Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مثبت سوچ اور ذہنی سکون آنے والے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے ژالے سرحدی

    مثبت سوچ اور ذہنی سکون آنے والے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے ژالے سرحدی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ژالے سرحدی کا کہنا ہے کہ ہم حالات پر تو قابو نہیں پاسکتے ہیں لیکن ہم ان سے مقابلہ کرنے کا یا ان کو جواب دینے کا ایک بہترین طریقہ منتخب کر سکتے ہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ژالے سرحدی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی کچھ تصاویر شیئر کیں اور اپنی اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ خوش اور مثبت ہونا ایک انتخاب ہوسکتا ہے!
    https://www.instagram.com/p/B-6_6QkAvWY/?igshid=39bmu4147b1w
    اداکارہ نے لکھا کہ ہم اپنےآس پاس کے موجودہ حالات پر قابو تو نہیں پاسکتے ہیں لیکن ہم ان کو جواب دینے کا ایک بہترین طریقہ منتخب کر سکتے ہیں

    ژالے نے لکھا کہ مثبت ہونا آپ کو آپ کے لیے اور آپ کے پیاروں کے لیے نتیجہ خیز بنا سکتی ہے

    ژالے سرحدی نے لکھا کہ مثبت سوچ آپ کو ذہنی سکون اور مستقبل میں آنے والی کسی بھی چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے

    انہوں نے اپنی اس پوسٹ میں ہیش ٹیگ StayHome StayHealthy اور StaySafe بھی استعمال کیے

    اداکارہ نے ایک اور انسٹا گرام پوسٹ میں ہینڈ سینیٹائزر کے موجودہ حالات میں ڈیمانڈ پر مزاحیہ ٹک ٹاک کی ڈبنگ ویڈیو شئیر کی جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ ہینڈ سینیٹائزر میڈیکل فیملی کا وہ واحد بے روزگار لونڈا ہے جس کی اچانک سے گورنمنٹ جاب لگ گئی ہے
    https://www.instagram.com/p/B-__g0ZARQo/?igshid=1gj9o2jcni29f

    اژالے سرحدی نےاس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ قرنطینہ سے ایسے جذبات پیدا ہوتے ہیں

    اداکارہ ژالے نے اپی پوسٹ میں enjoy #stayhome #staysafe #stayhealthy #tiktok # بھی استعمال کئے

    علی ظفرنے موجودہ حالات میں ذہنی دباؤ کو ختم کرنے کا آسان طریقہ بتادیا

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

  • مودی کی حمایت کرنے پر منشا پاشا کی کنگنا رناوت پر شدید تنقید

    مودی کی حمایت کرنے پر منشا پاشا کی کنگنا رناوت پر شدید تنقید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا نے مودی کی حمایت کرنے پر بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا نے مودی کی حمایت کرنے پر بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر منشا پاشا نے اپنے ایک ٹوئٹ کے میں لکھا کہ کنگنا ہمیشہ سے اُن خواتین کے لیے بہترین مثال تھیں جو ہمیشہ سے اقربا پروری کے خلاف بات کرتی ہیں


    اداکارہ نے مزید لکھا کہ اپنی محنت اور صلاحیتوں سے اپنی پہچان بنانےاور نام کمانے والی لڑکی اب ایک ایسی حکومت کی حمایت کررہی ہے جو ظلم و جبر کا ساتھ دیتی ہے

    اپنی ایک اور ٹویٹ میں منشا پاشا نے لکھا کہ کنگنا ایک ایسی کرپٹ ریاست کا مسلسل ساتھ دے رہی ہیں جو ا پنے خلاف بات کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دے دیتے ہیں اور لوگوں کے لئے آواز نہیں بن سکتی

    پاکستانی اداکارہ نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں سے واقف ہونے کی ضرورت ہے جو اپنی اقدار کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں

  • بھارت وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کررہا ہے مہوش حیات

    بھارت وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کررہا ہے مہوش حیات

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور تمغہ امتیاز مہوش حیات نے کہا ہے کہ بھارت کورونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کررہاہے

    باغی ٹی وی : مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارت میں کورونا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کے پروپیگنڈ ہ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں ایک آرٹیکل ہندوستان میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کی آڑ میں نشانہ بنانے والی سازش کے نظریات کا حوالہ دیا جس میں مسلمانوں کو بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دارقرار دینے کے حوالے سے بات کی گئی ہے


    آرٹیکل کے مطابق حال ہی میں شمال مغربی دہلی کے کنارے واقع گاؤں ہریالی کے رہائشی 22 سالہ مسلم نوجوان محبوب علی کو انتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروپ نے بے رحمی سے لاٹھیوں اور جوتوں سے مارا یہاں تک کہ اس کی ناک اور کانوں سے خون بہہ نکلا علی حال ہی میں ایک مذہبی اجتماع سے واپس آیا تھااور انتہاپسند ہندوؤں کے مطابق وہ ملک بھر میں ہندوؤں میں کورونا وائرس پھیلانے کی اسلامی سازش کا حصہ تھا لہذا ان ہندوؤں کے مطابق اسے سزا ملنی چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اس نوجوان کو ہجوم نے نہایت بے رحمی سے مارا کہ وہ لہولہان ہوگیا

    مہوش حیات نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ آرٹیکل ابھی نظروں سے گزرا جب دنیا مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے متحد ہورہی ہے اس وقت ہمارے پڑوسی اس وبائی بیماری کو نفرت پھیلانے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں یہ کیوں لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں جب کہ وائرس نہیں کر رہا بہت شرم کی بات ہے

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں کورونا جہاد کے نام سےافواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ مسلمان خاص طور پر تبلیغی جماعت کے لوگ سارے ہندوستان میں کورونا وائرس پھیلانے میں ملوث ہیں

    ہاتھوں کے ساتھ ساتھ دل کو بھی صاف رکھیں مہوش حیات

    یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب نسل یا فرقہ سے ہو ، ہمایوں سعید

    کورونا کو منفی کیجیئے محبتوں اور احساس کو مثبت کیجیئے نعمان اعجاز

  • عدنان جعفرکا امریکی ٹی وی سیریز ہوم لینڈ کے ساتھ ہالی وڈ میں ڈیبیو

    عدنان جعفرکا امریکی ٹی وی سیریز ہوم لینڈ کے ساتھ ہالی وڈ میں ڈیبیو

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار عدنان جعفر نے معروف امریکی ٹی وی سیریز ہوم لینڈ کے ساتھ ہا لی وڈ انڈسٹری میں ڈیبیو کرلیا

    باغی ٹی وی : پاکستان فلم و ٹی وی انڈسٹری کے معروف اداکار عدنان جعفر نے معروف امریکی ٹی وی سیریز ہوم لینڈ میں پاکستانی آفیسر کا کردار ادا کر یں گے اداکار اس سیریز کے آٹھویں سیزن کی ایک قسط میں جلوہ گر ہوئے وہ ان فل فلائٹ نامی قسط میں عزیز نامی پاکستانی جنرل کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اور پاکستانی شائقین کو اس وقت خوشگوارحیرت میں مبتلا کردیا کہ جب انہوں نے اپنی پسندیدہ ٹی وی سیریز میں پاکستانی آفیسر کا کردار عدنان جعفر کو نبھاتے دیکھا

    امریکی ٹی وی سیریز ہوم لینڈ میں عدنان جعفر کا کردار اگرچہ ایک مختصر سا کردار ہے لیکن پاکستانی شائقین کے لیے پاکستانی اداکار کو امریکی سیریز میں دیکھنا خوشی کا باعث ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکار عدنان جعفر نے اپنے اس ہالی وڈ ڈیبیو کو اب تک خفیہ رکھا تھا اس قبل بھی اداکار جیو فلمز اور ہمدان فلمز کے اشتراک سے بننے والی ٹیلی فلم لعل میں بھی ایک ملٹری آفسیر کا کردار ادا کرچکے ہیں

    واضح رہے کہ 46 سالہ اداکارعدنان جعفر شوبز میں آنے سے قبل صحافی تھے انہوں نے 2015 کی فلم جلیبی کے ساتھ شوبز میں قدم رکھا اس کے بعد انہوں نے منٹو، مور اورپرواز ہے جنون، پروجیکٹ غازی، پنکی میم صاحب جیسی فلموں اور ڈراموں میں انہوں نے جاندار اداکاری کے جوہر دکھائے وہ میرا سائیں 2 اور رسوائی جیسے ڈراموں میں بھی کام کرچکے ہیں

  • ٹک ٹاک کپل اسد اور نمرہ کی غیر اخلاقی  ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    ٹک ٹاک کپل اسد اور نمرہ کی غیر اخلاقی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستانی نوجوان کپل اسد اور نمرہ ٹک ٹاکرز جن کی پچھلے دنوں شادی ہوئی تھی ان کی غیر اخلاقی ویڈیو لیک ہونے پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہے

    باغی ٹی وی : پاکستانی نوجوان کپل اسد اور نمرہ ٹک ٹاکرز کی غیر اخلاقی ویڈیو لیک ہونے پو فیس بک اور ٹویٹر پر صارفین مختلف طنز اور تنقید بھرے طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں اور ویڈیو کے لنک کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں لیکن اس ویڈیو کے پیچھے کی اصل کہانی کچھ اور ہی ہے اور کچھ اس طرح ہے
    https://twitter.com/All_To_learn/status/1250315064831119360?s=19
    https://free.facebook.com/story.php?story_fbid=918533448603935&id=100013418657512&_rdc=1&_rdr

    کہا جاتا ہے کہ ہرکمال کو زوال ہے کچھ اس طرح ہی اس کپل کے ساتھ ہوا ان کے مشہور ہونے کی وجہ ٹک ٹاک اور ان کی کم عمر میں شادی اور خاندانی اثر ورسوخ تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنا اسد نمرہ آفیشل کے نام سے یو ٹیوب چینل بنا لیا جس پر یہ لوگ پرینکس فنی ویڈیوز اور ویلاگز وغیرہ بنا کر اپ لوڈ کرتے تھے اس سے ان کو کافی شہرت حاصل ہوئی

    تاہم ان کی حالیہ غیر اخلاقی ویڈیو کی اصل کہانی کچھ یوں ہے کہ اسد اپنی اہلیہ نمرہ کو سرپرائزڈ کرنے کے لئے ایک ویلاگ بنا رہا تھا جس میں وہ ایک کمرے میں لڑکی کے ساتھ ہے اور نمرہ اوپرآکر غصہ ہوتی ہے یہ سب پری پلاننگ تھا جب نمرہ اندر آ کر غصہ ہوتی ہے تو لائٹس آن ہو جاتی ہیں ویڈیو کے آخر مین بتایا جاتا ہے کہ یہ سب پرینک تھا اور پہلے ہم لوگوں کے ساتھ پرینکس کرتے تھے آج نمرہ کے ساتھ پرینک کیا یہ ویڈیو وائرل ہورہی ہے اور لوگ غلط سمجھ رہے ہیں حالانکہ یہ غلط ہتے بھی لیکن جیسا سمجھا جا رہا ہے ویسا کچھ نہیں ہے انہوں نے تو پرینک کیا سب پری پلان تھا لیکن انہیں نہیں پتہ تھا کہ سب الٹا ہو جائے گا

    اس جوڑے نے چھوٹی سی عمر میں کافی شہرت اور پیسہ حاصل کیا ان کی شادی کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر شئیر کرنے کے بعد انہیں شہرت حاصل ہوئی
    4 فروری 2020 کو پاکستان کے کم عمر ترین اور ٹک ٹاک سے مشہور ہونے والے جوڑے اسد اور نمرہ کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پروائرل ہوئیں اور پورے پاکستان کی توجہ اور شہرت حاصل کی سب لوگ حیران ہو تھے کہ اس عمر میں جہاں لوگ اپنا فیوچر پلان کر رہے ہوتے ہیں ان لوگوں نے اپنی شادی کو پلان کیا

    نکاح نے ہماری محبت کو پاکیزہ کر دیا سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والےپاکستانی کم عمر جوڑے کی داستان

    میانمار کے مذہبی مقام پر غیر اخلاقی ویڈیو بنانے پر عوام سراپا احتجاج

    ویڈیو اپنے والد کے ساتھ پرینک کرنے کے لئے بنائی تھی شاہ میر

    ٹک ٹاک پر نا مناسب ویڈٰیووائرل ہونے پراستا د اور طالبہ پر پابندی عائد

    عہد وفا کا مرکزی کردار علیزے شاہ بھی غیر اخلاقی تصویر لیک ہونے کا شکار بن گئیں

    وڈیوزلیک کرنے والوں کا پتہ چل گیا لیکن ڈرتھا کہ کہیں وہ جان کے دشمن نہ بن جائیں‌

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ

  • امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    مایوس دل میں اب بھی کوئی امید چراغ ہے
    بجھے انگاروں سے کیا اب سلگتی کوئی آگ ہے

    کوئی خطا کوئی غلطی کوئی نادانی ہوجائے
    فسون عشق میں گناہگار دل بھی بے داغ ہے

    نیند سے کوسوں دور وسوسوں کی کروٹیں ہیں
    کیسے کٹے کی یادوں کی رات الجھا اب دماغ ہے

    اب سمجھ نہیں آرہی کیسے سمجھاؤں ہمسفر کو
    نہ کوئی راستہ نہ سوچ نہ خیالوں میں کوئی جاگ ہے

    پہلی ملاقات طے ہوجائے پھر زندگی سہل ہوجائے گی
    کس کی ہاں کس کی نہ دونوں کی دوڑ بھاگ ہے

    اب امید سے یقین کی جانب سفر ہے سخی
    نجانے کیا سوچ کر یہ دل باغ باغ ہے

    #قلم_سخی

  • لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!!
    (تحریر:جویریہ چوہدری)۔

    لاک ڈاؤن کیا ہوا،گھر سے ایک عجیب سی محبت ہو گئی ہے…
    جہاں کئی نقصانات سر پر منڈلا رہے ہیں وہیں کئی اخلاقی سنوار کا بھی احساس ہو رہا ہے…
    عجب سی خاموشی کا حصار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے…
    غیبت،چغلی اور جھوٹ کے مواقع کم ہو گئے ہیں…
    ابھی صبح ہی والدہ صاحبہ سے ذکر کیا ہے کہ امی جان !!!
    یہ سچ ہے کہ بہت زیادہ شہرت،آنا جانا اور گپیں انسان کے بہت سے راز کھل جانے کا باعث ہے،کبھی ہم کسی کی برائی سنتے ہیں اور کبھی کسی کی برائی کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں…
    غرض دونوں طرح سے گناہ سمیٹتے ہیں…
    ایک ماہ ہونے کو آیا ہے اس دوران کوئی بھی بندہ ایسا نہیں آیا جو ذاتی مخاصمت یا گھریلو جھگڑوں کا ہی تذکرہ لیئے بیٹھا ہو…
    یوں ذہن میں آسودگی اور دل بوجھ سے آزاد آزاد لگتا ہےکیونکہ غلط بات چاہے ذرا سی ہی کیوں نہ ہو،ذہنی و روحانی اذیت کا باعث ضرور بنتی ہے…
    نماز کی ادائیگی بروقت کرنے کے لیئے ہمارے پاس اوّل وقت موجود ہے…
    گھر کے سبھی افراد الحمدللہ اللّٰہ اکبر کی صدا پر متحرک نظر آتے ہیں،چنانچہ نماز چھوٹنے یا لیٹ ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…
    گھر کے کام کی روٹین بھی بہت بہتر انداز میں چلنے لگی ہے بلکہ اضافی کام جو کئی مہینوں سے ملتوی رکھے گئے تھے۔۔۔
    انہیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے…
    میں نے بھائی سے کہا کہ چلیں آپ چارپائی پر چڑھ جائیں،میں آپ کی مدد کرتی ہوں تو چھت کے تمام پنکھے صاف کر دیئے جائیں…
    صفائی کے بعد میل اترنے سے گویا وہ بھی چمکتے ہوئے مسکرا رہے ہوں…
    عموماً تو گھر میں چولہا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن والدہ صاحبہ کوئی بھی اضافی کام مثلاً،حلوہ بنانا،مربہ بنانا،یا سحری کی تیاری کے لیئے ہمیشہ سے ہی آگ جلانا پسند کرتی ہیں…
    گھر کی لکڑی وافر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لکڑی کے بھاری بلاک پڑے تھے،سو موقع غنیمت تھا…
    بھائی جان جو لاڈلے اور ایسے کاموں میں قدرے سست طبیعت کے مالک ہیں…
    ان کی ورزش اور جم جانے کا بہترین انتظام میں نے یہ کیا کہ کلہاڑا،ہتھوڑا،چھینی وغیرہ سب اوزار اس جگہ پہنچا کر ایندھن کا سامان بنانے پر آمادہ کیا…
    وہ قائل کرتے رہے کہ کوئی مزدور مل جائے گا تو کروا لیتے ہیں…
    مگر یہ ہاتھ اور ہمت کس لیئے ہیں؟
    میں نے استفسار کیا…
    اچھا چلو میں بناتا ہوں،اور آپ سمیٹے جانا…
    اٹس او کے…آئی ایم ریڈی۔۔۔
    اور یوں وہ چارو نا چار اس کام میں لگ گئے،
    تین دن میں لکڑیوں کا کافی بڑا ڈھیر جمع ہو گیا،جنہیں ترتیب سے جوڑنا میں نے تھا…
    سسٹر کی ڈیوٹی لگی کہ آپ سارے جالے برش سے صاف کر دیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران بڑی صفائی کی ضرورت نہ پڑے اور کمرے صاف ستھرے ہوں…
    آسمانی بجلی کی چمک پڑنے سے حویلی کا ایک درخت جھلس چکا تھا…
    والد محترم کو ہم نے مشورہ دیا کہ وہ کاٹ دیا جائے کیونکہ اب کسی کام کا نہیں…
    آپ اوپر چڑھ کر آری چلائیں،
    ہم سب نیچے سے ساری صفائی کر دیں گے…
    اچھا آری نہیں مل رہی…؟
    پتہ نہیں کہاں رکھی ہے آپ نے،
    ایسی چیزیں آپ ہی تو سنبھال دیتی ہیں…
    مجھ سے سوال ہوا…؟
    مجھے لگا اب معاملہ پینڈنگ ہو گیا…
    شاید کوئی لے کر گیا ہو تو واپس نہ کی ہو ابھی…
    میں نے ذہن پر زور دیا…
    تب یاد آئی کہ وہ تو شیڈ پر سنبھالتے ہوئے پیٹی کے پیچھے گر گئی تھی…
    اللّٰہ اللّٰہ کرکے بمشکل آری نکالی اور پیش کی…
    درخت کٹ گیا اور ہم سب اُسے سنبھالتے جا رہے تھے…
    چھوٹے ٹکڑوں میں کر کے تہہ لگا دی گئی…
    اور اُدھر امی جان زبردست سا حلوہ بنا چکی تھیں کہ سب فیملی ممبرز ٹف کام میں جتے ہوئے تھے…
    بازار کے وقت،بے وقت کے چکر محدود ہو گئے ہیں…
    کھانا تو اب بھی تین وقت ہی کھایا جاتا ہے مگر قریبی کریانہ سٹور سے بھی تو سب مل ہی جاتا ہے…
    وہ پہلے کی لمبی لسٹ،بیس سے تیس ہزار کے بِل کو چھُوتا سودا سلف اب پانچ چھ ہزار میں بھی گزارا کرا رہا ہے…
    بس ہمیں سٹاک رکھنے،اور چیزیں دھڑا دھڑ خرید کر ایکسپائر کر دینے کا بھوت سوار ہے…
    ضرورت ہے یا نہیں گھر میں ہونا ضروری ہے بس…
    سوچا لاک ڈاؤن اگر بڑھ جاتا ہے تو گرمیوں کے کپڑے؟
    ضمیر نے کچوکہ لگایا…ابھی پچھلی گرمیوں کے تین سوٹ تو ایسے بھی پڑے ہیں جنہیں ہاتھ تک نہیں لگایا،صرف بنوائے تھے…؟؟؟
    دل میں اطمینان اُبھرا کہ چلو اس بار نہ بھی لیئے تو نہ سہی۔
    پہلے سے موجود بوسیدہ کر کے ہی حساب دینے کے بار کو کم کریں گے۔

    ایک کام ابھی تک ذہن میں گردش کر ہی رہا تھا کہ اگر پچھلے سال کی پڑی گندم کو صاف کر کے دھوپ لگوا دی جائے تو کیسا اچھا ہے…؟
    لیکن ساتھ کون دے؟
    لے دے کر بھائی نظر آئے،
    کیوں بھیا یہ کام رہ گیا ہے،کیا کر نہ دیا جائے؟
    میں نے دھیرے سے سوال کیا…
    بھئی لاک ڈاؤن تے قسمت نال آ گیا اے…
    میں گھر آ گیاں تے کم کروا کروا کے مرمت تو نے کر دتی اے…
    اچھا،چلیں آپ کی مرضی،موڈ نہیں تو رہنے دیں؟
    نہیں کل کریں گے ان شآ ء اللّٰہ…
    تین دن تک اس گندم کی صفائی کے دوران گرمی اور دھوپ سے جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو مئی، جون کی تپتی دھوپ میں باہر اکھاڑے پر تپتے کسان یاد آئے کہ کیسے وہ محنت کر کے دانہ دانہ سنبھال کر قوم کے گھر تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں…!!!
    خیر اس ذمہ داری کو نبھا کر فرش دھوتے ہوئے جب پسینے کے بہتے قطرے فرش دھوتے پانی میں شامل ہوئے تو ہم آہ بھر کر بیٹھے کہ:
    ہمارا پسینہ بھی شامل ہے اے گھر تری تزئین میں…
    ہم جب نہیں ہوں گے،ہمیں بھی یاد کر لینا…!!!
    اب رمضان سے قبل میرا آخری ٹارگٹ اپنی مطالعہ کی بُکس کو ترتیب سے رکھنا اور الگ کرنا تھا…
    سو یہ کام کر کے ہم لاک ڈاؤن کے لمحات سے خوب مستفید ہوئے…
    موٹاپا تو پہلے ہی ہم سے دور بھاگتا ہے،اب غم میں ڈوبے کلائی کا ناپ لیا تو وہ پہلے سے اور کمزور لگ رہی تھی…
    لیکن اس جسم کا،اس صحت کا،قوت کا حق ادا کرتے رہنا چاہیئے…
    اس کے مثبت اور بہترین و تعمیری استعمال کے بے شمار فوائد ہیں
    اور اللّٰہ تعالٰی سے عافیت کا سوال بھی کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی خیر نہیں__!!!”
    اس لاک ڈاؤن نے سکھا دیا کہ ہم یہ صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے پیدا کرتے ہیں…
    ہر کام انسان خود کر سکتا ہے صحت و عافیت کے باوجود کام کو ہاتھ تک نہ لگانا فیشن نہیں اپنے ساتھ زیادتی اور اپنے بدن کو بیماریوں کا گھر بنانے کی دعوت ہے…
    اللھم بلغنا رمضان…
    اے اللّٰہ !
    ہمیں رمضان کی رحمتوں کا حقدار بنانا…بخشش کا مستحق بنانا اور ہماری غلطیوں سے درگزر فرما کر ہمارے احوال پر رحم فرمانا…
    ہمیں متقین کی لسٹ میں شامل کرنا…اللّٰہ ہم سے حساب آسان لینا…
    اے اللّٰہ ہمیں اس زندگی کی نعمتوں سے ایمان کے ساتھ مستفید ہونے اور آخرت میں فردوس و عدن کے باغوں میں سکون عطا کرنا…
    کہ ابدی سکون تو نے جنت کا ہی خاصہ رکھا ہے…آمین۔
    وطنِ عزیز سمیت تمام دنیا پر چھائی آفت کے اثرات سمیٹ لے…
    اس لامتناہی بحث اور شر سے خیر کا پہلو نکال دے…
    سو ان لمحات کو ڈپریشن کی بجائے مثبت استعمال میں گزاریں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ان ایام میں حرزِ جاں بنا لیں کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
    ولیسعک بیتک…”اور اپنے گھر میں رہو”
    جب انہوں نے سوال کیا تھا کہ نجات کیا ہے؟
    اگر باہر کی رنگ رنگیلی دنیا سے کچھ وقت کے لیئے کٹ گئے ہیں تو اندر کی دنیا کو رنگین کیجیئے…
    صبغۃ اللّٰہ سے…
    اور آسانیوں کا سوال کرتے رہیئے تاکہ میرے وطن کے غریب آدمی کی بھی پریشانیاں ختم ہو جائیں…
    لوگ اس غیر مرئی وائرس سے بچاؤ کرتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے لیئے نہ لڑیں…
    اے گُلشن تو شاد رہے،آباد رہے
    ترا اک ایک لمحہ مصائب سے آزاد رہے…تیرے دامن میں بستے ہر انسان کی خیر ہو…
    جہاں بھر میں انسانیت کے احترام کی ریت جڑ پکڑے اور ہمارے ہاں کے لاک ڈاؤن سے بہت پہلے عشروں سے کئی خطوں کے لاک ڈاؤنوں سے نبرد آزما "انسانوں” کی بھی مشکلات کم ہوں…!!!!!(آمین)۔
    ==============================

  • آثارِ سحر…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    ہم کیا تھے،کہاں ہیں،ٹُوٹ سے گئے اور بِکھر گئے…
    رستے ہمارے وہ کیا ہوئے،کہ سُراغِ منزل بچھڑ گئے؟

    ارفع روایات کے امین ہم، احساس کے مکین تھے…
    یہ کس ڈگر پہ چل بیٹھے کہ اُن باتوں سے بپھر گئے…؟

    حق،ناحق ہے چیز کیا،حلال و حرام سے بے پرواہ…
    یہ کس کے حق پہ ڈال کے ڈاکہ،ہم حق سے بھی مفر گئے…!!!

    راہوں میں اپنی بچھا کر کانٹے،بُجھا کر چراغِ شبِ آخر…
    اندھیروں میں ڈوب کر ہاں کیوں آثارِ سحر گئے…؟

    یقیں محکم،عملِ پیہم،یکجہتی و عَزم رہے…
    کہ یہی وہ اصول ہیں جن سے کاٹے ہر عَہد میں سَفر گئے…!!!!!
    =============================

  • انساں اور انسانیت…  بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت… بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    اکثر لوگ ملتے ہیں…
    چھاؤں سے دھوپ میں…
    چلتے چلتے جو ڈھلتے ہیں…
    وہ رفاقتوں کے فریب میں…
    محبتوں کے آسیب میں…
    منزلوں کے جنون میں…
    دعوؤں کے ستون میں…
    رنگِ منافقت بھرتے ہیں…
    جھوٹ کی ملمع کاری سے…
    لفظوں کی آبیاری سے…
    ہمارے گرد وہ اکثر…
    گہرا حصار کَستے ہیں…!!!
    ساتھ کا یقین دلا کر…
    لفظ وفا کا مشروب پلا کر…
    مگر قدم پیچھے ہٹاتے ہیں…
    زباں سے خوش وہ رکھتے ہیں…
    دلوں کو چیر دیتے ہیں…!!!
    یہ وقت جب پلٹا کھاتا ہے…
    شب اور سحر دکھاتا ہے…
    تو منزل کی دہلیز پہ بیٹھ کر…
    شفق کی گہری سُرخی میں کھو کر…
    اُفق سے نکلتے آفتاب کی…
    جگمگاتی کرنوں میں…
    سب چہرے یاد آتے ہیں…
    اصل اپنی دکھاتے ہیں…
    ذہن کے دریچوں پر منڈلا کر…
    شفق میں ڈوب جاتے ہیں…!!!
    تب ستاروں کی روشنی میں…
    ایسے رویوّں کا ڈسا ہوا…
    تھکا مسافر پھر راہ تلاشتا ہے…
    راہ کے سب پتھر…
    تنہا ہی وہ تراشتا ہے…!!!
    راہوں کی سب رکاوٹیں…
    عزم سے اپنے وہ ہٹا کر…
    منزلوں کو پا کر…
    آثارِ رہ بھی چھوڑتا ہے…
    منافقانہ رویوّں کی…
    سب کڑیاں وہ توڑتا ہے…!!!
    گہری شب میں ہچکولے کھا کر…
    راہ کے طوفاں و بگولے سہہ کر…
    راز اک گہرا پاتا ہے…
    آزمائش کا چکر اُسے…
    سبق بڑا سکھاتا ہے…
    تب دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے…
    گہرائی میں اک کرن…
    کوئی احساس کی چمکتی ہے…
    اپنی راہ میں آئے اندھیروں میں…
    اُس احساس کی شمع جَلا کر…
    وہ دوسروں کو راہ دکھاتا ہے…
    خود پہ لگے زخموں کی ٹیسوں سے…
    وہ اوروں کو بچاتا ہے…
    اک گہرے درد سے گزر کر ہی…
    انساں انسانیت کو پاتا ہے…!!!
    ==============================