بمبئی کلاسک بریانی
اجزاء:
چکن ایک کلو
چاول تین پاو
پسی لال مرچ دو کھانے کے چمچ
ادرک لہسن پیسٹ ایک کھانے کا چمچ
بریانی مصالحہ تین کھانے کے چمچ
ہلدی ایک چائے کا چمچ
بُھنا کُٹا زیرہ ایک چائے کا چمچ
اورنج کلر فوڈ ایک چٹکی
نمک ڈیڑھ چائے کا چمچ
دہی دوکپ
زعفران آدھا چائے کا چمچ
کریم دو کھانے کے چمچ
کیوڑہ واٹر ایک کھانے کا چمچ
ہری مرچ چار عدد
آلو تین عدد
لونگ دو عدد
ٹماٹر سلائس تین عدد
بڑی الائچی دو عدد
ثابت کالی مرچ آٹھ عدد
سبز دھنیا آدھی گٹھی
پودینہ ایک چوتھائی گٹھی
تیل آدھا کپ
ترکیب:
چکن میں تمام اجزاء مکس کر کے ایک گھنٹے کے لیے میرینیٹ کر لیں اس دوران چاولوں میں نمک ڈال کر ابال لیں اب ایک پین میں ایک چوتھائی کپ تیل گرم کریں پھر ایک چوتھائی کپ پانی ڈال کر آلو کے سلائس پھیلا دیں پھر اس میں میرینٹ کیا چکن ٹماٹر ثابے مصالحہ ہری مرچ اور تیل ڈال دیں پھر ہرا دھنیا پودینہ اور اُبلے چاول ڈال دیں اب اسےتوے ہر رکھ کر پانچ منٹ تیز آنچ پر پکائیں اس کے بعدآنچ دھیمی کر کے آدھا گھنٹہ پکائیں یہاں تک کہ چکن اور چاول تیار ہو جائیں
Author: عائشہ ذوالفقار
-

بمبئی کلاسک بریانی بنانے کی ترکیب
-

ہونٹوں کو خُشکی اور پھٹنے سے بچا نے کے لئے آسان طریقے
ہونٹ کی تر وتازگی کو قائم رکھنا خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ خوبصورتی کو جانچنے والے سب سے پہلے چہرے کا مطالعہ کرتے ہیں اور اگر آپ نے کسی کے حُسن کی تعریف شاعر ی میں پڑھی یا سُنی ہو تو آپکوپتہ ہوگا کہ وہ گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں کے قصیدے لکھتے ہُوئے کوئی پردہ نہیں رکھتےہونٹوں کا خُشک ہونا اور قُدرتی گلابی رنگ ختم ہونا ویسے تو ہر موسم کی بیماری ہے اور چونکہ ہونٹوں پر موسمی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے بال اور آئل گلائینڈز نہیں ہوتے اس لیے سردیوں کی خُشک ہوا انہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے ہونٹوں کو نرم و ملائم اور گُلابی رکھنے کے چند آسان طریقے مندرجہ ذیل ہیں جن پر عمل کر کے آپ بھی اپنی شخصیت کو جاذب نظر اور پُرکشش بنا سکتے ہیں
پانی زیادہ پیئں:
ہماری جلد کو تروتازہ رہنے کے لیے نمی کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح ہونٹ بھی نمی کے بغیر تروتازہ نہیں رہتے اور خُشک ہوکر جہاں رنگ بدلتے ہیں وہاں خُشک جلد کے کھچنے سے ہونٹوں کی جلد پھٹتی ہے اس لیے سردی ہو یا گرم روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی ضروری پیئں
ہونٹوں پر زُبان نہ پھیریں:
ہونٹوں پر بار بار زُبان پھیرنا ایک ایسی عادت ہے جس پر تھوڑی سے توجہ کے بعد قابو پایا جا سکتا ہے اور اس پر قابو رکھنا بہت ضروری بھی ہے کیونکہ بار بار ہونٹوں پر زُبان پھیرنا ہونٹوں کو خشک کر دیتا ہے اور ہونٹوں کی خُشکی سے ہونٹ پھٹنے لگتے ہیں
وٹامن بی استعمال زیادہ کریں:
جسم میں وٹامن بی کی کمی جہاں نظام انہضام کو متاثر کرتی ہے وہاں اس کمی کے باعث ہونٹوں کے کنارے خُشک ہوکر پھٹنا شروع کر دیتے ہیں اور ہونٹوں کے کناروں کا ایسے پھٹنا وٹامن بی کی کمی کی بڑی نشانی ہے وٹامن بی کی کمی سے ہونٹوں کے پھٹنے کے ساتھ ساتھ مُنہ میں چھالے بھی پڑ سکتے ہیں ہونٹوں کو تروتازہ اور پھول کی پتیوں جیسا رکھنے کے لیے وٹامن بی سے بھرپُور کھانوں کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں خاص طور پر مچھلی، مُرغی، سُرخ گوشت، دُودھ، براؤن چاؤل، باجرہ، بادام، سُورج مُکھی کے بیج، پالک اور سبز پتوں والی سبزیاں اپنی خوراک میں شامل کریں
ہونٹوں کو تیز روشنی سے بچائیں:
سُورج کی تیز روشنی خاص طور پر گرمیوں میں جہاں جلد کو نقصان پہنچاتی ہے وہاں ہونٹوں کی رنگت کو بھی گہرا کرنے کا باعث بنتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے ایسی روشنی میں ایسے کریم بام یا لوشن جو سُورج کی روشنی سے جلد کو متاثر ہونے سے بچاتے ہیں ہونٹوں پر بھی استعمال کر سکتے ہیں خاص طور پر ایلوویرا کا چھلکا اُتار کر اسے اچھی طرح باریک پیس کر جل بنا کر ہونٹوں پر استعمال کرنا انتہائی مُفید ہے
ہونٹوں کی صفائی ایسے ہی ضروری ہے جسے جسم کے باقی حصوں کی صفائی ضروری ہوتی ہے آپ اس کے لیے لیموں کا استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ لیموں کے اندر قُدرتی بلیچ کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ ہونٹوں پر پڑے داغ آسانی سے ختم کر دیتا ہے اسکے علاوہ زیتون کے تیل میں شُوگر پاؤڈر ڈال کر اس سے بھی ہونٹوں کو صاف کر سکتے ہیںاگر آپ کے ہونٹ موسم کی سختی کو برداشت نہیں کر پاتے تو شہد میں لیموں کے چند قطرے شامل کر کے ہونٹوں پر لگانے سے آپ کے ہونٹ فوری نرم ہو جائیں گے اور شہد اور لیموں کا لیپ ہونٹوں پر موسم کے خلاف قُدرتی فائر وال کا کام کرے گا
چونکہ ہونٹوں پر آئل گلائینڈز نہیں ہوتے اس لیے ہونٹوں کی خُشکی کو دُور کرنے اور ان کی رنگت کو گُلابی کرنے کے لیے آپ زیتون، سرسوں اور لونگ کا تیل ہونٹوں پر لگائیں خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے انگلی سے تیل کا ہلکا ہلکا مساج کریں
باریک اورپتلے ہونٹوں کے لیے:
باریک اور پتلے ہونٹ موثر طریقے سے موٹے تندرست اور توانا کرنا آجکل جدید میڈیکل سائنس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہےاور اسکے لیے ڈرماٹالوجیسٹ ڈاکٹرز ڈرمل فلر جویڈرم کا ٹیکہ لگوانے کا مشورہ دیتے ہیں یہ طریقہ علاج بہترین اور محفوظ ہے جس سے یقینی نتائج ملتے ہیں اور زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے جو باریک ہونٹوں میں اُبھار پیدا کرتا ہے اور اُن کی رنگت کو قُدرتی کیمیا سے نکھارتا ہے اور اسے آجکل بہت سے میڈیا پر نظر آنے والے افراد استعمال کر رہے ہیں اس طریقہ علاج کا ایک ٹیکہ ہی کئی مہینوں اور بعض اوقات سالوں کے لیے کافی ہوتا ہے اور نقصان دہ نہیں ہوتا
روزانہ رات کو سوتے وقت لیموں کا رس اور شہد ملا کر ہونٹوں پر لگا لیں اور پھر سو جائیں کچھ ہی دنوں میں ہونٹ گلابی ہو جائیں گےہونٹوں کی قدرتی رنگت بحال کرنے کے لئے گائے کا کچا دودھ ہونٹوں پر لگائیں اس کے علاوہ ہونٹوں کی رنگت بحال کرنے کے لئے بالائی لگانا بھی مفید ہے
گلیسرین عرق گلاب اور لیموں کے چند قطرے باہم ملا کر رات کو سونے سے پہلے ہونٹوں پر لگائیں
پسی ہوئی پھٹکری عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر رات کو ہونٹوں پر لگائیں ہونٹوں کی سیاہی مائل رنگت دور ہو گی اور ہونٹ نرم ہوجائیں گے اس کے علاوہ اس سے ہونٹ پتلے بھی ہوں گے
-

جسم میں رونما ہونے والی کیلشیم کی کمی کی نشانیاں
کیلشیم ہمارے جسم میں استعمال ہونے والا ایک انتہائی اہم منرل ہے جو ہڈیوں، دانتوں، پٹھوں اور دل کو صحت مند رکھنے کے علاوہ بھی ہمارے جسم کو فعال رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور اگر ہم کیلشیم پُوری مقدار میں نہیں کھا رہے تو یہ ہمارے جسم میں کیلشیم کی کمی کو پیدا کر کے کئی دائمی بیماریوں کا باعث بنتا ہے اور خاص طور پر خواتین 30 سال کی عُمر کے بعد اس کمی کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اگر بچے اس کی کمی شکار ہو جائیں تو اُن کی جسمانی نشوونما میں کمی رہ جاتی ہےکیلشیم کی کمی پیدا ہونے پر عام طور پر کوئی واضع علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس سے پتہ چلایا جاسکے کہ جسم میں کیلشیم کی کمی ہے لیکن اس کی کمی سے پیدا ہونے والی چند علامات ایسی ہیں جن کے ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ نشاندہی ہو سکے کے جسم میں واقعی کیلشیم کی کمی ہے اور وہ علامات درجہ ذیل ہیں
شدید تھکاوٹ:
کیلشیم کی کمی کی صورت میں جسم شدید تھکاوٹ محسوس کرتا ہے سُستی اور کاہلی اور توانائی کا فُقدان پیدا ہوتا ہے مزید علامات میں سر کا ہلکا محسوس ہونا چکر آنا اور دماغ کے آگے دھند کا چھا جانا وغیرہ کے ساتھ توجہ میں کمی چیزوں کا بھولنا اورمعاملات کو حل کرتے وقت دماغ کا اُلجھن کا شکار ہونا یعنی کنفیوز ہونا وغیرہ شامل ہیں
پٹھوں میں کھنچاؤ:
پٹھوں میں کھنچاؤ درد اور کھلیاں پڑنا کیلشیم کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جس میں عام طور پر لوگ ٹانگوں اور بازؤں میں چلتے پھرتے اور کام کرتے ہُوئے درد محسوس کرنا شروع کرتے ہیں مزید علامات میں وہ ان اعضا کا سُن ہوجانا اور ہاتھوں، بازوں، ٹانگوں اور پیروں اور مُنہ وغیرہ میں سوئیوں کا چُھبنا محسوس کرتے ہیں اور یہ مزید علامات کیلشیم کی شدید کمی کی نشانیاں ہیں مگر اور بھی کسی بیماری کی وجہ ہو سکتی ہیں اور ان علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوجاتا ہے
ہڈیوں کی بیماریاں:
کیلشیم ہڈیوں کی صحت کو قائم رکھنے کے لیے بنیادی منرل ہے ہڈیوں میں کیلشیم کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے مگر اگر جسم میں کیلشیم کی کمی واقع ہو جائے تو جسم یہ کمی ہڈیوں کی کیلشیم سے پُوری کرنی شروع کر دیتا ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں باریک ہوجاتی ہیں اور معمولی چوٹ سے ٹُوٹ بھی سکتی ہیں
دانت:
دانتوں میں کیلشیم کی ایک بڑی مقدار سٹور ہوتی ہے اور جب جسم میں کیلشیم کی کمی ہوتو وہ یہ کمی پُوری کرنے کے لیے دانتوں کی کیلشیم بھی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جس سے دانت کمزور مسوڑھوں میں تکلیف اور دانتوں کی ساخت میں تبدیلی اور دانتوں میں خلاء جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اگر یہ کمی چھوٹے بچوں میں ہوجائے تو اُن کے دودھ کے دانت دیر سے نکلتے ہیں
ناخن اور جلد:
کیلشیم کی کمی ناخنوں کی ساخت بدل دیتی ہے اور اس سے ناخن خُشک ہو جاتے ہیں ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور کھردرے ہو جاتے ہیں اور شدید کمی سے سر کے بال چھوٹے چھوٹے گول سپاٹس میں جھڑ جاتے ہیں جسے عام طور پر بال جھڑ سمجھا جاتا ہے کیلشیم کی کمی کی علامات جلد پر بھی ظاہر ہوتی ہیں اور جلد کی بہت سی بیماریاں کیلشیم کی کمی سے جُڑی ہیں خاص طور پر ایگزیما اور چنبل کی بیماری کیلشیم کی کمی سے ہی پیدا ہوتی ہیں
حیض سے پہلے تکلیف:
خواتین کی اس بیماری کی ایک وجہ کیلشیم کی کمی بھی ہے اور ایک میڈیکل تحقیق کے نتائج کے مُطابق روزانہ 500 ملی گرام کیلشیم کھانے والی خواتین جو اس بیماری میں مُبتلا تھی میں جہاں اس بیماری پر قابو دیکھا گیا وہاں اُن کا مُوڈ بھی بہتر ہُوا اور اُن کے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ دیکھا گیا
ڈپریشن:
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلشیم کی کمی ہمارے مُوڈ کو خراب کرنے کا باعث بن سکتی ہے اس کی وجہ سے ڈپریشن جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے
اگر آپ ان علامات میں سے کوئی ایک یا ساری محسوس کرتے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کریں اور اپنا کیلشیم لیول چیک کروائیں تاکہ وہ آپ کو کیلشیم سپلیمنٹ وغیرہ لکھ کر دے اس کے ساتھ کیلشیم سے بھرپُور کھانے جیسے دُودھ، مکھن سبز پتوں والی سبزیاں، ڈرائی فروٹس، گوشت، مچھلی وغیرہ کا استعمال بھی زیادہ کریں -

کُھلی فضا میں مچھروں سے بچنے کے آسان ٹوٹکے
کُھلی فضا میں مچھروں سے بچنے کے آسان ٹوٹکے
موسم کے خوشگوار ہونے اور گرمی کے ختم ہونے کے ساتھ ہی جہاں ہم کھلی فضا میں زیادہ وقت گُزارنا چاہتے ہیں وہاں مچھر بھی ہمارے انتظار میں وہیں بیٹھے ہوتے ہیں تاکہ ہمارا خون پی سکیں یہ ہمارا کُھلی فضا میں بیٹھنا محال کر دیتے ہیں خاص طور پر پیڑ پودوں کے پاس مچھروں کی فوج ہمارا ایسا استقبال کرتی ہے کہ ہم وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور آجکل تو پاکستان میں ڈینگی مچھر بھی کافی تعداد میں اپنی افزائش کر چُکے ہیں اور ڈینگی کے کاٹنے کا خوف ہمیں باہر نکلنے سے روکتا ہے
جنگلی پودینے کا تیل:
یہ تیل آپ کوکسی بھی پنسار سے مل جائے گا اور اسے جسم پر ملنے سے مچھروں سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک بچا جا سکتا ہے
دارچینی کا تیل:
دارچینی کا تیل جہاں کھانوں کو خوش ذائقہ بناتا ہے وہاں مچھروں کو دارچینی کے تیل کی خُوشبو سے نفرت ہے، دار چینی کا تیل مچھروں کے انڈوں کو بھسم کر دیتا ہے اور مچھروں کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا دو چمچ پانی میں آدھا چمچ دارچینی کا تیل مکس کرکے جسم پر مل لیں اور مچھروں سے بے فکر ہوجائیں
ٹیٹری آئل:
ٹی ٹری آئل جہاں اینٹی سیپٹیک اینٹی مائیکروبل اینٹی اینفلامیٹری خوبیوں کا حامل ہوتا ہے وہاں یہ آئل حشرات وغیرہ خاص طور پر مچھروں کو دُور رہنے پر مجبور کردیتا ہے ٹی ٹری آئل کے چند قطرے جسم پر مل لیں اور آرام سے کُھلی فضا میں دیر تک بیٹھیں مچھر آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا
کوکنگ آئل شیمپو اور سرکہ:
50 ملی لیٹر پانی میں 10 ملی لیٹر شیمپو اور 10 ملی لیٹر سرکہ شامل کر کے اچھی طرح ہلا کر کسی سپرے والی بوتل میں ڈال کر رکھ لیں اور اس سپرے کو جسم کے کُھلے حصوں پر سپرے کر دیں، سرکہ مچھروں کو آپ کے قریب بھی نہیں آنے دے گا اور شیمپو سرکے کی بُو ختم کر دے گا اور کوکنگ آئل ان دونوں چیزوں کو باڈی پر دیر تک موجود رکھے گا اور باڈی کریم کا کام کرے گاڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر
ونیلا پاؤڈر:
ونیلا پاؤڈر بازار میں عام دستیاب ہے ونیلا پاؤڈر کو کسی بھی بے بی لوشن میں مکس کر لیں ( دس حصے لوشن ایک حصہ ونیلا پاؤڈر) اور جسم کے کُھلے حصوں پر مل لیں یا پھر ونیلا پاؤڈر کو پانی میں حل کرکے جسم کے کُھلے حصوں اور کپڑوں پر سپرے کر لیں اس سے ڈینگی سمیت تمام مچھر آپ کے قریب بھی نہیں آئیں گے
نیم کا تیل:
نیم کا تیل بھی مچھروں کو انسانی جسم سے دُور رہنے پر مجبور کرتا ہے نیم کے تیل کو کسی بھی دُوسرے تیل میں مکس کر لیں یا بغیر مکس کئیے ہی جسم پر مل لیں
سویا بین آئل:
سویا بین آئل بھی مچھروں کو قریب نہیں آنے دیتا اور اگر سویا بین آئل میں لیمن گراس آئل مکس کرکے جسم پر مل لیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے اور ان کا مکسچر لمبے عرصے تک مچھروں کو قریب نہیں آنے دیتا
تلسی کے پتے:
تلسی کے پتے اچھی پیس کر اُسے جسم کے کُھلے حصوں پر مل لینے سے مچھروں سے بچا جا سکتا ہے اسی طرح پودینے کے پتے بھی پیس کر مچھروں سے بچنے کے لیے جسم پر ملے جاسکتے ہیں
لونگ کا تیل:
لونگ کا تیل زیتون کے تیل میں ½ کے تناسب سے مکس کر کے جسم کے کُھلے حصوں پر مل لیں یا پھر 5 گرام لونگ لیکر اُسے ایک گلاس پانی میں ڈال کر 15 منٹ تک اُبالیں اور پھر اس پانی کے دس قطرے کسی عطر یا باڈی آئل میں شامل کرکے جسم کے کُھلے حصوں پر مل لیں تو مچھر آپ سے دُور رہے گا -

مصالحےجب پودوں پر اگتے ہیں تو کیسے لگتے ہیں
ہمارے باورچی خانے میں عام طور پر 5 سے 20 مصالحے استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں ہم بازار سے خرید کر استعمال کر لیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات سے ناواقف ہوتےہیں کہ یہ مصالحے جن پودوں پر اُگتے ہیں وہ پودے کیسے ہیں باورچی خانے میں چینی بھی استعمال ہوتی ہے اور مثل مشہور ہے کہ جب کوئی آدمی چینی کی مل میں چینی بنتے دیکھ لے تو پھر اُس کا چینی کھانے کو دل نہیں کرتا مگر قُدرت کے اُن حسین پودے اور اُن کا تعارف درج ذیل ہے جن پر ہمارے کھانوں کو مزیدار بنانے والے مصالحے اُگتے ہیں
لونگ:

لونگ کے پودے پر اُگنے والے لونگ پُھولوں کے بڈز ہیں جو انتہائی خُوشبودار اورذائقے دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے بیشمار خوبیوں کے حامل ہیں لونگ کا پودا ملاکو آئی لینڈ ملائشیا میں پیدا ہُوا مگر اب ساری دُنیا میں ہی اسے کاشت کیا جارہا ہے اور دُنیا کے مختلف خطوں میں کاشت ہونے کی وجہ سے لونگ ساری دُنیا میں سارا سال میسر ہوتے ہیں
زعفران:

کیسر کے پُھولوں سے حاصل ہونے والا زعفران انتہائی قیمتی اور خُوشبودار مصالحہ ہے جسے بہت سے کھانوں کو مزیدار اور خُوشبودار بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیسر کے یہ پھول کشمیر میں بڑی تعداد میں اُگتے ہیں اور کشمیر کے علاوہ ایران میں بھی اس پودے کو بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے
زیرہ:

زیرے کا پودا ساوتھ ویسٹ ایشیا کے ساتھ ساتھ مڈل ایسٹ میں بھی پیدا ہوتا ہے اور اس کے انتہائی خُوشبودار اور کھانوں کے ذائقے کو چار چاند لگانے والے بیج ہم تقریباً اپنے ہر کھانے میں استعمال کرتے ہیں
پُھول بادیان:

بادیان کے پودے کا اصل وطن ویت نام اور چائنہ ہے مگر اب اسے دُنیا میں اور بھی کئی مُلکوں میں اُگایا جارہا ہے اور اس پودے پر اُگنے والے ستاروں کی شکل کے اس پودے کے بییج پاکستان اور انڈیا سمیت دُنیا کے مختلف ملکوں میں کھانوں کو ذائقے دار اور خُوشبودار بنانے کے لیے بطور مصالحہ استعمال ہوتے ہیں
جائفل:

جائفل مائریسٹکا پودے کا بیج ہے جوبے شمار مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر عام طور پر اس کا تیل نکالا جاتا ہے اور اسے خُشک کر کے پیس کر کھانوں میں بطور مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے
لہسن:

لہسن کا کوئی ثانی نہیں کیونکہ یہ مصالحہ بھی ہے اور سبزی بھی اور ساری دُنیا میں اسے کاشت کیا جاتا ہے اور مطور مصالحہ استعمال کرنے کے لیے اسے پہلے خاص طریقے سے خُشک کیا جاتا ہے اور پھر پیس کر اسکا پاوڈر بنایا جاتا ہے
مسٹرڈ پیسٹ:

سرسوں پنجاب میں اُگنے والا ایک عام پودا ہے جو عام طور پر موسم سرما اور بہار میں رنگ کھلاتا ہے اور اس کے پتوں کو ہم پکا کر ساگ بناتے ہیں اور اس کے پھُولوں اور بیجوں سے تیل اور مسٹرڈ پیسٹ بنانے کے علاوہ بھی بہت سے چیزیں بنائی جاتی ہیں
کالی مرچ:

یہ پودا بھی اب ساری دُنیا میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس کو خُشک کر کے بعد میں بطور مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے
سونف:

خُوبصورت پیلے رنگ کے پھُولوں والے رنگ کھلاتے سونف کے پودے کا یہ پھل سونف بیشمار خُوبیوں کا حامل ہے اور اپنی افادیت کی وجہ سے ساری دُنیا میں ہی کاشت کیا جاتا ہے
سفید تل:

سیساموم کا یہ پھول دار پودا ہمارے لیے سفید تل بناتا ہے اس پودے کا آبائی گھر افریقہ میں تھا مگر پھر اسے بعد میں انڈیا اور اب دُنیا کے اور بھی کئی مُلکوں میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس کے بیجوں کو ہم اپنے کھانوں میں مختلف طرح استعمال کرتے ہیں
بڑی الائچی:

بڑی الائچی ہمارے بہت سے کھانوں کو مزیدار بناتی ہے خاص طور پر پلاؤ چاول تو اس کے بغیر نا مکمل ہوتے ہیں بڑی الائچی کو جب پودے سے علیحدہ کیا جاتا ہے تو یہ سبز رنگ کی چھوٹی چھوٹی گیندوں کی طرح ہوتی ہے جسے بعد میں ایک خاص طریقے سے خُشک کر کے بطور مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے
سُرخ مرچ:

ہمارا کوئی بھی سالن سُرخ مرچ کے بغیر نامکمل اور ادھورا ہوتا ہے اس پودے کا آبائی گھر میکسیکو تھا مگر اب اسے ساری دُنیا میں ہی کاشت کیا جاتا ہے اور پھر اسے دُھوپ میں خُشک کرکے پیس کر پاوڈر بنایا جاتا ہے
ہلدی:

ہلدی کا پودا ادرک کے خاندان کا ایک پودا ہے اور ہلدی کے پودے کی جڑیں خُشک کر کے پیس کر ہلدی پاؤڈر بنتا ہے جو ہم اپنے تمام کھانوں میں خُوبصورت ذائقے اور رنگ کے لیے بطور مصالحہ استعمال کرتے ہیں
دارچینی:

دارچینی کی بہت سے اقسام ہیں اور یہ تمام اقسام دارچینی کے پودے کے تنے کے اندرونی حصے سے حاصل کی جاتی ہیں جسے پیپر کی طرح لپیٹ کر خُشک کر لیا جاتا ہے اور بعد میں پیس کر دارچینی پاوڈر بنایا جاتا ہے جو ہم بطور مصالحہ اپنے ہر باورچی کھانے میں رکھتے ہیں اور سارا سال اس مصالحے کو استعمال کرتے ہیں
میتھی دانہ:

میتھی کے پودے کے پتے جہاں پکا کر مزیدار سبزی بنائی جاتی ہے وہاں میتھی کے بیج بھی بیشمار مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں میتھی کے بیجوں سے تیل بھی نکالا جاتا ہے اور اسے بطور مصالحہ بھی استعمال کیا جاتا ہے -

سائنسی تحقیق کے مطابق بچوں کو گُد گُدی کرنا ان کی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے
گُدگدی پر بچے کے ہنسنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ خُوش ہے بچوں کو جب گُدگدی کی جاتی ہے تو وہ ہنستے ہیں چاہے گُدگدی اُنہیں بلکل پسند نہ ہو اور اُن کا ہنسنا والدین کو نظر کا فریب دیتا ہے کہ بچہ خُوش ہو رہا ہے مگر درحقیقت ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گُدگدی کے دوران ہنسنا خوشی کا وہ احساس پیدا نہیں کرتا جوکسی لطیفے کو سُن کر پیدا ہوتا ہےماہرین کا کہنا ہے گُدگدی کی ہنسی فریب نظر ہے اور ہو سکتا ہے کہ درحقیقت جسے گُدگدی کی جارہی ہو وہ گُدگدی سے تکلیف میں ہو
گُدگدی غلبہ پانے اور بات منوانے کا ایک طریقہ ہے چھوٹے بچے گُدگدی کے متعلق اپنے احساسات بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور اگر ہم اپنی یاداشت پر تھوڑا سا زور ڈالیں تو ہمیں یاد آجائے گا کہ بچپن میں سکول کی کلاس کے اندر ساتھی طالبعلم اور گھر میں دوسرے بہن بھائی اپنی بات منوانے کے لیے بھی گُدگدی کا سہارا لیا کرتے تھے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گُدگدی کے دوران ہنسنا بھی ہتھیار پھینکنے اور اطاعت گُزاری ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے جسے گُدگدی کرنے والا خُوب اچھی طرح سمجھتا ہے
گُدگدی صدیوں سے بطور تشدد استعمال ہو رہی ہےچین اور جاپان سمیت دُنیا کے کئی ممالک میں گُدگدی کا استعمال ریاست کے معزز لوگوں پر بطور تشدد کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس سے جسم پر کوئی ظاہری نشان نہیں پڑتا اور جسے گُدگدی کی جاتی ہے وہ گُدگدی کے ختم ہونے کے فوراً بعد نارمل دکھائی دینا شروع کر دیتا ہےماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گُدگدی فزیکلی تشدد کی ایک قسم ہے جسسے انسان کے دماغ پر شدید نفسیاتی تناؤ پیدا ہوتا ہے اور اس دوران اسے متلی محسوس ہوسکتی ہے اُلٹی آ سکتی ہے اور وہ اپنے شعور پر قابو کھو سکتا ہے
گُدگدی سے بچے کی سانس بند ہو سکتی ہے گُدگدی کے دوران بچے کی بے قابو ہنسی اُس کے نظام تنفس کو متاثر کرتی ہے اور اگر گُدگدی مسلسل جاری رکھی جائے تو شدید ہنسنے کی صورت میں پھیپھڑوں سے ہوا خارج ہونے کے بعد بچے کے لیے سانس اندر کو کھنیچنا مُشکل ہو جاتا ہے اور ایسی صورتحال میں اُس کی سانس بند ہو سکتی ہے اور یہ صورتحال کسی بڑی پریشانی کا سبب بھی بن سکتی ہےہمیں بچے کو خوش دیکھنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے کے وہ اندر سے بھی خوش ہو اور اس کے لیے اُس کے ساتھ تھوڑی دیر کھیلنا اور اُس کے ساتھ بچہ بن جانا جہاں اُسے حقیقت میں خوشی دیتا ہے وہاں یہ خُوشی اُس کی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے
گُدگدی بچے کے ذہن میں آپکے متعلق بے اعتمادی پیدا کرتی ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گُدگدی بچے کے ذہن اور دماغ کے اندر شدید تکلیف پیدا کرتی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ دماغی تکلیف اُس کی جوانی اور بڑھاپے پر اثر انداز ہو بچوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بڑا بچے کو ڈانٹ دے تو بچے کے ذہن میں اُس بڑے کے متعلق خوف پیدا ہو جاتا ہے اور اسی طرح گھر کا کوئی فرد یا ماں باپ اگر بچے کو شدید گُدگدی کریں تب بھی بچے کے دماغ میں ایسے افراد کے متعلق خوف جنم لیتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ ایسے افراد سے دُور رہے اور ذہن پر طاری ہونے والا یہ خوف اُس کی دماغی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے اور اُس کا اعتماد گُدگدی کرنے والے بڑوں پر سے ختم ہوجاتا ہے
بچوں سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے گُدگدی سے بہتر کئی طریقے ہیں ماں باپ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں، یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے مگر والدین عام طور پر اپنے بچپن کے تجربات کے مُطابق گُدگدی کو بھی ایک عام بات سمجھتے ہیں اور اگر کوئی دُوسرا بچے کو گُدگدی کرتا ہے تو وہ اُسے منع نہیں کرتےبچوں سے محبت کا اظہار کرنا ایک فطری عمل ہے اور اس کے لیے گُدگدی کے علاوہ کئی اور اچھے طریقے ہیں جس سے آپ بچوں کے دل میں داخل ہوسکتے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بچوں کو گُدگدی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے بچے سے پُوچھیں کے اُسے گُدگدی سے تکلیف تو نہیں ہوتی اور اگر وہ اجازت دے تب بھی گُدگدی کو ایک حد کے اندر رکھیں اور اُسے شدید لیول پر مت لیکر جائیں -

دُودھ سے چہرےکی رنگت نکھارنے کے طریقے
دُودھ سے چہرےکی رنگت نکھارنے کے طریقے
دُودھ قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی افادیت سے دُنیا میں کوئی بھی انکاری نہیں ہم عام طور پر دُودھ کا استعمال کھانے اور پینے کی اشیاء میں کرتے ہیں مگر کھانے اور پینے کیساتھ ساتھ دُودھ اور بہت سے کاموں میں استعمال ہوتا ہے خاص طور پر چہرے کی خُوبصورتی کے لیے اسے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے
چہرے کے سیاہ داغ اور بالائی:
گائے یا بھینس کے دودھ کی بالائی تقریبا پچاس گرام میں 6 سے 8 قطرے لیموں کا رس شامل کرکے اُسے چہرے پر مل لیں اور پھر 15 منٹ کے بعد چہرے کو نیم گرم پانی سے دھوئیں یہ عمل جہاں چہرے کو تروتازہ کرے گا وہاں اُسے کے سیاہ داغ بھی ختم کرے گا
دُودھ سے مُنہ دھوئیں:
یہ بات سُن کر عجیب لگے گی کیونکہ دُودھ قیمتی چیز ہے اور جیسے پانی سے مُنہ ہاتھ دھویا جاتا ہے اگر دُودھ سے دھویا جائے تو کئی لیٹر دُودھ ضائع ہوسکتا ہے اس لیے کفائت شعار بنیں اور ایک کپ میں دودھ نکال کر دُودھ میں روئی بھگو کر اُسے چہرے اور ہاتھوں پر اچھی طرح ملیں اور پھر دس سے پندرہ منٹ کے بعد چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں پہلی ہی دفعہ استعمال کے بعد آپکو نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے چنانچہ پھر اس عمل کو جاری رکھیں
خُشک چہرہ اور بالائی:
اگر چہرے کی سکن پر خُشکی ہے تو ٹھنڈی بالائی کو چہرے پر ملیں یہ جہاں آپ کے چہرے کی سکن سے خُشکی کا خاتمہ کرے گی وہاں آپ کے چہرے کے داغ اور دھبوں کا خاتمہ بھی کرے گی
گورارنگ اور کھردری جلد:
رات کو سونے سے پہلے تازہ دودھ میں چند قطرے عرق گُلاب اور چند قطرے لیموں کے شامل کرکے چہرے پر مل لیں اور آدھے گھنٹے کے بعد چہرے کونیم گرم پانی سے دھوکر کوئی فیس کریم مل دیں اور سو جائیں ، صبح آپ ایک دلکش اورتروتازہ چہرے کے ساتھ اُٹھیں گے
نرم و ملائم جلد کے لئے:
دودھ میں روئی کو بھگو کر پہلے کلینزنگ کر لیں پانچ منٹ کلینزنگ کے بعد دہی عرق گلاب اور شہد مکس کر کے چہرے پر لگائیں پھر پندرہ سے بیس منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں چند دن کے استعمال سے چہرے کی جلد نرم و ملائم اور چمکدار ہو جائے گی اس کے علاوہ ٹماٹر کے پیسٹ میں دودھ ملا کر اچھی طرھ مکس کر کے چہرے پر لگائیں دس سے پندرہ منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں -

مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے
مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے
مٹی کے برتنوں کی تاریخ بہت پُرانی ہے کیونکہ دھات کےاستعمال سے بہت پہلے انسان نے اپنی ابتدا میں ہی مٹی کو ہاتھ سے مختلف شکلوں میں ڈھالنا سیکھ لیا تھا اور تب سے لیکر آج تک مٹی کے برتن کھانا پکانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں طب ایوردیک اور طب یونان جن کی تاریخ صدیوں پُرانی ہے کے مطابق مٹی کے برتن میں پکا ہُوا کھانا ہماری صحت پر گہرے اثرات مُرتب کرتا ہے اور ان دونوں طبیعات کے ماہرین آج بھی کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن تجویز کرتے ہیں کیونکہ مٹی کے برتن میں پکا ہُوا کھانا نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ مٹی کے برتن کا کھانا ذائقے میں بھی دھات کے برتن میں پکے کھانے سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے
https://login.baaghitv.com/benefits-of-fenugreek-seed-for-women/
مٹی کے برتن میں قدرتی طور پر الکالائن ہوتی ہے:
مٹی قُدرتی الکالائن ہے اور الکالائن تیزابیت کو ختم کرتی ہے اور جب ہم مٹی کے برتن میں کھانا پکاتے ہیں تو مٹی کی الکالائن خصوصیات کھانے کی تیزابیت کو ختم کرتی ہے جس سے ہمارے جسم کا پی ایچ بیلنس بہتر ہوتا ہے اور خوراک جہاں جلد ہضم ہوجاتی ہے وہاں معدے پر بھاری پن نہیں چھوڑتی مٹی کے برتن میں کھانا پکاتے وقت کھانے میں قیمتی منرلز میگنیشئم کیلشئیم آئرن فاسفورس سلفر وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں
کھانے کے وٹامن ضائع نہیں ہوتے:
مٹی کے برتن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں باریک سوراخ ہوتے ہیں جو حدت اور نمی کو کھانے کے اندر تک داخل کرتے ہیں اور دھات کے برتن کی نسبت مٹی کے برتن میں کھانا سُست روی سے آہستہ آہستہ پکتا ہے اور تیز آنچ لگنے سے بچا رہتا ہے جس سے کھانے میں موجود وٹامنز اور غذائیت محفوظ رہتی ہے اورکھانےمیں مہک برقرار رہتی ہےجو لوگ کھانا پکانا نہیں جانتے یا کھانا پکانا سیکھ رہے ہوتے ہیں اُن کے لیے سب سے بہترین برتن مٹی کے برتن ہوتے ہیں کیونکہ ان برتنوں میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے اور کھانا جلنے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں
گھی کم مقدار میں خرچ ہوتا ہے:
مٹی کے برتن میں کھانا ہلکی آنچ پر پکتا ہے جس سے کھانے کے اندر موجود قُدرتی آئل جلتا نہیں ہے اور نمی کے ساتھ کھانے میں شامل ہوجاتا ہے لہذا ہمیں کھانے میں گھی اور تیل کا استعمال کم کرنا پڑتا ہے
کھانے کا ذائقہ دار بنتا ہے:
ہانڈی میں پکا ہُوا چکن دھات کے برتن میں پکے ہُوئے چکن سے کہیں زیادہ مزیدار ہوتا ہے اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ مٹی کے برتن مسام دار ہوتے ہیں جن میں سے گرم آنچ کی ہوا برتن میں داخل ہوتی ہے اور کھانے کو ہلکی آنچ پر گلاتی ہے جس سے کھانے کا ذائقہ دوبالا ہوجاتا ہے
https://login.baaghitv.com/health-benefits-of-honey/
مٹی کے برتن خریدنے میں سستے ہوتے ہیں:
ھات کے برتن ، کُوکر وغیرہ جہاں کھانے کی غذائیت اور ذائقے کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں دھات مہنگی ہونے کی وجہ سے یہ برتن بھی مہنگے داموں ملتے ہیں مگر مٹی کے برتن جہاں عام دستیاب ہیں وہاں آپ انہیں انتہائی سستے داموں خرید سکتے ہیں
مٹی کے کونسے برتن استعمال نہیں کرنے چاہیے:
ڈاکٹرز کا کہنا ہے مٹی کے ایسے برتن جنہیں مختلف کیمیکلز کیساتھ پالش کیا گیا ہو میں پکا کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور پالش کرنے سے مٹی کے برتنوں کے مسام بند ہوجاتے ہیں جس سے ہوا برتن میں داخل نہیں ہوپاتی اور پالش میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکلز کھانے میں شامل ہوجانے کے خدشات ہوتے ہیں اس لیے مٹی کے وہی برتن استعمال کرنے چاہیے جن پر کسی قسم کی پالش وغیرہ کا استعمال نہ کیا گیا ہو اور وہ صرف مٹی سے بنے ہوں -

چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کی گھریلو ٹپس
چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کی گھریلو ٹپس
چہرے پر دانے نکلتے ہوں تو چہرہ گیلا کر کے پھٹکری کو ہلکے ہاتھوں سے پورے چہرے پر پندرہ منٹ تک رگڑیں دانے جلد ختم ہو جائیں گے
چکنی جلد کے لیے:
چکنی جلد کے لیے ایک لیموں کے رس میں ایک کھانے کا چمچ بیسن اور دوچائے کے چمچ عرق گلاب ملا کر ماسک تیار کر لیں اور دس منٹ بعد دھو لیں
سیاہ کیلوں کا خاتمہ:
ناک پر اچھی کولڈ کریم سے مساج کرنے کے بعد ململ کے کپڑے سے کریم اتار لیں اب لیموں کے رسدار چھلکے ناک پر رگڑیں اور کیلوں کو ہاتھوں سے دبا کر نکال دیں
لیموں کے چھلکے سے جس میں نمی ہو ناخن کا مساج کریں ناخن صاف اور چمکدار ہو جائیں گے
مہاسے:
انڈے کی زردی اور تل کو کوٹ کر مکس کر لیں اور پھوڑے پھنسیوں پر لگائیں داغ اور پھنسی دونوں غائب ہو جائیں گے
منہ پر کالے دھبے بننا:
منہ پر کالے کالے دھبوں کا نمودار ہونا بہت بُری تکلیف ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مریض کے حسن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کالے دھبوں یا نشانوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل۔ہربل استعمال کریں مولی کے بیج بیس گرام لے کر ان کا بہت باریک سفوف بنائیں اور کسی چینی کے برتن میں محفوظ کر لیں پلاسٹک سلور یا تانبے کا برتن بلکل نہ ہو صرف چینی یا شیشے کا۔برتن ہی ضروری ہے ایک چمچ یہ۔سفوف ایک چمچ دہی کے ساتھ مکس کرکے پیسٹ بنا لیں اب یہ پیسٹ چہرے پر لگا کر ایک گھنٹے کے بعد چہرہ دھو لیں چند دن کے استعمال سے چہرہ صاف ہو جائےگا -

مختلف بیماریاں اور ان کا گھریلو علاج
مختلف بیماریاں اور ان کا گھریلو علاج
سر کے درد کی بہت سی قسمیں ہیں کبؑی تو یہ درد سر کے آدھے حصے میں ہے اور کبھی پورے حصے میں محسوس ہوتا ہے اور بعض دفعہ تو متلی اعر قے کی بھی شکایت ہو جاتی ہے جس شخص کے سر میں درد ہو اسے چاہیے کہ نمک کی ایک چٹکی زبان پر رکھ لے اور دس یا پندرہ منٹ کے بعد ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی لے درد فوراً دور ہو جائے گا اس کے علاوہ پیاز کو باریک پیس کر پاوں کے تلوں پر لیپ کریں تو ہر قسم کا درد دور ہو جاتا ہے تربوز کے بیج یا مغز لے کر کونڈی وغیرہ میں ڈال کر پانی ملا کر خوب پیسیں یہاں تک کہ مکھن کی طرح ہو جا ئے پھر مریض کے سر پر اس کا لیپ کریں سر کا درد دور ہو جائے گا
ہچکی:
پانی میں شکر ڈال کر اس کا شربت بنا کر پی لیں ہچکی بند ہو جائے گی اس کے علاوہچکی آنے پر دو لونگ منہ میں ڈال کر چوستے رہیں فوراً آرام آ جاتا ہے
نکسیر:
نکسیر کے پھوٹنے کے بعد دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں اور گردن اور منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے