Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بھارتی محکمہ ڈاک کا یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان

    بھارتی محکمہ ڈاک کا یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی محکمہ ڈاک نے یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان کردیا ہے۔ رجسٹرڈ پوسٹ سروس کا آغاز 1854 میں ہوا تھا۔ یہ اہم دستاویزات، قانونی نوٹس اور قیمتی سامان کی محفوظ ترسیل کی علامت تھی۔ یہ سروس محکمہ ڈاک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی جس پر ڈاکیا دستخط شدہ رسید حاصل کرکے ترسیل کی تصدیق کرتا تھا۔ دعوت نامہ ہو یا تقرری نامہ، رجسٹرڈ پوسٹ ہر گھر کی کہانی کا حصہ تھی۔ اس سے قبل بھارتی محمکہ ڈاک پوسٹ کارڈ، ان لینڈ لیٹر اور بیرنگ پوسٹس کی سروسز بھی بند کرچکا ہے۔ کسی زمانے میں خطوط دوستوں اور رشتہ داروں کی خیریت جاننے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ موجودہ دور میں موبائل فون کی آمد کے بعد پیغام رسانی کے لیے بھیجے جانے والے خطوط اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ پوسٹل سروسز اس دور کی یاد دلاتی ہے جب خط کا انتظار اور ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی دلوں کو جوڑتی تھی۔

  • اجیت ڈوول اور  ایس جے شنکر رواں ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے

    اجیت ڈوول اور ایس جے شنکر رواں ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ دورے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان سخت ریمارکس کے بعد طے پائے ہیں جس میں انہوں نے بھارت اور روس کو مردہ معیشت قرار دیا تھا اور جرمانے کے ساتھ بھارتی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے روس کے ساتھ اسٹریٹجک تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کے لیے سزاؤں سے بھی خبردار کیا۔ بھارت نے مغربی پابندیوں کے باوجود روس سے جدید فوجی سازوسامان حاصل کرنا بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اجیت ڈوول اور ایس جے شنکر کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

  • عدالتی حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ

    عدالتی حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جسے اس سال 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک بدر کردیا گیا تھا اور اسے پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے تھے اور انہیں 29 اپریل تک بھارت چھوڑنے کو کہا تھا حالانکہ بھارتی وزارت داخلہ نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ وہ پاکستانی مسلمان خواتین جنہوں نے بھارتی شہریوں سے شادی کی ہے اور جنہوں نے طویل مدتی ویزہ کی تجدید کے لیے درخواست دی ہے انہیں ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے باوجود راشدہ کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں کی رہنے والی رخشندہ کے چار بچے ہیں جو اب بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد کے رہائشی محمد راشد کی بیٹی رخشندہ 10 فروری 1990 کو 14 روزہ وزیٹر ویزے پر جموں گئی تھی بعد میں اسے ایک طویل مدتی ویزا پر بھارت میں رہنے کی اجازت دی گئی جس کی سالانہ تجدید کی جاتی تھی۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ راشدہ کو دس روز کے اندر بھارت واپس بلانے کے انتظامات کئے جائیں تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس مخصوص کیس کو کسی بھی طرح سے مثال نہیں سمجھا جائے گا۔ درخواست گزار رخشندہ راشد جو کہ ایک پاکستانی شہری ہے اس نے 35 سال قبل جموں میں بھارتی شہری شیخ ظہور احمد سے شادی کی تھی اس نے 1996 میں بھارتی شہریت کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس درخواست پر ابھی تک فیصلہ ہونا باقی ہے۔ رخشندہ کی بیٹی فاطمہ شیخ نے بتایا کہ ان کی والدہ کا پاکستان میں کوئی رشتہ دار نہیں ہے اور بھارت بدر ہونے کے بعد وہ پاکستان میں گزشتہ تین ماہ سے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں اکیلی رہ رہی ہیں اور ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں۔

  • لائن آف کنٹرول پر تعینات  بھارتی فوجی اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ

    لائن آف کنٹرول پر تعینات بھارتی فوجی اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ آگئے ہیں اور اپنے بٹالین انچارج کو بتائے بغیر گھروں کو روانہ ہورہے ہیں۔

    سرینگر کے علاقہ پانتھہ چوک میں ایل او سی پر تعینات بارڈر سیکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کے بعد فورسز نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی ایک شکایت درج کرائی ہے۔ لاپتہ ہوئے اہلکار کی شناخت سوگم چودھری کے طور پر کی گئی ہے جو 60 بٹالین سے وابستہ ہے۔ بی ایس ایف کے ایک سینئر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران اہلکاروں کی گمشدگی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ سوگم چودھری جمعرات کی شام یونٹ سے بغیر اجازت نکلا لیکن واپس نہیں آیا جس کے بعد اس کی غیر موجودگی کی اطلاع سینیئر افسران کو کر دی گئی جنہوں نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ انہوں نے کہا ابتدائی جانچ میں ایسا لگتا ہے کہ اہلکار ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے آبائی علاقے روانہ ہوا ہے۔ افسر کے مطابق یونٹ نے اہلکار سے فون پر رابطہ قائم کیا تو لاپتہ اہلکار نے بتایا کہ وہ واپس نہیں آئے گاجب کہ وہ جلد اپنے گھر پہنچنے والا ہے۔ آفیسر نے بتایا کہ فوجی پروٹوکول کے مطابق انہوں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے اور اہلکار کے اہلِ خانہ کو بھی واقعے سے باخبر کردیا ہے۔ 

  • امریکہ سے  ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں، بھارت

    امریکہ سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں، بھارت

    اہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد بھارتی حکومت نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ امریکہ سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت امریکی صدر کی آشیرباد حاصل کرنے کیلئے امریکا سے بعض اشیاء کی خریداری بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اس میں ایف 35 لڑاکا طیاروں سمیت دفاعی ساز و سامان کی خریداری شامل نہیں ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ اس سال کے شروع میں مودی کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی جس پر مودی نے غور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف کوئی فوری جوابی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی وہ امریکہ کو ناراض کرنا چاہتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تجارتی بات چیت جاری رکھنے کا خواہش مند ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت امریکہ سے قدرتی گیس، مواصلاتی آلات اور سونے کی خریداری میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم مودی حکومت کی طرف سے امریکا سے اضافی دفاعی سازوسامان خریدنے کرنے کا امکان نہیں ہے جو صدر ٹرمپ کا ایک اہم مطالبہ ہے لیکن بھارتی حکومتی عہدیداروں نے امریکہ کو بتایا کہ بھارت صرف مشترکہ طور پر دفاعی آلات تیار کرنے اور بھارت میں ان کی تیاری میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ سے ایف 35 جیٹ طیارے خریدنے میں بھارت کی ہچکچاہٹ سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت اپنی فضائیہ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے تقریباً 50-60 روسی ساختہ ایس یو 57 ففتھ جنریشن جیٹ خریدے گا۔ واضح رہے کہ بھارت مقامی طور پر بھی ففتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے AMCA تیار کر رہا ہے تاہم ان کی تیاری 2035 سے پہلے ممکن نظر نہیں آرہی اس لیے بھارتی فضائیہ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے اور چین اور پاکستان کی فضائی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت بیرون ممالک خاص طور پر روس سے ففتھ جنریشن کے جیٹ طیارے کے تقریباً 3 سکواڈرن خریدنے پر مجبور ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ففتھ جنریشن کے دستیاب فائٹر میں صرف ایف 35 اور ایس یو57 ہی موجود ہیں۔ 

  • ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف،کانگریس لیڈر جے رام میش کی مودی پر تنقید

    ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف،کانگریس لیڈر جے رام میش کی مودی پر تنقید

    لاہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یکم اگست سے ہندوستانی اشیاء پر 25% ٹیرف کے اعلان کے بعد کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی۔

    "ہاؤڈی مودی” تقریب اور مودی ٹرمپ دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رامیش نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مشترکہ دوستی کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ٹرمپ اور ہاؤڈی مودی کی ایک دوسرے کی تعریف کرنے کا کوئی مطلب سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے پاک بھارت منی جنگ روکنے کے ٹرمپ کے بار بار کیے جانے والے دعوؤں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پہلگام واقعہ کے فوراً بعد ایک ہائی پروفائل یو ایس پاکستان لنچ جس میں پاکستانی آرمی چیف شامل تھے اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مالیاتی پیکجز کے لیے واشنگٹن کی مسلسل حمایت اور پیش رفتوں کے باوجود مودی نے خاموشی اختیار کی۔ وہ ان سفارتی انعامات کی توقع کرتے رہے جو انہیں کبھی نہیں ملے۔ مودی کا خیال تھا کہ اگرپاکستان کیلئے امریکی نوازشات پر وہ خاموش رہیں گے تو انہیں امریکہ کی آشیرباد مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کو اندرا گاندھی سے سبق حاصل کرنا چاہئے انہیں چاہئے کہ وہ امریکی صدر کے سامنے کھڑے ہو جاتے جیسے اندرا گاندھی نے کیا۔

  • لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز

    لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز دکھائی دئے۔ انہوں نے لکھی ہوئی تقریر کی جس میں وہ پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ اور اس کی تحقیقات کی تاریخوں میں الجھے ہوئے نظر آئے۔ وہ بار بار یہ کہتے رہے کہ حملے کی تحقیقات 22 مئی کی رات کو شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ ملحقہ بنچ کے ایک رکن وزیرداخلہ کو یہ بتاتے نظر آئے کہ حملہ 22 اپریل کو ہوا تھا۔ لیکن امیت شاہ بار بار 22 مئی 2025 ہی دہراتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد 22 مئی کی رات کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سیکیورٹی میٹنگ ہوئی تھی۔ امیت شاہ کی اس غلطی کے بعد اپوزیشن بنچوں سے ہنگامہ اور شور بلند ہوا جس کے بعد امیت شاہ نے خود کو درست کیا۔ تاہم تھوڑی دیر بعد انہوں نے پھر وہی غلطی دہرائی اور پھر کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کو 22 مئی کو سری نگر کے دچیگام علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں انٹیلی جنس ان پٹ موصول ہوا اور 28 جولائی کی صبح انکاؤنٹر شروع ہوا۔

  • آپریشن سندور،راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالوں کو نظرانداز کر گئے

    آپریشن سندور،راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالوں کو نظرانداز کر گئے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ روز لوک سبھا کے اجلاس میں حالیہ پاک بھارت جنگ کے حوالے سے اپوزیشن کے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ تو یہ بتایا کہ بھارت کے کتنے طیارے تباہ ہوئے اور نہ ہی وزیراعظم کی خاموشی اور صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے دعوں کا ذکر کیا الٹا اپوزیشن کو سوالات ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کی جس سے اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومت سے جو سوالات پوچھنے چاہیئں وہ آج تک نہیں پوچھے۔ اس نے کبھی بھی صحیح سوالات نہیں کئے۔ اپوزیشن ارکان ہم سے پوچھتے رہے کہ ہمارے کتنے طیارے مار گرائے گئے لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ہماری افواج نے کتنے پاکستانی طیارے مار گرائے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو یہ پوچھیں کہ کیا اس جنگ میں بھارت کے کسی فوجی کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ ہم ان سوالات کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی آپریشن کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کسی دوسرے ملک کی سرحد پار کرنا یا اس کے کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں تھا بلکہ آپریشن شروع کرنے کا مقصد ان خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا تھا جنہوں نے پہلگام میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔ آپریشن کا سیاسی عسکری مقصد پاکستان کو سزا دینا تھا۔ اس لیے مسلح افواج کو اپنے اہداف کا انتخاب کرنے اور منہ توڑ جواب دینے کی کھلی چھٹی دی گئی۔ اپنی تقریر کے دوران راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے کسی بھی رہنما کا نام لینے سے گریز کیا لیکن بظاہر ان کا اصل نشانہ کانگریس کے لیڈر قائد حزب اختلاف راہول گاندھی تھے جنہوں نے ایوان کی کارروائی میں بھی شرکت کی اور کانگریس کی جانب سے بھارتی ناکامیوں پر بحث شروع کی۔ اجلاس سے قبل راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ایک ویڈیو شیئر کردیا جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی فوج کو بھارتی آپریشن سیندور کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی اور یہ بھی استفسار کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے کتنے طیارے تباہ کئے گئے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بھارتی حملے کے آغاز سے قبل پاکستان کو اطلاع دینا قومی جرم تھا۔ وزیرخارجہ نے عوامی طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے ایسا کیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وزیرخارجہ کو کس نے اس کااختیار دیا تھا کہ وہ پاکستان کو الرٹ کریں جب کہ یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان کو الرٹ کرنے کی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے۔ 

  • مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،اپوزیشن کی تنقید،امریکہ بھارت دوستی کھوکھلی قرار

    مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،اپوزیشن کی تنقید،امریکہ بھارت دوستی کھوکھلی قرار

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر اپوزیشن کی طرف سے نکتہ چینی بڑھتی جارہی ہے۔ خصوصا امریکہ کے ساتھ کے ساتھ بھارت کی دوستی کو کھوکھلا قرار دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ خصوصا جمعہ کے روز جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا تو جے رام رامیش نے اسے مودی کی ناکام پالیسی قراردیا اور کہا کہ گذشتہ دو مہینوں میں پیش آنے والے کئی اہم عالمی واقعات نے ہندوستان کی کمزور خارجہ پالیسی اور نام نہاد مودی ٹرمپ دوستی کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جے رام رمیش نے لکھا کہ ان ٹھوس واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اور ان کے حامی جس دوستی اور سفارتی کامیابی کا ڈھول پیٹتے ہیں وہ صرف ایک دکھاوا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بھارتی نام نہاد آپریشن کا ذکر کیا جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہی اس آپریشن کو رکوانے کے لیے مداخلت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات سے بھارت کی خودمختاری اور فیصلہ سازی پر براہِ راست سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کُریلا نے پاکستان کو ’شاندار شراکت دار‘ قرار دیا۔ یہ تبصرہ بھارت کی دہشت گردی کے خلاف مستقل کوششوں کے بالکل برعکس تھا اور دہلی کے سفارتی بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ18 جون 2025 کو ٹرمپ نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آصف منیر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر ملاقات کی جس سے بھارتی خارجہ پالیسی کی دھجیاں اڑ گئیں۔

    جے رام رامیش نے مودی پر الزام عائد کیا کہ مودی اور ان کے حامی جس ٹرمپ دوستی کو جیت کا مظہر بتاتے رہے وہ اب بھات کیلئے کھوکھلی اور صرف دکھاوے کی رہ گئی ہے۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے پیچھے وہ غلط سفارتی فیصلے ہیں جن کی بنیاد مودی حکومت نے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے کیونکہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور دکھاوے کی دوستی سے قومی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔

  • جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج میں نئی بریگیڈ کی تشکیل

    جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج میں نئی بریگیڈ کی تشکیل

    لاہور(خالدمحمودخالد) حالیہ پاک بھارت جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے گزشتہ روز ایک نئی فوجی بریگیڈ کی تشکیل کا اعلان کیا جسے رودرا کا نام دیا گیا ہے۔ کارگل وار میموریل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ رودرا کے تحت انفنٹری، میکانائزڈ انفنٹری، آرمرڈ یونٹس، آرٹلری، اسپیشل فورسز اور بغیر پائلٹ کے فضائی یونٹس ایک جگہ پر ہوں گے تاکہ سب کو مناسب لاجسٹک اور جنگی مدد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ایک اسپیشل اسٹرائیک فورس ‘بھیرو لائٹ کمانڈو یونٹ’ تشکیل دی ہے جو سرحد پر حملہ آور کو حیران کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی۔ جنرل دویدی نے کہا کہ ہر انفنٹری بٹالین میں اب ایک ڈرون پلاٹون ہے۔ توپ خانے میں شکتیبن رجمنٹ قائم کی گئی ہے، جو ڈرون، کاؤنٹر ڈرون اور دیگر جنگی سازوسامان سے لیس ہوگی۔ ہر رجمنٹ میں ان چیزوں سے لیس ایک کمپوزٹ بیٹری ہوگی۔ اپنے چھ جدید طیارے گرائے جانے کا ذکر کئے بغیر بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہماری ائر فورس صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ فورس کو فضائی دفاعی نظام سے لیس کیا جا رہا ہے۔