Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • لذیذ اور مزیدار سوسی چکن بنانے کی ترکیب

    لذیذ اور مزیدار سوسی چکن بنانے کی ترکیب

    سوسی چکن
    اجزاء:
    چکن آدھا کلو
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    پسی ہری مرچ آدھا کھانے کا چمچ
    پسا ہرا دھنیا آدھا کھانے کا چمچ
    ایک کھانے کا چمچ سرکہ
    آدھا چائے کا چمچ نمک
    پانی ایک کپ
    وائٹ سوس ایک چوتھائی کپ
    مایونیز ایک چاتھائی کپ
    کیچپ ایک چوتھائی کپ
    چیڈر چیز پاؤ کپ

    ترکیب:
    پتیلی میں چکن یری مرچ ہرا دھنیا سرکہ نمک اور ایک کپ پانی ڈال کر ابالیں جب چکن گل جائے اور یخنی آدھا کپ رہ جائے پھر اس میں وائٹ سوس مایونیز اور کیچپ ڈال کر مکس کریں پھر اسے اوون پروف ڈش میں دال کر کدوکش چیڈر چیز اوپر ڈال کر پہلے سے گرم اوون میں 200 سینٹی ڈگری پر دس منٹ کے لئے بیک کر لیں کہ چیز پگھل جائے نکال کر گرم گرم لذیذ سوسی چکن سرو کریں

  • مزیدار بومبل مچھلی کا سالن بنانے کی ترکیب

    مزیدار بومبل مچھلی کا سالن بنانے کی ترکیب

    بومبل مچھلی سالن
    اجزاء:
    بومبل مچھلی ایک کلو
    ناریل پاؤڈر پچاس گرام
    میتھی دانہ 8 عدد
    پسی لال مرچ تین چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ
    پسا دھنیا 2 چائے کا چمچ
    سفید زیرہ 2 چائے کا چمچ پیس لیں
    لہسن پیسٹ 2 چائے کا چمچ
    ہلدی ایک چائے کا چمچ
    کڑی پتے چھ عدد
    نمک حسب ذائقہ
    آئل 1 کپ
    پانی 200 ملی لیٹر

    ترکیب:
    مچھلی کو اچھی طرح دھو کر صاف کپڑے سے خشک کر لیں لہسن مرچ نمک ہلدی دھنیا پسا زیرہ ملا کر مکس کر کے علیحدہ رکھ لیں دیگچی میں تیل گرم کر کے اس میں میتھی دانہ اور کڑی پتے تلیں پھر مکس کئے ہوئے مسالے ڈال کر تھوڑا سا پانی ڈال کر بھونیں تاکہ مسالے جل نہ جائیں چند منٹ بھوننے کے بعد اس میں مچھلی ڈال دیں اور ابال آنے دیں پتیلی کو کپڑے سے پکڑ کر آہستہ آہستہ ہلا لیں اس میں چمچ نہ ہلائیں تا کہ مچھلی ٹوٹ نہ جائے ناتیل پاؤڈر کو گرم پانی میں مکس کر کے اس میں ڈال دیں اور پکنے دیں 2 یا 3 ابل آ جائیں تو تو چولہا بند کر دیں مزیدار بومبل مچھلی تیار ہے ابلےہوئے چاولوں اور لیموں کے ساتھ سرو کریں

  • مزیدار بنگالی فش کری بنانے کی ترکیب

    مزیدار بنگالی فش کری بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    مچھلی آدھا کلو
    گھی آدھی پیالی
    لہسن پیسٹ 1 کھانے کے چمچ
    ہری مرچ پیسٹ 1 چائے کےچمچ
    ہرا دھنیا پیسٹ 1 چائے کےچمچ
    لال مرچ پاؤڈر 2 چائے کے چمچ یا حسب ذائقہ
    ہلدی پاؤچائے کا چمچ
    دھنیا پاؤڈر 1 چائے کے چمچ
    رائی ثابت 1 چائے کے چمچ
    کڑی پتے 7 عدد
    نمک حسب ذائقہ
    املی کا پیسٹ آدھی پیالی یا حسب ذائقہ
    ہرا دھنیا چند پتے گارنش کے لئے
    ہری مرچیں 1 عدد گارنش کے لیے

    ترکیب:
    مچھلی کی بوٹیاں بنوا کر اچھی طرح صاف کر کے آٹے یا بیسن کے ساتھ دھو لیں دیگچی میں گھی گرم کر کے رائی کا بگھار ڈال کر ساتھ ہی کڑی پتے بھی ڈال دیں اب دھنیا پاؤڈر لال مرچ ہلدی لہسن کا پیسٹ ہرا دھنیا اور ہری مرچ کا پیسٹ ڈال کر بھون لیں پھر مچھلی ڈال کر ساتھ ہی نمک ڈال دیں اور اچھی طرح بھون لیں اور دو کپ پانی ڈال دیں دو یا تین ابال آنے کے بعد املی کا پیسٹ ڈال دیں پھر ہلکی آنچ پر تین منٹ پاکئیں اور چولہا بند کر دیں کسی ڈش میں ڈال کر ہری مرچوں اور دھنیا سے گارنش کر لیں مزیدار بنگالی فش کری تیار ہے

  • مزیدار اور چٹپٹا مچھلی کا سالن بنانے کی ترکیب

    مزیدار اور چٹپٹا مچھلی کا سالن بنانے کی ترکیب

    مچھلی دھونے اور فرائی کر نے لیے اجزاء:
    مچھلی رہو یا سرمئی آدھا کلو
    لیمن جوس پون کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤ چمچ
    سفید سرکہ 1کھانے کے چمچ

    کری بنانے کے لئے اجزء:
    لونگ 2 عدد
    میتھی دانہ پاؤ چمچ
    تیل پاؤ کپ
    دہی آدھا کپ
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کجھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    لال مرچ پاؤڈر آدھا چمچ یا حسب ذائقہ
    دھنیا پاؤڈر پون کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤ چائے کا چمچ
    گرم مصالحہ پاؤڈر پاؤ کھانے کا چمچ
    کڑی پتے 2 عدد
    سبز مرچیں 2 عدد
    لیمن 1 عدد
    سبز دھنیا باریک کاٹ لیں

    ترکیب:
    مچھلی کو صاف کر کے سرکے سے اچھی طرح دھو لیں پھر سرکہ ہلدی نمک اور لیمن جوس لگا کر 15 منٹ کے لئے رکھ دیں پھر کڑاہی میں تھوڑا سا تیل ڈال کر گرم کریں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر اس میں مچھلی فرائی کر لیں جب مچھلی اچھی طرح گولڈن فرائی ہو جائے تو نکال لیں دہی میں لال مرچ دھنیا پاؤڈر ادرک لہسن کا پیسٹ ہلدی اوعر نمک ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں پھر ایک پین میں تیل ڈال کر اس میں میتھی دانہ اور لونگ فرائی کریں جب خوشبو آنے لگے تو چولہے سے اتار کر اس میں دہی اور مصالحوں کا آمیزہ ڈال دیں اور دوبارہ چولہے پر رکھ کر بھون لیں جب مصالحہ اچھی طرح بھن جائے تو اس میں فرائی مچھلی ڈال کر اوپر کڑی پتے ڈال دی‌اور دو منٹ پکائیں پھر پون کپ پانی ڈال کر پکنے دیں جب تیل اوپر آ جائے تو سبز مرچ سبز دھنیا گرم مصالحہ اور لیمن جوس ڈال کر پین کو ہلائیں تا کہ اچھی طرح مکس ہو جائیں چمچ سے مکس کرنے سے مچھلی ٹوٹ جاتی ہے اس لئے چمچ سے مکس نہیں کرنا پھر 5 منٹ کے لئے دم پر رکھ دیں جب تیار ہو جائے تو مزیدار چٹپٹا مچھلی کا سالن کھانے کے لیئے پیش کریں

  • کچن میں استعمال ہونے والی مشینوں کی صفائی کرنے کی آسان ٹپس

    کچن میں استعمال ہونے والی مشینوں کی صفائی کرنے کی آسان ٹپس

    کچن میں استعمال ہونے والی مشینوں کی صفائی کرنے کی آسان ٹپس
    کچن میں استعمال ہونے والی مشینوں کی صفائی کس طرح کی جا سکتی ہے اس کی کچھ تفصیل مندرجہ ذیل ہے
    بلینڈر:
    بلینڈر کو جوس وغیرہ بنانے کے لیے استعمال۔میں لایا جاتا ہے اس کی صفائی کا ایک نسخہ ماہرین بتاتے ہوئے کہتے ہیں جب بھی بلینڈر کا استعمال کریں تو اس میں سے جوس نکالنے کے بعد فوراً اسے کچن سنک میں تھوڑا سا پانی اور واشنگ لیکوئیڈ ڈالیں بلینڈر کا ڈھکن بند کریں اور مشین کو بیس سیکنڈ کے لیے چلا دیں اس کے بعد اسے سادے پانی سے دھو لیں یوں بلینڈر صاف ہو جائے گا
    فرائینگ پین:
    ایسے فرائینگ پین جو کاسٹ آئرن سے بنے ہوئے ہوں انہیں اگر واشنگ سوپ یا لیکوئیڈ سے دھویا جائے تو ان کی کوٹنگ اترنے لگتی ہے اگر ان کو زیادہ دیر تک استعمال میں لانا ہے تو کوشش کریں کہ اسے لیکوئیڈ سوپ سے کم سے کم رگڑیں ایک ماہر شیف کا کہنا ہے کہ نان اسٹک پین کو نمک سے صاف کریں اگر فرائنگ پین پر تیل لگا ہوا ہو تو اس پر دو سے تین کھانے کے چمچ نمک ڈالیں اور اسے کچن تولیے کے ایک ٹکڑے سے رگڑیں پھر اسے پانی سے دھو لیں اس طرح اس میں گوشت کی ہیک بھی نہیں رہے گی اور وہ صاف بھی ہو جائے گا

    بٹنوں سے سجی خوبصورت ہئیر پنز گھر میں بنائیں


    مائیکرو ویو اوون صاف کرنے کا طریقہ:
    مائیکرو ویو اوون تقریباً ہر گھر میں ہی موجود ہوتا ہے اس کو صاف کرنے کے لیے کسی بھی کچن تولیے کو گرم کر کے اسے مائیکرو ویو کے اندر تین سے پانچ منٹ رکھ دیں اور اسے چلا دیں کچن تولیہ کیونکہ گیلا ہو گا اس لیے اس کی نمی کی وجہ سے بھاپ بنے گی جو مائیکرو ویو پر لگے دھبوں کو ہلکا کر دے گی جب پانچ منٹ ہو جائیں تو اسی تولیے سے مائیکرو ویو کی۔دیواروں کو صاف کر لیں درمیان میں موجود پلیٹ کو بھی صاف کر لیں اس کے علاوہ داغ دھبوں کو مٹانے کے لیے ایک کپ پانی میں آدھا کپ لیموں کا رس ڈالیں پھر اسے مائیکر و ویومیں رکھ کر پانچ یا تین منٹ تک اسے گرم کریں اس کے بعد اسے پانچ سے دس منٹ مائیکروویو اوون میں ہی رہنے دیں اس سے بھی داغ دھبے ہلکے ہو جاتے ہیں اور آسانی سے صاف بھی ہو جاتے ہیں

    حسن اور صحت ساتھ ساتھ


    چائے کے کپ:
    ٹی سیٹ کے کپ میں چائے کے نشانات لگے رہ جاتے ہیں اسے صاف کرنے کے لیےکسی پیالے میں نمک اور سرکہ برابر مقدار میں ملائیں اور پھر اسے مکس کریں جب وہ مکس ہو جائیں تو اسے ان کپس کے اوپر لگائیں جن پر نشانات ہیں اس مکسچر کو تھوڑی دیر تک ان چائے کے کپس پر لگائے رکھیں اس کے بعد ان کو ہلکے ہاتھوں سے رگڑ کر صاف کر لیں یوں ان چائے کے کپ پر موجود نشانات صاف ہو جائیں گے اور آپ مہمانوں کو صاف ستھرے بغیر داغ والے کپ میں چائے سرو کرسکیں گی اس کے بعد کچن کی تمام مشینوں کو باہر سے بھی صاف کریں کچن میں موجود ڈسٹ بن کو بھی اندر اور باہر دونوں سے صاف کریں کچن میں موجود ایپرن تولیے اور اسفنج وغیرہ کو دھو لیں درازوں کو اور کیبنیٹس میں نئے کاغذ بچھا لیں مسالا جات کے جارز کو بھی صاف کر لیں دیواروں کو بھی چاہیں تو ڈٹر جنٹ ملے پانی سے دھو کر صاف کر لیں چولہے پر موجود چکنائی کو صاف کرنے کے لیے واشنگ لیکوئیڈ سرکہ ملا۔ہوا پانی وغیرہ استعمال کریں کچن میں موجود پنکھا یا ایگزاسٹ فین کو بھی اچھی طرح جھاڑ لیں تاکہ مٹی وغیرہ اچھی طرح صاف ہو جائے

  • ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات

    ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات

    ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات
    ٹائیفائیڈ بخار سالمو نیلا ٹائفی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیکٹیریل بیماری ہے ٹائیفائیڑ بخار کچھ ترقی یافتہ ممالک میں ایک اہم خطرہ ہے عالمی سطح پر سالانہ ٹائیفائیڈ بخار کے اکیس ملین اور اموات کے دو لاکھ دوہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں اس میں شک نہیں کہ ایک صحت مند اور تندرست انسان ہی اپنے تمام کام۔بخوبی سر انجام دے سکتا ہے بیماری کسی بھی حالت میں ہو یہ انسان کو بے چین کر دیتی ہے اور اس کے معمول کے کام رک جاتے ہیں مریض کے علاوہ تمام گھر والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں موسمی بخار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں انسان جلد ہی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے لیکن ٹائیفائیڈ بخار ایک مہلک مرض ہےاوریہ ایک چھوت کی بیماری ہے ٹائیفائیڈ ایک جراثیم سالمو نیلا ٹائفی کی وجہ سے ہوتا ہے جس شخص کو ٹائیفائیڈ بخار ہو جائے اس کے جسم کا درجہ حرارت 103سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہو جاتا ہے اس بیماری کا زیادہ تر حملہ۔بارش گرمی اور خزاں کے موسم میں ہوتا ہے اس کے علاوہ گندہ پانی بھی ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے جراثیم۔ٹائہفائیڈ کے مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اور وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے بازار میں پڑی۔ایک کھلی یا خراب اشیاء کھانے سے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کاخدشہ زیادہ ہوتا ہے سر درد بھوک کا نہ لگنا جسم میں درد ہونا پیٹ میں درد ہونا جلد پر سرخ دھبے نمودار ہونا متلی قبض یا اسہال بھوک میں کمی اور جسم۔پر گلابی رنگ کے سرخ۔دانے شامل ہیں

    نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز


    علامات: جگر معدے کی عام بیماریوں سےملتی جلتی ہیں پیچش پسینہ آنا نیند کا نہ آنا خشک کھانسی پیٹ درد قبض زبان کا میلا اور سفید ہو جانا متلی اور کمزوری اس کی اہم۔علامت ہے عام موسمی بخار سے انسان دو سے چار دن میں تندرست ہو جاتا ہے لیکن اگر بخار طوالت پکڑ لے تو فوری طور پو ٹیسٹ کروانے چاہیئں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے اس کا علاج ممکن ہو خدا نخواستہ اگر دیر ہو جائے تو مریض کی۔جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے یہ موذی مرض کئی ہفتوں اور مہینوں تک رہ سکتا ہے اگر مریض تندرست بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کے جراثیم اس میں موجود رہتے ہیں اس لیے ایسے مریض جن کو ٹائیفائیڈ کا حملہ ہو چکا ہو ان کو ٹھوس غذا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور ہمیشہ تازہ اور صاف ستھری غذا استعمال کرنا چاہیے باہر کے کھلے پکوان اور آلودہ مشروبات کا استعمال نہ کریں پانی ہمیشہ ابال کر پئیں سبزیاں پھل ہمیشہ اچھی طرح دھو کر استعمال کریں مریض کو آرام دہ اور پر سکون کمرے میں رکھا جائے

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر


    اگر کسی ہوٹال کے کچن میں ٹائیفائیڈ کا جراثیم پایا جاتا ہے تو پھر اس ہوٹل میں کھانے کے لیے آنے والے تمام افراد ٹائیفائیڈ کا شکار ہو سکتا ہے آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے سے ٹائیفائیڈ کا بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے ترسیل آنتوں کی زبانی روٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی آلودہ فضلات پانی کی فراہمی یا غذا کی فراہمی میں داخل ہو سکتے ہیں اس کے بعد ان کا استعمال ہو سکتا ہے اس سے دوسرے متاثر ہو سکتے ہیں ایس ٹائفی صرف انسانوں میں موجود ہو تی ہیں ٹاِیفائیڈ بخار عام طور پر گنجان آبادی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں پانی کی فراہمی آلودگی کا شکار ہو پانی کی صفائی کے بہتر طریقے مناسب ذخیرہ ًذا ٹائیفائیڈ کو پھیلنے سے روک سکتی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق صحت تعلیم پانی کی صفائی اور معیار بیماری کی روک تھام کے لیے دیگر کوششوں کے ساتھ ٹائیفائیڈ بخار کی ویکسینیشن کے پروگراموں کو لاگو کیا جانا چاہیے ٹائیفائیڈ بخار خاص طور پر بچوں میں صحت کا ایک اہم عوامی مسئلہ ہے

  • سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

    موسمی نفسیاتی بیماری سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر
    جونہی موسم بدلتا ہے ہر انسان میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اس طرح موسمی اثرات نفسیاتی مریضوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں جسے سٙیڈ (SAD)یعنی سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈرseasonal effective disorder کہتے ہیں یعنی کہ موسم کے اثرات خاص طور پر یہ اثرات موسم بہار میں نظر آتے ہیں جونہی موسم کی گرمی کی شدت بڑھن ریزینے لگتی ہے سیٙڈ بھی اپنا موڈ بدل لیتا ہے اس پر گرمی کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں دباو ڈپریشن کی علامت ہے اس کو موڈ ڈس آرڈر بھی کہہ سکتے ہیں موسم کی۔ تبدیلی کی۔ وجہ سے جو اثرات انسان پر پڑتے ہیں زیادہ تر ستمبر اور اپریل میں۔ اپنے عروج پر ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا تعلق گرمی کے ساتھ ہوتا اس کی تاریخ بہت زیادہ پُرانی نہیں پہلی مرتبہ اس کانام 1948میں سنا گیا جب اس کا ایک مریض ملا۔ جو یو ایس میں ڈاکٹر ای رزینیکل نورمو کے پاس آیا جس کے برین پر موسمی اثرات کا۔اثر تھا اس کے بعد ساوتھ افریقہ اور نیو یارک میں کچھ مریض نظر آئے موجودہ صورت حال میں تین فیصد لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں جو فل عروج پر بیمار ہوتے ہیں دس سے بیس فیصد تک درمیانے درجے کےبیمار ہوتے ہیں

    ڈائٹنگ کے دوران پروٹین اور فائبر کا استعمال انتہائی مفید


    تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ مرض مردوں کی۔نسبت عورتوں میں۔زیادہ پایا جاتا ہے ہرمریضوں میں تین خواتین اور ایک مرد ہوتا ہے یہ زیادہ تر ٹین ایج کے بعد شروع ہوتا ہے اس کے عروج کا زمانہ اٹھارہ سے تیس سال ہےکچھ کیس میں بچے بھی شامل ہیں لیکن بہت کم یہ مرض بڑی عمر کے لوگوں میان۔شاذو نادر ہی پایا جاتا ہے سیڈ کے اثرات زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں یا جن علاقوں میں گرمی کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں درمیانے موسم کے علاقوں میں یہ کم پایا جاتا ہے دراصل یہ ڈپریشن اور سٹریس کی۔ایک قسم ہے موسم گرما میں جوں جوں شدت بڑھتی ہے اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے گرمی کی شدت سے عام نارمل آدمی بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے اور اس میں بد مزاجی آ جاتی ہے دن کے پچھلے پہریا دوپہر کے بعد جب سہ پہر ہونے لگتی ہے موڈ میں تبدیلی آنے لگتی ہے

    ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی بھوک


    علامات: اس مرض میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں
    تھکاوٹ تناو دباو چڑچڑاپن تشویش جسم کا درد نیند میں کمی۔پیٹ میں خرابی کسی چیز پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا بھوک کا کم لگنا وزن کا کم ہونا بے خوابی رونے کو دل کرنا اگر مرض طوالت اختیار کر لے تو انسان میں خود
    کشی کا رحجان بڑھ جاتا ہے
    یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں انسانی جسم پر سورج کی روشنی کا بہت کم یا بہت زیادہ ہونا انسان کے بس میں نہیں رہتا یہ نہ صرف نفسیاتی بلکہ جسمانی۔نظام میں بھی تبدیلی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور انسان کی دلچسپیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
    احتیاطی تدابیر:
    اس کے لیے نفسیاتی تدابیر اور حربے استعمال کیے جاتے ہیں
    بی ہیوئیر تھراپی ضروری ہے جس سی موڈ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور انسان اپنی نیند پوری کرے تو نفسیاتی اثرات سے بچ جاتا ہے
    بھر پور نیند لینا
    ورزش کرنا ایسی ورزش جس سے تھکاوٹ پیدا نہ ہو وہ سود مند ثابت ہو سکتی ہے
    روشنی کا مناسب انتظام کرنا ضروری ہے اگر فوٹو تھراپی کام نہ کرے تو دباو کم کرنے والی دوائیں استعمال کریں تاکہ ان علامات میں کمی آ سکے
    اگر ممکن ہو کسی ایسے علاقے میں چلے جائیں جہاں موسم بہتر ہو وہاں جا کر انسان موڈ میں بہتر تبدیلی محسوس کرے گا
    کسی میٹھی چیز کو کھانے سے وقتی طور پر ڈیپریشن کم کیا جا سکتا ہے شوگر کے مریض اس سے پر ہیز کریں وہ مصنوعی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں

    سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنے کی آزمودہ ٹپس


    اس مرض کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ اگر یہ طوالت اختیار کرلے تو انسان کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے بہت سے مریض تو اس میں اس حد تکبآگے نکل جاتے ہیں خود کشی کا پلان بنانا شروع کر دیتے ہیں اس میں ہر سال چھ فیصد سے پچیس فیصد تک ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں ان میں 1.5فیصد ٹھیک ہو جاتے ہیں باقی نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں
    اگر کوئی بلڈ پریشر اور شوگر کا مریض ہے اسے اپنی روزمرہ کی دواوں کا استعمال۔ضروری ہے اگر پھر بھی فرق نہ پڑے تو اس کو سکون آور ادویات استعمال کروائیں تاکہ مریض وقتی طور پر سکون میں رہے
    علاج: ویسے تو پرہیز علاج سے بہتر ہے جو انسان زیادہ۔حساس ہیں وہ زیادہ سردی یا زیادہ گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور کوشش کریں وہ اپنے باہر کے کام ایسے ٹائم میں انجام دیں جب وہ خود کو آسانی میں محسوس کریں یا وہ باہر کے کام میں کسی کی مدد لے لیں اس کا علاج لا ئیٹ ٹریٹمنٹ ہے روشنی کا مناسب انتظام کرنے سے اس میں کمی لائی جا سکتی ہے اس کے اثرات صبح و شام زیادہ اچھے نظر آتے ہیں یا عارضی طور پر ایسی جگہ چلا جائے جہاں روشنی کی مقدار مناسب ہو سورج کی روشنی کم ہو فوٹو تھراپی بھی مصنوعی طریقہ علاج ہے جس سے کمرے میں روشنی کا زیادہ انتظام کیا جاتا ہے

    نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز


    عام طور پر گرم علاقوں میں لوگ کمروں کے اوپر سبز رنگ کا شیڈ لگواتے ہیں جس سے گرمی کم۔ہو جاتی ہے قدرتی طور پر اگر کمرے کی کھڑکی کے باہر درخت وغیرہ ہوں تو اسکا بہترین حل ہے اس انسان کے چڑچڑے پن میں کمی واقع ہو جاتی ہے انسومنیا کا علاج بھی یہی ہے روشنی کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ مریض کے سر درد اور تھکاوٹ میں کمی۔آ جائے ذہنی دباو کم کرنے والی ادویات کا ستعمال لیکن ان دواوں کے اپنے سائیڈ ایفیکٹس ہیں دوائیوں کے اپنے سائیڈ اثرات سے بچنے کے لیے ماحول میں تبدیلی لائیں اگر اس سے بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کریں ایسے لوگوں کو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی سے بچایا جائے تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے موڈ کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف حر ے اپنائے جا سکتے ہیں جس سے وقتی طور پر دھیان بٹ جانے کی وجہ سےمرض کی شدت میں کمی کر کے ایسے لوگوں کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جا سکتا ہے

  • بیکڈ ورما سلی پُڈنگ بنانے کی ترکیب

    بیکڈ ورما سلی پُڈنگ بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    سویاں ایک کپ
    مکھن چار اونس
    دودھ پانچ کپ
    انڈے عدد
    پسی الائچی ایک چائے کا چمچ
    بادام پستے آدھا کپ
    چینی پون کپ

    ترکیب:
    پتیلی میں دودھ ڈال کر گرم کریں پھر اس میں سویاں اور چینی ڈال کر دس منٹ پکا کر چولہے سے اتار لیں اب اس میں انڈے الائچی مکھن اور بادام پستے ڈال کر اوان پروف ڈش میں ڈال کر 180 ڈگری سینٹی گریڈ پر 20 سے 30 منٹ تک بیک کر لیں مزیدار بیکڈ ورما سلی پڈنگ تیار ہے

  • بیکڈ ایگ حلوہ بنانے کی ترکیب

    بیکڈ ایگ حلوہ بنانے کی ترکیب

    بیکڈ ایگ حلوہ
    اجزاء:
    انڈے چار عدد
    دودھ ایک کپ
    خشک دودھ ایک چوتھائی کپ
    پگھلا گھی آدھا کپ
    پیلا رنگ ایک چُٹکی
    بُھنی سوجی دو کھانے کے چمچ
    پسی چھوٹی الائچی آدھا چائے کا چمچ
    چینی آدھا کپ
    کُٹے بادام ایک کھانے کا چمچ
    پستے ایک کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    بلینڈر میں بادام اور پستے کے علاوہ تمام اجزاء ڈال کر بلینڈ کر لیں اب انھیں پہلے سے گرم اوون میں اتنی دیر پکائیں کہ سیٹ ہو جائیں اور رنگ آ جائے پھر اسے نکال کر کُٹے بادام اور پستے سے گارنش کر کے سرو کریں

  • سوئیوں کی مزیدار اور خوش ذائقہ پُڈنگ بنانے کی ترکیب

    سوئیوں کی مزیدار اور خوش ذائقہ پُڈنگ بنانے کی ترکیب

    سوئیوں کی پُڈنگ
    اجزاء:
    سویاں دو کھانے کے چمچ
    انڈا ایک عدد پھینٹ لیں
    مکھن پچیس گرام
    دودھ ڈیڑھ کپ
    کنڈینسڈ ملک پاؤ کپ
    پسی الائچی پاؤ چائے کا چمچ
    کٹے بادام حسب ضرورت

    ترکیب:
    دودھ میں مکھن ڈال کر اُبال لیں اب اس میں سویاں ڈال کر دو منٹ پکائیں پھر چولہے سے اتار کر ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں پھر کنڈینسڈ ملک پھینٹا ہوا انڈا کٹے بادام اور پسی الائچی ڈال کر مکس کر لیں پھر اس مکسچر کو اوون پروف ڈش میں ڈال کر 180 ڈگری پر 30 منٹ کے لئے بیک کر لیں