Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    برطانوی بادشاہ کنگ چارلس نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات پہلی بار عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بکنگھم پیلس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلومات مالی سال 2024-25 سے متعلق ہوں گی اور جمعرات کو جاری کی جائیں گی یہ اقدام شاہی مالیات سے متعلق سالانہ رپورٹس کا حصہ ہوگا جس کا مقصد شفافیت اور عوامی احتساب کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    پیلس کے ترجمان کے مطابق بادشاہ نے یہ فیصلہ ذاتی طور پر کیا ہے تاکہ شاہی مالیاتی نظام کو مزید جدید اور قابلِ فہم بنایا جا سکےرپورٹ میں کنگ چارلس کی مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ان پر ادا کیے گئے ٹیکس شامل ہوں گے ان میں ڈچی آف لنکاسٹر سے حاصل آمدن، سینڈرنگھم اور بالمورل کی نجی املاک سے آمدن، ذاتی سرمایہ کاری اور دیگر نجی مالی ذرائع شامل ہیں گزشتہ سال ڈچی آف لنکاسٹر سے بادشاہ کو تقریباً 26.8 ملین پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ برطانوی بادشاہ قانونی طور پر انکم ٹیکس یا کیپیٹل گینز ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوتے تاہم کنگ چارلس یہ ادائیگیاں رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں، اس بار ان کی مجمو عی ٹیکس ادائیگی کی رقم پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ظاہر کی جائے گی ، کنگ چارلس اس سے قبل ولی عہد کی حیثیت میں بھی اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کرتے ر ہے ہیں ان کے صاحبزادے اور موجودہ ولی عہد شہزادہ ولیم کو گزشتہ سال ڈچی آف کارنوال سے تقریباً 23 ملین پاؤنڈ آمدن حاصل ہوئی، تاہم وہ اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی حتمی رقم ظاہر نہیں کرتے اگرچہ وہ اعلیٰ ترین شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

    یہ مالی تفصیلات شاہی سوورین گرانٹ کی سالانہ رپورٹ کے ساتھ جاری کی جائیں گی، جو شاہی خاندان کے سرکاری اخراجات کی مالی معاونت فراہم کرتی ہے، حالیہ سالوں میں یہ گرانٹ بڑھ کر 137.9 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے تاہم برطانوی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • مومنہ اقبال کیخلاف توہین آمیز ریمارکس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی شدید مذمت

    مومنہ اقبال کیخلاف توہین آمیز ریمارکس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی شدید مذمت

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اداکارہ مومنہ اقبال کے خلاف اسمبلی فلور پر دیے گئے ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں توہین آمیز اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے سرکاری ریکارڈ سے حذف کر دیا۔

    اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رکن صوبائی اسمبلی ندیم قریشی نے سیاسی نمائندگی پر جاری بحث کے دوران مومنہ اقبال کا نام لیتے ہوئے یہ ریمارکس دیے تھے اس موقع پر اسپیکر نے فوری مداخلت کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی کو اپنے الفاظ واپس لینے کی ہدایت کی۔

    اسپیکر نے کہا کہ مومنہ اقبال شوبز انڈسٹری کی ایک باعزت شخصیت ہیں اور ان کے بارے میں اس نوعیت کے ریمارکس انتہائی امتیازی اور تعصب پر مبنی ہیں اسمبلی فلور پر کسی فرد کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا مناسب نہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے متعلقہ ریمارکس کو فوری طور پر کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کرنے کا حکم بھی دیا۔

  • جرمنی نے  آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار  ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمنی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے پیش نظر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس پسٹوریئس کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، نہ کہ ہم، لیکن اس بندش کو ختم کروانا اب ہمارے مفاد میں ہے،اس اہم گزرگاہ کو کھولنا اور وہاں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا یورپ کے اقتصادی استحکام اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معاندانہ ممالک کو جہاز رانی کی آزادی دینے کی لچک کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔۔

    جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ سفارتی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی،جرمنی نے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر دو بحری جہاز بحیرہ احمر کی طرف روانہ کر دیے ہیں، تاہم مائنز صاف کرنے کے کسی بھی آپریشن کے لیے ایران اور عمان کی منظوری لازمی ہوگی۔

    دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اس موقف کو دہرایا ہے کہ جرمنی اس جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس براہِ راست تصادم میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

  • صدر ٹرمپ کی  ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے نیٹو پر ٹریلین ڈالر خرچ کیلئے لیکن ایران کی جانب سے جوہری خطرے کو ختم کرنے میں نیٹو اور اٹلی کی وزیراعظم نے ان کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں،دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد، ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔

    گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔

  • ایرانی صدر کل ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر کل ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل بروز منگل ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔

    ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کل صبح پاکستان پہنچیں گے اور مختلف مصروفیات کے بعد شام کو واپس ایران روانہ ہو جائیں گےایرانی صدر کا یہ دورہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے،ایران امریکا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے کردار اور سفارتی کوششوں پر اظہارِ تشکر کے لیے ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی کیلئے 18 گھنٹے کے طویل اور سخت مذاکرات کے بعد ایرانی وفد ایران روانہ ہوگیا ایرانی حکومت نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے ایران کی مذاکراتی ٹیم 18 گھنٹے اعلیٰ سطح کی سفارتی مشاورت اور سخت مذاکرات کے بعد سوئٹزرلینڈ سے ایران روانہ ہوگئی ہے۔

    ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کررہے تھے جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کررہے تھے۔

  • سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھراضافہ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھراضافہ

    پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4,643 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    عالمی مارکیٹ میں سونا 189 ڈالر اضافے کے بعد 7,151 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے،ملک میں فی تولہ سونا 4,463 روپے اضافے کے بعد442,636 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 4179 روپے اضافے کے بعد 378,345 روپے کا ہو گیاہے،اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 347,083 روپے ہوگئی۔

    پیر کے روز اسپاٹ گولڈ 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,209.03 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,225.80 ڈالر پر آ گئے اس کے علاوہ چاندی کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 66.60 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 1.3 اور 1.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دوبارہ سونے کی طرف رجوع کیا ہے۔

  • حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، ایک اقلیتی رکن نے بھی کہا کہ سود اللہ سے جنگ ہے، لیکن اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا جا رہا ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے سود کی ادائیگی کے باعث 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور مہنگائی 8 فیصد بڑھی، مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخوا ہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو 43 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں کہ ان کے والد کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کی کم از کم تنخواہ کتنی ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدترین فسطائیت قائم ہے عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کراچی کا میئر قابض ہے ، یہاں بھی جمہوریت کو قبول نہیں کیا گیا،سندھ میں گزشتہ 40 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے، اس کے باوجود صوبے کے بچوں کی حالت زار نہیں بدلی، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، نہ مناسب سڑکیں ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے، سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے شہر کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کی جا نب سے پیش کی گئی انٹرن شپ آفر کے لیے 8 ہزار بچوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں سندھ حکومت نے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مسائل پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔

    انہوں نے کہا کہ کبھی بریف کیس لے کر گلگت بلتستان اور بلوچستان پہنچ جاتے ہیں گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے،28 فروری کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں-

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں ، سلیب سسٹم ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کے کہنے پر لیوی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے یہ 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ہے اور ہر مرتبہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہوگ حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہیے۔شہر کے 90 فیصد لوگ موٹر سائیکل استعمال کر تے ہیں، اس لیے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی کی جا رہی ہے آئی پی پیز کے معاہدوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چا ہیے انہوں نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ایف بی آر کیا کر رہا ہے ، 80 فیصد ٹیکس بھی جمع نہیں کر پاتا اور اس کے 25 ہزار ملازمین موجود ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے 800 ارب روپے اپنے انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے ہیایران نے امریکا اور اسرائیل کو شکست دی ہے، تاہم اسرائیل اب بھی لبنان پر حملے اور فلسطین پر بمباری کر رہا ہے انہوں نے مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ حکومت نے ثالثی کے حوالے سے جو کردا ر ادا کیا، وہ ایک اچھا اقدام تھا۔

  • سویڈن میں طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا شدید احتجاج

    سویڈن میں طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا شدید احتجاج

    سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سینکڑوں افغان مہاجرین طالبان رجیم کی پالیسیوں اور خواتین پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

    سٹاک ہوم میں سینکڑوں افغان مہاجرین طالبان رجیم کی پالیسیوں اور خواتین پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین کا طالبان رجیم کیخلاف شدید نعر ے بازی، عالمی برادری سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا مظاہرین نے موقف اپنایا کہ طالبان رجیم سے سیاسی یا معاشی تعلقات رکھنا بےگناہ اور معصوم افغان مقتولین سے غداری ہے، یورپی سرزمین پر افغان طالبان جیسے انتہا پسند اور دہشت گرد غاصبوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، سویڈش حکومت اور یورپی یونین افغان طالبان رہنماؤں کے یورپ داخلے اور ویزوں کے اجراء پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرے۔

    عالمی تنظیم ورلڈ لبرٹی کانگریس نے افغان رجیم کی ہرات میں مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور صحافیوں کیخلاف جاری کریک ڈاؤن طالبان رجیم کا انسانی حقوق سے انکار اور بدترین "جینڈر اپارتھائیڈ” کا ثبوت ہے، دنیا بھر میں مظاہروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ دکھاتی ہے کہ افغان عوام اب طالبان رجیم کے جابرانہ اقتدارکو مزید قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

  • پنجاب حکومت کا خواتین کے معاشی استحکام کے لیے’سحر‘ منصوبہ

    پنجاب حکومت کا خواتین کے معاشی استحکام کے لیے’سحر‘ منصوبہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اسکل اینہانسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام‘ (سحر) کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب بھر کی 5 ہزار 365 خواتین کو گھر بیٹھے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔

    وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے پر 97 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی، جبکہ اس کا مقصد ہنرمند لیبر فورس میں خواتین کے تناسب میں اضافہ اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے پروگرام کے تحت دور دراز، نیم شہری اور شہری علاقوں کی خواتین کو بیوٹیفکیشن سروسز، ہاسپٹیلٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔

    پنجاب ڈویلپمنٹ کونسل فار پلاننگ کے ذیلی ادارے آئی تھم کے اشتراک سےایک ہزار 260 خواتین کے لیے ہاسپٹیلٹی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جن میں کلنری آرٹس، بیکنگ گیسٹ ریلیشنز، فرنٹ ڈیسک مینجمنٹ اور ایئر لائن مینجمنٹ کی تربیت شامل ہےلاہور،فیصل آباد،راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ میں ہاسپٹیلٹی ٹریننگ کورس کےپہلے بیچ کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔

    اسی طرح نیل بار کے تعاون سے 4 اضلاع میں 2 ہزار 65 خواتین کے لیے بیوٹیفکیشن کورسز کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ہیر اسٹائلنگ، سکن کیئر، میک اپ اور نیل آرٹ کی تربیت دی جا رہی ہے،پروگرام کے تحت 2 ہزار 40 خواتین کو پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے 6 ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ دی جائے گی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس، ڈیٹا پیکج اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گاکورس میں دراز اور شوپی فائی سمیت ای کامرس، انگلش لینگویج، پراڈکٹ ریسرچ اور فنانشل لٹریسی کی تعلیم بھی شامل ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی عورت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو نہ صرف صوبہ بلکہ پورا ملک ترقی کرے گا صوبے کی خواتین آبادی کو ایک قابلِ قدر اثاثہ بنایا جا رہا ہے اور پروگرام کا مقصد انہیں ترقی اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنا ہے بیوہ، طلاق یافتہ اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پروگرام میں ترجیح دی جائے گی خواتین کے لیے پہلی مرتبہ گھر کی دہلیز پر ووکیشنل تربیت کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے اور تربیت مکمل کرنے والی خواتین آسانی سے روزگار حاصل کر کے معاشرے کا فعال اور مفید حصہ بن سکیں گی حکومت پنجاب ’سحر‘ پروگرام کے تحت تربیت یافتہ خواتین کے لیے جاب پلیسمنٹ کے مواقع بھی فراہم کرے گی، جبکہ اس اقدام کا ایک اہم مقصد صوبے میں صنفی مساوات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔

  • کینیڈا میں  درختوں کو  زندہ مخلوق تسلیم کرکے بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ

    کینیڈا میں درختوں کو زندہ مخلوق تسلیم کرکے بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ

    کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے ایک چھوٹے سے قصبے نے درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ کرلیا ہے۔

    کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے قصبے ٹیراس-ووڈروئل (Terrasse-Vaudreuil) نے 9 جون 2026 کو ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جس کے تحت درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں،اس چھوٹے سے قصبے نے بین الاقوامی ماحولیاتی مہم "یونیورسل ڈیکلریشن آف دی رائٹس آف دی ٹری” (Universal Declaration of the Rights of the Tree) کی باقاعدہ توثیق کی ہے کیوبیک اور کینیڈا میں اس طرح کا اعلان کرنے والا یہ پہلا قصبہ ہے-

    قصبے Terrasse-Vaudreuil کی میونسپل کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت درختوں کے ’حقِ زندگی، قدرتی نشوونما، جسمانی سالمیت اور دوبارہ افزائش‘ کو تسلیم کیا گیا ہے، اس اقدام کے ساتھ یہ کینیڈا کی پہلی بلدیہ بن گئی ہے جس نے درختوں کے حقوق کے عالمی اعلامیے کی حمایت بھی کی ہے،قرارداد کے بعد مقامی انتظامیہ درختوں کے تحفظ سے متعلق اپنے قواعد و ضوابط کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اگر کسی درخت کو کاٹنا ناگزیر ہوا تو اس کے متبادل شجرکاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اس تاریخی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں کو بقائے باہمی اور یکجہتی کے اصولوں کے تحت درختوں کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ کرہ ارض پر زندگی کا انصار انہی پر ہے، اس اقدام کی تحریک کیوبیک کے فلمساز آندرے ڈیسروچرز (Andre Desrochers) کی دستاویزی فلم سے حاصل کی گئی،اس عالمی پٹیشن پر اب تک دنیا بھر سے 87,000 سے زائد دستخط ہو چکے ہیں،یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی حقوق (Rights of Nature) کے عالمی قانونی تحریک کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے۔

    میئر مشیل بوردو کے مطابق درخت انسانی زندگی، ماحولیاتی تحفظ، فضائی آلودگی میں کمی، پانی کے بہتر انتظام اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو قانونی اور انتظامی سطح پر مزید مضبوط بنایا جائے گا،ماحولیاتی ماہرین نے اس فیصلے کو فطرت کے حقوق کے عالمی تصور کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔