Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • معدے کے مسائل سے نجات  کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟
    بیشتر افراد کو زندگی میں کسی وقت پیٹ پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ بھرا ہوا اور سخت محسوس ہوتا ہے اور غذائی نالی میں گیس کا اجتماع اس کا باعث بنتا ہے پیٹ پھولنے پر معمول سے زیادہ بڑا نظر آنے لگتا ہے اور تکلیف کا احساس بھی ہو سکتا ہے جسم میں سیال مادے کا اجتماع بھی اس کا باعث ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل یعنی قبض کھانےسے الرجی یا مخصوص اجزاء کو جسم کا ہضم کرنے سے انکار پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس نمک یا چینی کا استعمال جبکہ غذا میں فائبر کا نہ ہونا بھی اس کی وجہ ہے مگر طرز زندگی کی چند عام چیزوں سے پیٹ پھولنے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فوری ریلیف بھی ممکن ہے

    عید کے موقع پر بدہضمی سے بچنے کے آسان طریقے


    چہل قدمی:
    جسمانی سرگرمی سے آنتوں کی۔سرگرمیاں معمول پر آتی ہیں جس سے اضافی گیس اور فضلے کی۔اخراج میں مدد ملتی ہے آنتوں کے افعال معمول پر لانا قبض کے شکار افراد کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کچھ دیر کی چہل قدمی پیٹ پھولنے اور گیس کے دباو سے تیزی سے ریلیف میں مدد دے سکتی ہے
    پیٹ کی مالش:
    پیٹ کی مالش بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اس مقصد کے لیے دائیں کولہے کی۔ہڈی پر ہاتھ رکھیں اور پھر سرکولر موشن میں ہلکے دباو کے ساتھ دائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں اس کے بعد پیٹ کے اوپری حصے پر بائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں پھر آہستگی سے بائیں کولہے کی ہڈی تک لے جائیں اگر مالش کرنے پر تکلیف ہو تو بہتر ہے کہ اسے نہ کریں
    یوگا:
    یوگا کے مخصوص پوز شکم کے مسلز کو غذائی نالی میں موجود اضافی گیس کے اخراج میں مدد دے سکتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی کم۔ہو جاتا ہے اس حوالے سے کسی ماہر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق


    گرم پانی سے نہانا:
    گرم۔پانی سے نہانے پر پیٹ کو گرمائش ملتی ہے جس سے اس پر دباو کم ہوتا ہے اور غذائی نالی۔زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکتی ہے جس سے پیٹ پھولنے میں کمی لانا ممکن ہو جاتا ہے
    پانی کا۔زیادہ استعمال:
    سوڈا کاربونیٹڈ مشروبات میں گیس ہوتی ہے جو پیٹ میں اکٹھی ہو جاتی ہے ان کو بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال ہوتا ہے جو پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے چینی یا مصنوعی مٹھاس والی غذا بھی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے تو ان مشروبات کی جگہ پانی کو دے دینا تمام مسائل سے بچا لیتا ہے جبکہ قبض سے نجات بھی ممکن ہو جاتی ہے

    کڑی پتے کے طبی فوائد


    فائبر کا استعمال۔بڑھائیں:
    زیادہ فائبر کا استعمال قبض اور پیٹ پھولنے کی روک تھام کرتا ہے مردوں کو روزانہ ٣٨ گرام جبکہ خواتین کو ٢۵ گرام فائبر جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہت زیادہ فائبر کھانا یا بہت کم۔وقت میں۔زیادہ کھانا شروع کر دینا زیادہ گیس اور پیٹ پھولنے کا۔باعث بن سکتا ہے تو فائبر کی مقدار میں بتدریج اضافہ چند ہفتوں میں کرنا چاہیے تاکہ جسم اس سے مطابقت حاصل کر سکے
    زیادہ نمک سے پرہیز:
    زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم میں پانی۔اکٹھا ہونے لگتا ہے جس سے پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے مگر یہ مسئلہ ہاتھوں اور پیروں میں بھی سامنے آ سکتا ہے
    چیونگم چبانے سے پرہیز:
    چیونگم چبانے کے دوران ہوا بھی پیٹ میں چلی جاتی ہے جو ممکنہ طور پر پیٹ پھولنے اور گیس کا باعث بن سکتی ہے اگر پیٹ پھولنے کے مسئلے کا اکثر سامنا ہوتا ہے تو چیونگم سے گریز ہی۔بہتر ہے
    پروبائیو ٹکس:
    پروبائیو۔ٹکس آنتوں میں موجود اچھے اور مفید بیکٹیریا پر مشتمل۔ہوتے ہیں پروبائیو ٹک سپلیمنٹ آنتوں کے بیکٹیریا کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتے ہیں

    گلاب کے پھول کے حیران کن جادووئی فوائد


    کھانے میں منا سب وقفہ:
    بیشتر افراد کو زیادہ کھانے پر پیٹ پھولنے کا سامنا ہوتا ہے تو اس سے بچنا بھی آسان ہے اور وہ یہ کہ کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ رکھیں اور کم مقدار میں کھائیں تاکہ نظام ہاضمہ متحرک رکھنے میں مدد مل سکے کھانے کو بہت تیزی سے نگلنا غذائی نالی میں ہوا کو بھرتا ہے اسٹرا سے مشروب پینا لوگوں کو زیادہ ہوا نگلنے پر مجبور کرتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن جاتا ہے پیٹ پھولنے کے شکار افراد کواسٹرا سے گریز کرنا چاہیے اور کھانا آرام سے کھانا عادت بنا لیا چاہیے
    جسمانی طور پر متحرک ہونا:
    ورزش جسم کو گیس اور قبض سے بچانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے آنتوں کے افعال ٹھیک ہونے کا امکان بڑھتا ہے ورزش سے جسم میں پسینے کے ذریعے اضافی سوڈیم کا اخراج ہوتا ہے جو سیال کے اجتماع کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ورزش کرنے سے پہلے اور بعد میں پانی پینا نت بھولیں کیونکہ جسم میں پانی کی کمی قبض کو بدتر بنا سکتی ہے
    گیس خارج کرنے والے کیپسول:
    بازار سے ایسے کیپسول آسانی سے مل جاتے ہیں جو آپ ڈاکٹر کے مشورے سےخرید کر لاسکتے ہیں جو غذائی نالی میں موجود اضافی ہوا کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں
    پودینے کے تیل کے کیپسول:
    پودینے کے تیل کے کیپسول بھی بدہضمی اور گیس کے حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور پیٹ پھولنے کے مسائل سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں پودینہ آنتوں کے مسلز کو سکون پہنچا کر گیس اور فضلے کو گزرنے میں مدد دیتا ہے تاہم سینے میں جلن کا مسئلہ رہتا ہو تو پھر پودینے کے استعمال سے گریز کریں-

    ڈاکٹر سے کب رجوع کریں:
    پیٹ پھولنا اورشکم میں سوجن کئی بار کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے اگرچہ ایسا امکان بہت کم۔ہوتا ہے جیسے جگر کے امراض آنتوں کے ورم کے امراض ہارٹ فیلئیر گردوں کے مسائل اور کچھ اقسام کے کینسر سے بھی یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے اگر پیٹ پھولنے کا مسئلہ کئی دن کئی ہفتے تک برقرار رہے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ۔درست تشخیص ہو سکے-

  • ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں

    ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں

    روزانہ دوپہر ہری سبزیاں کھانے اپنے من پسند ڈرنکس اور چپس اسنیکس وغیرہ چھوڑنے اور ورزش وغیرہ کرنے کے باوجود بھی اگر آپ کے وزن پر زکوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا ہے اوروزن کم کرنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنے کے بعد بھی اگر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو رہا تو پھر یہ دیکھیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے ننانوے فیصد غذائیں جسم کو ایک طرح کے فریب کے ذریعے قابو میں لا کر دبلا کرتی ہیں عام طور پر ایسا بہت زیادہ توانائی والی غذاوں یا کیلوریز پر پابندی لگا کر کیا جاتا ہے یہ چیز ہمیشہ نا امیدی کی طرف لے جاتی ہے لہذا آپ نہایت ہی تھوڑا عرصہ اس کی پابندی کر پاتے ہیں اور وزن میں مزید اضافے کے ساتھ دوبارہ اپنی پرانی عادت پر آجاتے ہیں اس لیے نہ سوچیں کہ کچھ زبردست ہونے والا ہے کیونکہ جب ایسے نتائج حاصل نہیں ہوتے تو اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے وزن کم کرنے کا صحیح طریقہ سب سے پہلے اچھی صحت کی طرف توجہ دینا ہے جب آپ کہ توجہ جسم کو صحت مند بنانے کی طرف ہو گی تو وزن خود بخود ہی کم ہو جائے گا
    ورزش زیادہ اور کیلوریز کا استعمال کم کرنا:
    بہت زیادہ ورزش اور غذا یا کیلوریز کا کم استعمال آپ کے نظام۔ہضم کو نہایت سست کر دیتا ہے جب آپ مناسب مقدار میں کیلوریز نہیں لیتے تو آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے جس سے نظام۔ہضم ہلکا ہو جاتا ہے اور اس کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے اور دل کی دھڑکن کم ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے جسم کے لیے یہ کیلوریز ناکافی ہیں اور جسم کو۔زیادہ توانائی کی ضرورت ہے

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے


    پروٹین کی کمی:
    کم پروٹین والا ڈائٹ پلان وزن میں کمی کی رفتار ہلکی کر دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں جگر اور ڈیٹوکس کرنے کی صلاحیت کا دارومدار پروٹین پر ہوتا ہے اور مضبوط جگر اور گلوکوز ہی تھائرائڈ ہارمونز بنانے کے لیے ضروری ہے اگر آپ زیادہ عرصے تک صحت مند جسم اور وزن میں کمی چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی غذا میں ہلکا پروٹین ضرور شامل کرنا ہوگی

    نٹی اسپنچ سیلیڈ لذیذ اور منفرد ذائقہ دار ریسیپی


    غذا سے شکر کا بالکل خاتمہ کر دینا:
    غذا سے شکر کو بالکل ختم کر دینے سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے ساتھ ہہ جسم میں گلائیکو جن جمع رکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے جو تھائرائڈ گلینڈ میں تبدیلی کر کے نظام ہضم کو صحیح رکھتا ہے ڈائٹ پلان کے ساتھ ورزش بھی نہایت ضروری ہے خوب پسینہ لانے والی اورسانس کو پھلانے والی ورزش کے بغیر آپ جسم کو شیپ میں نہیں لا سکتیں ورزش کا مقصد یہ نہیں کہ آپ نے تھوڑے عرصے کے لیے ورزش کر کے وزن کم کیا اور پھر چھوڑ دی ورزش کی آپ کے وزن کو ہمیشہ ضرورت ہے صحت مند رہنے کے لیے پابندی کے ساتھ ورزش کریں اور اسے کبھی نہ چھوڑیں اگر یہ سمجھنا کہ کھان چھوڑ کر آپ اپنی کیلوریز کم۔کر سکتی ہیں تو یہ بات صحیح نہیں وزن کم کرنے کے لیے کھانا چھوڑنا بالکل بے کار بات ہے اگر آپ کھانا چھوڑیں گی تو آپ کے اندر کھانے کی خواہش بڑھتی جائے گی دوسرا یہ کہ دن میں تھوڑا تھوڑا کئی مرتبہ کھانے سے جسم زیادہ بہتر طریقے سے کام کرے گا بہ نسبت اس کے دن بھر میں ایک یا دو مرتبہ خوب پیٹ بھر کر کھانا کھائیں عام خیال ہے کہ فیٹس جسم کو موٹا کرتے ہیں قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والے فیٹس کا استعمال سالوں سے کیا جا رہا ہے جن سے وزن میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا جب آپ فیٹس کے بغیر یا کم فیٹس والی چیز کا انتخاب کرتے ہیں تو اصل میں آپ زیادہ شکر اور کم فیٹس والی چیز کا انتخاب کررہے ہوتے ہیں کیونکہ پروٹین کو فیٹس کے ساتھ ملا کر لیا جاتا ہے اگر آپ کم فیٹس والی غذا کا استعمال کریں گے تو آپ کو پیٹ کم بھرا ہوا محسوس ہوگا اور آپ کو مزید کھانے کی خواہش ہوگی جس کہ وجہ سے آپ صحیح مقدار میں فیٹس لینے والے کے مقابلے میں پیٹ بھرنے کے لیے زیادہ کھائیں

  • سہانجنا کے  معجزاتی طبی فوائد

    سہانجنا کے معجزاتی طبی فوائد

    سہانجنا کے طبی فوائد
    موسم سرما کے اختتام پر پاکستان کے میدانی علاقوں میں کثرت سے پائے جانے والے سہانجنا کے درخت پر سفید پھولوں کی بہار آجاتی ہے اس کے پھولوں کی بہا ر آجاتی ہے اس کے پھولوں کو توڑ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے سہانجنا جنوبی پنجاب کی معروف غذا ہے اس کے خود رو درخت زیادہ تر جھنڈوں کی صورت میں نظر آتے ہیں گرمیوں میں سائے اور موسم سرما میں صحت بخش غذا حاصل کی۔جاتی ہے اس درخت کو بیج اعر قلموں کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے پہلے سال پھول اور دوسرے سال اس کی فصل زیادہ۔اچھی ہوتی ہے یہ درخت دس میٹر تک بلند ہو جاتا ہے کانٹ چھانٹ کر کے اسے دو میٹر تک اونچا رکھتے ہیں تاکہ ہاتھ پہنچ سکے
    https://login.baaghitv.com/anjeer-jannat-ka-phal-janiye-iski-afadiayt-or-ehmiyat/
    موسم بہار یا برسات میں سہانجنا کے درختوں کی۔قلموں یا بیج کو زمین میں لگایا جا سکتا ہے ان کے پتے حاصل کرنے کے لیے شاخوں کو سال بھر میں سات یا آٹھ بار کاٹا جا سکتا ہے جنوبی پنجاب میں اسے باٹا بھی کہا جاتا ہے کڑواہٹ دور کرنے کے لیے اس کے پھولوں کو پانی میں ابال کر خشک کر لیا جاتا ہے سہانجنا کو گوشت میں ڈال کر یا الگ بھی پکایا جا تا ہے کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے مگر اس کو پکانے میں محنت درکار ہوتی ہے ملتانی اسے بہت مہارت سے پکاتے ہیں سہانجنا کی لکڑی نرم ہوتی ہے اس لیے اس کی لکڑی خشک ہونے پر صرف ایندھن کے لیے استعمال کی جاتی ہے سہانجنا کی شاخ کو کہیں بھی لگا دیا جائے تو یہ فوراً پھوٹ پڑتا ہے اور چند ماہ میں پھل پھول لے آتا ہے جنوبی پنجاب کے درمیانی۔علاقوں میں یہ ہر جگہ نظر آتا ہے حتی کہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر بھی مقامی لوگ کسی نئی جگہ پر گھر بناتے ہیں یا کوئی۔نئی۔زمین آباد کرتے ہیں تو سب سے پہلی سہانجنا اگایا جاتا ہے بے پناہ فوائد کی۔وجہ سے معجزاتی درخت کہلاتا ہے

    ہری سبزیوں کا استعمال ڈپریشن میں کمی کے لئے مفید


    یہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اعر م رق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے جبکہ افریقہ کے کچھ ممالک میں بھی ملتا ہے اسکی شہرت کا تاریخی پس منظر سینیگال سے شروع ہوتا ہے جہاں قحط کے زمانے میں اسے متعارف کروایا گیا اس کے درخت کا ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے اور اسے غذا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اس کی کاشت سخت حالات میں بھی آسانی سے ہوسکتی ہے خشک سالی میں غذائی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک بہترین انتخاب ہے سہانجنا کے پتوں جڑوں بیج تنے اور شاخوں میں کیلشئیم پروٹین وٹامن اے پوٹاشئیم آئرن اور وٹامن ای پایا جاتا ہے اکثر ممالک میں اس کے بیجوں کو پیس کر پینے کا پانی صاف کیا جاتا ہے جس سے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں مٹی اور نقصان دہ دھاتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں اس میں کینسر ٹی بی ہیپاٹائٹس شوگر وغیرہ سے بچاو کے لیے اینٹی بائیوٹکس اینٹی الرجک اور دیگر طبی اجزاء پائے جاتے ہیں اس کے بیج کا تیل زیتون کے تیل کی۔طرح کھانے کے لیے بہترین ہے جبکہ پھول اور پھلیاں غذائیت سے بھر پور اور لذیذ ترین۔ہوتی ہیں سہانجنا کے پتوں کا عرق فصلوں پر سپرے کرنے سے موسمی اور فضائی سختیوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-jambolan/
    جانوروں کو جب غذا کے طور پر استعمال کروایا گیا تو ان کے وزن میں بتیس فیصد اوردودھ میں تینتالیس سے پینسٹھ فیصد اضافہ سامنے آیا ترقی یافتہ دنیا میں سہانجنا سے قدرتی۔غذائی ٹانک انرجی ڈرنک ادویات اور میک اپ کا۔سامان بنایا جاتا ہے اس کے خشک پتوں کا سفوف غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی مقصد کے لیے یہ۔سینیگال میں اگایا گیا اس کے پتوں کا پچاس گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے پانی صاف کرنے کے لیے بیجوں کو خشک کر کے اس کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے حاصل یونے والے سفید مغز کو کوٹ کر اس کا سفوف تیار کیا جاتا ہے اس سفوف کے ہچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے پا۔ی۔صاف کرنے کے لیے سفوف کو پانی میں اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیں سفوف نیچے بیٹھنے کے بعد صاف ہو جائے گا سہانجنے کے بیج کا کیک یا پاوڈر گندے پانی میں موجود بیکٹیریا ٹھوس اجزاء اور دیگر ذرات کو اپنے ساتھ چپکا کر تہہ نشین کر دیتا ہے اور باقی پانی صاف اور پاک ہو کر پینے کے قابل ہو جاتا ہے بیجوں کا سفوف پیٹ کے مرض میں شفا دیتا ہے تازہ پتوں کو پالک کی طرح پکایا جا سکتا ہے یعنی سلاد سے لے کر سالن تک بنایا جا سکتا ہے جبکہ سفوف بعض ممالک میں سوپ بنانے میں استعمال ہوتا ہے اس کی۔پھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی۔جڑیں بھی غذا کے طور پر استعمال کی۔جا سکتی ہیں

    الائچی کے جادوئی فوائد


    البتہ جڑوں میں ایک۔زہریلا الکلائیڈ سپائروجن پایا جاتا ہے لیکن اس کی مقدار خاصی کم۔ہوتی ہے اس کے بُرے اثرات جڑوں کو بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے سامنے آ سکتے ہیں سہانجنا ڈائریا اور جلد پر فنگس انفیکشن معدے اور پیٹ کے مسائل دُور ہو۔جاتے ہیں بڑی عمر والوں کے لیے اس کے بیجوں کو مٹر کی طرح پکا کر کھانا انتہائی مفید ہے اس کے بیجوں کا تیل جلد کی الرجی سوزش اورزخموں کو ٹھیک کر دیتا ہے وٹامن اے سی اور ای اس میں۔وافر مقدار میں پایا جاتا ہے بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے یہ تیل بہت ہلکا اور ذائقے میں خوشگوار ہونے کی۔وجہ سے زیتون کے تیل جیسا صحت مند ہے اس کا تیل موئسچراِزنگ خصوصیات رکھتا ہے صاب شیمپو عطریات اور دیگر جلد کی۔دیکھ بھال کی مصنوعات میں۔اسے استعمال کیا جاتا ہے سہانجنے کی جڑیں بھی مختلف ادویات عطریات قدرتی کیڑے مار ادویات کھاد جانوروں کے چارے اور دیگر کئی اہم مصنوعات تخلیق کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں سہانجنا میں موجود وٹامن بی سی اور ای اور کاربیک ایسڈ خون میں موجود گلوکوز کی۔سطح کو کنٹرول کر کے ذیابیطس کے مریضوں کی مدد کرتا ہے اسی طرح پینٹو تھینیک ایسڈ پروٹین پوٹاشئیم میگنیشیم اور کاربوہائڈریٹس انسولین کی پیداوار کو درست کرنے میں معاون ہیں اس سے کھانا ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے
    https://login.baaghitv.com/flax-seedsalsi-se-beemarion-k-ilaaj/
    سہانجنا کے پتے جڑیں بیج چھال پھل پھول۔اور پھلیاں دل اور دوران خون کو درست رکھنے میں معاون ہیں اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس ٹیومر مرگی سوزش السر بلڈ پریشت کولیسٹرول اور فنگل انفیکشن میں مفید ہے بلڈ پریشر کو برقرار رکھتا ہے دمہ جوڑوں کا درد بے خوابی قلبی مسائل گھبراہٹ جلد کے مسائل۔ڈپریشن بخار متلی پیٹ کی تکلیف جسمانی یا اعصابی کمزوری کا جلد خاتمہ کرنے میں معاون ہے کمزور ہڈیوں کی تعمیر نو کرتا ہے سبزیوں اور اچھا پھل کا متبادل ہے یہ میدانی علاقوں نہروں اور دریاوں کے کناروں پر کثرت سے ملتا ہے سہانجنا ہر طرح کے موسم میں اگایا جا سکتا ہے کم پانی والے علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے ڈیرہ غازی خان سے لے کر مظفر گڑھ اور وہاں سے میانوالی تک پھیلے ریتلے میدانوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے جنوبی پنجاب بھر میں سہانجنا ایک پسندیدہ سبزی کے طور پر اس قدر پسند اور معروف ہے کہ اسے ملتانی سوغات میں شامل کیا جاتا ہے اس کی پیداوار بڑھا کر بیجوں پھلوں پھولوں اور لکڑی سے معجزاتی فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے

  • گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں
    گردہ انتہائی نازک عضو ہے یہ انتہائی پچیدہ فرائض سر انجام دے رہا ہے اللہ تعالی کا بنایا ہوا یہ عضو انتہائی باریکی کے ساتھ جسم کے فاسد مادوں کو فلٹر کرنے کا کام۔سرانجام دیتا ہے اس کی انتہائی باریک جھلیاں جسم کو فاسد مادے سح صاف رکھنے میں مدد دیتی ہے ایک گردے میں عممومی طور پر دس لاکھ فلٹر یونٹس پائے جاتے ہیں قدرت کی۔باریکیوں کا اندازہ لگائیے انسان ایک لاکھ تو کیا اتنے چھوٹے سے گردے میں ایک۔ہزار فلٹر یونٹس لگانے کے قابل بھی نہیں اور پھر انہی فلٹر یونٹس کے مابین فاصلہ بھی پایا جاتا ہے یہی فلٹر یونٹس خون اور پیشاب کی نالی کے درمیان ایک واضح رکاوٹ ہیں اس میں انتہائی باریک اور کسی دروازے کی طرح تین تہی خلیے ہر بڑی چیز کے اخراج کو روکتے ہیں ان دروزاہ نما خلیات سے انتہائی باریک مالیکیولز ہی خارج ہو سکتے ہیں جبکہ سوڈیم اور پوٹاشئیم کے مالیکیولز کو پیچھے ہی روک لیا جاتا ہے ایک خطرناک مرض ایف ایس جی ایس کہلاتا ہے

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?


    اس بیماری میں گردوں کے انتہائی باریک اور مائیکروسکوپ سے دکھائی دینے والے فلٹر یونٹس متاثر ہو جاتے ہیں یہ یونٹ جسم۔کو خون میں پیدا ہونے والے بعض کیمیکلز سے پاک کرتے ہیں لیکن اگر یہی فلٹر یونٹس خراب ہو جائیں تو ان کے اندر سے یہی مائع یا کیمیکلز رسنا شروع ہو جاتے ہیں ان باریک سے سوراخوں سے ایک اہم اور خاص قسم کی پروٹین ایلبومن رسنا شروع ہو جاتی ہے یہ پروٹین خون کی کیمسٹری ہر اثر انداز ہوتی ہے خون کے ذریعے سے یہ جسم کے مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے پروٹین کی ان دونوں اقسام کا رسنا ٹھیک نہیں یہ دونوں پروٹینز اپنی اپنی جگہ مختلف امراض کو جنم۔دیتی ہیں ابتدائی طور پر تو اس خرابی کو دور کیا جا سکتا ہے لیکن زیادہ وقت گزرنے کی۔صورت میں یہ مرض لاعلاج ہو جاتا ہے دنیا بھر میں ساٹھ کروڑ سے زائد افراد گردوں کح مختلف امراض میں مبتلا ہیں پاکستان اس حوالے سے آٹھویں نمبر پر ہے پاکستان میں بیس ہزار سے زائد افراد گردوں کے دائمی امراض کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں بیرون ملک اس کے پھیلاو کی وجوہات میں حرام مشروبات کا استعمال بھی شامل ہے جبکہ ہمارے ہاں ادویات کا بے تحاشا پھیلاو اس کے پھیلاو کی۔بڑی وجہ ہے طاقتور دواوں کا اندھا دھند استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بہت سے مریض اپنے طور پر پانچ ہانچ سو گرام کی گولیاں کھا جاتے ہیں ان اصلی اور جعلی ادویات کا بے تحاشا استعمال نہ صرف گردوں کو بلکہ دوسرے اعضاء کو بھی متاثر کیا ملاوٹی اور ناقص خوراک غیر معیاری پانی موٹا پا ذہنی پریشانیاں پتھری اور ذیا بیطس سمیت کئی وجوہات ہیں

    مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر


    اس کی ایک اور وجہ جنک فوڈ کا بے تحاشا استعمال ہے بہت سے لوگ سردیوں میں پانی نہیں پیتے اور گرمیوں میں پانہ مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہیں خاص کر جسمانی مشقت کرنے والوں کو صاف پانی نہیں ملتا پنجاب کح پسماندہ۔علاقوں کے بیشتر لوگ اپنے مرض سے آگاہ ہی نہیں ہوتے انہیں گردے کی خرابی کا علم اکثر اس وقت ہوتا جب یہ مراض لاعلاج ہو گیا ایسے لوگوں کو اس کے بارے میں۔شعور دے کر بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے گردے کی پیوند کاری کو ایک محفوظ طریقہ تصور کیا جاتا ہے مگر در حقیقت یہ اتنا سادہ اعر آسان کام نہیں پیوند کاری کے بعد اگر کوئی۔مریض مر جائے تو عام۔طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسم کے مدافعتی نظام نے پیوند کاری کو قبول نہیں کیا امریکہ میں تیس فیصد کیسوں میں پیوند کاری ناکام۔رہی پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسم کے مدافعاتی نظام نے ہی نئے پیوند شدہ گردے کے خلاف کام کیا جو موت کا سبب بنا ہر کیس میں۔ایسا نہیں ہوتا کئی کیسوں میں یہ ہوتا ہے کہ جب نیا گُردہ لگایا جاتا ہے تو اس میں بھی وہی خرابی یعنی بیماری پھیل جاتی ہے جس سے اصلی گُردہ متاثر ہوا فوری علاج کی صورت میں اس بیماری کو جان لیوا ہونے سے بچایا جا سکتا ہے

    مہندی سے الرجی ہونے کی وجوہات اور علاج


    ہمارے ہاں مختلف عمروں میں ہونے والی اموات پر کبھی کوئی تحقیق نہیں ہوئی کوئی نوجوان جوانی میں کیوں چل بسا کبھی شماریات کے صوبائی یا وفاقی ادارے نے ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا تاہم امریکہ میں نوجوانی میں بڑھنے والی اموات نے معاشرے کو ہلا۔کر رکھ دیا ایک اندازے کے مطابق وہاں تیس سے چالیس سال کے عمر کے نوجوانوں کی اموات میں یورپی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس کے پیچھے گُردوں کے امراض ہیں انہوں نے کہا پروٹین کی ایک اور قسم جسے سولیوبل یوکائینز پلازمینوجن ایکٹیوِیٹر ریسیپٹر یعنی suPAR کہا جاتاہے جسم میں اس پروٹین کی۔مقدار مناسب ہونے کی صورت میں گردوں کے ایک خطرناک مرض سے بچا جا سکتا ہے پہلے مرحلے میں یہ بیماری خون صاف کرنےطکی صلاحیت متاثر کرتی ہے بعد ازاں دل کے امراض اور ذیابیطس کا بھی سبب بن سکتی ہے گردوں کے فلٹر یونٹس میں خرابی ناقابل اصلاح ہے یہ کام انسان کے بس میں نہیں درحقیقت متیض کے فلٹر یونٹس بُری طرح جُھلس جاتے ہیں انہیں ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوتا

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے


    نئی تحقیق کی روشنی میں گردوں کے بعض امراض کا علاج آسان اور ممکن ہو جائے گا کسی بھی بیماری کی صورت میں جسم کا۔قدرتی مدافعتی نظام متحرک ہو۔جاتا ہے بعض اوقات یہ۔نظام جراثیموں کو مارنے کے لیے ضرورت سے زیادہ suPAR نامی پروٹین پیدا کرتا ہے جو نقصان دہ۔ثابت ہوتی ہے اپنے ہی صحت مند نظام کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے امریکہ کے معروف کڈنی سپیشلسٹ جوچین ریزر نے اس پر تحقیق کی ہے وہ رش یونیورسٹی کے میڈیکل سنٹر میں انٹرنل۔میڈیکل کے شعبے کے چئیر مین بھی ہیں انہوں نے طب کی دنیا کے یکسر نظریات کو غلط قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی میں suPAR پروٹین کی مقدار کم پائی جاتی ہے تو پھر وہ گردوں کے امراض سے محفوظ ہے وہ اس مرض کا شکار نہیں بن سکتا ہے انہوں نے یہ تحقیق جانورں کے مالیکیولز پر کی جو گردوں کے اسی مرض میں مبتلا تھے انہوں نے ثابت کیا کہ گردے کے اس مرض سوپار کو کنٹرول کرکے ٹھیک کیا جا سکتا ہے یعنی گردوں کے اس خطرناک مرض کا علاج ممکن ہے

    اعصابی تناو کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ


    تاہم ان کی اس تحقیق سے کچھ محققین متفق نہیں کیونکہ کلینکل تجربات میںsuPAR کی۔مقدار اور ایف ایس جی ایس میں براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم دونوں اقسام کی تحقیقات میں مریضوں میں suPAR کی۔مقدار کو نظر انداز کرنا مشکل ہے اس بات کو بھی جھٹلانا مشکل ہے کہ اس کا تعلق ہارٹ اٹیک ذیابیطس اور قبل۔از وقت موت سے ہے ان کا یہ بھی خیال ہے کہ خون میں ہی ایسی کوئی چیز شامل ہوتی ہے جو پیوند کاری کے بعد گردے پر دوبارہ حملہ کرتی ہے بس ہمیں اسی کو پکڑنا ہے اپنی دس سالہ تحقیق کے دوران انہوں نے خون میں ایلبومن نامی پروٹین کی۔موجودگی اور اس کے گردوں کے بعض امراض سے تعلق کا پتہ چلایا یہ پروٹین گردے کے فلٹر یونٹ سے رسنے کے بعد خون اور پٹھوں میں شامل ہوئی انہوں نے کہا کہ ایک مالیکیول کی مدد سے اس مرض کی تمام۔تفصیلات کا راز پایا جا سکتا ہے یہ مالیکیول ہی اس مرض کے بارے میں بہترین آگاہی دے سکتا ہے

  • ذائقہ دار اور لذیذ کھویا ملائی قلفی بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    کھویا ایک پاؤ
    پستہ دو کھانے کے چمچ
    کریم 400 گرام
    ایواپوریٹڈ ملک سولہ اونس
    کیوڑہ ایک چائے کا چمچ
    بریڈ سلائس دو عدد
    کنڈینسڈ ملک 400 گرام

    ترکیب:
    ایواپوریٹڈ ملک کو فریزر میں رکھ کر آدھا فریز کریں یعنی کچا پکا جما لیں پھر بلینڈر میں کھویا کریم کنڈینسڈ ملک بریڈ سلائس کیوڑہ پستہ فریز ایواپوریٹڈ ملک ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کر کے قلفی کے سانچوں میں دال کر فریزر میں رکھ دیں جب فریز ہو جائیں تو سانچوں میں سے نکال کر سلائس کاٹ لیں اور سرو کریں

  • لذیذ اور خوش ذائقہ مٹکے والی قلفی بنانے کا طریقہ

    مٹکے والی قلفی
    اجزاء:
    دودھ ڈیڑھ کلو اتنا پکائیں کہ تین پاؤ رہ جائے
    چینی حسب ذائقہ
    الائچی پاؤڈر ایک چائے کا چمچ
    عرق گلاب ایک چائے کا چمچ
    لسہ کھویا تین پاؤ

    ترکیب:
    کسی برتن میں ڈیڑھ کلو دودھ ڈال کر اتنا پکائیں کہ آدھا رہ جائے پھر اس میں چینی اور الائچی پاؤڈر ڈال کر مکس کریں اور چولہے سے اتار لیں کھویا مکس کر کے دوبارہ دھیمی آنچ پر اتنا پکائیں کہ دودھ گاڑھا ہو جائے ان عرق گلاب ڈال کر مکس کریں جب ٹھنڈا ہو جائے تو قُلفی کے مولڈ میں ڈال کر مٹکے میں ڈال دیں اگر مٹکہ نہ ہو تو فریزر میں رکھ دیں

  • لذیذ کھویا اسکوائربنانے کی ترکیب

    کھویا اسکوائر
    اجزاء:
    کھویا آدھا پاؤ
    گھی آدھا کپ
    بادام پستہ پاؤ کپ گرائنڈ کئے
    الائچی دو عدد
    چینی آدھا کپ
    انڈے تین عدد
    دودھ پاؤ کپ

    ترکیب:
    کھویا چینی اور گھی کو کسی باؤل میں ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں پھر اس میں آدھے بادام اور پستے ملالیں پھر کسی الگ پیالے میں انڈے ڈال کر پھینٹ لیں اب پھینٹے ہوئے انڈے اور دودھ بھی اس میں ڈال لر اچھی طرح مکس کریں پھر اس کے اوپر بادام اور پستے ڈال کر 180 ڈگری سینٹی گریڈ یا 4 نمبر پر تیس سے چالیس منٹ بیک کر لیں تیار ہونے پر کھویا اسکوائر کی لذیذ اور خوش ذائقہ ڈش مہمانوں کو سرو کریں

  • یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?

    یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?

    یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?
    اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا اس سے مسائل پیدا ہوں گے اور لوگوں کو بہت سی ایسی باتوں کا پتا چلے گا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے اور جانیں گے تو حیران اور پریشان ہوں گے یعنی عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ پینڈورا باکس خفیہ خبروں کا کوئی جائے مقام ہے جہاں اُنہیں دفن کیا جاتا ہے اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ اصل میں پینڈورا کون تھی اور اس کا باکس کیا تھا اسمیں کیا چیزیں تھیں
    کہا جا تا ہے کہ زی اس بادشاہ نے پینڈورا کو باکس بند حالت میں دیا تھا جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو اس میں سے عذاب اور قہر ناک درد نکلا ہر طرف موت کی حکمرانی تھی بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی عورت پینڈورا برایراست اس کا نشانہ بنی

    اسلام میں عورت کا مرتبہ و مقام،عورت اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،اور دنیا میں پیار محبت کا ایک تاج محل


    پینڈورا باکس جب کھلتا ہے تو است بند کرنا ممکن نہیں رہتا یہ پینڈورا باکس ہے کیا? کیا یہ حقیقت ہے? کیا یہ افسانہ ہے?یونانی دیو مالائی کا تحفہ ہیں? سچ یہی ہے کہ پینڈورا دیو مالائی تصور ہے اور باکس بھی اسی طرح کا خیالی باکس ہے یونانی دیو مالائی کا مطالعہ کریں تو انسان کی اس دنیا میں آمد سے پہلے کی دنیا دیوتاؤں دیوئیوں اور جنات کی دنیا تھی چاند کی دیوہ سرج کا دیوتا ہوا اور آندھیوں کا دیوتا ایولس سورج کی دیوی الیکٹرونا محبت اور خونصورتی کی دیوی ایفروڈائیٹ سورج موسیقی اور تیمارداری کا دیوتا اپالو جنگوں کا دیوتا اپریس آسمانوں اور جنتوں کا دیوتا اٹلس غرضیکہ ہر جذبے ہر خیال تصور قدر آسمان و زمین دریا و پہاڑ اور بحرو بر کے دیوتا بھی تھے دیویاں بھی تھیں یونانی دیومالائی میں ہی حضرت آدم و حوا کی کہانی ایک خوبصورت عورت کی ہے دیوتا اور دیوی عام طور پر لافانی سمجھے جانے والے افسانوی کردار اس وقت کی انسانی زندگی کے حکمران ہو کرتے تھے

    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


    آج بھی انگریزی دنون کے نام ان کے ناموں کی نسبت سے بولے جاتے ہیں تب جناتی کردار واکے انسانوں کو دیو پیکر کہا جاتا تھا ایسے ہی دو بھائی پرومیتھیس اور ایپی میتھیس تھے یہ دونوں دیو پیکر بھائی تھے یہ دیو تا کی طرف سے جنگوں میں لڑا کرتے تھے ان دیوتاؤں کے بادشاہ کو زی اس کہا جاتا تھا اس نے پرومیتھیس سے کہا کہ گارے اور مٹی سے اکی انسان تخلیق کرو ایپی کے ذمے زی اس نے یہ کام لگا رکھا تھا کہ وہ جانور تخلیق کرے اور ان کو مختلف خوبیاں عطا کرے مثال کے طور پر لومڑی کو چالاکی چیتے کو پھرتی اور شیر کو بہادری وغیرہ سے منسوب کیا جانا تب کے دیو مالائی قصے کہانیوں کا ہی تخلیق کردہ ہے ورنہ کس نے لومڑی کی چالاکی کا خود مشاہدہ کیا ہے یا ان جانوروں سے منسوب خوبیوں یا خصوصیات کا کیا ثبوت ہے?

    بڑھتی عمر کی غذائی ضروریات


    ایپی میتھیس کا یہی کام تھا اس نے سارے خصائص ان سب جانوروں کو دے دیئے تھے جو وہ تخلیق کر چکا تھا اب انسان کو گارے اور مٹی سے بنانے کے بعد اس کے پاس ایسی کوئی خوبی اور تخصیص ہی باقی نہ رہی جو وہ انسان کو دے سکتا اس پر پرومیتھیس نے ایک فیصلہ کیا ایپی کی ناکامی ثابت ہو چکی تھی پرومیتھیس نے کہا یہ انسان سیدھا کھڑا ہوگا یہ بندر بن مانس یا کسی چوپائے کی طرح نہیں ہوگا اس طرح کے دیوتا ہوا کرتے تھے اس نے کہا کہ یہ انسان کی دیوتا کی طرح ہو گا اور سیدھا کھڑا ہو گا زی اس یہ سب دیکھ رہا تھا اب پرومیتھیس نے فیصلہ کیا کہ انسان کو آگ کا بھی تحفہ دے دیا جائے زی اس ایسا نہیں چاہتا تھا اب دیوتاؤں اور ان کے بادشاہ میں اختلاف سامنے آ گیا پرو نے آگ چُرا لی یہ آگ اس نے زی اس کے چراغ سے چُرائی یا بادشاہوں کی کڑکتی بجلی سے یہ معلام نہیں ہے نعض کے مطابق یہ آگ سورج سے چوری کی گئی یہ انسان کو دی گئی یا نہیں اس بارے میں بھی درست علم نہیں یہ سارا دیومالائی سلسلہ ہے اس میں سچ تو دیومالائی ہی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زی اس بادشاہ نے کہا تھا پہلے عورت بنائی جائے اسے مٹی اور پانی سے بنایا جائے وہ ایک وعروت اس لیے بنوا رہا تھا کہ اسے سزا کے طور پر دوسروں پر استعمال کیا جا سکت پھر ہر دیوی اور پر دیوتا سے کہا گیا کہ وہ اس تیار شدہ عورت کو کوئی نہ کوئی خوبی تیار کرے کسی نے خوبی دی کسی نے کشش کسی نے ترنم کسی نے رقص کی خوبی دی کسی نے اسے تجسس سے بھر دیا اور کسی نے اسے ایسی خوبی دی جس سے وہ ہر کسی کو گرویدہ بنا لیتی اپنی بات پر قائل کر لیتی اس کے دلائل کے آگے بڑے بڑے پانی بھرتے اس عورت کو پینڈارو کا نام دے دیا گیا پینڈورا کو ایک برتن دیا گیا یہ صراحی تھی یا صراحی نما برتن تھا یہ باکس ہر گز نہیں تھا

    بریسٹ کینسر کیا ہے؟ اس کی علامات اور وجوہات، ہر نو میں سے ایک خاتون اس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے بروقت تشخیص سے زندگی بچائی جا سکتی ہے


    پینڈورا کا جار سولہویں صدی تک جاری رہا پھر ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم کے ایک سکالر ایریس مس نے ایک کہانی کا ترجمہ کیا یہ کہانی یونانی شاعر ھی سوائڈ نے سات سو قبل مسیح لکھی تھی ایریس مس یونانی کہانی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر رہا تھا وہ یونانی لفظ پائتھوس کا ترجمہ کر رہا تھا اس کا اصل ترجمہ جار تھا لیکن اس نے لاطینی زبان کا لفظ پیگزائس ترجمے میں استعمال کیا اس کے معنی باکس کے تھے چنانچہ اب تک اسے پینڈورا باکس ہی کہا جاتا ہے پینڈورا باکس مشہور کیسے ہوا جب خوفناک واقعات رونما ہوتے معاملات الجھتے چلے جاتے تو لوگ اسے پینڈورا باکس سے منسوب کرتے جاتے کہا جاتا ہے کہ انسان ایسی دنیا میں رہتا تھا جس میں پریشانی اور مایوسی نہ تھی جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو پریشانیوں خطروں مایوسیوں اور ناکامیوں نے انسان کو گھیرے میں لے لیا دیکھا جائے تو ان سب منفی رویوں جذبوں اور کاموں کو عورت سے منسوب کیا جاتا تھا عورت ناکامی اور مایوسی کی علامت سمجھی جاتی تھی زی اس بادشاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پینڈورا کو جار بند حالت میں دیا تھا عورت کا تجسس تھا جس کے بارے میں بادشاہ کا خیال تھا کہ یہ اس وقت خطرے کا منہ کھول دے گا جب پینڈورا اس جار کو اور آج کے باکس کو کھول دے گی گویا دیوتاؤں کا بادشاہ ڈرتا تھا کہ یہ عورت ایک دن سارے عذاب کو انسان پر مسلط کر دے گی بادشاہ اس بات پر بھی پچھتایا تھا کہ اس نے پینڈورا سے کہہ دیا تھا کہ کسی صورت بھی اس جار یا باکس کو نہ کھولے انسان کی نافرمانی کا آغاز اس دیو مالائی تاریخ کے مطابق اس وقت ہوا جب پینڈورا نے اپنے جار کو کھول دیا گویا اس نے بدی کا برائی کا اور عذاب کا منہ کھول دیا

    آج کل کے تیزی سے بدلتے حالات میں بچوں کی اچھی پرورش والدین کی اہم اور بڑی ذمہ داری


    اس نافرمانی کو آدم و حوا سے متوازی کہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے عام خیال یوں کیا جاتا ہے حضرت حوا نے حضرت آدم کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ نے دونوں کو منع کیا تھا اصل بات یہ نہیں تھی اس طرح کہنے والے عورت کو انسان کے جملہ مسائل کا ذمہ قرار دے کر اس کی مذمت کرتے ہیں یہ شیطان تھا جس نے آدم اور حوا کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی جس کے کھانے سے دونوں کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور سزا کے طور پر ان کو حکم دیا گیا کہ وہ زمین پر اتر جائیں جب ساری خوبیاں دیویوں نے پینڈورا کو دے دیں تو بادشاہ زی اس کا پھر بھی خیال تھا کہ اس کے پاس کوئی خوبی نہیں ہے چنانچہ اسے ایک جار دے کر کہا گیا کہ اسے کھولنا نہیں ہے گویا عورت امتحان میں ڈال دی گئی اسے تجسس اور ٹوہ لگانے کی خوبیاں دے کر کہا گیا کہ اب ٹوہ نہیں لگانی ہے اس جار میں کیا ہے بادشاہ ڈرتا رہا کہ وہ اس جار کو کھوکے گی اس جار میں کیا تھا اس میں بدی اور بُرائی تھی گویا بدی اور بُرائی جب بھی کُھلے گی تو عورت کے ہاتھوں سے ہی کُھلے گی اور عام ہوگی مرد کو سزا دینے کے لئے عورت کی تخلیق کی گئی مرد تو پہلے ہی کسی خوبی کے لائق نہ تھا ساری خوبیاں اس کی تخلیق سے پہلے جانور لے اُڑے تھے گویا مرد ناکارہ تھا اور عورت اس کے ناکارہ پن کی سزا تھی اس طرح سے دونوں کسی بھی قابل نہ تھے کہ دیوتاؤں کو للکار بھی سکتے اس مرد اور عورت نے زمین کو بُرائی سے بھر دیا بدی کو عام کر دیا اب کوئی نہیں جانتا تھا کہ پینڈورا باکس میں کیا تھا جب اس باکس کو کھولا جائے گا تو کیا برآمد ہوگا ?

    تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بہادری اور جذبہ آج کی عورتوں کے لیے مثالی نمونہ


    پینڈورا باکس کی کہانی اس زبان کے ظہور سے پہلے کی کہانی ہے لیکن جدید زبان نے پینڈورا کو مرنے نہیں دیا اب بھی پینڈورا سے مراد عذاب ہے الجھن ہے پریشانی اور مصیبت ہے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ یوں نہ کرو پینڈورا ناجس کھل جائے گا اگر کھُل گیا تو ایسا نہ کیجیے گا ویسا نہ کیجیے گا ہم اس بات سے ڈرتے ہیں جس کے بارے میں جانتے ہی نہیں کہ وہ بات کیا ہے پینڈورا باکس کا تعلق جاننے یا نہ جاننے سے ہے اس کا تعلق کھولنے سے ہے اسی دیومالائی روایت کو مان لیا جائے تو عورت کی زبان کے کُھلنے سے سب ڈرتے ہیں کوگ روایتاً بھی کہہ ڈالتے ہیں کہ میری زبان نہ کُھلواؤ تو بہتر ہے گویا ان کا کہنا دراصل یا دلانا ہے کہ مخاطب کو ڈرنا چاہئے کہ یہ زبان کُھلے گی تو بہت سے راز کُھلیں گے اس دیومالائی روایت کے مطابق پینڈورا نے ایک دن دیکھا زی اس نے اس کی نگرانی پر ایپی میتیھیس کو مقرر کر رکھا تھا وہ کہیں چلا گیا ہے اور اسے دیکھ نہیں رہا

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش


    وہ اس جار یا باکس پر چڑھ گئی اس نے اوپر بڑی الماری میں سے اس کی کنجی چوری کر لی اسے جار کے تالے کے سوراخ میں گھمایا لیکن اسے فوری طور پر شدید جھٹکا لگا اسے احساس جرم کی شدت نے آن گھیرا اس نے تصور میں دیکھا کہ ایپی میتھیس غصے سے خونخوار ہو رہا ہے بس پھر کیا تھا اس نے فوراًہی چابی دوسرے سمت میں گھمائی اور اس جار یا باکس کو کھولے بغیر پھر بند کر دیا کنجی وہیں رکھ دی جہاں سے اُٹھائی تھی اس نے تین بار اسی طرح سے جار کھولنا چاہا اور ایپی میتھیس کے ڈر سے اسے بند کر دیا اسے خیال آتا کہ وہ اندر جھانک لے گی تو پاگل ہو جائے گی پھر ایک دن اس نے پاگل پن کے خوف کو ختم کر دیا چابی نکالی اسے گھمایا آنکھیں بند کیں اور ڈھکن کھول دیا اس نے اس خیال سے آنکھیں کھول دیں کہ اندر سے ریشم و کم خواب برآمد ہوں گے ان میں خوبصورت رزق و برق لباس اور زیورات بھی ہوں گے جھمکے اور خوبصورت گلوبند اور ہار ملیں گےسونے کے سکے اور چوڑیاں ہوں گی لیکن وہاں نہ ریشم تھا نہ سونا چاندی نہ وہاں چمکتے دمکتے زیورات تھے اور نہ طلائی کنگن ہی اسے مل سکے

    ّکس انسان کے متعلق حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ خداکا دشمن ہے


    پھر اچانک اس کے چہرے کا خوش گوار تحیر خوفناک تاثرات میں بدلتا گیا مایوسی اور خوف نے اسے آن گھیرا اس جار یا باکس کو دیوتاؤں کے بادشاہ زی اس نے کرب و اذیت سے بھر رکھا تھا اس میں عذاب اور قہر ناک درد تھا بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی پینڈورا باکس کُھل گیا تھا تباہی باہر اُمڈی پڑی تھی اور وہ پہلی عورت پینڈورا اس کا براہ راست نشانہ تھی موت کی اب حکمرانی تھی اداسی اور بے حد اداسی تھی اس میں سے ہر شے خوفناک کیڑے مکوڑوں کی صورت میں رینگتی ہوئی باہر نکل رہی تھی ان کیڑے مکوڑوں اور حشرات نے پینڈورا کے جسم پر قبضہ کر لیا وہ اس سے چمٹ ھئے اس کے خوبصورت وجود کا حصہ بنتے گئے اس نے گھبراہٹ خوف اور پہریشانی میں ڈھکن بند کر دیا ایپی میتھیس نے اس کی چیخیں سن کر اندر کی طرف بھاگا تاکہ پینڈورا کو دیکھے کہ وہ کیوں چیخ و پکار کر رہی ہے

    جوڑوں کے درد سے نجات کیسے پائیں?


    پینڈورا باکس کے اندر سے ایک آواز اس وقت بھی آرہی تھی اور درخواست کر رہی تھی کہ ہمیں باہر آنے دو ہمیں بھی آزادی چاہیئے ایپی نے یہ دیکھا تو کہا باکس میں تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب اندر کا خوف تھا دہشت کا وہ منظر تھا جو اس انسان کے اندر ہوتا ہے باہر تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب آزاد ہو چکا انسان کا اندر خالی ہو جائے تو باہر کیا رہ جاتا ہے یہ کہہ کراس نے ڈھکن دوبارہ سے کھول دیا اب اس باکس میں کیا رہ گیا تھا کہنے والے کہتے ہیں کہ امید زندہ تھی وہ اب بھی اندر تھی جو ایک خوبصورت ڈریگن فلائی بن کے باہر نکل آئی برائی اور جرم نے پینڈورا کے جسم پر جس قدر زخم لگائے تھے اسے قدر کچوکے لگائے تھے انھیں بھر رہی تھی انھیں مندمل کرنے میں لگ گئی تھی اور پینڈورا کو دکھ اور تکلیف سے نجات مل رہی تھی لیکن جو زخم آئے تھے انھیں بھرنے میں مدد درکار تھی امید زندہ تھی اور پینڈورا کے باکس سے نکلنے واحد اچھائی تھی

    وضو کے حیران کن فوائد اور سائنس


    یہ ساری کہانی افسانوی ہے لیکن اس افسانے میں کتنی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے اس کا ہمیں اس وقت احساس ہوتا ہے جب ہمارے اندر سے حبس باطن اُمڈتا اُمڈتا سارے معاشرے کو زخمی کرتا جاتا ہے ہمیں احساس نہیں ہوتا ہمارے اپنے اندر کے مسائل کھوکھلے ہوتے جانے سے انجان رہتے ہیں ہمیں یہ خیال بھی نہیں رہتا کہ ہم کب پینڈورا کا رُوپ دھار لیتے ہیں دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں اپنے تجسس کو اس کی جائزہ حدود اور درست سمت سے محرام کرتے جاتے ہیں ہم دوسروں کے لئے باکس بن جاتے ہیں پھر کوئی دن آتا ہے کہ کوئی ہمارے لئے باکس بن جاتا ہے ہمارے سامنے روزانہ کئی پینڈورا باکس کھلتے ہیں لیکن ہن دوسروں کو ان کے کھولنے کا مجرم قرار دیتے ہیں

    ایسا گاوں جہاں صرف عورتیں ہی رہتی ہیں


    ہمارے لئے اور بھی راستے ہوتے ہیں کئی راستے ہمیں معلوم بھی ہوتے ہیں ہم کحھلے راستوں کو اکثر یہ کہہ کر بھی چھوڑ جاتے ہیں یہ طویل ہیں مختصر نہیں پینڈورا باکس کھلنے سے سب ڈرتے ہیں ہمارے ہاں بہت سے باکس ہیں جن کے کُھلنے سے پینڈورا کا کردار سامنے آ سکتا ہے جس کسی اشرفیہ رُکن کا معاملہ سامنے آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بس ہمیں رہنے دیں ورنہ پینڈورا باکس کھل جائے گا درست کہتے ہیں یہ باکس کھلے گا تو قوم کو دکھ تکلیف اور غم کے تجربے سہنا ہوں گے پھر کیا ہونا چاہئے اب کرداروں کو باکس میں بند کر کے انصاف قانون اور اقدار کے ایوانوں کی بلند و بالا الماریوں میں رکھ دیا جائے ان کلی کُنجیاں بہت اوپر رکھ دی جائیں باہر ایپی میتھیس بیٹھا دیئے جائیں وہ پہرا دیتے رہیں کہ کوئی کنجیاں نہ لے سکے

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?


    ایسا کب تک ممکن ہے جن تک پینڈورا زندہ ہے تجسس اور طلب زندگی ہے کہ اسن بلند الماریوں کے قفل کھلنے کی نگاہ منتظر ہے ان الماریوں میں جا بجا باکس پڑے ہیں ان پر ہم سب کے نام لکھے ہیں اشرافیہ کے کام ان میں بند پڑے ہیں پینڈورا میں بے پناہ دکھ تکا لیف غربت غلامی بے آبروئی چاپلوسی چالاکی کے کیڑے رینگ رہے ہیں اس کا باکس کھلنے کی دیر ہے یہ سب باہر آجائیں گے لیکن جب یہ باہر آ جائیں گے تو آخر میں امید زندہ ہو جائے گی ان سے نجات کی امید زخموں اور آہوں سے نجات کی امید آئے یہ پینڈورا باکس کھول ہی دیں کم از کم ہماری آنے والی نسلوں کو تو امید مل سکے گی یہی پینڈورا باکس تھا جسے آج کل ہر سیاست دان کھولتا ہے اور اخبارون میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا

  • خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کم کرنے کی آسان تراکیب:
    کولیسٹرول کی۔خون میں زیادتی خطرناک تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خون کی۔شریانوں میں کلوٹ یا پلاک بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتاہے بلکہ نارمل۔زندگی گزاری جا سکتی ہے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کی ایک۔وجہ موٹاپا بھی ہے جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے گا امکان زیادہ ہو گا ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلو گرام زیادہ وزن کے لیے جسم کو تقریباً بائیس ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیدا کرنا پڑتا ہے یعنی اگرکسی کا وزن نارمل وزن سے بیس کلو زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ چار سو چالیس ملی گرام۔زیادہ کولیسٹرول بنائے گا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے کولیسٹرول کی زیادتی والی غذا ست مکمل پرہیز کرنا چاہیے زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے اچھی صحت کے لیے ایک دن میں ایک شخص کو سو ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے انڈوں کا استعمال بند کر دیں یا صرف انڈوں کی سفیدی لیں گوشت کا استعمال کم کریں
    https://login.baaghitv.com/beetroot-give-protection-from-cancer-and-alzayemer/
    چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں کریم مکھن چیز کریم والے دودھ دیسی گھی گردے کلیجی نہاری مغز بالائی اور سری پائے وغیرہ سے پرہیز کریں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لیے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ سبزیوں اور پھلوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا سبزیاں کھانے سے انسان۔صحت مند اور سمارٹ رہتا ہے اس لیے تندرست سمارٹ اور چاق و چوبند رہنے کے لیے زیادہ زیادہ پھل۔اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاداور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں مختلف تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال کولیسٹرول کم۔کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہےخون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیڈ گلیسٹرائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کر دی جائے ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے اگر جسم میں چربی کی۔مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل۔کم کر دیں
    https://login.baaghitv.com/magical-benefits-of-cucumber/
    چکنائی کا استعمال کرنے کے لیے ہرقسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں صرف غیر سیرشدہ تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل استعمال کریں زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کے لیے بہت مفید ہے عرب ممالک میں زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بازارطسے کھانے نہ کھائے جائیں اس کے علاوہ مختلف قسم کی کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے مختلف قسم کی۔غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے چھان کے بغیر آٹا استعمال کرنا بھی مفید ہے اس کے علاوہ ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول اور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اس طرح خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول لیول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر ایچ ڈی ایل کو کم۔کرنے کا سبب بنتی ہے خون میں شامل۔ایچ ڈی ایل اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لیے اس کی موجودگی ضروری ہے اس وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے

    نبی پاک کا فرمان’جس گھر میں سرکہ ہو وہ کبھی محتاج نہیں ہوتا’سرکے کے حیران کن فوائد


    سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے ایک تحقیق کے مطابق صرف غذا میں مباسب تبدیلی کر کے دو سے تین ماہ کے اندر تقریباً پچاس سے ساٹھ ملی گرام کولیسٹرول کم کیا۔جا سکتا ہے اس کے علاوہ خوراک میں جو کاآٹا پھلیاں کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں۔مدد دیتا ہے روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی انتہائی مفید ہے کولیسٹرول لیول کم۔کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طرز زندگی میں بھی تبدیلی کی جائے مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے اللہ پر پورا یقین رکھیں مثبت سوچ اپنائیں مثبت سوچ اور کامل یقین کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل۔پر قابو پا سکتے ہیں ذہنی انتشار دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے روحانی بالیدگی کے لیے پانچ وقت کی نماز کہ پابندی کی۔جائے

    ہلدی کے نایاب فائدے


    خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اس کو کم کرنے کا حل آپ کے پاس ہے ادویات اور ڈاکٹر سے زیادہ اس کو آپ نے خود کنٹرول کرنا ہے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر مثبت سوچ اپنا کر سادہ۔غذا استعمال کر کے آ پ خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے سے روکنے کے علاوہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جاتا ہے موٹاپا کولیسٹرول کی وجہ بنتا ہے اور بھی بہت سی بیماریوں کا۔سبب بن سکتا ہے اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے خاص کر رات کو سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا کھا لیا جائے تاکہ معدہ اور نظام انہضام اور دوسرے افعال پر خومخواہ بوجھ نہ پڑے

    بڑھتی عمر کی غذائی ضروریات


    اس سلسلے میں آپؐ نے فرمایا کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں جب بھی کھانا کھائیں تو پیٹ کےتین حصے کر لیں ایک کھانے کے لیے ایک ہوا کے لیے اور ایک پانی کے لیے اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا بھی نہیں ہو گا اور کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا اور دوسری بیماریاں بھی نہیں ہوں گی روزانہ ورزش کو معمول بنا لیں ورزش انسان کو صحت مند اور توانا رکھتی ہے ورزش کسی بھی قسم کی ہو اگر یہ باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو موٹاپا کم۔کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس سے یقینی طور پر کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے ذیا بیطس بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی۔دامن کا۔ساتھ ہے اگر ان بیماریوں کا۔علاج نہ کروایا جائےتو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی۔قسم کی۔بیماری ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے اس کا مکمل علاج کریں

  • مزیدار اور لذیذ گُڑ کا کھویا بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    دودھ ایک کلو
    دیسی گھی یا مکھن ایک کھانے کا چمچ
    پستہ بادام کٹے ہوئے حسب پسند
    گُڑ سو گرام
    گُڑ کو یک علیحدہ برتن میں ڈال کر پکا لیں تا کہ گُڑ مکس ہو جائے

    ترکیب:
    دودح کو ایک پین میں ڈال کر اتنا پکائیں کہ آدھا رہ جائے پھر سبز الائچی ڈال کر مکس کریں ساتھ ہی گُڑ کا مکسچر ڈال کر اچھی طرح پکائیں جن دیکھیں کہ آمیزہ تھورا گاڑھا ہو گیا ہے تو گھی یا مکھن ڈال کر مکس کریں پھر بادام پستہ دال کر اچھی طرح فرائی کریں ایک پلیٹ میں دال کر اوپر چاندی کا ورق لگا کر تھوڑا تھوڑا ٹھنڈا ہونے پر حسب پسند ٹکڑوں میں کاٹ لیں مزیدار اور منفرد سی کھوئے کی مٹھائی مزے سے کھائی