Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • چینی وزیرخارجہ کے دورہ بھارت پر پاکستان کی گہری نظر

    چینی وزیرخارجہ کے دورہ بھارت پر پاکستان کی گہری نظر

    چین کے وزیرخارجہ وانگ یی آج بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی وزیراعظم مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر اہم فوجی اور سیاسی شخصیات سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔اس ماہ وزیراعظم مودی کے دورہ چین سے پہلے چینی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت بے حد اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے 50% ٹیرف لگانے کے بعد بھارت سمندری غذا کی برآمدات کے لیے جاپان، چین، برطانیہ اور یورپی یونین پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت گھریلو صنعنتوں کو فروغ دینے اور امریکہ کے ساتھ تجارتی غیر یقینی صورتحال کو دور کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ، کنزیومر گڈز، اور قابل تجدید توانائی جیسے غیر حساس شعبوں میں چینی سرمایہ کاری پر پابندیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔چین اور بھارت کے درمیان 2020میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے باضابطہ رابطے ہیں جس میں بھارت چین کے ساتھ تجارتی نرمیوں کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیز تر منظوری کے لئے چین کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت کررہا ہے۔تاہم حساس شعبے جیسے دفاع، ٹیلی کام، اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکے حوالے سے بھارت کے چین کے ساتھ مذاکرات محدود رہنے کی توقع ہے اس کے باوجود بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ شدید کشیدگی کے بعد چین کی بھارت کے ساتھ بڑھتی دوستی اور تجارتی تعلقات کی بحالی پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کچھ تحفظات رکھتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی وزیرخارجہ کابھارت کے دورے کے بعد پاکستان آنے کا مقصد پاکستان کے تحفظات کو دور کرنا ہے تاہم اگست 2025 میں اعلیٰ سطحی دوروں کے ذریعہ بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری خطے میں اہم معاشی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  • یومِ آزادی کی تقریر: مودی کو شدید تنقید کا سامنا

    یومِ آزادی کی تقریر: مودی کو شدید تنقید کا سامنا

    بھارت میں اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کی دہلی کے  لال قلعہ میں کی گئی یومِ آزادی کی تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اوراسے پرانے نعروں پر مبنی قرار دیا۔ بھارتی کانگریس کے سینئر راہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی کی تقریر پرانے، دوغلے اور بے جان نکات کا مجموعہ تھی جس میں نہ کوئی نئی سوچ نظر آئی اور نہ ہی عوامی مسائل کا کوئی سنجیدہ حل پیش کیا گیا۔ مودی نے پھر سے وہی پرانے اور کھوکھلے نعرے دہرائے جیسے ’وکسِت بھارت‘، ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘، جو برسوں سے سننے کو مل رہے ہیں مگر ان کے نتائج آج تک سامنے نہیں آسکے۔ جے رام رمیش نے طنزیہ کہا، ’’آج وزیر اعظم تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ جلد ہی وہ ریٹائر بھی ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یومِ آزادی کو امید، سچائی اور وژن کا دن ہونا چاہیے مگر مودی کی تقریر خود ستائشی اور چُنی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ تھی جس میں ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، بے روزگاری اور عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ تقریر کا سب سے تشویش ناک پہلو لال قلعہ کی فصیل سے آر ایس ایس کا نام لینا تھا جو آئینی اور سیکولر جمہوریہ کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم صرف آر ایس ایس کو خوش کرنے کی ایک بے صبرانہ کوشش ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وزیر اعظم اگلے ماہ اپنی 75ویں سالگرہ سے قبل اس تنظیم کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 4 جون 2024 کے انتخابات کے بعد مودی کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور اب وہ اپنی مدت پور کرنے کے لیے مکمل طور پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی مرضی کے مرہون منت ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ یومِ آزادی جیسے قومی موقع کو ذاتی اور تنظیمی فائدے کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میڈ اِن انڈیا‘ سیمی کنڈکٹر چِپ بنانے کا وعدہ بھی کئی بار کیا گیا مگر عمل درآمد صفر رہا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا پہلا سیمی کنڈکٹر کمپلیکس 1980 کی دہائی کے اوائل میں چنڈی گڑھ میں قائم کیا گیا تھا۔ کسانوں کے تحفظ سے متعلق مودی کے بیانات کو بھی انہوں نے بے معنی قرار دیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ تین سیاہ زرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن میں کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت نہ دینا، ایم ایس پی کو لاگتِ کاشت سے 50 فیصد زائد مقرر نہ کرنا اور کسانوں کے قرض معاف نہ کرنا، سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مودی کے وعدے کھوکھلے ہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدوں کو بھی کانگریس لیڈر نے ’رسمی بیان‘ قرار دیا جو کسی عملی روڈ میپ کے بغیر دہرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی کی تقریر میں اتحاد اور جمہوریت کی باتیں محض زبانی جمع خرچ ہیں کیونکہ انہی کے دور میں انتخابی کمیشن سمیت اہم آئینی ادارے زوال کا شکار ہوئے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم اب تک اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اٹھائے گئے انتخابی نظام کی شفافیت سے متعلق بنیادی سوالات کا جواب نہیں دے سکے۔ بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کو فہرست سے نکالنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔ وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے دعووں پر انہوں نے کہا کہ مرکز مختلف ریاستوں میں اپوزیشن کی حکومتوں کو مسلسل کمزور، نظرانداز اور بعض ریاستوں میں ختم کر رہا ہے جس سے بھارت کی جڑیں مزید کھوکھلی ہورہی ہیں۔ اگر بھارت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار مودی ہوں گے۔ 

  • امریکہ میں پاکستانی چاول کی درآمدات میں غیرمعمولی اضافہ متوقع

    امریکہ میں پاکستانی چاول کی درآمدات میں غیرمعمولی اضافہ متوقع

    امریکہ میں رہائش پذیر بھارتی کمیونٹی کو اگلے پندرہ روز بعد بھارت سے درآمد شدہ چاول کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب کہ ان کا پاکستانی چاول پر انحصار بڑھ جائے گا جس سے امریکہ میں پاکستانی چاول کی درآمدات میں غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت اس وقت تقریباً ڈھائی لاکھ سے تین لاکھ ٹن چاول امریکہ کو برآمد کرتا ہے۔ اس میں سے تقریباً چالیس فیصد سونا مسوری چاول ہیں جو زیادہ تر آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اگائے جاتے ہیں جبکہ ساٹھ فی صد باسمتی چاول ہیں جو بنیادی طور پر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں رہنے والے بھارتیوں کی بڑی تعداد روزمرہ کے کھانے میں سونا مسوری چاول کھاتے ہیں جب کہ بریانی جیسے خاص پکوان کے لیے باسمتی چاول استعمال کرتے ہیں۔ فی الحال سونا مسوری کی قیمت نوسو ڈالرز اور ایک ہزار ڈالرز فی ٹن کے درمیان ہے جب کہ باسمتی کی قیمت بارہ سو ڈالرز سے تیرہ سو ڈالرز فی ٹن ہے۔ بھارتی چاول پر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پچاس فی صد محصولات لاگو ہونے کے بعد بھارتی چاول کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے یہ پاکستانی چاول سے بہت زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔ پاکستان اس وقت تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار میٹرک ٹن چاول امریکہ برآمد کرتا ہے۔ نئے ٹیرف سے بھارتی باسمتی چاول کی قیمتیں بڑھ کر اٹھارہ سو ڈالر فی میٹرک ٹن ہو سکتی ہیں جبکہ پاکستانی باسمتی 19 فیصد کم ٹیرف کی وجہ سے سستی رہ سکتی ہے جس سے پاکستانی چاول کی ڈیمانڈ بڑھ جائے گی۔ 

  • مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ضلع مجسٹریٹ سامبا نے لائن آف کنٹرول سے 2 کلومیٹر تک کے علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آیوشی سوڈان کے جاری کردہ حکم کے مطابق کرفیو آئندہ دو ماہ تک روزانہ رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک نافذ رہے گا یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کی سرحدی نگرانی کو بڑھانے اور رات کے اوقات میں شہریوں کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرکے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ کرفیو کے اوقات کے دوران نقل و حرکت کی اجازت صرف ضروری وجوہات کی بناء پر دی جائے گی اور لوگوں کو بی ایس ایف یا پولیس اہلکاروں کے مطالبے پر پیش کی جانے والی شناخت اپنے ساتھ رکھنی ہوگی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • فائٹرز کی کمی: بھارتی فضائیہ نے فرانس سے مزید رافیل مانگ لئے

    فائٹرز کی کمی: بھارتی فضائیہ نے فرانس سے مزید رافیل مانگ لئے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی فضائیہ نے  ائرفورس کے تیزی سے کم ہوتے سکواڈرن کی طاقت بڑھانے کیلئے فرانس سے فوری طور پر اضافی رافیل لڑاکا طیارے مانگ لئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ڈیمانڈ 7 سے 10 مئی تک پاک بھارت جنگ کے بعد کی گئی ہے جس کے دوران رافیل کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا جس میں پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تین رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے ہیں جس سے بھارتی فضائیہ کی طاقت میں کافی کمی آگئی ہے۔ فضائیہ نے بھارتی حکومت کو بتایا ہے کہ ففتھ جنریشن کے فائٹرز کے دو سے تین سکواڈرن کی فوری ضرورت ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کے ساتھ رافیل کی خریداری کا براہ راست معاہدہ عالمی ٹینڈر کے مقابلے میں تیز تر ہونے کی توقع ہے۔ امبالا اور ہسیمارا میں موجودہ انفراسٹرکچر کیلئے کم از کم ایک مزید رافیل سکواڈرن کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت اس سال اپریل میں فرانس کے ساتھ ہونے والے سات بلین یورو کے معاہدے کے تحت بحریہ 2028 سے 2030 تک آئی این ایس وکرانت کے لیے 26 رافیل میرین جیٹ طیارے حاصل کرے گی لیکن بھارتی فضائیہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے تحت اضافی رافیل طیارے خریدنے کے لیے فوری معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔ 

  • نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کو کرائے کے گھر خالی کرنے کے نوٹس

    نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کو کرائے کے گھر خالی کرنے کے نوٹس

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سفارتی عملے کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حصول پر پابندی لگادی گئی ہے۔ جنگ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی مشن کے سفارتی عملے کو کرایہ کے رہائشی مکان خالی کرنے کے نوٹسز جاری کردئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان سفارتکاروں کو 14 سے 21 دن کا نوٹس دیا گیا ہے۔ سفارتکاروں نے جب معاہدے کا ذکر کیا تو مالک مکان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کردئے گئے ہیں اس لئے وہ اپنی رہائش کا کوئی دوسرا انتظام کریں۔ ذرائع کے مطابق مقامی گیس سلنڈر فروشوں کو بھارتی حکام نے ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستانی عملے کو گیس سلنڈر فروخت نہ کریں جس کے بعد سفارت کار اور ان کے اہل خانہ کھلے بازار میں مہنگے متبادل ایندھن اور سلنڈر تلاش کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن ان کے حصول میں بھی اکثر ناکامی ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینے کے صاف پانی کے لیے مشن کے کنٹریکٹ یافتہ سپلائر کو بھی ڈیلیوری کرنے سے روک دیا گیا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ نئی دہلی میں بیشتر دکانداروں کو ہائی کمیشن کو صاف پانی فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی عملہ اور ان کے اہل خانہ کو مجبورا نلکوں کا پانی استعمال کرنا پڑرہا ہے لیکن مقامی نلکوں کا پانی فلٹریشن کے بغیر نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی استعمال کے لیے موزوں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشن کو اخباروں کی فراہمی مکمل طور پر روک دی گئی ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے کوئی اخبار ہائی کمیشن کو فراہم نہیں کیا جارہا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ بھارت ویانا کنونشن کے تحت پاکستانی سفارتی عملے کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے۔ 

  • پاک بھارت بحری فوجیں آمنے سامنے

    پاک بھارت بحری فوجیں آمنے سامنے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کی بحری افواج 11-12 اگست کو بحیرہ عرب میں ایک دوسرے کے سمندری علاقوں کے قریب الگ الگ بحری مشقیں کررہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مشقیں ایک دوسرے سے تقریباً 60 سمندری میل کے فاصلے پر رکھی گئی ہیں۔ دونوں بحری افواج نے اگلے ہفتے بحیرہ عرب میں فائرنگ کی مشقوں کا الگ الگ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بھارتی بحریہ 11 سے 12 اگست تک گجرات کے پوربندر اور اوکھا کے ساحل پر اپنی بحری مشقیں کرے گی۔ انہی ایام میں پاکستان نیوی نے اپنے علاقائی پانیوں میں اپنی بحری مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے ایئر مین کو نوٹس (NOTAM) جاری کیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی فوجی مشقیں دونوں ممالک کے لیے معمول کی بات ہیں لیکن نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ان مشقوں کے وقت نے ان کی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے۔ 

  • بھارتی الیکشن کمیشن نے 334 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی

    بھارتی الیکشن کمیشن نے 334 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں 334 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے بعد جن سیاسی جماعتوں کی شناخت منسوخ ہو گئی ہے وہ ملک بھر میں اپنے انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29B اور سیکشن 29C کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 اور انتخابی نشان ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ آرڈر 1968 کی متعلقہ دفعات کے تحت ان سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ تاہم اس حکم کے خلاف 30 دن کے اندر الیکشن کمیشن میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس وقت بھارت میں 6 قومی پارٹیاں، 67 ریاستی پارٹیاں اور 2854 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی جماعت مسلسل 6 سال تک الیکشن نہیں لڑتی تو اس کو رجسٹرڈ پارٹیوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔ کمیشن کی اس کارروائی کے بعد اب کل 2854 جماعتوں میں سے 2520 باقی رہ گئی ہیں۔

  • بھارت میں ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا منفی اثر، تامل ناڈو میں کئی کپڑا کمپنیوں نے روکی پروڈکشن

    بھارت میں ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا منفی اثر، تامل ناڈو میں کئی کپڑا کمپنیوں نے روکی پروڈکشن

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست تامل ناڈو میں بھارت کے ’نِٹ ویئر ہب‘ تیروپور میں امریکہ کو برآمد کرنے والی کئی گارمنٹس مینوفیکچر کمپنیوں نے پروڈکشن روک دی ہے جب کہ کئی کمپنیاں دوسری متبادل مارکیٹ کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہیں۔ تیروپور ایکسپورٹز ایسوسی ایشن کے صدر ایم سبرامنین نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی خریداروں نے فی الحال تیروپور سے گارمنٹس کے آرڈرز روک لئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک بھارت کے ساتھ امریکی ٹیرف کا معاملہ حل نہیں ہوجاتا اور صورتحال واضح نہیں ہو جاتی اس وقت تک نئے آرڈرز دینا ممکن نہیں۔ گارمنٹس کی صنعت سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بتایا کہ صرف تیروپور سے کل برآمدات کی مالیت تقریباً 45000 کروڑ روپے ہے، جس میں 30 فیصد (تقریبا 1200 کروڑ روپے) صرف امریکی مارکیٹ میں جاتی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اب 50 فیصد کاروبار سے بھی زیادہ یعنی تقریباً 6000 کروڑ روپے کی برآمدت متاثر ہوں گی۔ انہوں نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ گارمنٹس کی صنعت کو بچانے کیلئے امریکی حکومت سے مزاکرات کئے جائیں۔

  • پاکستانی نژاد خاتون قمر محسن مودی کو راکھی باندھیں گے

    پاکستانی نژاد خاتون قمر محسن مودی کو راکھی باندھیں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں رکھشا بندھن کا تہوار قریب آتے ہی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد میں رہنے والی پاکستانی نژاد خاتون قمر محسن شیخ ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو راکھی باندھنے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی راکھی 9 اگست کو راکھی کے تہوار کے موقعہ پر وزیر اعظم مودی کو باندھیں گی۔ قمر محسن شیخ گزشتہ 30 سال سے مسلسل مودی کو راکھی باندھ رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ہر سال کئی راکھیاں تیار کرتی ہیں، اور ان میں سے جو راکھی انہیں سب سے زیادہ پسند آتی ہے وہی وہ مودی کی کلائی پر باندھنے کے لیے چنتی ہیں۔ اس سال انہوں نے خصوصی طور پر “اوم” کے نشان والی راکھی مودی کے لیے ڈیزائن کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مودی کو گھر کی بنی ہوئی چیزیں بہت پسند ہیں اسی لیے وہ ہر سال اپنے ہاتھ سے ان کے لیے راکھی تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ انہیں خط لکھتی ہیں تو بازار سے کارڈ نہیں خریدتیں بلکہ اپنے ہاتھ سے گجراتی زبان میں خط تحریر کرتی ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی قمر محسن شیخ کی شادی1980 میں احمدآباد کے ایک مصور، محسن شیخ سے ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 1994-1995 میں وہ پہلی بار مودی جی سے ایک پروگرام میں ملیں تب وہ ایک تنظیم کے کارکن تھے۔ مودی نے ان سے حال چال پوچھتے ہوئے کہا “کیسی ہو بہن؟” شیخ بتاتی ہیں کہ یہ الفاظ ان کے دل کو چھو گئے۔ کچھ دن بعد رکشا بندھن تھا تو انہوں نے سوچا کہ مودی کو راکھی باندھنی چاہیے اور تب پہلی بار انہوں نے مودی کی کلائی پر راکھی باندھی جس پر مودی نے ان سے پوچھا بہن تم نے کیا دعا کی تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے دعا کی تھی کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنیں، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ‘میں اپنی تنظیم میں اپنے کام سے خوش ہوں،’ اس کے بعد وہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے، تو انہوں نے ان سے پوچھا “اب کیا دعا کرو گی؟” اس پر میں نے مسکرا کر کہا “اب چاہتی ہوں کہ آپ ملک کے وزیر اعظم بنیں۔” اور کچھ سال بعد یہ دعا بھی پوری ہو گئی۔ تب سے لے کر آج تک وہ ہر سال اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ راکھی وزیر اعظم مودی کو باندھتی ہیں۔