کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد میر حسین علی کے وکیل جبران ناصر نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کیس کی تفتیش کرنے کے بجائے خاندان کو ہراساں کر رہی ہے اور اہل خانہ پر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
کراچی میں میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں، طبی شواہد سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ میر رضا کو گولی لگی اور اس کے اثرات پانچویں پسلی پر بھی آئے۔
جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس میر رضا کی موت کی تفتیش کرنے کے بجائے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں اور وہ پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل ڈاکٹر کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی گئی تھی، جب کہ متعلقہ ڈاکٹر کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔
جبران ناصر نے میر رضا کے معاملے میں سامنے آنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پولیس کی تفتیش پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اہلِ خانہ کے مؤقف کو نظر انداز کرنے کے بجائے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔
واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی،لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
