لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی فضائیہ نے ائرفورس کے تیزی سے کم ہوتے سکواڈرن کی طاقت بڑھانے کیلئے فرانس سے فوری طور پر اضافی رافیل لڑاکا طیارے مانگ لئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ڈیمانڈ 7 سے 10 مئی تک پاک بھارت جنگ کے بعد کی گئی ہے جس کے دوران رافیل کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا جس میں پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تین رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے ہیں جس سے بھارتی فضائیہ کی طاقت میں کافی کمی آگئی ہے۔ فضائیہ نے بھارتی حکومت کو بتایا ہے کہ ففتھ جنریشن کے فائٹرز کے دو سے تین سکواڈرن کی فوری ضرورت ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کے ساتھ رافیل کی خریداری کا براہ راست معاہدہ عالمی ٹینڈر کے مقابلے میں تیز تر ہونے کی توقع ہے۔ امبالا اور ہسیمارا میں موجودہ انفراسٹرکچر کیلئے کم از کم ایک مزید رافیل سکواڈرن کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت اس سال اپریل میں فرانس کے ساتھ ہونے والے سات بلین یورو کے معاہدے کے تحت بحریہ 2028 سے 2030 تک آئی این ایس وکرانت کے لیے 26 رافیل میرین جیٹ طیارے حاصل کرے گی لیکن بھارتی فضائیہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے تحت اضافی رافیل طیارے خریدنے کے لیے فوری معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کو کرائے کے گھر خالی کرنے کے نوٹس
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سفارتی عملے کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حصول پر پابندی لگادی گئی ہے۔ جنگ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی مشن کے سفارتی عملے کو کرایہ کے رہائشی مکان خالی کرنے کے نوٹسز جاری کردئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان سفارتکاروں کو 14 سے 21 دن کا نوٹس دیا گیا ہے۔ سفارتکاروں نے جب معاہدے کا ذکر کیا تو مالک مکان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کردئے گئے ہیں اس لئے وہ اپنی رہائش کا کوئی دوسرا انتظام کریں۔ ذرائع کے مطابق مقامی گیس سلنڈر فروشوں کو بھارتی حکام نے ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستانی عملے کو گیس سلنڈر فروخت نہ کریں جس کے بعد سفارت کار اور ان کے اہل خانہ کھلے بازار میں مہنگے متبادل ایندھن اور سلنڈر تلاش کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن ان کے حصول میں بھی اکثر ناکامی ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینے کے صاف پانی کے لیے مشن کے کنٹریکٹ یافتہ سپلائر کو بھی ڈیلیوری کرنے سے روک دیا گیا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ نئی دہلی میں بیشتر دکانداروں کو ہائی کمیشن کو صاف پانی فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی عملہ اور ان کے اہل خانہ کو مجبورا نلکوں کا پانی استعمال کرنا پڑرہا ہے لیکن مقامی نلکوں کا پانی فلٹریشن کے بغیر نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی استعمال کے لیے موزوں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشن کو اخباروں کی فراہمی مکمل طور پر روک دی گئی ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے کوئی اخبار ہائی کمیشن کو فراہم نہیں کیا جارہا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ بھارت ویانا کنونشن کے تحت پاکستانی سفارتی عملے کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے۔

پاک بھارت بحری فوجیں آمنے سامنے
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کی بحری افواج 11-12 اگست کو بحیرہ عرب میں ایک دوسرے کے سمندری علاقوں کے قریب الگ الگ بحری مشقیں کررہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مشقیں ایک دوسرے سے تقریباً 60 سمندری میل کے فاصلے پر رکھی گئی ہیں۔ دونوں بحری افواج نے اگلے ہفتے بحیرہ عرب میں فائرنگ کی مشقوں کا الگ الگ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بھارتی بحریہ 11 سے 12 اگست تک گجرات کے پوربندر اور اوکھا کے ساحل پر اپنی بحری مشقیں کرے گی۔ انہی ایام میں پاکستان نیوی نے اپنے علاقائی پانیوں میں اپنی بحری مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے ایئر مین کو نوٹس (NOTAM) جاری کیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی فوجی مشقیں دونوں ممالک کے لیے معمول کی بات ہیں لیکن نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ان مشقوں کے وقت نے ان کی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن نے 334 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں 334 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے بعد جن سیاسی جماعتوں کی شناخت منسوخ ہو گئی ہے وہ ملک بھر میں اپنے انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29B اور سیکشن 29C کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 اور انتخابی نشان ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ آرڈر 1968 کی متعلقہ دفعات کے تحت ان سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ تاہم اس حکم کے خلاف 30 دن کے اندر الیکشن کمیشن میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس وقت بھارت میں 6 قومی پارٹیاں، 67 ریاستی پارٹیاں اور 2854 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی جماعت مسلسل 6 سال تک الیکشن نہیں لڑتی تو اس کو رجسٹرڈ پارٹیوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔ کمیشن کی اس کارروائی کے بعد اب کل 2854 جماعتوں میں سے 2520 باقی رہ گئی ہیں۔

بھارت میں ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا منفی اثر، تامل ناڈو میں کئی کپڑا کمپنیوں نے روکی پروڈکشن
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست تامل ناڈو میں بھارت کے ’نِٹ ویئر ہب‘ تیروپور میں امریکہ کو برآمد کرنے والی کئی گارمنٹس مینوفیکچر کمپنیوں نے پروڈکشن روک دی ہے جب کہ کئی کمپنیاں دوسری متبادل مارکیٹ کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہیں۔ تیروپور ایکسپورٹز ایسوسی ایشن کے صدر ایم سبرامنین نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی خریداروں نے فی الحال تیروپور سے گارمنٹس کے آرڈرز روک لئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک بھارت کے ساتھ امریکی ٹیرف کا معاملہ حل نہیں ہوجاتا اور صورتحال واضح نہیں ہو جاتی اس وقت تک نئے آرڈرز دینا ممکن نہیں۔ گارمنٹس کی صنعت سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بتایا کہ صرف تیروپور سے کل برآمدات کی مالیت تقریباً 45000 کروڑ روپے ہے، جس میں 30 فیصد (تقریبا 1200 کروڑ روپے) صرف امریکی مارکیٹ میں جاتی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اب 50 فیصد کاروبار سے بھی زیادہ یعنی تقریباً 6000 کروڑ روپے کی برآمدت متاثر ہوں گی۔ انہوں نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ گارمنٹس کی صنعت کو بچانے کیلئے امریکی حکومت سے مزاکرات کئے جائیں۔

پاکستانی نژاد خاتون قمر محسن مودی کو راکھی باندھیں گے
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں رکھشا بندھن کا تہوار قریب آتے ہی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد میں رہنے والی پاکستانی نژاد خاتون قمر محسن شیخ ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو راکھی باندھنے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی راکھی 9 اگست کو راکھی کے تہوار کے موقعہ پر وزیر اعظم مودی کو باندھیں گی۔ قمر محسن شیخ گزشتہ 30 سال سے مسلسل مودی کو راکھی باندھ رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ہر سال کئی راکھیاں تیار کرتی ہیں، اور ان میں سے جو راکھی انہیں سب سے زیادہ پسند آتی ہے وہی وہ مودی کی کلائی پر باندھنے کے لیے چنتی ہیں۔ اس سال انہوں نے خصوصی طور پر “اوم” کے نشان والی راکھی مودی کے لیے ڈیزائن کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مودی کو گھر کی بنی ہوئی چیزیں بہت پسند ہیں اسی لیے وہ ہر سال اپنے ہاتھ سے ان کے لیے راکھی تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ انہیں خط لکھتی ہیں تو بازار سے کارڈ نہیں خریدتیں بلکہ اپنے ہاتھ سے گجراتی زبان میں خط تحریر کرتی ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی قمر محسن شیخ کی شادی1980 میں احمدآباد کے ایک مصور، محسن شیخ سے ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 1994-1995 میں وہ پہلی بار مودی جی سے ایک پروگرام میں ملیں تب وہ ایک تنظیم کے کارکن تھے۔ مودی نے ان سے حال چال پوچھتے ہوئے کہا “کیسی ہو بہن؟” شیخ بتاتی ہیں کہ یہ الفاظ ان کے دل کو چھو گئے۔ کچھ دن بعد رکشا بندھن تھا تو انہوں نے سوچا کہ مودی کو راکھی باندھنی چاہیے اور تب پہلی بار انہوں نے مودی کی کلائی پر راکھی باندھی جس پر مودی نے ان سے پوچھا بہن تم نے کیا دعا کی تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے دعا کی تھی کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنیں، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ‘میں اپنی تنظیم میں اپنے کام سے خوش ہوں،’ اس کے بعد وہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے، تو انہوں نے ان سے پوچھا “اب کیا دعا کرو گی؟” اس پر میں نے مسکرا کر کہا “اب چاہتی ہوں کہ آپ ملک کے وزیر اعظم بنیں۔” اور کچھ سال بعد یہ دعا بھی پوری ہو گئی۔ تب سے لے کر آج تک وہ ہر سال اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ راکھی وزیر اعظم مودی کو باندھتی ہیں۔

ٹرمپ بھارتی شہری بن گئے
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست بہار میں الیکشن کمیشن کی ہدایت پرشروع کی گئی ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے تاہم جعلی رہائشی سرٹیفکیٹس کا بڑھتا ہوا رجحان بھی دیکھنے میں آرہاہے۔ اسی دوران ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر زون میں ایک شخص نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رہائشی سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست جمع کرائی جس پر ان کا رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ یہ درخواست 29 جولائی 2025 کو جمع ہوئی اور اسے درخواست نمبر BRCCO/2025/17989735 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ جمع کرائی گئی درخواست میں ان کے والد کا نام فریڈرک کرائسٹ ٹرمپ اور والدہ کا نام مریم این میکلیوڈ لکھا گیا۔ ان کی تاریخ پیدائش 10 جون 1946 بتائی گئی اور ان کے بھارتی آدھار کارڈ کے مطابق ان کی جنس مرد لکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کا جو ایڈریس بتایا گیا اس کے مطابق وہ گاؤں حسن پور، وارڈ نمبر 13، پوسٹ بکر پور، تھانہ محی الدین نگر، ضلع سمستِی پور کے رہائشی ہیں۔ جب حکام نے جانچ کی تو انکشاف ہوا کہ فارم کی تصویر، آدھار نمبر، بارکوڈ اور پتہ کی تفصیلات سب کچھ جعلی تھا۔ محی الدین نگر کے سرکل آفیسر (CO) نے فوری طور پر سرٹیفیکیٹ مسترد کر دیا اور اسے سنگین سائبر جرم قرار دیا۔

بھارت کا نیا خفیہ منصوبہ، ملک بھر میں ہوائی اڈے بند
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں شہری ہوا بازی کی وزارت کے سیکورٹی ونگ نے آئندہ ماہ 22 ستمبر سے 2 اکتوبر 2025 کے لئے دہشت گردوں یا سماج دشمن عناصر کی طرف سے ممکنہ خطرات کے بارے میں انٹیلی جنس ان پٹ کے انتباہ کے بعد تمام بھارتی ہوائی اڈوں کے لئے ریڈ الرٹ ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ سیکورٹی ونگ نے 4 اگست کو ایڈوائزری جاری کی اس میں ہوائی اڈوں، ہوائی پٹیوں، ہیلی پیڈز، فلائنگ سکولوں اور تربیتی اداروں سمیت تمام ہوا بازی کی تنصیبات پر فوری نگرانی کے اقدامات کو بڑھانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اہلکاروں کو ٹرمینلز، پارکنگ ایریاز، پیری میٹر زونز اور دیگر حساس مقامات پر گشت میں اضافہ کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے زیادہ سے زیادہ الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثنا اہم تجزیہ کاروں نے بھارت کے ان اقدامات کو حیران کن قرار دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفے نے کہا ہے کہ ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کرنا معمول کی بات ہے تاہم تقریبا دو ماہ قبل اس طرح سیکیورٹی الرٹ جاری کرنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں ہوتا۔ باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کو انتہائی خفیہ طریقوں سے ہائی الرٹ کا پیغام دیا جاتا ہے اس طرح میڈیا میں پبلک کرنا بھارت کے خطرناک عزائم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت یقینا کوئی فالس فلیگ منصوبہ تیار کر سکتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے دنیا کو باور کراسکتا ہے کہ بھارت نے پہلے ہی سب کچھ بتادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی الرٹ کی ایڈوائزری تقریبا دو ماہ پہلے جاری کرنا بھارت کی خراب نیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

مودی 31 اگست سے چین کا دورہ کریں گے
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 31 اگست سے چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مودی چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔
2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ مشرقی لداخ کے گالوان میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی جھڑپوں کے بعد مودی کا یہ پہلا دورہ ہوگا ان جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجیوں کی جانیں گئیں۔ مودی کا یہ دورہ روس سے تیل کی خریداری اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی دہلی پر محصولات کے نفاذ کے بعد مغربی اتحادیوں کے شدید بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ہو رہا ہے۔ جب کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے تعلقات سے بھی بھارت کافی تحفظات رکھتا ہے۔ اس تناظر میں چین کے ساتھ تعلقات میں ایک عارضی بحالی بھی بھارت اور امریکہ کے درمیاں خلیج مزید بڑھا سکتی ہے۔ بھارت اس وقت برکس کے سربراہی اجلاس میں بھی اپنے کردار کو فروغ دینے کا خواہاں ہے کیونکہ وہ 2026 میں برکس کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ برکس ایک ایسی تنظیم ہے جس میں روس اور چین شامل بھی ہیں اور اگلے سال ہونے والی سربراہ کانفرنس میں چینی صدر ژی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی شرکت بھی بھارت کیلئے اہم ہے۔ لیکن اس کے باوجود مودی کی ایس سی او اجلاس میں شرکت شدید اختلافات کے پس منظر میں ہوگی۔ اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک سینئر بھارتی فوجی جنرل نے چین پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کے خلاف پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے۔ جون میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں ایس سی او کے وزرائے دفاع کی میٹنگ میں شرکت کی جہاں انہوں نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اعلامیہ میں ذرائع کے مطابق دہشت گردی اور پہلگام دہشت گردانہ حملے پر بھارت کے موقف کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم دستاویز میں بلوچستان کا ذکر کیا گیا تھا جس کے مطابق بھارت پر پاکستانی صوبے میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ ایس سی او سربراہ اجلاس میں مودی بھی ممکنہ طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں بھارت کا موقف سامنے رکھیں گے اور مبینہ سرحد پار دہشت گردی پر سخت موقف اختیار کریں گے۔ ان کا خطاب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی متوقع موجودگی میں مئی کے تنازع کے فوراً بعد ہوگا۔ چین اور پاکستان کی دوستی کے پس منظر میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط نہ کرنے کی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی بھارت کی ترجیح کو آئندہ سربراہی اجلاس میں مناسب حمایت نہیں مل سکتی ہے۔ اس معاملے پر چین کی پالیسی بھی واضح ہے۔ ایران کا موقف بھی ابہام کا شکار ہے کیونکہ بھارت نے جون میں شنگھائی تعاون تنظیم کے بیان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی جس میں تہران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ ان تمام خدشات کے باوجود نئی دہلی شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک فعال رکن کے طور پر شرکت کر رہا ہے جب کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے وسیع ترازسر نو تجدید کی عکاس ہے۔ یہ کواڈ، ایس سی او، برکس، جی7 کے ساتھ کثیر الائنمنٹ کی مودی حکومت کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں یہ بھارت کو چین، روس، ایران اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر بات چیت جاری رکھنے کا موقعہ بھی مل سکتا ہے۔

آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی،فاروق عبداللہ
لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی۔ سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کا جشن منانے کے لیے مودی سرکار کے پاس کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی نے 6 سال میں مقبوضہ کشمیر کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں بے روزگار ہیں، قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے جب کہ امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیا بی جے پی کا یہی کارنامہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ انہیں کشمیر میں امن آتا نظر نہیں آرہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک بے وقوف دنیا میں یہ سوچ کر رہ رہے ہیں کہ امن راتوں رات آ جائے گا۔ ہمارا ایک مضبوط پڑوسی ہے، چاہے وہ چین ہو یا پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کوئی راستہ نہیں ہے۔ بالآخر دونوں ملکوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مودی حکومت نے کہا تھا کہ جیسے ہی انتخابات ہوں گے اور حکومت بنے گی مقبوضہ کشمیر کا درجہ بحال ہو جائے گا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب مرکز والے کہہ رہے ہیں کہ وہ دو خالی اسمبلی سیٹوں پر الیکشن کرائیں گے لیکن راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کا کیا ہوگا، وہ عوام کو ایوانوں میں جانے اور اپنے مسائل بتانے کے حق سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔









