Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    گوا ( خالدمحمودخالد)پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھارت کے دورے پر گئے وفد کے ساتھ بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن حد تک تبدیلی دیکھی گئی۔ پاکستانی وفد کے ساتھ بھارتی رویہ ماضی کی نسبت بہت زیادہ مثبت دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی طرف سے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تو اس میں پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ خاص مہمانوں والا رویہ دیکھنے میں آیا۔ عشائیہ میں بلاول بھٹو زرداری سب سے آخر میں پہنچے۔ لیکن ان کی آمد کے ساتھ ہی بھارت سمیت شنگھائی تعاون ممالک کے تمام وزرائے خارجہ نے کھڑے ہو کر بلاول کا استقبال کیا۔ بھارتی وزیرخارجہ نے آگے بڑھ کر پاکستانی وزیرخارجہ کو خوش آمدید کہا اور تقریبا ایک منٹ تک دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ اس دوران دونوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بھی دیکھی گئیں۔ دونوں کی ملاقات میں تلخی یا کشیدگی بالکل نہیں تھی۔ بلاول بھٹو کے عشائیہ میں دیر سے پہنچنے کی وجہ ان کا روسی وزیرخارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات کا طے شدہ وقت سے زیادہ طویل ہونا تھا۔ تاہم روسی وزیرخارجہ بلاول بھٹو سے چند منٹ پہلے عشائیہ میں پہنچ گئے تھے انہوں نے بھی بلاول کا کھڑے ہوکر عشائیہ میں استقبال کیا۔ یادرہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جولائی 2022 میں تاشقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے دوران ایک دوسرے سے نہ صرف ہاتھ ملانا گوارا نہ کیا تھا بلکہ دونوں وزرائے خارجہ نے دو روزہ کانفرنس میں ایک دوسرے کے نزدیک آنے سے بھی گریز کیا تھا جسے دنیا بھر کے میڈیا نے بےحد اچھالا تھا لیکن گزشتہ رات گوا میں برف پگھل گئی اور دونوں وزرائے خارجہ نے ہاتھ ملالئے۔ 

  • پاکستانی صحافیوں کا وفد واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی شہر امرتسر پہنچ گیا

    پاکستانی صحافیوں کا وفد واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی شہر امرتسر پہنچ گیا

    پاکستانی صحافیوں کا وفد واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی شہر امرتسر پہنچ گیا

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کے لئے گیارہ رکنی پاکستانی صحافیوں کا وفد واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی شہر امرتسر پہنچ گیا۔ یہ وفد امرتسر سے گوا کے لئے روانہ ہوگا۔ وفد میں مرتضی سولنگی، اعزاز سید، کامران یوسف، میمونا خان، سمیرا خان، ارشد یوسفزئی، مجاہد بریلوی، قرہ العین، منیزے جہانگیر، ریحان احمد اور حسن طارق بٹ شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری 4 مئی کو گوا پہنچیں گے اور کانفرنس میں شرکت کے بعد 5 مئی کو واپس پاکستان آجائیں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شرکت کے لیے کل بھارت روانہ ہوں گے ،وزیر خارجہ کے ہمراہ دفترخارجہ کے سینئر حکام پر مشتمل وفد بھی ہو گا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کے اہم نکات کو حتمی شکل دے دی گئی،بلاول بھٹو زرداری خطاب میں پاکستان کی ایس سی او چارٹر سے وابستگی، عزم اور پاکستانی خارجہ پالیسی میں خطے کے پائیدار ترقی خوشحالی، باہمی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے ،

    2016 کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ ہو گا،بلاول زرداری بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کی دعوت پر ایس سی او کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں ،گوا میں ہونے والے اہم اجلاس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور چین کے وزیر خارجہ کین گانگ بھی شریک ہوں گے ،دو روزہ اجلاس میں آئندہ جولائی میں دلی میں ہونے والے ایس سی او کے سربراہی اجلاس کی تیاری کو بھی حتمی شکل دی جائے گی

  • ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    لاہور(خالدمحمودخالد)بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی گورنر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رکن ستیہ پال ملک کی طرف سے14 فروری 2019 کو ہونے والے پلوامہ حملے میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے وزیراعظم مودی کے خلاف بیان نے بھارت میں ہنگامہ خیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ستیہ پال ملک کے انٹرویو کا بھارت کے بڑے میڈیا ہاوس اور ٹی وی چینلز نے بھارتی حکومت کے زبانی احکامات پر بلیک آوٹ تو کردیا لیکن اپوزیشن جماعت کانگریس سے ہمدردی رکھنے والے اہم اور بڑے اینکرز نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مودی کے خلاف جو پروگرام نشر کئے ہیں ان سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ مودی کے جھوٹ کا بھانڈہ پھوٹنے والا ہے۔ مودی سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ستیہ پال کو بطور گورنر خاموش رہنے کا کیوں کہا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سینٹرل ریزرو فورس کے قافلے کے لئے پانچ ہیلی کاپٹر کیوں نہیں دیئے۔ ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت ہیلی کاپٹر فراہم کر دیئے جاتے تو پلوامہ حملہ روکا جاسکتا تھا۔ ایک سینیئر اینکر رویش کمار کا کہنا ہے کہ ستیہ پال ملک کا انٹرویو مودی کو پسند نہیں آیا ان کی ناراضگی صاف دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے اس حوالے سے بحث بڑے ٹی وی چینلز پر روک دی گئی لیکن مودی اس بحث کو غیرملکی نشریاتی اداروں پر کیسے روک سکیں گے۔ رویش کمار نے انتہائی اہم نکتہ اٹھایا اور کہا کہ پلوامہ حملے کے کئی گھنٹے بعد تک مودی کیا کر رہے تھے اور اس حوالے سے کئی اہم سوالوں کے جواب اب تک کیوں نہیں مل سکے۔ ستیہ پال ملک یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ2700 فوجی جوانوں پر مشتمل 78 فوجی گاڑیوں کا اتنا بڑا قافلہ وزیر داخلہ کی طرف سے ہیلی کاپٹر فراہم نہ کرنے کی وجہ سے بذریعہ سڑک جارہا تھا جب اس پر حملہ کیا گیا جب کہ سڑک کو عام ٹریفک کے لئے بند بھی نہ کیا گیا۔  ستیہ پال ملک نے مزید کہا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ پلوامہ واقعہ کے وقت مودی ریاست اترکھنڈ کے معروف جم کوربیٹ نیشنل پارک میں ڈسکوری چینل کے لئے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کروا رہے تھے۔ ان کو کئی بار فون کیا گیا لیکن ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ ریکارڈنگ سے فارغ ہو کر مودی نے کئی گھنٹے بعد انہیں ایک ڈھابے سےفون کر کے پوچھا کہ اصل واقعہ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہماری غلطی سےیہ سب کچھ ہوا۔ اگر ہم فوجیوں کو ہیلی کاپٹر دے دیتے تو کچھ نہ ہوتا، اس پر مودی نے کہا کہ تم چپ رہو۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی کہا کہ ملک تم تو میرے کلاس فیلو ہو، سچائی مت سامنے لانا اور خاموش رہنا۔ ستیہ پال نے اعتراف کیا کہ ڈوول نے انہیں کہا کہ ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالنی ہے اس لئے تم کوئی بات نہ کرنا۔ رویش کمار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ستیہ پال ملک نے کہا کہ مودی نے ڈھابے سے فون کیا لیکن یہ بات ہضم نہیں ہورہی کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی ایٹمی طاقت بھارت کے وزیراعظم جہاں ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کروا رہے تھے وہاں فون نہ ہو۔ بھارت کا کون سا کونا ایسا ہے جہاں فون کی سہولت نہ ہو۔ ایسا ممکن نہیں کہ مودی بغیر فون کے نیشنل پارک چلے گئے اور انہیں جانا بھی نہیں چاہیئے۔ مان لیا کہ پروگرام کی ریکارڈنگ کی وجہ سے مودی کے پاس فون نہیں تھا تو ان کے ساتھ چلنے والے ان کے عملے کے فون کہاں تھے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس بات کی تحقیق کیوں نہیں ہوئی کہ مودی نے پلوامہ حملے کے بعد کتنی دیر کے بعد ستیہ پال ملک کو فون کیا۔ ان کے فون کی کال تفصیل نکال کر سچائی کو سامنے لانا ہوگا۔ اسی دن مودی نے اتراکھنڈ میں ایک انتخابی ریلی سے فون پر خطاب کیا۔ پلوامہ میں حملہ تین بجے کے قریب ہوچکا تھا تو مودی نے پہلے ریلی سے خطاب کیا یا ستیہ پال ملک کو۔ اس کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ کال تفصیل سے یہ بات سامنے آجائے گی کہ پلوامہ حملے کی اطلاع مودی کو کتنے بجے دی گئی اور کس کے فون سے دی گئی۔ ڈسکوری چینل کے اینکر بیئر گرل کا فون اس وقت کہاں تھا، کیا اس کے فون پر سگنل آرہے تھا۔ اس کی تحقیقات کر کے ثبوت مل سکتے ہیں اگر یہ ثبوت مٹا نہ دیئے گئے ہوں تو۔ 14 فروری 2019 کے ٹی وی پروگرامز اور اخبارات کو سامنے رکھیں تو صاف بات سامنے آتی ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک نے وہی باتیں کیں جو وہ آج کررہے ہیں۔ان کی تمام باتوں میں کافی وزن ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ آخر ستیہ پال ملک کو خاموش رہنے پر کیوں مجبور کیا گیا اور پھر تھوڑے عرصے کے بعد ان کا کشمیر سے تبادلہ کر دیا گیا۔ ستیہ پال نے انٹرویوز میں بتایا تھا کہ کشمیر انتظامیہ نے دہشت گردی کے ممکنہ حملے کی پہلے ہی اطلاع کر دی تھی اور کہا تھا کہ 300 کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے کر ایک گاڑی 10 سے 15 دنوں تک ہائی وے پر گھوم رہی ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ممکنہ حملے کی خبر ملتے ہی پولیس میں اعلی سطح کے تبادلے کردیئے گئے۔  ستیہ ملک نے ہر انٹرویو میں کہا کہ 2700 فوجیوں کا 78 گاڑیوں پر مشتمل بڑا قافلہ بذریعہ سڑک نہیں جا سکتا اور اگر مجبوری کی حالت میں ایسا کرنا پڑے تو گاڑیوں کی سپیڈ تیز رکھی جاتی ہے جس سے دھماکہ خیز مواد زیادہ اثر نہیں کرتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قافلے کی سپیڈ جان بوجھ کر آہستہ رکھی گئی تھی۔ رویش کمار کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت کچھ میڈیا نے مودی سے یہ سوال پوچھے لیکن بالا کوٹ پاکستان میں نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کرتے ہی میڈیا کا رخ بدل گیا۔ پلوامہ حملہ بھول کر ہر جگہ بالا کوٹ کا واویلہ کر رہا تھا۔ کوئی میڈیا یہ نہیں پوچھ رہا تھا اور نہ یہ پوچھنے دیا جارہاتھا کہ پلوامہ حملے کے وقت مودی کئی گھنٹے کے لئے ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کیوں کر رہے تھے جب کہ ان کی حکومت کے 9 سال کے دوران وہ ایک گھنٹہ بھی پریس کانفرنس کے لئے نہیں نکال سکے تھے۔ بالا کوٹ کا واقعہ ہونے کے بعد جیت کا اعلان کر دیا گیا جس سے پلوامہ کی وہ بحث جو مودی کی مقبولیت کو دھڑام سے نیچے گرا چکی تھی پیچھے چلی گئی اور بالا کوٹ کی نام نہاد جیت نے مودی کو دوبارہ مقبول بنا دیا۔ یہ اصل وجہ تھی کہ پلوامہ واقعہ کے بارے میں ستیہ پال ملک کو چپ رہنے کو کہا گیا کیونکہ پلوامہ کو بنیاد بناکر بالا کوٹ کا واقعہ اس پلان کا حصہ تھا جس سے ایک انتہائی غیرمقبول سیاسی لیڈر کو دوبار مقبول بنا گیا۔ 

    راحت اندوری نے کیا خوبصور شعر کہا تھا 

    سرحدوں پر بہت تناو ہےکیا

    کچھ پتا تو کروچناو ہے کیا

        

    2019 کے انتخابات سے قبل بیروزگاری کے سوالوں کو لے کر مودی مکمل طور پر پنس چکے تھے۔ کوئی جواب نہیں تھا تو کہہ دیا پکوڑےتلنا بھی روزگار ہے۔ اس بیان پر بہت ہنگامہ مچا ہوا تھا اسی کے بعد پلوامہ ہوتا ہے جس کے بالاکوٹ کا ڈرامہ۔ جس سے ہر ریاست کے نوجوان سب کچھ بھول کر مودی کے دیوانے ہو گئے تھے۔ انتخابات کا سارا رخ پاکستان کی طرف موڑ کر پاکستان سے بھارتی ہائی کمشمنر کو واپس بلا لیا گیا اس کے ساتھ پاکستان کو دیا گیا فوسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ واپس لے لیا گیا۔26 فروری کو جس دن بالاکوٹ کا ڈرامہ کیا گیا اس واقعہ کی ٹی وی کوریج صرف چند گھنٹے جاری رہی پاکستان کو مبینہ طور پر جواب دے کر مودی میٹرو بس میں سفر کرتے ہوئے پورے دہلی کے سفر پر نکل پڑے اور یوں ان کی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے کامیابی کی طرف چل پڑی اور ٹی وی پر صرف مودی ہی نظر آنے لگے۔ نام نہاد بہادری بھارتی فوج کی لیکن ٹی وی پر فوٹو مودی کی اور ان کے حامی میڈیا نے ماحول بنادیا کہ وزیراعظم ایسا دلیر ہونا چاہیئے۔ پاکستان کو جواب دے کر لیڈر آزادی سے گھومے بھارت کو ایسا حکمران چاہیئے۔ لوگوں تک ان سوالوں کے جواب پہنچنے سے رہ گئے کہ پلوامہ حملے کے وقت وزیراعظم کیا کررہے تھے۔ فوجیوں کی حفاظت میں کمی کیوں رہ گئی۔ ستیہ پال ملک کے بیان کو مودی مودی کے شور میں دبا دیا گیا۔ یوں مودی کی جماعت انتخابات جیت گئی اور مودی دوبارہ وزیراعظم بن گئے۔ ایک سال بعد بی بی سی نے پلوامہ کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں رپورٹر کانام نہیں شائع کیا گیا۔رپورٹ میں مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ نے کہا کہ انہیں ابھی تک پلوامہ حملے کی اصلیت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہیں معاوضہ تو مل گیا لیکن ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ پلوامہ کا واقعہ کیسے ہوا۔ جو کوئی پلوامہ کی تحقیقات کی بات کرتا اسے بھارت دشمن اور پاکستان کی زبان بولنے والا قرار دیا جاتا۔ ایسا ماحول بنا دیا گیاجس سے ثابت ہوتا تھا کہ مودی پلوامہ حملے کے باعث انتہائی شاک میں ہیں لیکن ڈیلی ٹیلگراف نے مودی کی سات دن کی تصاویر شائع کردیں جس میں وہ قہقہے لگاتے نظر آرہے تھے۔ 

  • پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ کے اعلان کے بعد بھارتی مذموم سازش

    پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ کے اعلان کے بعد بھارتی مذموم سازش

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ضلع پونچھ کے بھمبھر گلی سے سنگیوٹ کی طرف جانے والے آرمی ٹرک میں آگ لگنے سے 5 فوجیوں کی ہلاکت کو بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر لی۔ بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی وقت کے مطابق ڈھائی بجے دوپہر یہ اعلان کیا گیا کہ فوجی ٹرک پر آسمانی بجلی گرنے سے آگ بھڑک اٹھی جس سے ٹرک میں موجود 5 فوجی ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرک میں فیول آئیل کی بڑی مقدار کی موجودگی سے ٹرک کو فوری طور پر آگ لگ گئی۔ ٹرک کو لگنے والی آگ کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی تاہم ڈرامائی طور پر بھارت حکومت نے تقریبا 4 بجے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور ٹرک کو آگ لگنے کے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا اور بھارتی میڈیا پر اچانک تمام نشریات روک کر دہشت گردی کے اس نام نہاد واقعہ پر پروگرام شروع کردئے گئے۔ پہلے یہ کہا گیا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے ٹرک پر حملہ کیا جس سے ٹرک میں آگ لگ گئی۔ تاہم وزیردفاع راج ناتھ سنگھ اور آرمی چیف جنرل منوج پانڈے کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں مبینہ طور پر آرمی چیف نے وزیر دفاع کو دہشت گردی کے اس نام نہاد واقعہ پر بریفنگ دی۔ جس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا کہ جیش محمد کی ذیلی تنظیم پیپلز انٹی فاشسٹ فرنٹ نے دہشت گردی کی اس واردات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ واردات مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس کو سبوتاز کرنے کی کوشش ہے جب کہ دوسر ی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے دورہ بھارت کے اعلان کے بعد یہ دہشت گردی کی گئی۔

    بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل نے نئی دہلی سے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں بھی جب پاکستان سے اعلی سطحی وفد بھارت کے دورے کا اعلان کرتا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات شروع ہو جاتے ہیں جس کے بعد بھارت کی طرف سے کئی مرتبہ پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی اور بہتری کی طرف جاتے تعلقات دوبار کشیدہ ہو جاتے ہیں اور پاکستانی وفد کا دورہ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھارت نے پلوامہ حملہ کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کی تھی اور پاکستان میں جوابی کارروائی کرنے کا دعوی کیا تھا تاہم حال ہی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنرستیہ پال ملک نے پلوامہ حملے کا پول کھولتے ہوئے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا تھا اور بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی ذم داری کا الزام بھی بھارت پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ مودی نے انہیں بطور گورنر اپنی زبان بند رکھنے کو کہا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ستیہ پال ملک کے اعترافی بیان پر بھارت سے جواب طلب کر رکھا جس پر بھارت کی طرف سے مکمل خاموش ہے۔ دریں اثنا حکومت پاکستان پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کے حوالے بھارت کی طرف سے دہشت گردی کے خدشات بھی ظاہر کر چکی ہے۔ گزشتہ روز 5 فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھارت پاکستان پر ڈال کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کو ہوا دے سکتا ہے۔

  • بھارت: دو سال سے امریکی سفیر کی غیر موجودگی

    بھارت: دو سال سے امریکی سفیر کی غیر موجودگی

    بھارت اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دو سال کے طویل عرصہ سے امریکی سفیر تعینات نہیں کیا گیا اور یہ اس وقت تک دنیا کے کسی بھی ملک میں امریکی سفیر نہ ہونے کا طویل ترین عرصہ ہے۔

    بھارتی دفتر خارجہ کےایک انتہائی سینیئر آفیسر نے اس حوالے سے نئی دہلی سے فون پر بات کرتے ہوئےبتایا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے جنوری 2021 میں امریکہ کا صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد ایرک گارسیٹی کو بھارت میں سفیر نامزد کیا تھا جب کہ اس وقت بھارت میں امریکہ سفیر کینتھ جسٹر اپنی مدت  پوری ہونے پر بھارت سے واپس چلے گئے تھے۔ لیکن دو سال گزرنے کے باوجودایرک گارسیٹی کو  ابھی تک سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے نئی دہلی نہیں بھیجا گیا جب کہ امریکی ناظم الامور ہی نئی دہلی میں امریکہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔

    بھارتی دفتر خارجہ کے آفیسر نے بتایا کہ بھارت میں مستقل امریکی سفیر نہ ہونے سے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کی رفتار خاصی سست رہی ہے۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ صدر بائیڈن کی خواہش ہے کہ نئی دہلی میں لاس اینجلس کے سابق میئر ایرک گارسیٹی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

    انہوں نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد دسمبر میں اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ انہیں بھارت بھیجا جائےگالیکن ایرک پر امریکی سینیٹ کی طرف سے الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ایک سابق معاون کے خلاف کارروائی نہیں کی جن پر جنسی ہراسانی اورغنڈہ گردی کے الزامات تھےحالانکہ ایرک اس بات کی تردید بھی کرچکے ہیں۔

    اس کے علاوہ سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کی معمولی اکثریت بھی ان کی نئی دہلی میں تعیناتی آڑے آرہی ہے۔   لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ 2024 میں صدر بائیڈن کی صدارتی ٹرم ختم ہونے تک بھارت میں ان کی تقرری ممکن نہیں۔ بھارتی دفتر خارجہ کے آفیسر نے مزید بتایا کہ بھارت میں پانچویں مرتبہ عارضی طور پر ناظم الامور کی تقرری کئے جانے کی توقع ہے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت دنیا کے 20 ممالک میں امریکی سفیر نامزد کئے جانے کے باوجود اپنی تعیناتی کے منتظر ہیں۔ ان ممالک میں بھارت سمیت آذربائیجان، دی بہاماز، بارباڈوس، کمبوڈیا، ایکواڈور، گیانا، کویت، مالدیپ، نائیجر، نائیجیریا، پاپا نیوگنی، روانڈا، سعودی عرب، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات اور دیگر دو ممالک شامل ہیں۔

    صدر بائیڈن کےحکومت قائم ہونے بعد پاکستان میں گزشتہ سال اپریل، سری لنکا میں فروری، نیپال میں اکتوبر اور بنگلا دیش میں دسمبر میں امریکی سفیروں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس کے علاوہ 15 ممالک میں ابھی تک امریکہ سفیروں کو نامزد ہی نہیں کیا گیا۔ اس طرح دنیا کے 35 ممالک امریکی سفیروں کی پوسٹیں خالی ہیں۔ 

  • لانگ مارچ سے پاکستان میں عدم استحکام، بھارت کے تیور بھی تبدیل

    لانگ مارچ سے پاکستان میں عدم استحکام، بھارت کے تیور بھی تبدیل

    پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ کا آغاز ہوتے ہی بھارت نے اپنے تیور بدل لئے ہیں۔

    جمعرات کی رات کو جس وقت اسلام آباد پر قبضہ کرنے کے لئے لانگ مارچ شروع کرنے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئےعمران خان لاہور کے علاقہ لبرٹی میں موجود تھے اور عوام کو حقیقی آزادی حاصل کرنے کی سازش کے بارے میں اکسا رہے تھے عین اسی وقت بھارتی وزیر دفاع مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر میں ایک تقریب میں پاکستان کو خطرناک دھمکیاں دینے میں مصروف تھے۔

    بھارتی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان میں عدم استحکام کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے دھمکی دی کہ بھارت نے کشمیر کے شمال کی طرف مارچ شروع کردیا ہے اور یہ مارچ اس وقت ختم ہوگا جب وہ گلگت بلتستان پر قبضہ کر لے گا۔ 

    یہ اتفاق ہے یا بھارت کا سوچا سمجھا منصوبہ کہ جیسے ہی پاکستان میں افراتفری کا عمران خان کا منصوبہ شروع ہورہا تھا عین اسی وقت بھارت نے پاکستان میں عدم استحکام کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے ناکام اور مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کو حتمی شکل دےرہا تھا۔  

  • امیتابھ بچن 80 ویں سالگرہ آج منائیں گے

    امیتابھ بچن 80 ویں سالگرہ آج منائیں گے

    اسٹار آف دی میلینیئم کااعزاز حاصل کرنے والے بھارتی گلوکار، اداکار، پروڈیوسر، ٹی وی میزبان اور سابق سیاستدان امیتابھ بچن 80 برس کےہوگئے۔ ان کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب آج ان کےٹی وی شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ میں منعقد کی جائے گی جس میں ان کی اہلیہ جیا بچن اور بیٹا ابھیشک بچن امیتابھ کی زندگی کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالیں گے۔

    امیتابھ بچن 11 اکتوبر 1942 کو الہ آباد کے ایک شاعر ہری ونش رائے کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ تیجی بچن لائل پور (فیصل آباد) کی ایک پنجابی سکھ کھتری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ امیتابھ نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز 1969 میں خواجہ احمد عباس کی ڈائریکشن میں بننے والی فل سات ہندوستانی سے کیا۔ دوسرے نئے اداکاروں کی طرح امیتابھ کی یہ پہلی فلم بھی بری طرح فلاپ ہوئی۔

    1971 میں راجیش کھنہ کے بالمقابل فلم آنند میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کے پوسٹر میں امیتابھ بچن کی تصویر ایک کونے میں لگائی گئی کیونکہ انہیں ایک بی کلاس اداکار تصور کیا جاتا تھا۔ 1972 میں معروف کامیڈین محمود نے امیتابھ کو اپنی فلم بمبئے ٹو گوا میں اداکاری کا موقعہ دیا اس فلم نے باکس آفس پر ایک کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔ فلم کی کامیابی سے امیتابھ کو باقاعدہ طور پر مرکزی کردار کے لئے آفرز آنا شروع ہو گئیں اور یوں بھارتی فلم انڈسٹری کو نیا ہیرو مل گیا۔ امیتابھ کا یہ فلمی سفر آج تک جاری ہے۔

    کانگریس لیڈر راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی امیتابھ کے سب سے قریبی دوست تھے۔ راجیو گاندھی سے شادی سے قبل 13 جنوری 1968 کو سونیا گاندھی جب اٹلی سے بھارت آئیں تو امیتابھ انہیں دہلی ہوائی اڈے سے لینے گئے سونیا 48 دن امیتابھ کے گھر پر مہمان بن کر رہیں جہاں اندرا گاندھی کی خواہش کے مطابق انہوں نے ہندو رسم و رواج اور بھارتی معاشرے کے بارے آگاہی حاصل کی۔ 1984 میں امیتابھ نے اترپردیش سے لوک سبھا کی سیٹ پر 68 فیصد سے بھی زائد ووٹ حاصل کئے جو بھارتی انتخابات کی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے اور اسے آج تک کوئی بھی نہیں توڑ سکا۔

    1987 میں ان کے بھائی اجیتابھ بچن کی سوئٹزرلینڈ میں اپارٹمنٹ کی خریداری کے حوالے سے بوفرز سکینڈل سامنے آیا۔ جس کے بعد امیتابھ نے لوک سبھا کی سیٹ سے استعفی دے دیا۔ 2000 میں امیتابھ نے ٹی وی پر کون بنے گا کروڑ پتی شروع کیا لیکن امیتابھ کی بیماری کے باعث یہ شو 2006 میں بند کردیا گیا تاہم 2009 میں اسے دوبارہ شروع کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ امیتابھ بچن فلمی صنعت کے بے تاج بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی شادی 1973 میں اداکار جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کا صاحبزادہ ابھیشک بچن ایک نامور فلم اسٹار ہے جب کہ بیٹی شویتا ایک مصنف اور صحافی ہے۔

    امیتابھ کی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر انہیں پدما شری، پدما بھوشن، لیجنڈآف آنر، پدما وبوشن اور دادا صاحب پھالیکے ایوارڈز سے نوازہ گیا۔ 2002 میں انہوں نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی۔ 

  • کیا ثمرقند میں مودی شہباز ملاقات طے پا گئی ہے؟

    کیا ثمرقند میں مودی شہباز ملاقات طے پا گئی ہے؟

    بھارت نے ازبکستان کے شہر ثمرقند میں آج سے شروع ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان علیحدگی میں ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

    نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع نے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا کہ خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے سربراہان کی ثمرقند میں موجودگی سے دونوں کے درمیان  کانفرنس کے ایجنڈے سے ہٹ کر ملاقات ہوسکتی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھل سکتی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا فوری طور پر آغاز ہو جائے گا۔ تاہم بھارتی دفتر خارجہ مکمل تیاری کے ساتھ وزیراعظم مودی کے ساتھ ثمرقند میں موجود ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شریف فیملی کی حکومت کے دوران بھارتی وزیراعظم ہمیشہ سرپرائز دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بھی مودی افسوس کا اظہار کرچکے ہیں جب کہ شہباز شریف اس سلسلے میں مودی کو شکریہ کا خط بھی لکھ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف مودی کا ان کے خیر سگالی کے جذبہ کے جواب میں بالمشافہ شکریہ بھی ادا کرسکتے ہیں۔

    اس سے قبل 2014 میں مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے اس وقت پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو جو کہ شہباز شریف کے بڑے بھائی ہیں، نئی دہلی آنے کی اچانک دعوت دی تھی جسے نواز شریف نے قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جولائی 2015 میں مودی اور نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے روس میں ہونے والے اجلاس میں بھی علیحدگی میں ملاقات کرچکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دونوں لیڈروں کی پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں ایک بار پھر ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں سر جوڑ کر گفتگو میں مصروف تھے جس کی تصاویر بھی منظرعام پرآگئی تھیں۔ اسی ماہ مودی نے لاہور کا دورہ کر کے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2019 میں کرغستان میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں مودی اور عمران خان موجود تھے لیکن دونوں کے درمیان سوائے ہاتھ ملانے کے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ نے مودی شہباز ملاقات نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔  

  • بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ممبئی کے قریب رائے گڑھ کوسٹل ایریا کی حدود میں ایک لاوارث کشتی کی موجودگی سے بھارتی بحریہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اورمتوقع دہشت گردی سے بچاو کے لئے ہنگامی سائرن بجنے شروع ہوگئے۔ کشتی میں تین اے کے 47 رائفلز اور گولیوں کی بڑی مقدار بھی موجود تھی جس کی وجہ سے ممبئی میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا۔

    ابتدائی طور پر بھارتی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بوکھلاہٹ میں کشتی پاکستانی سمندری حدود کی طرف سے بھارتی سمندری حدود میں آنے کے امکانات ظاہر کئے تاہم بعد میں بھارتی حکام نے اس امکان پر زیادہ زور نہیں دیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیراعلی دیوندرا فرنانڈس نےبتایا کہ16 میٹر لمبی یہ لاوارث کشتی ایک آسٹریلین خاتون کی ملکیت ہے جس کا شوہر نیوی کپتان ہے۔ یہ کشتی دبئی کی ایک سیکیورٹی ایجنسی میں رجسٹرڈ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ کشتی دہشت گردی کرنے کے لئے استعمال کی جانی تھی تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار میاں بیوی اور دو دیگر مسافر جون میں مسقط سے یورپ جارہے تھے کہ راستے میں خراب موسم کے باعث انہوں نے کشتی کو وہیں بے یارومددگار چھوڑ دیاجب کہ چاروں افراد کو اومان کے بحری حکام نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔جس کے بعد یہ لاوارث کشتی سمندری لہروں میں بہتی ہوئی ممبئی سے دوسو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے ساحل پر پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں جدید اسلحہ کہاں سے آیااس کی تحقیقات جاری ہیں۔ 

  • واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    افغانستان سے براستہ پاکستان بھارت جانے والے ایک کارگو ٹرک میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع نے بھارتی سرحد پر تعینات سیکیورٹی حکام کی دوڑیں لگوادیں۔

    تفصیلات کے مطابق افغانستان سے ڈرائی فروٹ لے کر ٹرک واہگہ کے راستے بھارتی سرحد کے اندر اٹاری چیک پوسٹ پہنچا تو ٹرک کی چیکنگ کے دوران ڈیٹکٹر نے دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا الارم بجانا شروع کر دیا جس کے بعد اٹاری چیک پوسٹ پر ایمرجنسی نافذ کر کے وہاں کا کنٹرول انسداد دہشت گردی کے حکام نے سنبھال لیا اور ٹرک کی تلاشی شروع کردی۔

    اس دوران ٹرک کی باڈی کے اندر لوہے کا نو سو گرام وزنی ایک ڈبہ برآمد کیا گیا جسے کھولا گیا تو اس کے اندر تین سو گرام پاوڈر نما چیز نکلی جس کا تجزیہ کرنے کے بعد حکام نے بتایا کہ اس میں دھماکہ خیز مواد نہیں جس کے بعد انٹی نارکوٹکس حکام کو طلب کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مواد منشیات کی کوئی بھی قسم نہیں۔

    مذکورہ پراسرار مواد کو تجزیہ کے لئے لیبارٹری میں بھجوادیا گیا ہے۔ پولیس اور کسٹم حکام نے چیک پوسٹ پر موجود تمام ٹرکوں اور سامان کی دوبارہ تلاشی لینے کے احکامات دئے۔ یہ تلاشی رات گئے تک جاری تھی۔ اٹاری حکام نے افغان ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔