[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″][advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]کورونا وائرس اوربھارت میں مکمل لاک ڈاون کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے 82 پاکستانی شہریوں کی بالآخر سنی گئی۔ بھارت نے ان 82 پاکستانیوں کو پاکستان واپس بھیجنے کی خوشخبری سنا دی ہے جس کے بعد ان پاکستانی شہریوں کی اسی ہفتے واپسی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستانی شہریوں نے وطن واپسی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ واہگہ بارڈر جو گزشتہ چند ماہ سے بند ہے، ایک روز کے لئے خاص طور پر ان پاکستانی شہریوں کی واپسی کے لئے کھولا جائےگا۔ بھارتی حکومت نے ان تمام پاکستانی شہریوں کے ویزوں میں بھی توسیع کر دی تھی۔ یہ تمام پاکستانی بھارت میں اپنے عزہزواقارب سے ملنے کے لئے گئے تھے کہ پاکستان اور بھارت نے کورونا کے باعث اپنی سرحدیں بند کر دیں جب کہ بھارت میں لاک ڈاون کے باعث یہ تمام شہری اپنے رہائشی علاقوں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے تھے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

اس سال حج کے دوران خانہ کعبہ یا حجراسود کوچھونا منع ہوگا
ریاض: سعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی العربیہ کے مطابق کورونا کی عالمی ویاء کے باعث رواں برس دوران حج حجاج کرام اور عملے کے لیے ماسک اور دستانے پہننا لازم ہوں گے۔ حجاج کرام کےسرکے بال تراشنے والے ایک دوسرے کےآلات استعمال نہیں کرسکیں گے۔عازمین حج نماز کے دوران بھی ایک دوسرے سے 2میٹر فاصلے کی پابندی کریں گے۔ رمی کےلیےحجاج کو پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔ سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق طواف کرنے والوں کی بھی قافلہ بندی کی جائے گی۔ طواف کے دوران حجاج کرام کو کم از کم ڈیڑھ میٹرکا فاصلہ رکھنا ہوگا۔ حج کے نئے قواعدوضوابط کےمطابق خانہ کعبہ یا حجراسود کوچھونا منع ہوگا۔ دوران حج مسجد الحرام میں کھانےکی اشیا لانے پرپابندی ہوگی۔ کھانے پینے، پانی پینےیاآب زمزم کے لیے ڈسپوزیبل بوتلیں اور ڈبےاستعمال کیے جا سکیں گے۔ حجاج کرام کو کھانے پینےکےبرتن دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور بسوں میں عازمین کی تعداد متعین ہوگی۔پورے سفر کے دوران ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی۔ کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ۔ہوگی۔العربیہ کے مطابق 18 جولائی 2020سے منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت کے بغیر جانا منع ہوگا۔ سعودی حکام کی جانب سے دوران حج رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں میں بیٹھنے اور انتظار کرنے کی جگہوں کو مسلسل سینیٹائز کیا جائے گا۔ دروازوں کے ہینڈل، کھانے کی میز، کرسیوں اور صوفوں کے ہتھے سینیٹائز کیے جائیں گے۔ ہوٹلز میں کھانا تیار کرنے، پیش کرنے سے قبل، حمام سے نکلنے کے بعد، کسی کو ہاتھ ملانے یا چھونےکے بعد صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے ہوں گے۔ عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایسے کسی بھی شخص کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں زکام جیسی علامات ہوں گی۔ اجازت نامے کے لیے اسے ڈاکٹر سے فٹنس سرٹیفیکیٹ لینا ہوگا۔ منیٰ میں جمرات کی رمی کے لیے سینیٹائز کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔ منیٰ میں 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو حجاج رمی جمرات کرتے ہیں جبکہ رمی کے حوالے سے طے کیا گیا ہے کہ 50 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو ہر منزل پر رمی کے لیے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ رمی کرتے وقت ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی خیمے میں 10 سے زیادہ حاجیوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر خیمہ 50 مربع میٹر کا ہوگا۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلی ہاوس کی جانب سب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھارتی فوج کی فائرنگ سے نکیال سکیٹر میں بچوں،خواتین سیمت 5 زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بو کھلاہٹ کا شکار بھارت شہری آبادی کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہےجب کہ مودی سرکار کی اشتعال انگیزیاں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے بزدل دشمن کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا ہے ۔


بھارتی فوج کی کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی
بھارتی فوج نے کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلاجواز فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 22سالہ شہری زخمی ہو گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاک فوج نےبھارتی فائرنگ کاموثرجواب دیا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ میں شہری آبادی کو مارٹر اوربھاری ہتھیاروں سےنشانہ بنایا گیا۔ جب کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پرسیز فائرکی خلاف ورزی گزشتہ رات کی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں راہنماوں کے درمیان دو طرفہ، علاقائی و اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعلقات مثالی نوعیت کے ہیں- دونوں نے ہر مشکل اور آڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین کی "ون چائینہ پالیسی اور ہانگ کانگ، تبت، تائیوان اور شنکیانگ کے حوالے سے چین کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیااور کہا کہ بھارت اپنے جارحانہ عزائم کی پیروی کرتے ہوئے ذریعے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنا چاہتا ہے جب کہ اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے لاین آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ شاہ محمودنے کہا کہ ہندوستان نے بین الاقوامی قوانین سے انحراف کرتے ہوئے، علاقائی مسائل کو گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بجائے، جبر و استبداد کا راستہ اپنایا – بھارت کی جانب سے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات، بھارت کی اس ہندتوا سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہر مشکل گھڑی میں چین کی معاونت پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ دونوں وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی فورمز پر اہم علاقائی و عالمی امور کے حوالے سے، یکساں مقاصد کے حصول کیلئے باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے اگلے پاک چین افغان سہ ملکی وزرائے خارجہ مذاکرات کے جلد انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ بی آر آئی (BRI) اور پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبوں کی تکمیل سے جہاں روابط کو فروغ ملے گا وہاں اقتصادی ترقی کے نئے امکانات روشن ہونگے فریقین کی طرف سے اقتصادی راہداری منصوبوں کی جلد اور بروقت تکمیل کے عزم کا اظہار کیا گیا
چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری فیز 2،بی آر آئی منصوبے کا انتہائی اہم حصہ ہے جس کے ذریعے پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے ۔ چینی وزیر خارجہ نے چین کی طرف سے مجوزہ ہیلتھ سلک روڈ کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین کرونا عالمی وبائی صورتحال کے مضمرات سے نمٹنے اور معاشی بحالی کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اہم علاقائی و عالمی امور پر مشاورت جاری رکھنے اور اس ضمن میں جلد بالمشافہ ملاقات کرنے پربھی اتفاق کیا گیا
مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ معصوم شہری کروناکے باعث دوہرے لاک ڈاؤن کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اقتصادی تعاون تنظیم(ECO) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حادی سلیمان پور سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں راہنماوں نے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور تنظیم کے طے شدہ، اہداف کے حصول میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا.وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، اقتصادی تعاون تنظیم کے بانی رکن ملک ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ کوشاں رہا کہ یہ تنظیم ، خطے میں اقتصادی تعاون کا مضبوط اور مستحکم مرکز بن کر سامنے آئے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو باور کرایا کہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم کے وژن 2025 کی روشنی میں ممبر ممالک کے مابین علاقائی،تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل ای سی او کو، کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور ترقی پذیر ممالک کی کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عالمی سطح پر دی گئی، "ڈیٹ ریلیف” تجویز کے خدوخال سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کرونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے اور علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کیلئے ای سی او وزرائے صحت ورچول کانفرنس کے جلد انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ معصوم شہری کرونا وبا کے باعث دوہرے لاک ڈاؤن کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی جبر و استبداد سے نجات دلانے کیلئے، عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کا مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پربھی اتفاق

گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقدمہ درج
بھارتی ریاست ہماچل کے خوبصورت سیاحتی مقام ضلع سپیتی کے کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گاوں کی مقامی کمیٹی نے یہاں آنے والوں کے لیےلازمی کورنٹائن کا ضابطہ بنایا ہے۔ ریاست کے وزیر زراعت رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے مگراس ضابطہ کو نہ ماننے پر مقامی خواتین کے گروپ نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں مذکورہ وزیر رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے تو انہیں گاوں کےکوارنٹین قانون کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے مقآمی قانون ماننے سے انکار کیا اور اس کے بعد وہ وہاں سے واپس لوٹ گئے اور اپنا اسمبلی حلقہ چھوڑ دیا۔ اگلے دن پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ مظاہرین کو معاملہ درج کیےجانے کی اطلاع تب ملی جب انہیں سمن آنے لگے۔کازہ گاؤں کی آبادی لگ بھگ1700ہے۔ 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گاؤں کی کل آبادی کے 10 فیصد لوگوں کے خلاف معاملہ درج ہو چکا ہے۔ ان خواتین پر آئی پی سی کی دفعہ341 (کسی شخص کو غلط طریقے سے روکنا)، دفعہ 143 (غیرقانونی اجلاس) اور دفعہ 188(پبلک آرڈر کی خلاف ورزی)کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے ایف آئی آر کا سامنا کر رہی مہیلا منڈل کی صدرسونم ڈولما نے کہا، مظاہرین کی پہچان کرنے کے لیے پولیس ہر گھر میں آ رہی تھی اس لیے ہم نے خود ایک فہرست پیش کی ہے۔ ناموں میں لگ بھگ گاؤں کی ہر گھر کی خواتین شامل ہیں اور اب ان تمام پر مقدمہ درج ہو چکا ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف وزیرزراعت مارکنڈا کا کہنا کہ انہیں سرکاری کام کاج کے لیے شملہ جانا تھا، جس کی وجہ سے وہ کورنٹائن کے لیے راضی نہیں ہوئے اور واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف کیا گیا مظاہرہ سیاسی تھا اور کچھ مظاہرین نے کانگریس کے حق میں نعرے بھی لگائے۔تاہم سونم ڈولمانے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے بتایا، ہم کسی ایسے کام کے لیے معافی نہیں مانگیں گے جو ہم نے کیا ہی نہیں۔ یہ ایک غیر سیاسی اور کووڈ مخالف مظاہرہ تھا۔
بابا رام دیو کا نیا ڈرامہ۔ کبھی نہیں کہا کہ کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے
نئی دہلی: بھارت میں کورونا کا سو فیصد کامیاب علاج کرنے کے دعوے دار بھارتی بابا رام دیو نے اپنی دوا کورونل کے حوالے سے جاری نوٹس کے جواب میں اپنی کمپنی پتنجلی آیورویدپر لگائے گئے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔کمپنی کے سی ای او آچاریہ بال کرشنن نے کہا ہے کہ پتنجلی نے کبھی نہیں کہا تھا کہ کمپنی کی کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے ‘کورونا کٹ’ نامی کسی بھی دوا کاپروڈکشن کرنے اور اس کو مہلک وائرس کے خلاف علاج کے طور پرمشتہرکرنے سے بھی انکار کیا ہے۔کمپنی نے کہا کہ اس نےصرف دویہ شواسری وٹی، دویہ کورونل ٹبلیٹ اور دویہ انوتیل نام کی دوائیوں کو ایک پیکیجنگ کارٹن میں پیک کیا تھا تاکہ انہیں آسانی سے بیرون ملک بھیجا جا سکے۔ نوٹس کے جواب میں فرم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے کورونا کٹ نامی کسی بھی کٹ کو کاروباری طور پر نہیں بیچا ہے اور نہ ہی اس کوکورونا کے خلاف علاج کےطور پرمشتہرکیا ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوٹس میڈیا کے ذریعے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کانتیجہ تھا۔ جواب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس نے کسی ضابطہ یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس لیے اس کے خلاف کارروائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اتراکھنڈ آیورویدک محکمہ نے کہا کہ وہ پتنجلی آیوروید کی ایک برانچ دویہ فارمیسی کی جانب سے بھیجے گئے اس جواب کاتجزیہ کر رہا ہے۔ محکمہ کے لائسنسنگ افسر وائی ایس راوت نے بتایا کہ سوموار کو جواب ملنے کے بعد ایک ڈرگ انسپکٹر کو کمپنی میں تصدیق کے لیے بھیجا گیا جہاں اس کو کوئی کورونا کٹ نہیں ملی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب سےمطمئن ہیں، راوت نے کہا، ‘ہر کسی نے بابا رام دیو کو اپنی دواکو کورونا کے لیے علاج کے طور پر دعویٰ کرتے دیکھا ہے اور جواب کی ابھی اور جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ منگل 23 جون کو بابا رام دیو نے کورونل نامی دوا لانچ کی تھی اور اس سے کورونا وائرس ک سوفیصد علاج کا دعویٰ کیا تھا۔ہری دوار واقع پتنجلی یوگ پیٹھ میں صحافیوں سے رام دیو نے کہا تھا، ‘یہ دوائی صدفیصد(کووڈ 19) مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ 100 مریضوں پرکنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل کیا گیا، جس میں تین دن کے اندر 69 فیصد اور چار دن کے اندرصد فیصد مریض ٹھیک ہو گئے اور ان کی جانچ رپورٹ نیگیٹو آئی۔رام دیو نے بتایا کہ اس پروجیکٹ میں جئے پور کی نمس یونیورسٹی ان کی شراکت دار ہے۔ انہوں نے بتایا تھا، ‘ٹرائل میں ہم نے 280 مریضوں کو شامل کیا اور 100 فیصد مریض ٹھیک ہو گئے۔ ہم کورونا اور اس کی پیچیدگیوں کو قابو کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے ساتھ سبھی ضروری کلینیکل کنٹرول ٹرائل کئے گئے۔ وزارت آیوش نے پتنجلی کو اس دوا میں موجود مختلف جڑی بوٹیوں کی مقدار اوردوسری تفصیلات جلد از جلدفراہم کرانے کو کہا تھا۔وزارت نے معاملے کی جانچ پڑتال ہونے تک کمپنی کو اس کااشتہاربھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے کو لےکر اتراکھنڈ آیوش محکمہ نے بھی پتنجلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب مانگا تھا۔
گزشتہ27 جون کو چنڈی گڑھ ضلع عدالت میں رام دیو اور پتنجلی آیوروید کے خلاف ملاوٹی دوا اور دھوکہ دھڑی سے متعلق آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔اس سے پہلے گزشتہ26 جون کو جئے پور کے جیوتی نگر تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 420 سمیت مختلف دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس گمران کن اشتہارکے الزام میں رام دیو اور بال کرشنن کے علاوہ سائنسداں انوراگ وارشنیہ، نمس کے صدر ڈاکٹر بلبیر سنگھ تومر اور ڈاکٹر انوراگ تومر کو ملزم بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف راجستھان کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے پتنجلی آیورویدکے ذریعے بنائی گئی دوا کے ‘کلینیکل ٹرائل’ کرنے پر نمس اسپتال کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی ہے۔
50 سال میں چار کروڑ 58 لاکھ بھارتی خواتین لاپتہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچھلے 50 سال میں لاپتہ ہونے والی 14 کروڑ 26 لاکھ خواتین میں سے چار کروڑ 58 لاکھ خواتین بھارتی ہیں۔اقوام متحدہ نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا کہ لاپتہ خواتین کی تعداد چین اور بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اےکی جانب سے جاری‘عالمی آبادی کی صورتحال2020’ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے 50سالوں میں لاپتہ ہوئیں خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔یہ تعداد1970 میں چھ کروڑ 10 لاکھ تھی اور 2020 میں بڑھ کر 14 کروڑ 26 لاکھ ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں سال 2020 تک چار کروڑ 58 لاکھ اور چین میں سات کروڑ 23 لاکھ خواتین لاپتہ ہوئی ہیں۔رپورٹ میں زچگی سے پہلےیازچگی کے بعدجنسی تعین کے اثرات کی وجہ سے لاپتہ لڑکیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے، ‘سال 2013 سے 2017 تک ہندوستان میں تقریباً چار لاکھ 60 ہزار بچیاں ہر سال پیدائش کے وقت ہی لاپتہ ہو گئیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق کل لاپتہ لڑکیوں میں سے تقریباً دو تہائی معاملے اورپیدائش کے وقت ہونے والی موت کے ایک تہائی معاملےجنسی ترجیحات کی وجہ سے جنسی تعین سے جڑے ہیں ۔رپورٹ میں ماہرین کی جانب سے دستیاب کرائے گئے اعدادشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنسی ترجیحات کے مدنظر(پیدائش سے قبل)جنس کے انتخاب کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال لاپتہ ہونے والی تقریباً12 لاکھ سے 15 لاکھ بچیوں میں سے 90 سے 95 فیصد چین اورہندوستان کی ہوتی ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ سالانہ پیدائش کی تعدادکے معاملے میں بھی یہ دونوں ملک سب سے آگے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاروں نے جنس کے انتخاب کی بنیادی وجہ سے نپٹنے کے لیے قدم اٹھائے ہیں۔ہندوستان اور ویت نام نے لوگوں کی سوچ کو بدلنے کے لیے مہم شروع کی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کوترجیح دینے کی وجہ سے کچھ ملکوں میں خواتین اور مردوں کےتناسب میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور اس کا اثرشادیوں کے نظام پریقینی طورپرہھی پڑےگا۔ کچھ مطالعات میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ممکنہ دلہنوں کے مقابلےممکنہ دولہوں کی تعدادبڑھنے سے متعلق حالات 2055 میں سب سے خراب ہوں گے۔
بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے معصوم نواسے کے سامنے نانا کو گولی مارنے کے واقعہ کی شدید مذمت. ایک بیان میں وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ ایسی درندگی اور بربریت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دلخراش واقعہ عالمی برادری کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔اقوام عالم کو اس بربریت کا نوٹس لینا چاہیئے کیونکہ انتہائی سفاکانہ اقدامات سے مودی سرکار کی درندگی آشکار ہو گئی۔ بھارت ایک عرصے سے ماورائے عدالت کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہےاور بھارت کے کشمیریوں کی نسل کشی کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے ناپاک عزائم ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوں بچے اور خواتین بھی محفوظ نہیں اس لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے ظلم کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔










