Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • کرناٹک میں ملک کی  چار ریاستوں کے رہائشی داخل نہیں ہو سکیں گے

    کرناٹک میں ملک کی چار ریاستوں کے رہائشی داخل نہیں ہو سکیں گے

    بھارتی ریاست کرناٹک کی انتظامیہ نے اپنے ہی ملک کی چار ریاستوں کے تمام رہائشیوں پر ریاست میں داخل ہونے پر پابندی لگادی ہے. مہاراشٹر. تامل ناڈو، گجرات اور کیرالہ کے رہائشی 31مئی تک کسی بھی راستے سے کرناٹک میں داخل نہیں ہو سکیں گے. مذکورہ چاروں ریاستوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بھارت میں دیگر تمام ریاستوں سے زیادہ ہے جب کہ کرناٹک میں کورونا مریضوں کی تعداد نسبتآ کم ہے. کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس ےیدییورپا کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں کورونا کو ختم کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا. تاہم انہوں نے صوبہ میں کورونا کی شدت زیادہ نہ ہونے کے باعث ریاست میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کا اعلان کیا ہے. سرکاری بسیں معمول کے مطابق چلیں گی تاہم ہر بس میں 30 سے زیادہ مسافروں کو بٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی. آن لائن ٹیکسی سروس بھی بحال کر دی گئی ہے. پارکوں کو کھول دیا گیا ہے تاہم شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے، سینما گھر، جم اور سوئمنگ پولز کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی

  • چینی سفیر اپنے بستر پر مردہ حالت میں پائے گئے

    چینی سفیر اپنے بستر پر مردہ حالت میں پائے گئے

    اسرائیل میں تعینات چینی سفیر وی ڈو دارالحکومت تل ابیب میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے. 57سالہ ڈو رات کو معمول کے مطابق اپنے کمرے میں سونے کے لئے گئے تاہم صبح ان کے ملازم نے انہیں جگانے کے لئے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ اپنے بستر پر ہی مر چکے تھے. ابتدائی طور پر ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث بتائی جارہی ہے لیکن مختلف ذرائر ان کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں.تاہم ابھی مزید تفصیلات کا انتظار ہے.

  • کورونا کے باعث دیگر مریضوں کو اپنی جان  کے لالے پڑ گئے

    کورونا کے باعث دیگر مریضوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے

    بھارت کے مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں اس وقت سب سے زیادہ وسائل کوروناوائرس سے نپٹنے میں لگے ہیں۔جب کہ اکثر جگہوں پر او پی ڈی اور سنگین بیماریوں سے متعلق محکمے بند ہیں اور ایمرجنسی میں عام مریضوں کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر ہی موجودنہیں ہیں۔ اس کے علاوہ لاک ڈاون کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا ہے. ان حالات میں دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔اگر ایمرجنسی میں کوئی کورونا سے ہٹ کر کوئی مریض آجائے اور اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے موت واقع ہو جائے تو اسے بھی کورونا کا مریض قرار دے دیا جاتا ہے اور اس کی موت کی وجہ بھی کورونا ہی بتائی جارہی ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں باغی ٹی وی نے معروف خاتون صحافی میناکشی تیواری کی وساطت سے شہر کے مختلف ہسپتالوں میں ایک سروے کیا تو مریضوں نے شکائتوں کے انبار لگا دئیے۔ ایک شخص جو انتہائی افسردہ حالت میں بیٹھا تھا جب اس سے اس کی افسردگی کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ اس کی ماں کو کینسر تھا لیکن اس کا مناسب علاج نہ ہوسکنے کے باعث اس کا انتقال ہو گیا ہے لیکن اب ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اس کی موت کو رونا کی وجہ سے ہوئی حالانکہ وہ کو رونا پازیٹو نہیں تھیں۔دس مہینے پہلے جب ماں کی بیماری (ملٹی پل مائیلوما)کا پتہ چلا تبھی ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ یہ بیماری لاعلاج ہے اور جسم کے مختلف حصوں، بالخصوص کڈنی اور ہڈیوں پر اثر کرتی ہے اس لیے خصوصی مینجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی ماں بنارس ہندو یونیورسٹی کی سابق پروفیسر ڈاکٹر سواتی کا 2 مئی کی شام انتقال ہو گیا تھا اس کی بیماری بھی مس مینج کی گئی…میری ماں اکیلی نہیں ہے۔ نہ جانے کتنی بیماریوں کے کتنے مریض روزانہ علاج نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں۔بھارت بھر کے مختلف سرکاری اور نجی ہاسپٹل میں زیادہ تر وسا ئل کووڈ 19 سے نپٹنے میں لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر او پی ڈی اور سنگین بیماریوں سے متعلق محکمے بند ہیں اور ایمرجنسی میں خاطر خواہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ اکثر نجی ہاسپٹل اور کلنک بند ہیں، جس کی وجہ سے ان بیماریوں سے مریضوں کی مشکلیں اور ان کے اہل خانہ کی پریشانیاں دوگنی ہو گئی ہیں۔بالخصوص کینسر، دل کے مریض اورمستقل ڈائلیسس لینے والے مریضوں کی حالت کافی خراب ہے۔ممبئی کے بھنڈی بازار علاقے کی رہنے والی سید عرشی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ بھی نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل ہوئی 40 سالہ عرشی دل کی مریض تھیں، لیکن 22 اپریل کو ان کی موت برین ہیمریج سے ہوئی۔ان کے چھوٹے بھائی سعید اعجاز نے بتایاکہ جس دن ان کی موت ہوئی انہیں بیحد کمزوری تھی۔ دھڑکن بہت تیز ہو رہی تھی اور وہ بول نہیں پا رہی تھیں۔ میں فوراً انہیں لیکر مقامی پرائیویٹ ہاسپٹل پہنچا، لیکن وہاں گارڈ نے بتایا کہ ہاسپٹل بند ہے۔ ہم ایک دوسرے ہاسپٹل گئے لیکن وہاں صرف کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، جب ڈاکٹر نے وہاں داخل کرنے سے منع کیا تب ہم انہیں سرکاری ہاسپٹل لیکر پہنچے جہاں پہنچنے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی عرشی نے دم توڑ دیا۔ ان کے مطابق اس ہاسپٹل میں بیحد خراب انتظامات تھے۔جب ہم یہاں پہنچے تو صرف ایک ہی ڈاکٹر تھے۔ ہم خود عرشی کو اسٹریچر پر ڈال کرایمرجنسی وارڈمیں لیکر گئے۔ آدھے گھنٹے تک یہاں انہیں کسی نے نہیں دیکھا، پھر بہت منت سماجت کے بعد ایک ٹرینی ڈاکٹر نے انہیں ایک انجکشن دیا۔کچھ دیر بعد آئے ڈاکٹر نے سٹی اسکین کروانے کو کہا، لیکن دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب عرشی کی سانسیں تھم گئیں۔عرشی کے اہل خانہ کا کہناہے کہ انہیں صحیح وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے بچایا نہیں جا سکا۔اعجاز نے بتایا ایمرجنسی وارڈ میں کئی مریض علاج کے انتظار میں پڑے تھے۔ نرسیں لوگوں پر چلا رہی تھیں۔ہم لوگ تین چار گھنٹے وہاں رہے اس دوران ایمرجنسی میں تقریباً 15 اموات ہوئی تھیں۔اتر پردیش کے شہر الہ آباد کی 15 سال کی نائلہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ مدھیہ پردیش کے اندور میں پڑھنے والی نائلہ کو جنوری سے بخار اور کھانسی کی شکایت تھی۔ گھر کے پاس ایک مقامی ڈاکٹر کو دکھایا گیا، جس کی دوا سے فوری طور پر آرام تو ملا، لیکن بخارکھانسی کم نہیں ہوئی۔اس دوران ڈاکٹر نے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کے لیے کہالیکن اس وقت تک لاک ڈاؤن کااعلان ہو چکا تھا۔ بڑی مشکل سے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے تو معلوم ہوا کہ انہیں ٹی بی ہے اور جلد سے جلد ٹریٹمنٹ شروع کروانے کی ضرورت ہے۔شہر کے تمام ہاسپٹل میں او پی ڈی بند ہیں اور نجی ڈاکٹر اپنے کلینک نہیں کھول رہے۔ ایسے میں مقامی ڈاکٹر اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر کی صلاح سے انہیں ٹی بی کی دوائیاں دے رہے ہیں۔یہ صرف ایک مثال ہے، لیکن اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران ٹی بی کے معاملے سامنے آنے کی تعداد میں بڑی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 14 سے 29 فروری کے دوران ٹی بی کے 114460 معاملے سامنے آئے تھے، لیکن یکم سے 14 اپریل کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 19145 ہو گئی۔ پہلے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے 21 دنوں میں ٹی بی کے کل 34566 کیسز سامنے آئے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بھارت میں ٹی بی سے ہرروز ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ متا ثرہ آٹھ ممالک میں بھارت کا شمار ہوتا ہے جب کہ دنیاکے ٹی بی مریضوں کی کل تعداد کے 27 فیصد مریض بھارت میں ہی ہیں۔ 2018 میں دنیا بھر میں ٹی بی سے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے جان گنوائی تھی، جس میں 29 فیصد (تقریباً 4.4 لاکھ) مریض بھارت کے تھے۔مارچ 2018 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے2025 تک ملک سے ٹی بی کو ختم کرنے کی بات کہی تھی لیکن کووڈ بحران کے باعث یہ مہم بھی ٹھپ پڑی ہیں۔ایمس دہلی کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی کہتے ہیں اس وقت اگر ملک میں سب سے زیادہ پریشانی میں کوئی ہے تو وہ نان کووڈ مریض ہیں، جو پرانی اور سنگین بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ایک سرکاری ہسپتال میں موجود جئے پور میں رہنے والی 50 سالہ سنیتا کا گلے کے کینسر کا2005میں آپریشن ہوا تھا گزشتہ نومبر میں اچانک گلے میں اچانک تکلیف کے بعد پتہ چلا کہ کینسردوبارہ جڑ پکڑ رہا ہے۔دسمبر میں دہلی کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی ہاسپٹل میں ان کا دوبارہ آپریشن کیا گیا اور وہ ٹریٹمنٹ اب تک جاری ہے۔ ان کے گلے میں نالی لگی ہوئی ہے اورریگولر چیک اپ کروانا ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی حالت میں ان کے ڈاکٹر ویڈیو کال کے ذریعے انہیں دوائیاں بتا رہے ہیں۔ اتر پردیش کے رہنے والے تسلیم کئی سالوں سے مغربی دہلی کے وکاس نگر میں رہتے ہیں اور ایک ٹھیکیدار کے یہاں یومیہ بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔ان کی بیوی شاہین (45) کو دو سال پہلے بریسٹ کینسر کا پتہ چلا تھا اور گزشتہ دسمبر میں ان کا دہلی کے ایمس ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کو دوائیں ریگولرکھانی ہوں گی۔تسلیم کی کمزور اقتصادی صورتحال دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے پٹپڑگنج کے ایک این جی او کے بارے میں بتایا، جو مفت میں یہ دوائی مہیا کرواتے ہیں، لیکن کچھ مہینوں سے وہاں یہ دوائی ملنی بند ہو گئی ہے۔تسلیم کا کہنا ہے کہ میں 500 روپے یومیہ کمانے والا آدمی ہوں، اتنی مہنگی دوا کہاں سے لاؤں گا؟ 7300 روپے میں ایک ہفتے کی دوا آتی ہے۔ جب پٹپڑگنج میں دوا ملنی بند ہوئی تو پھر کچھ رشتہ داروں سے پیسے لیکر دوا لی، لیکن کچھ دنوں میں انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔اب لاک ڈاؤن کے دوران دو مہینے سے ان کی بیوی کو دوا نہیں ملی، تو حالت اور خراب ہونے لگی اب تو نہ کمائی ہے نہ دوائی اور نہ ہی سرکاری ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔ دہلی کے شاستری پارک کے رہنے والے محمد یونس کی کہانی ایسی ہی ہے۔نومبر 2019 میں دانت کے درد کی دوا لینے پہنچے 40 سالہ یونس کو کچھ جانچ کے بعد انہیں اورل کینسر ہونے کا علم یہ دوسری اسٹیج پر تھا جس کا علاج آپریشن تھا۔ اہل خانہ نے جیسے تیسے روپیوں کا انتظام کیا اور شالیمار باغ کے ایک نجی ہاسپٹل میں دسمبر میں ان کا آپریشن کیا گیا۔اس کے بعد 40 دنوں کے اندر انہیں کیموتھیراپی اور ریڈی ایشن تھیراپی شروع کروانے کو کہا گیا لیکن نجی ہاسپٹل کا خرچ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے اہل خانہ انہیں لے کرسرکاری ہاسپٹل گئے، جہاں سے انہیں دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ دلشاد گارڈن بھیجا گیا وہاں ان کی کیمو ہونی تھی۔31 مارچ کویہاں کے ایک ڈاکٹر کو کووڈ پازیٹو پایا گیا، جس کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے تک انسٹی ٹیوٹ کے 26 اسٹاف، 4 مریض اور ایک مریض کے اہل خانہ کے کو رونا پازیٹو ملنے کے بعد اس کو بند کر دیا گیا۔ اب ان کی کیمو کب ہوگی کوئی علم نہیں۔ ڈر ہے کہ کہیں اس وجہ سے یونس ایسے حال میں نہ پہنچ جائے جہاں سے انہیں واپس لانا ممکن نہ ہو سکے۔ اپریل کے دوسرے ہفتے میں دہلی کی 45 سال کی کنچن دیوی کووقت پر ڈائلیسس نہ ملنے سے ان کی جان چلی گئی۔ گزشتہ ڈھائی سالوں سے وہ مشرقی دہلی کے ایک ہاسپٹل میں باقاعدگی کے ساتھ ڈائلیسس کروا رہی تھیں، لیکن اس بار ہاسپٹل میں کووڈ انفیکشن ملنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ انہوں نے تین نجی اور ایک سرکاری ہاسپٹل میں فون کیا لیکن سبھی نے انہیں داخل کرنے سے منع کر دیا۔ ان کی لگاتار بگڑتی حالت کو دیکھ کر اہل خانہ ایک نجی ہاسپٹل کے ایمرجنسی محکمے میں پہنچے، جہاں جب تک ڈائلیسس دیا گیا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ وزیرآباد کے سلمان کی ماں شاہدہ (50) کا علاج بھی اسی ہاسپٹل میں چل رہا تھا۔ انہیں شوگراور دل کی بیماری ہے اورریگولر ڈائلیسس کروانا ہوتا ہے۔کتابوں پر جلد چڑھانے کا کام کرنے والے سلمان نے ای ڈبلیو ایس کارڈ بنوایا ہوا تھا جس کی مدد سے مفت علاج مل جاتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب سے ہاسپٹل بند ہوا، شہر کے ہر کونے کے ہاسپٹل میں بھٹکنے کے بعد شاہین باغ میں واقع ایک کلینک ڈائلیسس کرنے کے لئے تیار ہوا جہاں ہر سیشن کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار روپے فیس دینی پڑرہی ہے۔لیکن دو مہینے سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند ہے، دوستوں رشتہ داروں سے پیسے لیکر جیسے تیسے ماں کا علاج کروا رہا ہوں۔ حالانکہ ہاسپٹل کو مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی سرکار کی جانب سے باربارسنگین بیماریوں سے متاثر مریضوں کوداخل کرنے اور صحیح علاج فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے دوران صحیح وقت پر ہاسپٹل تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہے۔دہلی کے ایمس سے ڈسچارج ہوئے کئی مریض اور ان کے ساتھ آئے اہل خانہ لاک ڈاؤن کے دوران ہاسپٹل کے پاس بنے سب وے میں رہ رہے ہیں۔ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں، جہاں کسی دوسری بیماری کے علاج کے لیے ہاسپٹل جا رہے مریض کو کو رونا کا انفیکشن ہوا، جو آخر میں جان لیوا ثابت ہوا۔دہلی کے جامعہ نگر کی رفعت کی ایک خاتون رشتہ دارشوگر اور لیور کی بیماری سے جوجھ رہی تھیں، جس کا علاج ایمس میں چل رہا تھا۔ ڈاکٹر نے ایک انجکشن بتایا جسے ریگولر لگوانا ہوتا تھا۔لاک ڈاؤن ہو جانے کے بعد وہ گھر کے پاس کے ایک کلینک میں ہر دوسرے دن یہ انجکشن لگوانے جا رہی تھیں، جب ایک دن انہیں سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی معلوم ہوا کہ انہیں یہ انفیکشن اسی کلینک سے ہوا ہے، جہاں وہ انجکشن لگوانے جاتی تھیں۔ اہل خانہ نے کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا جو پازیٹو نکلا۔رفعت بتاتی ہیں کہ پریشانی یہیں سے شروع ہوئی۔ بد انتظامیوں کی صورتحال یہ تھی کہ پازیٹو پائے جانے کے 24 گھنٹے بعد ایمبولینس رات کے ڈیڑھ بجے لینے آئی اور ایک سرکاری ہاسپٹل لے گئی۔ یہاں کہا گیا کہ بیڈ نہیں ہے اور انہیں صبح سویرے واپس گھر بھیج دیا گیا۔اس کے بعد کچھ لوگ گھر آئے اور انہیں راجیو گاندھی ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں انہیں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا۔ رفعت کے مطابق، اس وارڈ میں باہر سے تالا لگا دیا گیا تھا اور اگلے تین دنوں تک کوئی ڈاکٹر دیکھنے نہیں آیا۔اس دوران اہل خانہ نجی ہاسپٹل میں بھی رابطہ کر رہے تھے اور ایک دن بیڈ دستیاب ہو جانے پر انہیں ساکیت کے میکس ہاسپٹل میں لے جایا گیا۔ یہاں آنے تک ان کی طبیعت کافی بگڑ چکی تھی، کئی عضو متاثر تھے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر بھی رکھا گیا، لیکن آخر میں انہیں بچایا نہیں جا سکا۔رفعت کہتی ہیں،‘پرائیویٹ ہاسپٹل میں دن کی 50 ہزار روپے فیس تھی، مڈل کلاس لوگ ہیں، کہاں سے اتنا پیسہ لائیں گے، یہی دیکھ کر سرکاری ہاسپٹل میں جانے کا سوچا، لیکن اگر پہلے ہی انہیں پرائیویٹ میں لے جاتے تو شاید جان بچ جاتی۔’ڈاکٹر بھٹی کہتے ہیں کہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی آنی تو تھی سرکار اور سسٹم کے اوپر، لیکن یہ آ گئی ہے غیرکووڈ مریضوں کے اوپر، جو اب اس سے اکیلے لڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کی ہم ملک کے مزدوروں کی پریشانی کو تو دیکھ پائے ہیں کیونکہ وہ اکٹھے ہوکرسامنے آئے ہیں لیکن نان کووڈ مریض کہیں اکٹھے ہوکر سامنے نہیں آئے ہیں اس لیے ان کا درد ہمیں پتہ نہیں چل رہا ہے۔

  • پاکستان آرمڈ فورسز کی تنخواہوں ميں اضافہ

    پاکستان آرمڈ فورسز کی تنخواہوں ميں اضافہ

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمڈ فورسز کی تنخواہوں ميں اضافہ ہورہا ہے. ذرائع کے مطابق 2016, 2017, 2018 اور 2019 کے چاروں ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے نئی بنیادی تنخواہ پر مزید %20 ایڈہاک ریلیف کے لیے سمری تیار کر کے منظوری کے لیے بھجوا دی گئی ہے- اس کے علاوہ ہاؤس رینٹ اور یوٹیلیٹی الاؤنس پر بھی نظرثانی کی جارہی ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ فنانس ڊويزن کو منسٹری آف ڈفينس کی جانب سے بھيجا گيا پروپوزل بجٹ 21-2020 ميں شامل کيا جائے گا.

  • سوموار سے پنجاب بھر میں کرفیو ختم

    سوموار سے پنجاب بھر میں کرفیو ختم

    بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ مہاراجہ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی پاکستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صوبے بھر میں دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ چنڈی گڑھ میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب بھارت کا سب سے پہلا صوبہ تھا جہاں سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا جسے بعد میں کرفیو میں تبدیل کر دیا گیا۔ اننہوں نے کہا کہ سوموار سے پنجاب میں کرفیو کو ختم کیا جارہا ہے جب کہ لاک ڈاؤن 31مئی تک جاری رہے گا۔ تاہم اہم بازار اور شاپنگ مال، چھوٹے کاروبار اور زیادہ سے زیادہ دکانیں عوام کی سہولت کے لئے پیر سے کھل جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی عوام کو اب کورونا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا پڑے گا اس لئے عوام کا روزگار ساری زندگی کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ احتیاط کریں کیونکہ کورونا سے بچنے کے لئے انہیں خود کوشش کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کورونا کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کی صحت اور دیکھ بھال کا ذمہ حکومت پر آتا ہے۔

  • ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد ماہی گیربھارتی جیلوں میں بند

    ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد ماہی گیربھارتی جیلوں میں بند

    روزگار کی خاطر مختلف چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار ہوکرکھلے سمندر میں مچھلی کے شکار کو جانے والے سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے شہر سجاول سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد ماہی گیروں کو بھارتی سمندری فورسز نے گرفتار کرکے گزشتہ کئی سالوں سے مختلف جیلوں میں قیدکر رکھاہے جب کہ ان ماہی گیروں کے عزیزواقارب اپنے پیاروں سے ملنے کیلئے تڑپ رہے ہیں لیکن حکومت کو کوئی پروا نہیں ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں سابقہ مشیر خاص برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ انصار برنی نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی عقوبت خانوں میں قید مذکورہ ماہی گیر عالمی وباء کورونا سے انتہائی غیر محفوظ ہیں جب کہ بھارتی حکومت ان کے علاج معالجہ کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دے رہی۔بھارتی میڈیابھی یہ خبردارکر رہا ہے کہ کرونا وائرس پرہجوم جیلوں میں موجود قیدیوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان عالمی برادری پر زور ڈالیں کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈالیں اورغریب ماہی گیر قیدیوں کی فوراً رہائی ممکن بنائیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے بعد لاک ڈاؤن کی آڑ میں نوجوانوں کا قتل

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے بعد لاک ڈاؤن کی آڑ میں نوجوانوں کا قتل

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے یورپین پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ مں بھارتی حکومت کے کشمیر کے متعلق اقدامات اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بد ترین امتیازی سلوک کو موثر انداز میں اُجاگر کیا گیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ابھی ہونا باقی ہے، عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے نا جائز اور غیر قانونی اقدامات پر صرف تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے ستر سال سے حل طلب اس تنازعہ کو حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ہفتہ کے روز یورپین پارلیمنٹری سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت میں بی جے پی حکومت اور اس کی نظریاتی اتحادی آر ایس ایس کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم اور امتیازی سلوک کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت قانون میں تبدیلی کے نام پر ایسے قوانین لائے گئے کہ اب بھارت میں کسی شہری کے حقوق کا تعین اُس کے مذہب کی بنیاد پر ہو گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھارت کے سیکولر ازم کی موت ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے کے لیے کوشش کر رہا ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اُنہوں نے کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ جو ہندو ہے بس وہی ہندوستانی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی حکومت کے اقدامات کے خلاف عوامی رد عمل کو براہ راست کچلنے کے بجائے مودی اب نسلی اور مذہبی کارڈ کھیلتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں مخالف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں وہ کشمیر کے سوال کو اپنی مسلم دشمن مہم میں خاص طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کے روز مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے جو محاصرہ کرفیو اور لاک ڈاون لگایا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ اس محاصرے اور لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج نے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کیا جہاں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ان سب کی زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں۔ اب کرونا وائرس وبا پھوٹنے کے بعد بھارت نے ایک بار پھر پہلے سے محصور مقبوضہ ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کر کے کشمیر کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ اور اس لاک ڈاؤن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کر کے اُنہیں دہشت گرد، عسکریت پسند اور علیحدگی پسند کا نام دیا جا رہا ہے۔ یورپین پارلیمانی ریسرچ سروس کی رپورٹ پر مذید تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ رپورٹ کا یہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں جمہوریت، برداشت، قانون کی حکمرانی اور مختلف مذاہب کے مابین ہم آہنگی کا تصور مکمل طور پر اب تبدیل ہو رہا ہے اور اس کی جگہ اب ہندو بالا دستی اور ہندو قوم پرستی نے لے لی ہے جو پورے خطہ کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ اور الارم ہے۔

  • گاؤ موتر پی کرکورونا سے معافی مانگ لی

    گاؤ موتر پی کرکورونا سے معافی مانگ لی

    بھارت میں کورونا وباکے اثرات سے بچنے کے لیے گائے کا پیشاب پینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پارٹی منعقد کی گئی. جس میں شہر کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی. سب شرکا کی کورونا سے بچنے کے لیے گاؤمُترسے تواضع کی گئی. اس پارٹی کا اہتمام سیاسی جماعت آل انڈیا ہندومہاسبھا کے صدر سوامی چکراپانی مہارکی جانب سے کیا گیا. تقریب کے شرکا نےگاؤ مُتر پی کر آگ کے گرد عبادتیں اور کورونا سے بچنے کے لیے پرارتھنا کی. سوامی چکراپانی مہاراج نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس ان سب کے لیے سزا بن کر آیا ہے جو سبزی دالوں کے بجائے جانوروں کو مار کر ان کا گوشت کھاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ان سب کی طرف سے کورونا وائرس سے معافی مانگتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ بھارت میں کوئی گوشت نہیں کھائے گا. انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کے سب ہی راہنما اور کارکن جب بیمار ہوتے ہیں تو اپنا علاج گاؤمُتر سے کرتے ہیں مگر وہ سب چھپ کر پیتے ہیں، گاؤ مُتر بھگوان کی طرف سے ایک تحفہ ہے پتہ نہیں کیوں ہمارے لیڈر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں، چُھپ کر پینے سے گاؤمتر کی تاثیر زائل ہو جاتی ہے۔

  • 40 روز سے جبری طور پر آئسولیشن میں رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288 افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    40 روز سے جبری طور پر آئسولیشن میں رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288 افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف آسو لیشن سنٹرز میں گزشتہ 40روز سے جبری طور پر رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288افراد کی طرف سے نئی دہلی کی معروف سماجی کارکن خاتون صبیحہ قادری نے ہائی کورٹ میں ان کی افراد کی رہائی کے لئےدرخواست دی ہے. سینئر وکیل شاہد علی کی وساطت سے دی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئسولیشن کے نام پرمختلف ممالک سے دہلی میں حضرت نظام الدین کی درگاہ پر آنے والے ان افراد نے تین مرتبہ کورونا ٹیسٹ کروائے جو ہر مرتبہ منفی آئے. اس کے باوجود ان تمام افراد کو ان کے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.اس کے علاوہ دو افرادان آئسولیشن سنٹرز میں انتقال بھی کر گئے لیکن انتظامیہ نے ان وفات پانے والے افراد کے بارے میں بھی نامناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا.درخواست میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنائی جائے کیونکہ دونوں افراد شوگر کے مریض تھے لیکن ان کی ادویات کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا.واضح رہے کہ دہلی کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 6 مئی کوآئسولیشن کی مدت پوری ہونے والے افراد کو ان کے گھروں میں بھیج دیا جائے گا لیکن اب تک 10 روز گزرنے کا باوجود انہیں گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.

  • بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی پاکستانی خاتون انتقال کر گئی. انصار برنی کا انکشاف

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی پاکستانی خاتون انتقال کر گئی. انصار برنی کا انکشاف

    اقوام متحدہ میں سابقہ مشیر خاص برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ انصار برنی نے انکشاف کیا ہےکہ گزشتہ دس سے پندرہ سال کے دوران بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں سے شادیاں کرکے کشمیر میں جانے والی تین سو سے زائد پاکستانی خواتین ان کے بچے اور مرد انتہائی برے حالات میں زندگی بسر کر رہی ہیں. انہوں نے کہا کہ وہاں پھنسنے والوں میں سے ایک خاتون امبرین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئی ہے جسے مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی حکام نے سپرد خاک کر دیا ہے. جب کہ اس کے بارے میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کو بھی مطلع نہیں کیا گیا.انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون اور کرفیو کی وجہ سے وہاں پر موجود کئی پاکستانی خواتین کو اپنے شوہروں کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں پر ہیں جب کہ کچھ شوہروں کو اپنی خواتین کا پتہ نہیں کہ وہ کہاں اور کن حالات میں ہیں. بھارتی حکومت کی طرف سےمقبوضہ کشمیر میں طویل عرصہ سے نافذ کئے گئے کرفیو اورلاگ ڈاونکافی عرصہ بیت گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور جان بچانے والی ادویات کی کمی کے باعث ہزاروں کشمیریوں بشمول خواتین و بچوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور دن بدن انسان مرنے کے اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں لیکن پاکستانی حکومت نے وہاں پر پھنسے پاکستانیوں کی رہائی پر پوری طرح خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور خواتین بچوں مردوں کی عملی مدد کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی آئین اور نئے قانوں کے تحت مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ 15 سال سے پھنسے پاکستانیوں کو وہاں کی شہریت نہیں مل سکتی اور جب شہریت نہیں ملتی تو ٹریولنگ کاغذات نہیں ملیں گے ان کی کوئی دادرسی نہیں کرتاانہوں نے کہاکہ جب بھارت میں انسانیت کی خلاف ورزی پر ہم کھلے عام مذمت کرتے ہیں آیا پاکستان میں کوئی ایسا وزیر کوئی ایسا شخص نہیں جو اس مسئلہ پر دو الفاظ بلند کرے،انصار برنی نے حکومت پاکستان سے انسانیت کے ناطے ایک مرتبہ پھر پر زور اپیل کی کہ خدارا بھارت سے احتجاج کیا جائے کہ
    کشمیر میں پھنسی تین سو سے زائد پاکستانی خواتین، ان کے بچوں اور شوہروں کی واپسی کیلئے فوری طور پراقدامات کئے جائیں.