Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں اضافہ

    دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں اضافہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں گزشتہ سالوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ اس وقت 10,574 بھارتی شہری پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں جب کہ 43 موت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں بھارتی قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے جہاں اس وقت 2,773 شہری سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ سعودی عرب میں بھارتی قیدیوں کی تعداد 2,379 جب کہ نیپال میں1,357 بھارتی قیدی جیلوں میں ہیں۔ پاکستانی جیلوں میں 246 بھارتی شہری قید ہیں۔ دیگر ممالک میں قطر میں 795، ملائیشیا میں 380، کویت میں 342، برطانیہ میں 323، بحرین میں261 جبکہ چین میں 183بھارتی شہری قید ہیں۔ وزیرمملکت نے بتایا کہ 43 بھارتی شہری اس وقت مختلف ممالک میں سزائے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد21 متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ سعودی عرب 7، چین 4، انڈونیشیا 3 اور کویت 2 ہیں۔ ایک ایک بھارتی امریکہ، ملائیشیا، عمان، پاکستان، قطر اور یمن میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔ 

  •  بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام

     بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس صاحبان اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام پر آگئیں۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت میں صدرمملکت سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا سرکاری عہدہ ہے جس کی تنخواہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ ہے۔ یہ تنخواہ کسی بھی قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے۔ صدر مختلف مراعات بھی حاصل کرتے ہیں جس میں ٹرین کا سفر اور ہوائی جہاز میں دنیا بھر میں مفت سفر، مفت رہائش، طبی سہولیات شامل ہیں۔ دفتری اخراجات کے لیے سالانہ ایک لاکھ روپے ان کی تنخواہ کے علاوہ ہیں۔ وہ راشٹرپتی بھون میں رہتے ہیں جو دنیا بھر میں کسی بھی صدر کی سب سے بڑی رہائش گاہ ہے۔ بھارت میں نائب صدر ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے۔ بھارت کے نائب صدر کی تنخواہ چار لاکھ روپے ماہانہ ہے جب کہ دیگر مراعات اور الاؤنسز میں مفت رہائش، طبی سہولیات، ٹرین اور ہوائی سفر، ایک لینڈ لائن کنکشن، موبائل فون سروس، ذاتی تحفظ، اور عملہ شامل ہیں۔ بھارت میں وزیر اعظم کی تنخواہ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے ماہانہ ہے۔ان کی دیگر مراعات میں پینتالیس ہزار روپے کا پارلیمانی الاؤنس، اور دو ہزار روپے کا یومیہ الاؤنس۔ سرکاری رہائش، اسپیشل پروٹیکشن گروپ کی سیکیورٹی، سرکاری گاڑیوں اور ہوائی جہاز کا سفر، اور بین الاقوامی دوروں کے لیے سرکاری ادا شدہ سفر کے علاوہ قیام اور کھانے کے اخراجات شامل ہیں۔ بھارتی ممبر پارلیمنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانہ اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دو ہزار روپے یومیہ الاؤنس، کمیٹی کے اجلاسوں اور سڑک کے سفر کے لیے سولہ روپے فی کلومیٹر سفری الاؤنس شامل ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کو پنتالیس ہزار روپے روپے ماہانہ حلقہ الاؤنس اور پینتالیس روپے ماہانہ دفتری اخراجات کا الاؤنس بھی ملتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا دو لاکھ اسی ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ فوج، ائر فورس اور بحریہ کے سربراہان کی ماہانہ تنخواہیں ماہانہ ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے فکس ہے۔ 

  • بھارت کا مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان

    بھارت کا مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت نے 60 سال سے زائد عرصے تک بھارتی فضائی کیلئے خدمات سر انجام دینے والے مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ دی اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 23 اسکواڈرن کے طیاروں کی آخری کھیپ کو 19 ستمبر کو چندی گڑھ ایئربیس پر ایک تقریب میں ختم کر دیا جائے گا۔ مگ 21 بھارت کا پہلا سپرسونک جیٹ تھا جس نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں تکنیکی برتری حاصل کی لیکن بعد میں اکثر حادثات کی وجہ سے بدنام ہو گیا۔ مگ 21 کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت کم ہو کر 29 اسکواڈرن رہ جائے گی جو 1960 کی دہائی کے بعد سب سے کم ہے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے پاس لڑاکا طیاروں کے 32 اسکواڈرن تھے۔ مگ 21 طیارہ سوویت یونین کے Mikoyan-Gurevich ڈیزائن بیورو نے تیار کیا تھا اور اس نے اپنی پہلی پرواز 1955 میں کی تھی۔ اس سپرسونک طیارے کو دنیا کے تقریباً 60 ممالک استعمال کر چکے ہیں۔ بھارت اس کا سب سے بڑا آپریٹر ہے۔ مگ 21 طیاروں کے حادثات کی ایک پریشان کن تاریخ ہے۔ اب تک اس طیارے کے حادثات میں 200 سے زیادہ پائلٹ اور 50 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس طرح کا پہلا واقعہ 1963 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 1966 سے 1984 کے درمیان تیار کیے گئے 840 طیاروں میں سے نصف سے زیادہ حادثات کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مگ 21 کو ‘دی فلائنگ کفن’ اور ‘دی ویڈو میکر’ جیسے القابات دئے گئے۔

  • راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی راجیہ سبھا کا ہنگامہ خیز مون سون اجلاس گزشتہ روز شروع ہوگیا جس میں اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا جب کہ وزیراعظم مودی پارلیمینٹ سے باہر چلے گئے۔

    راجیہ سبھا میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب بھی طلب کیا کہ پہلگام حملہ، پاک بھارت جنگ اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی سے متعلق بیانات پر آخر وہ خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے رول 267 کے تحت مطالبہ کیا ایوان میں ان تمام معاملات پر تفصیلی بحث کی اجازت دی جائے۔ کھڑگے نے ایوان میں زور دے کر کہا کہ 22 اپریل کو ہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملے سر انجام دینے والے دہشت گرد آج تک نہ تو پکڑے گئے ہیں اور نہ ہی مارے گئے ہیں۔ انھوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے خود پہلگام میں سیکورٹی نہ ہونے کی بات قبول کی تھی۔ ملک ارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں یاد دلایا کہ ملک میں یکجہتی بنائے رکھنے اور فوج کو مضبوطی دینے کے لیے بھارتی اپوزیشن نے غیر مشروط طور پر مودی حکومت کو حمایت دی تھی۔ ایسے میں حکومت کو پورے حالات کے بارے میں تفصیلات دینی چاہیے۔

    کانگریس صدر نے پاک بھارت جنگ کے معاملے میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف، ڈپٹی لیڈر چیف اور ایک سینئر فوجی افسر کے انکشافات پر مبنی بیانات پر بھی مودی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 24 بار دیے گئے ان بیانات پر بھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنے کو کہا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تجارت نہ کرنے کی دھمکی دے کر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ اسپیکر نے کھرگے کا مائیک بند کردیا اور اجلاس ملتوی کردیا۔

  • 15 ماہ کی تاخیر سے بھارتی فوج کو تین اپاچی ہیلی کاپٹر کل مل جائیں گے

    15 ماہ کی تاخیر سے بھارتی فوج کو تین اپاچی ہیلی کاپٹر کل مل جائیں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) 15 ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد، ہندوستانی فوج کو بالآخر تین اپاچی AH-64E حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی پہلی کھیپ 22 جولائی کو بھارتی فوج کی ایوی ایشن کور کے حوالے کردی جائے گی جس کے بعد بھارت کی مغربی سرحد کے ساتھ جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ بھارتی فوج نے 2020 میں امریکہ کے ساتھ چھ اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کے لیے 600 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی ابتدائی ترسیل مئی اور جون 2024 کے درمیان متوقع تھی تاہم سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امریکہ کو درپیش تکنیکی مسائل کی وجہ سے بار بار کی تاخیر کے باعث ڈلیوری ٹائم لائن کو دسمبر 2024 تک بڑھا دیا۔ معاہدے کے مطابق چھ ہیلی کاپٹر تین تین کی دو ڈلیوری میں پہنچنا تھے۔ تاہم پہلی کھیپ ابھی تک بھارت نہیں پہنچی۔ اپاچی ہیلی کاپٹر اپنی چستی، فائر پاور، اور جدید ہدف سازی کے نظام کے لیے جانے جاتے ہیں اور انہیں فوج کے ہتھیاروں میں ایک اہم اضافے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ بھارتی فضائیہ نے پہلے ہی 2015 کے ایک علیحدہ معاہدے کے تحت 22 اپاچی ہیلی کاپٹر شامل کیے ہیں۔

  • بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں اسکولوں کو بم کی دھمکیوں کی کالیں اور ای میلز بھیجنا معمول بن گیا ہے۔دارالحکومت نئی دہلی میں جمعہ کے روز 45 اور بنگلورو کے 40 سے زائد اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں جس سے طلباء اور ان کے والدین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام نے فوری طور پر تمام اسکولوں کو خالی کرالیا اور والدین کو اپنے بچوں کو گھروں میں لے جانے کے احکامات دئے۔

    پولیس، بم ڈسپوزل اور ڈاگ اسکواڈز اور فائر ڈپارٹمنٹ کا عملہ فوری طور پر مختلف اسکولوں میں پہنچ گیا اور تلاشی اور انخلاء کی کارروائیاں شروع کر دیں تاہم کسی اسکول سے کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ مسلسل چوتھا روز ہے جب دارالحکومت کے اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جب کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران نئی دہلی کے تقریباً 200 سے 250 اسکولوں کو جھوٹی بم دھمکی کالیں یا ای میل موصول ہوئی ہیں۔ یکم مئی کو ایک ہی دن تقریباً 100 اسکولوں کو دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں۔ دریں اثنا بنگلورو کے 40 اسکولوں کو بھی جمعہ کے روز ایسی ای میلز موصول ہوئیں تاہم کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

    دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے اس معاملے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی دہلی میں گورننس کو کنٹرول کرتی ہے تاہم وہ ابھی تک بچوں کو کوئی حفاظت یا تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے سے گھبرارہے ہیں۔ 

  • ٹرمپ کا دورہ برطانیہ،بھارت میں کانفرنس کا انعقاد خطرے میں

    ٹرمپ کا دورہ برطانیہ،بھارت میں کانفرنس کا انعقاد خطرے میں

    لاہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ فائنل ہونے کے باعث بھارت میں اس سال ستمبر میں ہونے والی قواڈ ممالک کی سربراہ کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑگیا ہے۔  بھارت وزیراعظم مودی نئی دہلی میں امریکی صدر ٹرمپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔اس سال فروری میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قواڈ کے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے شرکت کیلئے بھارت آنے کی دعوت دی تھی جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا تھا۔

    بھارت نے یہ کانفرنس رکن ممالک کے بعض دیگر سربراہان کی ستمبر میں مصروفیات کے باعث اب نومبر میں منعقد کرنے کا شیڈول دیا ہے۔ تاہم سربراہی اجلاس کی تاریخوں کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ قواڈ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے درمیان ایک اتحاد ہے۔ اس سال یہ کانفرنس بھارت میں ہونی ہے۔ کواڈ کے بعض ارکان کا خیال ہے کہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور کچھ رکن ممالک کی توجہ اس اجلاس پر مرکوز ہوگی۔ اس کے علاوہ جاپان میں جولائی میں پارلیمنٹ کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں جس سے جاپان کی سربراہی اجلاس میں شرکت اور تیاری کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔ اس لئے اجلاس کا شیڈول نومبر تک کیلئے ملتوی کیا گیا ہے۔ 

  • گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی

    گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد گولڈن ٹیمپل اور خطے میں دیگر اہم مذہبی مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کردیاگیا ہے۔

    امرتسر میں شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ ایس جی پی سی کے انٹرنیٹ ڈپارٹمنٹ کو ای میل موصول ہوئی کہ گولڈن ٹمپل میں بم نصب کردیا گیا ہے اور اسے اڑا دیا جائے گا۔ اس دھمکی کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد گولڈن ٹمپل کو خالی کرالیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں گولڈن ٹمپل کو بم سے اڑانے کی یہ دوسری دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے۔ تازہ دھمکی آمیز ای میل کا مواد تقریباً وہی ہے جو پیر کو موصول ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر گولڈن ٹیمپل میں پوجا کرنے آتے ہیں جن کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی کے نمائیندہ لیفٹیننٹ گورنر نے برطانوی تسلط میں مہاراجہ ہری سنگھ کی آمرانہ حکومت کے خلاف لڑائی میں مارے جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ‘یوم شہدا’ تقریب کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی دہلی سے واپس آنے کے فوراً بعد ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے کئی وزراء، ایم ایل ایز اور حکمران جماعت اور اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔

    وزیراعلی عمر عبداللہ نے اپنی نظر بندی کو جموں و کشمیر میں غیر منتخب لوگوں کا ظلم قرار دیا۔ انہوں نے اپنے گھر کے باہر پولیس کی ایک بڑی نفری اور مین گیٹ کے باہر کھڑی بکتر بند گاڑیوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد تصاویر شیئر کیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کا نام لیے بغیر وزیراعلی عمر عبداللہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ غیر منتخب حکومت نے منتخب حکومت کو بند کر دیا۔ نئی دہلی کے غیر منتخب امیدواروں نے جموں و کشمیر کے عوام کے منتخب نمائندوں کو بند کر دیا۔ انہوں نے پابندیوں اور گھروں میں نظربندیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیر کے 1931 کے شہداء کو ’’جلیانوالہ باغ‘‘ کے شہداء کے برابر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی کا قتل عام ہمارا جلیانوالہ باغ ہے جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی انہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا، کشمیر پر انگریزوں کی بالادستی کے تحت حکومت کی جا رہی تھی کتنی شرم کی بات ہے کہ برطانوی راج کے خلاف ہر طرح سے لڑنے والے حقیقی ہیروز کو آج صرف اس لیے ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔ ہمیں ان کی قبروں پر جانے کا موقع نہیں دیا جارہا لیکن ہم ان کی قبروں کو نہیں بھولیں گے۔

  • بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان مودی پر برس پڑے

    بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان مودی پر برس پڑے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت خارجہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے بھارتی خارجہ پالیسی پر مرکز کے موقف اور دلجیت دوسانجھ کی فلم میں پاکستانی اداکارہ کی اداکاری پر حالیہ تنازع پر سوال اٹھادئے۔

    انہوں نے چندی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں وزیر اعظم سے پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ خارجہ پالیسی کیا ہے۔ جب پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنگ ہوئی اور تعلقات خراب ہوئے تو دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارے ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔ جبکہ مودی ان ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جن کے نام ہم نے کبھی نہیں سنے ہوں گے۔ مودی بتائیں کہ دنیا میں کس نے ہمارا ساتھ دیا پھر آپ کیوں ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پر واضح سفارتی وجوہات کے بغیر اکثر ممالک کا دورہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وزیراعظم اتنے چھوٹے چھوٹے ممالک سے اعزازات لے رہے ہیں جن کی آبادی دس ہزار بھی نہیں۔
    2015 میں مودی کے پاکستان کے اچانک دورے کا حوالہ دیتے ہوئے مان نے کہاکہ مودی بغیر دعوت کے بھی وہ بریانی کھانے کے لیے پاکستان پہنچے۔ ہمیں تو پاکستان جانے کی اجازت نہیں۔ دلجیت دوسانجھ کی فلم، جس میں ایک پاکستانی اداکار ہانیہ عامر بھی شامل ہیں، سے متعلق تنازعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ اب دلجیت دوسانجھ کی فلم کے بارے میں تنازعہ ہے جس میں ایک پاکستانی اداکار نے کام کیا تھا۔ یہ فلم بہت پہلے بنائی گئی تھی اور اب مودی سرداروں کو غدار کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے پوچھنا ہم سب کا حق ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کی پالیسیاں دوغلی کیوں ہیں۔