مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کے واقع میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ ایف سی بلوچستان اور سیکورٹی گارڈز کے 14 اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ آواران ملیشیاء کیمپ لسبیلہ میں اداکی گئی۔ نماز جنازہ میں اعلی حکام نے شرکت کی۔ شہدا کی میتیں ایمبولینسوں کے ذریعے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

پاکستان میں سزا مکمل کرنے والے بھارتیوں کی رہائی کے حوالے سے درخواست
انڈین ہائی کمیشن نے قیدیوں کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ پاکستان میں سزا مکمل کرنے والے بھارتیوں کی رہائی کے حوالے سے سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔
سزا مکمل کرنے والے قیدیوں میں بجو ڈنگ ڈنگ، وگیان کمار، ستیش بھوگ، اور سونو سنگھ شامل ہیں۔ ان کے وکیل کے مطابق یہ قیدی پاکستان کے مختلف شہروں کی جیلوں میں قید ہیں۔ وکیل کا کہنا ہے کہ بھارتی قیدی سزا مکمل کرنے کے باوجود بھی پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالت سزا مکمل کرنے والے بھارتیوں کی فوری رہائی کا حکم دے۔ انہوں نے کہا کہ سزا مکمل کرنے والے قیدیوں کو زیر حراست رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت متعلقہ اداروں کو بھارتی شہریوں کی رہائی کا حکم دے۔ بھارتی ہائی کمیشن کی درخواست میں وفاق، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری خارجہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دیگرکیسز چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے پاس زیر سماعت ہیں۔ لہذا انہوں نے درخواست چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے پاس ریفر کر دی۔
بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کا ایک اور منصوبہ ناکام
بلوچستان میں کوہلو لیویز کیو آر ایف کی کارروائی کے نتیجے میں مبینہ طور پر بھارتی دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔ ریجنل ٹیلی گراف کو دستیاب معلومات کے مطابق کیو آر ایف نے سوراب نالہ تحصیل کاہان میں دہشت گردوں کے کمپاؤنڈپر کارروائی کی اور بھاری تعداد میں گولہ بارود و دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ اس موقع پر رسالدار میجر شیر محمد مری نے لیویز لائن میں پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہا کہ کاروائی میں1ائی-ای-ڈی 3عدد، 2اے-ٹی-ایم 7عدد، 3اے-پی-ایم 7عدد، 4ڈور ہینڈ گرنیڈ ، عدد، 538مارٹر گولے 140عدد،م 638مارٹر فرنٹ فیوز 106عدد، 738 مارٹر بیک فیوز 86عدد، 8اے-جی-ایس 17(گرنیڈ) 354عدد دوران کاروائی دہشت گردوں کے ٹھکانے سے انڈین اور روسی ساخت کا اسلحہ برآمد کر لیے ۔ کاروائی میں 60 سے زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔

چلتی ٹرین کے انجن میں آگ لگ گئی
جعفر ایکسپریس کے انجن میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد ٹرین کو مچھ اسٹیشن پر روک دیا گیا۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے راولپنڈی جارہی تھی۔ حکام کی فوری کارروائی سے آگ پر قابو پالیا گیا تاہم انجن کو خاصا نقصان پہنچا۔ حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جب کہ کسی شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع نہیں۔ متاثرہ انجن کی مرمت کا کام ریلوےاسٹیشن کی گیراج میں جاری ہے جب کہ ٹرین کی روانگی کے لئے دوسرا انجن طلب کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ صدر آزاد کشمیر
آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مذموم مقاصد میں ناکام ہوگا اور پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب میں سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی جنگ ہونی ہے تو وہ جنوبی ایشیا کے خطے میں ہوگی کیونکہ کشمیر نیوکلئیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہندو توا کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی۔ بھارتی قبضے میں کشمیریوں پر جبر کے موضوع پر ہونے والے ویبینار سے خطاب میں سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے پامالی خصوصی طور پر عورتوں پر مظالم کے خلاف دنیا بھر کے طرح اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے میں اضافہ ہوا ہے۔ شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں ان مظالم کے خلاف آواز اٹھنے کی ایک بنیادی وجہ مودودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی لوگوں نے اب ہندوتوا پالیسی کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور روشن خیال ہندو بھی اب ہندوتوا سوچ کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہندوتوا سوچ کے باعث بھارتی آئین کی سیکیولر پہچان کی بھی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتیں بھی کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ایک بڑی ناکامی ہے۔ سیمینار کے ماڈریٹر اور لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے چئیرمین سابق ایمبیسیڈر شمشاد احمد نے ویبینار کا آغاز اس جملے سے کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندوتوا سوچ کی عکاس ہے۔ سیمینار سے جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا تھا کہ جنگ لازمی ہے۔ اگر جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ ہوئی تو یہ کشمیر کی عوام اور بھارت کے درمیان ہوگی
مقبوضہ کشمیری میں جاری آزادی کی جنگ لڑنے والے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ چئیرمین یسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حالیہ اسٹیٹس مودی کی انتخابی کیمپئن کا حصہ تھی اور یہ واضح تھا کہ بھارت اب ہندوتوا کے عمل پر چلے گا۔
پیس اینڈ کلچر آرگنایزیشن کی چئیرمین مشال مالک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اگست میں کئے جانے والا بھارتی قدم کشمیر میں جاری آزادی جنگ لڑنے والوں کے خلاف ایک بھرپور محاز ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں بھی اچھے نہیں ہونگے۔
مشال ملک نے کشمیر میں جاری مظالم کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کی جائیداد کے کاغذات تبدیل کئے جارہے ہیں۔ مسلمان آبادی کو اقلیتی آبادی میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور وہاں موجود بیوروکریسی کو دہلی کی جانب سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ دہلی حکومت مقامی افراد سے تمام اختیارات لیکر دیگر علاقے کےلوگوں میں منتقل کررہی ہے۔ مشعال کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ہندوتوا سوچ کے باعث ہیں۔ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندی لگوانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ بھارت کی جانب سے حراست میں لئے گئے افراد کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کے لئے ایک وفد بھیج کر اس کی غیرجانبدار تحقیقات کرے۔
چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو، جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو
ماضی کے معروف اداکار، فلمساز، ہدایت کار گورودت کی 56 ویں برسی آج منائی جارہی ہے وہ 10 اکتوبر 1964 کو ممبئی کے پیڈر روڈ پر اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ میں اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ گورودت کے ذکر کے بغیر ہندوستانی سنیما پر کوئی بات مکمل نہیں ہوتی ہے۔ ان کی ایک یادگار ترین فلم ، پیاسا ، ٹائم میگزین کی آل ٹائم 100 بہترین فلموں کی فہرست میں شامل ہے۔
گورودت 9جولائی 1925 کو بھارتی ریاست کرناٹک میں چتر پور سرسوت برہمن خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام وسنت کمار شیواشنکر پڈوکون تھا لیکن بچپن کے ایک ناخوشگوار واقعہ کے بعد ان کا نام گورودت رکھ دیا گیا. ابتدامیں گورودت کوکلکتہ کی ایک فیکٹری میں ٹیلیفون آپریٹرکی نوکری ملی لیکن جلد ہی وہ ملازمت سے مایوس ہو گئے اورانہوں نے نوکری چھوڑ دی۔ان کے چچاکی بدولت انہیں 1944میں پربھات فلم کمپنی کے ساتھ تین سال کے معاہدے کے تحت ملازمت مل گئی۔پربھات فلم کمپنی میں گورودت کی دو افراد سے ملاقات ہوئی جوفلمی زندگی میں ان کے اچھے دوست ثابت ہوئے۔ ان کے نام تھےاداکار رحمان اور دیو آنند۔ گورودت نے1944 میں فلم چاند میں ایک چھوٹاسا کردار ادا کیا تھا۔1946میں انہوں نے دیوآنند کی پہلی فلم ہم ایک ہیں کےلئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ 1947 میں گورودت بمبئی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے فلم گرلز اسکول میں امیہ چکرورتی کے ساتھ اور بمبئی ٹاکیزکی فلم سنگرام میں گیان مکھرجی کے ساتھ کام کیا۔ دیو آنند نے پہلی فلم فلاپ ہونے کے باوجود گورودت کو اپنی نئی کمپنی نوکیتن میں بطور ہدایت کار نوکری کی پیش کش کی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ 1951 میں اس کمپنی کے تحت پہلی فلم بازی ریلیز ہوئی تھی۔ گورو دت کی دیگر فلموں میں1954 کی بلاک بسٹر آرپار 1955 میں مسٹر اینڈ مسز ’55اور سی۔آئی۔ڈی، سیلاب اور 1957 میں پیاساشامل ہیں۔ 1959 میں بننے والی فلم کاغذکے پھول میں گورودت شدید مایوسی کا شکار تھے۔ یہ فلم باکس آفس پر ناکام ہوئی تاہم چودھویں کا چاند باکس آفس پر بےحد کامیاب ہوئی۔ یہ گورودت کی پہلی رنگین فلم تھی۔ صاحب بی بی اور غلام کی ہدایتکاری کی وجہ سے انہیں فلم فیئر کا بہترین ہدایت کار ایوارڈ دیا گیا۔ 10 اکتوبر 1964 کو گورو دت ممبئی میں کرائے کے مکان میں اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شراب میں نیند کی گولیاں ملاکرپی جس کی وجہ سے ان کی موت خودکشی بھی قرار دی جاتی ہے۔
ایمبیسڈر محمد صادق کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات
وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات۔ دوران ملاقات افغان امن عمل سمیت خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق نے افغان امن عمل کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزیر خارجہ کو مفصل بریفنگ دی۔ ایمبیسڈر محمد صادق نے دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات کی موجودہ صورتحال سے بھی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ مخدوم شاہ محمودقریشی نے اس موقعہ پرکہاکہ افغانستان میں مستقل اور دیرپاقیام امن کیلئے بین الافغان مذاکرات کی کامیابی ،اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ خطے میں امن و استحکام کا دارو مدار، افغان مسئلے کے پر امن حل کے ساتھ منسلک ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے، خطے میں امن واستحکام کیلئے اپنی پر خلوص، مصالحانہ کاوشیں جاری رکھے گا۔

بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شاہ محمود قریشی
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کے ہم خیال دوست ملکوں کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ انہوں نے بھارتی رویے پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدر کو متعدد خطوط لکھے ہیں۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاحوالہ دیتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت نے غیرقانونی اوریکطرفہ طورپرعلاقے کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرکے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کئے جوپہلے ہی دنیامیں سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے۔کشمیری رہنماوں کوجیلوں میں ڈال کراوربے گناہ نوجوان کشمیریوں کاماورائے عدالت قتل، حق خودارادیت کیلئے جدوجہدکرنے والوں کےعزم کے خاتمے کےلئے ہتھکنڈے ہیں۔یہ حقائق انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں عیاں ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغانوں کے درمیان مذاکرات کاآغازاہم اورعلاقائی امن کے لئے مثبت پیشرفت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کےلئے سہولت فراہم کی۔ ملکی صورتحال کے بارے میں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ کوروناوائرس کی وبا سے درپیش چیلنج سے قطع نظر موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیکس وصولی میں تیس فیصداضافہ ہوا جبکہ پہلی دفعہ ترسیلات زر بیس ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے۔ برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہاکہ دونوں ملکوں میں شاندارتعلقات ہیں اوراسے مزید مستحکم کریں گے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کی سینیٹر رحمان ملک کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
سینیٹر رحمان ملک کی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں بھارتی مظالم کیخلاف قرارد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و مسلسل کرفیو کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے قرارداد میں اقوام متحدہ کا بھارتی مظالم پر خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ سے خطاب کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مودی نے گذشتہ 465 دنوں سے کشمیر میں طویل ترین فوجی کرفیو کے حوالے سے اقوام متحدہ نےایک لفظ تک نہیں کہا۔ کمیٹی مظلوم بھارتی مظالم پراقوام متحدہ کی خاموشی و غیر سنجیدہ رویے پر مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ اقوام متحدہ کی کسی بھی رکن نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز نہیں اٹھائی۔ مقبوضہ کشمیر مسلسل بھارت کیجانب سے طویل ترین کرفیو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اقوام متحدہ سے اپنے سلامتی کونسل کے منظور کردہ قراردادوں پر عمل کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر بھارتی کرفیو کو ہٹانے کے لئے اقدامات کرے۔

اگلے کچھ دن ’اصلی امتحان‘ ہونے والا ہے۔ ٹرمپ
کورونا وائرس انفیکشن سے متاثر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت میں بہتری ہورہی ہے اور اب انہیں بخار نہیں ہے اب وہ بہتر محسوس کررہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر سین کانلے کے مطابق صدر کے علاج کے بعد ان کی صحت میں مناسب بہتری ہوئی ہے اور کل شام انہوں نے بغیر کسی پریشانی کے ریمیڈیسو کی دوسری خوراک لی۔ دن بھر ان کا باڈی ٹمپریچر 96 اور 98 ڈگری کے درمیان رہا۔ انہیں بخار نہیں ہے اور اضافی آکسیجن کی ضرورت بھی نہیں ہے۔اب وہ بہتر محسوس کررہے ہیں۔
کالن نے بتایا کہ ابھی تک وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے ٹھیک ہونے کے سلسلے میں پوری طرح سے مطمئن ہے۔
ریلیز کے مطابق ٹرمپ ہفتے کی شام بزنس شروع کرتے ہوئے اور بغیر کسی پریشانی کے اسپتال کے کپڑوں میں میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کے ارد گرد گھومتے ہوئے دیکھے گئے ۔
میڈیکل سینٹر کے ذریعہ ہفتے کو ٹرمپ کا چار منٹ کا ویڈیو جاری کیا گیا،’’ٹرمپ نے کہاکہ وہ بہتر محسوس کررہے ہیں اور جلد ہی واپس لوٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے کچھ دن ’اصلی امتحان‘ ہونے والا ہے۔‘‘









