Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبا تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے کامیاب احتجاج کے بعد بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔

    بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دیا، جس کے بعد کئی ہفتوں سے جاری طلبہ کا احتجاج اختتام پزیر ہوگیااس پیش رفت کو طلبہ اور احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں بھی حیرت پیدا کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جمعے تک اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ بھارتی حکومت اپنے ایک سینئر وزیر سے استعفا لینے پر آمادہ ہوجائے گی، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی،وزیرِ تعلیم نے استعفا دے دیا، حکومت نے طلبہ کے نمائندوں سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے اور احتجاجی تنظیم نے کئی ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ یہ مذاکرات میڈیکل امتحانات نیٹ کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد کیے گئے تھے، لیکن یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں بھارتی وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیر جتیندر سنگھ اور سی جے پی کے رہنما شریک تھے اجلاس میں احتجاجی قیادت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی،ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے، دھرمندر پردھان کا استعفا۔

    سی جے پی نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو طلبہ دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، جیسا کہ 20 جولائی کو کیا گیا تھا، جہاں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی ہوئی تھی،احتجاجی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومت نے مقررہ وقت میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو وہ اس ڈیڈ لائن کا عوامی اعلان بھی کر دے گی۔

    جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ حکومتی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ آگاہ کریں گے،مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں وزرا نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو صورتحال سے آگاہ کیا،اسی دوران وزارتِ تعلیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 اہلکاروں کو برطرف کیا، جسے احتجاج کرنے والے طلبہ کو سخت پیغام دینے کی کوشش قرار دیا گیا اس کے ساتھ این ٹی اے کی تنظیمِ نو کے تحت نئے عملے کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا گیا۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف قوانین مزید سخت بنانے کے لیے ایک ترمیمی بل کی بھی منظوری دی حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، سیکریٹری تعلیم کے تبادلے اور پرچہ لیک کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود احتجاجی طلبہ اپنے مؤقف پر قائم رہے اور انہوں نے کہا کہ ان کا فوری مطالبہ صرف وزیرِ تعلیم کا استعفا ہےپھر ہفتے کی صبح سی جے پی کے داخلی اجلاس سے پہلے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے ایک بار پھر امت شاہ سے ملاقات کی، اسی دوران دھرمندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوا، جس کے بعد فضا مکمل طور پر بدل گئی،بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں سی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر رہی ہے اور جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر موجود طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

    حکومت نے اس موقع پر دو اہم یقین دہانیاں بھی کروائیں حکومتی وزرا نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی،حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو حکومتی قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ یہ احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے حکام کا خیال تھا کہ یہ تحریک شہریت ترمیمی قانون یا کسانوں کے احتجاج سے مختلف ہے کیونکہ اس کی قیادت نوجوان طلبہ کر رہے ہیں، اور حکومت مستقبل کی نسل کے ساتھ طویل محاذ آرائی نہیں چاہتی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس دوران کئی اقدامات کیے، جن میں این ٹی اے میں اصلاحات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی شامل تھا، تاہم حکومت کو ایک طرف پارلیمنٹ میں متحد اپوزیشن اور دوسری طرف ملک بھر میں پھیلتی نوجوانوں کی تحریک کا سامنا رہا، جسے سیاسی طور پر زیادہ دیر تک برقرار رکھنا مشکل سمجھا جا رہا تھا۔

    حکومت پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کو بغیر رکاوٹ چلانا چاہتی ہے، خاص طور پر حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ دھرمندر پردھان کے استعفے سے اپوزیشن کا ایک بڑا اعتراض ختم ہو جائے گا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی یا نہیں۔

    رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابینہ میں ردوبدل تو کئی بار ہوئی، لیکن عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی وفاقی وزیر کا استعفا دینا انتہائی کم دیکھنے میں آیا ہے اس سے قبل 2018 میں ایم جے اکبر نے خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد #MeToo تحریک کے دوران وزارت سے استعفا دیا تھا۔

    حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھرمندر پردھان کے معاملے کی نوعیت ایم جے اکبر سے مختلف ہے کیونکہ ان پر ذاتی نوعیت کا کوئی الزام نہیں تھاتاہم کچھ حکومتی شخصیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر استعفا ناگزیر تھا تو اسے پرچہ لیک اسکینڈل سامنے آتے ہی قبول کر لیا جاتا تو کئی ہفتوں تک جاری احتجاج، عوامی غصہ اور سیاسی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

  • تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے  یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیاایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب،ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

  • پاسداران انقلاب کا 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب کا 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں،پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہلاکتوں سے متعلق واشنگٹن کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے برعکس قرار دیا، جنرل حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں مبینہ طور پر 8 امریکی فوجی مراکز شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آپریشن ’نصر ٹو‘ کے تحت امریکی اہداف پر کیے گئے جوابی حملوں میں آٹھ امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اور صرف ایک مقام پر بیس شیلٹرز کو تباہ کیا گیا، جس سے دو سو سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئےامریکی عوام اپنے جھوٹے کمانڈروں کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ انہیں بے وقوف سمجھیں،انہوں نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ غیر جانبدار صحافیوں کو تباہ شدہ امریکی مراکز کا دورہ کروائے تاکہ وہ خود جا کر دیکھ سکیں اور ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد کا درست اندازہ لگا سکیں۔

    ایرانی فورسز کے مطابق یہ تمام کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی فوج کی جانب سے مسلسل فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں قائم امریکی اسٹریٹجک اڈوں پر شدید حملے کیے۔

    ترجمان کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے ان جوابی حملوں میں 17 آپریشنل اور جاسوس ڈرونز تباہ کیے گئے ہیں اس کے علاوہ ہینگر میں کھڑا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ اور ایک پی 8 طیارہ بھی تباہ کیا گیا ہےپاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے دوران ایک سی 17 ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ طیارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے اتحادی ممالک کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے امریکا کی حمایت جاری رکھی تو برطانیہ بھی ایرانی افواج کے لیے ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گاترجمان حسین محبی نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے جاری اس جنگ اور کشیدگی میں جو بھی ملک امریکا کا ساتھ دے گا یا اس کا شریک کار بنے گا، اسے جوابی کارروائی میں لازمی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

  • پنجاب بھر میں مون سون کا سسٹم بدستور موجود ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برقرار

    پنجاب بھر میں مون سون کا سسٹم بدستور موجود ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برقرار

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں مون سون کا سسٹم بدستور موجود ہے، جس کے باعث آج بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں مون سون کا نسبتاً کمزور سسٹم موجود ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی سے تیز بارش متوقع ہے دوپہر کے بعد اور سہ پہر تک بارش کا سلسلہ تھمنے کا امکان ہے تاہم شہریوں کو موسم کی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایم ڈی واسا غفران احمد نے ممکنہ بارشوں کے پیش نظر نکاسیٔ آب کے انتظامات یقینی بنانے کے لیے تمام فیلڈ اسٹاف کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے،ادھر پی ڈی ایم اے کی جانب سے 27 جولائی تک مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ برقرار ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو ممکنہ موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، سرچ آپریشن جاری

    جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، سرچ آپریشن جاری

    جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنام کا ایک جہاز حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا، جس کے بعد چینی اور ویتنامی امدادی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 37 افراد کو بحفاظت بچا لیا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

    جنوبی بحیرۂ چین میں نانشا جزائر کے قریب یونگشو ریف کے علاقے میں ویتنام کا ایک بحری جہاز حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا،اتوار کی صبح ساڑھے 7 بجے تک حادثے کا شکار ہونے والے جہاز سے 37 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے تمام بچائے گئے افراد ویتنامی شہری ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ ’خوئی نگوین 18‘ نامی اس جہاز پر عملے سمیت مجموعی طور پر 62 افراد سوار تھے، جن میں سے باقی افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،ہفتے کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 23 منٹ پر چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے نان ہائی ریسکیو بیورو کے امدادی جہاز نان ہائی جیو 115 نے سمندر میں ہنگامی راکٹ پیراشوٹ سگنل دیکھا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    چینی حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی میں اس وقت چین کے چھ بحری جہاز، ایک امدادی ہیلی کاپٹر اور ویتنام کا ایک جہاز حصہ لے رہے ہیں،سانشا میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ’خوئی نگوین 18‘ ویتنام میں رجسٹرڈ جہاز تھا، جس کی لمبائی تقریباً 70 میٹر، چوڑائی 10.8 میٹر اور مجموعی وزن 999 گراس ٹن تھا، لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، جبکہ جہاز ڈوبنے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

  • بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

    بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

    بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین نے صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    شہاب الدین نے کہاہے کہ حالیہ طبی معائنے میں ان میں آٹونومک نیوروپیتھی (Autonomic Neuropathy) کی تشخیص ہوئی ہے، اس بیماری کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر مدت کے لیے ہوش کھو دینےکی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    صدر کےپریس سیکرٹری کیجانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ نئے صدر کےانتخاب تک قومی پارلیمان کےاسپیکر صدر کےفرائض انجام دیںگے،بنگلادیشی آئین کے مطابق اسپیکر حفیظ الدین احمد عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جب کہ آئندہ 90 دن کے اندر نئے صدرکا انتخاب کیا جائےگا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شہاب الدین نے رواں سال مئی میں علاج کی غرض سے برطانیہ کے دورے کے دوران بھارت میں مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر بات کی تھی،تاہم شہاب الدین نے اس کی تردیدکرتے ہوئے بنگلادیشی اخبار کو بتایا ہےکہ میں مختلف طبی مسائل کا شکار ہوں، میرے استعفے کی یہی وجہ ہے، اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

    واضح رہےکہ بنگلا دیش میں صدرکا انتخاب ارکان پارلیمنٹ کے ووٹوں سے ہوتا ہےاس وقت حکمران جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے امکان ہےکہ اسی جماعت کا نامزد امیدوار نیا صدر منتخب ہوگا، 76 سالہ محمد شہاب الدین اپریل 2023 سے بطور صدر خدمات انجام دے رہے تھےان کی 5 سالہ مدت صدارت 2028 میں ختم ہونا تھی جب کہ اپوزیشن جماعتیں بھی کافی عرصے سے ان سے استعفےکا مطالبہ کر رہی تھیں۔ محمد شہاب الدین کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔

  • دریائے ستلج میں تاحال سیلاب کا خدشہ نہیں ،محکمہ آبپاشی

    دریائے ستلج میں تاحال سیلاب کا خدشہ نہیں ،محکمہ آبپاشی

    ترجمان محکمہ آبپاشی نے دریائے ستلج میں سیلاب کے خطرات بارے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا الہ آباد، علاقہ چھبر کے مقام پر دریائے ستلج معمول کے مطابق بہہ رہا ہے ۔

    ترجمان محکمہ آبپاشی کے مطابق اس وقت دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ تقریباً 2,000 کیوسک ہے جو معمول کے مطابق ہے دریائے ستلج میں 50,000 کیوسک تک بہاؤ بھی معمول کی صورتحال تصور کیا جاتا ہے،لسیلاب کے کسی خطرے کا تاثر درست نہیں، محکمہ آبپاشی کی فیلڈ ٹیمیں الرٹ ہیں۔ دریائے ستلج کے تمام حفاظتی بندوں پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے ۔ محکمہ کی ٹیمیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں عوام غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں ۔درست معلومات کے لیے صرف محکمہ آبپاشی کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔

    پنجاب میں مون سون کے طوفانی اسپیل نے مختلف شہروں میں ہنگامی صورتِ حال پیدا کر دی ہے شدید بارشوں کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جب کہ دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے پر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے صوبے بھر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 22 افراد جاں بحق اور 183 زخمی ہو چکے ہیں،لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں اور کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔

  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں مسلسل اضافوں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہوگا، نئی قیمتیں 27 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی، جس کے بعد آئندہ جائزے کی روشنی میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔

  • شام میں دو بسوں کے درمیان  تصادم، 35 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    شام میں دو بسوں کے درمیان تصادم، 35 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    شام میں دو بسوں کے درمیان خوفناک تصادم سے تقریباً 35 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    شام میں دو مسافر بسوں کے درمیان ہونے والے خوفناک تصادم کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور مخالف سمت سے آنے والی بس سے ٹکر کے باعث پیش آیا، تاہم حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے،ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ بسوں کی باڈی کو کاٹ کر متعدد مسافروں کو باہر نکالا-

    شامی حکام نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سڑک پر ٹریفک بحال کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

  • چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب پر خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وزیرآباد میں پلکھو نالہ بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی سطح پر بہہ رہا ہے دریائے سندھ کے کالاباغ، چشمہ اور تونسہ، دریائے چناب کے مرالہ اور تریموں، دریائے راوی کے بلوکی اور سدھنائی اور دریائے کابل کے نوشہرہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ اسی طرح نالہ ایک اور پلکھو نالہ کینٹ پل پر بھی پانی کی سطح نچلے درجے کے سیلاب کے برابر ہے۔

    این ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ تریموں بیراج پر بھی پانی کی سطح بڑھ کر درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ سکتی ہے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں، خیبرپختونخوا کے موسمی برساتی نالوں اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کا بھی خطرہ موجود ہے شدید بارشوں کے باعث گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ملتان، حافظ آباد اور لاہور میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں،ادارے نے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں، امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں انہیں فوری طور پر بحال کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

    این ڈی ایم اے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا، اس لیے شہری دریا کناروں، کھڑی ڈھلوانوں اور تنگ پہاڑی راستوں پر غیر ضروری قیام سے گریز کریں۔

    عوام کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ سیلابی پانی، برساتی نالوں یا تیز بہاؤ والے راستوں کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور نہ کریں، کیونکہ کم گہرائی والا پانی بھی انسانوں اور گاڑیوں کو بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ بروقت وارننگز اور ہنگامی معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے بھی استفادہ کریں۔