرقی و مغربی یورپ کے خاتمہ کے بعد ان سب کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا

    آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ وہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہو چکاہے۔آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہاہے اسکی بنیاد ثقافتی، اعتقادی، دینی،فکری،فلسفی اور جو کچھ بھی ان سے مربوط ہے کو ایک چیلنج درپیش ہے اور یہ ایک زلزلہ ہے جو آ رہا ہے

    کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں اہم مرحلہ دنیا کی حکومتوں کو درپیش چیلنج ہے۔ جس میں ایک بڑا چیلنج اقوام متحدہ کے اپنے موثر ہونے کا چیلنج ہے اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اتحادیوں کو اپنے موثر ہونے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔نہیں معلوم امریکہ کی متحدہ ریاستیں متحد رہ پائیں گی یا نہیں؟یا پھر موجودہ یورپی یونین اتحاد باقی رہ پائے گا؟اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی موجودہ نسل چاہے وہ کسی بھی خطہ میں ہو دنیا میں کہیں بھی ہم ایک جدید دور کا تجربہ کر رہے ہیں اس تجربہ کی گذشتہ ایک سو یا دو سو سالوں میں مثال نہیں ملتی ہے ممکن ہے کہ دنیا اور انسان ایک نئے حالات اور نئے نتائج کی طرف منتقل ہو جائے

    خلاصہ یہ ہے کہ کیا آج وقت نہیں آ گیا ہے کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ ختم کرو اب بس بہت ہو گیا اب اگر دنیا اس فکر میں ہے کہ کیسے جنگوں، لڑائیوں اور مشکلات کو ختم کیا جائے؟اور کورونا سے مقابلہ کو اولویت دی جائے یہاں ایک سوال ضرور یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے خلاف سعودی جنگ کوختم کیا جائے؟ کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور انسان اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے خلاف صہیونی جرائم کا خاتمہ کیا جائے؟ کیا کشمیر پر ہونے والے مظالم بند نہیں ہو جانے چاہیئں؟

    آج دنیا کے با ضمیر انسانوں کو یہ آواز پہلے سے زیاد ہ بلند آواز میں اٹھانی چاہئیے کہ ذاتی اختلافات نظر کو اور سیاسی حساب کتاب اور ان باتوں کی جگہ نہیں ہونی چاہئی وبا کے بعد کی دنیا یقینا تبدیل ہو جائے گی اور یہ وہ امتحان ہے جسکا ہمیں مشاہدہ کرنا ہے

    خیبر پختونخواہ کے ڈاکٹرزسمیت طبی عملے کے 25 اراکین میں کرونا کی تشخیص، ایک کی ہوئی موت

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی

    لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

  • مولانا شاہ عبدالعزیز کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

    مولانا شاہ عبدالعزیز کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

    مانسہرہ جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن کے رہنما مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کرونا وائرس کے باعث وفات پا گئے

    باغی ٹی وی : ہزاری گروپ کی رپورٹ کیمطابق مانسہرہ جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن کے رہنما مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب وفات پا گئے ہیں

    رپورٹ کے مطابق مولانا شاہ عبدالعزیز کورونا وائرس میں مبتلا تھے علاج اور احتیاطی تدابیر کے باوجود جانبر نہ ہوسکے انتقال کر گئے

    پاکستان میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور 13 اپریل کی دوپہر تک ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار 716 اور ہلاکتوں کی تعداد 96 تک جا پہنچی ہے جبکہ 1378 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں

  • آغا علی کا اپنے گانے کے ذریعے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش

    آغا علی کا اپنے گانے کے ذریعے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش

    پاکستانی معروف گلوکار و اداکار آغا علی نے سوشل میڈیا پر اپنے نئے گانے میرا جہاں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا

    باغی ٹی وی : پاکستان کےمعروف گلوکار آغا علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پراپنے گانےمیرا جہاں کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کی انہوں نے اپنے اس گانے کے ذریعے بھارتی ظلم و ستم اور بربریت کا شکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا
    https://www.instagram.com/p/B-6ntQKD2c0/?igshid=16tfuxc4wiif2
    گلوکار و اداکار نے اپنے اس گانے میں کشمیر کے حالات دکھائے گئے ہیں ویڈیو میں بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم اور بربریت کی انتہا اور بے یارومددگار کشمیری کس طرح اپنے ہی گھروں میں بھارتی فوج کے کرفیو کی وجہ سےمحصور ہو کر رہ گئے ہیں اور بھارتی فوج کا تشدد بردا شت کر نے کے مناظر دکھائے ہیں

    آغا علی نے میرا جہان گانے کی ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ میں اپنے نئے گانےمیرا جہاں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خرا ج تحسین پیش کر رہا ہوں

    واضح رہے کہ گلوکار و اداکار نے یہ گا نا تین روز قبل ہی یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا تھا

  • کشمیری خاتون نے حج کیلئے جمع کی گئی رقم کرونا فنڈ میں عطیہ کر دی

    کشمیری خاتون نے حج کیلئے جمع کی گئی رقم کرونا فنڈ میں عطیہ کر دی

    ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون نے 11 لاکھ روپےجو انہوں نے حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے جمع کئے تھے کورونا وائرس سے نجات کے لئے عطیہ دے کرثابت کر دکھایا ہے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون خالدہ بیگم نے حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے 11 لاکھ روپے جمع کئے تھے جو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی کورونا وائرس فنڈ میں دے کر ثابت کر دیا کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

    ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کی ایک بوڑھی عورت خالدہ بیگم نے دنیا کو ایک بڑا پیغام دیا ہے خالدہ بیگم نے اپنی عمر کے آخری حصے میں ، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بھی مسلمان حج کرنا چاہتا ہے تاہم ، ان نے اپنا منصوبہ عالمی وبا کے پیش نظر ہو گیا

    خالدہ بیگم نے اس سال حج ادا کرنے کے لئے 11 لاکھ (5 لاکھ INR) کی بچت کی تھی لہذا عالمی وبا کے پیش نظر حج کا فریضہ اس سال اد اکیا جائے گا یا نہیں ابھی تک سعودی حکومت کی طرف سے واضح نظریہ سامنے نہیں آیا تاہم ان حالات کو دیکھتے ہوئے کشمیری خاتون نے اپنی رقم راہ خدا میں خرچ کرنے کا ارادہ کرلیا

    گذشتہ 234 دنوں سے کشمیرمیں مکمل طور پر لاک ڈاؤن نافذ ہے ، COVID-19 کے آغاز نے ہندوستان کی ریاست کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا ہے انڈیا کو کشمیر کے کرفیو کے بعد سے ہی سیاسی اور معاشرتی طور پر ہنگاموں کا سامنا ہے اس کے برعکس ، خالدہ بیگم جیسے مسلمان مودی کے ہندوتوا کے ایجنڈے کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ محبت کے ساتھ کیا جائے گا

    خالدہ بیگم نے حج کے لئے جمع کیا ہوا کا پیسہ ’خدمت بھارتی‘ کے نام سے فلاحی تنظیم کو دیا ہے جو آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے منسلک ہے آر ایس ایس بڑے پیمانے پر کشمیریوں اور مسلمانوں کے حقوق چھیننے کے لئے کوشاں ہے

    آر ایس ایس کے ایک کارکن نے کہا کہ خالدہ بیگم جی نے ملک میں اچانک پھیل جانے والی کووڈ 19 کے مسکل حالات میں جموں اینڈ کشمیر میں کئے گئے سیوا بھارتی کے فلاحی کاموں سے متاثر ہو کر پانچ لاکھ روپے فنڈ دینے کا اعلان کیا ہے

    خالدہ بیگم ایک بڑے دل کی مالک سماجی کارکن ہیں بوڑھی کشمیری عورت ، اپنی عمر کے آخری حصے میں ہونے کے باوجود ، ماضی میں کشمیریوں کے لئے ایک عظیم سماجی کارکن رہی ہیں کشمیری بیوروکریٹس کے کنبے سے تعلق رکھنے والی خالدہ جی میں بے لوث خدمت کرنے رحجان پایا جاتا ہے 79سالہ کشمیری خاتون کا اس بات پریقین ہے کہ اس نے کوویڈ 19 میں اپنی خوشی کے لئے جو رقم دی تھی ، اور وہ بجا طور ان کے حج سے زیادہ منافع ادا کریں گی

    یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب نسل یا فرقہ سے ہو ، ہمایوں سعید

  • تھائی لینڈ میں پھنسے پاکستانی فنکاروں کی اپنی ٹیم کے ہمراہ آج وطن واپسی

    تھائی لینڈ میں پھنسے پاکستانی فنکاروں کی اپنی ٹیم کے ہمراہ آج وطن واپسی

    پاکستان کے نامور اداکار محب مرزا، صنم سعید، سارہ لورین اور شمعون عباسی گزشتہ 2 ہفتوں سے اپنی ٹیم کے ہمراہ کورونا وائرس کے باعث تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے ہیں اور اب آخر کارحکومت نے ان لوگوں کی سُن لی ہے اور یہ لوگ ملک واپس آنے کے لیے تیار ہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان کے نامور اداکار محب مرزا، صنم سعید، سارہ لورین اور شمعون عباسی گزشتہ 2 ہفتوں سے اپنی ٹیم کے ہمراہ تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے ہیں یہ تمام اداکار اپنی ٹیم کے ہمراہ تھائی لینڈ میں فلم عشرت میڈ ان چائنا کی شوٹنگ میں مصروف تھے تاہم کورونا وائرس کے باعث کئی ممالک میں لگے لاک ڈاؤن اور پروازیں معطل ہونے کے بعد یہ پاکستان واپس نہیں آپائے

    لہذا اب تھائی لینڈ میں دیگر اداکاروں کے ساتھ پھنسے شمعون عباسی نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے اکاؤنٹ پراپنی ٹیم کی وطن واپسی کے حوالے ایک بین الاقوامی میڈیا کی خبر شیئر کی


    اداکار نے نے ٹوئٹر پر یہ خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تھائی لینڈ میں پھنسے پاکستانی فلم انڈسٹری کا عملہ آخر کار وطن واپس آرہے ہیں

    دوسری جانب اس خبر کا اعلان اداکارہ سارہ لورین نے بھی اپنے ٹویٹر اکؤنٹ پر کیا


    انہوں نے لکھا کہ آخر کار اس مشکل وقت میں ہمیں ایک امید کی روشنی نظر آئی ہے

    سارہ لورین نے پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی حکام کا بہت شکریہ جنکی جانب سے ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ ہمیں 14 اپریل منگل کے روز ایک خصوصی پرواز کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا

    واضح رہے کہ اداکار محب مرزا اور شمعون عباسی نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ انہیں تھائی لینڈ سے فوری پاکستان واپس لایا جائے کیوں کہ ان کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں کہ وہاں مزید دن گزارے جاسکیں

    ہمارے مسئلے کانوٹس وفاقی وزراء نے بھی لے لیا ہے شمعون عباسی